Roshan Sitara novel 107th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 107th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
107th epi...
کیا کیا بکواس کی تم نے ماں کے سامنے فاہا۔۔۔ وہ آنکھیں ٹیرھی کئے اس دیکھ رہا تھا جو ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد پھر سے سر جھکاتی لب چبانے لگی تھی۔۔۔
میں نے ان سے کچھ نہیں کہا۔۔۔
تو ہماری اتنی پرسنل باتوں کا انہیں الہام ہوا۔۔۔ فاہا کے ڈھیت پن پر اب اسے غصہ آنے لگا تھا۔۔۔۔
اب آپ نے اگر مجھے ڈانتا تو میں تائی جان سے براہ راست آپکی شکایت لگاوں گی۔۔۔ وہ تنک کر اسکی جانب دیکھتی بولی یوں کے مرتسم کئ لمحوں تک آنکھیں چندہی کئے اسے دیکھتا رہا حتکہ فاہا شرمندہ ہوتی نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
سیریسلی۔۔۔ تمہیں لگتا ہے کے تم مجھے میری ماں کے ذریعے سے زیر کر سکتی ہو۔۔۔ مجھے کنٹرول کر سکتی ہو۔۔۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ پیچھے کو کرتا ترچھا ہو کر اسکی جانب رخ کرتا سیٹ سے ٹیک لگا کر سینے پر ہاتھ باندھتا پرسکون سا ہو کر فرصت سے بیٹھا گویا یہ سیشن لمبا چلنے والا ہو۔۔۔
فاہا خاموش رہی۔۔۔ وہ چڑ رہا تھا۔۔۔ ضدی ہو رہا تھا اور وہ اسے ضد نہیں دلانا چاہتی تھی۔۔۔ انتہائی اقدام ضد اور غصے میں ہی تو اٹھائے جاتے ہیں۔۔۔
آج صبح جو تم نے ڈرامہ لگایاااا۔۔۔
میں نے کوئی ڈرامہ نہیں لگایا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ چڑ کر مزید بدگمانی پالتا وہ سرعت سے گویا ہوئی۔۔۔
لائک سیریسلی ۔۔۔ تم ابھی بھی اپنی بات پر قائم ہو۔۔۔ اسنے طنزیہ ستائش سے بھنور اچکائی۔۔۔
میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ وہ تو تائی جان نے مجھے دیکھ کر کہا کے تمہارے اور مرتسم کے بیچ سب ٹھیک نہیں ہے میں تمہاری ماں ہوں اس لئے مجھ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اس لئے۔۔۔ وہ منمنائی۔۔۔ مزید وہ اس شخص کو خود سے بدگمان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اسی لئے صفائی دینا لازم تھا گویا۔۔۔
واو۔۔۔ امپریسیو یار۔۔۔ اسنے داد دینے والے انداز میں تالی بجائی۔۔۔ تو کس نے بولا تھا شکل پر بارہ بجا کر گھومنے پھرنے کو۔۔۔ وہ بھڑکا۔۔۔
جس طرح سے صبح آپ نے مجھے ڈانتا ہے مرتسم۔۔۔ مجھے بگھوڑی خود سر اور ناجانے کیا کیا بولا ۔۔۔ ایسے میں چہرے پر مسکراہت کہاں سے لاتی۔۔۔وہ تڑپ کر سر اٹھاتی شکوہ کناں ہوئی۔۔۔ آنکھیں لمحے میں جھل تھل کرنے لگی۔۔۔ مرتسم نے سرعت سے ان ساحرانہ نین کٹوروں سے نگاہیں پھیری ورنہ وہ آنکھیں اسے بے بس کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔۔۔
ہاں تو کیا نہیں ہو وہ سب۔۔۔ غلط کہا میں نے کیا۔۔۔ ایک تو فری میں پلے پڑ گئ ہو۔۔۔ اوپر سے ۔۔۔ وہ جھنجھلایا۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ کیا بولا آپ نے۔۔۔ وہ اپنی جھنجھلاہٹ اتارنے کو سر جھٹکتا بولا جب فاہا اسکے لفظ پکڑتی ہر ڈر خوف غرض ہر جذبہ سائیڈ پر رکھتی حیرت و استعجاب سے لڑنے مرنے کو تیار سی بولی۔۔۔ مرتسم ٹھٹھکا۔۔۔ اپنے لفظوں پر غور کیا کہ ایسا کیا کہہ ڈالا اس نے۔۔۔ مگر کچھ قابل گرفت نا لگا۔۔۔۔۔
