Header Ads

Roshan Sitara novel 105th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  105th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

105th epi...
 مائز کافی دیر تک ماں کیساتھ مستیاں کرنے کے بعد تھک ہار کر ابھی ابھی ماہرہ کے سینے پر لیٹ کر سویا تھا۔۔۔ بستر پر نیم دراز ماہرہ نے محبت سے بیٹے کی پیشانی چومی اور اسے نرمی و اختیاط سے بستر پر لٹاتے اس پر لحاف دیا۔۔۔۔ پھر بستر سے اترتے بکھر چکے بالوں کو دوبارہ فولڈ کر کے اسے کیچر میں مقید کیا اور جوتا اڑستی کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔ وہ بلیک کلر کی ویلوٹ کی لانگ قمیض کیساتھ چوری دار پاجامہ زیب تن کے ہوئے تھی۔۔۔ آنچل ایک شانے پر موجود تھا لیکن کمرے سے باہر نکلتے ہی لاوئنج میں بیٹھے زاویار کو دیکھ وہ ٹھٹھکی۔۔۔ تھمی اور شش و پنج میں مبتلا 
ہوئی کے آیا آگے بڑھے یا یہیں سے واپس پلٹ جائے۔۔۔ 
ا اس رشتے کے لئے ہاں کہنے کے بعد یہ دونوں کا پہلا آمنا سامنا تھا اسی لئے کوفت حد سے سوا تھی۔۔۔۔
لیکن اس سے پہلے کے وہ اپنی سوچ پر عمل پیرا ہوتی واپس پلٹتی برا ہو جو زاوی کی نظر اس پر پڑ گئ۔۔۔
وہ جھنجھلاتی ہوئی آنچل کھول کر سر پر اوڑھتی  آگے بڑھ آئی۔,
اسلام علیکم ۔۔۔ کھڑے کھڑے اسے سلام کرتی اسکا ارادہ کچن کی جانب بڑھ جانے کا تھا جب اسکی آواز پر بے ساختہ رک کر پلٹی۔۔۔۔
جی۔۔۔
بیٹھو یار تم سے بات کرنی ہے کچھ۔۔۔ اور تم سے بات کرنے کے لئے ہی تو آیا ہوں۔۔ وہ مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ماہرہ نے عجیب سی بے بسی محسوس کی۔۔۔
جی بولیے۔۔۔۔ وہ صوفے کی پشت پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی جیسے ابھی بھاگ جانے کا ارادہ ہو۔۔۔
Thanks for accepting my proposal...
 اسکی آنکھیں شوخ ہوئیں جبکہ ماہرہ کی بے چینی مزید دو چند ہوئی۔۔۔ اسکی نظر اپنی کلائی میں پہنے بریسلیٹ پر گئ۔۔۔ یکدم ہی سر درد کرنے لگا تھا۔۔۔ 
میں پاکستان میں اپنا گھر ری نیو کروا رہا ہوں اس لئے چاہتا تھا کے گھر کی بالخصوص اپنے کمرے کی شاپنگ ہم مل کر کریں۔۔۔۔ تو اگر تم ابھی فری ہو تو ہم چلیں شاپنگ پر۔۔۔۔ 
ماہرہ کو اپنی کنپتی میں خون کی گردش ٹھاٹھیں مارتی محسوس ہوئی۔۔۔ صوفے پر دھرے اسکے ہاتھ کی انگلیاں بے چینی و اضظراب سے بج رہی تھیں۔۔۔
سمجھ نا آیا کے اسے کیا جواب دے۔۔۔ وہ فائز کی امانت میں خیانت کی مرتکب ہو رہی تھی۔۔۔ یہ پشیمانی ضمیر پر بوجھ کی مانند آنے لگی تھی۔۔۔
ایکچولی نو۔۔۔ میں ابھی بالکل بھی فری نہیں ہوں۔۔۔ مائز بیمار ہے اور میں اسے اس حال میں چھوڑ کر جانے کا رسک نہیں لے سکتی۔۔۔ نیز بیماری کی وجہ سے وہ چڑچڑا ہو رہا ہے تو ساتھ بھی نہیں لے کر جا سکتی۔۔۔ 
