Header Ads

Roshan Sitara novel 93rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  93rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

93rd epi...
      مرتسم لودھی بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس نک سک سے تیار ٹائی کی ناٹ سیدھی کرتا بعجلت سیڑھیاں اترتا نیچے آ رہا تھا۔۔۔ سب سے لیٹ صرف وہی تھا باقی سب تو تقریباً وہاج اور علایہ کے ولیمے کے لئے وینیو پہنچ چکے تھے۔۔۔
سڑھیاں اتر کر ہال سے ہوتا وہ لاوئنج کا داخلی دروازہ عبور کر کے باہر روش پر آیا جب سامنے فاہا کو جاتا دیکھ  ٹھٹھکا۔۔۔ اور گہرا سانس خارج کرتا اسکی جانب بڑھا اسکے خیال میں وہ اکیلا لیٹ تھا پر نہیں۔۔۔ اسکی غلط فہمی جاتی رہی۔۔۔
ابھی وہ فاہا کے قریب پہنچا ہی تھا جب وہ بے طرح لڑکھڑائی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ سمبھلنے میں ناکام ہوتی زمین بوس ہو جاتی اسنے لپک کر اسے تھاما۔۔۔ یوں کے اسکے گرد مضبوط بازوں کا حصار قائم کیا۔۔۔ خود کو کسی کے حصار میں مقید پا کر فاہا نے اچھنبے سے سر اٹھاتے نوارد کو دیکھا اور سامنے خوشبوں میں نہائے خوبرو سے مرتسم کو دیکھ کر وہ کچھ ڈھیلی پڑتی نظریں جھکا گئ۔۔۔
اور ٹھٹھک تو مرتسم بھی گیا اسے یوں دیکھ کر۔۔۔
بلیک پاوں کو چھوٹی میکسی میں ملبوس میک آپ کے نام پر ہلکی سی فاونڈیشن لگا کر لائنر اور لائٹ سی لپ اسٹک لگائی گئ تھی۔۔۔ بال بھی کیچر میں مقید تھے۔۔۔ میکسی کا ڈوپٹہ ایک شانے پر تھا جبکہ شانوں پر شال اوڑھی گئ تھی۔۔۔
گو کے وہ اتنی سی تیاری میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ لیکن مرتسم کو ٹھٹھکانے کا باعث اسکا مضحمل انداز بنا تھا۔۔۔ حد سے زیادہ خاموشی۔۔۔  آنکھوں میں ہلکورے لیتا دکھ اور گم صم انداز۔۔۔ گو وہ بہت بے دلی سے تیار ہوئی ہو۔۔۔
طبیعت ٹھیک ہے تمہاری۔۔۔ وہ جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ خاصی بے دلی سے جواب آیا۔۔۔ وہ مزید الجھا۔۔۔
سب وینیو پہنچ چکے ہیں۔۔۔ تم ابھی تک کیوں نہیں گی۔۔۔۔ 
گئے تو ابھی تک آپ بھی نہیں۔۔۔ پھر مجھ سے اتنی تفتیش کا مقصد۔۔۔ انداز پھاڑ کھانے والا تھا۔۔۔
مرتسم یکدم خاموش ہو گیا۔۔۔ فاہا سر جھٹک کر رہ گئ۔۔۔ بولا تھا تائی جان کو کے نہیں دل چاہ رہا آج کی تقریب اٹینڈ کرنے کو۔۔۔ پر نہیں مانیں۔۔۔ کہتیں ہیں ضروری ہے جانا۔۔ اسکے انداز نڑوتھے نڑوتھے سے تھے۔۔۔ مرتسم ابھی تک بات کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام تھا۔۔۔
اور تقریب میں کیوں نہیں جانا تھا۔۔۔
گاڑی کا ڈرائیونگ ڈور کھولتے وہ محتاط سے انداز میں بولا۔۔۔ جواباً پیسنجر سیٹ کا دروازہ وا کرتے فاہا نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا یوں کے مرتسم کے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔۔۔
مطلب جو بھی معاملہ تھا اسی سے ریلیٹڈ تھا۔۔۔ وہ اسی سے شاکی تھی۔۔۔ گاڑی سٹارٹ کرکے گیٹ سے بارے نکالتے وہ کنگارا۔۔۔
سیریسلی فاہا مجھے آنکھوں کی زبان پڑھنا بالکل نہیں آتا وہ بھی تب جب نگاہیں اتنی قاتل ہوں۔۔۔ مرتسم کی زبان کو وہیں بریک لگا جب فاہا نے وہی قاتل نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا لیکن اس مرتبہ وہاں بے بسی کی گہری داستان رقم تھی۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان قاتل نگاہوں میں سمندر تیرنے لگا۔۔۔ وہ سمندر کبھی بھی بندھ توڑ کر بہہ نکلنے کو تیار تھا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔۔
What is this  Faha...
