Roshan Sitara novel 94th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 94th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
94th epi....
ولیمے سے واپسی پر ان سب کو گھر پہنچتے پہنچتے خاصی دیر ہوگئ تھی۔۔ وہاج اور علایہ بھی رسم کے مطابق انکے ساتھ ہی لودھی ہاوس آئے تھے۔۔۔ علایہ شادی پر جتنی مضحمل اور پزمردہ تھی اب اتنا ہی چہک رہی تھی۔۔۔ بلاشبہ وہاج اسکے حق میں بہت بہترین ہمسفر ثابت ہوا تھا۔۔۔ وہ شخص اس شخص سے یکسر مختلف تھا جو تاثر اسنے اپنی پہلی ملاقات میں علایہ پر چھوڑا تھا۔۔۔
البتہ گھر آنے کے بعد سے ماں خاصی گم صم اور خاموش خاموش سی تھیں۔۔۔ وہ گھر آ کر سب کے بیچ زیادہ دیر بیٹھی بھی نہیں۔۔۔ خرابیِ طبیعت کا کہتیں جلد ہی اٹھ کر اندر چلے گئیں۔۔۔ لودھی صاحب اور فاہا ہی کچھ دیر انکے پاس بیٹھے پھر جلد ہی تایا جان سب کو آرام کرنے کا کہتے اٹھ کر کمرے میں آگئے۔۔۔
علایہ اور وہاج کے کمرے میں جانے کے بعد فاہا جو تب سے ناجانے کس ضبط سے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بیٹھی تھی اسکے چہرے سے مسکراہٹ یوں غائب ہوئی جیسے کسی نے نوچ کھینچی ہو۔۔۔
وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئ اور دروازہ بند کرتی بستر پر ڈھے گئ۔۔۔ اسکا دل بے ہنگم نداز میں ڈھرک رہا تھا۔۔۔ اسکی وجہ سے اس گھر میں کوئی بدمزگی پھیلے یا تائی جان اسے اپنے گھر میں جنم لیتے اختلافات کی وجہ ٹھہرائیں وہ یہ قطعاً نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اسی لئے اب آنے والے وقت سے ڈر رہی تھی۔۔۔۔
کچھ وقت پہلے کے مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے۔۔۔ جب تائی جان تایا جان سے بات کر کے پریہا اور اس کے ماں باپ کو لے کر ایک کونے میں آئیں اور انہیں منگنی نا ہونے کے بارے میں نہایت مناسب الفاظ میں سمجھانا چاہا۔۔۔ اس وقت پریہا نے جو ڈرامہ لگایا کے الامان۔۔۔ اور یہ ہی کافی نہیں تھا کے رہتی کسر اسکی ماں نے پوری کر دی۔۔۔
تائی جان اور پریہا کی ماں دونوں بہنیں ہیں یہ بات کسی طور ماننے میں نا آتی تھی دونوں کے مزاج اور اندازو اطوار میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔
یہ بات تم اب بتا رہی ہو ہمیں۔۔۔۔جب بات اتنی بڑھ گئ۔۔۔ ہر رشتے دار یہ بات جانتا ہے کے آج پریہا کی منگنی ہے اور ایسے میں اب انکار۔۔۔ تم سوچ سکتی ہو ہماری کتنی سبکی ہو ناہید لودھی مت بھولو کے بیٹی تمہارے گھر میں بھی ہے۔۔۔ پریہا کی ماں گرجنے پر آئی تو تائی جان کو گڑبڑانے پر مجبور کر گئیں۔۔۔آپا ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ تائی جان روہانسی ہو اٹھیں۔۔۔ دور کھڑی یہ سب سنتی فاہا کی ٹانگیں تک کپکپانے لگی۔۔۔ یہ سب تو سوچ سے پرے تھا۔۔۔ اسکے مطابق تو بس تائی جان کو منانا مقصود تھا۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ وہ چکرا کر ہی تو رہ گئ۔۔۔
ناہید۔۔۔ یا تو میری بیٹی کو زہر دے دو یا اپنی بہو بنا لو۔۔۔ وہ اتنی ذلت وہ کیسے برداشت کرے گی۔۔۔
