Header Ads

Roshan Sitara novel 106th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  106th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

106th epi...
مرتسم باہر آیا تو ماں اور بابا کیساتھ ساتھ علایہ کو بھی ڈائینیگ ٹیبل پر اپنا منتظر پایا البتہ وہاج وہاں نہیں تھا۔۔۔ وہ خود کو بہت حد تک کمپوز کر چکا تھا تبھی نارمل انداز میں کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔۔۔ وہاج کہاں ہے۔۔۔ بیٹھتے ہی وہ براہ راست علایہ سے مخاطب ہوا۔۔۔
وہ کسی ضروری کام کا کہہ کر گئے ہیں۔۔۔ کہہ رہے تھے کے آپ دونوں کو آج ایک نئے پراجیک پر کام شروع کرنا ہے اس لئے آپ کے آنے سے پہلے پہلے وہ ساری بنیادی کام مکمل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ علایہ کے تفصیلی جواب پر وہ سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔ اسے بھی کچھ دیر تک ماہرہ کے اپارٹمنٹ پہنچنا تھا۔۔۔
ماں نے اسکے نارمل انداز پر سکون کا سانس خارج کیا۔۔۔
تم اکیلے کیوں آئے ہو مرتسم فاہا کو ساتھ کیوں نہیں لائے۔۔۔ ماں کے کہنے پر اسنے اچھنبے سے ماں کو دیکھا۔۔۔ ابھی تیار نہیں ہوئی تھی وہ۔۔۔ تیار ہو کر آجائے گی۔۔ اسکا اپنا گھر ہے۔۔۔ وہ عام سے انداز میں کہتا جگ سے جوس گلاس میں انڈیلنے لگا۔۔۔
آہممم۔۔ جب علایہ کنگار اٹھی۔۔۔ آئی تھنک سو۔۔۔ کم از کم آج آپکو ناشتے پر اپنی نئ نویلی دلہن کا انتظار کرنا چاہیے۔۔۔ اور پلیز یہ تو کہیے گا ہی مت کے ان فارمیلیٹیز کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ کیونکہ زندگی کا حسن اور خوبصورتی انہی چھوٹی چھوٹی فارمیلیٹز میں ہی چھپی ہیں۔۔۔ علایہ کے مدبرانہ انداز میں کہنے پر وہ گہری سانس خارج کرتا ہاتھ کھینچ گیا۔۔۔
میں اسے بلا کر لاتی ہوں۔۔  سب کو ناشتے پر فاہا کا انتظار کرتا پا علایہ اپنی جگہ سے اٹھی لیکن اس پہلے کے وہ اسکے کمرے کی جانب بڑھتی فاہا خود ہی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باہر آ گئ۔۔۔
سرخ خوبصورت سے لباس میں ملبوس ہلکا سا میک آپ کئے وہ سر جھکائے بجھی بجھی سی آ رہی تھی پھر سب کو اجتماعی سلام کرتی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔۔۔ جہاں ماں مرتسم کے انداز سے زرا مطمئن ہوئی تھیں وہیں فاہا کا بجھا بجھا انداز دیکھ وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گئیں۔۔۔
مرتسم بیٹا میرے خیال سے ولیمے کا فنگشن کل کا رکھ لیتے ہیں۔۔۔ کھانا خاموشی سے کھایا جا رہا تھا جب بابا کی آواز نے اس خاموشی کو توڑا۔۔۔
