Roshan Sitara novel 109th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 109th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
109th epi.....
ان سب کی زندگیاں یکدم ہی بہت متحرک اور مصروف ترین ہوگئ تھیں۔۔۔ کہے کے مطابق اگلے روز ہی مرتسم اور وہاج فاہا اور علایہ کے سنگ اپارٹمنٹ میں موجود تھے۔۔۔۔ فاہا اور علایہ کو تو اپنی کتابوں سے فرصت نا تھی۔۔۔ فاہا کا مقابلے کا امتحان تھا تو علایہ کے پیپرز ہو رہے تھے۔۔۔ جبکہ مرتسم اور وہاج کی کبھی اپارٹمنٹ تو کبھی باہر کی ڈیلنگز میں ڈوریں لگی ہوئی تھیں۔۔ الیکٹرونکس میکانکس اور مختلف چپس تیار کر کے ڈیٹا فیڈ کرنا غرض ہر وہ کام جو پہلے فائز نے بہت احسن طریقے سے سمبھال رکھا تھا سب انکے سر پر آ پڑا تھا۔۔۔ لیکن اس سب میں فائز کی وہ معلوماتی یو ایس بی انکے بہت کام آ رہی تھی۔۔۔ وہ لیب میں مل کر کام کرنے بیٹھتے تو دن رات کا ہوش بھلا دیتے۔۔۔ آدھی آدھی رات تک کام کرتے کرتے آنکھیں بند ہونے لگتی تو وہیں لیب میں پڑے کاوچ پر چند گھنٹوں کی نیند لے لیتے۔۔۔ مرتسم کا کام ڈبل تھا۔۔۔ لیب کے کام سے وقت نکال کر وہ فاہا کی دن بھر کی تیاری پر نظر ڈالتا اس سے سب سنتا۔۔۔ اور فاہا کی صحیح کم بختی آئی تھی۔۔۔ اسکی لاوئنج میں عین وہ جگہ ہوتی جو لیب میں کام کرتے مرتسم کی عین نگاہوں کے سامنے ہوتی۔۔ ایسے میں وہ زرا سا ریلیکس بھی ہوتی تو مرتسم فوراً گلہ کنگار کر اسے اسکے وقت کے ضیائع پر ریمائنڈر دے دیتا۔۔۔
ایسے میں ماہرہ تھی جسنے ڈیٹا آپریٹنگ کا کام سمبھالنے کے ساتھ ساتھ سب کے کھانے پینے کی ڈیوٹی سمبھال رکھی تھی۔۔۔ وقفے وقفے سے وہ سب کے لئے چائے کافی کا انتظام کرتی۔۔۔ کھانا کبھی وہ اور علایہ مل کر بنا لیتیں تو کبھی باہر سے آ جاتا۔۔۔ فاہا کو تو مرتسم گردن تک ہلانے کی اجازت نا دیتا تھا۔۔۔ کے پوری زندگی یہ ہی کام کرنے ہیں تم نے۔۔۔ ان چند دنوں میں آرام خود پر حرام کر لو گی تو پوری زندگی سکون میں رہو گئ۔۔۔۔
ایسے میں ماہرہ رات رات بھر مرتسم اور وہاج کے ساتھ ڈٹ کر اپنی ڈیوٹی سمبھالتی اور دن میں جب مائز ضد کرتا اسے سلاتے سلاتے کچھ وقت کی نیند خود بھی لے لیتی۔۔۔ وہ واحد تھی جسکی نیند کا شیڈیول مائز کے مطابق تھا وہ کبھی بھی کہیں بھی مائز کے ساتھ سوئی ملتی۔۔۔ اب تو شب خوابی کے باعث آنکھوں تلے حلقے پڑنے لگے تھے مگر اسے پرواہ کہاں تھی۔۔۔ رات رات بھر جاگنے کے ساتھ وہ تو اب تہجد گزار بھی ہو گئ تھی۔۔۔ اسکے سجدے لمبے اور دعائیں طویل ہونے لگی تھیں۔۔۔ ہر دعا کا مرکز و محور وہی ایک شخص تھا جو سانسوں کو مطلوب تھا۔۔۔ چوبیس گھنٹے اٹھتے بیٹھے چلتے پھرتے کام کرتے اسکے لب ذکر الہی سے تر رہنے لگے تھے۔۔۔ دل کروٹ کروٹ اس شخص کی خیریت کے لئے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز رہتا۔۔۔ ناجانے کیوں دل کو امید تھی۔۔۔ آس تھی۔۔۔ جلد بہت جلد انشااللہ اسکا انتظار ختم ہونے والا تھا۔۔۔ ممکن نا تھا کے وہ روز بھکاری بن کر خالی کشکول لئے اپنے رب کے در پر آس و امید سجائے جاتی اور وہاں سے خالی لوٹا دی جاتی۔۔۔ اسکا رب بہت غیرت والا ہے۔۔۔ وہ ضرور نوازی جاتی۔۔۔ کب۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔ کیسے ۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔ علم تھا تو اتنا کہ جلد اسکی مراد بھر آنے والی تھی۔۔۔ کیونکہ آس اسنے وہاں لگائی تھی جہاں نا امیدی کا سوال ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ وہ ہر ہر آہٹ پر
