Roshan Sitara novel 104th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 104th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
104th epi....
فاہا کو لا کر مرتسم کے سنگ بیٹھایا گیا تو بھی اسکا انداز بہت سرد تھا۔۔۔ وہ زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجائے کسی سے بات کر رہا تھا۔۔۔ اسکے سرد و سنجیدہ تاثرات دیکھ فاہا کے حوصلے مزید پست ہوئے۔۔۔ جھکا سر مزید جھک گیا۔۔۔ دفعتاً تائی جان آ کر محبت سے اس سے ملیں اور اسکے سر کا بوسہ لیتے اسے خود سے لگایا۔۔۔۔۔خدا بخت روشن کرے اور تمہیں دنیا جہاں کی سبھی خوشیاں عطا کرے۔۔ ماشااللہ سے میری بیٹی چاند کا ٹکرا لگ رہی ہے۔۔۔ انہوں نے نم آنکھ کا کونا صاف کرتے آنکھ سے کاجل لے کر فاہا کے کان کے پیچھے لگایا۔۔۔
بہت زیادہ رش ہونے کے باعث لوگ بارہا فاہا کو دیکھنے اس سے ملنے سٹیج پر آتے اور ان دونوں کی جوڑی کو سراہتے انہیں دعاوں سے نوزاتے سٹیج سے اتر جاتے۔۔۔ کچھ وقت تک تو مرتسم ضبط سے یہ ساری کاروائی دیکھتا رہا مگر اگلے کافی وقت تک یہ سلسلہ تھمتا نا دیکھ وہ جلد بیزار ہوتا بابا سے رجوع کر گیا۔۔۔
بابا نے بھی اسکا بگھڑتا موڈ ملاخظہ کرتے جلد ہی رخصتی کا شور اٹھایا۔۔۔۔
جلد ہی لرزتی کانپتی فاہا پر چادر اوڑھتے اسے مرتسم کے سنگ گاڑی میں بیٹھایا گیا۔۔۔
گاڑی وہاج ہی ڈرائیور کر رہا تھا جبکہ مرتسم لاتعلق سا اسکے ساتھ پیسنجر سیٹ پر بیٹھا تھا۔۔۔ علایہ فاہا کے ساتھ بیک سیٹ پر براجمان تھی۔۔۔
سفر خاموشی سے شروع ہوا۔۔۔ ناجانے کیوں فاہا کو اتنی خاموشی کھل رہی تھی۔۔۔
بائے دا وے علایہ۔۔۔ ہماری شادی پر دودھ پلائی کی رسم فاہا نے کی تھی تمہیں نہیں لگتا کے فاہا کی شادی پر تمہیں یہ رسم کرنی چاہیے تھی۔۔۔ جاو نادان لڑکی تم نے بہت بڑا چانس مس کر دیا۔۔۔ بہت سستے میں لے اڑا تمہارا بھائی تو اپنی دلہن۔۔۔ وہاج نے گاڑی میں بڑھتی سنجیدگی اور خاموشی محسوس کرتے ماحول کی گھمبیرتا کچھ کم کرنی چاہی۔۔۔
علایہ بے ساختہ مسکرا دی۔۔۔ جبکہ مرتسم ہنوز لاتعلق سا بیٹھا تھا۔۔۔۔
کہہ تو آپ بالکل ٹھیک رہے ہیں وہاج۔۔۔ یعنی دونوں طرف سے نقصان تو میرا ہی ہے۔۔۔ جس طرح کی صورت اس وقت اپکے دوست نے بنا رکھی ہے نا ایمانداری کی بات ہے ایسے میں اگر میں نے گھر جا کر کمرے کے دروازے کی رستہ رکوائی کی رسم کی نا تو انہوں نے کمرے کے اندر جانے کی بجائے غائب ہی ہو جانا ہے۔۔۔ علایہ کو بھی بھائی کی خاموشی اور سرد انداز خاصا کھلا تھا جبھی منہ بسورتے دل کی بھراس نکل ڈالی۔۔۔ وہاج قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
ناشکرے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں اور تمہیں پتہ ہے۔۔۔
تم اپنا منہ بند کرو گے یا ٹوٹے دانتوں والا چہرا گھر لیجانا پسند کرو گے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ علایہ سے مزید کچھ کہتا مرتسم کی سنجیدہ دو ٹوک انداز میں یکدم کہنے پر آنکھ اچکاتا خاموش ہو گیا۔۔۔
