Roshan Sitara novel 103rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 103rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
103rd epi...
وہاج کو حسب معمول واک سے واپس آتے آتے کچھ دیر ہوگئ۔۔۔ وہ کمرے میں داخل ہوا تو خالی کمرا اسکا منہ چڑا رہا تھا۔۔۔ وہ انہی قدموں پر کمرے سے نکلا۔۔۔ اس ایک چہرے کو صبح ہی صبح دیکھنے کی عادت اتنی پختہ ہوگئ تھی کے آج وہ چہرا دیکھنے کو نہیں ملا تھا تو بے چینی فطری تھی۔۔۔۔
ماں علایہ کہاں ہے۔۔۔ ماں کچن میں کھڑی ملازمہ کو ناشتے کے لئے ہدایت دے رہیں تھیں جب وہ چاروں جانب اسے تلاشتا وہیں چلا آیا۔۔۔
وہ تو چلی گئ بیٹا۔۔۔ اسے حویلی جانا تھا۔۔۔ مان مصروف سے انداز میں کہتیں کچن سے نکلیں۔۔۔
اوہ۔۔۔ یکدم ہی وہاج کے چہرے کی رونق مانند پڑی۔۔۔ مگر اتنی جلدی۔۔۔
ہاں کہہ رہی تھی پہلے لودھی ہاوس جائے گی وہاں سے فاہا کا برائیڈل ڈریس پک کرنا ہے پھر حویلی پہنچنے میں بھی وقت لگے گا تبھی وقت سے نکل گئ۔۔۔۔
اوکے۔ وہ بجھے دل سے کہتا کمرے میں آ گیا۔۔۔۔
ناجانے کیوں آج اسکی غیر موجودگی کھل رہی تھی۔۔۔ وہ خود ہی حیران تھا۔۔ شاید اس کی عادت ہی اتنی ہو گئ تھی۔۔۔ اور اس میں بھی تو زیادہ ہاتھ اسی کا تھا جو اسے کسی کام کو ہاتھ تک نا لگانے دیتی۔۔۔ وہاج کو خود پر حیرت ہو رہی تھی۔۔۔ کہاں عادی تھا وہ کسی سے کام کروانے کا۔۔ ہر کام تو اپنا وہ خود کر لیتا۔۔ حتکہ کپڑے استری نا ہوتے تو وہ بھی لمحوں میں خود کر ڈالتا۔۔۔ مگر اس بندی نے صحیح اسکی عادتیں بگھاڑ کر اسے اپنا عادی اور محتاج بنایا تھا کے اسکے یوں جانے پر وہاج خود کو بہت ادھورا محسوس کر رہا تھا۔۔۔
محترمہ مل کر تو جاتی۔۔۔ اتنی بھی کیا بھائی کی شادی کی ایکسائٹمنٹ۔۔۔
وہ منہ ہی منہ بڑبڑاتا کپڑے لیتا واش روم میں گھس گیا۔۔۔
*****
علایہ صبح دس بجے ہی برائیڈل ڈریس کے ساتھ حویلی میں موجود تھی۔۔۔ سارا راستہ وہ جس طرح کی بھی کشمکش اور ذہنی پراگندگی کا شکار رہی ہو لیکن حویلی میں قدم رکھتے ہی وہ ہر سوچ کو جھٹکتی ایک دم فریش سی تھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ لاوئنج میں داخل ہوتے ہی وہ باآواز بلند چہکی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں حویلی میں بونچال آ گیا ۔۔۔۔ اسنے ہر ملازم کو بلا کر کسی نا کسی کام پر لگایا۔۔۔ فاہا جو پچھلے دو روز سے کمرہ نشین بخار میں پھنک رہی تھی حویلی میں ہوتی اس یکدم کی ہلچل سے گھبراتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکلی اور لاوئنج کے وسط میں کھڑی علایہ کو دیکھ شاکڈ رہ گئ۔۔۔۔لڑکی یہ کیا حالت بنا رکھی ہے۔۔۔ علایہ چیخ مارتی فاہا تک پہنچی۔۔۔ کہاں سے تم ایک دلہن دکھائی دے رہی ہو۔۔۔
اسنے فاہا کو ناقدانہ نگاہوں سے آگے پیچھے سے دیکھتے گھما ڈالا۔۔۔ اسکی نافہم باتیں اوپر سے ایسی حرکتیں فاہا ایک دم چکرا کر رہ گئ۔۔۔
