Roshan Sitara novel 99th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 99th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
99th epi...
فاہا گرتی پرتی کس طرح سے کچن میں آئی تھی یہ وہی جانتی تھی یا اسکا خدا۔۔۔۔ دودھ کا گلاس واپس کاوئنٹر شلف پر رکھتے وہ وہیں کیبنٹ کے ساتھ زمیں پر بیٹھ گئ۔۔۔ ٹانگیں جسم کا بوجھ سہارنے سے انکاری ہو گئ تھیں۔۔۔ جسم پر کپکپی طاری تھی وہ کپکپاتی ٹانگوں کے گرد بازوں کا حصار قائم کرتی گھٹنے سینے سے لگا گی۔۔۔
دل کی دنیا اتھل پتھل تھی۔۔۔ تائی جان نے کتنی بڑی بات بول دی تھی۔۔۔ وہ حواس باختہ دکھائی دیتی تھی۔۔۔ آنکھیں خشک تھیں البتہ ہر آنسو سینے پر گر رہا تھا۔۔۔
کتنی ہی دیر تک سوچوں اور مستقبل کے آکٹوپس اسے جھکڑے رہے۔۔۔ بلآخر جسم کی کپکپی پر قابو پاتی وہ ایک فیصلے پر پہنچ کر اٹھی۔۔۔ وہ فیصلہ کر چکی تھی آگرچہ فیصلہ تکلیف دہ تھا مگر ضروری تھا۔۔۔
اب اسکا رخ مرتسم کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔ اسکا کمرے کی جانب اٹھتا ہر قدم من من بھاری تھا۔۔۔ اس کمرے اور اسکے مکین سے اسے کس قدر جذباتی وابستگی تھی انکے حوالے سے اسنے کیا کیا خواب سجائے تھے وہ آج سب اپنے ہاتھوں سے ہی نوچنے جا رہی تھی۔۔
وہ دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی تو مرتسم کو صوفے پر سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھے پایا۔۔۔
آواز پر اسنے مختلف سوچوں کا غماز چہرا اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ میں رو کر آپ سے کوئی دلاسہ لینے نہیں آئی سو پلیز ریلیکس۔۔۔ وہ مرتسم کو کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتا دیکھ گیلی سانس اندر کھینچتی بے ساختہ اسے ٹوک گئ۔۔۔
اسکی آواز بیٹھی ہوئی تھی اور تاثرات نافہم۔۔۔ مرتسم ٹھٹھکا۔۔۔۔
پھر کیا مجھے دلاسہ دینے آئی ہو۔۔۔ وہ ڈھیلا پڑا۔۔۔ جو آج کل کی صورتحال تھی اسنے سبھی کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔۔۔ ایسے میں ماں کے مطالبے کا بابا کو پتہ چلتا تو ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا اس لئے وہ اس بات کو دبا کر ماں کو پیار سے ہینڈل کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
ہاں ۔۔ یہ ہی سمجھ لیں۔۔۔ اسکی آواز میں نمی کی آمیزش گھلی۔۔۔۔
ہاں تو سمجھا دو۔۔۔ وہ ڈھیلے سے انداز میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔ جانچتی پرسوچ نگاہیں اسی پر ٹکیں تھیں جیسے جانچنا چاہتا ہو کے آخر اسکے اندر چل کیا رہا ہے۔۔۔
آپ تائی جان کی بات مان لیں ۔۔۔۔ اسنے دل پر پتھر رکھتے گویا اسے کچلا۔۔۔ اذیت کی شدت سے لب تک کپکپا اٹھے۔۔۔
کونسی بات۔۔۔ مرتسم کے ماتھے پر شکنوں کا جھال بچھا۔۔۔ وہ ٹیک چھوڑتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
مجھ سے لاتعلقی اختیار کرنے والی بات۔۔۔ چھ۔۔۔ چھوڑ دیں مجھے۔۔۔ اسنے دونوں ہاتھوں سے قمیض اپنی مٹھیوں میں جھکڑی۔۔۔
کیا تم سے میں نے مشورہ مانگا کے تم اپنے نادر خیالات سے مجھے مستفید کرو۔۔۔ یکدم اسکا لہجہ خشک اور سرد ہو اٹھا۔۔۔۔
فاہا کی آنکھیں سرعت سے بھر آئیں۔۔۔