اور فاہا جسکی مرتسم کے سرد رویے سے پہلے ہی جان پر بنی تھی مزید اسکی سرد آواز پر خود میں سمٹ گئ۔۔۔
باقی کا سارا سفر خاموشی سے کٹا۔۔۔ علایہ اور وہاج دونوں نے ہی خاموشی میں عافیت جانی۔۔۔
******
گھر آتے آتے بھی انہیں خاصا وقت ہو گیا تھا مزید کچھ مرتسم کے موڈ کے پیش نظر ماں نے علایہ کو رسموں سے منع کرتے فاہا کو کمرے میں لیجانے کا کہا۔۔۔علایہ فاہا کو مرتسم کے کمرے میں چھوڑ کر خود تھکن سے چور اپنے کمرے میں آ گئ۔۔۔ ابھی آئینے کے سامنے کھڑی جیولری اتار ہی رہی تھی جب آئینے میں وہاج کا عکس ابھرا۔۔۔ وہ اسکے پیچھے ہی کھڑا اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
یار یہ خوبصورت بیوی بھی نا۔۔۔ قسم سے عذاب ہی ہے۔۔۔ اب بندے کی توجہ کسی دوسری جانب مبذول ہوتی ہی نہیں کمزور دل کے حضرات کریں بھی تو کیا۔۔۔ وہ مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھتا اسکے سامنے آ کر ڈریسنگ ٹیبل پر ٹکا۔۔۔ کان سے ائیر رنگز اتارتے علایہ کے ہاتھ تھمے جب اسنے ہاتھ آگے بڑھاتے خود سے اسکی جیولری اتارنی شروع کی۔۔۔
وہاج میں کیا سوچ رہی تھی۔۔۔ وہ ہلکی آواز میں منمنائی۔۔۔ ہمم بولو۔۔۔ وہاج ائیر رنگز ڈرسینگ ٹیبل پر رکھنے کے بعد اسکا مومی ہاتھ تھامتا ایک کے بعد ایک اسکی چوڑیاں اتار رہا تھا۔۔
پیپ۔۔۔ پیپرز شروع ہونے والے ہیں تو۔۔۔ وہ اسکی قربت میں بری طرح کنفیوز ہوئی۔۔۔ زبان بے طرح لڑکھڑائی۔۔۔ تو۔۔۔ وہ مصروف سے انداز میں اب اسکا نیکلس اتار رہا تھا۔۔۔
تو کیوں نا میں جب تک پیپرز ہو رہے ہیں یہیں رک جاوں۔۔۔ بامشکل ایک ہی سانس میں وہ فقرا مکمل کر گئ۔۔۔ یہ بھی اس سے فرار کی ایک کوشیش تھی۔۔۔
نیکلس ڈریسنگ پر رکھتے اسکے ہاتھ ٹھٹھکے۔۔۔
کیوں۔۔۔ اسکے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھا۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔۔
علایہ نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے تھوک نگلا۔۔۔
اب ایسے تفتیشی انداز میں تو نا دیکھیں میں کنفیوز ہو رہی ہوں۔۔۔ وہ جھنجھلا کر اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ کرتی روہانسی ہو اٹھی۔۔۔۔
لمحے کے ہزارویں حصے میں وہاج کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔ اچھا جی چلو نہیں دیکھتا ایسے۔۔۔ اب بتاو۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ آنکھوں سے ہٹاتا اپنے ہاتھ میں تھامتا اسے محبت پاش نگاہوں سے تکنے لگا۔۔۔
وہ جھنجھلا کر جیسے بے بس ہوتی بیڈ پر آ کر بیٹھی۔۔۔ اس شخص کے التفات ہی تو دل پر بوجھ بڑھاتے تھے۔۔۔ عجیب کش مکش میں پڑ گئ تھی زندگی۔۔۔