چونک چونک جاتی۔۔۔ ہر دستک پر دل اچھل آتا۔۔۔ ناجانے کیوں اسے لگتا کبھی بھی کسی بھی وقت کہیں سے بھی اچانک وہ شخص اسکے سامنے آ نکلے گا اور اسکے سامنے آتے ہی اسے بے دم کر جائے گا۔۔۔ اس ایک لمحے کی آس اس ایک لمحے کا تصور بہت پر زور تھا۔۔۔ وہ اس احساس سے پیچھا چھڑوانا چاہتی ہی نا تھی۔۔۔ اس ایک احساس اور تصور کو تقویت بخشنے کو وہ دن رات اس رب کے حضور اس تصور کے حقیقت میں بدل جانے کے لئے دعا گو تھی۔۔۔۔
آس آس آس۔۔۔۔
امید۔۔۔ امید اور دعااااا
انتظاررررر اور پھر طویل انتظارررررررررر
ایسے میں دروازے کی چوکھت پر ٹکی منتظر نگاہیں۔۔۔۔
*****
فائنلی فائنلی اور فائنلی تم یہاں تک پہچ ہی گئے احمر شیخ۔۔۔ سوری فائز علوی۔۔۔۔ میر مسکرا کر تالی بجاتا گھوم کر اسکے سامنے آیا۔۔۔۔
احمر نے کرب سے میچی آنکھیں کھول کر سرعت سے خود کو کمپوز کیا اور لمحہ لگا تھا اسے خود کو نارمل ظاہر کرنے میں۔۔۔
فائز علوی نا ہو گیا۔۔۔ تمہاری روٹھی محبوبہ ہی ہو گئ۔۔۔ جسکے فراق میں تم پاگل ہونے کے در پر ہو۔۔۔ اسنے سر جھٹکتے اعتماد سے بائیومیٹرک مشین اپنی آگے کھینچی اور اس پر انگوٹھا لگانے کو ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔
دشمن کو شش و پنج میں مبتلا کر کے سیلف ڈاوٹ کا شکار کرنے کا سب سے بہترین طریقہ۔۔۔ جس کام میں آپکو پکڑ کر وہ ایکسپوز کرنا چاہے اس پر ڈرنے یا گھبرانے کی بجائے اعتماد سے وہی کام اسکے سامنے کرو۔۔۔ اسکی آدھی موت وہیں واقع ہو جائے گی۔۔۔۔ دشمن کی سب سے بڑی طاقت مقابل کا خوف ہوتا ہے۔۔۔ جب مقابل کی آنکھوں میں وہ خوف ہی نا دکھے تو دشمن کی آدھی شکست وہیں ہو جاتی ہے۔۔۔
میر کے ساتھ بھی وہی ہوا تھا۔۔۔ احمر کے اعتماد نے اسے ڈاوٹ میں ڈال دیا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ بائیو میٹرک کے لئے اس چوکھٹے پر اپنا انگوٹھا ثبت کرتا میر نے سرعت سے وہ مشین پیچھے ہٹائی۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہو تم۔۔۔ وہ تنک کر کہتے اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔۔۔
میرے خیال سے آنکھیں تم گھر پر نہیں چھوڑ کر آئے۔ تمہیں دیکھ کر کون کہہ سکتاہے کے تم کئ مش امپوسبل مکمل کر چکے ہو۔۔۔۔ تمہیں نہیں لگ رہا کے فرنچائز میں لوگ سم اشو کروانے ہی آتے ہیں۔۔۔ احمر کے گہرے طنز پر وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
اور میں تم سے یہ ہی پوچھنا چاہتا ہوں کے کیوں۔۔۔ کیوں تمہیں یہ سم اشو کروانے کی ضرورت پیش آئی۔۔۔۔ پیچھے کس باپ کو سگنل بھیجنا چاہتے ہو۔۔۔ میر کے ہونٹوں پر طنزیہ سلگتی مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔۔۔