اوکے ہم کل صبح چلے جائیں گے۔۔۔ اس سے پہلے کے ماہرہ اسے رکھائی سے جواب دے کر پلٹتی وہ خوشدلی سے بول اٹھا۔۔۔
ماہرہ کا دل چاہا بے ساختہ اس شخص کا سر پھاڑ دے۔۔  کیا وہ اسکے رویے و لہجے سے کچھ نہیں جانچ پا رہا تھا کے وہ نہیں جانا چاہتی اسکے ساتھ۔۔۔
نہیں میں  نا کل نا پرسوں انفیکٹ اگلے دو مہینوں تک بالکل فری نہیں۔۔۔ وہ دو ٹوک انداز میں کہتی واپس اپنے کمرے میں آگئ جبکہ وہ محض اسکی پشت کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔
******
کمرے میں آ کر وہ سر تھامتی صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔ عجیب کش مکش میں پڑ گئ تھی زندگی۔۔۔ انتظار طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ اپنی بے بسی اسے اب غصہ دلا رہی تھی۔۔۔
ایک دفعہ تم واپس آ جاو فائز علوی۔۔۔ دیکھنا کیسے گن گن کر بدلے لیتی ہوں تم سے۔۔۔ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے ۔۔۔ تمہاری غیر موجودگی کی وجہ سے۔۔ تم ہوتے تو میں دیکھتی کون میرے ساتھ ایسا کرتا۔۔۔ بے بسی کی انتہا تھی کے وہ اسی سے ناراض ہونے لگی تھی جسکی واپسی کا وقت دن گن گن کر کاٹ رہی تھی۔۔۔ اسے یونہی بیٹھے ناجانے کتنی دیر ہوگئ جب ماں غصے سے اسکے کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔
تم نے زاوی کے ساتھ شاپنگ پر جانے سے انکار کر دیا ماہرہ۔۔۔ وہ  سرد لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
جی ماں۔۔۔ وہ آہستگی سے منمنائی۔۔
وجہ جان سکتی ہوں۔۔۔
ماں میں کیسے ایک نامحرم کے ساتھ اکیلی جا سکتی ہوں۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔۔۔ 
کیا تم زندگی میں پہلی مرتبہ اسکے ساتھ جا رہی تھی ماہرہ۔۔۔ اس سے پہلے کبھی نہیں گی تھی۔۔۔ ماں کا انداز پرتاسف تھا۔۔۔
تب کی بات اور تھی ماں۔۔۔ تب میں ماہرہ اظہر تھی۔۔۔ ماہرہ فائز علوی نہیں۔۔۔ وہ بے بسی سے سر تھام گئ۔۔۔ کیسے سمجھاتی انہیں کے اسے عفلت کی دنیا سے کھینچ لانے والی بھی فائز کی ہی ذات تھی پھر اب کیسے اسکی امانت میں خیانت کرتی۔۔۔
دیکھو ماہرہ میں چاہتی ہوں کے تمہاری آگے کی زندگی بہت پرسکون اور مطمئں ہو۔۔۔ مگر کیوں خود اپنے راستے میں کانٹے بچھا رہی ہو بیٹا۔۔۔ مرد بہت انا پرست ہوتا ہے۔۔۔ بار بار ریجیکشن قبول نہیں کرتا۔۔۔ تم شکر ادا کرو کے وہ تمہیں تمہارے بیٹے کے ساتھ کھلے دل سے قبول کر رہا ہے۔۔۔ اسکی قدر کرو۔۔۔ اسے عزت دو۔۔۔ ماں نے عاجزانہ طور پر اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