اسکی کیا ضرورت ہے بابا۔۔۔ میرا مطلب ہے کے ولیمہ فلحال رہنے دیں کچھ وقت بعد رکھ لیں گے۔۔۔ ابھی کچھ روز تک فاہا کا مقابلے کا امتحان ہے۔۔۔ اسے مکمل یکسوئی سے اس پر توجہ دینے دیں۔۔۔ ولیمے کا اسکے بعد سوچیں گے۔۔۔ ویسے بھی پچھلے دنوں جو حالات رہے ہیں اسکا بہت لاس ہو چکا ہے۔۔۔
اسکے نارمل انداز پر فاہا اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔سب کے سامنے وہ کتنی نارملی بات کر رہا تھا اور تنہائی میں۔۔ وہ جھرجھری لے کر رہ گئ۔۔اور تم بھی اب علایہ کے ساتھ گپوں میں مت لگ جانا اپنی تیاری مکمل رکھنا رات میں آکر سنوں گا میں۔۔۔ ابکی بار وہ براہ راست فاہا سے مخاطب تھا جبکہ اسکی اس کرم نوازی پر وہ شاک زدہ سی سرعت سے سر ہاں میں ہلا گئ۔۔
اسکے تفصیلی جواب پر بابا خاموش ہو گئے۔۔۔
فاہا بیٹا سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کے تمہاری بری کے طور پر کچھ بھی خرید نہیں سکے ہم۔۔۔ تم ایسا کرنا کے آج مرتسم کے ساتھ جا کر اپنی پسند سے شاپنگ کر آنا۔۔۔
ماں میں مصروف ہوں۔۔۔ اس سے پہلے کے ماں فاہا سے مزید کچھ کہتیں وہ سرعت سے انہیں ٹوک گیا۔۔۔
ایسے مت دیکھیں میں واقعی مصروف ہوں۔۔۔ اور فلحال اسکا وقت بھی شاپنگ میں ضائع مت کروائیں اسے اپنے امتحان کی تیاری پر وقت لگانے دیں۔۔۔ اسی ہفتے امتحان ہے اسکا اسکے بعد میں خود اسے شاپنگ پر لے جاوں گا۔۔۔ لیکن تب تک اسے ہر طرح کی ایکٹیویٹی سے نکال دیں۔۔۔ اسی لئے میں فلحال بارات لیجانے کے حق میں بھی نہیں تھا لیکن بابا اور آپکے کے حکم کے آگے مجھے خاموشی اختیار کرنی پڑی۔۔۔ اپنی بات مکمل کرتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ ماں اسکے دو ٹوک انداز پر اسے دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔
*****
فاہا بیٹا ادھر آو میرے پاس۔۔۔ بابا اور علایہ ناشتے کے بعد اٹھ گئے تو ماں نے فاہا کو اپنے پاس بلایا۔۔۔ جی تائی جان۔۔ وہ جھجھکتی ہوئی انکے پاس آئی۔۔۔۔ بیٹا مجھے بالکل اپنی ماں سمجھنا۔۔۔ کچھ چھپانا مت۔۔۔ تم مجھے کسی طور علایہ سے کم نہیں۔۔۔ ماضی میں جو ہو چکا سب بھول جاو۔۔۔ میری بہن اور پریہا مجھ سے سخت ناراض ہیں۔۔۔ بہت سخت الفاظ تک کہے انہوں نے مجھے۔۔۔ رابطے ختم کر دئیے۔۔۔ بول چال بند کر دی۔۔۔ ایک کہرام مچا کر رکھ دیا انہوں نے تمہارے اور مرتسم کے نکاح کی خبر کے بعد۔۔۔ لیکن مجھے اب کسی چیز کی پرواہ نہیں۔۔۔ تمہاری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید میں اتنا سٹینڈ کبھی نا لیتی۔۔۔ بات یہ ہی ہے کہ یہاں بات ہے ہی میری بیٹی کی۔۔۔ انہوں نے فاہا کی تھوری تلے نگلی رکھتے اسکا چہرا اوپر اٹھایا۔۔۔