احمر دلکشی سے مسکراتا اسکی جانب بڑھا اور چہرا اسکے کان کے قریب لایا۔۔۔ تمہاری اسی گرل فرینڈ کو جو تمہیں چھوڑ میرے انتظار میں پاگل ہے۔۔۔
احمر کا کہنا تھا کے وہ غصے میں آپے سے باہر ہوتا ایک زور دار مکہ احمر کے منہ پر جڑ چکا تھا۔۔۔ احمر نے بھی آو دیکھا نا تاو سرعت سے اس پر پل پڑا۔۔۔ لمحوں میں دونوں گھتم گھٹا ہوئے تھے۔۔۔ ابھی تو اسکے ماہرہ کے قریب جانے والی حرکت سے اندر لگنے والی آگ ہی نا بجھی تھی۔۔۔ قدرت نے اچھا موقع دیا تھا ہاتھ صاف کرنے کو۔۔۔ وہ لمحوں میں اسے ادھ موا کر گیا۔۔۔ سرعت سے وہا0ں سیکیورٹی اکھٹی ہوئی اور اگلے چند ہی لمحوں میں پولیس سے رجوع کرنے کی بجائے وہ دونوں دلاور خان کی عدالت میں کھڑے تھے۔۔۔ دلاور خان کرسی پر بیٹھا خونخوار نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا جبکہ شائنہ میر کی حالت دیکھ دیکھ محظوظ ہوتی احمر کو ستائشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
کیا بیہودگی ہے یہ احمر۔۔۔ جانتے ہو تم نے میر کا کیا حشر کیا ہے۔۔۔ وہ ہاتھ پشت پر باندھے اکڑی گردن اور اٹھے سر سمیٹ کھڑا تھا۔۔۔ اور اسکا یہ ہی ایٹیوڈ میر کو کھلتا تھا۔۔۔ وہ ڈرتا یا جھکتا کیوں نا تھا۔۔۔
شروعات اسنے کی تھی سر۔۔۔ میں نے اسے محض شٹ آپ کال دی۔۔۔ اسکی آواز مضبوط اور لہجہ دوٹوک تھا جو ہمیشہ دشمن کو مضحمے میں ڈال دیتا۔۔۔
چچا جان یہ وہاں بائیو میٹرک سم اشو کروانے گیا تھا۔۔۔
جی بالکل کیونکہ میں فائز علوی ہوں اور میں وہاں اپنے کسی آشنا کو سگنل دینے گیا تھا۔۔۔ سو فنی۔۔۔ اس سے پہلے کے میر طیش سے اپنی بات مکمل کرتا احمر بیزاریت سے سر جھٹکتے یوں بولا کے میر اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
پتہ نہیں کیوں کے یہ تنگ کیوں نہیں آتا ایک ہی کہانی کو دہرا دہرا کر۔۔۔ شاید اسے لگتا ہے کے بار بار جھوٹ بولنے سےجھوٹ سچ بن جاتا ہے۔۔۔ احمر کا لہجہ اکتایا ہوا تھا۔۔
دلاور خان نے اسے غور سے دیکھا۔۔۔۔
پھر تم وہاں لینے کیا گئے تھے احمر۔۔۔
سر کل آفس سے اپارٹمنٹ جاتے راستے میں میرا کمپنی کی جانب سے ملا فون چوری ہو گیا۔۔۔ بہت پریشانی بنی ہوئی تھی مجھے۔۔۔ اس لئے میں نیا فون لینے کے بعد سم اشو کروانے فرینچائز چلا گیا۔۔۔
اسنے جیب سے نیا موبائل نکالتے انہیں دکھایا۔۔۔
ٹھیک ہے جاو شنایا اسے کمپنی کی جانب سے نئ سم اشو کردو۔۔۔ دلاور خان نے شنایا سے کہتے ان دونوں کو باہر جانے کا کہا۔۔
****
میر اپنی حرکتوں سے باز جاو۔۔۔ یوں اپنی بات ثابت کرنے کو ہاتھا پائی پر اترنا کوئی قابل گرفت عمل نہیں۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر احمر ہمارا زر خرید نہیں۔۔۔ وہ بہت قابل انسان ہے اور ہماری بہت مدد کر چکا ہے۔۔۔ وہ ذہنی ہی نہیں جسمانی طور پر بھی تم سے زیادہ قابل ہے یہ بات آج تم سمجھ چکے ہوگے۔۔۔ شنایا اور احمر کے وہاں سے نکلتے ہی دلاور خان نے اسےآڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
