Roshan Sitara novel 92nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 92nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
92nd epi....
میجر اریز اس وقت اپنا ایک بہت ضروری کام نبٹا کر واپس آ رہا تھا ارادہ اب مارکیٹ جانے کا تھا۔۔۔ موسم تبدیل ہو رہا تھا اور سونم بہت بار اسے اپنی اور بے بی کی شاپنگ کا بول چکی تھی۔۔۔ آج کل مصروفیات اتنی زیادہ تھیں کے وہ ان دونوں کے لئے بالکل وقت نہیں نکال پا رہا تھا اس لئے اب زرا فراغت ملی تو انکے لئے خود سے تھوڑی بہت شاپنگ کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اسی غرض سے ابھی اسنے گاڑی مال کے راستے پر ڈالی ہی تھی کے اسکا فون بج اٹھا۔۔۔ فون اسکے خاص آدمی کا تھا تو اسنے بنا تاخیر کئے جھٹ سے اٹھا ڈالا۔۔۔
ہیلو سر۔۔۔ میرا خیال ہے کے یہاں بہت بڑی گڑبڑ چل رہی تھی۔۔۔ شاید مس ماہرہ کو ٹریپ کیا گیا ہے۔۔۔ سب بہت الجھا الجھا سا ہے۔۔۔ وہ اپنی سکریٹری کے ساتھ یہاں آئی تھیں۔۔۔ حلیے سے لگ رہا تھا جیسے کسی آفیشل میٹنگ کے لئے آئی ہوں مگر پھر انکی سکریٹری ہڑبڑی میں واپس چلی گئ اور مس ماہرہ کسی شخص کے ہمراہ ایک سویٹ میں گئ ہیں۔۔ جاتے وقت انکے چہرے پر بہت الجھن تھی۔۔۔ پتہ نہیں واقعی یہ ٹریپ ہے یا میری ججمنٹ ۔۔۔۔ اگر تو وہ واقعی آفیشل میٹنگ کے لئے آئی تھیں تو سویٹ میں کیوں گی۔۔۔ اور اگر سویٹ میں ہی جانا تھا تو پھر وہ اتنی الجھی ہوئی کیوں تھیں۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔۔۔ کیا معاملے کی جانچ پڑتال کروں یا۔۔۔
وہ شخص اپنے تجربے کی بنیاد پر کڑی سے کڑی ملاتا خود الجھا ہوا تھا جبکہ اسکی بات سن کر اریز کا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔ ایک دفعہ پہلے بھی ماہرہ پر ایسی ہی اٹیمپٹ ہو چکی تھی۔۔۔
اریز ماہرہ بہت بھولی اور ناسمجھ ہے۔۔۔ یقیناً جلد یا بدیر میرے دشمن مجھ تک پہنچنے والے ہیں۔۔۔ مجھے اپنی فکر نہیں۔۔۔ میں جیسے تیسے کر کے سروائیو کر لوں گا ۔۔ یا اس مقصد میں میری جان بھی چلی جائے تو غم نہیں۔۔۔ لیکن اصل فکر مجھے ماہرہ کی ہی ہے۔۔۔ اسے اتنا گم نام رکھنے کے باوجود دشمن جتنا شاطر ہے وہ کہیں نا کہیں سے اسکا سراغ نکال ہی لے گا۔۔۔
ایسی صورت میں اگر میں دشمن کے ہتھے چڑھ جاوں یا مجھے کچھ ہو جائے تو ماہرہ کی حفاظت کی ذمہ داری تمہاری ہے۔۔۔ فائز ور اریز گاڑی میں جا رہے تھے۔۔۔ اریز کار ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ فائز پیسنجر سیٹ پر بیٹھا متفکر سا تھا سونم کو اپارٹمنٹ چھوڑنے کے بعد اریز فائز کو سٹیشن تک چھوڑنے جا رہا تھا۔۔۔
اریز نے کرب سے ماتھا مسلہ۔۔۔ مطلب ماہرہ واقعی دشمن کی سازشوں کی زد پر تھی۔۔۔
