Roshan Sitara novel 100th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 100th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
100th epi...
وہاج ابھی آفس میں داخل ہوا ہی تھا کے ریسیپشن سے ہی اسے اطلاع مل گئ کہ مرتسم اسکا انتظار کر رہا ہے۔۔۔ وہ سیدھا اسی کے کیبن میں آگیا۔۔۔
مرتسم سامنے ریوالونگ چئیر پر کسی فائل میں سر دئیے بیٹھا تھا۔۔۔ اسے دیکھتے ہی فائل سے سر اٹھاتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
اس فائل میں کچھ۔۔۔۔
پلیز۔۔۔ یہ سب بعد میں۔۔۔ پہلے ناشتہ منگواو۔۔۔ اس سے پہلے کے مرتسم کچھ کہتا وہ عاجزانہ انداز میں ہاتھ اٹھا کر کہتا دھپ سے اسکے سامنے موجود کرسی پر بیٹھا۔۔۔
مرتسم نے آنکھیں چندھی کئے اسے دیکھا۔۔۔
اتنی لیٹ آئے ہو آفس پھر بھی کیا گھر سے ناشتہ نہیں ملا تمہیں۔۔۔ میں نے تو سنا تھا شادی کے بعد انسان کو اسکی سب چیزیں وقت پر ملنے لگتی ہیں۔۔۔ مرتسم تاسف سے کہتا رسیور اٹھا کر اس کے لئے ناشتہ منگوانے لگا۔۔۔
ہاں تو اپنی بہن کو سب سیکھا کر بھیجنا تھا نا۔۔۔
کیااااا۔۔۔ وہاج کا انداز اتنا بے ساختہ تھا کے وہ رسیور واپس رکھتا صدمے سے چیخ اٹھا۔۔۔
سوری۔۔۔ سوری۔۔۔ شاید میں کچھ غلط بول گیا۔۔۔ وہ سرعت سے سیز فائر کرتا تحمل سے بولا اور بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا آنکھیں میچ گیا۔۔۔
مسلہ کیا ہے۔۔۔۔ مرتسم الجھا۔۔۔
کوئی مسلہ نہیں ہے یار۔۔۔ بس تم ایک کرم نوازی کردو۔۔۔ وہ سیدھا ہوتا مرتسم کو التجائیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔۔
بس اپنی بہن کو بہتتتتت پیار سے یہ سمجھا دو کے وہ میرے لئے کچھ نا پکائے۔۔۔۔۔ وہ بہت پر زور دیتا عاجزی سے بولا۔۔۔ مرتسم کے چہرے پر ہنوز ناسمجھی کے تاثرات تھے۔۔۔ اور اگر کبھی کچھ بنانا بھی ہے تو پکا کر پہلے خود چیک کر لیا کرے۔۔۔۔ یار اب ایک بندہ آخر کتنی مروتیں نبھائے۔۔۔ کہیں تم صبح والا اسکے ہاتھ کا بنا پین کیک کھا لیتے نا تو۔۔۔ وہ بات درمیان میں ادھوری چھوڑتا سر نفی میں ہلانے لگا۔۔۔ مرتسم کو کچھ کچھ معاملہ سمجھ آنے لگا۔۔۔۔ شاید علایہ نے ککنگ میں کچھ گڑبڑ کر دی تھی۔۔۔
نہیں وہ اتنی بری ککنگ بھی نہیں کرتی۔۔۔ گھر میں کچھ نا کچھ ٹرائے کرتی رہتی تھی۔۔۔ وہ جھٹ سے بہن کی حمایت کو بولا۔۔۔۔
میں نے کب کہا یار کے وہ بری ککنگ کرتی ہے۔۔۔ صبح چائے اچھی بنی تھی ۔۔۔ مگر وہ میرے معدے پر تھوڑا رحم کرے۔۔۔ گھر میں کک موجود ہے جب ۔۔۔ پھر بھلا اسے خوار ہونے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ اپنی سٹڈی پر توجہ دے نا۔۔۔ کیوں مجھ بچارے پر تجربات کرنا چاہتی ہے وہ۔۔۔
دفعتاً ناشتہ آیا تو وہ سر جھٹکتا بھرپور ناشتے سے انصاف کرنے لگا۔۔۔۔