انکے اسقدر التفات پر بے ساختہ اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
بتاو مرتسم کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ۔۔  کیا اسنے کچھ کہا ہے تمہیں۔۔۔ انکا انداز جانچتا ہوا تھا۔۔۔
فاہا یک دم بوکھلا اٹھی۔۔۔ نن۔۔۔ نہیں تو تائی جان ۔۔۔ ابھی وہ بھرم رکھنے کو کتنا نارملی سب سے بات کر کے گیا اب وہ کیسے اسکا بھرم توڑ دیتی۔۔۔
بیٹے کہا نا ماں ہوں تمہاری۔۔۔ اور ماں اولاد کا چہرا دیکھ کر ساری کہانی پڑھ لیتی ہے۔۔۔ پھر ایسا کیسے ممکن ہے کے تمہارا بجھا بجھا انداز مجھے کچھ بتا نا پائے۔۔۔
ٹھیک ہے میاں بیوی کی باتیں اور مسائل کمرے کی چار دیواری تک محدود رہنے چاہیے۔۔۔ لیکن بعض اوقات معاملات زیادہ خراب نا ہوجائیں تو بڑوں کو شامل کر لینا چاہیے۔۔۔ وہ ضدی ہے۔۔۔ غصیلہ ہے۔۔۔ غصے میں عقل سے پیدل ہو جاتا ہے میں جانتی ہوں پر اطمیئنان رکھنا فاہا میں اس نالائق کو تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کرنے دوں گی۔۔ تائی جان نے اسکا شانا تھپتھپاتے اسے حوصلہ دیا تو وہ ان سے لپٹتی بے اختیار رو دی۔۔۔ 
وہ مجھ سے بہت شدید ناراض ہیں تائی جان۔۔۔ بہت بہت شدید۔۔۔ انہیں غصہ ہے کے میں گھر چھوڑ کر کیوں گئ۔۔۔ وہ میری بات تک سننا نہیں چاہتے۔۔۔
ٹھیک ہے انکی ناراضگی کسی حد تک جائز ہے تائی جان۔۔۔ اس روز،میں نے آپ سے پہلے ان سے بات کی تھی کے میں حویلی چلی جاتی ہوں پھر سب ٹھیک ہو جائے گا تو انہوں نے مجھے بہت پیار سے سمجھایا تھا کے ایسے نہیں ہوتا۔۔۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے سانجھی ہوتے ہیں۔۔ مشکلیں پریشانیاں آتی رہتی ہیں۔۔۔ لیکن یوں ان سے گھبرا کر  بیچ راستے میں  ساتھ نہیں چھوڑے جاتے۔۔۔ اور یہ کے میں فکر نا کروں وہ آپکو منا کر سب ٹھیک کر لیں گے۔۔۔   وہ سر جھکائے پشیمانی سے بول رہی تھی۔۔۔ لیکن میں بہت ڈر گئ تھی تائی جان۔۔۔ آپکی طبیعت بہت خراب تھی اور میں بس سب ٹھیک کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اس لئے بنا سوچے سمجھے چلی گئ۔۔۔ مانتی ہوں غلط کیا ہے میں نے۔۔۔ مجھے احساس ہے۔۔  لیکن اب غلط وہ بھی تو کر رہے ہیں نا۔۔۔ ٹھیک ہے مجھ سے ناراض ہیں لیکن تھوڑی سی گنجائش تو چھوڑیں نا۔۔۔ مجھے منانے کو موقع تو دیں۔۔۔ وہ تو بات ہی نہیں سن رہے۔۔۔