ایک بار پہلے بھی وہ تاخیر کا شکار ہو گیا تھا یہ ہی وجہ تھی کے فائز آج اسکے ساتھ نا تھا۔۔۔ آج وہ تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہتا تھا کسی صورت نہیں۔۔۔ گنجائش ہی نا بچتی تھی۔۔۔ آج تاخیر ہو جاتی تو وہ ناقابل تلافی نقصان کا خسارہ نا اٹھا پاتا۔۔۔
کوئی تفیتش نہیں۔۔۔ کوئی جوڑ توڑ نہیں۔۔۔ فوراً سے پہلے اس سویٹ پر ریڈ کرو۔۔۔ تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ قریبی پولیس سے بات کر کے نفری منگواو۔۔۔ میں بس پہنچ رہا ہوں۔۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔۔
وہ بولا نہیں پھنکارا تھا۔۔۔ بولتے ہوئے گلے کی نسیں تک ابھر آئیں تھیں۔۔۔ اسنے بنا تاخیر کئے گاڑی کا رخ موڑا اور گاڑی ہواوں میں اڑا ڈالی۔۔۔
*****
سر۔۔۔ سر۔۔۔ بت بڑی گڑبڑ ہوگئ ۔۔۔۔ ہوٹل پر ریڈ ہوئی ہے اور وہ لوگ اسی سویٹ کی جانب آ رہے ہیں۔۔۔ آپ پلیز یہاں سے نکلنے کی کریں۔۔۔
میر ماہرہ پر جھکا ہوا تھا جب ہانپتا کانپتا ملازم بنا اجازت اندر داخل ہوا۔۔۔
وھاٹ۔۔۔۔ میر تلملا کر پیچھے ہٹا۔۔۔ کیا بکواس ہے یہ۔۔۔ ایسا کیسے ممکن ہے۔۔۔ وہ ڈھارا۔۔۔
سر عین ممکن ہے کے کوئی اس لڑکی کی نگرانی پر معمور ہو یا کچھ اور۔۔۔ لیکن جو بھی ہے سر پلیز جلدی کریں وہ لوگ کسی بھی پل یہاں پہنچے والے ہونگے۔۔۔ وہ ملازم حواس باختہ سا دکھائی دیتا تھا۔۔۔
میر نے الجھ کر اسے دیکھا اور پھر شش و پنج میں مبتلا ماہرہ کی طرف۔۔۔ کنویں کے اتنے قریب پہنچ کر وہ پیاسا کیسے لوٹ جاتا خود کو سیراب کئے بنا۔۔۔
ٹھیک ہے اسے بھی لے چلو۔۔۔ وہ لمحے کی تاخیر کئے بنا فیصلہ کر اٹھا۔۔۔
یہ ممکن نہیں سر۔۔۔ پلیز جلدی جائیں ورنہ دونوں پکڑیں جائیں گے۔۔۔ وہ شخص کہتا ہی چھپاک سے باہر غائب ہو گیا باہر سے اب قدموں کی دھمک ابھر رہی تھی اور میر خطرہ بھانپتے ہی اسے پیاسی نگاہوں سے دیکھتا لیپ ٹاپ اٹھا کر بالکنی کی جانب بھاگا۔۔۔ جلد دوبارہ روبرو ہونگے سویٹ ہارٹ۔۔۔
اسکے بالکنی میں غائب ہوتے ہی ڈھار کی آواز سے سویٹ کا دروازہ کھلا۔۔۔
ماہرہ کا دل احساس تشکر سے لبریز اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا۔۔۔ آج اسکا اس رب کی رحمت پر یقین اور بھی پختہ ہوگیا جو گھنے اندھیروں میں اجالا کرنا باخوبی جانتا ہے۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کے اسکی مدد کو کون آیا ہے اور کیسے ۔۔۔ وہ بس اتنا جانتی تھی کے اسکے رب نے اس کی مدد کو وسیلہ بنا دیا تھا۔۔۔ اسے رسوا اور ذلیل و خوار ہونے سے بچا لیا تھا۔۔۔ کیسے نا اس رب کی محبت پوری شدت سے اسکے دل میں پنجے گاڑتی جسنے اسے تب بھی یاد رکھا جب اسکا کوئی والی وارث نا تھا۔۔۔ جسنے اسے تب بھی تنہا نا چھوڑا جب وہ خود ہر آس چھوڑ گئ تھی۔۔۔