کیا بولا آپ نے۔۔۔ وہ جرح پر اتری۔۔۔ فری میں۔۔۔ ہاں۔۔۔ فری میں۔۔۔ آپ مجھے جہیز نا لانے کا تانا دے رہے ہیں۔۔۔
مرتسم گنگ رہ گیا۔۔۔ اسنے بونچکا انداز میں اسکا اشتعال سے پھولتا چہرا دیکھا۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔۔۔ مرتسم کو اسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔۔۔
یہ بکواس آپ نے کی ہے مرتسم لودھی۔۔۔ میں فری میں پلے پڑ گئ۔۔ اسکا غم تھا کے ختم ہونے کا نام ہی نا لے رہا تھا۔۔۔
کوئی ایری غیری نہیں ہوں میں۔۔۔ گاوں کے سردار کی بیٹی ہوں مرتسم صاحب۔۔۔ میرے بابا کی اتنی جائیداد ضرور ہے کے میرا جہیز تو پورا ہو ہی جائے گا۔۔۔ آپ نے مجھے جہیز نا لانے کا طعنہ کیسے دیا۔۔۔ وہ تو لڑنے مرنے کو تیار تھی۔۔۔
کیا بے ہودگی ہے یہ۔۔۔ میں نے کب تانا دیا۔۔۔ اسکے انداز دیکھتا مرتسم پریشان ہو اٹھا۔۔۔
ابھی دیا۔ آپ نے بولا فری میں۔۔۔
میری وہ اٹینشن نہیں تھی میں نے تو۔۔۔
آپکی جو بھی اٹینشن تھی مرتسم آپ نے بولا۔۔۔ اسکی آواز میں دکھ ہلکورے لینے لگا۔۔۔۔۔ میں تایا جان سے کہوں گی کے میرا جہیز۔۔۔
انف از انف فاہا لودھی۔۔۔ فضول باتوں کو بیچ میں لا کر بات کا رخ مت موڑو۔۔۔ وہ غصے سے ڈھارا۔۔۔
اور آپ فضول باتوں کو لے کر جو مرضی کرتے رہیں۔۔ آپکی یہ اٹینشن نا تھی تو اس روز گھر سے جانے کے یچھے میری اٹینشن بھی وہ نا تھی جو آپ نے سمجھی۔۔۔ وہ دو بدو اسی کے انداز میں بولی۔۔۔
آہا۔۔۔ اب آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔۔ مرتسم جیسے بات سمجھ کر حتمی نتیجے پر پہنچا۔۔۔
اپنی بات کا اثر ذائل کرنے کو میری باتیں پکڑ رہی ہو۔۔۔ اسکی آواز پرتاسف تھی فاہا بے بسی سے اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
آپ وہ سب بھول نہیں سکتے۔۔۔
کیا تمہارے خیال میں تمہاری حرکت اتنی چھوٹی ہے کے بھول جاوں۔۔۔ اور تو اور تمہاری صبح کی حرکت۔۔۔۔ محترمہ کو رونمائی کا تحفہ چاہیے۔۔۔ مرتسم کے سرد و سخت لہجے پر وہ شرمندگی سے سر جھکا گئ۔۔۔
اور چاہیے بھی تھا تو محترمہ تمہیں نہیں لگتا کے اس خواہش کا اظہار بجائے میری ماں کے سامنے کرنے کے تمہیں میرے سامنے کرنا چاہیے تھا۔۔۔ اسکی آواز میں تاسف تھا ملال تھا۔۔۔ جیسے اسکی صبح کی حرکت کو ہضم نا کر پا رہا ہو۔۔۔
فاہا کا دل بھر بھر آیا۔۔۔ وہ اسے منانا چاہتی تھی صلح کرنا چاہتی تھی اور وہ تھا کہ کسی صورت ہاتھ تک نا آ رہا تھا۔۔۔ الٹا اسکی صبح کی حرکت اسے مشتعل کر رہی تھی۔۔ شاید ماں نے اسے کچھ زیادہ ہی آڑے ہاتھوں لے لیا تھا اور اب وہ وہی غصہ اس پر اتار رہا تھا۔۔۔ وہ اور بھی ناجانے اسے کیا کیا کہتا رہا لیکن فاہا کے کان تو سائیں سائیں کر رہے تھے۔۔۔ سمجھ ہی نا آ رہی تھی کے معاملہ سمبھالے کیسے۔۔۔ وہ صبح کی طرح جی بھر کر اس پر بھراس نکال رہا تھا جب فاہا بنا سوچے سمجھے اسکے سینے سے آ لگی اور اسکے گرد اپنی بازوں کا حصار بناتی اسکے سینے میں چہرا چھپاتی سسک اٹھی۔۔۔