آپکی سب باتیں درست مام۔۔۔ لیکن وہ ابھی میرے لئے نا محرم ہی ہے۔۔۔ اور میں نکاح سے پہلے اسکے ساتھ بے تکف نہیں ہونا چاہتی۔۔۔
وہ گہری سانس بھر کر خارج کرتی دو ٹوک انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
رئیلی۔۔۔ ماں کے غصے کا گراف گویا یکدم ہی بڑھا۔۔۔ مطلب حد تھی خودسری کی۔۔۔
تم اتنی نیک پارسا ماہرہ مجھے تو اندازہ ہی نا تھا۔۔۔ پھر تو فائز کے ساتھ بھی نکاح سے پہلے کبھی تم بے تکلف نہیں تھی۔۔۔ کبھی تنہا اسکے اپارٹمنٹ میں نہیں گی تھی۔۔۔ وہ تو صدا سے تمہارا محرم تھا جس کے پاس تم رات نو بجے بھی تنہا چلی جاتی تھی۔۔۔ تب یہ پارسائی کہیں جا سوئی تھی۔۔۔ اب یکدم سے اٹھ گئ ہے۔۔۔ ماں کا انداز ملامت کرتا تھا اور وہ ہو بھی گئ تھی۔۔۔ بہت حد تک انکی ہر بات بجا تھی تبھی وہ خاموشی سے سر جھکا گئ۔۔۔ لیکن کہہ نا سکی کے عقل تو اس شخص کے نکاح میں آنے کے بعد ہی آئی تھی نا تو اسکا مظاہرہ پہلے کیسے کرتی۔۔
اور تو اور وہ دونوں بھی تمہارے محرم ہی ہیں نا جنکے ساتھ اپنا اپارٹمنٹ شئیر کرنے والی ہو۔۔۔
ماں کا انداز گہرا طنزیہ تھا۔۔ وہ تھرا گئ۔۔۔ اسنے جھٹکتے سے سر اٹھاتے ماں کو دیکھا۔۔۔ 
چاہیے کسی بھی غرض سے کر رہی ہو۔۔۔ شئیر تو کر رہی ہو نا۔۔۔ اور انکے ساتھ تمہارا کیا رشتہ ہے۔۔۔ تمہارے سابقہ شوہر کے دوست ہیں۔۔۔ عقل سمجھ سوچ بوجھ کیا سب تمہاری ماں کے سامنے چلتی ہے۔۔۔صرف ذلیل کرنا لیا ہو ہے تم نے ماں باپ کو۔۔۔۔ ہر بات میں من مانی۔۔۔ ہر بات سے اختلاف۔۔۔ بے ساختہ ماہرہ کی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔۔ اور زاویار کون ہے جسکے ساتھ تمہاری ماں تمہیں بھیج رہی ہے۔۔۔۔۔ تمہارا فرسٹ کزن۔۔۔ ہم میں سے تو کسی نے اعتراض نہیں اٹھایا کے تم فائز کے دوستوں کے ساتھ تنہا وہاں کیوں جانے والی ہو۔۔۔ کیونکہ یقین ہے ہمیں تم پر۔۔۔
ماں کی باتیں چاہے ٹھیک تھیں مگر اسکے لئے نوکیلے تیر ثابت ہو رہی تھی۔۔۔۔ اسے اپنا سانس سینے میں اٹکتا محسوس ہوا۔۔۔ اس نہج پر تو اسنے سوچا ہی نا تھا۔۔۔
اور اگر تمہارا ہونے والا شوہر ہی اعتراض اٹھا دے کے تم دو نامحرموں کے سنگ وہاں کیا کر رہی ہو تو۔۔۔
وہ جیسے آج اس سے ہر حساب بے باک کرنے آئیں تھیں۔۔۔ اسے حقیقت کا آئینہ دکھانے آئیں تھیں۔۔۔
ماہرہ کو اپنا آپ بے دم ہوتا محسوس ہوا۔۔۔  ماں اسے دنیا کی تلخ حقیقت سے روشناس کرواتیں نہایت تاسف سے اسے دیکھتیں جس طرح آئیں تھیں اسی طرح واپس چلی گئں۔۔۔ مگر وہ وہیں گم صم بیٹھی رہ گئ۔۔۔
*****
صبح فاہا کی آنکھ کھلی تو ایک ہی سائئد پر سوئے رہنے کے باعث گردن اور بازو اکڑی پڑی تھی۔۔۔