میر بالکنی سے نیچے کودا۔۔۔ نیچے کودنے کے باعث دھمک پیدا ہوئی جب چند کارندے بھاگ کر بالکنی تک گئے۔۔۔
اچانک میجر اریز کی نظر ماہرہ کی بکھری حالت پر پڑی تو وہ غیض و غضب سے مٹھیاں بھینچتا رخ موڑ گیا۔۔۔
فوراً سویٹ خالی کرو۔۔۔ سب کے سب باہر جاو۔۔۔ فضاء میں اسکی ڈھار گھونج اٹھی۔۔۔۔ سب الڑت ہوتے سویٹ سے باہر نکلنے لگے۔۔۔ اگر کسی کی ماہرہ پر نظر پڑی بھی تو وہ نظریں چراتا باہر نکل گیا۔۔۔
مس ماہرہ ریلیکس۔۔۔ ہم آپکے محافظ ہیں۔۔۔ آپکو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ پلیز آپ سیدھی ہوں اور اپنا پردہ کریں۔۔۔ میجر اریز یونہی رخ موڑے کھڑا تھا جب اسکی سنجیدہ اور روبدار آواز ماہرہ کے کانوں سے ٹکرائی اسنے آنکھیں گھما کر آواز کے منبع کی جانب دیکھا۔۔۔ وہ ایک اونچا لمبا کڑیل جوان تھا۔۔۔ نیلی جینز پر بلیک جیکٹ زیب تن کئے اسکی ماہرہ کی جانب پشت تھی۔۔۔
بے بس آنسو پھر سے ماہرہ کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔۔۔ بھرپور کوشیش کے باوجود وہ اسے یہ تک نا بتا پائی کے وہ ہلنے سے قاصر ہے۔۔۔ زبان تک حرکت کرنے سے عاری تھی۔۔۔
کچھ لمحوں تک جب ماہرہ کی طرف سے کسی قسم کی حرکت نا ہوئی تو وہ ٹھٹکا۔۔۔ چھٹی حس نے کسی گڑبڑ کا احساس دلایا۔۔۔ آخر ایسے ہی تو نا وہ آرمی میں اتنے بڑے عہدے پر فائز تھا۔۔۔
وہ چونک کر پلٹا۔۔۔ مزید تاخیر عبث تھی کیونکہ انکے ساتھ کوئی لیڈی کانسٹیبل نہیں تھی۔۔۔ اسنے آگے بڑھتے نیچے گرا ماہرہ کا سکارف اٹھایا اور بازو سے اسے کھینچتے سیدھا کر کے سکارف اس پر دیا لیکن یہ کیا۔۔ ہاتھ کا سہارا ہٹاتے ہی ماہرہ کسی کٹی ڈال کی مانند صوفے پر لڑھک گئ۔۔۔
اریز کی تشویش مزہد بڑھی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔
اسنے پھر سے ماہرہ کا سکارف سر پر ٹھیک کرتے باہر سے اپنے خاص آدمیوں کو بلوایا۔۔۔
جی سر۔۔۔وہ مستعد سے کھڑے تھے۔۔۔
سارے سویٹ کی تلاشی لو۔۔۔ کچھ بھی غیر معمولی ملے تو بتاو۔۔۔ کوئیکلی فاسٹ۔۔۔
وہ تیز و تند لہجے میں کہتا انہیں کام پر لگا کر ایک مرتبہ پھر سے ماہرہ کے سامنے آیا اور میر کی چھوڑی جگہ پر بیٹھا۔۔۔
مس ماہرہ اپنی پلکوں کی جنبش سے مجھے ہاں یا نا میں جواب دیں۔۔۔
میجر اریز اپنی سنجیدہ و سرد آنکھیں اسکی بے بس آ ںسو بہاتی آنکھوں میں گاڑے گویا ہوا۔۔۔۔
کیا آپکو کچھ غلط کھلایا گیا ہے۔۔۔ ماہرہ کی آنکھوں میں کوئی جنبش نا ہوئی۔۔۔ کیا کچھ لیکوڈ پیا ہے آپ نے کچھ ایسا جس میں کچھ ملا ہو۔۔ تشویش زدہ لہجے میں اگلا سوال آیا۔۔۔ ماہرہ کی نگاہوں میں التجا اترنے لگی۔۔۔