تو یہ بات تم خود اسے کیوں نہیں کہہ دیتے۔۔۔ مرتسم نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائی۔۔۔
کہی تھی۔۔۔ مگر وہ کہتی مجھے آپ کے لئے کھانا پکا کر خوشی ملتی ہے۔۔۔ لو گل ای مک گئ۔۔۔۔
اب اسکے جواب میں بندہ کیا بولے کجا کے مروت میں مر ہی جائے۔۔۔
مرتسم نے ہسی ضبط کی۔۔۔ اگر پین کیک اچھا نہیں بنا تھا تو کم از کم تمہیں اسے بتانا چاہیے تھا نا۔۔۔ تا کے وہ آئندہ سے محتاط رہتی۔۔۔
کیسے بتاتا۔۔۔ اسنے فوراً ناشتے سے ہاتھ کھینچتے مرتسم کو گھورا۔۔۔۔
صبح دو گھنٹے لگا کر اسنے ناشتہ تیار کیا۔۔۔ اوپر سے آنکھوں کی چمک اور چہرے پر ایسے تاثرات تھے کے بندہ چاہ کر بھی اس چمک کو مانند نا پڑنے دے۔۔۔ لے دے کر اپنی ہی قربانی دے دے۔۔۔ وہ جھنجھلایا۔۔۔
جبکہ مرتسم اسکے جھنجھلانے پر کھل کر مسکرا دیا۔۔۔
اب وہ تو کوشیش کر رہی ہے نا اسے کیا پتہ کے اسکی کوشیش الٹی جا رہی ہے۔۔۔
پتہ نہیں اسے کس الو کی دم نے مشورہ دے دیا شوہر کے دل میں معدے کے راستے سے اترنے کا۔۔۔ اور جو اسکا طریقہ کار ہے نا سیریس لی وہ معدے میں ہی کہیں اٹک جانے والی ہے۔۔۔ ناشتے کے بعد ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا وہ خود بھی ہس دیا۔۔۔
بہت بدتمیز ہو تم۔۔۔ مرتسم نے ہسی ضبط کرتے اسے دھپ رسید کی۔۔۔
یار یہ شادی کے بعد مروت بہت نبھانی پڑتی ہے۔۔۔ اس بندی سے شادی نا ہوئی ہوتی نا تو بات کچھ اور تھی۔۔۔ جھگڑے تو ہمارے پہلے بھی بہت ہوتے رہے ہیں اور بہت ڈھرلے سے لڑتے رہے ہیں ہم۔۔۔ ایک دوسرے سے نا ہارنے کی ٹھانتے ہوئے۔۔۔ مگر اب۔۔۔ وہ بولتے بولتے رکا۔۔۔
مگر اب کیا۔۔۔ مرتسم نے بھنور اچکائی۔۔۔
اب بندا جھگڑا کرنے سے پہلے بھی سو بار سوچے کے فائدہ بعد میں سو سو منتیں کر کے منانا بھی تو خود ہے۔۔۔ وہاج کے مسکرا کر کہنے پر مرتسم کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔
*****
ناشتے کے بعد کافی دیر تک علایہ آنٹی کیساتھ وقت گزار کر کسی کام سے کچن میں ائی تو کاونٹر شلف پر اسکا بنایا پین کیک ادھ کھایا پڑا تھا یہ غالباً وہ پین کیک تھا جو اسنے کچن ہیلپر کو دیا تھا۔۔۔ اسنے مسکرا کر اسے ایک سائئڈ سے تھوڑا سا توڑا۔۔۔ وہاج کی تعریف یاد آئی تو لب خودباخود مسکراہٹ میں ڈھل گئے۔۔۔
صبح اسنے اپنا بنایا پین کیک کھایا ہی نہیں تھا۔۔۔ اب پین کیک کا ٹکرا منہ میں رکھا تو ساتھ ہی چہرے کے تاثرات بدل گئے بے ساختہ اسے ابکائی آئی تو وہ کچن باسکٹ میں سب اگلتی بے ساختہ سنک میں جھکتی کلی کرنے لگی۔۔۔ کھانس کھانس کر آنکھوں میں پانی تک جمع ہو گیا۔۔