کیا کر رہی ہو تم علایہ۔۔۔ اور تم صبح ہی صبح یہاں کیسے۔۔۔ وہ جتنا حیران ہوتی کم تھا۔۔۔
سب سے پہلے تو یہ کہ ڈئیر بھابھی جان میں آپ سے سخت قسم کی ناراض ہوں۔۔۔ علایہ کے اترا کر کہنے پر وہ پشیمانی سے نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
لیکن اس ناراضگی کو رکھتے ہیں ہم کچھ وقت بعد کے لئے پہلے آو تمہارے بخار کا کچھ کریں۔۔۔ ایسی بیمار دلہن ہمیں نہیں چاہیے بھئ۔۔۔ وہ فاہا کا ہاتھ تھامتی اسے کمرے میں لے آئی۔۔۔ اسے شانوں سے تھامتے بستر پر بیٹھایا اور خود مالی چچا سے کہہ کر ڈاکٹر کو وہیں بلوا لیا۔۔۔
اسکی باتیں فاہا کے خاک پلے نا پڑیں۔۔۔ کیا تائی جان کا غصہ ختم ہو گیا۔۔۔ علایہ اتنے فریش موڈ میں وہاں کیسے تھی۔۔۔ کئ سوچیں تھیں جو کسی اکٹوپس کی مانند اسکے دماغ کو جھکڑے ہوئے تھی۔۔۔
جس روز سے وہ شہر سے آئی تھی اسنے اپنا فون تک بند کر رکھا تھا۔۔۔ یہ شاید حالات سے فرار کی شعوری کوشیش تھی۔۔۔ اس کا کسی سے کوئی رابطہ نا تھا۔۔۔ اس ستم گر کو بھولنا کیا آسان کام تھا۔۔۔ وہ تو سی ایس ایس کے ایگزام تک کو بھولائے ہوئے تھی مگر وہ ستم گر تھا کے بھولتا ہی نا۔۔۔ تبھی ایسے میں علایہ کا وہاں آنا حیران کن تھا۔۔۔
دفعتاً ڈاکٹر آ کر اسکا چیک آپ کرنے لگی تو اسنے سوچوں کو جھٹکا۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ ایسی دوائی دیں کے میری بھابھی ایک گھںتے میں اچھی بھلی ہو جائے آخر کو آج بارات ہے اسکی۔۔۔۔
علایہ کے ڈاکٹر صاحبہ سے مخاطب ہونے پر فاہا نے جھٹکے سے سر اٹھاتے شاک سے پھٹ پڑتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ دماغ میں یکدم ہی جھکڑ سے چلنے لگے تھے۔۔۔
جی جی بیٹا۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔ میں بھی انوائٹڈ ہوں۔۔۔ بلکہ پورے گاوں میں دعوت عام دی گئ ہے آج کی۔۔۔ آخر کو گاوں کے سردار کی اکلوتی بیٹی کی شادی جو ہے۔۔۔ وہ ادھیر عمر ڈاکٹر مسکرا دیں۔۔۔
فاہا نے غیر یقینی حیرت و انبساط سے علایہ کے بعد ڈاکٹر کو دیکھتے تھوک نگلا۔۔۔ یہ سب ہو کیا رہا تھا۔۔۔ دماغ چکرانے لگا تھا۔۔۔
شہر میں سب ٹھیک ہے نا علایہ۔۔۔ ڈاکٹر کے دوائی دے کر جانے کے بعد اس سے پہلے کے علایہ اٹھ کر باہر جاتی فاہا بے صبری سے اسکا ہاتھ تھامتی گویا ہوئی۔۔۔
ایک منٹ۔۔ تمہارے لئے ناشتہ منگواوں پہلے ایسے کیا خاک دلہن بنو گی جیولری اور ڈریس پہن کر وہیں فوت ہو جاو گئ۔۔۔ پھر کیا میرے روٹھے بھائی کو خاک منا پاو لگی۔۔۔ فاہا غیر سنجیدگی سے کہتی اسکے ہاتھ سے بازو چھڑوا کر باہر چلی گئ۔۔۔
جبکہ فاہا کے دل کو پتنگے سے لگ گئے تھے۔۔۔۔ وہ بے صبری سے علایہ کے واپس کمرے میں انے کی منتظر تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد اسکی واپسی کھانے کی ٹرے کے ساتھ ہوئی۔۔۔
علایہ تم۔۔۔
چپ۔۔۔ ایک دم چپ۔۔۔ بالکل خاموشی سے ناشتہ کر کے دوائی لو پھر کچھ بتاوں گی۔۔۔ اس سے پہلے کے فاہا بے صبری سے کچھ پوچھتی علایہ کے دوٹوک انداز میں کہنے پر وہ بے دلی سے ناشتے کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