 وہ بے ساختہ بیچ راستے میں گاڑی روک گیا۔۔۔
معاملہ کیا ہے یار بتاو گی نہیں تو مجھے واقعی سمجھ نہیں آئے گا۔۔۔ وہ الجھ کر رہ گیا۔۔۔
آپ نے بولا تھا آپ آج کی تقریب میں نہیں آئیں گے۔۔۔ اب آپ جا رہے ہیں۔۔۔ اور وہاں تائی جان کی عزت کی خاطر پریہا سے منگنی بھی کر لیں گے اور۔۔۔ وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی رو دی۔۔۔۔
وہ جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔ تو گویا بلی تھیلے سے باہر آ نکلی تھی۔۔۔
وہ ہونٹوں پر ہاتھ کی مٹھی جما گیا۔۔۔
میری بہن کا اتنا خاص فنگشن ہے فاہا۔۔۔ میں وہاں شرکت نا کر کے لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع نہیں دے سکتا۔۔۔ مرتسم کا انداز سنجیدہ تھا۔۔۔
لوگوں کی بہت پرواہ ہے آپکو۔۔۔ پھر لوگوں کی پرواہ کرتے  پریہا کا ہاتھ بھی تھام لیجیئے گا۔۔۔ فاہا کا انداز طنزیہ اور گہری کاٹ لئے ہوئے تھا۔۔۔
Now this is to much Faha...
میں بار بار ایک ہی بات دہرانے کا عادی نہیں ہوں۔۔۔ اسکا لہجہ سرد اور انداز سنجیدہ تھا۔۔۔ فاہا دکھ سے اسے دیکھتی رہ گئ۔۔۔
کیا تھا یہ شخص پل میں تولہ پل میں ماشہ۔۔۔ اسکا پھوڑے کی مانند دکھتا دل بھر بھر آیا۔۔
آپ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔۔۔ فاہا نے گیلی سانس اندر کھینچتے چہرا دروازے کی جانب موڑا تو مرتسم بھی غصے سے گاڑی ڈرائیو کرتا گاڑی ہواوں میں اڑاتا لے گیا۔۔۔۔
مرتسم کا یہ ردعمل فاہا کی سمجھ سے پڑے تھا۔۔۔ وینیو پہنچ کر گاڑی رکی تو مرتسم نے گاڑی سے اترتے ہی اسکے اترنے کا انتظار کیا اور اسکے اترتے ہی لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر چلا گیا۔۔۔
*****
فاہا گم صم سے انداز میں ہال کے اندر داخل ہوئی جہاں داخل ہوتے ہی اسے پہلا جھٹکا تتلی بنی پریہا کو دیکھ کر لگا۔۔۔ وہ لائٹ پنک کلر کی میکسی میں ملبوس جسکی ٹیل کئ فٹ پیچھے تک زمیں پر سجدہ ریز تھی۔۔۔ لائٹ سی جیولری میں ہیوی ہئیر سٹائل اور ماہرانہ بیوٹیشن کے ہاتھ سے کئے گئے میک آپ میں ایوئنٹ کی چیف گیسٹ بنی گھوم رہی تھی جیسے آج کا فنگشن علایہ کا نہیں بلکہ اسکا ہو۔۔۔
فاہا کا دل مذید مکدر ہونے لگا۔۔۔۔
وہ بے دلی سے جا کر ایک خالی ٹیبل پر بیٹھ گئ۔۔۔ ابھی تک علایہ اور وہاج کی اینٹری نہیں ہوئی تھی۔۔