اتنا برا پین کیک۔۔۔ اسنے شاید بیکنگ پاوڈر کی جگہ بیکنگ سوڈا استعمال کیا تھا اور اسکی مقدار بھی شاید بڑھا دی تھی جسنے چینی کیساتھ مل کر عجیب کرواہٹ بھرا ذائقہ بنا دیا تھا۔۔ نیز وہ بیک بھی اچھے سے نا ہوا تھا۔۔۔ وہ وہیں سر تھام کر بیڑھ گئ۔۔۔۔اسے وہاج کا صبح کا ایک ایک تاثر یاد آیا۔۔۔
نہیں ۔۔ اچھا ہے۔۔ انفیکٹ بہت اچھا ہے۔۔۔
علایہ نے ضبط سے ہاتھ کی مٹھی ماتھے پر ماری۔۔۔ ناجانے کیوں جب بھی کوئی اچھا کام کرنے جاتی ہوں کچھ نا کچھ غلط کر دیتی ہوں۔۔۔
پتہ نہیں اور ناجانے مجھے اس شخص کا کتنا ضبط آزمانا مقصود ہے۔۔۔۔
وہ دلبرداشتہ تھی۔۔۔ دل اپنی حماقت پر عجب پریشان تھا۔۔۔ ندامت حد سے سوا تھی۔۔۔ مجھ کم از کم پین کیک چیک تو کرنا چاہیے تھا۔۔۔ ملال تھا کے ختم ہونے کا نام ہی نا لے رہا تھا۔۔۔
کتنا برا امپریشن پڑا ہوگا سب پر میرا۔۔۔
وہ کتنی ہی دیر تک آزردگی سے وہیں بیٹھی رہی جب مسز خانزادہ کسی کام سے اس طرف آئیں اور اسے یوں گم صم سا کچن میز پر بیٹھا پا اسکے پاس ہی آ گئیں۔۔۔۔
کیا ہوا علایہ۔۔۔ یہاں یوں کیوں بیٹھی ہو۔۔۔۔
علایہ نے پشیمان سا چہرا اٹھا کر انہیں دیکھا اور نفی میں سر ہلاتے چہرا پھر سے جھکا لیا۔۔۔
ہیے کیا ہوا علایہ۔۔۔۔ تم روئی ہو۔۔۔ ماں اسکا چہرا تھوڑی سے پکڑ کر اونچا کرتیں خود اسکے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھیں۔۔۔
انکا التفات بھرا رویہ دیکھ وہ پھر سے رو دی۔۔۔
آنٹی صبح کتنا برا پین کیک بنا۔۔۔ آپ میں سے کسی نے بھی مجھے بتایا تک نہیں۔۔۔ کیا سوچ رہے ہونگے سب لوگ میرے بارے میں۔۔۔ اگر آپ پہلے بتا دیتیں تو کم از کم میں وہاج کو ہی نا دیتی ۔۔۔ عجب پشیمانی اسکی پور پور میں سرائیت کرتی اسے بےچین کر رہی تھی۔۔۔
آپ نے اتنی محنت کی تھی علایہ کیسےہرٹ کرتی آپکو۔۔۔ آپ آئندہ سے کوشیش کرنا کے جو بھی بناو وہ پہلے خود ٹرائے کرو پھر سرو کرو۔۔۔ انہوں نے بہت نرمی سے اسے سمجھایا۔۔۔
وہ لب کچلتی آنسو پیتی رہی۔۔۔
اور وہاج نے بھی تو بھنک تک نہیں لگنے دی آنٹی۔۔۔ اور تو اور مجھے اس وقت کی سبکی سے بچانے کو میرا پین کیک اٹھاتے مجھے بھی نا کھانے دیا۔۔۔
وہ جھنجھلا رہی تھی۔۔۔ اپنی صبح والی نادانی اسے بہت مہنگی پڑ رہی تھی۔۔۔ اسکا اپنا دل ہی خود کو معاف کرنے کو تیار نا تھا۔۔۔
کیونکہ وہ تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا بیٹا۔۔۔۔ اسی سے تم اسکی محبت کا اندازہ لگا لو۔۔۔۔ اسے اندازا تھا نا تمہاری محنت کا اسی لئے۔۔۔۔ ماں مسکرا دیں۔۔۔
آنٹی پتہ نہیں انہوں نے ناشتہ کیا بھی ہو گا کے نہیں۔۔۔ علایہ کو ایک نئ پریشانی ستانے لگی۔۔۔ فون کر کے پوچھ لو۔۔۔ سمپل۔۔۔ ماں کے سادگی سے کہنے پر وہ انہیں بتا نا پائی کے اس پشیمانی کا کیا کرے جو اسے وہاج کا سامنے بھی کرنے نہیں دے رہی۔۔۔