سارے فساد کی جڑ میں ہی ہوں نا۔۔۔ میرے باعث ہی ہستا بستا گھر اس وقت شدید ہیجان کا شکار ہے۔۔۔ تائی جان آپ سے بات تک نہیں کر رہیں۔۔۔ تو میں ہی واپس حویلی چلی جاوں گی۔۔۔ آپ انکی بات مان لیں ۔۔۔ پھر سب ٹھیک۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
اسنے کپکپاتے ہاتھ کی مٹھی سے باوجود ضبط کےبے ساختہ بہہ جانے والے آنسو صاف کئے۔۔۔ مرتسم نے غور سے اسے دیکھا وہ ناجانے کتنے ضبط سے کھڑی تھی۔۔۔۔
مرتسم اپنی جگہ سے اٹھتا قدم قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔ فکر مت کرو فاہا۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ وہ اس سے دو قدم کے فاصلے پر رکا اور انگوٹھے کی مدد سے اسکی آنکھ سے ٹپکتا آنسو صاف کیا۔۔۔آواز میں پہلے والا سرد پن مفقود تھا۔۔۔
وہ کرب سے آنکھیں میچ گئ۔۔۔
یہ محض دلاسے ہیں مرتسم۔۔ تائی جان بہت سخت ناراض ہیں۔۔۔ اسنے نم یاسیت زدہ سرخی چھلکاتی نشیلی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ ان آنکھوں میں کیا کیا نا تھا۔۔۔ بے بسی ۔۔۔ کرب۔۔۔ ملال۔۔۔ نارسائی کا غم
اور زندگی کی بعض فیزز میں ہمیں محض دلاسے ہی درکار ہوتے ہیں فاہا۔۔۔ وہ انہی نین کٹوروں کے گہرے سمندر میں کھونا چاہتا ہو۔۔۔
نکاح کے دو بولوں کے بعد ایک پاکیزہ بندھن میں بندھ کر دو اجنبی لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے سانجھی بن جاتے ہیں۔۔۔ پھر زندگی کے یہ نشیب و فراز مشکلات اور کٹھنائیاں انکے رشتے کی مضبوطی پر اثرانداز نہیں ہوپاتے۔۔۔ اس لئے اس گھر کو اور مجھے چھوڑ کر واپس حویلی جانے کا خیال دماغ سے نکال دو۔۔۔۔ جب پوری زندگی ساتھ نبھانے کا فیصلہ کیا جائے تو یوں بیچ مسافت راستے نہیں بدلے جاتے نا ہی ساتھ چھوڑے جاتے ہیں۔۔۔ پھر تو ساتھ نبھایا جاتا ہے پھر چاہے راستہ کتنا ہی کھٹن اور خاردار کیوں نا ہو۔۔۔
تم تو ابھی سے گھبرا گئ یار۔۔۔۔ وہ اسکی کومل گال پر اپنا مضبوط مردانہ ہاتھ رکھے انگوٹھے سے اسکی گال نرمی سے سہلاتا پر تاثیر نرم لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔ وہ ہونٹ کچلتی آنسو ضبط کئے ساکت سی کھڑی رہی۔۔۔۔
کچھ وقت دو مجھے فاہا۔۔۔ انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے۔۔۔ اللہ پر بھروسہ رکھو۔۔۔ بہت جلد ماں خود تمہیں اس گھر کی بہو کے روپ میں قبول کریں گی۔۔۔ اسکا لہجہ آس بندھاتا تھا۔۔۔
چلو شاباش فضول سوچیں مت سوچو۔۔۔ اور اپنے سی ایس ایس کے ایگزام کی تیاری کرو۔۔۔
زندگی میں اور بہت سے مسلے ہیں سوچنے کو۔۔۔ فلحال بس اپنے بابا کے خواب کو پورا کرنے کے بارے میں سوچو۔۔۔ اور کہیں مدد کی ضرورت درکار ہو تو بلاجھجھک میرے پاس آنا۔۔۔ جاو شاباش۔۔۔۔ مقابلہ سخت ہے اور وقت بہت کم۔۔۔ اس لئے فلحال اپنا سارا فوکس کسی اور چیز کی بجائے اسی انٹریس کو کریک کرنے پر لگاو۔۔۔
مرتسم نے بہت تحمل اور نرمی سے اسے سمجھاتے اس واقعہ کے نقش اسکے دماغ سے مٹانے چاہے۔۔۔۔ وہ دکھی دل کے ساتھ سر ہاں میں ہلاتی کمرے سے نکل آئی۔۔۔
