Header Ads

Roshan Sitara novel 98th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  98th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

98th epi....
وہاج کو گھر لوٹتے لوٹتے کافی دیر ہوگئ تھی۔۔۔ ممی سے اسے پہلے ہی صلواتیں سننے کو مل چکی تھیں۔۔۔ وہ ابھی اسکا شادی والی رات گھر دیر سے لوٹنے والا واقعہ ہی نا بھولی تھیں اس لئے وقتاً فوقتاً اس پر بھراس نکالتی رہتیں تھیں۔۔۔۔ 
اب بھی وہ گاڑی کار پورچ میں کھڑی کئے بعجلت اندر کی جانب بڑھا اور ٹھٹھکا۔۔۔ لاوئنج میں ہی سب کی محفل جمی ہوئی تھی۔۔۔۔ شادی کے بعد سبھی مہمان جا چکے تھے سوائے پھوپھو کی فیملی کے جو کے لندن سے بالخصوص اتنے شارٹ نوٹس پر اسکی شادی میں شمولیت کے لئے آئے تھے انکے دو ہی بچے تھے  حرا اور دانیال۔۔۔ اس وقت وہ سبھی لاوئنج میں بیٹھے تھے۔۔۔ وہ ان سب کو اجتماعی سلام کرتا کچھ پل وہاں ٹھہر کر کمرے میں آگیا۔۔۔ حرا تو اس سے باتیں کرتی اس کے ساتھ ہی کمرے کی جانب بڑھی جبکہ ان سب کی بدولت آج ماں سے اسکی بچت ہوگئ تھی ورنہ آج ایک کلاس پکی تھی۔۔۔
بائے دا وے وہاج تمہاری مسز بہت پیاری ہے۔۔۔ حرا اس سے بات کرتی ہی اسکے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی اور ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ ٹکتی سینے پر ہاتھ باندھ گئ۔۔۔
تھینکیو۔۔۔ وہاج نے سر خم کرتے وارڈروب کھول کر اندر سے اپنے کپڑے نکالے۔۔۔ حرا اور دانیال سے اسکی بچپن سے ہی بہت انڈرسٹینڈنگ تھی۔۔ پاکستان سے جانے کے بعد وہ انکے ساتھ ایک لمبا عرصہ گزار کر آیا تھا یہ ہی وجہ تھی کے اتنے شارٹ نوٹس پر بھی وہ لوگ اسکی شادی میں شمولیت کے لئے آئے تھے۔۔۔ وہ تینوں جب ملتے تھے تو اپنی شرارتوں سے ہر کسی کو ناک تک عاجز کر دیتے تھے۔۔۔ پاکستان واپس آ کر پھر سے فائز کی دوستی کے باعث وہاج کی شخصیت میں بہت ٹھہراو آیا تھا جبکہ حرا اور دانیال ہنوز ویسے ہی تھے۔۔۔
ایک پرینک ہوجائے اسکے ساتھ۔۔۔
پناہ خدا کی لڑکی۔۔۔ حرا کی شرارتی آواز پر وہ جھٹکے سے واش روم کی جانب جاتا جاتا پلٹا۔۔۔۔
وہ کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔۔ کوئی نہیں پارٹنر چیک ہو جائے گا کے وہ تم سے کتنی محبت کرتی ہے۔۔۔۔ اسکی چمکتی آنکھیں شرارت سے لبریز تھیں۔۔۔
یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ حرا۔۔۔ وہ معصوم ہے اسے بخش دو۔۔۔ پلیز۔۔۔ ویسے بھی اسکی کھوپڑی تھوڑی الٹی ہے چیزوں کا غلط مطلب لے جائے گی وہ۔۔۔ وہ عاجز آتا حقیقتاً اس کے سامنے ہاتھ جوڑ گیا۔۔۔  اتنی مشکل سے تو اسے ایک احساس کمتری سے نکال پایا تھا اس بندی کے پرینک نے یقیناً کوئی کام خراب ہی کرنا تھا۔۔۔ اسے پہلے ہی علایہ جیسی جنگلی بلی کی اتنی تابعداری ہضم نہیں ہو رہی تھی اوپر سے حرا اور دانیال کے شیطانی دماغ۔۔۔ وہ جھرجھری لے کر رہ گیا۔۔۔
