Roshan Sitara novel 91st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 91st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
91st epi....
وہ شخص فاتح ٹھہرا تھا اور فتح کی سعادت حاصل کر کے مسکرا رہا تھا۔۔۔ آج تک اسنے جس چیز میں ہاتھ ڈالا اسے سر کر کے ہی پیچھے ہٹا۔۔ پھر چاہے وہ کوئی مشن ہو یا معاملہ دل کا ہو۔۔۔
اس کام میں اسے بہت وقت لگا تھا۔۔۔ ہر مشن سے زیادہ انرجی دماغ اور منصوبہ بندی استعمال کرنا پڑی تھی۔۔۔ ہر ہر چیز کو پھونک مار کر ٹھنڈا کر کر کے اسنے استعمال کیا تھا۔۔ ہر حکمت عملی ہر ہر جانب سے گہرے مشاہدے کے بعد اپنائی گی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے آج اسکی تلاش ختم ہوئی۔۔۔ وہ لیپ ٹاپ بھی اسکے پاس تھا جسکے لیے وہ دربدر خوار ہوا تھا اور وہ بیش بہا قیمتی لڑکی بھی کسی کھلی تجوری کی مانند اسکے سامنے بے بس سی اسکے رحم و کرم پر پڑی تھی۔۔ پھر وہ کیسے نا مغرور ہوتا۔۔۔ وہ قسمت کا دھنی تھا آج اسے یقین ہو گیا تھا۔۔۔
لیپ ٹاپ پر چند کیز دبانے کے بعد وہ واپس خاموش آنسو بہاتی ماہرہ کے پاس جھکا اور اسکا مومی ہاتھ تھام کر انگوتھا واپس مطلوبہ جگہ پر لگایا۔۔۔
اسکے چھونے سے ماہرہ خود کو بھر بھر جلتا محسوس کرنے لگی۔۔۔
پھر ایک بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسری دفعہ بھی اسکا انگوٹھا استعمال کرنے پر ماہرہ کا گہری تاریکی میں جاتا دماغ یہ سمجھنے کے قابل ہو گیا کے بازی اب مکمل طور پر اسکے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔۔۔ وہ شخص حسن بے حجاب کو چھوڑ کر اگر پورے انہماک سے کسی چیز پر اپنی توجہ اور وقت صرف کر رہا تھا تو مطلب وہ ہر معاملہ ماہرہ کے ہاتھ سے لے کر اپنے ہاتھ میں کر چکا تھا۔۔۔ یقیناً وہ اس معاملے میں مکمل طور پر گرفت حاصل کرنے کے لئے لیپ ٹاپ کا پاسورڈ تبدیل کر نہیں رہا تھا بلکہ کر چکا تھا تبھی پراسرار دلکش مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسنے پرسکون انداز میں لیپ ٹاپ بند کر کے میز پر رکھ اور پوری توجہ سے اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ اسکے چہرے پر واضح کامیابی کی خوشی جھلک رہی تھی۔۔۔
ماہرہ کو اپنا آپ گہری پاتال میں اترتا محسوس ہوا۔۔۔
جب ہر راستہ بند ہو جائے۔۔۔ جب ہر سو اندھیرا پھیل جائے جب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نا دے جب ہر چیز سوکھی ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل جائے جب انسان مکمل طور پر بے بس ہو جائے ایک راستہ تو تب بھی کھلا رہتا ہے۔۔۔ ایسا راستہ جو ہمیشہ ہی کھلا رہتا ہے لیکن وہ اندھیروں کے ساگر میں اس قدر مدگم ہو جاتا ہے کہ مختلف طرح کے وسوسوں کا شکار دل اسکی شناخت کر پانے میں ناکام رہتا ہے۔۔۔ ایسا راستہ جسکی تلاش میں دل اگر سرگرداں ہو جائے تو وہ گہرے اندھیروں میں ایک باریک روشنی کی لیکر کی مانند پھوٹ کر دیکھتے ہی دیکھتے مایوسی اور بے بسی کے سارے اندھیروں کو نگل جاتا ہے۔۔۔ بابا کی نحیف سی آواز کہیں دور سے آتی اسکی ساتھ چھوڑتی سماعت سے ٹکرائی۔۔۔
