Roshan Sitara novel 97th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 97th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
97th epi..
احمر نے سنجیدگی سے جا کر لیپ ٹاپ کھولا اور اسے آن کرتے ہی اسکے سرفیز پر نظر پڑتے ہی وہ مسکرا دیا۔۔۔۔
وہ دونوں جو اسکا باریک بینی سے مشاہدہ کر رہے تھے اسے مسکراتا دیکھ ٹھٹھکے۔
خیریت مسٹر احمر ۔۔۔ اس مسکراہٹ کی وجہ۔۔۔ میر نے اسکی مسکراہٹ کی چوری پکڑتے خاصے کڑے تیوروں سے اسے گھیرا۔۔۔۔۔
خوش ہونے کی بات ہے تو خوش ہو رہا ہوں نا۔۔۔ ویل کانگریجولیشنز۔۔۔۔ فائنلی فائز علوی کا لیپ ٹاپ تمہارے پاس ہے۔۔۔ میرے خیال سے یہ کیس تمہاری زندگی کا سب سے بڑا اور اہم کیس تھا اور تم جیت چکے ہو۔۔۔ وہ سر فیز پر ابھرے فولڈر کے نام پر فائز علوی پڑھ کر اسقدر خوش اخلاقی سے مبارکباد دیتا گویا ہوا کے ایک پل کو میر بھی کنفیوز ہو گیا۔۔۔
اسے آپریٹ کرو۔۔۔ اسنے ماتھے پر بل سجائے اگلا حکم صادر کیا۔۔۔
سوری۔۔۔ احمر سیز فائر کرنے کے انداز میں ہاتھ اٹھا گیا۔۔۔
اتنے اہم کیس کی اتنی اہم فائلز اینوی ہر کسی سے آپریٹ نہیں کرواتے۔۔۔ یقین اعتماد اپنی جگہ لیکن پھر بھی اختیاط لازم ہے۔۔۔ تم خود آپریٹ کرو اور ان فائلز کی ایک کاپی اپنے پاس رکھو پھر میں ان پر کام کروں گا کے اگر خدانخواستہ میرے پاس سے دیٹا مس پلیس ہو جائے تو تمہارے پاس اسکی ایک کاپی موجود ہو۔۔۔
اگر سائنٹسٹ عظیم اس پر اعتبار کرتے تھے تو ایسے ہی نہیں وہ واقعی اسکی خوبیوں کے معترف تھے۔۔۔ وہ قابل تھا اور اسکی یہ ہی قابلیت اسے پچھلے ایک دیڑھ سال سے خوار کروا رہی تھی۔۔۔
کوئی اسے دیکھ کر کہہ نہیں سکتا تھا کے اپنے لیپ ٹاپ اور اپنی اتنی اہم فائلز کو دشمن کے پاس دیکھ وہ اندر سے کس قدر پریشان تھا ۔۔۔
میر اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتا لیپ ٹاپ تک آیا ویل چیئر پر بیٹھا دلاور خان اسکی باتوں سے قائل ہوتا دکھائی دیتا تھا۔۔
میر نے آ کر لیپ ٹاپ آپریٹ کرنا شروع کیا۔۔۔ احمر نے اندر کا سارا اضطراب پریشانی تاسف ملال سب ایک مسکراہٹ کے پیراہن میں خوب خوب ڈھانپا تھا ۔۔۔ اسکی محنت آج اکارت جانے والی تھی اور دکھ یہ تھا کے وہ اسکا غم بھی منا نا سکتا تھا۔۔۔
ایک لمحے سے بھی کم وقت میں اسکی غرض کی چادر میں لپٹی مسکراہٹ بے غرض اور خالص ہوئی۔۔۔ سارا اضطراب پریشانی تاسف ملال سب جاتا رہا ان سب پر جیسے کسی نے اطمینان کا پانی پھیر کر جلتی چنگاریوں کو یک لخت بجھا ڈالا تھا۔۔۔۔۔
پہلی فائل دیکھتے ہی وہ باخوبی سمجھ گیا کے لیپ ٹاپ سے ڈیٹا وائپ ہو چکا ہے۔۔۔
وہ ہلکا پھلکا ہو گیا ۔۔۔ مطلب اسکی بیوی ابھی اتنی بھی بے بس نا ہوئی تھی۔۔۔
آنکھوں کے سامنے اس دیوانی کی شبیہہ لہرائی تو گویا جلتی آنکھوں کو بھی تراوت محسوس ہوئی۔۔۔
What the hell...