اسنے مندی مندی آنکھوں کے ساتھ ہاتھ سے گردن سہلانی چاہی۔۔۔ جب چوڑیوں کی چھن چھن سے بھک سے اسکی نیند اڑی۔۔۔ اسنے جھٹکے سے آنکھین کھولتے صورتحال جانچنی چاہی۔۔۔ اور سرعت سے گردن گھما کر یہاں وہاں دیکھا۔۔۔ وہ تو مرتسم کا انتظار کر رہی تھی نا پھر۔۔۔
یکدم ہی اپنے مقابل کروٹ لئے سوئے مرتسم کو دیکھ گویا اسکی ہر سوچ کو بریک لگی۔۔
وہ کب آیا تھا بھلا۔۔۔ بے ساختہ اسنے تھوک نگلا۔۔۔۔
اسنے ایک نظر مرتسم کو دیکھنے کے بعد اپنا جائزہ لیا۔۔۔
سینے تک لحاف اور پیچھے سے تکیہ نکال کر بھی اسے آرام دہ پوزیشن میں لایا گیا تھا۔۔۔ دفعتاً اسکی نظر سائیڈ ٹیبل پر گئ جہاں اسکا مانگ ٹیکا اور جھمکے پڑے تھے۔۔۔ البتہ بھاری ہار نے گلے کو خاصا بے چین کر رکھا تھا۔۔۔
وہ گھبرائی سی تھوک نگلتی اٹھ بیٹھی۔۔۔
مطلب اس شخص کی ناراضگی اتنی شدید تھی کے اسنے فاہا سے کلام تک کرنا ضروری نا سمجھا۔۔۔
اسکا دل بھر بھر آیا۔۔۔
وہ بھاری دل کیساتھ اٹھ کر اپنا بھاری لنگا سمبھالتی ڈولتی ہوئی واش روم میں بند ہوگئ۔۔۔ وہ الگ بات کے بستر سے اترنے کے چکروں میں چوریوں کے سنگ پیدا ہونے والے ارتعاش سے مرتسم کی آنکھ کھل گئ۔۔۔
واش روم میں آتے ہی واش بیسن کے سامنے لگے آئینے میں اپنا عکس دیکھ بے ساختہ کئ آنسو اسکی آنکھوں سے نکلتے بے مول ہونے لگی۔۔۔  اتنی شدید ناراضگی کے اسکا یہ روپ سروپ بھی اس کی ناراضگی کو کم نا کر پایا۔۔۔ اور جب وہ شادی کی پہلی رات ہی کیل کانٹوں سے لیس ہو کر بھی اس ستم گر کی ناراضگی نہیں ختم کر پائی تو آگے کیا خاک کرتی۔۔۔ دل انہونے خدشات سے لرزنے لگا تھا۔۔۔
کیا وہ اسے پا کر بھی نا مراد ٹھہرتی۔۔۔
وہ اچھا تھا۔۔۔ انفیکٹ بہت اچھا تھا۔۔۔ رحم دل اور نرم۔۔۔ اپنے اور اپنے سے وابستہ رشتوں پر جان چھڑکنے والا۔۔۔ انہیں تحفظ فراہم کرنے والا۔۔۔ کیا زبیر لغاری والا معاملہ اسکے سامنے نا تھا۔۔۔ اسنے فاہا کی بے وقوفیوں کے باوجود اسے دودھ میں سے مکھی کی طرح ہر میس سے نکالتے تحفظ فراہم کر کے کبھی جتلایا تک نا تھا۔۔۔
اس پر آئی ہر مصیبت اپنے سر لے لی حالانکہ وہ تب اسکی نکاح میں تھی بھی نہیں۔۔۔ وہ کوتاہیوں کو جلد معاف کر دیتا تھا۔۔۔ بلکہ بات معافی تک پہنچنے ہی نہیں دیتا تھا خود ہی صورتحال سمجھتا مارجن دے دیتا تھا۔۔۔ لیکن جہاں بات برداشت سے بڑھ جاتی یا وار اسکی انا پر ہوتا تو وہ ایسے ہی کٹر اور سخت دل بنتا اپنی راہیں ہی جدا کر لیتا تھا۔۔۔ وہ اسکے بارے میں یہ سب بہت پہلے سے جانتی تھی۔۔۔ اعتبار توڑنے والوں کو وہ دوسرا موقع دیتا ہی نا تھا۔۔ وہ مڑ کر اس شخص کو کبھی نا دیکھتا جسے ایک مرتبہ اپنے دل سے اپنے دائرہ کار سے نکال دیتا۔۔۔ اور اسکی یہ ہی چیزیں تو فاہا کا دل دہلا رہی تھیں۔۔ کیا وہ اسے منا بھی پاتی یا وہ اسکے دل سے مقام کھو گئ تھی۔۔۔