پریہا مسلسل روئے جا رہی تھی۔۔۔ تائی جان کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے۔۔۔
آپا مجھے کچھ وقت دیں۔۔۔ میں سب سیٹ کر دوں گی۔۔۔ مرتسم میرا بیٹا ہے وہ میرے خلاف کبھی نہیں جائے گا ۔۔۔ ماں کی عزت کی خاطر وہ باپ کی پسند کی ہوئی لڑکی کو چھوڑ کر پریہا سے نکاح ضرور کرے گا۔۔۔ اتنا مان ہے مجھے میرے بیٹے پر۔۔۔ تائی جان کی لرزتی آواز میں کئے گئے نکشاف پر فاہا کی رہتی سہتی ہمت بھی جواب دینے لگی۔۔۔ معاملہ عزت کا چل نکلا تھا وہاں جیت بھلا کس کی ہوتی۔۔ سو طرح کے وہمے اسکے دل کو کسی آکٹوپس کی مانند جھکڑے ہوئے تھے۔۔۔ یوں کے اسے سانس بھی رک رک کر آ رہا تھا۔۔۔ ہر آتا سانس اسے اذیت کی نئ دستان سے روشناس کروا رہا تھا۔۔۔
اور جو دل کے نہاں خانوں میں آ سمایا تھا وہ ناجانے اس وقت کہاں تھا۔۔۔ ویسے بھی ناجانے کس بات پر وہ اس سے بھی کھنچا کھنچا تھا۔۔۔ کچھ دیر پہلے کا اسکا رویہ یاد آیا تو دل مزید دکھی ہو گیا۔۔۔
*****
مرتسم لودھی اس وقت اپنے فلیٹ میں موجود اسکے اوپن کچن میں کھڑا ٹراوزر شرٹ میں ملبوس اپنے لئے کافی پھینٹ رہا تھا۔۔۔ بروقت وہ منظر عام سے غائب ہو گیا تھا۔۔۔ کچھ بھی اس سے مخفی نا تھا۔۔۔ اسکی زیرک نگاہیں وہاں ہوتی ایک ایک کاروائی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔ مزید بابا کے ساتھ نے سب مزید آسان بنا دیا تھا۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے انہی کا فون آیا تھا کے وہ آج رات گھر واپس نا آئے کے وہاں مطلع صاف نہیں۔۔۔ کچھ وقت تک نظراندزی اور گریز ہی اس ٹھاٹھیں مارتے طوفان پر بندھ باندھنے کو ضروری تھا۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے وہ اس وقت فلیٹ میں موجود تھا۔۔۔ ابھی کافی پھینٹ ہی رہا تھا جب اسکا فون بج اٹھا۔۔۔ اسنے کاونٹر ٹاپ پر پڑے فون کی سکرین پر جگمگاتے نمبر کو دیکھا اور الجھتے ہوئے فون اٹھایا بھلے اس وقت یہ کال۔۔۔۔
وہ ناسمجھی سے فون کال یس کر کے فون کان سے لگا گیا۔۔۔
ہیلو۔۔۔
دوسری طرف ماہرہ تھی جو نائٹ ڈریس میں ملبوس اپنے کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتئ ناخن چبا رہی تھی۔۔ زیرو پاور کی بتی روشن تھی اور اس سے کچھ فاصلے پر بستر پر دراز محو استراحت شہزادوں سی آن بان والا مائز دنیا و مافیا سے بے خبر سو رہا تھا۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔ ماہرہ بات کر رہی ہوں۔۔۔
سلام دعا کے بعد وہ مدعے کی بات پر آئی۔۔۔
ہممم۔۔۔ میں پہچان چکا ہوں۔۔۔ لیکن خیریت تم نے اس وقت فون کیا۔۔ مطلب رات کافی ہوگئ نا اسی لئے میں پریشان ہو گیا تھا کے سب خیریت ہو۔۔۔
وہ کافی کا مگ لئے باہر لاوئنج میں ہی آ گیا۔۔۔
ہاں سب خیریت ہی ہے۔۔۔ بس شش و پنج میں مبتلا اندازاہ ہی نا ہو سکا کے رات زیادہ ہو گئ ہے۔۔۔ اسکا انداز پشیمان سا تھا۔۔۔
نہیں اٹس اوکے۔۔۔ لیکن کیا سب ٹھیک ہے۔۔۔ صوفے پر بیٹھٹے وہ محتاط سے انداز میں بولا۔۔۔