*****
صبح وہاج کی آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں اکیلا تھا علایہ کہیں نہیں تھی۔۔۔ وہ کسلمندی سے سیدھا ہوتا بیڈ کراون سے ٹیک لگا گیا۔۔ وہ شروع سے ہی صبح خیز تھا۔۔۔ بہت کم اسکی فجر قضا ہوتی۔۔۔ اسنے آنکھیں میچتے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور فریش ہونے چل دیا۔۔۔ لیکن اسکی حیرت کی انتہا نا رہی اسکے اٹھنے سے پہلے ہی اسکی ہر چیز تیار اپنی جگہ پر موجود تھی۔۔۔ ناٹ بیڈ۔۔۔۔ ایک مسکراہٹ اسکے لبوں پر ابھری۔۔۔ یہ بندی صحیح اسکی عادتیں بگاڑنے آئی تھی۔۔۔
فریش ہو کر علایہ کا منتخب کیا بلیک پینٹ کوٹ ذیب تن کئے وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آیا تو ہر چیز سلیقے سے رکھے ہونے کے ساتھ ساتھ اسکا والٹ اور گاڑی کی چابی بھی وہیں موجود تھی۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا والٹ جیب میں رکھتا گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر آگیا۔۔
ماں بابا اور علایہ ڈائینیگ ٹیبل پر ہی موجود تھے اسنے اجتماعی سلام کرتے اپنی کرسی گھسیٹی۔۔۔
اسکے بیٹھتے ہی علایہ نے سرعت سے اسے ناشتہ سرو کیا۔۔۔
وہ متاثر ہوئے بنا نا رہا۔۔۔ پین کیک اور چائے ناشتے میں دیکھ وہ مطمئں ہوتے ناشتہ کرنے لگا اور پین کیک کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہی اسکے چہرے کے تاثرات نافہم تاثرات میں بدلے ۔۔۔ علایہ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات پر چونکی۔۔۔
یہ کس نے بنایا ہے۔۔۔ وہ تیز لہجے میں ماں سے مستفسر ہوا۔۔۔ ماں نے جواب میں اسے گھورتے آنکھوں ہی آنکھوں میں خاموشی اختیار کرنے کا اشارہ کیا۔۔۔
میں نے۔۔۔ دفعتاً علایہ کی باریک سی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔
اوہ۔۔۔
وہ چونک کر اسے دیکھتا خفیف سا ہوا۔۔۔
آپکو اچھا نہیں لگا۔۔۔ اسکے چہرے پر یکدم ہی مایوسی اور یاسیت کے گہرے بادل چھانے لگے۔۔
وہاج کا دل چاہا کے بنا لحاظ و مروت رکھے بول دے نہیں۔۔۔۔ لیکن ناجانے کیوں وہ اس چہرے پر مایوسی اور یاسیت دیکھ نہیں پایا۔۔۔ جگر جگر کرتی آس و نراس میں ڈولتی آنکھوں کی جوت بجھانے کا وہ خود میں حوصلہ مفقود پاتا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ اچھا ہے۔۔۔ انفیکٹ بہت اچھا ہے۔۔۔ اسنے بامشکل منہ میں موجود پین کیک نگلتے چائے کا کپ منہ کو لگایا صد شکر کے چائے اچھی تھی۔۔۔
اسنے اب غور کیا ماں اور بابا کے سامنے بھی یونہی ادھ کھائے پین کیک پڑے تھے۔۔۔ وہ دونوں بھی مروت میں مارے جا رہے تھے۔۔۔
جبکہ علایہ کے سامنے پڑا پین کیک ہنوز ویسا ہی تھا۔۔۔
وہاج کی تعریف پر اسکا چہرا گویا کھل اٹھا۔۔۔
تم نے کھایا۔۔۔ وہاج مسکرا کر اس سے مستفسر ہوا۔۔۔
نہیں کھانے والی تھی۔۔۔ علایہ کو وہاج کا یہ کئرینگ انداز بھی بہت بھایا اس نے پین کیک کی جانب ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب وہ بول اٹھا۔۔
اس کے علاوہ اور ہیں۔۔۔ نہیں بس اتنے ہی بنائے تھے۔۔۔ وہ ہاتھ روکے اسے دیکھنے لگی جس نے دوبارہ مروت میں بھی پین کیک کی جانب ہاتھ نہیں بڑھایا تھا اسکے برعکس وہ چائے کی چھوٹی چھوٹی چسکیاں لیتا محو گفتگو تھا۔۔۔
یار یہ تمہیں اتنی جلدی کام پر کس نے لگا دیا۔۔۔
Maa this is not fair...