حرا تاسف سے سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔ دفعتاً اپنے دھیاں علایہ اندر داخل ہوئی اور ان دونوں کو دیکھ ٹھٹھکی۔۔۔
اوکے سی یو۔۔۔ ابھی تو جا رہی ہوں لیکن کل شام میں واپس آوں گی مسٹ۔۔۔ ابھی ایک دو دن ہیں ہماری فلائٹ میں۔۔۔۔ وہ شرارتی نگاہوں سے وہاج کو دیکھتی بہت کچھ باور کروا کر جاتی جاتی آنکھ مارتی باہر نکل گئ۔۔ جبکہ وہاج مسکراہٹ دابتا سر جھٹک گیا۔۔۔ 
 کھانا لاوں آپکے لئے۔۔۔ حرا کے کمرے سے نکلتے ہی وہ لب کترتی اسکے سامنے آئی۔۔۔ 
امممم نہیں۔۔۔ دراصل کھانا میں کھا چکا ہوں۔۔۔ وہ واش روم کی جانب پلٹا جب جاتا جاتا ٹھٹھک کر رکا ور جھٹکے سے واپس پلٹا۔۔۔
ویٹ۔۔۔ وہ جو مضحمل سی واپس جا رہی تھی آواز پر رکی اور سوالیہ نگاہوں سے وہاج کو تکا۔۔۔
وہ آنکھیں چندہی کئے جانچتی نگاہوں سے اسے  ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ تم نے کھانا کھایا۔۔۔۔  انداز بھی جانچتا تھا۔۔۔
وہہہہ۔۔۔ وہ دراصل میں آپکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ وہ منمنائی۔۔۔۔ 
اوہ گاڈ علایہ۔۔۔ وقت دیکھو یار۔۔۔ اگر میں لیٹ ہو جاوں تو کھانا کھا لیا کرو۔۔۔ اچھا چلو بات چھوڑو کھانا لاو تب تک میں فریش ہو لوں۔۔۔ وہ بات سمیٹتا واش روم میں گھس گیا۔۔۔ جبکہ وہ بھی سر ہاں میں ہلاتی کمرے سے نکل گئ۔۔
*****
پورے چوبیس گھنٹوں بعد مرتسم پھر سے ماں کے روبرو تھا۔۔۔ وہ ویسے ہی اسے ہنوز نظر انداز کئے نیم دراز تھیں جبکہ وہ انکا نحیف ہاتھ تھامے ہوئے تھا۔۔۔ بابا اور اس سے ماں کی ہنوز بول چال بند تھی محض فاہا ہی تھی جن سے وہ کلام کر رہی تھیں یا جسے انہوں نے اپنے کام کاج کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔۔۔
بیوٹیفل لیڈی ایسا کیا کروں جس سے آپکی ناراضگی دور ہو جائے۔۔۔ 
اب خوبصورت بندیوں کو یہ سوٹ تھوڑی نا کرتا ہے کے وہ  معصوم لوگوں سے اتنی دیر تک ناراض رہیں۔۔۔ وہ بہت صلح جو انداز میں انکا ہاتھ سہلاتا بول رہا تھا۔۔۔ جبکہ دوسری جانب ہنوز نظر اندازی تھی۔۔۔