دفعتا میجر اریز کی نگاہ فرش پر پڑی۔۔ کچھ چمکتا ہوا سا تھا جو صوفے کے نیچے پڑا تھا۔۔۔ اسنے جھک کر اسے اٹھایا اور اسکی آنکھوں کی حیرت مزید دو چند ہوگئی۔۔ وہ ایک چھوٹی سی سرینج تھی۔۔۔
اسنے شاک کی سی کیفیت میں ماہرہ کو دیکھا۔۔۔ کیا آپکو کوئی ڈوز دی گئ ہے۔۔۔ حیرت و انبساط میں ڈوبی آواز ابھری۔۔۔ پلکیں جھپکنے کے ساتھ خاموش آنسوں کا ریلہ سا بھی بہہ نکلا۔۔۔
اوہ گاڈ۔۔۔ وہ سر تھام کر رہ گیا۔۔۔ پھر سرینج اٹھا کر اسے غور سے دیکھا۔۔ اس میں چند قطرے سفید محلول کے باقی تھے۔۔۔ کیسے پتہ لگے کے یہ کس چیز کی ڈوز ہے۔۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔۔۔ اگر اس محلول کو ٹیسٹ کروایا گیا تو فرینزک رپورٹ کافی وقت طلب ہو گئ۔۔۔
سر۔۔۔ سر یہ وہاں سے یہ ڈبی ملی ہے۔۔۔ اہلکار کی آواز پر میر اسکی جانب متوجہ ہوا جو ہاتھ میں کانچ کی چھوٹی سی ڈبی لئے کھڑا تھا۔۔۔
میر نے ڈبی تھامتے آنکھیں چندھی کئے اس ڈبی کو دیکھا جس میں ابھی بھی کچھ محلول باقی تھا۔۔۔پھر نگاہ سفر کرتی سرینج تک گئ۔۔۔دونوں کا محلول ایک سا تھا۔۔۔ اسنے بنا تاخیر کئے جیب سے موبائل نکالا اور اس شیشی کی تصویر لیتے آرمی ڈاکٹر کو سینڈ کی ۔۔۔ یہ کس چیز کی ڈوز ہے اور کس مقصد کے حصول کے لئے استعمال ہوتی ہے۔۔۔
میسج سینڈ کر کے وہ بے چینی سے اسکے جواب کا منتظر تھا۔۔۔
میجر اریز یہ ایک ایسا محلول ہے جو کچھ وقت کے لئے انسان کو بالکل مفلوج کر دیتا ہے۔۔۔ بلکل ایک فالج زردہ انسان کی طرح۔۔۔
آن ڈیوٹی ڈاکٹر نے فوراً سے پیشتر جواب دیا۔۔۔ اریز میسج پڑھتا ماہرہ کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
اسکا حل کیا ہے۔۔۔ کچھ سوچتے اسکی انگلیاں پھر سے متحرک ہوئیں۔۔۔
چوبیس گھنٹوں بعد اس ڈوز کا اثر خودبخود زائل ہو جاتا ہے۔۔۔
شٹ۔۔۔ جواب پڑھتے وہ لب بھینچ گیا۔۔۔
اسکے علاوہ کوئی حل۔۔۔
اسکی اینٹی ڈوز ہے جس سے اسکا اثر زائل ہو جاتا ہے لیکن یہ بہت رئیر ہے آسانی سے یہ آپکو دستیاب نہیں ہوگئ۔۔۔ انہوں نے ساتھ میں اینٹی دوز کی تصویر بھیج ڈالی۔۔
اریز کی تشویش کچھ مزید بڑھئ۔۔ اب کیا کیا جائے۔۔۔۔ وہ مضحمے میں پڑ گیا۔۔۔
دفعتاً ایک اور اہلکار اسکے پاس آیا۔۔ سر کچن سے یہ ملا ہے۔۔۔ اسنے ایک شیشی اریز کی جانب بڑھائی۔۔۔
وہ چونک اٹھا۔۔۔ شیشی تھام کر واپس واٹس ایپ کھولا۔۔۔ ہاں یہ وہی اینٹی ڈوز تھی جسکے بارے میں ڈاکٹر بتا رہا تھا۔۔۔
اسکی آنکھوں کی چمک بڑھی۔۔۔ اسنے اسی سرینج میں اینٹی ڈوز کا محلول بھرا اور بنا تاخیر کئے اسے ماہرہ کی بازو میں پیوست کیا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اینٹی ڈوز نے اپنا اثر دکھایا اور ماہرہ کے بے جان وجود میں حرکت ہونے لگی۔۔۔ گہرے گہرے سانس لیتے اسنے ہچکی لی اور آواز سے تعلق بحال ہوتے ہی جو وہ ہچکیوں سے روئی کے اسکا پورا بدن خزان رسید پتے کی مانند کپکپا کر رہ گیا۔۔۔ ایک قیامت اس پر آ کر گزر چکی تھی۔۔۔ وہ اپنے رب کی جتنی مشکور ہوتی کم تھا۔۔۔