اینی پرابلم۔۔۔ وہ بھی آ کر اسکے ساتھ ہی بیٹھا۔۔۔ علایہ نے اسے بے بس نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ یہاں میں ڈسرب نہیں ہونگی نا۔۔۔ پرسکون ہو کر تیاری کر سکتی ہوں۔۔۔ بروقت اسے بہانہ سوجھ ہی گیا۔۔۔
اوہ۔۔۔۔تو وہاں تم میری وجہ سے ڈسٹرب ہوتی ہو۔۔۔ اسکے ہونٹوں پر شرارت مچلی۔۔۔ چلو پرامس میں تمہارے پیپرز کے دوران تمہیں بالکل تنگ نہیں کروں گا۔۔۔ الٹا تمہاری مدد کرواں گا پیپرز کی تیاری میں۔۔۔ وہ چٹکیوں میں اسکا جواز اڑا گیا۔۔۔
لیکن صرف پیپرز کے دنوں میں تنگ نہیں کروں گا۔۔۔ ابھی تو کر سکتا ہوں نا۔۔۔ وہ مسکراہٹ دابے اسے ہی دیکھ رہا تھا جبکہ علایہ اسکی نگاہوں میں ابِھرتے شوخ تقاضوں کو سمجھتی گویا بے بس ہوتی اسکے شانے سے سر ٹکاتی آنکھیں مونڈ گئ ۔۔۔
******
علایہ فاہا کو کمرے میں بیٹھا کر گئ تو وہ پریشان حال سی بیٹھی لب کچلتی کمرے کے دروازے کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔ دل کو سو طرح کے ڈھرکے لگے تھے۔۔۔ وہ شخص اس سے بے طرح ناراض تھا وہ اس چیز سے اچھے سے آگاہ ہو چکی تھی۔۔
اسکی ہمت پہلے ہی مرحلے میں ٹوٹنے لگی تھی۔۔۔ کیا وہ اسے منا پانے میں کامیاب ہو پائے گی۔۔۔ اففف۔۔۔ اسنے بے طرح آنکھین میچیں۔۔۔ سوچ سوچ کر سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔۔
بیٹھے بیٹھے مرتسم کا انتظار کرتے وہ تھکنے لگی تھی مگر وہ تھا کے آ کر نا دے رہا تھا۔۔۔ تھکاوٹ اور نیند سے اسکا برا حال تھا۔۔۔ ہیوی جیولری اب اسے بے طرح ڈسٹرب کر رہی تھی مگر وہ مرتسم کے آنے سے پہلے اپنا یہ سنگھار خراب نہیں کرنا چاہتی تھی تبھی بے چین سی اسکی منتظر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
شاید اسے اس روپ میں دیکھ کر ہی مرتسم کا غصہ کچھ کم ہوتا۔۔ اب تو اسے نیند کے جھولے تک آنے لگے تھے وہ بامشکل نیند میں جھولتی اپنی آنکھین کھولے بیٹھی تھی۔۔۔ آخر کار تھک ہار کر وہ اپنے پیچھے تکیوں کی ٹیک بناتی ان پر سر ٹکائے نیم دراز ہوگئ پھر انتظار کرتے کرتے اسے علم ہی نا ہو سکا کے وہ کس وقت نیند کی وادیوں میں اتر گئ۔۔۔۔
*****
رات کے کسی پہر وہاج کا فون بجا تو وہ نیند سے اٹھ بیٹھا۔۔۔ فون اٹھا کر دیکھا تو بے ساختہ دل ان کمپنی والوں کو صلواتیں سنانے پر آمادہ ہوا جو سروسز کے لئے فون کرنے کے لئے نا دن کا حساب رکھتے تھے نا رات کا۔۔۔ صد شکر کے علایہ کی نیند نہیں ٹوٹی تھی۔۔۔ وہ انتہائی کوفت سے فون بند کرتا سر جھٹک کر بالکنی میں نکل آیا۔۔۔
کچھ دیر وہاں رک کر واپس اندر جانے لگا جب اسے بیک یارڈ میں ایک ہیولہ سا دکھائی دیا۔۔ وہ الجھ کر اس طرف دیکھنے لگا۔۔۔ پھر یکدم ہی دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا جب وہ بنا سوچے سمجھے حیرت و استعجاب سے کمرے سے نکلتا بیک یارڈ کی جانب بڑھا۔۔۔
نیم تاریکی میں بھی وہ دور سے ہی اس ہیولے کو پہچان چکا تھا۔۔۔
This is really not fair mutasim...
