Header Ads

Roshan Sitara novel 90th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  90th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

90th epi..
ماہرہ اپنی سیکرٹری کے ساتھ ہوٹل کی لابی سے بڑے باوقار انداز میں چلتی جا رہی تھی۔۔۔ اٹھی گردن سیدھی نگاہیں چہرے پر موجود سنجیدگی اور چال کا وقار وہ ہر لحاظ سے ایک پر اعتماد لڑکی لگ رہی تھی جس سے وقار اور تمکنت کی شعائیں پھوٹ رہی تھیں۔۔۔ 
دفعتاً لفٹ کے پاس پہنچ کر لڑکیوں کا ایک گروپ اپنے دھیان انکی طرف آیا اور نامحسوس انداز میں ماہرہ اور اسکی سیکریڑی کے درمیان حائل ہو گیا۔۔۔
چند ثانیوں کا وقفہ پڑا ماہرہ لفٹ میں سوار ہو گئ جبکہ سکریٹری باہر رہ گئ۔۔۔
وہ جھنجھلا کر سیڑھیوں کی جانب بڑھی کیونکہ لفٹ بند ہو کر چل پڑی تھی۔۔۔
ایکسکیوز می میم آپ مس ماہرہ کی سیکریٹری ہیں نا۔۔۔ وہ سیڑھیوں لے ذریعے ہانپتی کانپتی ابھی دوسرے فلور پر ہی پہنچی تھی جب ایک سوٹڈ بوٹڈ شائشتہ سا نوجوان ہاتھ باندھے اسکے قریب آیا۔۔۔
جی۔۔۔ اسے تعجب ہوا۔۔۔
دراصل میم وہ اپنا لیپ ٹاپ گھر بھول آئی ہیں اور شدید پریشان ہے۔۔۔ انکا کہنا ہے کے میٹنگ شروع ہونے سے پہلے آپ خود زیر نگرانی ڈرائیور کے ساتھ جا کر انکا لیپ ٹاپ لے آئیں۔۔۔
اس شخص کی بات پر سکریٹری جھجنھلائی۔۔۔۔ پھر بنا تاخیر کئے لب بھینچتی لفٹ کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ یہ سوچے بنا کے لیپ ٹاپ بیگ تو ماہرہ کے ہاتھ میں تھاما تھا۔۔۔۔ اسکے مرتے ہی اس نوجوان کی آنکھوں میں مخصوص چمک ابھری۔۔۔ ساتھ ہی اسنے جیب سے موبائل نکالتے مستعدی سے ڈن کا میسج ٹائپ کیا۔۔۔
*****
پانچویں فلور پر جا کر لفٹ رکی تو ماہرہ نے باہر نکل کر کوفت زدہ نگاہوں سے سیڑھیوں کی بدولت اوپر آتے راستے کو دیکھا وہ لڑکی ناجانے کہاں رہ گئ۔۔۔ اسے اسکے ساتھ ہی لفٹ میں سوار ہونا چاہیے تھا۔۔۔ کوفت جھنجھلاہٹ میں بدلنے لگی۔۔۔
ویلکم میم۔۔۔۔ وہ ابھی اپنے شولڈر بیگ سے موبائل نکال کر سیکریٹری کا نمبر ملانے ہی والی تھی جب وہی شخص ہاتھ باندھے اس تک آیا۔۔۔
ماہرہ نے چونک کر موبائل سے نظریں ہٹاتے اسے دیکھا۔۔۔
ایکچولی میم آپکی سکریٹری کو ارجنٹلی آفس سے کال آئی تو انہیں فورا وہاں جانا پڑا کچھ ڈاکومنٹس شاید اسنے رکھے تھے وہ دینے کے لئے۔۔۔ وہ کہہ کر گئی ہیں کے وہ کچھ ہی دیر میں واپس آ جائیں گی۔۔۔ آپ پلیز آئیں میں آپکو کانفرینس ہال کی جانب گائیڈ کر دوں۔۔۔ وہ شائستگی سے کہتا ہاتھ سے آگے بڑھنے کا اشارہ کرتا خود الڑٹ کھڑا تھا۔۔۔ ماہرہ کی کوفت حد سے سوا ہوئی۔۔۔ سیکریٹری پر جی بھر کر تاو آیا۔۔۔ مطلب کے حد تھی غیر ذمہ داری کی۔۔۔
میم پلیز زرا جلدی کریں۔۔۔ ہمیں آپکے تعاون کی سخت ضرورت ہے کچھ ممبرز کی ابھی کچھ دیر میں فلائیٹ ہے۔۔۔۔  انہیں زرا جلدی ہے۔۔۔ اس شخص کے لجاہت سے کہنے پر وہ لب بھینچتی موبائل واپس بیگ میں رکھ گی۔۔۔ وہ اسے لئے ایک بڑے سے دروازے کے سامنے آیا۔۔۔ 