ماں۔۔۔ زندگی میں پہلی بار ناراض ہوئی ہیں آپ اور اتنی سخت کے ماننے کا کوئی طریقہ بھی نہیں بتا رہیں۔۔۔بتائیں نا پھر کیا کروں ایسا جس سے آپکی ناراضگی جاتی رہے۔۔۔۔۔ اسکے لہجے میں یاسیت گھلنے  لگی۔۔۔ زندگی میں جب جب کسی بات کی سمجھ نا آئی یا جب کچھ کرنے کا طریقہ نہیں پتا تھا تو پوچھنے اور سیکھنے آپکے پاس ہی آیا ہوں نا۔۔۔ تو اب بھی یہیں آوں گا نا۔۔۔  آپکی ناراضگی کا سوچتے ساری رات سویا نہیں میں۔۔۔۔ صبح سے ناشتہ تک نہیں کیا۔۔۔ آپ نے بولا تک نہیں کے مرتسم ابھی تک سوئے کیوں نہیں۔۔۔ یا مرتسم ناشتہ کئے بغیر تم گھر سے نہیں جا سکتے۔۔۔ ایسے کون کرتا ہے بھلا ماں۔۔۔ جائیں نہیں جا رہا یہاں سے تب تک جب تک آپ مجھ سے بات نہیں کرتیں جب تک مجھے معاف نہیں کر دیتیں۔۔۔ تب تک کچھ نہیں کھاوں گا جب تک آپ خود اپنے ہاتھ سے مجھے نہیں کھلاتیں۔۔۔ نہیں تو نا سہی۔۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں کے کب تک آپ میں بھی حوصلہ ہے بیٹے کو بھوکا دیکھنے کا۔۔۔
دیکھئیے گا میں بھی ضد کا کتنا پکا ہوں۔۔۔ مت مانیے آپ۔۔۔ مت کریں مجھ سے بات۔۔۔ کریں مجھے نظر انداز۔۔  دیکھنا یہیں پڑا پڑا بھوکا پیاسا مر جاوں گا۔۔۔
مرتسم۔۔۔ فضول بکواس بند کرو۔۔۔
ماں دہل کر چلا اٹھیں۔۔۔ غصے سے ہاتھ اسکی گرفت سے کھینچتے سے گھورا۔۔۔ جبکہ وہ جو ماں کی نظر اندازی پر بھرپور جذباتی انداز میں بول رہا تھا ماں کے اس ردعمل پر بامشکل مسکراہٹ داب گیا۔۔۔
پھر کہیں ہماری صلح۔۔۔ آپ نے مجھے معاف کیا۔۔۔ماں کے رویے سے  اسے حوصلہ ملا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے پھر باپ کی پسند کو چھوڑ دو۔۔۔ علیحدگی اختیار کر لو اس سے۔۔۔ مرتسم جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔ ماں کی سفاک آواز اسے اپنی رگوں میں ڈورتا خون تک جماتی محسوس ہوئی۔۔۔ کئ لمحوں تک وہ شل ہوگیا۔۔۔ گویا قوت گویائی تک کسی نے صلب کر ڈالی ہو۔۔۔
اور شل تو تائی جان کے لئے گرم دودھ کا گلاس لاتی فاہا بھی ہوگئ۔۔۔ ہاتھوں میں اس قدر لرزش اتری کے اسے ابھی زمین بوس ہو جانے کا گمان ہوا۔۔۔۔
بامشکل خود کو گھسیٹتی وہ وہیں سے واپس پلٹی۔۔۔۔
مرتسم کتنی ہی دیر تک اجنبی نگاہوں سے ماں کا چہرا تکتا رہا ۔۔۔
کیا ہوا  ماں اور بیوی کے پلرے میں سے بیوی کا پلرا بھاری ہوگیا۔۔۔۔ ماں تمسخرانہ ہسیں۔۔۔
سنا تھا بیٹے شادی کے بعد پرائے ہو جاتے ہیں۔۔۔ آج دیکھ بھی لیا۔۔۔ 
وہ جہاں ہے وہیں رہے گی تب تک جب تک آپ اس رشتے کو قبولیت کی سند نہیں دے دیتیں۔۔۔ پھر چاہے وہ میرے نام پر تنہا پوری زندگی ہی کیوں نا بیٹھی رہے۔۔۔ وہ بولا تو اسکی آپنی آواز لغزش زدہ تھی۔۔۔
لیکن آپکی ڈیمانڈ غلط ہے۔۔۔ماں کا حکم اپنی جگہ لیکن آپکے حکم پر بھی میں کسی معصوم بے گناہ کے ماتھے پر طلاق کا داغ نہیں سجا سکتا کے یہ میری تربیت نہیں۔۔۔ ماں کو وہ یکدم ہی بہت اجنبی لگنے لگا۔۔۔۔
