Roshan Sitara novel 102nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 102nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
102nd epi...
حد بصارت محدود ہو کر رہ گئ تھی۔۔۔ دور تک تو کیا پاس سے بھی واضح چیزیں دکھائی نا دیتیں۔۔۔
ایسے میں وہاج اور علایہ گاڑی میں بیٹھے تھے۔۔۔ گاڑی ایک کافی کارنر کے سامنے رکی تھی ارد گرد کی نسبت وہاں قدرے رش تھا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ایک نو عمر لڑکے نے آ کر پیسنجر سیٹ کے شیشے پر دستک دی تو وہاج نے شیشہ نیچے کرتے اس سے کافی کے ڈسپوزیبل گلاس تھامے۔۔۔ ایک علایہ کی جانب بڑھایا جبکہ دوسرا خود تھام کر چسکیاں لینے لگا۔۔۔ آپ بھائی کے نکاح کے بارے میں جانتے تھے نا۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے اسے ماں کی کال آئی تھی۔۔۔ جس میں انہوں نے اسے مرتسم کے نکاح کے بارے میں مطلع کرنے کے ساتھ ساتھ جلد اسکی شادی کے بارے میں بھی مطلع کیا تھا۔۔۔ علایہ کو ایک انجانی خوشی تو ہوئی ہی ساتھ ہی ساتھ مرتسم اور فاہا سے ناراضگی بھی پکی تھی۔۔۔
یہ تم مطلع کر رہی ہو یا پوچھ رہی ہو۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
علایہ نے خفگی سے اسے گھورا۔۔۔ آپ انکے اتنے قریبی دوست ہیں۔۔۔۔ میں مان ہی نہیں سکتی کے آپ انکے نکاح سے لاعلم ہوں یا اس میں شامل نا ہوئے ہوں۔۔۔ علایہ نے منہ بسورا۔۔۔
تم اسکی چھوٹی اکلوتی بہن ہو۔۔ میں مان ہی نہین سکتا کے تم اس کے نکاح سے لاعلم ہو یا اس میں شامل نا ہوئی ہو۔۔۔ وہ دوبدو بولا۔۔۔ جبکہ علایہ بے بس نگاہوں سے اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
بات بدل رہے ہیں نا۔۔۔ وہ شکوہ کناں ہوئی۔۔
میں اس بارے میں اپنی رائے محفوظ رکھ رہا ہوں البتہ تم اپنے بھائی سے پوچھ سکتی ہو۔۔۔
اسنے کافی ختم کر کے شیشہ نیچے کرتے ڈسپوزیبل گلاس باہر پھنکا اور گاڑی سٹارٹ کرتے آگے بڑھائی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں گاڑی لودھی ہاوس کے کار پورچ میں آ کر رکی۔۔ یہ ممکن ہی نا تھا کے اتنی بڑی خبر سے مطلع ہو کر علایہ یہاں نا آتی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ لاوئنج میں داخل ہوتے ہی وہ باآواز بلند گویا ہوئی۔۔۔
ماں اور بابا وہیں موجود تھے۔۔ دونوں اسے خوش باش دیکھ کر کھل اٹھے۔۔۔
بھائی کہاں ہیں۔۔۔ بتائیں مجھے ان سے دو دو ہاتھ کرنا ہے۔۔۔ ماں کے بعد بابا سے ملتی وہ چہکی۔۔ البتہ وہاج ان دونوں سے مل کر اب صوفے پر بیٹھا مسکراتا ہوا موبائل پر تیزی سے کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔۔۔
غالباً مرتسم کو وہیں بلا رہا تھا۔۔ کچھ ہی دیر بعد مرتسم کمرے سے باہر آتا دکھائی دیا۔۔۔ اب وہ پہلے کی نسبت قدرے بہتر دکھائی دیتا تھا۔۔۔ ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہ کچھ دیر پہلے کے اشتعال اور غصے کو داب چکا تھا۔۔۔
بھائی آپ سے پکی والی ناراضگی ہے میری۔۔۔ آپ نے اپنے نکاح میں وہاج کو شریک کیا لیکن اپنی سگی چھوٹی بہن کو بتانا تک ضروری نہیں سمجھا۔۔۔
This is really not fair...