وہ دروازہ دیکھ اسے کچھ عجیب سا احساس ہوا۔۔۔ وہ دروازہ کسی طور اسے کسی کانفرینس روم کا دروازہ نا لگا۔۔۔ اسنے الجھ کر اس شخص کو دیکھا مگر اس شخص کی جلدبازیوں نے اسے زیادہ کچھ سوچنے نا دیا۔۔۔ وہ دروازہ دھکیلتی اندر بڑھ گئ۔۔۔ لیکن اندر بڑھتے ہی وہ ٹھٹھک کر رکی۔۔۔ قدم جیسے زنجیر ہو گئے۔۔۔ وہ ایک سویٹ تھا۔۔۔ سامنے ہی چھوٹا سا لاوئنج جہاں مخملی صوفے اور خوبصورت سا میز پڑا تھا اس سے کچھ فاصلے پر اوپن کچن اور انکے مقابل خوبصورت سا کمرا تھا جسکے کھلے دروازے سے سامنے بالکنی کا منظر بھی واضح ہوتا تھا۔۔۔
ماہرہ پر یکدم ڈھیر ساری گھبراہٹ کا حملہ ہوا ماتھے پر شکنوں کا جال بچھا۔۔۔کیا اسکے ساتھ کوئی پرینک ہوا تھا۔۔۔ وہ انہی قدموں پر واپس پلٹی ۔۔۔
ویلکم مس ماہرہ۔۔۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے کچھ دیر رکیں تو سہی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتی میر کی آواز نے اسکے قدم جھکڑے۔۔۔طلب یہ کوئی پرینک نا تھا۔۔ پھر یہ سب۔۔۔ وہ جتنا حیران ہوتی کم تھا۔۔۔
ماہرہ جھٹکے سے پلٹی لیکن سامنے میر کو باتھ گاوں میں ملبوس ہاتھ میں مشروب کا گلاس تھامے خمار آلود نگاہوں سے اسے دیکھتا پا ماہرہ کا غم و غصے سے حال برا ہونے لگا۔۔۔ 
یہ کیا بیہودگی ہے مسٹر میر۔۔۔۔ کہاں ہے باقی سب ممبرز اور یہ کوئی کانفرینس روم نہیں۔۔۔ میر کو اس حالت میں اپنے سامنے کھڑا پا ماہرہ کے اندر اشتعال کے بھانبھر جلنے لگے۔۔۔ طیش سے اسکا نرا حال تھا۔۔۔
وہ گہرا مسکراتا قدم قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔ اسکے اپنی جانب اٹھتے ہر قدم پر ماہرہ کو اپنے جسم پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوئیں۔۔۔ اسکے انداز ماہرہ کے اندر کچھ کھٹکا رہے تھے۔۔۔
باقی ممبرز کا کیا کرو گی سویٹ ہارٹ پہلے مجھے تو بھگتا لو۔۔۔۔ وہ خباست سے آنکھ مار کر کہتا ماہرہ کے مقابل آیا۔۔۔ ماہرہ کا سارا خون سمٹ کر اسکے چہرءے پر آ گیا۔۔۔ اشتعال کسی تیزاب کی مانند اسکی رگ رگ میں سرائیت کرتا اسے جھلسانے لگا۔۔۔۔۔ جبڑے بھینچے وہ سرخ انگارہ ہوتی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔ اسکا طرز تخاطب ہی اسقدر گھٹیا تھا کجا کے اسکی آخری حرکت۔۔۔
ارےےے۔۔ تمارا تو ہر انداز ہی قاتل ہے سویٹ ہارٹ اب کیا جان لو گی میری۔۔۔ میر کے تو رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے تھے۔۔۔ وہ کسی طور اسے وہ شائستہ میر نا لگا جس سے وہ پہلے واقف تھی۔۔۔۔ وہ حیرت وہ شاک سے گنگ تھی جب میر نے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے انگلی کی مدد سے اسکی روئی کی مانند نرم گال چھونی چاہی۔۔۔
ہاو ڈئیر یو۔۔۔ جب ماہرہ نے بپھر کر اسکا ہاتھ اپنی گال تک پہنچنے سے پہلے ہی بے طرح جھٹکا اور ضبط سے اپنا غصہ دابتی سرعت سے مڑی ۔۔۔ ارادہ وہاں سے باہر نکلنے کا تھا جب اتنی ہی تیزی سے میر نے اسکی بازو پکڑتے اسے اپنے شکنجے میں کسنا چاہا۔۔۔ ماہرہ کو لگا جیسے کسی جلتے دہکتے انگارنے نے اسے چھو لیا ہو۔۔۔ اسے اپنا جسم ان دیکھتی آگ میں جھلستا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ وہ اسکی سخت گرفت میں پھڑپھڑا کر رہ گئ۔۔۔