میر نے اس عزت افزائی پر مٹھیاں زور سے بھینچی۔۔۔
کیا مدد کی ہے اسنے ہماری چچا جان۔۔ وہ بھڑکا۔۔۔
ہم جس قدر کرائسسز میں گر چکے تھے احمر نے ہی وہ ساری صورتحال سمبھالی ۔۔۔ کئ ایسے سوفٹوئیر بنائے جس سے ہمیں فنانشلی ریکوری میں مدد ملی۔۔۔ ہماری کمپنی کی ساکھ متاثر نہیں ہوئی۔۔۔
ا
واہ چچا جان واہ۔۔۔ بہت اچھی کوشیش رہی اسکی آپ سب کا اعتماد جیتنے کی۔۔۔ ورنہ آپ یہ تو ضرور سوچتے کے ہمیں اتنے کرائسز میں پھنسایا کس نے۔۔۔ اسی نے اس روبورٹ کے ذریعے سے اتنی تباہی مچائی نا پھر خود ہی آپ سب کی نظروں میں ہیرو بن گیا۔۔۔
دلاور خان اسکی بات پر تھمے۔۔۔ ہاں یہ حقیقت تھی۔۔۔
ایکسپیریمنٹ کسی کا بھی غلط ہو سکتا ہے۔۔۔ اسنے کم از کم ایک کامیاب تجربہ کرنے کی کوشیش کی جو بدقسمتی سے ناکام رہا ۔۔۔ کسی کا بھی سو فیصد پہلا تجربہ کامیاب ہو یہ ممکن نہیں۔۔۔ تم اسکے ایک تجربے کی ناکامی کا سہرا اسکے باقی سب عملوں کے سر نہیں سجا سکتے۔۔ شنایا اندر داخل ہوتی سختی سے گویا ہوئی۔۔۔۔
چچا جان آپکو اس ساری کور سٹوری میں جھول کیوں نہیں دکھائی دے رہا ۔۔۔ یہ شخص احمر شیخ ہے تو پھر فائز علوی کہاں ہے۔۔۔
احمر اپنے ڈیسک پر سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھا تھا۔۔۔ پس منظر وہ منظر چل رہا تھا جب اسنے آخری ملاقات میں ماہرہ کو اپارٹمنٹ سے نکالا اور خود حواس باختہ سا اسی انداز میں اندر داخل ہوا۔۔
سارا ہارڈ ڈیٹا ضائع کرنے کے بعد سب کچھ لاوئنج میں اکھٹا کرتے اسنے پٹرول کی کین نکالتے ہر جانب پٹرول پھینکنا شروع کیا۔۔۔۔ جو اس نے ایسی ہی کسی ہنگامی صورت کے لئے رکھا تھا۔۔۔
جو لاش ریسکیو والوں کو اس جلے ہوئے اپارٹمنٹ سے ملی وہ فائز کی نہیں تھی یہ بات آپ بھی جانتے ہیں۔۔۔ میر میز ہر ہاتھ رکھتا دلاور خان کی جانب جھکا جو گم صم سا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہر طرف پٹرول چھڑک کر فائز نے کپڑے تبدیل کئے اور اپنا چھوٹا سا بیگ نکال کر کندھوں میں پہنتے سر پر پی کیپ لی اور اسی دروازے تک آیا جہاں سے ماہرہ نکلی تھی پھر شعلہ لاوئنج کے بیچ و بیچ پھینکا۔۔۔
لمحے میں اس شعلے نے آگ پکڑی ور اسکی لپٹیں دور دور تک پھیلنے لگی۔۔۔ عین اسی وقت میر اور اسکے ساتھی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔۔۔
وہ آدمی ہمارا ہی شخص تھا جو اپنی غفلت کے باعث ابدی نیند سو گیا ۔۔۔
اپنی غفلت یا تم لوگوں کی خود غرضی و بے حسی کے باعث۔۔۔ شنایا نے ٹکرا لگایا تو میر نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔
ہاں نا۔۔۔ تم لوگ کوشیش کرتے تو بچ سکتا تھا نا وہ۔۔۔ وہ بنا ڈرے آنکھ اچکاتی گویا ہوئی ۔۔
میر اور اسکے ساتھی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تھے تو دروازہ توڑنے والا شخص دروازہ ٹوٹے ہی لڑھک کر اندر گرا۔۔۔ یوں اس انداز میں کے وہ بری طرح آگ کی لپیٹ میں آگیا۔۔۔
آگ کے شعلے بری طرح بھڑک رہے تھے۔۔۔
ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نا دیتا تھا۔۔۔