میں تم سے اسقدر حماقت کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔۔
ناراضگی غصہ گلے شکوے۔۔ سب اپنی جگہ لیکن آج کی رات تمہیں کم از کم یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ مرتسم جو کب سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا اسنے سرد سرخ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا البتہ بولا کچھ نہیں۔۔۔ اسی لئے اندر نہیں گیا کے کہیں غصے میں بھی کچھ غلط نا کر بیٹھوں۔۔۔ وہ بولا تو آواز بھاری تھی۔۔۔
اتنے بے حس نا بنو میرے یار۔۔۔ اس رشتے میں کچھ تو لچک چھوڑو۔۔۔ وہاج گہری سانس خارج کرتا اسکے ریب آیا۔۔
مرتسم نے پشت پر ہاتھ باندھتے سرخ انگارہ بنی نگاہیں دوسری طرف موڑیں۔۔ اس وقت میرے اندر کیسا آتش فشاں پک رہا ہے اور دماغ میں کیسے چٹاخے بج رہے ہیں کاش میں تمہیں دکھا سکتا۔۔۔
مجھے یہیں رہنے دو پلیز۔۔۔ تم جاو۔۔۔ وہ بار بار ہاتھ کی مٹھی کھولتا اور بند کرتا گویا خود پر ضبط کر رہا تھا۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ میں تمہیں مزید کوئی بھی حماقت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔۔۔ فوراً سے پیشتر اپنے کمرے میں جاو۔۔ ورنہ میں یہاں سے سیدھا انکل آنٹی کے کمرے میں جاوں گا۔۔۔ اسکے بعد جو ہوگا اسکے ذمہ دار تم خود ہوگئے۔۔۔
مرتسم کا لہجہ بے لچک اور دو ٹوک تھا۔۔۔ مرتسم لب بھینچے اسے دیکھتا رہا۔۔ شدید خواہش کے باوجود وہ اسے کچھ کہہ نا سکا۔۔۔ ویسے بھی وہ سب کے سامنے اپنی پرسنل لائف ایکسپوز کر کے تماشا نہیں بننا چاہتا تھا تبھی وہ سنجیدگی سے کچھ دیر وہاج کو دیکھتے رہنے کے بعد پلٹ کر گھر کی اندرونی جانب بڑھا۔۔۔ وہاج کی نگاہوں نے تب تک اسکا تعاقب کیا جب تک وہ اپنے کمرے میں چلا نا گیا۔۔۔ اسکے بعد وہاج نے بھی گہری سانس لیتے اپنے کمرے کی راہ لی۔۔۔
*****
مرتسم بے دلی سے کمرے کا دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا تو کمرے میں ہونے والے اس اچانک اضافے نے پوری شدت سے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔۔۔
وہ بستر پر اپنی پوری حشر سامانیوں سمیت نیم درا خاصے بے آرام انداز میں محو استراحت تھی۔۔۔ بلڈ ریڈ کلر کے برائیڈل ڈریس میں سرخ ہی آنچل اور جیولری کے ہالے میں دمکتا چہرا۔۔۔ لانبی پلکیں جو قندھاری بھرے بھرے گالوں پر سایہ فگن تھیں۔۔۔ ستواں ناک اور باریک گلاب کی پنکھریوں کی مانند لب جو باہم پیوست تھے۔۔۔ مانگ ٹیکا ماتھے پر بے ترتیبی سے لڑھک رہا تھا۔۔۔ ڈھلکا سر۔۔۔ بھاری جھمکے اور پیٹ پر دھرا مومی ہاتھ۔۔۔ مرتسم کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں اسکی جانب کھنچتا چلا آیا۔۔ جائز رشتہ استحقاق تنہائی اور یہ پرفسوں ماحول بشری تقاضوں نے لمحوں میں سینے میں طلاتم بھرپا کیا تھا۔۔۔۔ وہ ان فسوں خیز لمحوں میں جھکڑا آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر آباد کئے یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ دل مزید من مانیوں پر اتر رہا تھا۔۔ اس سے پہلے کے وہ اس ساحرہ کے سحر میں جھکڑتا مزید گستاخیوں پر اترتا یکدم ہی اندر سو چکی انا نے انگڑائی لئ تھی اور وہ ٹھٹھک کر دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔ آنکھین یکدم ہی سرخی مائل ہونے لگی تھیں۔۔۔ اسنے ضبط سے مٹھیاں میچیں۔۔۔ اس نے اس لڑکی کی معصومیت سے محبت کی تھی۔۔۔ اسکے مخلص پن اور وفا شعاری سے۔۔۔ مگر وہ غلط تھا یہ بندی مشکل وقت پڑنے پر بیچ راستے میں دامن بچاتی اپنا ہاتھ چھڑا لے گئ تھی۔۔۔ اسکے بارہا سمجھانے پر۔۔۔ بنا بتائے بنا اسکے علم میں لائے۔۔۔ بنا اسے اعتماد میں لئے۔۔۔۔من مانی پر اترتی گھر کی دہلیز پار کر گئ تھی۔۔۔ اسکی یہ خودسری مرتسم کی مردانہ انا پر ایک قاری ضرب تھی جسکی اذیت انگ انگ میں سرائیت کرتی اسے کسی کروٹ چین نا لینے دیتی تھی۔۔۔ ایسی خود سر لڑکی اسکی ترجیح کبھی نا تھی۔۔
وہ خود کو ملامت کرتا آنکھیں میچ کر گہرے گہرے سانس لیتا جھٹکے سے پلٹا اور واش روم میں بند ہو گیا۔۔۔ ٹھنڈے پانی سے شاور لے کر کچھ لمحوں بعد وہ واپس آیا تو ٹراوز شرٹ میں ملبوس قدرے پرسکون تھا۔۔۔ اس دفعہ اسنے دانستاً اس موم کی گڑیا کی جانب نگاہ نا اٹھائی کے اسے دیکھتے ہی وہ موم کی طرح پگھلنے لگتا تھا۔۔۔
دل کے کرلانے کے باوجود اسے ڈپٹ کر اس پر سردمہری اور خاموشی کی دبیز چادر چڑھاتا وہ آ کر بیڈ کے دوسری جانب رخ موڑ کر لیٹ گیا۔۔۔
لیکن دل خود سر ہوا جنگ پر آمادہ ہو اٹھا تھا انا اور دل کی جنگ میں وہ بری طرح بے بس ہونے لگا تھا۔۔۔ دل سو تاویلیں اٹھا لایا تھا کے جو بھی ہے جیسی بھی ہے وہ بندی تمہارے نکاح میں ہے اور اس وقت تمہارے نام پر سجی تمہاری سیج پر بیٹھی وہ تمہارے انتظار کی گھڑیاں گنتی اسقدر غیر آرام دہ حالت میں محو استراحت ہے جبکہ انا اپنا پرچم سب سے اوپر لہرائے کھڑی تھی کے میں نے نہیں کہا تھا میرے انتظار میں وہ یوں ہلکان ہو۔۔۔ ہوتی ہے تو ہوتی رہے۔۔ میری بلا سے جائے بھاڑ میں۔۔۔
وہ سونا چاہتا تھا مگر دل بغاوت پر اترتا انا کا سر کچلنے پر سر بستہ تھا۔۔۔ تھک ہار کر وہ گہرا سانس خارج کرتا اٹھ بیٹھا۔۔۔
یہ سب میں محض انسانیت کے ناطے کر رہا ہوں اس میں اور کوئی جذبہ پنہاں نہیں۔۔۔ وہ خود کو تاویل دیتا فاہا کی جانب جھکا۔۔۔
دل نے ہس کر اسکی بات ہوا میں اڑائی جیسے بڑا بچے کی بات پر ہستا ہو۔۔۔
اسنے نرمی سی ماتھے پر لڑھکتے اسکے مانگ ٹیکے کو ماتھے سے جدا کیا۔۔۔ پھر اسی خاموشی اور نرمی سے بھاری جھمکے جو سر ٹیرھا ہونے کے باعث گردن میں کھب سے رہے تھے انہیں کانوں سے جدا کیا ۔۔۔ فاہا کو شاید ذہنی و جسمانی تھکاوٹ نے ہی اتنا تھکا ڈالا تھا یا شاید مرتسم کا انداز ہی اتنا نرمی اختیار کئے ہوئے تھا کے اسکی نیند میں زرا خلل نا پیدا ہوا۔۔۔
اسنے اسی نرمی سے فاہا کے پیچھے سے ایک تکیہ کھینچا یوں کے اب اسکا سر زرا آرام دہ پوزیشن میں آگیا۔۔۔ پھر لحاف کھولتے اسکے سینے تک لحاف پھیلایا ۔۔۔ اس سے پہلے کے اسکا چاند چہرا پھر سے اسے بہکاتا وہ سرعت سے رخ موڑتا چہرے پر کشن رکھتا آنکھین مونڈ گیا۔۔۔ بس اس سے زیادہ کی توقع مجھ سے کوئی نا رکھے۔۔۔ اسنے گویا دل کو ڈپٹا تھا اور اس بار شاید وہ بھی اسکی انا اور بے حسی سے خائف ہوتا چپکے سے کونے میں جا دبکا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ شعوری کوشیش کے تحت نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔۔۔
*****

No comments