Roshan Sitara novel 95th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 95th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
95th epi...
ماں ہسپتال میں ایڈمت تھی بابا انکے پاس ہی کمرے میں تھے جبکہ مرتسم کمرے سے باہر پریشانی سے چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔
اچانک لگنے والے دھچکے کے باعث ماں کا بی پی خطرناک حد تک شوٹ کر گیا تھا جسکے باعث انکے دائیں کندھے اور بازو میں بھی کھینچیں لگنے لگی تھی۔۔۔ گو کے بروقت ہسپتال لے آنے پر انکا ٹریٹمنٹ ہو گیا تھا ورنہ دائیں سائیڈ پر فالج کا اٹیک ہو سکتا تھا۔۔۔
ماں کی حالت نے یکدم ہی مرتسم کو بہت پریشان کر ڈالا تھا۔۔۔ ڈاکٹر نے انہیں ٹینش اور سٹریس لینے سے منع کیا تھا۔۔۔ لیکن اسقدر کریٹیکل سچوئشن میں پرسکون کس طرح رہا جا سکتا تھا۔۔۔تین گھنٹے مسلسل انڈر آبزرویشن رکھنے کے بعد ڈاکٹر نے بہت سی اختیاطی تدابیر اور دوائیوں کے نسخے کیساتھ ماں کو ڈسچارج کر دیا تھا۔۔۔ لیکن ہوش میں آنے کے بعد سے ماں نے نا تو بابا سے کوئی بات کی اور نا ہی مرتسم سے۔۔۔ یعنی کے ماں ان دونوں سے شدید ناراض تھیں۔۔۔ انہیں دیکھتے ہی وہ آنکھین بند کر کے ان پر بازو رکھ جاتیں۔۔۔
مرتسم کے لئے ماں کا رویہ بہت دلبرداشتہ تھا۔۔۔
بابا آپ ماں کو لے آئیں میں گاڑی نکالتا ہوں۔۔۔ وہ بابا کے پاس آ کر آہستگی سے کہتا باہر نکل گیا۔۔۔
****
جب سے مرتسم اور بابا تائی جان کو ہسپتال لے کر گئے تھے تب سے ہی فاہا بے جان سی لاوئنج کے صوفے پر بیٹھی بےصبری سے انکی واپسی کی منتظر تھی۔۔ رو رو کر آنکھوں کا حشر ہوا پڑا تھا۔۔۔ دل کو الگ ایک ڈھرکا لگا تھا۔۔۔ اتنی ہمت تک نا تھی کے مرتسم یا تایا جان کو ہی فون کر کے تائی جان کی طبیعت کے بارے میں استفسار کر لیتی۔۔۔ عجیب سی پشیمانی اسکی ذات کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔۔۔
دفعتاً کچھ دیر بعد گاڑی آ کر کار پورچ میں رکی تو وہ بے صبری سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ لاوئنج کے دروازے سے تائی جان مضحمل سی ڈولتی ہوئی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر خود کو گھسیٹتیں اندر آ رہی تھیں۔۔۔ گویا انہوں نے مرتسم یا تایا جان کا سہارا لینے سے سختی سے انکار کر دیا ہو۔۔۔۔
فاہا سرعت سے آگے بڑھی اور انہیں سہارا دیا۔۔۔
صد شکر کے تائی جان ابھی مرتسم کی منکوحہ کے بارے میں نہیں جانتیں تھیں نہیں تو یقیناً فاہا کا یہ سہارا بھی قبول نا کرتیں۔۔۔
تایا جان باہر ہی لاوئنج میں بیٹھ گئے جبکہ مرتسم ماں اور فاہا کے ساتھ اندر ہی آگیا۔۔۔
فاہا نے انہیں بیڈ پر بیٹھاتے پیچھے تکیوں کا سہارا دیا اور لحاف کھول کر ان پر اوڑھایا۔۔۔
ماں۔۔۔۔ کب تک مجھ سے ناراض رہنے کا ارادہ ہے یار۔۔ پلیز ناراضگی ختم کر دیں نا ۔۔۔ آپکی ناراضگی جان لے لی گی میری۔۔۔ یہ ہی تو ایک چیز ناقابل برداشت ہے۔۔۔