میں تم سے اور وہاج دونوں سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔ کچھ ڈسکس کرنا ہے تم دونوں سے۔۔۔ ماہرہ کے لہجے میں غیر معمولی سنجیدگی سمٹ آئی تھی۔۔۔
مرتسم ٹھٹھکا۔۔۔
سب خیریت ہے نا۔۔۔
نہیں۔۔۔ مجھے تم دونوں کی مدد درکار ہے۔۔۔ اور مجھے امید ہے کے فائز جسقدر تم دونوں کے قریب تھا تم دونوں اس مدد کے لئے انکار نہیں کرو گئے۔۔۔۔
بالکل ٹھیک سوچا تم نے ۔۔۔ تمہیں جب جب جہاں کہیں بھی ہماری مدد کی ضرورت ہوئی ہم سر کے بل چلے آئیں گے۔۔۔ لیکن کچھ بتاو تو سہی۔۔۔ اب سہی معنوں میں اسے ماہرہ کے انداز پریشان کر رہے تھے۔۔۔
ملوں گی تو بتاوں گی۔۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے ہم دونوں کل شام میں تمہاری طرف آ جائیں گے۔۔۔ مل کر بات بھی ہوجائے گی اور مائز سے ملاقات بھی۔۔۔ اسنے کچھ سوچتے ہوئے لمحوں میں پلان ترتیب دے دیا۔۔۔
نہیں گھر نہیں۔۔ ہم باہر مل رہے ہیں ۔۔۔ ہماری یونیورسٹی کے قریب جو کیفے ہے وہاں۔۔۔ وہ قطعیت سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔ مرتسم خاموش ہو گیا۔۔۔ ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔۔ ہم شام چار بجے وہاں پہنچ جائے گے۔۔
رابطہ منقطع ہونے کے بعد کافی دیر تک مرتسم اسی کے بارے میں سوچتا رہا جبکہ دوسری طرف ماہرہ اب اپنی شال اٹھا کر سر پر اوڑھتی اپنے گرد لپیٹ رہی تھی۔۔۔ پاوں میں نازک سی چپل تھی۔۔ اسنے ایک نظر بستر پر سوئے مائز کو دیکھا اور کمرے سے نکل گئ۔۔۔ باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہواوں کے جھونکوں نے اسے کپکپانے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔اب اسکا رخ سیکورٹی انچارج کے آفس کی جانب تھا۔۔۔
وہ بہت کچھ ٹھان چکی تھی۔۔۔ لاعلمی میں اسنے بہت مار کھا لی تھی اب وہ کسی سخت چٹان کی مانند لڑنے مرنے کو تیار ڈٹ کر محاز سمبھال چکی تھی۔۔ عورت کو کمزور سمجھنے والوں کی دماغ کی چولیں تک ہلا دینے کے لئے تیار۔۔۔۔ جیسے اپنی سبھی کشتیاں جلا چکی ہو۔۔ اب یا تو فتح تھی یا موت۔۔۔۔۔پختہ عزم کئے۔۔۔ دو مہینے تو تھے ہی اسکے پاس۔۔۔ ان دو مہینوں میں وہ بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ محبت کو شرمسار کرتی تو لعنت تھی اس محبت پر جو اسنے فائز سے کی تھی۔۔۔
اسکا شوہر ایک بہتریں مائنڈ پلانر تھا۔۔۔ وہ فزیکلی نہیں دماغی طور پر منصوبہ بندی سے دوسروں کو مات دیتا تھا۔۔۔ اسکی صحبت کا کچھ تو اثر ہوتا اس پر۔۔۔
سیکورٹی ہیڈ کے دفتر کا دروازہ ناک کرتی وہ اندر داخل ہوئی۔۔۔ چاروں جانب سسٹم اور پچھلے ایک مہینے کا سی سی ٹی وی کیمراز کا ریکارڈ پڑا تھا۔۔۔۔
اسے اندر آتا دیکھ سیکیورٹی ہیڈ الڑٹ ہوتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
سلام میم ۔۔۔ کیسے آنا ہوا۔۔۔ کوئی کام تھا تو آپ مجھے بلوا لیتیں۔۔۔
وہ مودب سا ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔ ماہرہ نے سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیا۔۔۔
پرسوں صبح کی فوٹیج لگاو۔۔۔