وہ شخص چلا رہا تھا۔۔۔ آگ اسکو جھلسا رہی تھی۔۔۔ اسکے ایک حصے سے دوسرے حصے کی جانب سرائیت کر رہی تھی۔۔۔ وہ لوگ چاہتے تو زرا سی کوشیش سے اپنے ساتھی کو بچا سکتے تھے۔۔۔ مگر اس مقام پر ہر شخص اسے وہاں تنہا چھوڑے وہاں سے اپنی جان بچا کر بھاگا۔۔۔
تم لوگوں کی بے حسی کے باعث تمہارا سب سے قابل ورکر نظر آتش ہو گیا۔۔۔ شنایا نے مزید ٹکرا لگایا۔۔۔
اپارٹمنٹ سے نکلتے ہی انہیں احمر آگ کے باعث اپنے اپارٹمنٹ سے نکل کر بھاگتے دکھا جسے دیکھتے ہی انہوں نے ایک سرنج اسکے شانے پر چبھوتے اسے یرغمال بنایا۔۔۔
وہ غیر قانونی طور پر افغانستان لایا گیا تھا۔۔۔ اسکے کندھے پر موجود بیگ سے اسکے سبھی ڈاکومنٹس احمر شیخ کے نام سے برآمد ہوئے تھے نیز یہ آئی ڈینٹیٹی ایکٹو تھی۔۔ جبکہ فائز علوی کی ہر چیز فریز ہو چکی تھی جو انہیں مضحمے میں ڈالے ہوئے تھی۔۔۔ احمر کے ہوش میں آنے کے بعد اسے طرح طرح سے گھیرے میں لے کر اس سے اگلوانے کی
کوشیش کی گئ کے وہ فائز علوی ہے۔۔۔ مگر اسکا ہوم ورک مکمل تھا۔۔۔ وہ ایک آئی ٹی سٹوڈینٹ تھا جنہیں انہوں نے پرکھنے کو ایک اچھی آفر کیساتھ وہاں کام کرنے کو ہائیر کیا۔۔۔اس شرط پر کے وہ وہاں سے جا نہیں سکتا۔۔۔ اور چونکے احمر شینخ کا کوئ دوسرا اس دنیا میں نا تھا تو اسنے باخوشی یہ آفر قبول کی اور انکی کمپنی کے ساتھ کام کرنے لگا۔۔۔ تب سے اب تک اسکی کوئی ایک بات بھی تو قابل گرفت نا آئی تھی کے وہ جانچا جا سکتا کے وہ احمر نہیں بلکہ فائز علوی ہے۔۔۔
اور یہ ہی بات چچا جان کے اگر یہ شخص احمر ہے تو فائز کہاں ہے۔۔۔ کیوں اس ڈیڈ بڈی کا ڈی اہن اے فائز کا ڈی این اے ڈکلئیر کر کے فائز کو دنیا کی نظر میں مردہ ثابت کیا گیا۔۔۔
کیا آپکو کہانی کا یہ اتنا بڑا جھول دکھائی نہیں دے ریا۔۔۔
ایسے میں دو ہی صورتیں ہیں کے یا تو احمر شیخ کا ہوم ورک بہت سٹرونگ ہے اور یہ ہماری آنکھآنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔۔۔ نمبر دو کے فائز علوی زندہ ہے اور اس دنیا کے کسی کونے میں موجود اپنا پراجیکٹ مکمل کر رہا ہے۔۔۔ جو کے ایک نا ممکن سا امر ہے کے اگر ایسا ہوتا تو اسکا پراجیکٹ ابھی تک لانچ ہو چکا ہوتا۔۔۔
چونکہ ایسا نہیں ہوا تو اسکا سیدھا سا مطلب یہ ہی ہے کے احمر ہی فائز ہے۔۔۔ وہ ہر ہر بات کھول کر چچا کے سامنے رکھتا اب انہیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۱۔۔ میر نے ان کے لئے سوچوں کے بہت سے در کھول دئیے تھے وہ اسکے شاطر دماغ کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
کیا چاہتے ہو تم ۔۔ دلاور خان نیم قائل دکھایئ دیتا تھا۔۔۔
ایک موقع فائز علوی کو ایکسپوز کرنے کا۔۔۔
دیا موقع۔۔۔
میر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔۔
ٹارچر سیل کھلواو شنایا۔۔۔
واٹ۔۔۔ وہ میر کی نگاہوں میں پنپتی شیطانیت دیکھ چلا کر رہ گئ۔۔۔ وہ شاید اسے ایکسپوز کرنے کی آڑ میں اپنی آج کی ٹھکائی کا بدلہ سود سمیٹ لینے والا تھا۔۔۔ کیونکہ ممکن نا تھا کے اس ٹارچر سیل سے نکلنے کے بعد کوئی انسان جسمانی یا ذہنی معذوری کا روگ نا پالتا۔۔۔
*****

No comments