اس کھینچا تانی میں اسکا شولڈ بیگ اور لیپ ٹاپ بیگ وہیں زمین بوس ہوگئے۔۔۔
ماہرہ اس گھٹیا شخس کی کریہہ گرفت تورنے کو ہلقان ہو رہی تھی مگر یہ حقیقت تھی وہ دھان پان سی لڑکی اس طاقتور مرد کے سامنے بے بس تھی۔۔۔ وہ اسکا مقابلہ کرنے سے قاصر تھی۔۔۔ تِبھی وہ شخص اس پر حاوی ہو رہا تھا۔۔۔ وہ ماہرہ کو اپنے سخت حصار میں جھکڑتا کسی بے جان گڑیا کی مانند گھسیٹتا ہوا اپنے سنگ لے کر آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔
ماہرہ بھرپور مزاحمت کر کے بھی نامراد ٹھہر رہی تھی۔۔۔ خوف اسکی رگ رگ میں سرائیت کرنے لگا۔۔۔ دل یوں دھرک دھڑک کر پاگل ہو رہا تھے جیسے ابھی خوف سے بند  ہو جائے گا۔۔۔ 
میر نے اسے کسی بے جان گڑیا کے مانند لا کر صوفے پر پٹخا۔۔۔ کے اسے دن میں تارے نظر آ گے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ سمبھلتی میر اسکے دائیں بائیں ہاتھ رکھتا اس پر جھکا اور اسکے فرار کے سبھی راستے بند کر گیا۔۔۔
خوف ہراس سراسیمگی کیا کچھ نا تھا ماہرہ کے چہرے پر ۔۔ اسے لگا اسکی روح ابھی پرواز کر جائے لگی۔۔۔ عجیب مشکل میں پڑ گی تھی اسکی زندگی۔۔۔ وہ حواس بحال رکھنے کی کوشیش میں مسلسل ناکام ہو رہی تھی۔۔۔ ایک نامحرم کی اتنی قربت اسے بے موت مار رہی تھی۔۔۔۔ اسے موت منظور تھی مگر اپنی عزت نسوانیت انا اور وقار کا  قتل نہیں۔۔۔۔
گھٹیا رزیل انسان تمہاری اتنی جرات۔۔۔ ہٹو پڑے۔۔۔ وہ بپھری ہوئی شیرنی کی مانند اس پر جھپٹی اور لمحوں میں میر کا چہرا نوچ ڈالا۔۔۔ اس ڈری سہمی خوف سے کانپتی چڑیا سے یہ بہادری کا عمل غیر متوقع تھا۔۔۔ اسی لئے وہ زرا سا لڑکھڑایا ۔۔۔ ماہرہ نے اسے ہی عافیت سمجھا اور ڈھرکتے دل کے ساتھ اٹھ کر بھاگنا چاہا جب میر اسکی کوشیش کو سمجھتا ایک جھٹکے میں سمبھل کر اسے پھر سے دبوچ کر صوفے پر پٹخ چکا تھا۔۔۔
پس طے ہوا وہ ہر حال میں ماہرہ سے طاقتور تھا۔۔۔ زور آور اور چھایا ہوا۔۔۔ وہ انسان نہیں وحشی درندہ تھا جس سے کسی بھی بھلائی کی توقع عبث تھی۔۔۔ شیطان اسکے سر پر سوار تھا اور حوس آنکھوں سے ٹپک رہی تھی۔۔۔ وہ نفس کا غلام تھا جس کی غلامی کرنے کو وہ اخلاقیات سے گری ہر حد پار کر جاتا۔۔۔
ماہرہ بے بس تھی۔۔۔ بے حد بے بس۔۔۔ اس بے بسی میں اسے خدا کے بعد ایک وہی شخص یاد آیا جو اس دنیا کی بھیڑ میں ناجانے کہاں کھو گیا تھا۔۔۔ 
وہ اس شخص کی امانت تھی۔۔۔ کیسے اسکی امانت میں خیانت کر جاتی۔۔۔ وہ جتنی بھی کمزور ہوتی بے بس ہوتی لیکن جان کنی کے عمل سے گزرتے زندگی بچانے کو ہاتھ پیر مار رہی تھی۔۔۔ جیسے سمندر میں ڈوبنے والا سانسوں کی ڈور ٹوٹنے سے پہلے ہاتھ پیر مارتا ہے چاہے وہ تیراکی کے ہنر سے ناآشنا ہی کیوں نا ہو تب بھی آخری حد تک خود کو بچانے کی کوشیش میں سرگرداں رہتا ہے۔۔۔ موت مشکل ہوتی ہے پھر چاہے قتل روح کا ہو یا عزت کا۔۔۔ تکلیف برابر ہی تھی۔۔۔