آنٹی ایک کام کرتی ہوں انکے لئے اچھا سا لنچ تیار کرتی ہوں پھر۔۔۔
نونونو۔۔۔ علایہ ۔۔۔ پلیز نو۔۔۔ انکے بے ساختہ کہنے پر علایہ کی آنکھیں پھر سے بھر آئیں۔۔۔
میرا مطلب ہے بیٹا۔۔۔ ابھی تو نئ نئ شادی ہوئی ہے تمہاری۔۔۔ خود کو کچھ وقت دو۔۔۔ اپنے رشتے کو کچھ وقت دو۔۔۔ خود لنچ بنانے کی بجائے وہاج کے ساتھ لنچ پر باہر چلی جاو۔۔۔ کچھ وقت اکھٹے ایک دوسرے کے ساتھ گزار لو۔۔۔ مسز خانزادہ کے کہنے پر وہ گم صم رہ گئ۔۔۔ انہوں نے علایہ کی خاموشی شدت سے نوٹ کی۔۔۔
اچھا جیسے تمہارا دل چاہے علایہ۔۔ تمہارا اپنا گھر ہے۔۔۔ کوئی روک ٹوک تھوڑی نا ہے۔۔۔۔۔ لیکن وہاج کے لئے جو بھی بناو بیٹا پہلے خود چیک ضرور کر لینا۔۔۔ وہ اسے پیار سے سمجھاتیں اٹھ کر چلی گئیں۔۔۔ جبکہ اسنے بہت سوچ بچار کے بعد وہاج کو ٹیکسٹ واٹس ایپ کیا۔۔۔
ایم سوری۔۔۔۔
دوسری جانب اپنے کیبن میں بیٹھے وہاج نے سیکریٹری کو آج کی بریفینگ دیتے مصروف سے انداز میں میسج بپ پر میسج کھولا۔۔۔ میسج پڑھ کر وہ چونکا۔۔۔
For what....
سرعت سے ریپلائے دیتا وہ پھر سے مصروف ہو گیا۔۔۔
لمحے کی تاخیر کئے بنا ریپلائے موصول ہونے پر وہ میسج پڑھتی لب بھیچ گئ۔۔ وہ شخص ابھی بھی بھرم رکھ رہا تھا۔۔۔ کیسے نا وہ اسکی اثیر ہوتی۔۔۔
ناشتہ کیا آپ نے۔۔۔ ہمت مجتمع کرتے اسنے اگلا میسج ٹائپ کیا۔۔۔
ہمم۔۔۔ ہممم۔۔ اوکے۔۔۔ سیکریٹری کی بات سنتے وہاج کی توجہ بٹ چکی تھی۔۔۔
افکورس۔۔۔ انگلیوں کو جنبش دیتے اسنے اگلا میسج ٹائپ کیا۔۔۔
لنچ پر آئیں گے۔۔۔
ایکچولی نو۔۔۔ آج کا دن بہت مصروف ہے۔۔۔ دونوں میں گفتگو بہت فارمل اور رسمی سی ہو رہی تھی۔۔ علایہ کو سمجھ ہی نا آیا کے بات آگے کیسے بڑھائے۔۔۔ مزید کیا پوچھے۔۔۔ اسکی طرف سے کوئی اگلا میسج نا آنے پر دوسری طرف بھی مکمل خاموشی چھا گئ۔۔۔۔ وہ دل مسوس کر رہ گئ۔۔۔۔۔
******
مرتسم بھائی بیگم صاحبہ کافی دیر سے آپکا انتظار کر رہی ہیں۔۔ وہ کہہ رہی تھیں جیسے ہی آپ آئیں فوراً انکے پاس پہنچیں۔۔۔ مرتسم بابا کے ساتھ ابھی ابھی گھر میں داخل ہوا تو آتے ہی ہیلپر کے ہاتھوں پیغام سن کر اسنے بے ساختہ بابا کی جانب دیکھا۔۔۔
یا اللہ خیر۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑاتا بنا فریش ہوئے انکے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ ماں صوفے پر ہی بیٹھیں اسکی منتظر تھیں۔۔۔
وہ سلام کرتا اندر آیا ہی تھا جب ماں طیش سے اٹھتیں اسکی جانب بڑھیں ساتھ ہی کمرا چٹاخ کی آواز سے گھونج اٹھا۔۔۔
جہاں مرتسم چہرے پر ہاتھ رکھے انہیں گہرے صدمے سے دیکھنے لگا وہیں اسکے پیچھے ہی کمرے میں آتے بابا ساکت رہ گئے۔۔۔