وہ محبت سے ماں کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاتا شکستہ خیر انداز میں گویا ہوا۔۔۔
فاہا کھڑکی بند کر کے اس پر بلائنڈز گرا رہی تھی۔۔۔ دوپہر کو یہاں سے بہت پیاری دھوپ آ رہی تھی البتہ اب یہاں سے سرد ہواوں کے تھپیڑے اندر آ رہے تھے۔۔۔
مرتسم تم میرا غرور میرا فخر میرا مان تھے۔۔۔میرا بیٹا۔۔۔ جس پر بہت مان تھا مجھے۔۔۔ ماں بیڈ کراون سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بول رہی تھیں۔۔ لہجے میں گہرا دکھ اور یاسیت تھی۔۔۔ خاموش آنسو انکی پلکوں کی بار پھیلانگنے لگے تھے۔۔۔۔ فاہا جو انکے قریب ہیٹر کئے جلا رہی تھی لب بھینچتی آنکھیں کرب سے میچ گئ۔۔۔
اب بھی ہوں ماں۔۔۔ آپ ایسا کیسے بول سکتی ہیں۔۔۔ اسنے شدت سے ماں کا ہاتھ لبوں سے لگایا۔۔۔ اسکی آنکھوں کی نمی ماں کا ہاتھ بھگونے لگی تھی۔۔۔
ماں نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔سب میری خوش فہمیاں تھی۔۔۔ احمقوں کی جنت میں رہ رہی تھی میں ابھی تک۔۔۔ اب وہاں سے پٹخی گئ ہوں تو بہت تکلیف ہو رہی ہے مرتسم۔۔۔ ماں کے گلوگیر لہجے پر وہ تڑپ اٹھا۔۔۔ فاہا سے مزید برداشت نا ہوا تو اٹھ کر کمرے سے نکل گئ۔۔
ماں پلیز ایسا نا کہیں۔۔۔
میرے بیٹے نے میری پسند کو پسند نہیں کیا تو کیا۔۔ اسکا اتنا ملال نا ہوتا۔۔۔
چھپ چھپا کر نکاح بھی کر ڈالا۔۔۔ پوچھنا یا مشورہ کرنا تو دور بتانا تک ضروری نا سمجھا۔۔۔
میرے بیٹے نے میرے اکلوتے بیٹے نے۔۔۔ وہ اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھڑواتیں سسک اٹھیں۔۔۔
ماں پلیز۔۔۔ آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔۔۔ اسنے بے ساختہ ماں کے آنسو صاف کرنے کو ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔ جنہیں ماں نے بے طرح جھٹک دیا۔۔۔
چلے جاو یہاں سے مرتسم۔۔۔ تمہاری یہاں موجودگی میرے لئے تکلیف کا باعث ہے۔۔۔ جاو چلے جاو یہاں سے۔۔۔
ماں میری بات تو سن لیں۔۔
جاو یہاں سے مرتسم۔۔۔ کیا تمہیں سمجھ نہیں آ رہا کے میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔۔ ماں کے غصیلے انداز میں کہنے پر وہ دقت سے سانس خارج کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ ماں کو ہائپر کرنا مطلب انکی طبیعت مزید خراب کرنا تھا۔۔۔ ابھی وہ غصے میں تھیں اس لئے بات نہیں سن رہی تھیں۔۔۔ انکشاف بھی تو چھوٹا نا تھا۔۔۔ کچھ غصہ اترتا تو یقیناً اسکی بات کو سمجھتیں۔۔۔ وہ بھاری دل سے کمرے سے نکل آیا۔۔۔ دفعتا اسکا ریمائنڈر بج اٹھا اور یکدم اسے یاد آیا کے اسے تو ابھی ماہرہ سے ملنے بھی جانا تھا۔۔۔ ورنہ آج سارے دن کے جھمیلوں میں وہ بھول بیٹھا تھا۔۔۔ اسنے وہیں کھڑے کھڑے وہاج کو میسج کیا اور کچن کی جانب چل دیا۔۔۔ وہ چولہے کے سامنے کھڑی کچھ بناتی فاہا کو دیکھ کر وہ بے طرح ٹھٹھکا۔۔۔
مرتسم کی موجودگی وہاں محسوس کر کے وہ اسکی جانب پلٹتی بھرائی آواز میں گویا ہوئی۔۔
مرتسم وہ۔۔۔۔
For God sake Faha..