یہاں آنے کے بعد سے اب تک اسے مرتسم کہیں دکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔ کیا وہ واپس چلا گیا۔۔۔ دلِ مضطرب نے سرگوشی کی۔۔۔  وہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔  ابھی اس سے پہلے تو اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں علایہ کے آنے کا شور اٹھا تھا تو ہال میں انکی شاندار اینٹری کروائی گئ۔۔۔ شادی میں نانا کرتے بھی بہت سے مہمان ہو گئے تھے لیکن ولیمہ تھا ہی وسیع پیمانے پر۔۔۔ ڈراون کیمراز جگہ جگہ کی کوریج لے رہے تھے ۔۔۔ فوٹوگرافرز کے نرغے میں وہ دونوں  آ کر سٹیج پر بیٹھے تو سب باری باری آ کر ان سے ملنے لگے۔۔۔فاہا نے باقاعدہ بھیڑ چھٹنے کا انتظار کیا اور تبھی اسے مرتسم دکھائی دیا سٹیج پر موجود علایہ اور وہاج سے ہس ہس کر کوئی باتیں کرتا ہوا۔۔۔
فاہا بھی اٹھ کر سٹیج تک آئی اور آ کر علایہ سے ملنے لگی۔۔۔ اسے وہاں موجود پا کر مرتسم خاموشی سے وہاں سے اتر گیا۔۔۔ اسکا یہ ناقابل فہم انداز کسی اور نے محسوس کیا ہو یا نا کیا ہو مگر علایہ نے بڑی شدت سے محسوس کیا تھا۔۔۔
وہ وہیں علایہ کے پاس ہی ٹک گئ۔۔۔ کہیں دل بھی تو نا لگ رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر بعد وہاں علایہ کے سسرالی رشتے دار ملنے آنے لگے تو وہ وہاں سے بھی اٹھ آئی۔۔۔
پورے ہال میں پریہا چہکتی پھر رہی تھی دفعتاً ان لوگوں کی پھرتیلیاں دیکھ فاہا ٹھٹھکی۔۔۔
تائی جان ہال کے ایک کونے موجود ڈی جے کے سیٹ آپ کے پاس آئیں۔۔۔
فاہا کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ وہ مختلف قرآنی آیات کا ورد کرتی چہرا  موڑ گئ۔۔۔
دفعتاً اسے تائی جان کی پریشان حال آواز اپنے کانوں سے ٹکراتی سنائی دی۔۔۔
فاہا مرتسم کہاں ہے۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے انکی جانب پلٹی۔۔۔
جی تائی جان۔۔
مرتسم۔۔۔ کہاں گیا وہ۔۔۔ ابھی تو یہیں تھا۔۔۔
وہ خاصی پریشان دکھائی دیتی تھیں۔۔۔ فاہا کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔ اسنے چاروں جانب کا جائزہ لیا۔۔۔ اپنے کہے کے مطابق وہ کہیں نہیں تھا۔۔۔ جبکہ پریہا اپنے ماں باپ کے ساتھ سٹیج کے ایک سائیڈ پر کھڑی تھی۔۔۔
پتہ نہیں تائی جان ابھی کچھ دیر پہلے تو سٹیج پر علایہ سے مل رہے تھے۔۔۔ 
کوئی حال نہیں اس لڑکے کا۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑاتیں اپنے فون پر اسکا نمبر ڈائل کرتیں نسبتاً کم رش والی جگہ پر گئیں۔۔۔۔۔
فاہا کی نگاہیں انہیں پر ٹکیں تھی۔۔۔ دفعتاً وہ غصے سے لال پیلی ہوتیں واپس آئیں۔۔۔
کیا  ہوا خالہ جانی۔۔۔ پریہا انہیں پریشان حال دیکھ انکے پاس آئی اسکے ماں باپ بھی ساتھ ہی تھے۔۔۔
دماغ خراب ہو گیا ہے اس لڑکے کا اب عین وقت پر اسکی ضروری میٹنگ نکل آئی ۔۔۔ اسے اٹینڈ کرنے گیا ہے۔۔۔ پر غلطی تو ہماری بھی ہے سرپرائز دینے کے چکروں میں ہم نے اسے بھی تو لاعلم رکھا نا۔۔۔