اور وہ سب بھول گئ۔۔۔ وہ اس وقت کہاں ہے۔۔۔ اسکے ساتھ یہاں کیا ہو سکتا ہے۔۔۔ اسکا کس قدر عظیم نقصان ہو چکا ہے۔۔۔ سب۔۔۔ وہ سب بھول گئ۔۔۔ اپنے سامنے بیٹھے بھیڑے نما انسان سے اسنے توجہ ہٹا لی۔۔۔ ساری توجہ اس مایوسی اور بے بسی کے گہرے چنگل میں چھپ چکے راستے کو تلاشنے میں مبذول ہوگئ۔۔۔
اے میرے اللہ۔۔۔۔ دل کی گہرائیوں سے آواز نکلی تھی۔۔۔ اللہ۔۔۔۔ پھوڑے کی مانند دکھتا دل مزید رسنے لگا تھا۔۔۔ آنکھ بے تحاشہ بہہ نکلی تھی۔۔۔
میں تیری گنہگار بندی۔۔۔ میرے مالک مجھے بچا لے۔۔۔ اسکی ایک ایک حس اتھاہ گہرائیوں سے محض اسی ایک ذات کو پکارنے اس سے التجا کرنے پر سرگرداں تھی جسکے ہاتھ میں کل کائنات کا نظام ہے۔۔۔ حضرت یونس علیہ اسلام کو مچھلی کے پیٹ میں بھی محفوظ رکھنے والے میرے مالک مجھے بچا لے۔۔۔ مجھے بچا لے میرے اللہ۔۔۔ مجھے رسوا ہونے سے بچا لے ۔۔۔۔ مجھے ذلیل و خوار ہونے سے بچالے۔۔۔۔ مالک میں بہت بے بس ہوں پر میرا اللہ بے بس نہیں۔۔۔ میرے فائز کی قربانی ضائع ہو نے سے بچا لے۔۔۔ زخمی پرندے کی مانند بے چین پھڑپھڑاتا دل مسلسل دعا گو تھا۔۔۔ پورا جسم گویا لفظ بنا دل کی تائید میں سرگرداں تھا۔۔۔
میر اس پر جھکا تھا اسکے چہرے کو چھو رہا تھا مگر اسنے مطلق پرواہ نا کی وہ دھیان کا ہر پردہ اسی طرف لگائے ہوئے تھی جو اس وقت اسکے بس میں تھا جو وہ کر سکتی تھی۔۔۔ اپنے رب سے فریاد۔۔۔
اور پھر وہ رب جو اپنے بندوں پر ستر ماوں سے زیادہ مہربان ہے۔۔۔ نوازنا جسکی سرشت اور رحم جسکی صفت وہ بھلا کیسے دلوں کو ہلاتی ان فریادوں کو رد کر جاتا۔۔۔۔۔ کیا یہ ممکن تھا۔۔۔
******
صبح علایہ کی آنکھیں ایک نرم سے لمس سے کھلی۔۔۔۔ اسنے کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو پہلی ہی نگاہ نک سک سے تیار خود پر جھکے وہاج پر پڑی تو ساری نیند کا خمار بھک سے اڑا۔۔۔ وہ علایہ کو اسکے بازوں سے تھامے اسے جگانے کی غرض سے اس پر جھکا تھا۔۔۔۔ وائٹ کاٹن کے شلوار سوٹ میں ملبوس بال اچھے سے بنائے اسے جاگتا پا کر اسکے خوبرو چہرے پر بڑی دلکش مسکراہٹ ابھری۔۔۔ اسکی والہانہ نگاہوں کی تاب نا لاتے علایہ کی پلکیں حیا کے بھاڑ سے جھکتی چلیں گئیں۔۔۔۔
