Roshan Sitara novel 101st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 101st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
101st epi...
علایہ دوپہر سے ہی خاصی بجھی بجھی سی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں اسکا دل ہی صبح سے اس سے بغاوت پر اترتا خفا خفا سا تھا۔۔۔
وہ بیٹھ کر اپنی زندگی کے گزشتہ ماہ ہو سال کو سوچتی تو خود دھنگ رہ جاتی۔۔ بچپن سے اسے جسقدر چڑ وہاج سے تھی شاید ہی کسی سے ہوتی۔۔۔وہ تھا بھی تو اتنا شرارتی۔۔۔ جتنا وہ اسکے وزن کو لے کر اسے مذاق کا نشانہ بناتا اس حوالے سے علایہ کی اس سے چڑ بنتی بھی تھی۔۔۔ پھر اسکی پوری فیملی امریکہ چلی گئ اور اسکی زندگی پر سکون ہو گئ۔۔۔ پھر چند برس پہلے نکل آنٹی تو واپس لوٹ آئے مگر وہ واپس کب آیا علایہ کبھی جان ہی نا سکی۔۔۔ شاید بڑے ہونے کے بعد سے وہ بچپن والی بے تکلفی اور کھلم کھلا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بند ہو گیا تھا۔۔۔
پھر انکی پہلی ملاقات کس قدر ناخوشگوار رہی تھی کے علایہ کو اس شخص سے ایک خاص قسم کی چڑ ہو گئ تھی۔۔۔ اور اسکے بعد کی سبھی ملاقاتیں اتنی ہی نا خوشگوار تھیں۔۔ وہ شخص اسے تپاتا بھی تو بہت تھا۔۔۔ یا شاید اسکی صورت دیکھ کر علایہ خود ہی تپ جاتی تھی۔۔۔
وہ کبھی اس شخص کی خوبیوں کی معترف نا ہوتی جو اسکی زندگی میں وہ ایک بھیانک رات نا آئی ہوتی۔۔۔
اس روز اسنے محافظ اور لٹیرے کے بیچ کا فرق جانا تھا۔۔۔ مردوں کی قسموں کو سمجھا تھا۔۔۔ تھا تو تب وہاج بھی اسکے لئے نامحرم ہی۔۔۔ اور چاہتا تو وہ بھی موقع کا فائدہ اٹھا سکتا تھا۔۔۔ اور کچھ نہیں تو ان میں چلتی پچھلی عداوت کیٹ فائٹ کی بنیاد پر اسے اس بیانک جگہ پر گرفتار بھی کرواسکتا تھا۔۔۔ لیکن اس روز اسنے ایک غیرت مند خاندانی اور ایک بے غیرت حوس پرست مرد کا فرق جانا تھا۔۔۔ اسے اس روز لوٹنے کے در پر بھی ایک مرد ہی تھا اور اسے اس روز اس بھیانک غلیظ دلدل سے نکالنے والا بھی ایک مرد ہی تھا۔۔
اسکے باوجود وہ کبھی وہاج کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی شادی تو دور کی بات۔۔۔ لیکن انکا ملنا شاید قسمت میں تھا۔۔۔ مرتسم کے سامنے حقیقت آنے پر تو اسکا دل چاہا تھا کے وہ زمین میں دھنس جائے۔۔۔ اور اپنی وہ فحش تصویریں دیکھ کر تو اسکا خود کو آگ لگانے کا دل چاہتا تھا۔۔۔ لیکن وہ شخص اسے یہاں بھی سرخرو کر گیا تھا۔۔ اس واقعہ کو لے کر وہ کس قدر اس سے خوفزدہ تھی اتنی ہی نرمی اور محبت سے اسنے علایہ کے سبھی خدشات دھو ڈالے تھے۔۔ کیا اب بھی وہ اسکی اثیر نا ہوتی۔۔۔ اب بھی وہ مرض عشق میں مبتلا نا ہوتی۔۔۔