ماں حقیقتاً پریشان تھیں۔۔۔ بیٹے کے خلاف بھی کچھ کہنا سننا نہیں چاہتی تھیں تبھی اسے کور کرنے کو گویا ہوئیں۔۔۔
ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھی فاہا کی سبھی حسیات کان بنیں اسی جانب لگیں ہوئیں تھیں۔۔۔
خالہ جانی منگنی ہوگئ تو ابھی۔۔۔ اسی وقت۔۔۔
آپ سب مہمانوں کے سامنے یہ منگنی اناوئنس کریں اور ہمیں آفیشلی ایک دوسرے کے ساتھ انگیج کریں۔۔
پریہا کا انداز لڑنے بھڑنے والا تھا۔۔۔ جیسے ساری پلانینگ پر پھرتا پانی اسے جلتے انگاروں پر گھسیٹ لایا ہو۔۔۔
پر ایسے کیسے پریہا۔۔۔ مرتسم کے بنا کیسے منگنی کرا دوں۔۔۔ ماں کو اسکی حالت دیکھ ترس آیا۔۔۔
خالہ جانی نہیں۔۔۔ نہیں یار۔۔۔ پہلے وقتوں میں کیسے ہوتی تھیں منگنیاں۔۔۔ مائیں لڑکے کے نام کی انگوٹھی لڑکی کی انگلی میں پہنا دیتی تھیں۔۔ آپ بھی ایسا ہی کریں پر پلیز ہمیں آفیشلی انگیج کر دیں پلیز خالہ جانی۔۔۔ وہ منتوں پر اتر آئی تھی۔۔۔ تائی جان سوچ میں پڑ گئیں۔۔۔
جبکہ فاہا دھک سے رہ گئ۔۔۔ یہ لڑکی مطلب پڑنے پر  پرانے وقتوں کو بھی بھیچ میں گھسیٹ لائی تھی۔۔۔۔
وہ حق دق بیٹھی تھی کے اب ناجانے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔۔۔
اچھا چلو دیکھتی ہوں پھر ایک دفعہ لودھی صاحب سے مشورہ کر لوں۔۔۔ اتنا بڑا کام میں انکی رضا مندی کے بنا تن تنہا تو نہیں کر سکتی نا۔۔۔
وہ نیم رضامند سی کہتیں ہال میں لودھی صاحب کو تلاشنے لگی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ انکے پاس موجود تھیں۔۔۔
آپکا بیٹا اس وقت کہاں ہے لودھی صاحب۔۔۔
انکے مخاطب کرنے پر تایا جان نے مسکراہٹ دابی۔۔۔ وہ دراصل اسے ارجینٹلی جانا پڑا تھا۔۔۔ بتا کر گیا ہے کیوں خیریت۔۔۔
خیریت کہاں سے ہوگئ۔۔۔ بہن کے اتنے اہم فنگشن سے بھی بڑھ کر ہے  اس کے لئے دوسرے کام۔۔۔ وہ غصےمیں بھری بیٹھیں تھیں۔۔۔  تایا جان گہرا سانس خارج کر کے رہ گئے۔۔۔ وہ وہاج سے اور خانزادہ صاحب سے مل کر انہیں اپنی مجبوری بتا کر انہیں مطمیئں کر کے گیا ہے۔۔ انہیں تو کوئی اعتراض نہیں البتہ اگر تمہیں ہے تو تم بتا دو۔۔۔
لودھی صاحب آج میں اسکی اور پریہا کی منگنی اناوئنس کرنے والی ہوں اور وہ ہے کہ سرے سے غائب ہے۔۔۔ وہ تلملائیں۔۔۔ جبکہ انکے منہ سے یہ بات سن کر انکے چہرے پر سنجیدگی اتر آئی ماتھے پر شکنوں کا جال بچھنے لگا۔۔۔ مجھے بنا بتائے مجھ سے بنا مشورہ کئے۔۔۔ وہ بولے تو انکا لہجہ سرد تھا۔۔۔
ماں ٹھٹھکیں۔۔
لودھی صاحب آپ شروع دن سے جانتے ہیں کے میں جلد یا بدیر ان دونوں کا رشتہ  طے کرنے والی ہوں ۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔۔۔ 