آپ کے سامنے بھی اگر میں بحث کی گستاخی کر رہا ہوں تو یہ اسی تربیت کا اعجاز ہے جسنے مجھے کسی بھی موقع پر غلط کو  غلط اور صحیح کو صحیح کہنا سیکھایا ہے۔۔۔
میں کسی کی بھی بیٹی کے ساتھ ناحق کچھ نہیں  کر سکتا کیونکہ سامنے میری بھی بہن ہے۔۔۔ اور میرے دل میں خوف خدا بہت بری طرح سے پنجے گاڑے ہوئے ہے ماں۔۔۔ میں مکافات عمل پر یقین رکھنے والا شخص ہوں۔۔۔
اور یقین مانیے آپ بھی یہ سب غصے کے تحت کہہ رہی ہیں۔۔ اور غصہ ہونا بھی چاہیے۔۔ آپ حق پر ہیں۔۔۔۔کیونکہ آپکے اکلوتے بیٹے نے آپ کی اجازت کے بنا اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے تو ناراضگی ہونی بھی چاہیے۔۔ اور مجھے سزا ملنی بھی چاہیے۔۔۔ لیکن خدارا میری سزا مجھ تک محصور رکھیں۔۔۔ اسکی لپیٹ میں کسی بے قصور کو مت گھسیٹیں۔۔۔۔ 
کیونکہ میں اپنی ماں کو بخوبی جانتا ہوں۔۔ کسی کے ساتھ ناحق کروا کر پرسکون تو آپ بھی نہیں رہ سکتیں۔۔۔۔۔ کیونکہ کسی کے ساتھ غلط میری ماں کر ہی نہیں سکتیں۔۔۔ آپ میری ماں ہیں۔۔۔ مجھ سے ناراض ہیں۔۔۔ تو میں آپ کو تب تک مناتا رہوں گا جب تک آپ مان نہیں جاتیں۔۔۔ آپکی دعاوں کے بنا اگر آپکی بہو کو اپناوں گا نہیں تو چھوڑوں گا بھی نہیں۔۔۔ یہ مشکل کام ہے ماں اور اپنے بیٹے کو مشکل میں پڑنے سے بچا لیں۔۔۔ اپنا مدعا بیان کر کے وہ بنا ماں کی بات سنے کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ خاموش آنسو ماں کی آنکھوں سے بھل بھل بہنے لگے ۔۔۔۔ وہ کس طرح سے بنا کچھ کئے انہیں جھنجھوڑ گیا تھا  یوں کے وہ اندر تک ہل کر رہ گئ تھیں۔۔۔۔
*****
میجر اریز مخصوص یونیفارم میں ملبوس دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا۔۔  کمرا مخصوص سکرینز اور انہیں آپریٹ کرتے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔۔ وہ قدم قدم چلتا مطلوبہ سکرین تک آیا ۔۔۔ احمر شیخ نامی شخص کے بارے میں کوئی اپڈیٹ۔۔۔
اسکی سنجیدہ آواز پر وہ شخص چونک کر اسکی جانب پلٹا اور دوبارہ سکرین پر جھکتا مطلوبہ پیج نکالنے لگا۔۔۔
سوری سر۔۔۔ وہ شخص پاکستان میں نہیں۔۔۔  اور غیر قانوی طریقے سے باہر گیا ہے۔۔۔ کیونکہ اسکے پاکستان سے خروج کے کوئی لیگل ڈوکومنٹس موجود نہیں۔۔۔ اٹھارہ ماہ پہلے اسکی آخری لوکیشن اسکے بائیومیٹرک تصدیق کے مطابق بارڈر کے پاس کی تھی۔۔۔ اور وہاں سے افغانستان ۔۔ انڈیا اور ایران کے بارڈرز قریبی ہیں۔۔۔ قوی امکان ہے کے وہ ان ممالک میں سے کسی ملک میں ہے۔۔۔
میجر اریز کے چہرے پر سوچ کی گہری پرچھائیاں ابھریں۔۔۔
کنفرمیشن کا کوئی اور طریقہ۔۔ 
ایک ہی ہے سر کے وہ مطلوبہ ملک میں کہیں بائیومیٹریکلی اپنی پہچان ظاہر کروائے۔۔ کسی مقام پر اینٹری کے لئے یا کوئی سم یا پراڈکٹ خریدنے کے لئے۔۔۔ اسکے بعد ہی ہمیں کوئی کلیو مل سکتا ہے۔۔۔