وہ حکمیہ کہتی کرسی کھینچ کر وہاں بیٹھی۔۔۔ سیکیورٹی ہیڈ بھی مستعدی سے بیٹھتا کی بورڈ پر انگلیاں چلانے لگا۔۔۔۔
ماہرہ کی پرسوچ نگاہیں سکرین پر ہی مرکوز تھیں۔۔۔ اسے اچھے سے یاد تھا کے اسنے اپنا لیپ ٹاپ ہی سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا۔۔۔ پھر اس کی جگہ فائز کا لیپ ٹاپ کیسے آیا۔۔۔ فائز کا لیپ ٹاپ وہ بہت سمبھال کر لاکر میں رکھتی تھی۔۔۔ اسکی چیزیں ایسی نا تھی کے وہ کھلے عام رکھ دیتی۔۔۔ لیکن اس روز پچھلی ساری رات وہ فائز کے لیپ ٹاپ پر سر کھپاتی رہی تھی۔۔۔ جو کام وہ کرنے جا رہی تھی اس کے لئے یہ سب بے حد ضروری تھا لیکن اسکے خاک پلے نا پڑا۔۔۔ وہ کوڈنگ میں اناڑی تھی اور گوگل کی مدد لے کر بھی وہ کچھ خاص نا سمجھ سکی تھی۔۔۔ لیکن لمحہ فکریہ تو یہ ہی تھا کے اسکا لیپ ٹاپ تبدیل کیسے ہوا۔۔۔ جس نہج پر وہ پہنچ چکی تھی اور جو وہ کرنے کا سوچ رہی تھی اسکے مطابق اس گھر کا ہر ہر فرد ہی شک کے دائرے میں آ رہا تھا۔۔۔ وہ کسی کو بھی رعایت دینے کو تیار نا تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں فوٹیج اسکے سامنے تھی۔۔۔ کئیر ٹیکر کا نظریں چرا چرا کر کیمرے کی طرف دیکھنا اور بہترین پلانینگ سے لیپ ٹاپ بدلنا۔۔۔ ماہرہ سن رہ گئ۔۔
اسکے دماغ میں دھماکے سے ہونے لگے۔۔۔ طیش سے دماغ پھٹنے لگا۔۔۔ گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھا رہا تھا۔۔۔ دشمن اسکے اسقدر قریب پہنچ چکا تھا اور وہ بے خبری میں ہی ماری جا رہی تھی۔۔۔
اور حد تھی ڈھٹائی کی کے وہ عورت اتنے بڑے کارنامے کے بعد بھی وہیں اسکے پاس کام پر معمور تھی۔۔۔ اسکا دل بے طرح ڈھرکا۔۔
اسکا بیٹا۔۔۔ اسکی جینے کی وجہ۔۔۔ اسکا کل سرمایا۔۔۔ اگر وہ عورت نفرت و دشمنی میں اسے کچھ کر دیتی تو۔۔۔۔
وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں وہاں سے نکلی اور بنا رات کے کسی پہر کا احساس کئے اسنے وہ چیخ و پکار مچائی کے لمحوں میں سب حواس باختہ سے وہاں اکھٹے ہو گئے۔۔۔
کیا ہوا ماہرہ۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔ سب سے پہلے بوکھلائی سی ماں ہی اس تک پہنچی۔
سب آپ کا کیا دھرا ہے مام۔۔۔ آپ کی رکھوائی کئیر ٹیکر ہی میری جڑیں کاٹنے لگی۔۔۔ پھر ماہرہ نے روتے ہوئے جو انکشاف کئے تو سب ہی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔۔۔
ماں نے آگے بڑھ کر اسکے کپکپاتے وجود کو خود سے لگایا۔۔۔۔
فکر مت کرو ماہرہ۔۔۔ اسکا سارا ریکارڈ حتکہ شناختی کارڈ کی کاپیز تک سیکیورٹی ہیڈ کے پاس محفوظ ہے ۔۔۔ وہ بچ نہیں سکے گی۔۔۔ ہم صبح ہی اس پر کاروائی کریں گے۔۔۔۔
بابا نے آگے بڑھتے اسکے سر پر دست شفقت دراز کیا۔۔۔
صد شکر کے وہ اکیلی نا تھی۔۔۔ اسکی پوری فیملی اسکے شانا بشانہ تھی۔۔۔۔ اور بلاشبہ یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت تھی۔۔۔
صبح کیوں بابا۔۔۔ ابھی کیوں نہیں۔۔۔ صبح میں تو بہت وقت ہے۔۔۔ ابھی۔۔۔ ابھی کریں کاروائی۔۔۔
