Roshan Sitara novel 96th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 96th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
96th epi..
حیرت شاک ناسمجھی۔۔۔ کیا کچھ نا تھا ان دونوں کی آنکھوں میں۔۔۔ مرتسم اور وہاج نے ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ماہرہ کی کلائی میں پہنا بریسلیٹ باری باری دو انگلیوں کی پوروں سے چھوا۔۔۔۔ وہ سچی تھی۔۔۔۔۔
میری بات کا یقین کرو پلیز۔۔۔ فائز ہے۔۔۔ وہ زندہ ہے۔۔۔ کہاں ہے۔۔۔ کیسا ہے۔۔۔ ہے تو اسنے اب تک ہم سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔ مگر وہ ہے۔۔۔ اور میں اسے ڈھونڈنے کو آخری کوشیش کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ بابا میری شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ چند دن پہلے میرے ساتھ ایک ٹریجڈی ہوگئ تھی۔۔۔ جسکی وجہ سے وہ مجھے لے کر بہت محتاط اور حساس ہوگئے ہیں اور جلد از جلد میرے فرض سے سبکدوش ہو کر مجھے ایک مضبوط سائبان دینا چاہتے ہیں۔۔۔
پھر وہ اسے میر کے حوالے سے شکار ہونے والے حادثے کے بارے میں بتاتی چلی گئ۔۔۔ جسے سن کر وہ دونوں سر تھام کر رہ گے۔۔۔
فائز کا لیپ ٹاپ بھی انکے پاس پہنچ جانا کوئی چھوٹی بات نہیں۔۔۔۔ وہاج سنجیدہ تھا۔۔۔
جانتی ہوں۔۔ مگر وہ بال ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔۔۔
تم نے کہا تم وہ لیپ ٹاپ استعمال کرتی رہی ہو۔۔۔ تو کیا اس لیپ ٹاپ میں فائز کی کوئی حساس معلومات تھیں یا اس پراجیکٹ کے حوالے سے کچھ۔۔۔ ابکی بار سوال مرتسم کی جانب سے آیا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ میں زیادہ کچھ نہیں جانتی۔۔۔ بس اتنا جانتی ہوں کے اس میں کچھ کوڈنگ تھی جو میری سمجھ سے بالاتر تھی۔۔۔
یہ ٹھیک نہیں ہوا ماہرہ۔۔۔
ویٹ ویٹ ویٹ۔۔۔۔ ابھی وہاج بول رہا تھا جب مرتسم بول اٹھا۔۔۔ میرے خیال سے فائز کے لیپ ٹاپ پر ٹریکنگ سافٹ وئیر انسٹال ہے اسکی مدد سے ہم اسکے لیپ ٹاپ سے ڈیٹا وائپ کر سکتے ہیں۔۔۔
مرتسم کی تجویز وہاج کو پسند آئی۔۔
Thats great...
وہ ایک دم پرجوش ہو اٹھا۔۔۔
واپس ڈیٹا وائپ کرنا مطلب۔۔۔ کیا ہم اس لیپ ٹاپ سے ڈیٹا حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔ ماہرہ کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔
نہیں۔۔۔ واپس حاصل نہیں کر سکتے مگر اس کی مدد سے اس لیپ ٹاپ سے سارا اہم ڈیٹا حذف ہو جائے گا۔۔۔ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔۔۔
واقعی کیا یہ ممکن ہے۔۔۔ ایک نئ راہ دکھنے پر ماہرہ کا بے چین و مضطرب دل زرا ٹھہرنے لگا۔۔
ہاں یہ ممکن ہے لیکن اسکے لئے ہمیں اس ٹریکنگ سافٹ وئیر کی آئی ڈی اور پاسورڈ چاہیے۔۔۔ جو اسے انسٹال کرتے وقت مختص کی جاتی ہے۔۔۔ کیا تم اسکے بارے میں جانتی ہو۔۔۔ وہاج کے کہنے پر وہ سوچ میں پڑ گئ۔۔۔