وہ اٹھ کر اس سے ملتی گلوگیر آواز میں شکوہ کناں ہوئی۔۔۔ علایہ وہ تو گواہ تھا نا اس لئے اسے شامل کرنا تو مجبوری۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔۔ مرتسم مسکراتا ہوا رسانیت سے کہہ رہا تھا جب علایہ منہ پر ہاتھ رکھتی تاسف سے سر نفی میں ہلاتی دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
وہاج ہس ہس کر دہرا ہو گیا۔۔۔
مرتسم ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو کہ ہوا کیا ۔۔۔۔۔
مطلب یہ واقعی آپکی شادی میں شریک تھے۔۔۔ علایہ کا صدمہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔ مرتسم خفیف سا مسکراتا صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ مطلب وہاج نے ابھی تک اسے شش و پنج میں رکھا ہوا تھا۔۔۔
آپ تو بہت برے ہیں مرتسم بھائی۔۔۔ لیکن کوئی نہیں ماں اب ہم ساری رسمیں پوری کریِ گے۔۔۔ مہندی بارات۔۔۔ پھر۔۔
کوئی ضرورت نہیں اتنے کھڑاک پالنے کی۔۔۔ وہ ایکسائٹڈ سی ماں کے پاس جاتی آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر رہی تھی جب مرتسم کی سنجیدہ اور دوٹوک آواز ابھری۔۔۔
علایہ نے کن اکھیوں سے باپ کو دیکھا۔۔۔ انکے منہ پر بارہ کیوں بجے ہیں۔۔۔ وہ ان کی طرف جھکتی منمنائی جبکہ جواب میں بابا مسکراہٹ داب گئے۔۔۔
سب سے ضروری کام ہوتا ہے نکاح وہ ہوگیا اب بس جب سب ڈکلئیر کرنا ہوگا تو ایک ریسیپشن پارٹی دے دیں گے۔۔۔ اسکا لہجہ سنجیدہ اور انداز سرد تھا۔۔۔ علایہ یک دم خاموش ہوگئ۔۔۔ وہاج نے بھی اسے الجھ کر دیکھا۔۔۔
تمہیں زیادہ ہمارا باپ بننے کی ضرورت نہیں مرتسم۔۔۔۔ جو ایک کام تم اکیلے کر چکے ہو اتنا کافی ہے۔۔ باقی فیصلے لینے کو ابھی تمہارے ماں باپ مرے نہیں جو تم خود سب کے باپ بن بیٹھ رہے ہو۔۔۔ ماں اپنے ازلی جلال میں لوٹتیں اسے لمحوں میں رگیڈ چکی تھیں یوں کے وہ بے بسی سے پاوں جھلاتا ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔۔
ماں اس جمعے کو بھائی کی بارات لے چلتے ہیں۔۔۔ علایہ ماں کے رویے سے ہمت پکڑتی مزید انکے قریب کھسکی۔۔۔
بارات کیوں یار۔۔۔۔ میں صبح ڈرائیور کو کہوں گا وہ میڈم صاحبہ کو واپس لے آئے گا۔۔۔ اور بات ختم۔۔۔ محترمہ گھر اپنی مرضی سے چھوڑ کر گئ ہیں۔۔۔ اور پرٹوکول اسے یوں دیا جا رہا ہے جیسے پتہ نہیں کونسا محاز سر کر لیا ہو اسنے۔۔۔وہ تلخی سے کہتا سر جھٹک گیا۔۔۔ ایک پل کو وہاں سناٹا چھا گیا۔۔۔ گویا مرتسم کے کھنچے کھنچے سے رویے کی وجہ اب سب پر واضح ہوگئ تھی۔۔۔
ٹھیک ہے اگر فاہا نے کل ہی آنا ہے تو ہم کل ہی بارات لے جائیں گے۔۔۔ ماں نے بیٹے کے تیور دیکھتے حتمی فیصلہ سنایا۔۔۔
کیوں ماں۔۔۔