زبردستی چند نوالے زہر مار کر کے اسنے دوائی کھائی۔۔۔
اب اگر تم نے ایک بھی لفظ فضول بولا تو میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی علایہ۔۔۔ اس لئے مجھے فوراً سے پیشتر شہر کے حالات بتاو۔۔۔
علایہ کو کھانے کی ٹرے اٹھا کر اٹھتے دیکھ وہ غصے سے اس پر چڑھ ڈوری۔۔۔ وہ جتنا پریشان تھی علایہ اتنی ہی اسکی پریشانی بڑھا رہی تھی۔۔۔
علایہ گہرا سانس خارج کرتی وہیں بیٹھ گی۔۔۔ پھر اسے ماں کی زبانی پتہ چلنے والی سبھی باتیں بتاتی چلی گئ۔۔۔
تمہارا نام سن کر تو ماں کی ناراضگی ویسے ہی جاتی رہی۔۔۔ تم کسی صورت انہیں مجھ سے کم نہیں۔۔۔ انہیں حقیقت سے آشنا کر کے کم از کم تمہیں وہاں رکنا تو چاہیے تھا نا۔۔۔ آج یہاں بارات لے کر آنے کا فیصلہ سراسر انکا ہے۔۔۔ وہ تمہیں پوری عزت و اکرم سے پوری دنیا کے سامنے اپنے خاندان کا حصہ بنانا چاہتی ہیں۔۔۔
علایہ کے بتانے پر فاہا کو اپنے سینے سے ایک بوجھ سرکتا محسوس ہوا۔۔۔
وہ تو باقاعدہ شادی کی ساری رسمیں کرنا چاہتی تھیں مگر بھائی نے منع کر دیا۔۔۔
اب وہاں سب ٹھیک ہے نا علایہ۔۔۔ فاہا کے لہجے میں اندیشے تھے۔۔۔۔
باقی سب ٹھیک ہے بھابھی جی بس آپ کے سیاں جی شدید قسم کے ناراض ہیں آپ سے۔۔۔ سیریسلی۔۔۔
میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کل بھائی کو اتنے غصے میں دیکھا فاہا۔۔۔ صرف اس وجہ سے کے تم بنا بتائے انکے روکنے کے باوجود وہاں سے چلی آئی۔۔۔
فاہا کی رنگت یکدم ہی پھیکی پڑنے لگی ۔۔۔ بے ساختہ اسے اپنی اور مرتسم کی آخری ملاقات یاد آئی تو ڈھرکنیں مزید سست پڑ گئیں۔۔۔ کتنی محبت سے وہ اسے نکاح جیسے پاکیزہ رشتے اور اس بندھن میں بندھنے کے بعد سدا ساتھ نبھانے کے بارے میں سمجھا رہا تھا۔۔۔
اور وہ کیا واقف نہیں تھی مرتسم کے غصے سے۔۔۔ شروع شروع میں بارہا وہ اسکے غصے کا اعتاب سہہ چکی تھی۔۔۔ یکا یک اسکی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر گئ۔۔۔ ہاتھ پاوں سرد پڑنے لگے۔۔۔۔۔
مائے گاڈ فاہا کیا ہو گیا ہے۔۔۔ علایہ نے اسکی بگڑتی حالت دیکھ یک لخت اسکے سرد پڑتے ہاتھ مسلے۔۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے علایہ۔۔۔ اب میں کیا کروں گی۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کے وہ مجھ سے اتنا شدید ناراض ہو جائیں گے۔۔۔۔ انہوں نے واقعی مجھے منع کیا تھا۔۔۔ لیکن میں کیا کرتی اس وقت مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔۔۔ میں۔۔۔ میں بس سب ٹھیک کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر مجھے لگتا ہے کے سب ٹھیک کرنے کے چکروں میں میں نے سب بگھاڑ دیا۔۔۔۔
ریلیکس فاہا۔۔۔ اسنے نرمی سے فاہا کے بہہ جانے والے آنسو صاف کئے۔۔۔