آپ فکر مت کریں سر۔۔ جیسے ہی اس شخص نے کہیں پر بھی اپنی بائیو میٹرک شناخت کروائی ہمیں پتہ چل جائے گا اور ہم فوراً آپ سے رابطہ کریں گے۔۔۔ اس شخص کے کہنے پر میجر اریز سر ہاں میں ہلاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔ 
اسکی آنکھوں کے سامنے کئ منظر بن اور مٹ رہے تھے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کہیں پیچھے چلا گیا۔۔۔ وہیں جہاں وہ فائز علوی کے ساتھ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا اور اسے سٹیشن پر چھوڑنے جا رہا تھا۔۔۔
مانا کے بیوی کی بہت فکر ہے تمہیں اور اسکی حفاظت کی ذمہ داری بھی میں اٹھاتا ہوں لیکن ایک بات۔۔۔ کیا خطرہ اسقدر قریب محسوس کر کے بھی تمہارے پاس کوئی پلان بی نہیں۔۔۔ حیرت ہے مجھے۔۔۔ تم آرمی کی مدد لے سکتے ہو۔۔
میجر اریز سنجیدگی سے بولا۔۔۔
کس نے کہا میرے پاس پلان بی نہیں۔۔۔ اور رہ گئ بات آرمی کی مدد لینے کی تو وقت ضرورت ضرور تم سے رابطہ کروں گا۔۔۔ لیکن وقت سے پہلے نہیں۔۔۔
جس پراجیکٹ کو پروفیسر صاحب سات پردوں میں بنا کر لانچ کرنے والے تھے میں اسی پراجیکٹ کو محض سکیورٹی کے نام پر پہلے ہی رویل نہیں کر سکتا۔۔۔ یہاں کون ساتھی اور کون دشمن ہو ہم کچھ کہہ نہیں سکتے اس لئے ابھی یہ سب صیغہ راز ہی رہے تو بہتر ہے۔۔۔
میں پوری کوشیش کر رہا ہوں کے جلد از جلد پراجیکٹ لانچ کردوں ۔۔۔ اسکی لانچنگ کے بعد کوئی مسلہ نہیں رہے گا۔۔۔ لیکن بالفرض اگر دشمن اس سے پہلے ہی مجھ پر دھاوا بول دیتا ہے تو میں تم سے رابطہ کروں گا۔۔۔ تب تم فورس کو انوالو کر سکتے ہو۔۔۔
لیکن ان دونوں سنیریو کے علاوہ ایک اور سنیریو بھی ہے۔۔۔ کیونکہ مجھے کہانی کا کور ہر طرف سے مکمل کرنا ہے تو بالفرض اگر پراجیکٹ لانچ بھی نہیں ہوتا اور کسی وجہ سے تم بھی بروقت مدد کو نہیں پہنچ پاتے اور دشمن میری گردن کو آ جاتا ہے تو ایسے میں کیا کیا جائے۔۔۔
ایسے میں نا تو میں پروفیسر صاحب کی سالوں کی محنت وہ روبورٹ یا اسکا فارمولہ انکے ہاتھ لگنے دے سکتا ہوں اور نا ہی خود انکے ہاتھ لگ سکتا ہوں کیونکہ وہ جانتے ہیں کے پروفیسر صاحب کے بعد اس پراجیکٹ کا سبھی ڈیٹا میرے پاس ہے۔۔۔ پھر ایسے میں جب دشمن میری گردن کو پہنچ چکا ہو تو تب کیا کیا جائے۔۔۔
تب میں ایک ہی کام کروں گا اور وہ ہے پہچان بدلنے کا۔۔۔