پلیز آلریڈی بہت پریشان ہوں اس وقت تمہیں بالکل دلاسہ نہیں دے سکتا۔۔۔ اس لئے رو کر مجھے مزید پریشان مت کرنا۔۔۔۔ وہ اسکا ارادہ بھانپتا ایک دم چڑ کر عاجزنہ انداز میں بولا۔۔۔ یوں کے فاہا جو کچھ بولنے کو منہ کھولنے والی تھی بالکل خاموش ہوتی گہرے دکھ تلے دبتی بھرائی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔
گاڈ۔۔۔ وہ جھنجھلا کر آنکھیں بند کرتا چہرے پر ہاتھ پھیر گیا۔۔۔ فاہا نے خفگی سے رخ موڑا۔۔۔۔
وہ اسے کہہ نا سکا کے ان نین کٹوروں میں ہلکورے لیتے آنسو اور انکی سرخی اسکے کس قدر مضطرب بے چین و بے کل کر دیتی ہے۔۔۔
ماں کا خیال رکھنا فاہا پلیز۔۔۔۔ چونکہ وہ حقیقت سے ناآشنا ہیں اس لئے اس وقت گھر میں محض تم ہی ہو جن سے وہ بات کر رہی ہیں یا کسی قسم کی مدد قبول کر رہی ہیں۔۔۔ ورنہ فلحال تو وہ مجھے اور بابا کو دیکھنے تک کی روادار نہیں۔۔۔ اس لئے انہیں ٹائم سے کھانا کھلا کر دوائی دے دینا۔۔۔ مرتسم کے رسانیت سے کہنے پر وہ آنسو پیتی جھکا سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔۔
****
اسی کیفے میں بلایا ہے نا ماہرہ نے۔۔۔ کیفے کے سامنے آ کر گاڑی رکی تو وہاج گاڑی سے نکلتے مستفسر ہوا۔۔۔
ہاں بلایا تو یہیں ہے۔۔۔ وہ سیدھا کیفے میں داخل ہوئے۔۔۔ ایک نگاہ پورے ہال میں گھمائی وہ کہیں نہیں تھی پھر وہیں پہلے ٹیبل پر کرسی گھسیٹتے بیٹھ گئے۔۔۔
لگتا ہے محترمہ ہمیں بلا کر خود لیٹ ہیں۔۔ مرتسم نے بے طرح اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔
دفعتا انہیں اپنے پاس سے بچے کی آواز سنائی دی۔۔۔ اور ساتھ ہی ماہرہ کی وہ سلام کر کے وہیں کھڑی تھی۔۔۔۔
ہیے لٹل چیمپ۔۔۔ وہ دونوں سیاہ عبایہ میں ملبوس ماہرہ کی گود میں اٹھائے مائز کی جانب متوجہ ہوئے جو نیلی جینز پر بلیک جیکٹ پہنے اسکی ہڈی اوڑھے ہوئے تھا۔۔۔ ماتھے پر بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔
مرتسم نے سرعت سے اسے ماہرہ کی گود سے اچکتے اسے سینے سے لگایا وہاج بھی اسی کی جانب متوجہ تھا۔۔۔۔بیٹھو ماہرہ۔۔۔
نہیں یہاں نہیں۔۔۔ فیملی کیبن میں چلو۔۔۔ وہ ارد گرد نظر گھماتی گویا ہوئی تو وہاج اور مرتسم بھی فیملی کیبنز کی جانب چل دئیے۔۔
ایسی کیا خاص بات ہے ماہرہ جو تم ہم دونوں سے یہاں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ مائز وہاج کی گود میں بیٹھا اسکی جیکٹ کی زپ سے کھیل رہا تھا۔۔۔
ماہرہ کچھ دیر خاموشی سے میز پر ڈھرے اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہی ۔۔ مرتسم اور وہاج نے ناسمجھی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔
ماہرہ گہرا سانس خارج کرتی چہرا سیدھا کر گئ۔۔۔
مجھے تم دونوں کی مدد درکار ہے۔۔۔ اسکا لہجہ پست تھا۔۔۔کیسی مدد ۔۔ وہاج الجھا۔۔۔
پہلے بولو کے کیا میری مدد کرو گئے۔۔۔
تمہیں جب جہاں ہماری مدد درکار ہوگئ ماہرہ ہم حاظر ہونگے۔۔ بولو بات کیا ہے۔۔۔ جواب مرتسم کی طرف سے آیا تھا۔۔۔
میں مانتی ہوں کے تم دونوں بھی میری بات سن کر میری فیملی کی طرح مجھے پاگل ہی کہو گئے مگر میں مجبور ہوں۔۔۔ باوجود کوشیش کے اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔ وہ دونوں ٹھٹھکے۔۔۔ مطلب معاملہ اتنا سیدھا بھی نا تھا۔۔۔
بات کیا ہے۔۔۔ وہاج نے گلہ کنگارا۔۔۔
میں فائز کا ادھورا پراجیکٹ مکمل کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ ماہرہ کے انکشاف پر وہ دونوں گم صم رہ گئے۔۔۔ سیدھی زبان میں وہ اسے یہ کہہ کر اسکی ہمت نا توڑ پائے کے فائز کا پراجیکٹ اسکے ساتھ ہی ختم ہو گیا کیونکہ اسکا فارمولہ محض فائز کے پاس تھا اور اسکے بنا تو سائنٹیسٹ عظیم کے دشمن اتنے بڑے لیول پر ہو کر کچھ نا کر پائے تو وہ کیا کرتے۔۔۔ لیکن ماہرہ کی حالت کے پیش نظر دونوں خاموش رہے۔۔۔۔ ابھی وہ محض اسے سننا چاہتے تھے۔۔۔
میں جانتی ہوں کے فائز زندہ ہے۔۔۔ میرا دل کہتا ہے کے وہ ہے۔۔۔۔
ویٹ ویٹ ویٹ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ بولتی۔۔۔ مرتسم نے سرعت سے اسے ٹوکا۔۔۔
تم جانتی ہو کے فائز زندہ ہے۔۔۔
یا۔۔۔۔
تمہارا دل کہتا ہے کے وہ زندہ ہے۔۔۔
کونسی سٹیٹمنٹ درست ہے۔۔۔۔ مطلب دونوں سٹیٹمنٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔۔ مرتسم کا انداز کھوجتا اور ناصحانہ تھا۔۔۔
احمر ہاتھ میں فائل تھامے تیزی سے آفس کے کاریڈور میں چلا جا رہا تھا۔۔۔ وہ جینز پر لانگ کوٹ پہنے ہوئے تھا۔۔۔ آنکھوں پر ریڈنگ گلاسز لگے تھے۔۔۔ اسکا رخ کمپیوٹر لیب کی جانب تھا۔۔۔
میں جانتی ہوں کے وہ زندہ ہے۔۔۔۔ کچھ دیر تک اپنے دونوں فقروں پر نظر ثانی کرنے کے بعد وہ حتمی انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ صد شکر تھا کے کوئی تو تھا جو اسے سننے کو تیار تھا۔۔۔
کیسے۔۔۔ مرتسم دونوں ہاتھ میز پر رکھے انہیں باہم پیوست کئے آگے کو جھکا وہاج کے تاثرات بھی اس سے مختلف نا تھے۔۔۔۔