یکدم ہی مرتسم کی چلتی زبان کو بریک لگی۔۔۔ وہ جہاں کا تہاں ساکت سا منہ کھولے اسکی جرات ملاخظہ کرنے لگا جو اسے سر تا پیر جھنجھوڑ گئ تھی۔۔۔
ایم سوری۔۔۔ ایم سو۔۔۔ سو سو۔۔۔ سوری مرتسم۔۔۔ پلیز غصہ تھوک دیں مجھے معاف کر دیں۔۔۔ دوبارہ ایسی غلطی کبھی زندگی میں نہیں کروں گی۔۔۔
میری ایسی کوئی اٹینشن نا تھا۔۔۔ مانتی ہوں آپ نے مجھے بہت سمجھایا تھا۔۔۔ لیکن اسکے باوجود خطا تو مجھ سے سر زد ہوگئ نا۔۔۔ لیکن اب اتنے کھٹور نا بنے نا پلیز۔۔۔۔۔
تھوڑی تو گنجائش چھوڑیں۔۔۔ میں بہت ڈر گئ تھی اس لئے شاید حالات سے فرار حاصل کرنے کو حویلی چلی گئ کے شاید ایسے ہی تائی جان مان جائیں۔۔۔
اور مجھے کوئی ضرورت نہیں تائی جان کے ذریعے سے آپکو زیر کرنے کی۔۔۔ میں بس آپ سے صلح کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ آپ سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔۔۔
کیونکہ آپکا غصہ۔۔ آپکی ناراضگی جان لے لے گا میری۔۔۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کے آپکے صبح کے غصے نے کس انداز میں مجھ ادھ موا کیا ۔۔۔۔مجھے لگ رہا تھا میری جان نکل جائے گی۔۔۔ وہ زارو قطار روتی ہر ممکن کوشیش کر رہی تھی کے اسکی بدگمانی دھل جائے۔۔۔ اور مرتسم اسے لگا جیسے کسی نے جلتے بھڑکتے دل پر یکدم ہی کسی ٹھنڈے پانی کی پھوار ڈال دی ہو۔۔۔۔ وہ کسی صورت اپنی ناراضگی ختم کرنے کا ارادہ نا رکھتا تھا۔۔۔ مگر فاہا کی پیش قدمی نے اسے جھنجھوڑ ڈالا۔۔۔ جیسے اب اگر اسے نا تھامتا تو گناہ کا مرتکب ہوتا۔۔۔۔ اسنے گہرا سانس لیتے اسکے لرزتے کانپتے وجود کے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کرتے اسے خود میں بھینچا۔۔۔
میں نے تمہیں کہا تھا کے مجھے کچھ وقت دو میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔ مگر تم نے مجھ پر یقین نہیں کیا۔۔۔ اسے خود میں بھینچے مرتسم کے لبوں سے شکوہ برآمد ہوا۔۔۔
آپ سے بڑھ کر مجھے کسی پر یقین نہیں مرتسم۔۔۔ یہ ایک بے اختیاری عمل تھا۔۔۔ فاہا نے سیدھے ہوتے اپنے کپکپاتے مومی ہاتھوں میں اسکا چہرا تھاما۔۔۔ اور پر امید نم نگاہیں اسکی آنکھوں پر ٹکائیں۔۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھتا رہا۔۔۔
ایم سوری۔۔۔ کپکپاتے لبوں سے پھر سے ادا ہوا۔۔۔
مرتسم کے ضبط کے بندھن چھوٹنے لگے۔۔۔۔ وہ ساحرا اسے بری طرح اپنے سحر میں جھکڑ رہی تھی۔۔۔
مجھے آپکے غصے سے بہت ڈر لگتاہے مرتسم۔۔۔ پلیز مجھ پر غصہ نا کریں۔۔۔ ۔اسکا انداز اتنا دلنشین تھا کے بے ساختہ ایک مسکراہٹ مرتسم کے ہونٹوں کو چھوئی اور اسنے جھک کر فاہا کے ماتھے پر مہر محبت ثبت کی۔۔۔
اب تو آپ ناراض نہیں نا۔۔۔۔ ہماری صلح ہے نا اب۔۔۔ مرتسم نے اپنی انگلی کی پوروں پر اسکے آنسو چنے تو وہ اسکے رویے سے حوصلہ پاتی آس و نراس میں گھری گویا ہوئی۔۔ گو کے مرتسم کے انداز اسے چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کے انکے بیچ سب ٹھیک ہو گیا لیکن اسکے باوجود وہ مرتسم کے منہ سے سننا چاہتی تھی ۔۔