اریز نے لب بھینچتے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔ وہ چونک چونک گئ۔۔۔
کون ہیں آپ اور یہاں کیسے آئے۔۔۔ اسکی آنکھوں میں خوف ہلکورے لینے لگا۔۔۔۔ اسنے سرعت سے اپنے اوپر لپٹا سکارف مضبوطی ے پکڑا۔۔۔
ریلیکس مس ماہرہ۔۔۔ میں میجر اریز ہوں فائز کا دوست۔۔۔
ماہرہ یوں تھی جیسے کسی نے اس پر ٹھنڈے پانی کی پھوار ڈال دی ہو۔۔۔ فائز علوی ہمارے ملک کا قیمتی سرمایا تھا ۔۔۔ مجھے افسوس ہے کے میں اسکے لئے کچھ نہیں کر پایا۔۔ لیکن اس سانحے سے پہلے ہماری آخری ملاقات میں اسکے یہ ہی الفاظ تھے کے مجھے کچھ بھی ہو جانے کی صورت اسکی بیوی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔۔۔ آپ پر جو پچھلے دنوں روڈ اٹیمٹ ہوئی اسکے بعد ہم آپکی نگرانی پر زرا محتاط ہو گئے تھے آج اسی وجہ سے ہم جلد حالات پر قابو پانے میں کامیاب رہے ورنہ خدانخواستہ ہم خسارے میں رہتے۔۔۔
میجر اریز رسانیت سے گویا ہوا جبکہ ماہرہ کی آنکھوں میں ساون بھادوں کی جھڑی لگ گئ۔۔۔ کتنا حساس تھا وہ شخص اپنے رشتوں کو لے کر۔۔۔ جاتے جاتے بھی اسے ماہرہ کی ہی فکر تھی۔۔۔ کیسے اور کیونکر اس شخص کو وہ دل سے نکال پاتی۔۔۔ قدم قدم پر تو وہ اپنے احساس بکھیر گیا تھا۔۔۔ وہ کیوں اسکے پیچھے پاگل نا ہوتی۔۔۔
آپ پلیز ریلیکس کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہر بات ہمارے گوش گزاریں۔۔۔ میجر اریز کے کہنے پر ماہرہ گیلی سانس اندر کھینچتی روڈ اٹیمٹ سے لے کر میر کے پراجیکٹ اور وہاں سے اب تک ہر چیز اسکے گوش گزارتی چلی گئ۔۔۔ اتنی گہری پلانینگ سن کر اریز سناٹے میں رہ گیا۔۔۔
کیا آپکے آفس فوٹیج سے میر کی فوٹیج مل سکتی ہے۔۔۔
ہاں فوٹیج تو یقیناً ہوگئ کیونکہ سارے آفس میں کیمرے لگے ہیں۔۔۔ ماہرہ کے کہنے پر وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔۔
ٹھیک۔۔۔ اب آپ اپنے سرپرست کا نمبر دیں پلیز۔۔۔ ہمیں ہر ہات آپکے گھر والوں کے گوش گزارنی ہوگئ۔۔ کیونکہ یہ معاملہ ایسا نہیں کے اسے ہلکا لیا جا سکے۔۔۔ جو اتنی گہری سازش کر سکتے ہیں وہ دوبارہ بھی اس حد تک گر سکتے ہیں اختیاط لازم ہے۔۔۔ میجر اریز کی دور اندیشی پر وہ بنا چوں چرا بابا کا نمبر اسے دے گئ۔۔
اسنے ناجانے انہیں کیا کہا تھا کے کچھ ہی دیر میں حواس باختہ سے بابا اور مظہر وہاں موجود تھے۔۔۔
اریز کی زبانی ساری بات سن کر وہ حق دق سے رہ گئے۔۔۔