احمر نے کمپیوٹر لیپ کا بلرر گلاس ڈور کھولا اور اندر داخل ہوا۔۔۔ جبکہ اندر کا ماحول دیکھ کر وہ ٹھٹھکا جہاں پروجیکٹر پر ایک تصویر چل رہی تھی جہاں عبایہ میں ملبوس کھلے بالوں والی لڑکی صوفے پر بے بس پڑی تھی اور میر اس پر جھکا انگلی سے اسکے چہرے سے بال ہٹا رہا تھا۔۔۔ کونے میں لکھا تھا ماہرہ اظہر مشن کلوز۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کرتے چہرا موڑا۔۔۔ مطلب ہمیشہ کی طرح میر یہاں بھی کامیاب ٹھہرا تھا۔۔ پروجیکٹر کے پاس ہی مسکراتا ہوا میر کھڑا تھا جبکہ دلاور خان ویل چیئر پر بیٹھا پروجیکٹر ہی دیکھ رہا تھا اور شائنہ وہ بھی کرسی پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔ سامنے ٹیبل پر سیاہ لیپ ٹاپ پڑا تھا۔۔۔ یقیناً اسکے وہاں آنے سے پہلے وہاں کوئی ڈسکشن چل رہی تھی۔۔۔ جبکہ غیر متوقع طور پر اسے وہاں دیکھ سب خاموش ہوتے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔۔۔۔
مطلب فائز کی ڈیڈ باڈی ہم نے خود ریسکیو کی۔۔۔ اسکی آخری رسومات ادا کیں ۔۔۔ ایسے میں کیسے تم اتنے یقین سے کہہ سکتی ہو۔۔۔
مرتسم کے جرح کرنے پر ماہرہ کی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
وہ دونوں گہرا سانس خارج کر کے رہ گئے۔۔۔ وہ شاید ابھی تک یہ حقیقت قبول نہیں کر پائی تھی۔۔۔
مجھے یہ فائل سیو کرنی تھی۔۔۔ ان سب کو اپنی جانب دیکھتا پا کر احمر نے فائل ہوا میں لہرائی۔۔۔
صبح کر لینا۔۔۔ آج ہمارے لئے جشن کا دن ہے آف کرو آج۔۔۔ میر کا موڈ خاصا خوشگوار تھا تبھی فراغ دلی سے گویا ہوا۔۔ احمر شانے اچکاتا فائل وہیں میز پر رکھتا پلٹا۔۔۔
دیکھو ماہرہ۔۔ وہاج نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے بات کا آغاز کیا۔۔۔
وہ ایک جھلسی ہوئی ڈیڈ باڈی تھی ۔۔۔ تم لوگ کیسے کہہ سکتے ہو کے وہ فائز ہی کی ڈیڈ باڈی تھی۔۔۔ ماہرہ کا لہجہ آس و نراس میں گھرا تھا۔۔۔
شناخت کے لئے اسکے پوسٹ مارٹم کے بعد ریپورٹ لی گئ تھی۔۔۔ مرتسم نے اسے قائل کرنا چاہا۔۔۔
احمر آفس کی لمبی راہداری میں سیدھ میں چلتا جا رہا تھا۔۔۔ حتکہ وہ راہداری چلتا ہوا بیرونی دروازے سے آفس کی عمارت سے باہر نکل گیا۔۔۔
محض پوسٹ مارٹم ریپورٹ سے تم لوگ یہ ثابت کیسے کر سکتے ہو کے وہ فائز ہی تھا۔۔ ریپورٹ جھوٹی بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔ ماہرہ ہار ماننے کو قطعی تیار نا تھی۔۔۔
ہاں ہو سکتی ہے جھوٹی۔۔۔ اگر ڈاکٹر قابل اعتبار نا ہوتا تو۔۔۔ جس ڈاکٹر نے وہ ریپورٹ تیار کی ہے وہ بہت ایماندار ہے۔۔۔ وہاج اسے کسی خوش فہمی کے سہارے زندگی نہیں گزارنے دینا چاہتا تھا۔۔۔
احمر لفٹ سے نکلتا سیدھ میں چلنے لگا۔۔۔ دائیں بائیں مختلف اپارٹمنٹس تھے۔۔۔ وہ ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ تھی۔۔۔