گڈ مارننگ مسز۔۔۔ نئ زندگی کی پہلی اور خوابناک صبح آپکو بہت مبارک ہو ۔۔۔ گستاخی معاف مگر زرا زرہ نوازش کریں اور اٹھ کر فریش ہو جائیں کیونکہ آپکے مائیکے سے آپکے بھائی اور بھائی ناشتہ لے کر آ چکے ہیں اور اب شدت سے آپ سے ملنے کو بے تاب ہیں۔۔۔
گہرا دلکش انداز اسے بارہا سٹپٹانے کو مجبور کر رہا تھا۔۔۔ رات سے پہلے بھلا کہاں دیکھے تھے اسنے وہاج کے ایسے انداز ۔۔۔ اسنے سٹپٹا کر وال کلاک پر وقت دیکھا جو دوپہر کے بارہ بجا رہا تھا اور ہڑبڑاتے ہوئے جھٹکا کھا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔ اسی سراسیمگی میں وہ وہاج کے منہ سے نکلے لفظ بھائی اور بھابھی پر بھی غور نا کر پائی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ میں اتنی دیر تک سوتی رہی۔۔۔ کیا سوچ رہے ہونگے بھائی اور باقی سب۔۔۔ میں بس ابھی۔۔۔ وہ سر تھام کر رہ گئ۔۔۔ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھنے کے باعث کھلی آبشار کمر پر پھسل پھسل گئ۔۔۔ بے چین انداز خاصی ہراسیمگی سمیٹ لایا۔۔۔ وہ ہونٹ کچل کر رہ گئ۔۔۔
ریلیکس یار۔۔۔ اتنی بھئ کوئی دیر نہیں ہوگئ۔۔۔ بھئ برائیڈل ہو تم۔۔۔ آج کے دن کی وی آئی پی شخصیت۔۔۔ کوئ کچھ نہیں سوچے گا۔۔۔ اور پھر جب بڑے بڑے کام کئے جائیں تو دیر سویر ہو ہی جاتی ہے اسکا خمار آلود لہجہ گہری ذومعنیت سمیت شریر ہوا۔۔ علایہ نے بوکھلا کر اسے دیکھا جب وہ چہرے پر شریر مسکراہٹ سجائے اسے آنکھ مار گیا۔۔۔ علایہ سٹپٹا کر بیڈ سے اتری اور بال کان کے پیچھے اڑستی بعجلت جوتا اڑس کر واش روم میں گھس گئ۔۔۔ اس شخص کے یہ بے باک انداز رات سے ہی اسے بارہا سٹپٹانے پر مجبور کر رہے تھے۔۔۔۔
پیچھے وہاج گہرا مسکراتا سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا اسکا یہ شرمایا لجایا اور بات بات پر سٹپٹاتا روپ دل میں الگ ہی ہلچل مچا رہا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ سرخ کامدار سوٹ میں ملبوس ہلکا پھلا میک آپ کئے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے تیار سی وہاج کے پہلو میں کھڑی تھی۔۔۔ آنچل سینے پر پھیلا رکھا تھا جبکہ بالوں کے وسط میں چھوٹا سا کیچر لگا تھا جو چند ایک لٹوں کے سوا باقی بالوں کو خود میں قابو کرنے کی صلاحیت سے قاصر تھا۔۔۔
وہاج کے سنگ وہ باہر آئی تو فاہا والہانہ لپک کر اس سے ملی جبکہ مرتسم نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے اسکا آسودہ انداز دیکھا اور اندر ہی اندر مطمیئں ہو گیا۔۔۔ یقیناً وہاج سے بڑھ کر کوئی اور اسکی بہن کا قدردان ہو نہیں سکتا تھا۔۔۔
ناشتہ انتہائی خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔۔۔ ناشتے کے بعد مرتسم اور وہاج آپس میں مصروف ہو گئے تو فاہا علایہ کے سنگ اسکے کمرے میں آگئ۔۔