لرزتی کانپتی اس سے سامنے کو ہمت مجتمع کرتی وہ ساری جیولری اتار کر ہلکا پھلکا سا ڈریس زیب تن کرتی دھلے دھلائے چہرے کے ساتھ واش روم سے نکلی تو مرتسم کو آئینے کے سامنے کھڑے بال بناتے پا کر اسکا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
وہ شاید باہر جانے کو تیار تھا۔۔۔ فاہا کو بھرپور نظر انداز کئے جیسے کمرے میں اسکے سوا کوئی اور ہو ہی نا۔۔۔
وہ ہئیر برش ڈریسنگ ٹیبل پر پٹختے دروازے کی جانب مڑا ہی تھا کے فاہا بوکھلا کر ہوش میں آتی بھاگ کر اسکے سامنے آتی باہیں پھیلا گئ ۔۔۔ یوں کے مرتسم کے آگے بڑھنے کا راستہ رک سا گیا۔۔۔
مرتسم نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا۔۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو کے کیا مسلہ ہے۔۔۔
سوری۔۔۔ ایم سوری مرتسم۔۔۔ اسکی آنکھوں میں موجود سردمہری اور اجنبیت کی دبیز تہہ دیکھ فاہا کا دل خوف سے لرز رہا تھا۔۔۔ یہ وہ مرتسم تو نا تھا جسے وہ جانتی تھی۔۔۔ لب کپکپانے لگے تھے۔۔۔
راستے سے ہٹو۔۔۔ وہ سرد لہجے میں گویا خود پر ضبط کرتا گویا ہوا۔۔۔
فاہا نے آنکھوں میں آس کے دئیے جلائے سرعت سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ وہ کسی بھی پل رو دینے کو تھی۔۔۔
پہلے کہیں کیا معاف۔۔۔۔۔
بات سنو تم میری مس فاہا لودھی۔۔۔۔۔ اسنے جارہانہ فاہا کا بازو جھکڑتے اسے اپنے قریب کیا کے بے ساختہ فاہا کے منہ سے کراہ نکلی۔۔۔
ہو کیا چیز تم ہاں۔۔۔ خود کو کیا سمجھتی ہو۔۔۔ کیا لگتا ہے تمہیں کے میں۔۔۔ مرتسم لودھی پاگل ہوں تمہارے پیچھے۔۔۔ مرا جا رہا ہوں تمہارے لئے۔۔۔
فاہا کی جھلملاتی نگاہوں میں اپنی سرخ نگاہیں گاڑے محض اسکی آنکھیں ہی نہیں بلکہ زبان بھی انگارے برسا رہی تھی۔۔۔۔
اسکا ردعمل دیکھ فاہا کا جسم سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگی۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے تم مجھے اچھی لگنے لگی تھی۔۔۔ محبت کرنے لگا تھا تم سے۔۔۔ وہ محبت پر زور دیتا جیسے بہت تکلیف سے گویا ہوا۔۔۔
لفظ تھا پر بے ساختہ فاہا کی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔ وہ اقرار کر بھی رہا تھا تو کب اور کس انداز میں۔۔۔
تم میری زندگی میں آنے والی وہ واحد لڑکی تھی جسکی کشش نے مجھے اپنی جانب مائل کیا۔۔۔ جسکا اثیر مرتسم لودھی ہونے لگا تھا۔۔۔ جسکی قربت جسکی موجودگی مجھے پرسکون کرتی تھی۔۔۔ شاید یہ محرم رشتے کا خاصا تھا۔۔۔ اسکے چہرے کی سختی ہر گزرتے لمحے کیساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔
لیکن مس فاہا لودھی ریممبر۔۔ ایک خود سر بددماغ اور بھگوڑی لڑکی ہمسفر کے طور پر میری ترجیح کبھی نہیں رہی۔۔۔
میری ترجیح ہمیشہ سے ایک باوفا مخلص اور ساتھ نبھانے والی لڑکی میری زندگی کی ہمسفر کے طور پر رہی ہے۔۔۔
میری غلطی کے میں یہ سب صلاحیتیں اور خوبیاں تم میں سمجھتا رہا۔۔۔ مگر تم نے بہت اچھے سے مجھے میری ان خوشگمانیوں کی جنت سے نکالا ہے۔۔۔
ارے جو لڑکی ایک دفعہ مجھ پر زرا سا۔۔۔اسنے شہادت کی انگلی اور انگوٹے کی مدد سے زرا سا کا اشارہ کیا۔۔۔ زرا سا مشکل وقت پڑنے پر چوروں کی طرح چوری چھپے اپنا دامن بچا کر ہاتھ چھرا کر خود سری کی انتہا کرتی بیچ راستے میں مجھے چھوڑ کر جاسکتی ہے۔۔۔ جو خود سر لڑکی شوہر کے علم میں لائے بنا تنہا اتنا بڑا فیصلہ لیتے ہوئے شوہر کے گھر کی دہلیز پار کر سکتی ہے۔۔۔ اسے کیا میں دوسری دفعہ خود کو دھوکہ دینے یا میرے جذبات سے کھیلنے کی اجازت دے سکتا ہوں۔۔۔ تمہیں کیا میں شکل سے اسقدر بے وقوف لگتا ہوں۔۔۔ وہ اسکی بازو جھٹکتا اتنی زور سے چیخا کے فاہا بے ساختہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھتی کئ قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
اسکی سانسیں حلق میں ہی اٹکنے لگی تھی۔۔۔
تم ایک بھگوڑی لڑکی ہو فاہا لودھی۔۔۔ اور تم مجھ پر برا وقت آنے پر پھر سے یونہی دامن بچا بھاگ نکلو گی۔۔ تم جیسی لڑکی کبھی اعتبار کے قابل نہیں ہو سکتی۔۔۔ وہ نہایت سخت الفاظ میں کہتا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ وہ ٹوٹے ہوئے شہتر کی مانند سینہ مسلتی وہیں ڈھ گئ۔۔۔
اسکی چھوٹی سی غلطی اتنا بڑا روپ ڈھار لے گی یہ تو اسکے وہم و گمان میں بھی نا تھا۔۔۔ وہ تو بہت نیک نیتی سے اس گھر سے گئ تھی۔۔۔ مگر کہاں جانتی تھی اسکی یہ حرکت اسکے گلے پڑ جائے گئ۔۔۔
وہ تو اسے بے وفا بھگوڑی بیچ راستے میں چھوڑ جانے والی اور ناجانے کیا کیا کہہ گیا تھا۔۔۔ خوف سے اسکی آنکھیں ابل رہی تھیں جبکہ دل سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا۔۔۔
نہیں وہ بیچ راستے میں ہاتھ چھڑا کر ساتھ چھوڑ کر نہیں گی تھی۔۔۔ نہیں۔۔۔ نو نیور۔۔۔ اسکی اٹینشن یہ نہیں تھی۔۔۔ ہرگز نہیں تھی۔۔۔ وہ تو کبھی مر کر مرتسم کا ساتھ نا چھوڑتی۔۔۔ لیکن نہیں ساتھ تو وہ واقعی چھوڑ گئ تھی۔۔۔۔
نہیں میری اٹینش یہ نا تھی۔۔۔ دل و دماغ کی جنگ نے اسے لمحوں میں ادھیر ڈالا تھا۔۔۔
لیکن میری اٹینشن یہ نہیں تھی میں یہ بات مرتسم کو کیسے سمجھاوں۔۔۔ کیسے۔۔۔
اسکا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔ اسنے زور سے اپنا سر تھامتے آنکھیں میچیں۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4