تم سے نا میں نے مشورہ مانگا ہے اور نا ہی فضول گوئی کرنے کو کہا ہے۔۔ محض حکم دیا ہے کے کل تم تیار رہنا۔۔۔ ماں کا انداز بے لچک اور دو ٹوک تھا۔۔۔ وہ لب بھینچ گیا۔۔۔
علایہ تم کل صبح ہی ڈرائیور کیساتھ برائیڈل ڈریس لے کر حویلی کے لئے نکل جانا۔۔۔ پھر وقت سے فاہا کو تیار کروا دینا۔۔۔ ہم سب بارات کے ساتھ ہی آئیں گے۔۔۔ بارات وقت کی قلت کے باعث مختصر رکھیں گے البتہ ریسیپشن پر سب کو انوائٹ کر لیں گے۔۔۔۔باقی وہاں کے سبھی ارینجمنٹس تمہارے بابا دیکھ لیں گے۔۔۔ ماں نے لمحوں میں سار پلان ترتیب دے ڈالا تو بابا کو زندگی میں پہلی مرتبہ انکا دو ٹوک اور حتمی انداز پسند آیا۔۔۔ وہ انکے فیصلے کے قائل ہوئے۔۔۔ جبکہ مرتسم جھنجھلاتا ہوا اٹھ کر کمرے میں آ گیا۔۔۔۔
******
علایہ کچھ گنگناتی ہوئی آئینے کے سامنے کھڑی اپنی جیولری اتار رہی تھی۔۔۔ صبح کے حوالے سے وہ بہت خوش تھی۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ دونوں اپنے گھر پہنچے تھے۔۔۔ وہ سب سے مل کر اپنے کمرے میں آگئ۔۔ جبکہ پھوپھو کی فیملی کی آج واپسی کی فلائیٹ تھی اس لئے وہاج انکے پاس ہی لاوئنج میں رک گیا۔۔۔ ابھی وہ جیولری اتار کر پلٹی ہی تھی جب حرا مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔
ہم نکل رہے تھے تو سوچا کے جاتے جاتے تم سے مل آوں۔۔۔ وہ مسکرائی تو علایہ بھی مسکرا دی۔۔۔
ویسے تم بہت خوش قسمت ہو علایہ جو تمہیں وہاج بن مانگے ہی مل گیا۔۔۔ ورنہ قسمت ہر کسی پر مہربان نہیں ہوتی۔۔۔کچھ لوگوں تو ایڑیاں رگڑتے رگڑتے اور قسمت کی ستم ظریفی سہتے سہتے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔۔۔ مگر قسمت کو ان پر ترس نہیں آتا۔۔۔ وہ صدا حرماں نصیب ہی رہتے ہیں۔۔۔۔وہ سینے پر بازو باندھتے ڈریسنگ ٹیبل پر ٹک گئ۔۔۔ آواز میں یاسیت تھی۔۔۔ علایہ ٹھٹھکی۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔
کبھی کبھی بہت زیادہ فرمابرادر ہونا بھی بہت صبر آزما ہوتا ہے۔۔ دل چیر کر لہو میں دبو کر فرمانبرداری کو پیش کرنا پڑتا ہے۔۔۔ حرا کھوئی کھوئی سی تھی جب اسکک آنکھوں میں ابھرتی نمی دیکھ علایہ بے چین ہوئی۔۔۔
میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔
تمہیں کچھ سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں۔۔۔ ہمیشہ خوش رہو۔۔۔ خوش قسمت تو تم ہو ہی۔۔ حرماں نصیب تو میں ٹھہری۔۔۔ بے ساختہ حرا کی آنکھ چھلک پڑی۔۔۔
وہ تیزی سے کمرے سے نکلنے لگی جب بے ساختہ علایہ نے اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔
پلیز مجھے لاعلمی کے سمندر میں غوطہ زن مت چھوڑ کر جاو۔۔۔ تمہاری نافہم باتیں میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔۔۔ علایہ کے لہجے میں اندیشے بول رہے تھے۔۔۔
وہ اداسی سے مسکرائی۔۔۔۔
ایک بیٹے نے محبت پر فرمانبرداری کو ترجیح دے کر اپنے دل کو کچلتے ممتا کو فتح یاب کیا ہے۔۔۔۔۔
کہا نا کے خوش بختی کا ہما تمہارے سر پر ہے۔۔۔ اور وہ ایسا شخص ہے جو کبھی تمہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہونے دے گا۔۔۔ پوری زندگی دل مار کر تمہارے ساتھ خوش اسلوبی سے رشتہ نبھاتا رہے گا۔۔۔
علایہ کا وہ حال تھا کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔۔ اسکی رنگت خطرناک حد تک زرد پڑنے لگی تھی۔۔۔ کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔۔
ہمیشہ خوش رہو علایہ۔۔۔ میری محبت اس حدود کو چھو چکی ہے جہاں دل ہمہ وقت محبوب کی خوشی میں خوش رہتا ہے۔۔۔ آگر۔۔۔ اسکی آواز گلوگیر ہوئی تو وہ زرا توقف کو رکی۔۔۔
اگر وہ تمہارے ساتھ ایمانداری سے رشتہ نبھا کر خوش رہنے کی کوشیش کر رہا ہے تو میں۔۔۔ وہ رکی۔۔۔ گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔ تو میں خوش ہوں۔۔۔ تم میرے حق میں دعا کرنا کے اللہ مجھے صبر دے۔۔۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھتی سسکیاں روکتی کمرے سے نکل گئ۔۔۔ جبکہ پیچھے علایہ پتھر کا مجسمہ بنی کھڑی رہ گئ۔۔۔ ایسا پتھر کا مجسمہ جس میں زندگی کی رمق تک نا ہو۔۔۔
کمرے سے باہر نکلتے ہی حرا نے مسکرا کر انگلی کی پور پر آنسو چنتے اسے ہوا میں اچھالا اور دور کھڑے بھائی کو تمبز آپ کا اشارہ کرتے خود کو اتنی شاندار ایکٹنگ پر داد دی۔۔۔
دفعتاً وہاج اپنے دھیاں اوپر آیا تو حرا کو وہاں دیکھ ٹھٹھکا۔۔۔
شیطان کی پرکالہ ۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا ۔۔ کچھ گڑبڑ تو نہیں کی۔۔۔ وہ اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتا ارد گرد دیکھنے لگا۔۔۔۔ جیسے اسکی رگ رگ سے واقف ہو اور اپنے ارد گرد خطرہ بھانپنا چاہتا ہو۔۔۔۔۔
وہ کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔ بس پارٹنر ڈر گئے کیا۔۔۔
وہ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتی اسکے مقابل آئی۔۔۔۔ڈرتا تو وہاج خانزادہ کسی کے باپ سے بھی نہیں۔۔۔ اسنے آنکھ اچکائی
یہ بات۔۔۔۔ آئی لائیک دس ایٹیٹیوڈ۔۔۔
گڑبڑ کیا کی ہے۔۔ وہاج ہلکا سا مسکراتا دو قدم آگے بڑھا۔۔۔
بوجھو تو جانے ہم۔۔۔ وہ شانے اچکاتی اسکے قریب سے نکل گئ۔۔۔ جبکہ وہاج نے گردن موڑ کر اسے دور تک جاتے دیکھا۔۔۔ پھر محتاط سا جانچتی نگاہوں سے ارد گرد دیکھتا اپنے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