ایسے تو کچھ نہیں جانتی۔۔۔ پر البتہ زیادہ تر ہر اہم چیز کی آئی ڈی اور پاسورڈ فائز ایک ہی رکھتا تھا۔۔۔ چیک کر لینے میں حرج نہیں۔۔۔ ہوسکتا ہے کے لگ جائے۔۔۔ ماہرہ کی تجویز سے دونوں ہی رضامند ہوئے۔۔۔
میں لیپ ٹاپ لاتا ہوں۔۔۔ وہاج اپنی جگہ سے اٹھا تو مائز جو تب سے کھیل رہا تھا تھک کر رو دیا۔۔
ارے اسے کیا ہو گیا۔۔۔ وہ پریشان ہو اٹھا۔۔
کچھ نہیں اسے میں دیکھتی ہوں۔۔۔ شاید اسے بھوک لگی ہے۔۔۔ تم لیپ ٹاپ لاو۔۔۔ ماہرہ نے اپنی جگہ سے اٹھتے مائز کو گود میں اٹھایا اور شولڈر بیگم سے اسکا فیڈر نکالتی اسے دودھ پلانے لگی۔۔۔
اس کئیر ٹیکر کا کیا بنا۔۔۔ مرتسم یاد آنے پر پوچھ بیٹھا۔۔۔
کیا بننا تھا۔۔۔ جیل میں ہے اس وقت۔۔۔ یہ ہی التجائیں کر رہی ہے کے اس سے غلطی ہو گئ وہ پیسوں کے لالچ میں آگئ۔۔۔ میر سے اسکی محض فون پر بات ہوتی تھی اور وہ اسے پیسے ٹرانسفر کروا دیتا تھا۔۔۔ میاں بیوی دونوں اندر ہیں۔۔۔ یہ ہی واسطے دے رہے ہیں کے پیچھے انکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ رل جائیں گے۔۔۔
میں نے تو یہ معاملہ ہی بابا اور مظہر پر چھوڑ دیا ہے جو انکا دل چاہے۔۔ وہ بیزاریت سے بولی۔۔۔
دفعتاً وہاج بھی لیپ ٹاپ لئے اندر داخل ہوا۔۔۔
میرے خیال سے ہمیں اب کچھ آرڈر کر لینا چاہیے اب تو آتے جاتے ویٹرز بھی گھورنے لگے ہیں۔۔ وہ اندر آتے ہی مسکراتے ہوئے گویا ہوا تو ماہرہ اور مرتسم بھی مسکرا دئیے واقعی انہیں یہاں آئے کافی دیر ہوگئ تھی۔۔۔
میرے خیال سے کافی ٹھیک رہے گئ ویسے بھی سر درد کرنے لگا ہے۔۔ ماہرہ کے کہنے پر مرتسم نے اشارے سے ویٹر کو بلاتے آرڈر دیا۔۔۔۔
دودھ پیتے ہی مائز اسکی گود میں سو گیا۔۔۔ ماہرہ نے مسکرا کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا اور فیڈر کا کیپ لگاتے اسے واپس شولڈر بیگ میں رکھا۔۔۔۔
*****
کافی دیر تک ٹھنڈے پانے کے شاور تلے کھڑے رہنے کے بعد وہ جینز پر ہلکی سی شرٹ زیب تن کئے واش روم سے باہر نکلا تو اسکا چہرا ہر طرح کے تاثرات سے عاری تھا۔۔۔ کچھ دیر پہلے کا غصہ آگ اور آنکھوں کی سرخی مفقود تھی۔۔۔ وہ بالکل نارمل تھا۔۔۔
اور اسے ایسا رہنا ہی تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کے اسکی حرکات و سکنات کے علاوہ اسکا ایک ایک تاثر تک کسی کی نظروں کی زد میں ہے۔۔۔ جتنی زیرک نگاہ وہ رکھتا تھا وہ پہلے دن ہی جان چکا تھا کے اس فلیٹ کے چپہ چپہ پر ماسوائے واش روم کے کیمریں لگے ہیں۔۔۔ اسکی ایک ایک حرکت پر دشمن کی نظر تھی۔۔۔ بھرپور کوشیشوں کے باوجود وہ ابھی تک خود پر سے انکا شک مکمل طور پر ختم کرپانے میں ناکام رہا تھا۔۔
اور شائنہ خان جو اسکے پاس بار بار ماہرہ کی ہمدری کو آتی تھی تو یہ اس سے یا ماہرہ سے ہمدری نہیں بلکہ کسی نا کسی طرح یہ ہی کنفرم کرنا مقصود تھا کے وہ احمر شیخ نہیں بلکہ فائز علوی ہی ہے۔۔۔۔ بس وہ ماہرہ کے نام پر اسکے ایکشنز کیپچر کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اور فائز علوی کوئی دودھ پیتا بچہ نا تھا جو اسکی ہمدری اور بے باک اظہار محبت سے کچھ اخذ نا کر پاتا۔۔۔ وہ دشمنوں کے جھنڈ میں تنہا گھرا تھا اسے ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا تھا۔۔ زرا سی