وہ ہلکا سا مسکرا دیا۔۔۔۔ اب اتنے پیار سے مناو گئ تو کون کافر ناراض رہے گا۔۔۔ وہ اگنیشن میں چابی گھماتا گاڑی سٹارٹ کر گیا۔۔۔
شکر۔۔۔ وہ گہری سانس خارج کرتی ہاتھوں میں چہرا چھپاتی پھر سے رو دی۔۔۔
اب کیا ہوا۔۔۔ اب تو صلح ہوگئ نا۔۔۔ وہ اسکے کپکپاتے ہاتھوں میں چھپے چہرے کو دیکھ معتجب سا گویا ہوا۔۔۔
میں بہت ڈر گئ تھی نا مرتسم۔۔۔ اتنا شدید ردعمل بھی تو آپ نے زندگی میں پہلی مرتبہ دکھایا نا۔۔۔ اسکا ستا ہوا چہرا دیکھ مرتسم کو پشیمانی ہوئی۔۔۔
میرا آپکے سوا ہے ہی کون۔۔۔ آپ اس دنیا میں میرا واحد محرم رشتہ ہیں۔۔۔ آپ ناراض تھے نا میں بتا نہیں سکتی میرا دل کس انداز میں ڈھرک رہا تھا۔۔۔ میں اتنا ڈر گئ تھی مرتسم کے جب تائی جان نے مجھے جذباتی سہارا دیا تو میں انکے سامنے خاموش نا رہ سکی۔۔۔
مرتسم کو اس پر جی بھر کر ترس آنے کے ساتھ خود پر غصہ بھی آیا۔۔۔
اسنے بازو آگے کرتے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔ وہ نڈھال سی اسکے شانے سے سر ٹکا گئ۔۔۔
ایم سوری فاہا۔۔۔ میں دوبارہ کبھی تم پر غصہ نہیں ہونگا۔۔۔ وہ کچھ پرسکون ہوئی تو سسکیاں بھی تھم گئیں۔۔۔۔ کچھ دیر بعد جب اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو فطری شرم کا غلبہ آ چڑھا۔۔۔ وہ نامحسوس انداز میں اس سے الگ ہوئی ۔۔
ایک مسکراہٹ مرتسم کے لبوں کو چھوئی۔۔۔
بائے دا وے۔۔۔ اب رونمائی کا تحفہ چاہیے کے بس رات گئ بات گئ۔۔۔ ناجانے کیوں اسکا شرمانا اور جھجھکنا مرتسم کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر رہا تھا وہ یکدم خاموش ہوگئ تو وہ اسے انگیج کرنے کو شریر ہوا۔۔۔
ظاہر سی بات ہے۔۔۔ وہ کسے نہیں چاہیے ہوتا۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔
نہیں مجھے لگا شاید صلح کی خوشی میں وہ معاف ہو گیا۔۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ وہ دو بدو بولی۔۔۔
یہ ہم کہاں آئے ہیں۔۔۔ وہ اسے ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کی پارکنگ میں گاڑی روکتے دیکھ حیرت سے مستفسر ہوئی۔۔۔
محترمہ واقعی بہت مصروف ہوں۔۔ اور پہلے ہی بہت لیٹ ہو چکا ہوں اس لئے تمہاری مدر ان لا کے کہے کے مطابق تمہیں گھما پھرا نہیں سکتا اس لئے تمہیں یہیں میرے ساتھ آنا پڑے گا۔۔۔ مرتسم کے کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلاتی گاڑی سے اتر آئی۔۔۔
****
شکر اللہ کا ان محترم کو آنے کا خیال آیا ورنہ مجھے لگ رہا تھا شاید ہم دونوں کو ہی سارا سیٹ آپ کرنا پڑے۔۔۔
مرتسم کو اندر داخل ہوتا دیکھ چائے کی چسکی لیتا وہاج گویا ہوا۔۔۔ جبکہ ماہرہ بھی اسکے مقابل بیٹھی چائے پی رہی تھی ۔۔ مائز پاس ہی کارپٹ پر بیٹھا اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔۔۔ ان لوگوں نے صبح سے اب تک فائز کی لیب کو دوبارہ سے تشکیل کر لیا تھا اور اب وہ درمیان میں بریک لیتے چائے پی رہے تھے۔۔۔