اسکا بس چلتا تو اسے کسی دیوتا کا درجہ دیتی خود اسکی داسی بن جاتی۔۔۔ وہاج خانزادہ کی محبت روز با روز اسکے سینے میں پوری قوت سے پنجے گاڑتی جا رہی تھی۔۔۔ ایسے میں وہ دل خود کو ہی محبوب کے معاملے میں زرا سی کوتاہی پر بھی معاف کرنے کو تیار نا تھا۔۔۔
وہ پہروں بیٹھی اسے سوتے میں یک ٹک دیکھتی رہتی۔۔ جاگتے ہوئے اسے یک ٹک دیکھنے کی ہمت وہ خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔ آنکھیں خودباخود ہی بارِ حیا سے جھکتی چلی جاتیں۔۔۔ اسکا بات کرتےکرتے یکدم ہسنا۔۔ لیپ ٹاپ یا موبائل پر کام کرتے مصروف سے انداز میں بات کرنا۔۔۔ کبھی موبائل سے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھنا۔۔۔ ہاتھوں سے اپنے بال سنوارنا وہ تو اسکے ایک ایک انداز کی اسیر ہوگئ تھی۔۔ اسکا ایک ایک عام سا انداز بھی علایہ کا دل ڈھرکا جاتا۔۔۔
اب بھی وہ بہت دیر کی شش و پنج کے بعد ایک مرتبہ پھر سے کچن میں موجود تھی۔۔۔ وہ کیا کرتی سب کے بارہا منع کرنے کے باوجود وہ وہیں آ جاتی کیونکہ جانتی تھی کے وہاج کس قدر کھانوں کا شوقین ہے۔۔۔ وہ اس کے لئے نت نئ ڈششز بنانا چاہتی تھی۔۔۔ آج اسے خود پر قوفت ہو رہی تھی کیوں وہ ماں کے گھر بے جا وقت ضائع کرتی رہی۔۔۔ ماں تو ہمہ وقت ڈانٹتی رہتیں کے کچھ نا کچھ سیکھ لو مگر وہ ہمیشہ ہی پڑھائی کا بہانہ کرتی نو دو گیارہ ہو جاتی۔۔۔ بنیادی چیزوں کا مطالبہ بھی اگر مرتسم اس سے نا کرتا تو وہ شاید کبھی کچن کا رخ ہی نا کرتی پھر فاہا کے آنے کے بعد تو وہ اکثرو پیشتر اسکے ساتھ کچن میں پائی جاتی لیکن اس میں بھی زیادہ کام فاہا ہی کرتی وہ تو تھوڑی بہت مدد کروا دیتی۔۔۔ لیکن اب اپنی کوتاہیوں پر اسے تاسف ہو رہا تھا۔۔۔ شادی سے پہلے کم از کم کھانا پکانا تو ہر لڑکی کو سیکھ ہی لینا چاہیے ۔۔۔ تا کے بعد میں یوں اتنی خواری اور سبکی تو نا محسوس کرنی پڑے۔۔۔ چاہے سسرال کتنا ہی اچھا کیوں نا ہو۔۔۔ لیکن اگر عورت کو بنیادی کام ہی نا آتا ہو تو۔۔۔ وہ مسلسل دلبرداشتہ ہو رہی تھی۔۔۔ بس نا چلتا کے وقت کو پیچھے موڑ کر شادی سے پہلے کھانا پکانا سیکھ لیتی۔۔۔ لیکن اب بھی دیر کہاں ہوئی تھی۔۔۔ لگن محنت اور کام سیکھنے کی چاہ سے کام سیکھ کر کیا جائے تو کیوں کام نہیں آتا۔۔۔
اسنے نہایت توجہ اور محنت سے یوٹیوب کی مدد لے کر وہاج کے لئے کھانا بنایا۔۔۔ لیکن اس وقت صبح کی طرح دل ایکسائٹڈ ہونے کی بجائے طرح طرح کے خدشات سے لرز رہا تھا۔۔۔ اگر کھانا اچھا نا بنا تو۔۔۔ پھر سے محنت اکارت گئ تو۔۔۔
لیکن اس بار وہ ہر کچھ دیر بعد کھانا چیک کرتی رہی تھی۔۔ کک کو بھی چیک کروا کر اسکی سند لگی۔۔۔ کھانے کی خوشبو بھی اچھی آ رہی تھی۔۔۔ لیکن اسکے باوجود دل مضطرب تھا۔۔۔
وہاج کے آنے کا ٹائم ہوا تو وہ فریش ہونے کے لئے کمرے میں آگئ۔۔۔ بلیک براوں اور سکن کنٹراس کا خوبصورت سا لباس زیب تن کئے ہلکی سی جیولری اور ہلکے سے میک آپ میں اسکی تیاری مکمل تھی۔۔۔ بال ہاف کیچر میں مقید تھے۔۔۔ لیکن صبح والے واقعہ کے بعد اسکی خود اعتمادی بری طرح زائل ہوئی تھی۔۔۔