لغزش اور کھیل ختم۔۔۔۔ یہ اسکے ماسٹر مائنڈ کا کمال ہی تھا کے وہ ابھی تک انکے پختہ یقین پر ڈراریں ڈال کر ان سب کو شش و پنج میں مبتلا کئے ہوئے تھا کے وہ فائز علوی نہیں بلکہ احمر شیخ ہے۔۔۔۔۔ اور اس میں بڑا ہاتھ بھی اسکے چوکس پن کا تھا کے ابھی تک دشمن اسے اسکی کسی ہلکی سی غلطی سے بھی پکڑ نا پایا تھا۔۔۔ اپنا ہر ہر حربہ آزمانے کے باوجود بھی۔۔۔
لاوئنج میں آتے اسنے معمول کے مطابق ہیٹر آن کیا اور اوپن کچن میں آکر اپنے لئے کافی پھینٹنے لگا۔۔۔ کافی بنا کر وہ وہیں شلف کے پاس کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔۔ کافی کی چسکیاں لیتا اپنے سامنے اپنے کام کی فائلز بکھیرے وہ گہری سوچ میں ڈوبا تھا یوں کے اسکے چہرے سے کسی قسم کے تاثرات کا پتہ لگا پانا ناممکن امر تھا۔۔۔۔
تو آخر میر نے ماہرہ کو ٹریپ کر ہی لیا۔۔۔ اس سوچ کے آتے ہی دماغ میں پھر سے بھانبھر جلنے لگے۔۔۔ لیکن اسے خود کو کمپوز رکھنا تھا۔۔۔ وہ شخص اسکی بیوی کے کتنا قریب تھا اتنا کے فائز علوی بنا تاخیر کئے اسکے ٹکرے ٹکڑے کر کے چیل کووں کو ڈال دیتا۔۔۔
اسے خود پر ضبط رکھنا محال لگنے لگا۔۔۔
اسے ماہرہ پر بھی غصہ تھا۔۔۔ بے حد غصہ۔۔۔۔ وہ کیسے اتنی لاپرواہ ہو سکتی تھی۔۔۔ حالات جو بھی ہوتے۔۔ کیسے تھی وہ ایک نامحرم کے ساتھ تنہائی میں۔۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچتے ماتھا مسلا۔۔۔۔ یوں جیسے شدید تھکاوٹ کا شکار ہو۔۔۔
تکلیف ایسی تھی کے گویا کوئی آڑی سے اسکی رگیں چیر رہا ہو۔۔۔
وہ میز پر پڑا اپنا لیپ ٹاپ بھی باخوبی پہچان چکا تھا۔۔۔ اس میں اسکے کچھ ڈاکومنٹس تھے۔۔۔ چاہتا تو ابھی وہ ٹریکنگ سافٹ وئیر کی مدد سے لیپ ٹاپ سے ڈیٹا وائپ کر دیتا لیکن وہی بات کے وہ دشمن کو ایک فیصد بھی موقع نہیں دینا چاہتا تھا پہلے سے موجود شک کو یقین میں بدلنے کے لئے۔۔۔
اسے میجر اریز کی بےخبری بھی تاو دلا رہی تھی۔۔۔ اسکی موجودگی میں کیسے اسکی بیوی ایک حیوان کے ہتھے چڑھ گئ۔۔۔
گہری گہری سانسیں خارج کرتے اسنے خود کو کمپوز کیا اور فائلز چیک کرنے لگا۔۔۔ پچھلے ایک سال میں اسنے اپنا بہت ضبط آزمایا تھا اور آج پہلے دن اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اسکے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو کر چھلک جائے گا۔۔۔۔
******
یس یس یس۔۔۔۔ یہ آئی ڈی اور پاسورڈ کام کر رہا ہے۔۔۔
ہم اب اس لیپ ٹاپ سے ڈیٹا وائپ کر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن ایک پرابلم ہے۔۔۔ وہاج آی ڈی اور پاسورڈ درست ہونے پر جوش و خروش سے بولتا ایک دم ڈھیلا پڑا۔۔۔
کیاااا۔۔۔۔ ماہرہ کا دل تھما۔۔۔۔
اگر ڈیٹا ضروری ہوا تو۔۔۔ مطلب پھر اگر فائز بھی چاہے تو وہ ڈیٹا دوبارہ حاصل نہیں کر سکے گا۔۔۔۔ وہ ڈیٹا محو ہو جائے گا۔۔۔ وہاج شش و پنج میں مبتلا تھا۔۔۔