ماشااللہ۔۔۔ ماشااللہ۔۔۔ مانا کے کل ہی تمہاری شادی ہوئی ہے۔۔۔ پر اتنا بھی کیا جوڑو کا غلام ہونا کے بیوی کے بنا دل نہیں لگتا تو بیوی ہی ساتھ اٹھا لائے۔۔۔ وہاج اسکے کل رات کے رویے کے بعد آج اسکے بدلے ہوئے انداز دیکھ گہرا طنزیہ گویا ہوا۔۔۔
مرتسم قہقہ لگا اٹھا جبکہ فاہا خوامخواہ ہی شرمندہ ہو کر رہ گئ۔۔۔ ماہرہ آگے بڑھ کر اس سے ملی۔۔۔
شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔
ارے واہ تم لوگوں نے تو بہت سارا کام نبٹا ڈالا۔۔۔ وہ کمرے میں داخل ہوتا ستائشی انداز میں بولا۔۔۔
محترم آپکے حصے کا سارا کام پڑا ہے جلدی سے شروع ہو جاو۔۔۔ وہاج نے چٹکی بجاتے اسے وارن کیا۔۔۔ تو وہ سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔ تم لوگ شروع کرو میں آیا۔۔۔ وہ واپس باہر فاہا کے پاس آیا اسکے ہاتھ میں اسکا لیپ ٹاپ تھا۔۔۔ میں کچھ مصروف ہوں فاہا تب تک تم یہاں سے سرچ کر کے اپنی تیاری کرو میں بعد میں سنو گا۔۔۔ وہ فاہا کو کام دیتا واپس لیب میں آیا لیب کا دروازہ وا تھا جہاں سے لاوئنج اور لاوئنج سے وہاں کا منظر واضح تھا۔۔۔
میرا کام آلموست مکمل ہے یار۔۔۔ ڈیتا سارا ہے میرے پاس مگر یہ تو بتاو اسے انسٹال کس سوفٹ وئیر میں کریں۔۔۔ اور یہ ہی تو مسلہ ہے کے ہمارے پاس فائز کے پراجیکٹ کی ڈیٹیل نہیں ہے۔۔۔ مرتسم نے بے دلی سے وہ بات اگلی جو وہ تب سے ماہرہ سے کرنا چاہتے تھے۔۔۔
ڈیٹیلز ہیں مرتسم۔۔۔ ماہرہ کے کہنے پر وہ دونوں چونکے۔۔۔ مطلب۔۔۔
مطلب یہ کے فائز نے ایک یو ایس بی مجھے بالخصوص سمبھالنے کے لئے دی تھی۔۔۔ اسکے لیپ ٹاپ میں تو ناجانے کیا تھا۔۔۔ مگر یو ایس بی میں کنفرم اسکے پراجیکٹ کی ہی انفارمیشن ہے۔۔۔
کیا۔۔۔ کہاں ہے وہ۔۔۔ وہ دونوں معتجب تھے۔۔۔ ماہرہ نے یو ایس بی وہاج کو تھمائی تو اسنے بنا تاخیر کئے اسے لیپ ٹاپ میں لگایا۔۔۔
یس یس یس۔۔۔ اس میں پراجیکٹ کی ہی انفارمیشن ہے ماہرہ۔۔۔
اٹس گریٹ۔۔۔ باقی سارا کام تو مکمل ہے یار۔۔۔ اس آپریٹنگ انفارمیشن سے ہم دو مہینوں تو کیا محض دو ہفتوں میں اس پراجیکٹ کو مکمل کر لیں گے۔۔۔ وہ دونوں یکدم ہی پرجوش ہو اٹھے تھے۔۔۔ ماہرہ کی ڈھارس بندھی دل کی امید مزید بڑھی۔۔۔
واقعی۔۔۔
ہاں نا۔۔۔ میں اس انفارمیشن کے مطابق اپنے پاس موجود ڈیٹا سافٹ وئیر میں انسٹال کرتا ہوں تب تک تم ربورٹ کا سامان آرجینٹلی آرڈر کرو تاکے جب تک ایک دو دنوں میں ہم سارا ڈیٹا انسٹال کریں گے تب تک وہ سامان ڈیلیور ہو جائے گا۔۔۔
ہیلو ایوری بڈی ۔۔ وہ لوگ ابھی باتیں ہی کر رہے تھے جب لاوئنج سے ابھرتی مردانہ آواز پر عہ سب چونکے۔۔۔ وہ زاویار تھا جسے دیکھتے ہی ماہرہ کے اعضلات کھنچنے لگے وہ لیب میں تھی جبکہ فاہا لاوئنج میں تھی۔۔۔ بے ساختہ ماں کی رات کی کہی باتیں اسکے دماغ میں گھونجی تو کیا وہ واقعی اسے چیک آوٹ کرنے آیا تھا کے وہ دو نامحرموں کیساتھ کیا کر رہی تھی۔۔۔ اسکا دماغ جھنجھنا اٹھا۔۔۔
*****

No comments