وہاج کے کپڑے ۔۔۔سوفٹی۔۔۔ غرض اسکی ضرورت کی ہر چیز مطلوبہ جگہ پر رکھ کر وہ کمرے کی حالت درست کرتی باہر آ گئ۔۔۔۔کچھ دیر بعد وہاج گھر آیا تو اپنے دھیان سیدھا کمرے میں ہی آیا۔۔۔ حسب سابق ہر چیز اسکی جگہ پر موجود تھی۔۔۔اس چیز نے دماغ پر اچھا تاثر چھوڑا تھا۔۔۔ فریش ہو کر وائٹ کرتا شلوار میں ملبوس وہ کمرے سے نکلنے والا ہی تھا جب علایہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
کھانا لاوں۔۔۔ سلام کرنے کے بعد وہ نظریں جھکائے کھانے کے لئے مستفسر ہوئی تو وہاج نے ٹھٹھک کر اسے غور سے دیکھا۔۔۔
وہ اسے بہت بجھی بجھی سی محسوس ہوئی۔۔۔
چلو باہر چلتے ہیں۔۔۔ ڈنر باہر ہی کریں گے۔۔۔
چند لمحے وہ اسے غور سے دیکھتے رہنے کے بعد اسکی اداسی محسوس کر کے یکدم ہی بول اٹھا۔۔۔
علایہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسنے پشیمان نگاہیں اٹھا کر وہاج کو دیکھا۔۔۔ وہ پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ علایہ کی آنکھوں کے نافہم انداز کا مطلب سمجھنے سے وہ قاصر تھا۔۔۔
اسنے بھنور اچکاتے دریافت کیا۔۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو کے کیا ہوا۔۔۔
مم۔۔۔ میں نے کھانا بنایا ہے۔۔۔ وہ نظریں جھکاتے منمنائی۔۔۔بں تکلف کیا علایہ۔۔۔ ہم ڈنر کرنے باہر چلتے نا۔۔۔ اسی بہانے کچھ 4جب پھر بھی لیتے۔۔۔ اسکی یہ ہی بات اچھی تھی کے وہ چزی رائے کو مقدم جانتا تھا۔۔۔ اپنا فیصلہ نہیں تھوپتا تھا۔۔۔ یا اسکی کوتاہیاں پوائنٹ آوٹ نہیں کرتا تھا۔۔۔
وہ کیا بولتی جبھی گم صم سی سر جھکائے ہونٹ کچلتی شش و پنج میں مبتلا کھڑی رہی۔۔۔ صبح کی پشیمانی ہی کافی تھی مزید اسے کھانا کھانے کے لئے قائل کیسے کرتی۔۔۔
وہاج کو اسکی چپی اور گم صم انداز خاصا کھلا ۔۔۔
اوکے چلو کھانا یہیں لے آو۔۔۔ وہاج کے کہتے ہی اسکے چہرے کی رونق کچھ بحال ہوئی اور وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئ۔۔۔
وہاج سر تھامتا وہیں صوفے پر دھپ سے بیٹھا۔۔۔
یا اللہ رحم کر دے مجھ معصوم پر۔۔۔ وہ اوپر کو دیکھتا دعائیہ گویا ہوا۔۔۔
کچھ دیر بعد علایہ کھانا لے کر آئی تو وہاج صوفے پر ٹانگ موڑے بیٹھا موبائل سکرول ڈاون کر رہا تھا۔۔۔ سفید کرتا شلوار پر سلیقے سے بنے بال ناجانے وہ تھا ہی مردانہ وجاہت کا شاہکار یا اب علایہ کو لگنے لگا تھا۔۔۔ اسنے بھرپور کوشیش سے خود کو اسکے سحر میں جھکڑنے سے بچایا اور کھانا اسکے سامنے رکھتی کھانا سرو کرنے لگی۔۔۔ وہاج نے موبائل بند کر کے میز پر رکھا اور اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