خدارا یوں فضول کی جرح کر کے میری ہمت مت توڑو۔۔۔ میں تم لوگوں کے پاس مدد کے لئے آئی ہوں ۔۔۔ میرے ہلکے سے یقین کو ختم مت کرو۔۔۔
وہ چٹخ اٹھی۔۔۔ مرتسم نے وہاج کا ہاتھ دباتے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔
احمر ایک اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولے اندر داخل ہوا۔۔۔ اپارٹمنٹ صاف ستھرا تھا۔۔۔ اسنے لیپ ٹاپ بیگ میز پر رکھا اور لانگ کوٹ اتارنے کے بعد شرٹ بھی اتار کر صوفے پر پھینکی۔۔۔ اب اسکا رخ واش روم کی جانب تھا۔۔۔
اوکے بتاو تمہیں شک کیسے ہے کے فائز زندہ ہے۔۔۔ مرتسم تحمل سے گویا ہوا۔۔۔
شک نہیں یقین ہے۔۔۔ وہ آنکھیں نکال کر غرائی۔۔
اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔ وہ سرعت سے سیز فائر کر گیا۔۔۔ کیسے۔۔۔
اس سے۔۔۔ اسنے ہاتھ میں پہنے ایک خوبصورت سے بریسلیٹ کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
ان دونوں نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔۔
ماہرہ کی نگاہوں کے سامنے کئ منظر بننے اور بگڑنے لگے اور وہ وقت کے سنگ سفر کرتی کہیں پیچھے جانے لگی ۔۔۔ اپنی ور فائز کی آخری ملاقات میں۔۔۔۔
وہ دونوں اپارٹمنٹ کو الگ کرتے دروازے میں کھڑے تھے۔۔۔ ہواس باختہ سا فائز اسے لیپ ٹاپ اور دوسرے گیجٹس دیتا جانے کی تاکید کر رہا تھا جبکہ وہ مسلسل آنسو بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی جب وہ بے بسی سے اسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔
آئی لو یو ماہرہ۔۔۔ رئیلی رئیلی لو یو۔۔۔
میں تمہیں کسی طور اکیلا چھوڑ کر نہیں جاوں گی۔۔۔ وہ کسی طور اسے چھوڑنے کو تیار نا تھی۔۔۔ پلیز ماہرہ پلیز۔۔ سمجھنے کی کوشیش کرو۔۔۔ میرے اور میرے فرض کے درمیان مت آو۔۔۔ اسنے ماہرہ کا کومل چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔۔۔ وہ شدت سے روتی ہوئی نفی میں سر ہلا گی۔۔۔
یہ بریسلیٹ پہنو دفعتاً اسنے جیب سے ایک بریسلیٹ نکالتے اسکی کلائی میں پہنایا ۔۔۔ گویا وہ اس چیز کی تیاری پہلے ہی کئے بیٹھا تھا کے جانتا تھا اس دیوانی کو کوئی آس کا دیا تھمائے بنا وہ نہیں جا سکتا۔۔۔
بریسلیٹ کلائی میں پہنتے ہی اسکی تیز ترین وائبز سے ماہرہ کا دل بے طرح گھبرایا۔۔۔ اسنے الجھ کر فائز کو دیکھتے بریسلیٹ نوچ کر اتارنا چاہا جب اسنے ماہرہ کی کلائی پر ہاتھ رکھتے اسے ایسا کرنے سے روکا۔۔۔