دفعتاً میر کے چلانے پر وہ ہوش میں آیا۔۔۔مسکراہٹ ہٹا کر چہرے پر سنجیدگی اور فکرمندی کے تاثرات سجائے۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ دلاور خان کے کہنے پر وہ مزہد میر کے قریب ہوا۔۔۔ یہاں کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔۔ حلانکہ یہاں فائلز تھیں ۔۔۔ میں نے سبھی دیکھی تھیں مگر اب۔۔۔
وہ غم و غصے سے پاگل ہوتا اپنا ماتھا مسلنے لگا۔۔۔
میرے خیال سے لیپ ٹاپ کے آنر نے ڈیٹا وائپ کر دیا ہے۔۔۔ اگر تم ان فائلز کو دیکھ چکے تھے تو تمہیں اتنی اہم فائلز کو اسی وقت کاپی کر لینا چاہیے تھا اور تمہیں کم از کم سب سے پہلے یہ ہی دیکھنا چاہیے تھا کے لیپ ٹاپ پر کہیں ٹریکنگ سافٹوئیر تو انسٹال نہیں۔۔۔۔۔
میرے خیال سے یہ کامیابی ملنے پر خوش ہی اتنا ہو گا کے اگلا پچھلا سب بھول گیا کے ہمارا دشمن ہم سے کئ ہاتھ آگے رہا ہے ہمیشہ سے ہی۔۔۔ دفعتاً باہر سے اندر آتی شائنہ نے اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔۔ میر نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا۔۔۔ انسان کو جوش میں ہوش نہیں گنوانا چاہیے۔۔۔ اسنے تاسف سے سر نفی میں ہلاتے مزید جلتی پر تیل ڈالا۔۔۔
یہ تم نے کیا ہے نا۔۔۔ وہ غصے سے پاگل ہوتا احمر پر پل پڑا۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔ وہ تعجب زدہ سا بولا۔۔۔
شکست نے اسے پاگل کر دیا ہے اسی لئے بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔۔۔
شائنہ نے سر جھٹکتے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔
میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔۔۔وہ شائنہ کو نظر انداز کئے احمر کی جانب لپکا۔۔۔
انف اٹس انف۔۔۔ اس سے پہلے کے میر احمر کی جانب بڑھتا دلاور خان کی دھارتی آواز نے اسکے قدم منجمند کئے۔۔۔
وہ وہیں تھما اور غصے سے کھولتا واپس پلٹا۔۔۔
اس شخص نے منہ پر ماسک چڑھا رکھا ہے۔۔۔ یہ ہی فائز علوی ہے اور ہم سب کو بے وقوف بنا رہا ہے پچھلے ڈئرھ سالوں سے۔۔۔۔ وہ چٹخا۔۔۔
سو فنی۔۔۔ اور پچھلے ڈیڑھ سالوں میں سوائے تم زبان کے جوہر دکھانے کے اس بات کو کسی طرح ثابت تک نہیں کر سکے۔۔۔ احمر نے جلتی پر تیل پھینکا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی دو ٹکے کے انسان۔۔۔ میر کا بس نا چلا کے احمر کا قتل کر ڈالے۔۔۔ احمر نے خط لینے والے انداز میں آئبرو اچکائی۔۔۔
جلتے ہو تم میری قابلیت سے۔۔۔
نہیں چھوڑوں کا تمہیں۔۔۔