لب چباتے وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی جبکہ ماں اسکی باتیں سن کر لب بھینچ گئ۔۔۔  میں کان کھینچوں گی اس کے فاہا۔۔ تم پریشان نا ہو۔۔۔ انہوں نے اسکے گال تھپتھپاتے اسے ساتھ لگایا تو فاہا کو ڈھیروں ڈھارس ملی۔۔۔ بلاشبہ گھر میں بڑوں کا سایہ ہونا بھی ایک نعمت  ہے۔۔۔ 
تائی جان بس انہیں میری بات سننے پر آمادہ کر دیں۔۔۔ کے وہ تحمل سے میری بات سن لیں۔۔۔ میں انہیں منا لوں لگی۔۔۔ وہ بجھے دل سے کہتی آنسو رگڑ کر صاف کر گئ۔۔۔
*****
مرتسم کی فون کال کافی لمبی ہوگئ تھی۔۔۔ فون کال سن کر وہ بیک یارڈ سے نکلتا کار پورچ تک آیا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ ڈائیونگ ڈور کھول کر کار میں بیٹھتا اسکی نظر ماں کے ہوم گارڈن میں پڑی جہاں فاہا مٹی سے لٹ پٹ ہاتھ لئے شاید گوڈی کر رہی تھی۔۔۔ یکدم اسکا غصہ سوا نیزے پر جا پہنچا۔۔ اس لڑکی کو شاید پیار کی زبان سمجھ ہی نہیں آتی تھی۔۔۔ ابھی وہ اندر اسے کیا کہہ کر آیا تھا اور وہ بجائے اپنے امتحان کی تیاری کرنے کے یہاں کن کاموں میں لگی ہوئی تھی۔۔۔
وہ لمحے کی تاخیر کئے بنا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس تک آیا۔۔۔
یہ تم کن کاموں میں لگی ہوئی ہو فاہا۔۔۔ کیا تمہیں اندر سنائی نہیں دیا کے میں نے تمہیں کیا کہا۔۔۔ اسکے ایک دم غرا کر کہنے پر فاہا اچھل کر کھڑی ہوئی۔۔۔۔
یہ تم کس لہجے میں اس سے بات کر رہے ہو مرتسم۔۔۔ کیا تمہیں بات کرنے کی تمیز تک نہیں رہی۔۔۔ پیچھے سے آتی ماں کی سخت غصیلی آواز پر وہ لب بھینچتا اسے سخت نگاہوں سے گھورتا انکی جانب پلٹا ۔۔۔
اور کیا کہا ہے تم نے اس سے صبح ہاں۔۔۔ یہ ہی سب حرکتیں کرنی تھی تو پھر چچا کے کہنے پر اس سے نکاح کیا ہی کیوں۔۔۔ مرتسم لودھی۔۔۔ باز آجاو۔۔ دوسرے دن کی دلہن کے ساتھ تمہارا رویہ نہایت نامناسب و قطعی نا منظورہے۔۔۔
ماں کے غصیلے لہجے میں کہنے پر وہ حیرت و شاک سے فاہا کی جانب پلٹا۔۔۔ یہ سب آپ سے اسنے کہا۔۔۔ وہ صدمے سے بے حال ہوتا فاہا کی جانب اشارہ کرتا معتجب سا گویا ہوا۔۔۔
شاک سے اسکا برا حال تھا۔۔۔ وہ لڑکی کمرے کی باتیں باہر تک پہنچائے گی یہ کب گمان کیا تھا اسنے۔۔۔ 
کیوں وہ کیوں بتانے لگی۔۔۔ کیا میں اندھی ہوں جو مجھے دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ غضب خدا کا دوسرے دن کی دلہن کا اسقدر مرجھایا اور بجھا بجھا سا چہرا۔۔۔ میں کیا کوئی اندھا دیکھ کر پہچان جائے کے تمہارا اسکے ساتھ رویہ کیسا رہا ہو گا۔۔۔ مان نے پرجلالی انداز میں اسے خوب آڑے ہاتھوں لیا یوں کے وہ گہرے گہرے سانس لیتا بالوں میں ہاتھ چلا کر رہ گیا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ماں جیسا آپ سمجھ رہی ہیں۔۔۔ میں نے کچھ۔۔۔