بڑے نقصان سے چھوٹا نقصاں زیادہ بہتر ہوتا ہے وہاج۔۔۔ مرتسم کے کہنے پر وہاج نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔۔۔
مطلب۔۔ ماہرہ الجھی۔۔۔
مطلب یہ کے ڈیٹا اگر واپس ہمیں نہیں ملے گا تو دشمن کے پاس بھی نہیں جائے گا۔۔۔ اس لئے اسکا حذف ہو جانا ہی بہتر ہے۔۔ مرتسم کی بات پر ماہرہ قائل ہوئی۔۔۔
اوکے۔۔۔ وہاج بھی قائل ہوتا واپس لیپ ٹاپ پر جھکا۔۔۔
پراجیکٹ سٹارٹ کب سے کرنا ہے۔۔۔
اس سے زیادہ اہم یہ ہے مرتسم کے تم یہ پوچھو کے پراجیکٹ سٹارٹ کہاں کرنا ہے۔۔۔ لیپ ٹاپ پر کام کرتے وہاج نے مصروف سے انداز میں مرتسم کی بات کاٹی۔۔۔
ماہرہ نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔۔
مطلب یہ کے تم پچھلی دفعہ والی موجیں نا سمجھو کے فائز سب سمبھال لے گا ہم بس باہر کا کام کر کے اسے دیں گے۔۔۔ میرے بھائی وہ نہیں ہے اس لئے سب ہمیں ہی ہینڈل کرنا ہے۔۔۔ یہ محترمہ تو کمانڈ دے کر بیٹھ جائیں گی کے کیا ہوا کتنا ہوا۔۔ وہاج کے حقیقت پسندانہ تجزئیے پر ماہرہ انہیں دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
نہیں میں تم دونوں کی بھرپور مدد کروں گی۔۔۔
ویسے فائز کہتا تھا جس کام میں ماہرہ شامل ہو جائے وہ کام کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ مرتسم کو اتنے گھمبیر ماحول میں شرارت سوجھی تو چٹکلا چھوڑ دیا۔۔۔
ناممکن۔۔۔ وہ ایسا کہہ ہی نہیں سکتا۔۔۔ ماہرہ کے یقین راسخ پر دونوں مسکرا دئیے۔۔۔
بڑا جانتی ہو اسے۔۔۔ وہاج مصروف سا انکی نوک جونک میں حصہ لے رہا تھا۔۔۔
کوئی شک۔۔۔
ہم ٹریک سے ہٹ رہے ہیں میرے خیال سے پراجیکٹ ری سٹارٹ کرنے کے لئے ہمارا آفس بہترین آپشن رہے گا۔۔۔ مرتسم نے واپس انکی توجہ مین ٹاپک کی طرف دلوائی۔۔۔۔
نہیں میرے خیال سے ہمیں پراجیکٹ وہیں سے شروع کرنا چاہیے جہاں اسکا اختتام ہوا ۔۔۔ یعنی کے فائز کے اسی اپارٹمنٹ سے۔۔۔
ماہرہ کی بات پر وہ دونوں چونکے۔۔۔
وہ رینٹل اپارٹمنٹ تھا۔۔۔۔ کیا وہ ابھی بھی ہمیں میسر ہوگا۔۔۔ وہاج الجھا۔۔۔
انشااللہ۔۔۔ میں ایک دو روز تک اسکا انتظام کر کے تم دونوں سے رابطہ کرتی ہوں۔۔۔
مطلب پہلے سے ہی سب ٹھان چکی ہو۔۔۔ مرتسم مسکرایا۔۔۔
ہاں بس تم لوگ وہ سارا ڈیٹا ری کولیکٹ کرو جو ایک سال پہلے تم لوگوں نے فائز کے لئے کیا تھا۔۔۔
ماہرہ کے کہنے پر وہ دونوں خاموش ہو گئے۔۔۔ اسے یہ تک نا کہہ سکے کے ڈیٹا تو اکھٹا کر لیں گے پر اسے کس سافٹ وئیر میں فیڈ کریں گے کے یہ تو فائز کا کام تھا۔۔۔
****
نہیں ۔۔۔ میں غلط تھی۔۔۔ مجھے لگتا تھا کے یہ لڑکی پاگل ہوگئ ہے۔۔۔ پر نہیں۔۔۔ یہ لڑکی ہمیں پاگل کرنے پر تلی ہے۔۔۔ غصے سے کمرے میں چکر کاٹتی مام دانت پیس کر گویا ہوئیں۔۔۔
بابا بستر پر نیم دراز تھے جبکہ ماہرہ انکے پاس ہی بیڈ کی پائنتی پر سر جھکائے بیٹھی اپنے ہاتھوں کو غور رہی تھی۔۔۔
اور یہ سب آپکی ڈھیل اور بے جا سپورٹ کا نتیجہ ہے اظہر صاحب کے یہ لڑکی اپنی ہر چیز داو پر لگا رہی ہے۔۔۔