آہمممم۔۔۔ تو کیسی گزری رات سویٹ ہارٹ۔۔۔ فاہا دھپ سے بستر پر بیٹھتی شریر سے انداز میں فاہا کا انوکھے رنگوں سے لبریر چہرا دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
فاہا کی رنگت میں سرعت سے سرخیاں گھلیں۔۔۔۔ وہ ہولے سے مسکرا کر رہ گئ۔۔۔
ارےےے۔۔۔۔ بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔ فاہا نے مزید چھیرا۔۔۔ بہت بدتمز ہو تم۔۔۔ علایہ نے جھنجھلا کر اسے چیت رسید کی۔۔۔ فاہا کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔ جاو مت بتاو۔۔۔ پر تمہارے چہرے پر موجود یہ دھنک رنگ رات کا سارا بھید کھول رہے ہیں۔۔۔ فاہا مسکراہٹ دابتی مزید شریر ہوئی جب وہ سٹپٹا کر چہرا موڑ گئ۔۔۔ ہاتھ سے چہرا تھپتھپاتے اسنے گہری سانس خارج کی جو بھاپ چھوڑنے لگا تھا۔۔۔
اچھا چلو بتاو رونمائی میں کیا تحفہ ملا۔۔۔ فاہا ایکسائٹڈ سی سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔
اس سوال پر یکدم علایہ کا رنگ پھیکا پڑا۔۔۔ رونمائی کا تحفہ۔۔۔۔۔رونمائی کا کوئی تحفہ بھی ہوتا ہے وہ تو یکسر فراموش کئے بیٹھی تھی۔۔۔ اور تو اور وہاج نے بھی ایسی کوئی رسم ادا نا کی۔۔۔ اسنے سرعت سے خود کو کمپوز کیا۔۔۔
اننن۔۔۔ ہنننن۔۔ کچھ دیر میں دکھاتی ہوئی تمہیں ۔۔۔ زرا ویٹ کرو۔۔۔ بامشکل وہ فاہا کے سامنے بھرم رکھتی بات کور کر پائی۔۔۔ لیکن دل میں موجود پہلے والے نرم گرم اور خوبصورت جذبات کی جگہ اداسی و خاموشی نے لے لگی۔۔۔ دل یک دم ہی اندر سے بجھ گیا۔۔۔ اور کچھ نہیں تو وہاج کو تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے تھی ۔۔۔ شاید بھول گئے ہوں۔۔۔ وہ اندر ہی اندر خود کو تاویلیں دے رہی تھیں۔۔ وہ ایک شخص جو ایک ہی رات میں سانسوں سے زیادہ عزیز ہو گیا تھا۔۔۔ دل زرا برابر اسکی غلطی ماننے سے انکاری تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد وہاج کسی کام سے اندر آیا تو فاہا نا محسوس انداز میں باہر چلی گئ۔۔۔
وارڈروب سے فائل نکالتے اسنے یکدم خود پر سایا سا محسوس کر کے سر اٹھا کر دیکھا اور گہرا مسکرا دیا۔۔۔ وہ علایہ تھی جو سر جھکائے ہاتھ مڑورتی شش و پنج میں مبتلا اسکے پاس کھڑی تھی۔۔۔
کیا بات ہے مسز۔۔۔ کچھ چاہیے۔۔۔ وہ فائل ہاتھ میں تھامے وارڈروب کا پٹ بند کر کے اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
جی۔۔۔۔
کیا۔۔۔ اسنے تجسس سے بھرپور انداز میں آئبرو اچکایا۔۔۔
رات آپ نے مجھے رونمائی کا تحفہ نہیں دیا۔۔۔ وہ دے دیں۔۔۔
اسکے سامنے کھڑی وہ پلکوں کی چلمن اٹھاتی گراتی بڑے نرم انداز میں مطالبہ پیش کر رہی تھی یوں اس انداز میں کے یقین واثق ہو جیسے کے رات رونمائی کا تحفہ نا مل پانا وقت کی قلت یا یاد بھول جانے کا غماز ہے۔۔