اسکے دو ٹوک اور حتمی لہجے پر مظہر سمجھ کر سر ہاں میں ہلاتا فون پر نمبر ملاتا باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ ماہرہ اب کسی بھی کام میں لمحے کی تاخیر نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔
اسکا دل ابھی تک خوف سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ ان تینوں کو وہیں چھوڑ وہ اندر آگئ اور سوئے ہوئے مائز کو خود میں بھینچتی چٹا چٹ اسکے معصوم چہرے پر کئ ایک بوسے لے گئ۔۔۔ جو تمہیں کچھ ہو جاتا میری جان۔۔۔ تو تمہاری ماں کیسے معاف کرتی خود کو۔۔۔ خاموش آنسو آنکھوں کی کنپٹیوں سے لکیروں کی مانند بہتے جا رہے تھے۔۔۔
کیا جواب دیتی تمہارے باپ کو کے میں اسکی اتنی قیمتی امانت کا خیال نہیں رکھ سکی۔۔۔ دل درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔
آجاو فائز۔۔۔ پلیز آجاو۔۔۔ میں تھک چکی ہوں۔۔۔ تمہارے بنا تنہا میں کچھ بھی نہیں۔۔۔ اور پھر رات کی تنہائی نے اسکی سسکتی ہوئی سرگوشیاں سنی تھیں۔۔۔۔
*****
اگلے دن علایہ اور وہاج دوپہر کو ہی واپس چلے گئے۔۔۔ یا مرتسم کی حکمت عملی کام آئی اور اسی کے کہنے پر وہاج جلد واپسی کا بہانہ کرتا علایہ کو لئے چلا گیا۔۔۔ گھر کے حالات خراب ہو رہے تھے ۔۔۔ ماں کی طبیعت بگڑ رہی تھی۔۔۔ معاملہ اتنا سنجیدہ نا رہا تھا جتنا انہوں نے سوچا تھا۔۔۔ پریہا کے ماں باپ کی طرف سے پریشر بڑھ رہا تھا۔۔۔
ایسے میں دوپہر کو ہی مرتسم گھر واپس آ گیا۔۔۔ ایسے ہی ہستا مسکراتا جیسے وہ ہر بات ہر چیز سے لاعلم ہو ۔۔۔
اسے یوں دیکھ مضحمل سی ماں اٹھ بیٹھیں۔۔۔۔
کیا ہوا آپکو ماں۔۔۔ ایک ہی رات میں اتنی طبیعت خراب کر لی۔۔۔ لیکن کوئی بات نہیں میں ایک دن میں آپکو بالکل ٹھیک کر دوں گا۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے ان سے گلے ملنے کے بعد انکے سر کا بوسہ لیتا انکے پاس ہی کرسی کھینچ کر بیٹھا اور انکے دونوں ہاتھ تھام گیا۔۔۔
بابا بھی کمرے میں ہی موجود صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔۔۔ انہوں نے ماں بیٹے کے معاملے سے لاتعلقی ہی برتنا بہتر سمجھا۔۔۔
مرتسم میں ماں ہوں آپکی بیٹا۔۔۔ کیا ماں ہونے کے ناطے میں کچھ مانگوں تو آپ مجھے دیں گے۔۔۔ ماں کی آواز گلوگیر تھی۔۔۔ آنکھوں میں آس تھی۔۔۔ مرتسم ٹھٹھکا۔۔۔ اندر کہیں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔۔۔۔
اسنے چونک کر ایک نظر باپ کو دیکھا جو اخبار سے نگاہیں ہٹائے ماں کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔ پھر ماں کو جنکی آس و نراس میں جھولتی نگاہیں اسی پر ٹکیں تھی۔۔۔
حکم کریں ماں۔۔۔ مرتسم نے ماں کا کپکپاتا ہاتھ تھپتھپایا۔۔۔۔
جبکہ ماں کے لئے سوپ کا باول لے کر اندر آتی فاہا کے ہاتھ بے طرح کپکپائے۔۔۔ دل میں ارتعاش سا برپا ہونے لگا۔۔۔۔۔
میں جانتی ہوں کے پریہا تمہیں پسند نہیں۔۔ تمہاری ہم مزاج نہیں۔۔۔ ویسی لڑکی نہیں جیسی تمہیں اپنی ہمسفر کے طور پر چاہیے لیکن اسکے باوجود میری جان۔۔۔ میری تم سے التجا ہے کے تم اسے ایک موقع دو۔۔۔ وہ تمہاری توقعات پر پوری اتر آئے گی۔۔۔ اسے وقت دو۔۔۔ میں اسکے ماں باپ کو زبان دے چکی ہوں۔۔۔ یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھ لو مرتسم۔۔۔ بات اب میری زبان اور عزت کی آگئ ہے۔۔۔ میری جان میری زبان کا پاس رکھ لو۔۔۔ اللہ تمہیں بہت بخت لگائے گا۔۔۔ ماں اسکے سامنے ہاتھ جوڑتیں رو پڑیں۔۔۔ جبکہ فاہا کی ساری ذات ہی جھٹکوں کی زد پر آگئ۔۔۔