نئ نویلی دلہن سے کام کون کرواتا ہے بھلا۔۔۔۔ مجھے بالکل پسند نہیں کے آپ میری بیوی سے کام کروائیں۔۔۔ وہ آئندہ کے لئے ایسی کسی بھی صورتحال سے بچنے کی خاطر بہت مہذب انداز میں منع کر رہا تھا۔۔۔
نہیں آنٹی نے نہیں کہا تھا میں خود آپکے لئے ناشتہ بنانا چاہتی تھی۔۔۔
اس وقت اسکےمصومیت سے جواب دینے پر وہاج کتنی مشکل سے مسکرا پایا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔۔ جانے کیوں اس وقت اسے یہ مصومیت بھی اچھی نہیں لگی۔۔۔ حد تھی مطلب۔۔۔ کم از کم بندہ اپنا شاہکار بنا کر چھک تو لے۔۔۔ خوامخواہ ہی دوسروں کو امتحان میں ڈالنا۔۔۔
پلیز آئندہ سے مت بنانا۔۔۔ وہاج کے بے ساختہ کہنے پر یکدم اسکا رنگ پھیکا پڑا۔۔۔
میرا مطلب ہے میری بیوی کچن میں یوں کام کرے مجھے ہرگز پسند نہیں۔۔۔
ویل یہ تو بہت مزے کا بنا ہے ایک کام کرو تم یہ بھی مجھے دے دو۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا بھرم قائم رکھنے کو اسکے آگے سے بھی ایپل پایا اٹھا گیا۔۔۔
شیور۔۔۔ وہ برا منائے بغیر مسکرا دی۔۔۔
تم پلیز یہ چائے گرم کر لاو دوبارہ سے۔۔۔ ٹھنڈی ہو گئ ہے۔۔۔ اسنے اپنا گرم چائے کا کپ اٹھا کر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔ علانیہ نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔۔ میں فل گرم چائے پیتا ہوں۔۔ اسکی الجھن دیکھ وہ صفائی دیتا گویا ہوا۔۔۔۔
اوہ۔۔ میں نئ چائے بنا لاتی ہوں۔۔۔ وہ کپ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
پلیز۔۔۔ وہ دانت پیستا مسکرا دیا۔۔۔
اسکے وہاں سے جاتے ہی اسنے تیزی سے ساری پلیٹوں سے پین کیک اکٹھے کرتے سائیڈ پر پڑی باسکٹ میں پھینکے اور ہاتھ جھاڑتا گہری سانس خارج کرتا اپنی کرسی پر دھپ سے بیٹھا۔۔۔
ماں یہ سب کیا تھا یار۔۔۔ کہاں پھسا دیا آپ نے مجھے۔۔۔۔میں ایسے کیسے کاٹوں گا پوری زندگی۔۔۔ ماں کو دیکھتا وہ روہانسا ہو اٹھا۔۔۔۔
جبکہ ماں کے قہقہ لگانے پر بابا بھی مسکرا دئیے۔۔۔
ہیرا ملا ہے تمہیں ہیرا۔۔۔ بیٹا جی۔۔۔ شکر ادا کرو اللہ کا جس نے اتنی پیاری بیوی سے نوازا تمہیں۔۔۔ ماں کے کہنے پر وہ بے بسی سے آسمان کی جانب دیکھتا سر نفی میں ہلا گیا جیسے کہہ رہا ہو کیا بات ہے۔۔۔
بابا کھل کر مسکرا دئیے۔۔۔ بیٹے اسکی کوشیش کو مقدم جانو۔۔۔ تمہارے لئے وہ وقت اور محنت لگا کر کوشیش کر رہی ہے ایک دن سیکھ بھی جائے گی۔۔۔ بہت اچھا کیا جو تم نے اسکا مان برقرار رکھا اسکا دل نا توڑتے اسکی محنت اکارت نا جانے دی۔۔۔ اس کوشیش میں۔۔۔ بابا پلیز اسے کہے مت کرے کوشیش۔۔۔ وہ بے ساختہ انکی بات کاٹ گیا۔۔۔
وہ محض تمہارے لئے میرے منع کرنے کے باوجود مجھ سے تمہاری فیورٹ ڈش پوچھ کر پچھلے دو گھنٹوں سے کچن میں لگی رہی۔۔۔ کیا ہو گیا جو انیس بیس کا فرق پڑ گیا تو۔۔۔ ماں نے چائے کا کپ میز پر رکھا۔۔۔ انیس بیس نہیں ماں۔۔۔ اٹھارہ بائیس بولیں۔۔۔ اسکے انداز پر ماں نے بے ساختہ اپنی ہسی دبائی۔۔