صبح سوری کس چیز کے لئے بول رہی تھی۔۔۔ وہ قورمہ ڈالنے کے بعد اب جھک کر بریانی ڈال رہی تھی جب وہاج کے پوچھنے پر اسکا حرکت کرتا ہاتھ زرا کی زرا رکا اور پھر سے حرکت میں آ گیا۔۔۔۔
تم سے پوچھ رہا ہوں یار۔۔۔ آئی گیس سوری صبح تم بول رہی تھی لیکن اب تمہیں دیکھ کر محسوس یوں ہو رہا ہے جیسے ناراض تم مجھ سے ہو۔۔۔ اسنے علایہ کے ہاتھ سے پلیٹ تھامتے سائیڈ پر رکھی۔۔۔
آپ سے کبھی ناراض نہیں ہو سکتی میں۔۔ مصروف سے انداز میں کہتے اسنے آگے پھسل آئے بال پیچھے کئے اور جگ سے پانی گلاس میں انڈیلنے لگی۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ اور یہ کب کی بات ہے۔۔۔ وہ اسکی بات سے محظوظ ہوتا سینے پر ہاتھ باندھ گیا۔۔۔
سوری۔۔۔ صبح میری وجہ سے آپکو بھوکا آفس جانا پڑا۔۔۔ حالانکہ میری یہ اٹینشن نا تھی۔۔۔ ہونٹ کچلتے اسنے زرا کی زرا نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ ابکی بار خاموش ہونے کی باری وہاج کی تھی۔۔
تمہیں کس نے کہا کے میں صبح آفس بھوکا گیا۔۔۔ وہ زرا سا ہستا صوفے پر پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔ علایہ نے اسے ہستے ہوئے آنکھ بھر کر دیکھا ۔۔۔ دل نے چپکے سے اسکی بالائیں لے ڈالیں۔۔۔
وہ پین کیک کھانے لائق ہرگز نا تھا۔۔۔ اسنے لب کترتے جیسے غلطی کا اعتراف کیا۔۔۔
اور یہ بات تمہیں کس نے بتائی تم نے تو کھایا نہیں تھا یار۔۔۔ وہاج نے شہادت کی انگلی سے آئبرو کھرچی۔۔۔۔
بس ٹیسٹ کر لیا تھا میں نے۔۔۔۔ وہ پشیمان تھی اور اسکی پشیمانی اسکے چہرے اور لہجے سے واضح تھی۔۔۔
یار صبح کو تو چلو تم چھوڑو۔۔۔ جو گزر گیا سو گزر گیا۔۔۔ وہ مسکراہٹ دابتا سیدھا ہوا۔۔۔ شرارت آنکھوں میں مچل رہی تھی۔۔۔ وہ یک ٹک اسکی جگنوں کو مات دیتی جگ مگ کرتی آنکھوں کو دیکھے گئ۔۔۔
ابکا ہی بتا دو۔۔۔ کھانا ٹیسٹ کیا ہے یااااا۔۔۔۔
یا مجھ پر نیا تجربہ کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ اسکا انداز اتنا بے ساختہ تھا کے علایہ بھی ہس دی۔۔۔۔
میں نے بہت دل سے کھانا بنایا ہے وہاج۔۔۔ اور ٹیسٹ بھی کیا ہے۔۔ لیکن آپ کو قسم ہے وہاج کھانا ٹیسٹ کر کے آپ مجھے بالکل ٹھیک ٹھیک بتائیں گے کے کھانا کیسا بنا ہے۔۔۔ اگر آپکو کھانا پسند آیا تو ٹھیک ورنہ ہم باہر چلیں گے۔۔۔
ہاں یہ قابل غور بات ہے۔۔ وہاج اسکی بات سے اکتفا کرتا کھانے کی پلیٹیں اپنے آگے کھسکانے لگا۔۔۔ اب وہ مروت میں مارا ہی تو نہیں جا سکتا تھا نا۔۔۔
پہلا نوالہ اسنے روٹی کا کورمے کیساتھ لیا اور یوں چبا چبا کر کھانے لگا جیسے ماہر شیف کھانا کھا کر چیک کر رہا ہو ۔۔۔ اور علایہ بھی سانس تک روکے یوں اسے دیکھ رہی تھی جیسے ابھی کسی بہت بڑے کانٹیسٹ کا فیصلہ آنے والا ہو۔۔۔
کورمے کا نوالہ کھانے کے بعد وہ بنا کچھ بولے بریانی کا نوالہ لینے لگا۔۔۔