اتنا دم خم ہے تو ثابت کرو کے ڈیٹا میں نے وائپ کیا ہے۔۔۔ مسٹر زبان کے جوہر دکھانا بند کرو اور دماغ چلاو۔۔۔ اس سافٹوئیر کمپنی میں بیٹھ کر یہ پتہ لگوانا کوئی مشکل امر تو نہیں کے ڈیٹا سوائپ کہاں سے ہوا کب ہوا اور کس نام سے رجسٹر ہو کر اسے وائپ کیا گیا۔۔۔
سو بی پڑیکٹیل۔۔۔ میرا نام نکلے تو جو کالے چور کی سزا وہ میری۔۔۔ احمر کا اطمینان قابل دید تھا جو اسے بے طرح سلگا رہا تھا۔۔۔
کالم ڈاون میر۔۔ اپنی شکست اسکے سر مت ڈالو۔۔۔ وہ ٹھیک کہہ رہا ہے پتہ لگاو۔۔ کس نے ڈیٹا وائپ کیا۔۔۔ دلاور خان کی کرخت تنبیہی آواز پر میر غصہ ضبط کرتا واپس لیپ ٹاپ تک آیا۔۔۔۔
شائنہ اس سارے تماشے سے خط اٹھاتی کرسی پر بیٹھی تھوڑی تلے ہاتھ رکھے سب انجوائے کر رہی تھی۔۔۔
میر کی غصیلی شعلے اگلتی نگاہیں سکرین پر مرکوز تھیں جبکہ انگلیاں کی بورڈ پر تیزی سے حرکت کر رہی تھی۔۔کچھ دیر بعد سکرین پر تمام انفارمیش ابھری تو شائنہ کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔
مبارک ہو میر خان ۔۔۔ تمہارے دشمنوں میں ایک نیا نام ابھر آیا۔۔۔
وہاج خانزادہ۔۔۔ اسی نام سے رجسٹر ہو کر ڈیٹا وائپ کیا گیا ہے نا۔۔۔ اور لوکیشن بھی لاہور پاکستان سے ہے۔۔۔ جس لیپ ٹاپ کے لئے تم نے چھ مہینے سے زیادہ کا وقت برباد کر ڈالا وہ لیپ ٹاپ سرحد پار سے تمہارے دشمن رات و رات تمہارے لئے بیکار بنا گئے۔۔۔
چچچ۔۔چچچ۔۔۔چچچ۔۔۔
تمہیں قبول کر لینا چاہیے کے تمہارا دشمن ہمیشہ سے تم سے کئ ہاتھ آگے رہا ہے۔۔۔ شائنہ اسے اسکی ہار پر چڑا رہی تھی۔۔۔ ابھی وہاں میدان جنگ کا منظر شروع ہونے والا تھا کیونکہ اتنے کاری واروں کے بعد میر چپ رہ جاتا یہ ممکن نا تھا۔۔۔ احمر ان سب کو انکے حال پر چھوڑتا وہاں سے اپنی مطلوبہ فائل لے کر نکل آیا۔۔۔۔
*****
احمر اپنے ورکنگ ڈیسک پر بیٹھا بے خیالی میں انگلی کی پور فائل کے کنارے پر پھیر رہا تھا سامنے سسٹم آن تھا مگر اسکے دھیاں کے پنچھی کہیں اور گئے ہوئے تھے۔۔۔ کیا چل رہا تھا وہاں اسکے پیچھے۔۔۔ اسکی موت کی خبر پر کم از کم ماہرہ نے تو یقین نہیں کیا ہوگا ۔۔۔ وہ باقاعدہ اسے انتظار کے لئے آس کا دیا تھما کر آیا تھا۔۔۔ اور وہاج کا اسکے لیپ ٹاپ سے ڈیٹا وائپ کرنا۔۔۔ مطلب۔۔۔ مطلب ماہرہ نے اسکے دوستوں سے مدد طلب کی تھی۔۔۔
آہممم۔۔آہمممم۔۔ وہ مسلسل کڑی سے کڑی ملا رہا تھا جب شائنہ کے گلا کھنگارنے پر وہ چونک کر سیدھا ہوا اور اسے بھرپور نظر انداز کرتا سسٹم آپریٹ کرنے کو کی بورڈ پر جھکا۔۔۔ عین اسی وقت شائنہ اعتماد سے اسکے ڈسک پر بیٹھتی اسکی جانب جھکی۔۔۔ یہ اتنا بے ساختہ تھا کے دونوں کے چہروں میں انچ بھر کا فاصلہ رہ گیا۔۔۔