جبکہ سامنے سے چائے لاتی علایہ کو دیکھ وہ یکدم خاموش ہوتا یکسر موضوع بدل گیا۔۔۔ بابا کو بیٹے کی عادت پسند آئی۔۔۔ چاہیے جو بھی تھا وہ دل رکھنے کے فن سے آگاہ تھا۔۔۔
******
یہ بے تحاشہ سوچوں کا ہی اعجاز تھا کہ شام تک وہ بری طرح بخار میں پھنکنے لگی۔۔۔ مرتسم کی سبھی باتیں درست مگر درپیش حالات کے مدنظر اسکی کوئی بھی بات فاہا کے دل تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہی۔۔۔ اور کرتی بھی کیسے راستے میں تو اندیشوں فکروں اور پریشانیوں کا گھنا جھال تھا۔۔۔ تائی جان کے رویے انکی بڑھتی ناراضگی اور گھر کے مزید کشیدہ ہوتے حالات اسے کچھ سمجھنے دے ہی نا رہے تھے۔۔۔ دل سو طرح کے وسوسوں میں گھرا تھا۔۔۔ اور اب صورتحال یہ تھی کے شدید بخار کی لپیٹ میں وہ اٹھنے سے بھی قاصر تھی۔۔۔ ٹھند کی شدت سے بے حال وہ لحاف کندھوں تک اوڑھے اسے سختی سے مٹھیوں میں دبوچے ہوئے تھی۔۔۔
دوسری طرف تائی جان جو دوپہر سے اسکی منتظر تھیں انکا انتظار انتظار ہی رہنے لگا تو وہ بستر سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ فاہا کی غیر موجودگی انہیں پریشانی میں مبتلا کر رہی تھی۔۔۔ وہ تو ہر دس منٹ بعد انکے پاس چکر لگا لیتی ۔۔۔ جتنی اسنے ان دنوں انکی خدمت کی تھی پیاری تو وہ پہلے بھی تھی مگر اب تو مزید دل کے قریب ہو گئی تھی۔۔۔ ایسے میں کیسے وہ اسکی غیر موجودگی محسوس نا کرتیں۔۔۔ وہ تو پھر دوپہر میں انکے لئے دودھ کا گلاس لینے گئ تھی۔۔ اور اتنی غیر ذمہ دار تو وہ کبھی بھی نا تھی کے انکے کسی کام کی غرض سے جاتی تو واپس ہی نا آتی۔۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتیں کمرے سے نکلیں۔ملاازمہ سے پوچھنے پر پتہ چلا کے فاہا دوپہر سے اپنے کمرے میں ہے تو وہ تشویش زدہ سی اسکے کمرے کی جانب چل دیں۔۔۔
فاہا۔۔۔ فاہا بچے۔۔۔ انہوں نے دھیرے سے اسکے کمرے کا دروازہ دھکیلا تو گھپ اندھیرے نے انکا استقبال کیا۔۔۔
اتنا اندھیرا کیوں کر رکھا ہے فاہا۔۔۔ انہوں نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارتے سارے بٹن گرا ڈالے۔۔۔ یکدم سارا کمرا روشنیوں میں نہا گیا۔۔۔
نیم غنودگی میں موجود فاہا انکی آواز سن کر کرب سے آنکھیں میچ گئ۔۔۔
مائے گاڈ فاہا۔۔ کیا ہوا تمہاری طبیعت کو۔۔۔ تمہیں تو بہت تیز بخار ہے بیٹا۔۔۔ تائی جان نے اسکے سرہانے آ کر اسکے چہرے سے لحاف اتارا تو بخار کی حدت سے سرخ پڑتا چہرا اور سرخ سوجھی آنکھیں دیکھ وہ تڑپ اٹھیں۔۔۔
بیٹا مجھے بتایا تو ہوتا۔۔۔ کھانا کھایا آپ نے۔۔ میڈیسن لی۔۔ وہ اسکے پاس ہی بستر پر تکتیں محبت سے اسکے بال سنوارنے لگی تو وہ ضبط کے سبھی بندھن توڑتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