وہ ابھی تک یونہی وہاج پر نظریں جمائے اسکے کچھ بولنے کی منتظر بیٹھی تھی۔۔۔
ہممم۔۔ اچھا ہے کھانا۔۔۔ وہ ہنکارا بھرتا بولا۔۔۔
نہیں ایسے نہیں۔۔ اچھے سے بتائیں۔۔۔ وہ ہنوز ایسے ہی بیٹھی تھی۔۔۔
قورمہ اچھا ہے۔۔۔ بریانی بھی اچھی ہے لیکن اس میں نمک تھوڑا سا تیز ہے۔۔۔
چلیں چھوڑیں اسے۔۔۔ اٹھیں ہم باہر چلتے ہیں۔۔۔ علایہ نے وہیں اسکے سامنے سے پلیٹ ہٹاتے اسے ہاتھ پکڑ کر اٹھانا چاہا۔۔۔
ارے ایسے کیسے۔۔۔ وہ ہاتھ واپس کھینچ گیا۔۔۔
کھانا اچھا ہے۔۔۔ بہت اچھا نا سہی۔۔۔ لیکن اچھا ہے۔۔۔ آسانی سے سیر ہو کر کھایا جا سکتا ہے۔۔۔ کم از کم صبح جیسا تو بالکل بھی نہیں ہے ۔۔۔ اسنے ہاتھ کھینچتے دور کھسکائی پلیٹ اپنے سامنے کی۔۔۔ علایہ اٹھتے اٹھتے پھر سے بیٹھ گئ یوں کے اسکی جانچتی نگاہیں وہاج پر ہی تھیں۔۔۔
انفیکٹ نائس امپرومنٹ۔۔۔۔ صبح سے بہتتتت بہتر ہے۔۔۔ اسنے بہت پر زور دیتے پھر سے کھانا شروع کیا۔۔۔
تم بھی تو کھاو نا۔۔۔ علایہ کو یونہی بیٹھے دیکھ وہ کھانے سے ہاتھ روکے گویا ہوا۔۔۔
وہ سر ہاں میں ہلاتی کھانا کھانے لگی۔۔۔
ویسے تمہیں یہ کھانا پکانے کا مشورہ دیا کس نے علایہ۔۔۔۔
آپ فوڈی ہیں۔۔ کھانے کے شوقین اسی لئے۔۔۔ وہ دونوں ایک ہی پلیٹ سے کھا رہے تھے۔۔۔ صوفے پر ٹانگ موڑ کر بیٹھے درمیان میں کھانا تھا۔۔۔
ہم یہ شوق باہر جا کر بھی پورا کر سکتے ہیں نا۔۔۔
کر سکتے ہیں لیکن میں چاہتی ہوں آپ کو دینا میں سب سے زیادہ بس میرے ہاتھ کا ذائقہ پسند ہو وہی یاد رہے۔۔۔ وہ روانی سے کہہ گئ مگر پھر اپنے ہی کہے لفظوں پر غور کیا تو خاموش ہو گئ۔۔۔ وہاج کا دل چاہا کے قہقہ لگا کر ہس دے
ہممم سہی۔۔۔ وہ بامشکل ہسی روکے ہوئے تھا۔۔۔ واقعی صبح والے پین کیک کا ذائقہ وہ کبھی نہیں بھولنے والا تھا۔۔۔
ہاں ابھی تو یہ ممکن نہیں۔۔۔ لیکن کچھ عرصہ بعد انشااللہ ایسا ہو جائے گا۔۔۔ تبھی تو خراب کھانا بننے کے باوجود میں نے بنانا نہیں چھوڑا۔۔ چھوڑ دوں گی تو پھر اچھا کھانا کیسے بنانا سیکھوں گی۔۔۔ وہ وہاج کا ہسی ضبط کرنے کی کوشیشوں میں ہلکاں سرخ پڑتا چہرا دیکھ صفائی دیتی گویا ہوئی۔۔۔۔
ضرور یار کیوں نہیں۔۔۔ ویسے بھی اچھا کھانا تم بنانا سیکھ ہی جاو گئ۔۔۔ نا بھی سیکھو تو بھی کوئی مسلہ نہیں۔۔۔ لیکن تمہاری یہ کوشیشیں پیاری ہیں۔۔۔ بالکل تمہاری طرح۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرتا وہ بولا تو علایہ اتنی سی تعریف پر ہی سرخ پڑ گئ۔۔۔ اسنے دلچسپی سے علایہ کا یہ انداز دیکھا۔۔۔
چلو کافی باہر چل کر پیتے ہیں۔۔۔ تم جیکٹ پہن کر شال اوڑھ کر باہر آ جاو۔۔۔ وہ برتن سمیٹ کر ڈش میں رکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
چھوڑیں میں رکھ آتی ہوں۔۔۔ علایہ نے آگے بڑھتے اسکے ہاتھ سے ٹرے تھامنی چاہی۔۔۔