اسکا ایک پیئر میرے پاس ہے۔۔۔ فائز نے شرٹ کا بازو سرکاتے کہنی سے کافی اوپر اور کندھے کچھ نیچے اپنی بازو دکھائی جہاں سے سکن تھوڑی سی ابھری ہوئی تھی غور کرنے پر پتہ چلتا کی وہاں سکن کلر کا بالکل سکن سے میچنگ کوئی بریسلیٹ کم ڈیوائس تھا۔۔
احمر واش روم میں موجود ٹھنڈے پانی کا شاور آن کئے اسکے نیچے کھڑا تھا۔۔۔ پانی کی ڈھار تیزی سے اسے بگھوتی جا رہی تھی۔۔۔ سامنے لگے دیوار گیر آئینے میں اسکا عکس دکھائی دے رہا تھا جہاں چہرے پر چھایا غصہ اور آنکھوں کی سرخی نمایاں تھی۔۔۔ پانی کی پھوار سے بھیگتی برہنہ بازو پر کہنی سے اوپر شانے سے نیچے سکن کلر کا ایک ہلکا سا ابھار تھا جہاں بہت زیادہ غور کے بعد محسوس ہوتا کے یہاں کچھ ہے۔۔۔ کچھ غیر معمولی۔۔۔
جب بریسلیٹ کے یہ دونوں پیئر ایک دوسرے کے قریب ہونگے تو انکی وائبز اتنی ہی تیز ہونگی۔۔۔ جیسے جیسے یہ دور ہوتے جائینگے انکی وائبز میں کمی آتی جائے گی۔۔۔ ماہرہ یک ٹک فائز کو دیکھتی اسے سن رہی تھی۔۔ جب یہ دونوں پیئر بہت دور ہو جائینگے تو انکی وائبز میں ٹھہراو آ جائے گا۔۔۔ ہاتھ لگانے پر محسوس ہو گا کے یہ پرسکون انداز میں چل رہی ہیں۔۔۔ انکا کچھ حد تک کنیکشن ہماری پلسسز سے ہے۔۔۔ اگر یہ ہمارے جسم سے جدا ہوئے یا ہمارے جسم سے روح کا رشتہ جدا ہو گیا تو دونوں صورتوں میں یہ وائبز رک جائیںگی۔۔۔ پھر یہ عام بریسلیٹ کی طرح بے جان ہو جائینگے۔۔۔۔
ماہرہ کسی خواب کی سی کیفیت سے جاگی تھی۔۔۔
اسے چھو کر دیکھو۔۔۔ اسنے اپنی کلائی ان دونوں کے سامنے کی۔۔۔ بہت ہلکی سہی مگر اس میں وائبز ہیں۔۔۔ مطلب نا تو یہ بریسلیٹ فائز کی باڈی سے الگ ہوا ہے اور نا ہی اسکے جسم اور روح کا رشتہ ٹوٹا ہے۔۔۔ آنسو ماہرہ کی آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ پھسل رہے تھے۔۔۔
اتنی ٹھنڈ میں بھی احمر کے سر سے پھسل کر اسکے جسم کو بھگوتی یخ ٹھنڈے پانی کی پھوار اسکے اندر پھوٹتے آتش فشان کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام ہو رہی تھی۔۔۔ آنکھوں کے سامنے بس ایک ہی منظر ثبت ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔ صوفے پر بے بس سی لیٹی ماہرہ فائز علوی اور اس پر جھکا میر۔۔۔۔
باقی ہر چیز گویا فریز ہو گئ تھی۔۔۔ محض ایک یہ ہی منظر آنکھوں سے خون چھلکا رہا تھا۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچتے اس منظر کو جھٹکنا چاہا مگر بے سود۔۔۔ اندر پلتا آتش فشاں کا لاوا کسی بھی پل پھٹنے کو بے تاب تھا۔۔۔ سر سے یخ ٹھنڈے پانی کی پھوار یونہی برستی اسے بگھو رہی تھی۔۔۔۔
*****

No comments