دل کے برے نہیں ہیں بھائی یہ بات تم بھی باخوبی جانتی ہو۔۔۔ مان جائیں گے ۔۔۔ اور اتنی پیاری بیوی سے کوئی بھی ناراض نہیں رہ سکتا۔۔۔ اسنے فاہا کو تھوڑی سے پکڑتے چھیرا۔۔۔ مگر یہ شریر سا جملہ بھی فاہا کے دل کو لگے ڈھرکے کو کم نا کر پایا۔۔۔
اب بس ہر طرح کی سوچ کو جھٹک دو اور کچھ دیر آرام کرو۔۔۔ کچھ وقت تک بیوٹیشن آ جائے گی تو پھر تمہیں آرام کرنے کا وقت بھی نہیں ملے گا۔۔۔ علایہ نے مسکرا کر کہتے اسکا ذہن بٹانا چاہا مگر وہ کیا کرتی ذہن تو وہیں کہیں اٹک گیا تھا۔۔۔
****
فاہا اس وقت طرح طرح کے اندیشوں میں گھری مرتسم کے نام پر پور پور سجی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔۔۔۔ سدا سادہ سی رہنے والی فاہا پر دلہناپے کا ٹوٹ کر روپ آیا تھا اتنا کے اس پر نظر نا ٹھہرتی۔۔۔ علایہ نے اسے دیکھا تو بے ساختہ اس کے منہ سے ماشااللہ نکلا۔۔۔ علایہ خود اس وقت پیج کلر کی ساڑھی میں ملبوس تھی۔۔۔ بال سٹریٹ کر کے کمر پر کھلے چھوڑے گئے تھے البتہ بینگز ماتھے پر سائیڈ پر کئے ہوئے تھے۔۔۔
باہر سے بارات آنے کا شور اٹھا تو علایہ فاہا کو وہیں چھوڑ کر خود باہر آ گئ۔۔۔ ڈھول کی تھاپ اور بینڈ باجوں کے شور میں کان پڑتی سنائی نا دے رہی تھی۔۔۔
باہر سے آتی شور کی آواز پرطفاہا کا دل بے ہنگم انداز میں ڈھرکنے لگا۔۔۔ یوں کے اسے محسوس ہوا جیسے دل ابھی سینے کی حدود سے باہر آ نکلے گا۔۔۔ اسنے بے ساختہ ہاتھ سینے کے مقام پر رکھا۔۔۔
جسم پر لغرش طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ آنے والا وقت اسے ڈرا رہا تھا۔۔۔ مرتسم سے سامنا مشکل ترین امر تھا۔۔۔ اسکی سرد چھید کرتی نگاہوں کا سامنا کرنا کوئی آسان امر تھوڑی تھا۔۔۔ وہ اسکے غصے سے واقف نا ہوتی تو شاید کچھ حوصلے میں ہوتی۔۔۔ کبوتر کی طرح حالات سے فرار حاصل کرنے کو آنکھیں موندتے۔۔۔ اسنے گھر سے آ کر فون بند کر کے دنیا سے قطع تعلقی کرتے یہ تو سوچا ہی نا تھا کے یوں وہ اس سے اتنا شدید ناراض ہو جائے گا یا ان حالات میں سامنا قسمت لکھ دے گی۔۔وہ گہرے گہرے سانس بھرتی خود کو کمپوز کر رہی تھی جب گاوں کی ہی لڑکیاں اسے لینے کے لئے کمرے میں آئیں تو اسکے ہاتھ پاوں بے جان ہوتے ساتھ چھوڑنے لگے۔۔۔ نکاح تو پہلے ہی ہوا تھا تبھی بارات کے آتے ہی دعوت عام کے لئے کھانا کھول دیا گیا۔۔۔ ہر کام تیزی سے سر انجام پا رہا تھا اور فاہا اتنا ہی خود کو بے دم ہوتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔
*****
علایہ بارات کے استقبال کے لئے کھڑی تھی۔۔۔ بلیک شیروانی میں آج مرتسم کی چھب ہی نرالی تھی۔۔۔ وہ مسکرا کر بھائی سے ملی۔۔۔ ماں سے مل کر وہ ابھی واپس پلٹی تھی جب بے طرح کسی سے ٹکرائی۔۔۔ مسز کیوں آج قتل کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ مردانہ کلون کی خوشبو کے ساتھ ہی ایک جان لیوا سی سرگوشی کانوں سے ٹکرائی تو اسنے گھبراتے ہوئے سمبھل کر نگاہیں اٹھائیں۔۔۔ سامنے ہی وہ ستم گر اپنی پوری وجاہت سمیٹ کھڑا تھا۔۔۔