دنیا سے انوکھی محبت کی ہے اسنے۔۔۔ پہلے اس شخص کے لئے اس محل کو چھوڑ کر اس چھوٹی سی کٹیا نما اپارٹمنٹ میں چلی گی۔۔۔ میں پھر بھی مطمئں تھی کہ یہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔۔۔ خدا کی کرنی کے شوہر نہیں رہا مگر اس احمق ابن احمق کی حماقتیں دیکھیں اب باپ کی محفوظ پناہ گاہ چھوڑ کر اسے وہ کٹیا نما اپارٹمنٹ خریدنا ہے پھر وہاں رہنا ہے۔۔۔
اللہ۔۔۔۔۔۔
میں پاگل ہو جاوں گی۔۔۔۔
مام وہ گھر میری جنت ہے۔۔۔ ہاتھوں کی لکیروں پر انگلی سے لکیریں کھینچتے اسکی آواز آبدیدہ ہو گئ۔۔۔
وہ گھر تمہاری جنت تھا تمہارے شوہر کے دم سے میری جان۔۔۔ اب وہ نہیں رہا تو تم اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کر لیتی۔۔۔ مام جیسے بے بس ہوئیں۔۔۔ تمہیں لگتا ہے میں تمہاری دشمن ہوں۔۔۔ کل کو جب زاویار سے تمہاری شادی ہوگی تو کیا وہ تمہیں وہاں رہنے دے گا۔۔۔ نہیں نا۔۔۔ تو پھر ایسے میں کیوں اس جگہ سے جذباتی طور پر وابسطہ ہو رہی ہو ماہرہ۔۔۔ مام کی آواز شکست خوردہ تھی۔۔۔
میرے مستقبل کا جو ہو گا وہ دو ماہ بعد ہو گا۔۔۔ تب تک پلیز مجھے کسی سے بھی منسوب کر کے مجھے تکلیف سے دو چار مت کریں۔۔۔ دو ماہ بعد اگر میں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئی تو میں وہ کروں گی جو آپ کہیں گے۔۔۔ لیکن تب تک میری آپ سے التجا ہے مام۔۔۔ کے اگر آپ واقعی مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہیں تو میرے سامنے دو ماہ بعد میری شادی کی بات کرنے کی بجائے محض مجھے یہ دعا دیں کے اللہ مجھے میرے مقصد میں کامیاب کرے پلیز۔۔۔۔ اسکی آواز کے ساتھ ساتھ آنکھیں تک بھر آئیں تھیں۔۔۔
ماں اسے دیکھتیں رہ گئ۔۔۔
اللہ تمہیں تمہاری ہر کاوش میں کامیاب کرے ماہرہ۔۔۔ تمہاری ہر جائز مراد پوری کرے اور تمہیں صبر دے۔۔۔ ماں یاسیت زدہ لہجے میں کہتیں کمرے سے نکل گئیں۔۔۔
ٹھیک ہے ماہرہ بیٹا کل تک اس اپارٹمنٹ کا سارا پیپر ورک مکمل ہو جائے گا پھر تم اسکی آفیشلی مالکن ہو گئ۔۔۔ بابا کے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
*****
احمر ابھی ابھی آفس آ کر اپنے ڈیسک پر بیٹھا ہی تھا جب اسکا بلاوا آ گیا کے میر اور دلاور خان اسے لیب میں بلا رہے ہیں۔۔۔ وہ گہری سانس خارج کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد وہ کمپیوٹر لیب میں ان تینوں کے روبرو تھا۔۔۔ درمیانی میز پر اسی کا لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔۔
آو آو احمر آو۔۔۔ زرا اس لیپ ٹاپ کو تو آپریٹ کرو
۔۔۔ میر کی آنکھوں میں شیطانی چمک تھی۔۔۔ احمر نے ایک نظر اسے دیکھا پھر لیپ ٹاپ کو اور سر ہاں میں ہلاتا اس طرف بڑھا۔۔۔
میر نے آنکھوں ہی آنکھوں میں دلاور خان کو اشارہ کیا۔۔۔
احمر نے سنجیدگی سے جا کر لیپ ٹاپ کھولا اور اسے آن کرتے ہی اسکے سرفیز پر نظر پڑتے ہی وہ مسکرا دیا۔۔۔۔
وہ دونوں جو اسکا باریک بینی سے مشاہدہ کر رہے تھے اسے مسکراتا دیکھ ٹھٹھکے۔۔۔
*****

No comments