تائی جان اسکے یوں ٹوٹ کر رونے پر گھبر اٹھیں۔۔۔ ہوا کیا ہے فاہا۔۔۔ کیا کسی نے کچھ کہا ہے۔۔۔ بتاو مجھے۔۔۔
مجھے معاف کردیں تائی جان۔۔۔ خدا کے لئے مجھے معاف کردیں۔۔۔
وہ نیم دراز ہوتی اپنے کپکپاتے ہاتھ انکے سامنے جوڑ گئ۔۔۔ تائی جان نے حیرت و انبساط اور ناسمجھی سے اسکے کپکپاتے ہاتھ تھامے۔۔۔
آپ کی دل آزاری یا آپکو دکھ دینا ہرگز مقصود نا تھا۔۔۔ لاعلمی میں ہی سہی لیکن میں آپکی گنہگار ہوں خدارا مجھے معاف کردیں۔۔۔ ورنہ یہ دکھ میری جان لے لے گا۔۔۔ قطرہ قطرہ زہر بن کر مجھ میں سرائیت کرتا مجھے نیل و نیل کر دے گا۔۔۔۔ میرا دل پھٹ جائے گا۔ وہ ہچکیاں لیتی رو رہی تھی۔۔۔ اذیت اور کرب اسکے لفظوں سے چھلک رہا تھا
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی فاہا تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ اسکی اتنی شکستہ حالت دیکھ انکا دل دہلنے لگا۔۔۔
تایا جان کا کوئی قصور نہیں انہوں نے ہمیں بچانے کے لئے جھوٹ بولا۔۔۔ مرتسم کا نکاح انہوں نے نہیں کروایا بلکہ وہ تو اس نکاح میں شریک تک نا تھے۔۔۔ وہ بھی اس نکاح سے اتنے ہی لاعلم تھے جتنی کے آپ۔۔۔ فاہا کی نافہم باتوں پر وہ ٹھٹھکیں۔۔۔ بھلا یہاں مرتسم کے نکاح کا کیا ذکر۔۔۔
بابا کی ڈیٹھ والے روز انکے پرزور اثرار پر ایک مرتے ہوئے شخص کی آخری خواہش جان کر بابا کی سرپرستی میں مرتسم نے مجھے اپنے نکاح میں لیا تھا۔۔۔
وہ انکے سامنے ہاتھ جورے سسکتی ہوئی انہیں حقیقت سے آگاہ کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ انکشاف ایسا تھا کے تائی جان گویا وہیں پتھر ہو گئیں۔۔۔ انہیں لگا جیسے کسی نے بہت رفتہ رفتہ انکے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔۔۔وہ صورتحال ہی ایسی تھی تائی جان ورنہ ایسا کبھی نا ہوتا۔۔۔ مرتسم آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں کے آپکو ہرٹ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔
خدا کے لئے آپ انہیں معاف کردیں۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔
میں یہاں سے چلی جاوں گی۔۔۔ آپ سب کی زندگیوں میں طوفان میری وجہ سے آیا ہے نا میں اتنی ہی خاموشی سے یہاں سے نکل جاوں گی جیسے یہاں آئی تھی۔۔۔ یوں جیسے کبھی کوئی فاہا آپکی زندگیوں میں تھی ہی نہیں۔۔۔ روتے ہوئے وہ مزید نڈھال ہونے لگی تھی جبکہ تائی جان گم صم اور ساکت سی کسی روبورٹ کی مانند اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ انکے کان ابھی تک سائیں سائیں کر رہے تھے جبکہ وہ جس طرح سے کمرے میں آئی تھیں اسی خاموشی سے کمرے سے نکل گئیں۔۔۔ جبکہ پیچھے فاہا مزید شدت سے رو دی۔۔۔
*****

No comments