زیرو پاور کی لائٹ آن تھی۔۔۔ جبکہ علایہ سر تک لحاف اوڑھے چٹ لیٹی تھی۔۔۔ شاید وہ تھک گئ تھی اسی لئے جلدی سو گئ۔۔۔ وہاج نے گہری سانس خارج کی ۔۔۔ بظاہر تو سب ٹھیک ہی تھا۔۔۔ وہ بنا علایہ کو ڈسٹرب کئے باہر نکل آیا۔۔۔ جبکہ اسکے جاتے ہی علایہ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔ گرم سیال آنکھوں سے بہتا کنپتیوں میں جذب ہونے لگا۔۔۔۔
******
ماہرہ اس اپارٹمنٹ کے لاوئنج میں کھڑی جلملاتی نگاہوں سے چاروں جانب سے اپارٹمنٹ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس جگہ سے اسکی بہت سی یادیں وابسطہ تھیں۔۔۔ اس اپارٹمنٹ میں آ کر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ابھی یہاں کسی بھی کونے سے فائز نکل آئے گا۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو ماہرہ۔۔۔ تمہیں سکون کیوں نہیں۔۔۔ ابھی ابھی بیماری سے اٹھی ہو چلو اندر چلو میں تمہارے لئے سوپ لاتا ہوں۔۔۔ ہوا کی دوش پر ابھرتی آواز پر اسنے چونک کر کچن کی جانب دیکھا۔۔۔ بے ساختہ آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹا۔۔۔ وہ وہیں صوفے پر بیٹھتی چہرا ہاتھوں میں چھپا گئ۔۔۔
Miss you a lot Faiz ... Please come back... Please...
اپارٹمنٹ سارا آتش کی نظر ہوتا جھلس گیا تھا۔۔۔ دوبارہ رینویشن کے بعد بھی اس میں انیس بیس کا ہی فرق تھا۔۔۔ آج آفیشلی یہ اپارٹمنٹ اسکی ملکیت میں آگیا تھا۔۔۔ یہ اسکی اپنی جنت بچانے کی ایک شعوری کوشیش تھی۔۔۔ وہ وہیں اسی مقام پر اپنے شوہر کی منتظر ہونا چاہتی تھی جہاں اس سے بچھڑی تھی۔۔۔
پاوں پاوں چلتے مائز کے گر کر رونے کے باعث وہ چونک کر ہوش میں آئی اور سرعت سے اسکی جانب لپکی۔۔۔
اسکے زارو قطار رونے پر اسنے مائز کو اٹھا کر سینے سے لگایا اور اسے ٹہلانے لگی۔۔۔ پچھلے واقعہ کے بعد سے وہ مائز کے لئے بہت حساس ہوگئ تھی۔۔۔ کسی اور پر تو کیا وہ مائز کے لئے اپنے سائے پر بھی بھروسہ نہیں کرتی تھی تبھی ہمہ وقت اسے ساتھ ساتھ رکھتی۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ بہل گیا تو اسے صوفے پر لٹا کر ساتھ کشن رکھتی اسکے منہ میں فیڈر لگا کر خود پاس ہی کارپٹ پر بیٹھتی بیگ سے موبائل نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔
دوسری طرف بیل جا رہی تھی۔۔۔ مرتسم جو ساری رات پراگندہ سوچوں کے باعث ایک پل کو نا سو پایا تھا۔۔۔ ابھی بھی دکھتے سر کے ساتھ بیڈ کروان سے ٹیک لگائے نیم دراز تھا تبھی ماتھا مسلتے دوسری ہی بیل پر فون اٹھا گیا۔۔۔
مرتسم اپارٹمنٹ آفیشلی میری تحویل میں آگیا یے۔۔۔ کائنڈلی تم اور وہاج آ کر یہاں سیٹ آپ شروع کر دو۔۔۔۔ سلام دعا کے بعد وہ مدعے کی بات پر آئی۔۔۔