بلیک کرتا شلوار پر بلیک ہی واسکٹ زیب تن کئے اسکی شہابی رنگت مزید دمک رہی تھی۔۔۔ آنکھوں میں مخصوص چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لئے وہ مسمرائز سا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس سے نظر ٹکراتے ہی علایہ کی نگاہیں بار حیا سے جھکتی چلی گئیں۔۔۔ دل نے چپکے سے کئ بالائیں لے ڈالیں۔۔۔۔یکدم ہی رات کا سارا منظر یاد آیا تو دل کرلا اٹھا۔۔۔
وہ اسکا مومی ہاتھ تھامے اسے ایک پرسکون گوشے میں لے آیا علایہ بھی کسی کانچ کی گڑیا کی مانند اسکے سنگ کھنچی چلی گئ۔۔۔
صبح بنا بتائے کیوں چلی آئی۔۔۔۔ بارات کا انتظام حویلی کے دالان میں ہی کیا گیا تھا۔۔۔ مردوں کا انتظام الگ تھا البتہ پھر بھی وہاں عورتوں کا خاصا رش تھا۔۔۔۔
نہیں تو۔۔۔ آپ جانتے تھے کے صبح مجھے حویلی آنا ہے۔۔۔ جھکے سر سمیٹ ہونٹ کچلتی وہ نرمی سے بولی۔۔۔
اوکے۔۔ اسنے سمجھ کر سر ہلایا۔۔۔ چلو سوال کی تصیح کر لیتے ہیں۔۔۔
صبح مجھ سے بنا ملے کیوں چلی آئی۔۔۔ اسنے علایہ کے چہرے پر پھسلتی بالوں کی لٹ کو نرمی سے کان کے پیچھے اڑسا۔۔۔
علایہ کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ وہ گم صم سی بنا بولے کھڑے رہی۔۔ جواب دیتی بھی تو کیا۔۔۔ سود و زیاں کے اس چکر میں خسارا تو سارا وہاج کے حصے میں ہی آیا تھا۔۔ کیسے بولتی کیا جواب دیتی۔۔۔
سوری۔۔۔ مجھے واقعی آپکا انتظار کرنا چاہیے تھے۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ بہت مشکل سے کوئی جواب دے پانے کے قابل ہوئی۔۔۔
چلو جاو کیا یاد کرو گی۔۔۔ کس سخی سے پالا پڑا ہے۔۔۔اتنے خوبصورت روپ کے صدقے میں کیا معاف۔۔۔اسکی پرشوق نگاہوں میں کئ تقاضے جنم لے رہے تھے۔۔۔۔لیکن یہ آخری دفعہ کے لئے تھا۔۔۔ دوبارا ایسا ہوا تو سزا ملے گئ۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئےعلایہ کی ناک دبائی تو وہ مسکرا بھی نا سکی۔۔۔ آنکھیں سرعت سے گیلی ہوئیں۔۔۔۔دفعتاً لڑکیاں فاہا کو لئے وہاں آئیں تو سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ لوگوں کے رش اور یک دم ہوتے شور و غل نے اسکا بھرم رکھ لیا۔۔۔
وہاج کے بھی فاہا کی طرف متوجہ ہونے ہر وہ سرعت سے وہاں سے نکلتی واش روم کی جانب بھاگی۔۔ اور واش روم میں آتے ہی چہرے ہاتھوں میں چھپاتے سسک اٹھی۔۔۔
کیسے کروں گی آپکا سامنا وہاج۔۔۔ میں تو اپنی ہی نظروں میں مجرم بن گئ۔۔۔ وہ شخص پتہ نہیں واقعی پوری دلی آمادگی سے اسکے ساتھ رشتہ نبھا رہا تھا یا اپنا ضبط آزما رہا تھا۔۔۔ مگر اسکی مسکراہٹ اسکا علایہ کو اہمیت دینا۔۔ اسکی شوخ نگاہوں کے تقاضے اور شوخ فقرے ناجانے کیوں علایہ کے دل کا بوجھ مزید بڑھا رہے تھے۔۔
کافی دیر تک اندر رہ کر دل کا غبار ہلکا کرنے کے بعد وہ آئینے کے سامنے اپنا میک آپ سیٹ کرتی واش روم سے نکلی۔۔۔۔ اسے اپنا بھرم قائم رکھ پانا بھی مشکل لگ رہا تھا۔۔۔۔
*****

No comments