یا وحشت۔۔۔۔ احمر کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹتا کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
تمہاری یہ بے باکی مجھے سخت تاو دلاتی ہے شائنہ۔۔۔ وہ غصے کی انتہاوں کو چھوتا غرایا۔۔۔
اور مجھے تمہاری یہ پارسائی۔۔ وہ ہاتھ دائیں بائیں رکھتی ٹانگ پر ٹانگ جمائے کھلکھلائی۔۔۔
لڑکیوں پر اتنی بے باکی سوٹ نہیں کرتی۔۔۔ شرم و حیا لڑکی کا گہنا ہوتا ہے وہ اس میں سے نکل جائے تو عورت عورت کے مقام سے ہی گر جاتی ہے۔۔۔ اسنے تاسف سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
یہ لڑکی جونک کی مانند چمٹی تھی اسے کے وہ اس سے سخت عاجز آ گیا تھا۔
ہاں ایسی ہے نا شرم و حیا کی حامل تمہاری ماہرہ۔۔۔ اسکا انداز خط لینے والا تھا۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔۔۔احمر کا انداز سخت تادیبی تھا حالانکہ اندر دل زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔
تمہیں کوئی اور کام ہے۔۔۔ کبھی خود کو میرے ساتھ جوڑتی ہو۔۔ کبھی اپنے جیسی نام نہاد ان لڑکیوں کو جنہیں نا اپنی فکر ہے نا اپنے والدیں کی۔۔۔ جو نفس کی غلام ہے اور کسی بھی نامحرم کے جھانسے میں آ کر تنہائی میں ان سے ملنے چلی آتی ہیں اور پھر اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتی ہیں۔۔۔ وہ خود کو کلئیر کرنے کی خاطر میر کے واقع کے حوالے سے اتنے قطعی انداز میں بولا کے شائنہ تک بونچکا رہ گئ۔۔۔
ماہرہ اظہر ایسی لڑکی نہیں۔۔۔ ناجانے وہ سچ کہہ رہی تھی یا فائز کا ضبط آزما رہی تھی۔۔۔ وہ سر جھٹک گیا۔۔۔
حالانکہ یہ پہلا کیس ہے جو میر جیت کر بھی ہار گیا۔۔۔ ہر لحاظ سے۔۔۔ تمہیں پتہ ہے میر نے اسے دھوکے سے اجتماعی بزنس میٹنگ کا بول کر اسکی سیکریٹری کے ساتھ بلوایا تھا۔۔۔ اور وہاں سویٹ میں اسے پیرالائزنگ ڈوز دی تھی۔۔۔ اسے اتنا بے بس کر کے اسکے اتنے قریب ہو کر بھی وہ وہاں سے ناکام و نامراد لوٹ کر آیا ہے۔۔۔۔ کیونکہ عین وقت پر وہاں ریڈ ہو گئ تھی۔۔۔ شائنہ نے بے ساختگی میں کہتے شانے اچکائے جبکہ اسکی زبانی ساری روداد سن کر احمر کے چہرے کا تناو کم ہوتے وہاں اطمینان چھایا۔۔ گو کے یہ کیفیت صرف ایک لمحے پر محصور تھی وہ سرعت سے خود کو کمپوز کر گیا مگر وہ ایک لمحہ بھی شائنہ کی زیرک نگاہوں سے پوشیدہ نا رہ سکا۔۔۔