جھوٹ بولتے رہے تم مجھ سے کے تمہیں اپنی ماں سے دنیا میں سب سے زیادہ محبت ہے۔۔۔ بکواس کرتے رہے تم۔۔۔ وہ اسے گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑتیں ہیجانی انداز میں چیخیں۔۔۔
بابا بے ساختہ آگے بڑھے جب مرتسم نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں وہیں روکا۔۔۔
اور ایسا آپکو کیوں لگا ماں۔۔۔ اسکے لہجے میں گہرا دکھ تھا ملال تھا۔۔۔
اگر اس بات میں صداقت ہوتی تو تم اپنے باپ کو رازدار بنانے کی بجائے ماں سے سب شئیر کرتے۔۔۔
دکھ اور تاسف سے ماں کی آنکھوں سے آنسو پھسل پھسل گرنے لگے۔۔۔
فاہا میری بہو ہے۔۔۔ اگر تم یہ بات مجھے پہلے بتا دیتے تو آج میں اس بچی کی گنہگار نا ہوتی۔۔۔ ماں کے انکشاف پر وہ جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔۔ اسنے چونک کر بابا کو دیکھا۔۔۔
یہ بات بھلا ماں کو کیسے پتہ لگی۔۔۔ بابا کے ناسمجھی سےشانے اچکانے پر وہ واپس ماں کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے کے وہ بچی مجھے کسی طور علایہ سے کم ہے۔۔۔ اتنی پیاری فرمابردار بچی جسنے اتنی کم عمری میں ماں کھو دی اور پھر باپ بھی وہ مجھے تم دونوں بہن بھائی سے زیادہ عزیز ہے مرتسم۔۔۔ لیکن دکھ تو یہ ہی ہے نا کے میں جانے انجانے میں سہی اسکی کتنی دل آزاری کرتی رہی۔۔۔ اسکا کس قدر ضبط آزماتی رہی۔۔۔ کیوں تم نے اپنی ماں کو اپنا شریک راز بنانے کی ضرورت محسوس نا کی۔۔۔
میرا دل ہولتا ہے مرتسم یہ سوچ کر کے اسکے سامنے میں تمہاری منگنی کی تمہاری شادی کی باتیں کرتی رہی۔۔۔ تیاریاں کرتی رہی۔۔۔ تمہیں پریہا سے منصوب کرتی رہی۔۔۔ کس ضبط کا مظاہرہ کرتی رہی وہ اس سارے عمل کے دوران۔۔۔ میں کیسے اسکی آنکھوں میں ہلکورے لیتے دکھ ور تکلیف کو دیکھ نا پائی جان نا پائی۔۔۔۔ ماں سر تھامتے وہیں صوفے پر بیٹھ گئں۔۔۔
ماں وہ دوزانوں انکے سامنے بیٹھا۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے مجھے کتنی شرمندگی ہوئی آج اسکی اتنی شکستہ حالت دیکھ کر۔۔۔ اسکے منہ سے حقیقت سن کر میں اس سے آنکھیں تک نا ملا پائی مرتسم۔۔۔
وہ بیمار ہے ۔۔ بخار سے پھنک رہی تھی اور میں دوبارہ اسکے سامنے جانے تک کی ہمت خود میں مفقود پا رہی ہوں۔۔۔ کیا جاتا تمہارا جو تم مجھے اتنی دلیلیں دینے کی بجائے سادگی سے یہ بتا دیتے کے تمہارا نکاح تمہارے چچا نے فاہا سے پڑھوایا ہے ۔ بات بڑھتی ہی نا۔۔۔ وہ تاسف زدہ سی بول رہی تھیں جبکہ مرتسم کو سینے پر ڈھرا بوجھ سرکتا محسوس ہوا۔۔۔
ایم سوری ماں لیکن دیر تو بھی نہیں ہوئی نا۔۔ آپ بلائیں اسے میں اسے ابھی ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا ہوں۔۔۔ ماں کو نرم پڑتے دیکھ وہ فوراً سے مدعے پر آیا
b