احمر شیخ میرا کلاس فیلو تھا۔۔۔ گاوں سے تعلق رکھتا تھا اور آئی ٹی کا سٹودینٹ تھا۔۔۔محض ایک  بیمار ماں تھی اسکی۔۔۔ پچھلے دنوں روڈ ایکسیڈینٹ میں جانبحق ہوگیا۔۔۔ اور ماں اسکا صدمہ نہیں سہار پائی۔۔۔ وہ میرا بہت قابل دوست تھا میجر اریز۔۔۔ بظاہر یہ کہانی یہیں ختم ہو گئ۔۔۔ لیکن اس پراجیکٹ کے لئے ہمیں اسی کہانی کو زندہ کرنا ہے۔۔۔  اسکا ڈیٹھ سرٹیفکیٹ ابھی اشو نہیں ہوا کیونکہ پیچھے کوئی تھا ہی نہیں ڈیٹھ سرٹیفکیٹ اشو کروانے والا۔۔۔
یہ کور سٹوری ہر لحاظ سے مکمل ہے۔۔۔ یہاں مجھے آپکی مدد درکار ہے۔۔۔ آپکو اسکے ڈوکومنٹس پر میری فوٹو  ایڈجسٹ کروانی ہے۔۔۔ اور اسکے ڈوکومنٹس پر بائیو میٹرکلی ائی ڈینٹیٹی میری شو ہونی چاہیے۔۔۔
اگر  ابھی یہ سب ممکن نہیں تو خدانخواستہ اگر ایسا کوئی حادثہ پیش آ جائے تو آپکو جو دو کام کرنے ہیں ان میں سے ایک میری ڈیٹھ ڈکلئیر کروا کر میرے سارے ڈوکومنٹس اور آئیڈینٹیٹی فریز کروا کر احمر شیخ والی ایکٹو کروانی ہے۔۔۔ جانتا ہوں یہ کام تھوڑا سا مشکل اور غیر قانونی ہو جائے گا مگر مجھے امید ہے کہ آپ یہ ہینڈل کر لیں گے۔۔۔
سٹوری کافی اچھی ہے فائز۔۔ لیکن کیا وہ لوگ اتنے ہی احمق ثابت ہونگے کے اس کور سٹوری پر اعتبار کر لیں گے۔۔۔ میجر اریز کا انداز پر سوچ تھا۔۔۔
فیکٹس پر انہیں یقین کرنا پڑے گا۔۔۔ ایک شکل کے کئ انسان ہوتے ہیں دنیا میں۔۔۔ اور اللہ کے ہاں میری شکست نا لکھی ہو میجر اریز ورنہ وہ لوگ مجھے ڈاج دے کر اس بات کو ثابت کرنے میں سالوں لگا دیں گے۔۔۔ یہ میرا دعوی نہیں اللہ پر یقین ہے۔۔۔
میجر اریز اپنے آفس میں آتا گویا گہری نیند سے جاگا۔۔۔
فائز علوی ایک بہادر نڈر اور قوم کا قیمتی سرمایا ہے۔۔۔ اور یقیناً وہ اس وقت سہی سلامت دشمن کے چنگل میں ہے۔۔۔ وہ مسلسل کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔ اسے پلان کے مطابق ڈیڈ باڈی ارینج کر کے فزیکلی فائز کی ڈیٹھ ڈکلئیر کروانی تھی لیکن فائز کے اپارٹمنٹ سے ملنے والی اس جھلسی ہوئی لاش نے اسکا کام آسان بنا دیا جسے لوگ پہلے ہی فائز علوی سمجھ رہے تھے۔۔۔ اس ایماندار ڈاکٹر کو اعتماد میں لے کر آرمی کے درپیش مسائل بیان کر کے اس سے مطلوبہ پوسٹ مارتم ریپورٹ حاصل کرنا بھی میجر اریز کے لئے ایک ٹاسک ثابت ہوا تھا۔۔۔
لیکن ایک معمہ جس پر وہ ابھی تک الجھا ہوا تھا کے جب وہ لاش فائز کی نہیں تھی تو بلآخر وہ لاش تھی کس کی۔۔۔
جس قدر گہری ذات فائز کی تھی اور جس قدر اسکا پراجیکٹ پیچیدہ تھا اپنے پیچھے بھی وہ اتنی ہی پیچیدگیاں چھوڑ گیا تھا اب وہ دعا گو ہی تھا کے خدا اس ہونہار اور قابل شخص کی مدد فرمائے اور اسے دشمنوں کے چنگل میں بھی فتح یاب کرے جسنے اپنی ذاتی پرسکون زندگی پر اپنے قوم و ملک اور اپنے فرض کو ترجیح دی تھی۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4