وہاج اس جنگلی بلی کا یہ روپ دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ اسے تو اسکے وہ انداز بھی برے نا لگتے تھے۔۔۔ ان طریقوں سے تو وہ مزید دل کے قریب لگنے لگی تھی۔۔۔ یہ لڑکی دل کی اسقدر نرم اور تابعدار بھی ہو سکتی تھی یہ تو اسکے گمان تلک نا تھا۔۔۔ اور پھر فرمابردار بیوی کس مرد کی خواہش نہیں ہوتی۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ ایکچولی ایم سوری۔۔۔ رونمائی کا تحفہ تو میں بھول گیا۔۔۔ سر کحجھاتا وہ بہت پشیمان انداز میں بولا ۔۔۔
فاہا نے بے یقین نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔ آپ واقعی بھول گئے۔۔۔
سو سوری یار۔۔۔ اتنے جھمیلے تھے کے ایک پرسنٹ بھی یاد نہیں رہا۔۔۔ زرا سا بھی مائنڈ میں ہوتا تو میں ضرور لیتا۔۔۔ ویسے بھی رات گئ بات گئ۔۔۔ ایکسکیوز کرتے وہ آخر میں اپنی بات کے اثر کو زائل کرنے کی خاطر شانے اچکاتا گویا ہوا جب علایہ کو خالی خالی نگاہوں سے گم صم سے انداز میں خود کو دیکھتا پایا تو اسکے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔
اگر تمہیں ضرور چاہیے تو ہم ابھی جا کر خرید لیتے ہیں۔۔۔ بتاو تمہیں کیا چاہیے۔۔۔
وہ اسکا گم صم انداز دیکھتا کتنے رسان سے کہہ رہا تھا علایہ مسکرائے بنا نا رہ سکی۔۔۔ وہ اسے کیسے بتا دیتی کے رونمائی کا تحفہ بھی بھلا کوئی بتا کے لینے والی چیز تھی۔۔۔ مانگ کر یا فرمائشیں کر کے لینے کو تو پوری زندگی پڑی تھی۔۔۔ یہ ایک تحفہ تو انمول ہوتا ہے جو شوہر کی طرف سے بیوی کو ملتا ہے باقی ہر تحفے سے خاص۔۔۔ لیکن کوئی بات نہیں ۔۔۔ اسکے دل نے اس کوتاہی کے لئے بھی اس خوبرو شخص کو قابل اعتنا نا جانا۔۔۔ ان سب چیزوں سے بڑھ کر تھا وہ شخص اب اس کے لئے۔۔۔
نہیں۔۔۔ اٹس اوکے۔۔۔ آپکو یاد نہیں رہا تو کوئی بات نہیں۔۔۔ اتنا بھی کوئی ضروری نہیں تھا۔۔۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔ رات گئ بات گئ۔۔۔ ان فارمیلیٹیز کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ دراصل فاہا پوچھ رہی تھی نا تو اس لئے مجھے لگا شاید آپکو دینا یاد نا رہا ہو۔۔۔ لیکن اٹس اوکے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔ میں اسے کسی طرح سے ٹال دوں گی۔۔۔ یا۔۔۔ یا کہہ دوں گی کے۔۔۔ کے مجھے رونمائی میں کیش ملا۔۔۔ ہاں۔۔۔ یہ ٹھیک ہے۔۔۔
شش و پنج میں مبتلا سوچ سوچ کر بولتی اپنا اور اسکا بھرم رکھنے کو ہلکان وہ اسے اس پہلی نادان جذباتیت سے بھرپور لڑنے بھرنے کو ہر دم تیار علایہ سے یکسر منفرد لگی۔۔۔ آخر میں خود ہی اس مسلے کا حل نکال کر وہ کتنا خوش ہوئی تھی۔۔۔ مطمئیں اور آسودہ جیسے اسنے اپنا اور اپنے شوہر کا بھرم رکھ لیا ہو۔۔۔ بنا اس سے الجھے بنا اسے جتائے یا سنائے۔۔۔