ارے اٹس اوکے۔۔ تم جلدی سے باہر آو۔۔۔ وہ مسکر اکر کہتا ٹرے لئے کمرے سے نکل گیا ۔۔۔
******
اس لڑکے کی کھوپڑی ہی الٹی ہے لودھی صاحب۔۔ اور ہو کیوں نا۔۔۔ آخر بیٹا کس کا ہے۔۔۔ باپ پر ہی جائے گا نا۔۔۔
ماں بیٹے کو بے نقط سناتے سناتے لودھی صاحب کو بھی بھیچ میں رگیڈ گئیں۔۔۔ وہ خفیف سے ہوتے خاموش رہے۔۔۔ ابھی کے لئے اتنا کافی تھا کے وہ مان گئ تھیں۔۔۔ اور ناراضگی ختم کرتے ان سے بات کر رہی تھیں۔۔۔
فون کریں فاہا کو۔۔۔ اور میری بات کروائیں۔۔
لودھی صاحب نے فورا سے پیشتر حکم کی تعمیل کی۔۔ لیکن دوسری طرف فون بند تھا۔۔۔ انکی تشویش فطری تھی۔۔۔ اگلے ہی لمحے انہوں نے ڈرائیور کو کال ملائی۔۔۔ ڈرئیوار کی زبانی وہ فاہا کا بخیرو عافیت حویلی پہنچنے کا سن کر زرا پرسکون ہوتے اٹھ کر بگڑے صاحبزادے کے کمرے میں آئے۔۔۔
وہ غالباً ابھی شاور لے کر نکلا تھا۔۔۔ ٹراوزر میں ملبوس تولیہ گلے میں ڈال رکھا تھا۔۔۔ البتہ مزاج ابھی بھی گرم ہی معلوم ہوتے تھے۔۔۔
یہ کیا نیا ڈرامہ ہے مرتسم۔۔۔ کیا تم شکر نہیں کرتے کے ہر کام خوش اسلوبی سے طے پا رہا ہے۔۔۔ ماں تمہاری مان گئ اور تمہیں کیا چاہیے اب تم یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو۔۔۔
بابا نے آتے ہی اسے آڑے ہاتھوں لیا تو وہ لب بھنچتا ان دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
آپکو یہ چھوٹی سے بات لگتی ہے بابا۔۔۔ آپکو اتنی سی بات سمجھ نہیں آرہی کے وہ لڑکی بیچ راستے بیچ منجدھار میرا ہاتھ چھوڑ گئ ہے۔۔۔ میرے بارہا سمجھانے کے باوجود۔۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ اتنا بڑا فیصلہ کرتی تنہا اس گھر کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔ کیا یہ چھوٹی بات ہے۔۔۔ اور اگر ہے۔۔ تو آپکے لئے ہوگئ۔۔۔ اسکے لہجے میں تپش تھی۔۔۔ آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔۔۔
ایک نافرمان بیوی میری ترجیح کبھی نہیں رہی۔۔۔۔۔ اسکے لہجے میں قطعیت تھی۔۔۔
بابا اسکا اٹلُ انداز دیکھ کر رہ گئے۔۔۔
مرتسم۔۔۔ وہ بولے تو لہجے میں گہری سنجیدگی تھی۔۔۔
میں اب کچھ بھی تمہارے غصے یا اشتعال کی نظر نہیں کر سکتا۔۔۔ بہت مشکل سے حالات سمبھلے ہیں۔۔ میں پھر سے انہیں بگھار نہیں سکتا۔۔ اس لئے ہم جلد تمہاری بارات لے کر جا رہے ہیں۔۔۔ اس گھر کی بہو کو پوری عزت اور شان و شوکت سے واپس لانے کے لئے۔۔ اور اس معاملے میں میں تمہاری کوئی فضولیات نہیں سنوں گا۔۔۔ بابا حتمی انداز میں کہتے اسے ایک گھوری سے نوازتے کمرے سے نکل گئے۔۔۔ جبکہ انکے جاتے ہی مرتسم نے طیش سے ڈریسنگ ٹیبل پر ہاتھ مارا۔۔۔ اوپر موجود ہر چیز اسکی اس ستم ظریفی پر زمین بوس ہو گئ۔۔۔ لیکن اسکے اندر کی آگ تھی کے کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔

No comments