آپکا بہت شکریہ میجر اریز کے آپ ہمارے اس برے وقت میں ہمارے کام آئے۔۔۔ ماہرہ کو واپس لاتے ہوئے مظہر اریز سے مصافحہ کرتا گویا ہو۔۔۔
اسکی ضرورت نہیں یہ میرا فرض تھا۔۔ یہ میرا کارڈ ہے۔۔۔ اگر آپکو یا مس ماہرہ کو آئندہ کسی بھی قسم کے تعاون کی ضرورت ہو تو آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔۔۔ اس شخص کی اتنی اپنائیت پر مظہر مسکرا کر سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
آج کے واقعہ نے ماہرہ کو بہت سہما دیا تھا۔۔۔ وہ کچھ سوچتے سمجھنے کے قابل نا رہی تھی۔۔۔ اسے ابھی تک میر کے غلیظ ہاتھوں کا لمس کسی بچھو کی مانند اپنے چہرے پر رینگتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
بابا یکدم ہی بہت خاموش ہو گئے تھے۔۔
ماہرہ۔۔۔ گھر پہنچ کر وہ بہت سوچ بچار کے بعد ایک فیصلے پر پہنچے ماہرہ جو کچھ دیر لاوئنج میں سب کے سنگ بیٹھ کر اندر جا رہی تھی۔۔۔ انکی آواز پر تھمی۔۔۔
جی بابا۔۔۔
آج تک ہر جگہ میں نے تمہارا ساتھ دیا۔۔۔ ہمشہ تمہارا مان برقرار رکھا۔۔۔ پھر چاہے وہ بات فائز سے شادی کی ہوتی یا آفس جوائن کرنے کی۔۔۔ انکی آواز میں کچھ غیر معمولی پن تھا۔۔ وہ ٹھٹھکی۔۔۔ ماں اور مظہر نے بھی غیر یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
لیکن آج باری میری ہے۔۔۔
جی بابا آپ حکم کریں۔۔۔ وہ لرزتی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ دل کو ایک ڈھرکا سا لگ گیا تھا۔۔۔
میں آج کے واقعہ سے بہت ڈر گیا ہوں اس لئے ایک اہم فیصلے پر پہنچا ہوں۔۔۔ زاوی تمہارا طلبگار ہے اور میں اسے ہاں بولنے والا ہوں۔۔۔ مجھے قوی امکان ہے کے میری بیٹی میرا مان نہیں توڑے گی۔۔۔ بابا کا لہجہ اٹل اور دو ٹوک تھا جس میں کسی قسم کی لچک کی گنجائش نا تھا۔۔۔
ماہرہ بونچکا رہ گئ۔۔۔ وہ کیسے انکا مان توڑ دیتی۔۔۔
تیاری کرو ماہرہ اسی جمعہ کو سادگی سے تمہارا نکاح ہو گا۔۔۔ ماہرہ کے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔۔۔ پوری دنیا آنکھوں کے گرد گول گول گھومتی محسوس ہونے لگی۔۔
بابا کے لہجے میں کوئی لچک نہیں تھی۔۔۔ اور وہ کیسے اس باپ کا مان توڑ دیتی جنہوں نے آج تک اسکے منہ سے نکلی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی رد نا کی تھی۔۔۔ جو اسکے لئے گنا شجر تھے۔۔
مجھے منظور ہے بابا۔۔۔ اسے اپنی ہی آواز اجنبی اور دور کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔
ماں اور مظہر نے اسے ٹھٹھک کر دیکھا بھلا یہ بدلاو اور اتنی جلدی۔۔۔ غالباً وہ بھی آج کے ہنگامے سے ڈر گئ تھی۔۔۔
لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔ اسکی منمناتی آواز پر سب نے اسے الجھ کر دیکھا۔۔۔
******

No comments