ماں آنسو صاف کرتیں سر ہاں میں ہلا گئیں۔۔۔ اور پھر ہمیں جلد از جلد تمہارا ولیمہ کر کے اسے اپنی بہو کے طور پر سب سے متعارف بھی کروانا ہے۔۔۔ وہ روتے ہوئے مسکرا دیں۔۔ مرتسم بھی مسکرا دیا۔۔۔ شکر تھا کے ماں نے ناراضگی ختم کر دی تھی۔۔۔
جاو جا کر فاہا کو لاو۔۔۔ اور دیکھو اگر اسکی زیادہ طبیعت خراب ہے تو بتاو ہم سب اسکے پاس چلتے ہیں۔۔۔ ماں نے ہیلپر کو بلا کر فاہا کو بلانے کا کہا تو وہ ٹکر ٹکر انکا چہرا دیکھنے لگی۔۔۔
بیگم صاحب وہ تو دوپہر میں ہی چلی گئ تھیں۔۔۔ اسکے حیرت سے کہنے پر کمرے میں موجود تینوں نفوس چونکے۔۔۔
کہاں چلی گئ ۔۔۔ ماں الجھ کر مستفسر ہوئیں۔۔۔
وہ تو جی ڈرائیور کے ساتھ حویلی جانے کا کہہ رہی تھیں۔۔۔۔
ملازمہ کے کہنے پر مرتسم کو اپنا دماغ چٹختا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ وہ مٹھیاں میچتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ماں سر تھام کر رہ گئ۔۔۔ وہ اتنی دلبرداشتہ تھی کے واپس حویلی جانے کا بول رہی تھی۔۔۔ اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے وہ کب نکل گئ۔۔۔
جاو مرتسم فوراً جاو میری بہو کو واپس لاو۔۔۔ ماں نے گہرا سانس خارج کرتے اسے حکم صادر کیا۔۔۔
ہرگز نہیں ماں۔۔۔ اسکا دو ٹوک انداز بھینچے جبڑے۔۔۔ اور ابھری نسیں اسکے اندرونی اشتعال کی غماز تھیں۔۔۔ میرے بارہا منع کرنے کے باوجود۔۔۔ بہت نرمی اور محبت سے سمجھانے کے باوجود اگر وہ اتنا بڑا قدم اٹھا کر گئ ہے تو انجام کی ذمہ دار مکمل طور پر وہ خود ہے۔۔۔ میں اسے ہرگز ہرگز لینے نہیں جاوں گا۔۔۔ اسکے لہجے میں چٹانوں سی سختی تھی۔۔۔ ایک عجیب سی ضد تھی۔۔۔ جیسے مان توٹا ہوا۔۔۔ماں کے ساتھ ساتھ بابا نے بھی اسے چونک کر دیکھا۔۔۔
فضول باتیں مت کرو مرتسم۔۔۔ جاو اور سے لے کر آو۔۔۔ ماں برہم ہوئیں۔۔۔
ہرگز ہرگز نہیں ماں۔۔۔ وہ شدت سے انکاری ہوا۔۔۔۔وہ بندی میرے خلوص میرے مان اور میری مخلص محبت کو قدموں تلے رول گئ۔۔۔ وہ میری غیرت اور مردانہ انا پر قاری وار کر کے گئ ہے ماں۔۔۔ وہ اشتعال سے چٹخا۔۔۔ کنپتی کی رگ تک پھڑپھڑانے لگی۔۔۔۔وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر کے گئ ہے کے اسے مجھ پر بھروسہ نہیں۔۔۔ میں نے بولا تھا اسے کے سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔ ماں مان جائیں گی مگر نہیں۔۔۔ اسے میری کسی بات پر اعتبار نہیں تھا۔۔۔ اور جہاں اعتبار نا ہو وہاں رشتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔ وہ گہرے اشتعال کو دابتا ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتا اپنی بات کہہ کر بنا ماں کی سنے لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ ماں حق دق سی اسے دیکھتیں رہ گئ۔۔۔
******

No comments