آج نہیں کل ماہرہ۔۔۔ آج میری بارات ہے اسنے ضبط سے سوکالڈ کہنے سے خود کو باز رکھا۔۔۔
اوہ مبارک ہو۔۔۔ وہ مسکرا دی۔۔۔
تم اور مائز بھی انوائٹڈ ہو۔۔۔ اگر آنا چاہو تو۔۔۔ وہ سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
تھینک یو ویری مچ۔۔۔ لیکن بارات کے روز انویٹیشن دینا مطلب فارمیلٹی پوری کرنا۔۔۔ وہ اپنی پرانی جون میں لوٹتی مسکرا کر ٹون مار گئ۔۔۔
اچھا اگر ایسی بات ہے تو پھر تو میرے ساتھ بھی فارمیلٹی پوری ہونے والا معاملہ ہی ہوا ہے۔۔۔ کیونکہ مجھے خود کل رات ہی پتہ چلا کے آج میری بارات ہے۔۔۔
اسکے اداسی سے کہنے پر وہ مسکرا دی۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔ تمہارے دوست کو بھی ہسپتال میں ہی پتہ چلا تھا کے آج اسکا نکاح ہے۔۔۔۔۔ اسنے مسکرا کر پرانا حوالہ دیتے بات ہی ختم کر دی۔۔۔
شادی کی بہت سی نیک تمنائیں۔۔۔ انشااللہ کل ملاقات ہو گئ۔۔۔ مسکرا کر کہتی وہ رابطہ منقطع کر گئ۔۔۔
اب اسکا اراداہ اس گھر کے لئے گروسری کرنے جانے کا تھا۔۔۔ جب اب اسے آباد کرنے کا ارادہ کر ہی لیا تھا تو۔۔۔ سب سے پہلا سٹیپ کچن سے ہی لینا چاہیے تھا۔۔۔
*****
ساری رات علایہ کی کانٹوں ہر بسر ہوئی۔۔۔ دل کا روگ رفتہ رفتہ رینگتا ہوا پورے جسم میں ہی سرائیت کرنے لگا تھا۔۔۔ دل پر یکدم ہی ان دیکھا بہت سا بوجھ آ گرا تھا جو اسکے دل کو مسلسل کچلتا جا رہا تھا۔۔۔
یہ انکی ارینج میرج ہے وہ جانتی تھی۔۔۔ علایہ آنٹی کی پسند ہے اس بات سے بھی وہ آگاہ تھی۔۔۔ لیکن وہاج کی پسند کوئی اور ہے یا وہ وہاج کے دل کا قتل کر کے اسکی زندگی میں آئی ہے یہ انکشاف نیا تھا اور اتنا بڑا تھا کے اسکا معصوم سا دل اسکا بھاڑ اٹھانے سے قاصر تھا تبھی تو کرلا رہا تھا۔۔۔
وہ شخص تو پہلے ہی رگ رگ میں سما گیا تھا۔۔۔ اب تو احساس پشیمانی اسکے سامنے سر تک نا اٹھانے دے رہی تھی۔۔۔
دل چاہ رہا تھا خود کو ہی آگ لگا ڈالے جو اپنے محبوب کا دل اجاڑنے کا سبب بنی تھی۔۔۔ کتنے ضبط کا مظاہرہ کرتا تھا وہ شخص روز۔۔۔ اود وہ بھی بنا ماتھے پر شکن لائے۔۔۔
کیوں۔۔۔ کیوں انجانے میں ہی مجھ سے یہ خطا سر زد کیوں ہوئی۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچتے سینے کے مقام پر مکے برسائے۔۔۔
پھر وہاج کے واک سے واپس آنے سے پہلے ہی خود کو کمپوز کرتی اٹھ کر فریش ہونے چلی گئ۔۔۔ ارادہ اسکے لوٹنے سے پہلے ہی حویلی کے لئے نکل جانے کا تھا۔۔۔ وہ دعا گو تھی کے کم از کم اس وقت اسکا وہاج سے سامنا نا ہو۔۔۔ کیونکہ فلحال وہ بالکل اس پوزیشن میں نا تھی۔۔۔
*******

No comments