وہ بتانے میں اور یوں ایک فنگشن میں قطعی غیر متوقع طور پر  منگنی اناوئنس کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے بیگم صاحبہ۔۔۔
انکے لہجے میں طنز کی آمیزش آ گھلی یا شاید تائی جان کو ہی محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ ہمیشہ سے ہی انکی ہر بات ماننے والے اور انکی ہاں میں ہاں ملانے والے شوہر کا اتنا قطعی روپ انکے لئے شاک تھا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں لودھی صاحب۔۔  آپ پلیز غلط وقت پر غلط بات سمجھ رہے ہیں۔۔۔
یہ سب باتیں ہم گھر جا کر ڈسکس کریں گے۔۔۔ فلحال وہ کام نبٹانے کے لئے کوئی مشورہ دیں جو  بیچ میں لٹکنے لگا ہے

۔ پریہا یہ بات بول رہی ہے کے اسے منگنی کی انگوٹھی میں پہنا کر آفیشلی ان کی منگنی کر کے یہ سب اناوئنس کر دوں۔۔۔
آپکا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا بیگم۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ شش و پنج میں مبتلا اور کچھ کہتیں لودھی صاحب چلا اٹھے۔۔۔
آپکا بیٹا آپکی بھانجی کو پسند نہیں کرتا یہ بات آپ باخوبی جانتی ہیں کیونکہ وہ آپکے سامنے واضح طور پر اعتراف کر چکا ہے کے آپکی بھانجی اسکی ہم مزاج نہیں۔۔۔ وہ ایسی لڑکی نہیں جس طرح کی لڑکی وہ اپنی ہمسفر کے طور پر چاہتا ہے۔۔۔ اسکے باوجود اگر وہ عزت احترام محبت اور مان کے ہاتھوں مجبور ہے تو اسکا مطلب یہ تو نہیں نا کے آپ اب اسکا ضبط آزمانے چل پڑیں۔۔۔ وہ یہ شادی ہی نہیں کرنا چاہتا اور آپ بنا بتائے زبردستی بنا اسکی رضا جانے منگنی کرنے چلی ہیں۔۔۔ لمحہ فکریہ ہے یہ بیگم۔۔۔
بلفرض وہ آپکی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے اور یہ شادی کر بھی لیتا ہے تو پھر آگے کیا ہوگا۔۔۔ زرا ہوش کے ناخن لے کر سوچئیے۔۔۔۔ چند مہینوں بعد علحیدگی۔۔۔ یا شاید چند مہینوں کا وقت بھی زیادہ ہے۔۔۔ جب نتیجہ ہم سب کو باآسانی دکھائی دے رہا ہے تو پھر کیا آپکو نہیں لگتا کے آپکو اپنے خودساختہ فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔۔۔ اور ویسے بھی مرتسم کے لئے اسکی سوچ کے مطابق لڑکی میں پسند کر چکا ہوں آپ گھر چلیں پھر اس ٹاپک پر بات کریں گے۔۔ انہوں نے گویا بات ہی ختم کر دی۔۔۔۔ابھی خدارا بیٹی کے فنگشن میں کوئی بدمزگی پیدا مت کریں۔۔۔ وہ عاجزانہ طور پر کہتے آگے بڑھ گئے۔۔۔۔ جبکہ تائی جہاں وہیں گم صم سے انداز میں کھڑی رہ گئیں۔۔۔ یہ ابھی لودھی صاحب نے کیا بولا تھا بھلا۔۔ کے وہ مرتسم کے لئے لڑکی پسند کر چکے ہیں۔۔ انکے دماغ میں دھماکے سے ہونے لگی۔۔۔ اب کیا ہو گا بھلا۔۔۔ وہ بہن اور بھانجی کو کیا جواب دیتیں۔۔۔ انکے اندر تک سناٹے اتر گئے۔۔۔۔ بات اتنی بڑھا کر بات ختم کرنا اتنا آسان بھی نا تھا۔۔۔ انہیں اپنا سر درد سے پھٹتا محسوس ہوا۔۔۔