ہاں ماں پاگل ہے ۔۔۔ جھوٹی ہے۔۔۔ بکواس کر رہی ہے نا۔۔۔
افف۔۔۔ یہ سب ماوں کی ایموشنل بلیک میلنگ وہ سر تھام کر رہ گیا۔۔۔ دل چاہا سامنی دیوار میں زور زور سے سر مار مار کر سر پھاڑ ڈالے۔۔۔
اور کیا بولا تم نے اسے ہاں ۔۔۔ بھگوڑی۔۔۔۔ بیٹا وہ باپ کے گھر گئ تھی۔۔ اپنے کسی آشنا کے ساتھ نہیں بھاگی تھی۔۔۔
اففف۔۔۔۔ مرتسم کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔۔۔ اسنے آنکھیں تیڑھی کرتے اس میسنی کو گھورا جو اب خود معصوم و مظلوم بنی چہرا جھکائے کھڑی تھی۔۔۔ 
جی اور یہ بات بھی آپکو الہام ہی ہوئی کے میں نے اسے کیا کہا۔۔۔
ہاں بالکل۔۔۔ ماوں کو سب پتہ لگ ہی جاتا ہے۔۔۔ وہ بھی اسی کی ماں تھی۔۔ ایک انچ اپنی بات سے پیچھے نا ہٹیں۔۔۔
یہ سارے ڈرامے نا گھر سے باہر چھوڑ کر آیا کرو۔۔۔ مجھے اپنے گھر میں ٹیشن زدہ سا ماحول نہیں چاہیے۔۔۔ مجھے ٹینشنیں دینے کو میری بہن اور بھانجی کافی ہے جو آج کل پورے خاندان میں میرے خلاف فضولیات بول رہی ہیں۔۔۔ انکی بات پر مرتسم نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی۔۔۔ اڑتی اڑتی تو کئ خبریں اس تک بھی پہنچی تھیں۔۔۔
اگر تم دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ یہ ہی رویہ رکھنا ہے۔۔۔ اور مجھے ایک کی سوجھی اور ایک کی اتری صورت ہی دیکھنے کو ملنی ہے تو جاو۔۔۔ بیوی کو لو اور جہاں مرضی جاو۔۔۔ جب یہ شکلیں ہستی مسکراتی ہو گئ تب واپس آ جانا۔۔۔ ورنہ کوئی ضرورت نہیں میرے گھر میں مزید ٹینشن پھیلانے کی۔۔۔ چلو فاہا ہاتھ دھو اور نکلو اپنے شوہر کے ساتھ۔۔۔
ماں کے دو ٹوک انداز پر وہ صدمے سے گنگ انہیں دیکھنے لگا۔۔۔
یہ سب کیا ہے ماں۔۔۔ وہ فاہا کو تابعداری سے پائپ سے ہاتھ دھوتا دیکھ چلا اٹھا۔۔۔
کیا مطلب کیا ہے۔۔۔ بیوی ہے تمہاری۔۔۔ ساتھ لے کر جاو اسے۔۔۔ 
کہاں۔۔۔ کہاں لے جاوں۔۔۔ وہ حق دق سا تھا۔۔۔ شاپنگ پر لے جاو۔۔۔ لنچ کرواو۔۔۔ اور تو اور تم نے تو اسے رونمائی کا تحفہ تک نہیں دیا۔۔۔
فاہا لودھی میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا۔۔۔ ماں کے ایک نئے انکشاف پر وہ دانٹ پیستا اسکی جانب بڑھا۔۔۔
آہہ۔۔۔ وہ گھبرا کر پائپ وہیں چھوڑتی تائی جان کے یچھے آ چھپی۔۔۔
خبردار۔۔۔ خبردار جو مزید ڈرامہ لگانے کی کوشیش کی تو۔۔۔ تم کہو اسے کچھ ہاتھ لگانے کی بات تو بہت دور کی۔۔۔ ماں کے بھڑکنے پر وہ جو لب سختی سے آپس میں پیوست کئے گہرے گہرے سانس لیتا اسے ماں کے پیچھے چھپتے خونخوار نگاہوں سے گھور رہا تھا بے بسی سے آنکھیں میچ گیا۔۔۔