وہ مطمیئں سی پلٹی۔۔۔۔ جب اسکی نازک بازو وہاج کی مضبوط گرفت میں آئی۔۔۔
وہ چونک کر پلٹی۔۔۔ جی۔۔۔ چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات تھے۔۔۔
میں نے اتنا اہم تحفہ مس کر دیا۔۔۔ تمہیں مجھ پر غصہ نہیں آیا۔۔۔ وہ ناجانے کیا سننا چاہتا تھا جو سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
غصہ کس بات کا وہاج۔۔۔ اتنا بھی اہم نہیں تھا وہ تحفہ۔۔۔ سمجھداری سے کہتی وہ کتنی مدبر لگ رہی تھی۔۔۔
کیا تمہیں واقعی لگ رہا ہے کہ کسی کی اتنی پیاری بیوی ہو اور وہ اسکے لئے اسکے شایان شان رونمائی کا تحفہ لینا۔۔۔۔ اسے ناصحانہ اندا میں کہتے ڈرایسنگ ٹیبل کا دراز کھول کر اندر سے ایک چھوٹا سا مخملی کیس نکالا۔۔۔
علایہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
پھر مسکراتے ہوئے اسنے کیس سے ایک بیش قیمتی ہیرے جری نفیس سی رنگ نکالی اور اسکا نازک ہاتھ تھامتے نہایت نرمی سے انگوٹھلی اسکی انگلی کی زینت بنائی۔۔۔ نازک دودھیا ہاتھ پر انگوٹھی نے الگ ہی چھب دکھلائی تھی۔۔۔ تمہارے ہاتھ پر سج کر یہ انگوٹھی بھی انمول ہو گئ اسنے نرمی سے اسکا ہاتھ دباتے لبوں سے لگایا تو وہ چونک کر ہوش میں آئی۔۔۔ فرط جذبات سے آنکھیں بھر آئیں۔۔۔ تو مطلب آپ تب سے مجھے جان بوجھ کر تنگ کر رہے تھے۔۔۔ وہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔
حق رکھتا ہوں یار۔۔۔ تمہارے علاوہ کسی اور کو تنگ کیا تو پھر بھی تمہیں ہی مسلہ ہو گیا۔۔۔ اسنے شریر سے انداز میں کہتے انگلی کی پور سے اسکی ناک کی نوک چھوئی۔۔۔ وہ مسکرا دی۔۔۔
تھینک یو وہاج۔۔۔ یہ بہت اچھی ہے۔۔ بالکل آپ کی طرح وہ کھوئی کھوئی سی اپنے ہاتھ پر سجا اس شخص کی طرف سے ملنے والا پہلا تحفہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ جسکی قدر و قیمت چاہے کچھ بھی ہوتی لیکن وہ اسکے لئے بیش بہا قیمتی تھا۔۔۔
سوری لیکن رات واقعی تاخیر کا شکار ہونے کے باعث میں بھول گیا تھا۔۔۔ ویسے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اگر رات یہ دے دیتا تو اپنی بیوی کا اتنا پیارا روپ کیسے دیکھتا جو اپنا اور میرا بھرم رکھنے کو ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔ وہاج کے مسکرانے پر وہ بھی خجالت سے مسکرا دی جب مرتسم اور فاہا دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوئے۔۔۔ ہیلو لو برڈز اب ہمیں اجازت دیں رات ولیمے پر ملاقات ہوگئ۔۔۔۔۔ مرتسم کے اچانک اندر آنے اور کہنے پر علایہ نے سٹپٹا کر وہاج کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور نظریں چراتی آ کر فاہا سے ملی جبکہ وہاج بھائی کے سامنے اسکے گریز پر مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
*****

No comments