*****
کیا بکواس کر رہی ہو تم ماہرہ۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کے تم نے کیا کہا ہے اور تمہیں لگتا ہے کے ہم تمہیں یہ حماقت کرنے دیں گے۔۔۔ ماہرہ کی بات سن کر سب سے پہلے ماں ہی بھڑکیں تھیں۔۔۔ انکا تو دماغ ہی گھوم گیا تھا ماہرہ کی بات سن کر۔۔۔
جی مام۔۔۔ میں باخوبی آگاہ ہوں کے میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔ مجھے اپنی یہ آخری کوشیش کرنے کے لئے دو مہینے کا وقت درکار ہے۔۔۔ دو مہینے بعد آپ جس سے چاہیں گے جب چاہیں گے میں نکاح کر لوں گی۔۔۔
تم پاگل ہو گئ ہو اور بس۔۔۔ 
اگر یہ پاگل پن ہے مام تو مجھے آخری بار یہ پاگل پن کر چھوڑنے دیں۔۔۔ اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔
اچھا۔۔۔ اور سرمایا۔۔۔ وہ کہاں سے لو گئ۔۔۔ ماں نے اگلا نقطہ اٹھایا۔۔۔ جبکہ بابا اور مظہر گم صم سے بیٹھے تھے۔۔۔
میری پڑاپڑتی ابھی موجود ہے مام آپ شاید بھول رہی ہیں۔۔۔ 
ہاں اور اس پڑاپڑتی کو ایک لاحاصل کام پر برباد کر دو۔۔۔ اور اسکے بعد کیا کرو گی۔۔۔ اپنے بچے کے لئے کیا چھوڑو گی۔۔۔ کیا عقل نام کو نہیں تم میں۔۔۔ ماں کا پارہ ہر لمحہ اسکی فضولیات سن سن کر ہائی ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
کیوں۔۔۔۔ کیا جسکے نکاح میں آپ مجھے دینے کا سوچ رہی ہیں وہ اس قابل بھی نہیں کے میری اور میرے بیٹے کی ذمہ داری اٹھا سکے۔۔ یا وہ مجھ سے شادی ہی میری پڑاپڑتی کے لئے کر رہا ہے۔۔۔ ابکی بار وہ بھی تلخ ہو اٹھی۔۔۔
ماں سر تھام کر رہ گئیں۔۔۔۔ اسکے پاس اتنی پڑاپڑتی ہے کے وہ تمہاری پڑاپڑتی کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھنا تک نہیں چاہے گا۔۔۔  ماں نے بامشکل غصہ حلق سے اتارا۔۔۔
تو پھر مسلہ کیا ہے۔۔۔۔ وہ ترخ اٹھی۔۔۔
ماہرہ۔۔۔ بابا کی روبدار آواز پر وہ خاموش ہوئی۔۔۔ دو مہینے۔۔۔ صرف دو مہینے۔۔۔ جو کرنا چاہتی ہو کر لو۔۔۔ کوئی ملال نا رہے تمہارے دل میں کے تمہیں تمہارے ہر کام میں سپورٹ کرنے والے باپ نے یہاں تمہارا ساتھ نہیں دیا۔۔۔
لیکن دو مہینے سے ایک دن اوپر نہیں۔۔۔ ٹھیک دو مہینے بعد تمہیں زاویار سے شادی کرنی ہو گئ۔۔۔ ذہنی طور پر تیار رہنا۔۔۔ بابا دو ٹوک انداز میں کہتے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔ گویا وہ پہلے سے ہی آگاہ ہوں اسکی ناکامی کے لئے ۔۔۔ لیکن اسکے باوجود وہ مطمئں تھی۔۔۔ بابا نے اسے اجازت دے دی تھی اسکے لئے اتنا ہی کافی تھا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4