اوہ۔۔ سو سیڈ۔۔۔ برا لگا میر کی ناکامی کا سن کر۔۔۔ اب پلیز تم یہاں سے اٹھو گی مجھے کام کرنا ہے۔۔۔ ویسے بھی آج کل یہاں ہر شخص ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑا ہے۔۔۔ وہ سر خم کرتا بے تاثر لہجے میں بولا کے شائنہ جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھتی بنا کچھ بولے سر ہاں میں ہلا کر وہاں سے آٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ شائنہ کا یہ انداز غور طلب تھا۔۔۔ احمر کو مزید محتاط ہونے کی ضرورت تھی۔۔۔۔
ویسے ماہرہ اظہر کا بیٹا بہت خوبصورت ہے۔۔۔ جاتے جاتے وہ پلٹی۔۔۔
احمر کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ ہاتھ پاوں جیسے فریز ہوگئے۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اپنی فق ہوتی رنگت اور چہرے کے تاثرات چھپانے میں ناکام ہوتا وہ بعجلت پانی کی بوتل اٹھا کر منہ کو لگا گیا۔۔۔ اس سفید بے داغ پانی نے اسکے تااثرات دھانپ دئیے۔۔۔
میر اسکے بیٹے کو یرغمال بنا کر اپنے اہداف پورے کروانا چاہتا تھا۔۔۔ مگر ماہرہ اظہر جسقدر چیل کی نظر بیٹے پر رکھتی تھی اس سے خائف ہو کر میر کی بھیجی کئیر ٹیکر نے یہ کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔
مس شائنہ مجھے یہ سب بکواسیات بتا کر ڈس اٹریکٹ کرنے کا مقصد ۔۔ دکھائی نہیں دے رہا ہے مصروف ہوں میں۔۔۔ وہ اندر پل بھر میں بدلتے جذبات سے خائف ہو کر ایک دم چڑ کر اس پر پل پڑا۔۔۔
شائنہ بنا اسے مزید چھیرے خاموشی سے وہاں سے نکل آئی۔۔۔ ویسے بھی جو وہ جاننا چاہتی تھی جان چکی تھی۔۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ فائز علوی کو اپنے جذبات و احساسات بے قابو ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔۔ اور انسان جہاں مار کھاتا ہے جزبات کے ہاتھوں ہی کھاتا ہے۔۔۔ اور یہاں اس مقام پر آ کر وہ مار نہیں کھانا چاہتا تھا۔۔۔ ہاتھ اٹھاتا تو وہ کام کرنے سے انکاری ہو گئے۔۔ دماغ آگے پیچھے چلنے سے انکاری تھا۔۔ آنکھ لہو ٹپکانے کو بے تاب تھی۔۔۔ دل کرلا رہا تھا۔۔۔ صرف ایک آواز ہر آواز پر بھاری تھی۔۔۔ ماہرہ اظہر کا بیٹا۔۔۔ صرف ایک احساس ہر احساس پر بھاری تھا۔۔۔ اسکا بیٹا۔۔
کیا واقعی
****
اس روز وہ طبیعت خرابی کا کہتا بہت جلد آفس سے نکل آیا تھا۔۔۔ اور یہ حقیقت تھی۔۔۔ آج ایک بڑی حقیقت نے آشکار ہو کر اسے نیم جان کر دیا تھا۔۔۔ اس جیسے مضبوط مرد کی ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔
ماہرہ اظہر کا بیٹا۔۔۔۔
اسکا بیٹا۔۔۔ اسکے دماغ میں دھماکے سے ہو رہے تھے۔۔۔ کیا واقعی یہ سچ تھا۔۔۔ یا شائنہ نے بکواس کی تھی۔۔۔ اسنے سر شام ہی اپارٹمنٹ کی ساری بتیاں گل کر دیں ور بستر میں جا دبکا۔۔۔ آج وہ چہرے کا کوئی بھی تاثر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ نہیں کروا سکتا تھا۔۔۔ کیونکہ آج اسکا خود پر اختیار ہی نا تھا۔۔۔
کیا واقعی اسکا بیٹا تھا۔۔۔۔ یہ احساس ہی کتنا خوش آئنہ تھا۔۔۔
مگر وہ کتنا بدقسمت باپ تھا۔۔۔ جو اولاد کو سینے سے تو کیا لگاتا سراسر اسکے وجود سے ہی لاعلم تھا۔۔۔ دل میں شدید درد کی ٹیسوں کا طوفان اٹھا تھا۔۔۔
اسنے انگلی کی پوروں سے آنکھ سے بہہ جانے والے خاموش آنسووں کو صاف کیا اور انگلی کی پوروں پر گزشتہ وقت کا حساب لگایا۔۔۔۔
اٹھارہ ماہ اور چند دن۔۔۔ ہاں اتنا ہی عرصہ ہوا تھا اسے ماہرہ سے بچھرے۔۔۔
مطلب اسکا بیٹا تقریباً نو سے دس ماہ کا تھا۔۔۔ آنکھیں بند کئے وہ انہی خوشکن لمحات کو جینا چاہتا تھا۔۔۔
کیسا دکھتا ہو گا وہ۔۔۔
سانس دھولکنی کی مانند چلنے لگی تھی۔۔۔ دل کی ہر دھرکن مچل اٹھی تھی۔۔۔
اور اسکی نازک اندام سی بیوی۔۔۔ اسکے چہرے پر افسردہ سی مسکراہٹ پھیلی۔۔۔ کیسے کاٹا ہوگا اسنے وہ وقت تنہا جو فائز کے اسے محض سالگرہ وش نا کرنے پر لڑنے مڑنے کو تیار ہو جاتی تھی۔۔۔
تو طے ہوا سودو زیاں کے اس سفر میں زیاں دونوں کے ہاتھوں میں ہی آیا تھا۔۔۔ مگر اس برے وقت کا قدرت کی طرف سے انمول تحفہ تھا انکا بیٹا۔۔۔ ایک معصوم ننھی جان۔۔۔
پہلی مرتبہ اسکا دل بغاوت پر اترا۔۔۔ جی چاہا کے سب کچھ ترک کر کے ابھی اڑ کر واپس اپنے بیٹے کے پاس پہنچ جائے۔۔۔ مگر کیا یہ اتنا ہی آسان تھا۔۔۔ ۔۔۔ واپسی کی راہیں کیا اتنی ہی ہموار تھیں۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کی۔۔۔ ابھی تک بائیومیٹریکلی وہ کہیں پر بھی احمر شیخ کے نام سے اپنی شناخت نہیں کروا پایا تھا ورنہ میجر اریز ابھی تک اس تک پہنچ چکا ہوتا۔۔۔ اب اسے کیسے بھی کر کے سب سے پہلا کام یہ کرنا تھا جس سے میجر اریز کو کوئی کلیو مل سکتا۔۔۔ اسے یہ سب وائنڈ آپ کر کے جلد از جلد اپنے بیٹے کے پاس جانا۔۔۔
وہ اپنی پلانینگ میں مصروف تھا جبکہ دور کھڑی قسمت مسکرا رہی تھی۔۔۔ وہ ساری رات اسنے جاگ کر گزاری مگر جب صبح اٹھا تو اسکا چہرا بے تاثر تھا جسکے چہرے پر گزری شب کے اثرات ڈھونڈنے سے بھی نا ملتے تھے۔۔۔
حسب معمول تیار ہو کر وہ آفس کے لئے نکلا۔۔۔
******

No comments