چلو فاہا جاو گاڑی میں بیٹھو۔۔۔ ماں نے اسکا ہاتھ تھامتے اسے کھینچا۔۔۔
کہاں۔۔۔۔
نہیں میں نہیں جاوں گی انکے ساتھ۔۔۔
مرتسم حیرت سے جبکہ فاہا گھبراہٹ میں دونوں یک بیک گویا ہوئے۔۔۔  
بنا کوئی دوسری بات کہے فوراً سے گاڑی میں جا کر بیٹھو۔۔۔ ابکی بار تائی جان نے فاہا کو گھڑکا۔۔۔ اور تم۔۔۔ جہاں سینگ سمائے وہاں لے جاو بیوی کو۔۔۔ میری بلا سے۔۔۔ مگر تب تک واپس مت آنا جب تک دونوں کے چہروں کے زاوے سیٹ نا ہو جائیں۔۔۔
مرتسم کو دو ٹوک انداز میں کہنے کے بعد ماں نے فاہا کو گھورا تو بنا مرتسم کی جانب دیکھے گاڑی کی جانب بڑھی۔۔۔
اوے ایک منٹ وہیں رک جاو۔۔۔
ماں یار پلیز بات کو سمجھیں۔۔ ابھی مجھے بہت ضروری کام ہے۔۔۔ ابھی اسے کیسے اور کہاں لے جاوں۔۔۔ اور اسکا بھی تو مقابلے کا امتحان ہے۔۔۔ اسکا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔۔۔ آپ اسے تیاری کرنے دیں شام میں پکا آپ اسے جہاں کہیں گی میں لے جاوں گا۔۔۔ مرتسم نے لبوِں پر زبان پھیرتے گویا متانت سے ماں کو قائل کرنا چاہا۔۔۔
بھاڑ میں گیا تمہارا کام اور اسکا امتحان۔۔۔ اتنے خراب موڈ کیساتھ وہ خاک پڑھے گی۔۔۔ اسکا سارا دھیان تمہاری طرف ہی لگا رہے گا۔۔۔ 
ماں میرا نیا پڑاجیکٹ شروع ہو رہا ہے مجھے وقت پر وہاں۔۔۔
فضول کی بحث بند کرو مرتسم۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھامے عاجزانہ بول رہا تھا جب ماں یکدم ہی اسے دو ٹوک انداز میں ٹوک گئیں۔۔۔
وہ بے بسی سے ہاتھ کے مکے ماتھے پر مار کر رہ گیا۔۔۔ پھر کچھ سوچتے غصے سے گاڑی کی جانب بڑھا اور اگنیشن میں چابی گھماتا گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔۔
فاہا پیسنجر سیٹ پر بیٹھی مسلسل قرآنی آیات کا ورد کر رہی تھی۔۔۔۔ کچھ دیر بعد گاڑی ایک سنسان سڑک پر جھٹکا کھا کر رکی۔۔۔ ساتھ ہی فاہا کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔ یقیناً اب وہ جواب طلبی پر اترنے والا تھا۔۔۔ فاہا نے اندر ہی اندر خود کو حوصلہ دیا کے آخر اب اسکے ساتھ تائی جان کی سپورٹ اسے شیر بنا رہی تھی۔۔۔ لیکن اسکے باوجود وہ اسے غصہ دلانے کی بجائے نرمی سے اپنا معاملہ حل کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اس سے بات کر کے صلح کرنا چاہتی تھی جو اگر وہ بات سمجھنے پر آمادہ ہوتا تو۔۔۔۔ اسنے ڈرتے ڈرتے سر اٹھا کر اوپر دیکھا جہاں وہ سٹرینگ ہاتھوں میں تھامے سرد نگاہوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔ فاہا سرعت سے نگاہیں جھکا گئ۔۔۔۔
*******


No comments

Powered by Blogger.
4