اور مرتسم وہ تو وہیں بیٹھا بیٹھا ہی فنا ہو گیا۔۔۔ حق دق سا جیسے پتھر کا ہو گیا ہو۔۔۔ نا حکم نا جبر نا فیصلہ۔۔۔۔
ایسی بے بسی بھری التجا۔۔۔۔ ایسی باتیں و اسکا دل دہلا گئ۔۔۔۔وہ خود کو فنا ہوتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔ اسنے اپنی سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں سےان کے نحیف کپکپاتے بندھے ہاتھ شدت سے تھامے۔۔۔ صورتحال ایسی تھی کے ایک پل کو تو اسکا دماغ ہی مفلوج ہو گیا۔۔۔
میری عزت اب تمہارے ہاتھ میں ہے مرتسم۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔
Now this is to much misses lodhi....
اس سے پہلے کے وہ مزید التجا کرتیں تایا جان بھرپور غصے سے چٹختے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔
بند کریں یہ عزت اور جذباتی بلیک میلنگ کے نام پر اسے مجبور کرنا۔۔۔ ہم نے باقاعدہ ہاں نہیں کی۔۔۔ کوئی منگنی نہیں ہوئی تو کیسی عزت اور ہنگامہ۔۔۔ ایک نارملی بات چلی اور بس۔۔۔ جس میں سراسر لڑکا اور اسکا باپ شامل ہی نہیں۔۔۔ کیا ایسے ہوتے ہیں رشتے۔۔۔
رہ گئ بات مرتسم کی ہاں یا نا کی۔۔۔ تو آپکا بیٹا اب باپ کے حکم کا پابند ہے۔۔۔ یہ فیصلہ اسکے اختیار میں نہیں۔۔۔۔
کیونکہ کچھ عرصہ پہلے میں خود اسکا نکاح کروا چکا ہوں اور اس بچی کے ساتھ میں کسی قسم کی ناانصافی اور زیادتی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ اس لئے یہ بات دل سے نکال دیں۔۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ وہ اس لہجے میں گرجے تھے اور خوب خوب گرجے تھے مزید انکشاف ایسا تھا کے ماں کو لگا کے کسی نے انکے پورے وجود کے بم لگا کر پرخچے اڑا دئیے ہوں۔۔۔۔
انہوں نے خالی خالی نگاہوں سے شوہر کو دیکھا پھر بیٹے کو۔۔۔۔ جو اس ساری کاروائی میں گم صم سا سر تھامے بیٹھا تھا۔۔۔
یکدم ہی انکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا اور وہ تیورا کر گر پڑیں۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ بستر سے زمین بوس ہوتیں مرتسم نے تیزی سے لپکتے انہیں سمبھالا۔۔۔ بابا بھی تیزی سے انکی جانب بڑھے۔۔۔
ماں۔۔۔ ماں۔۔ مرتسم پریشانی و بے چینی سے انکا چہرا تھپتھپا رہا تھا۔۔۔
جبکہ سائیڈ ٹیبل کے کونے کو تھامے کھڑی فاہا تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔ آنکھوں سے سیل رواں جاری تھا۔۔۔ وہ ان سب کا مجرم خود کو تصور کر رہی تھی۔۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے بابا اور مرتسم ماں کا بے ہوش وجود اٹھائے باہر بھاگے جبکہ فاہا کی کپکپاتی ٹانگوں نے اسکے وجود کا وزن سہارنے سے انکار کیا تو وہ وہیں بیٹھتی چلی گئ۔۔۔
******

No comments