وہ بھی ہاتھ پیر مار رہی تھی۔۔۔ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی کے شاید کوئی بچنے کی سبیل نکل آئے۔۔۔ وہ شخص اس پر حاوی تھا۔۔ وہ اندھیروں میں گھر چکی تھی جہاں روشنی کا روئی روزن نا تھا۔۔۔ اتنی اختیاط کے باوجود بھی کے مصیبت جب ٹوٹی ہے تو انسان کی کوئی حکمت کوئی تدبیر کام نہیں آتی۔۔۔ اس پر بھی بڑئ آزمائش ٹوٹ پڑی تھی۔۔۔
لیکن وہ ان اندھیر نگری میں خوف سے ڈولتی بھی ہاتھ سے سرکتا امید کا آخری دامن بھی بڑی مضبوطی سے تھامے بیٹھی تھی۔۔۔ وہ امید کے اس آخری سرے کو ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دینا چاہتی تھی کیونکہ ناامیدی کفر تھی۔۔۔دل جتنا بھی ڈرا تھا۔۔۔ اگلا سب کچھ روز روشن کی طرح اسکے سامنے واضح تھا۔۔۔ آج یا وہ اپنی عزت کھو دیتی یا جان۔۔۔ وہ دعا گو تھی کے محض زندگی کی بازی ہارے کیونکہ اگر عزت کھو دیتی تو زندگی کا تصور تو تب بھی کوئی نا تھا۔۔۔ ہر لمحے اس شخص کے خود پر قابص ہونے پر امید کا ہاتھ میں تھاما وہ سرا سرکتا جا رہا تھا۔۔۔ وہ اپنے رب سے امید ختم نہیں کر سکتی تھی۔۔ کہ جو رب آزمائش ڈالتا ہے وہ اسے ختم کرنے پر بھی قادر ہے۔۔۔
وہ جھٹپٹاتے ہوئے حلق کے بل چیخ رہی تھی۔۔۔ ہاتھ پاوں مارتے اس شخص کو خود سے دور دھکیلنے کی ناکام کوشیشیں کرتے وہ کسی طور ہار ماننے کو تیار نا تھی۔۔۔ جب اسے اپنی گردن پر کسی چبھن کا احساس ہوا ساتھ ہی اسے اپنا آپ مفلوج ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔ میر کا گریبان سختی سے جھکڑے اسکے ہاتھِ بے جان ہو کر نیچے گرے۔۔۔ حلق سے آواز نکالنے کو پوری کوشیش لگانے کے باوجود لب کپکپا کر رہ گئے مگر آواز نکل کر نا دی۔۔۔ وہ اپنے ہی وجود کا بوجھ سہارنے کو ناکام ہوتی صوفے پر ڈھ گئ اس انداز میں کے سر اسکی ہتھی سے جا ٹکرایا۔۔۔
میر قہقہ لگاتا پیچھے ہو گیا۔۔۔ بہت کوشیش کی کے تمہیں یہ روز نا دی جائے اور تمہارے پورے حوش و حواس میں یہ خوبصورت لمحات انجوائے کئے جائیں مگر تم  پوری جنگلی بلی ہو اور مجھے اپنے کام میں کوئی ڈسٹربنس قبول نہیں۔۔۔ وہ اسکے ناخنوں کی بدولت اپنے چہرے اور سینے پر آ چکی خراشیں سہلا رہا تھا۔۔۔ ماہرہ نے کھلی بے بس آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔ خاموش آنسو آنکھوں سے بہہ نکلے۔۔۔ سانسوں کے بعد یہ وہ واحد چیز تھی جو اس وقت اسے زندہ ظاہر کر رہی تھی۔۔۔ ورنہ نا وہ ہل پا رہی تھی اور نا ہی اسکی بکواس سننے کے بعد کچھ بول ہا رہی تھی۔۔۔ گویا وہ شخص اسکے ہاتھ پاوں باندھ کر کے اسے بے بس کر کے پھینک چکا تھا اور اب اسکے عین سامنے بیٹھا اسکی بے بسی پر خط اٹھا رہا تھا۔۔۔ 
میز کے کنارے بیٹھے میر نے آگے جھکتے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر اسکا حجاب کھولنے لگیا۔۔ احتجاج کی بھرپور کوشیش میں ماہرہ کا جسم جھٹکا کھا کر رہ گیا۔۔۔
اسے لگا کسی نے بھرے مجمعے میں اسے برہنا کر دیا ہو۔۔۔ ایک وقت تھا جب وہ خود بے حجاب رہتی تھی۔۔۔ خود کو ڈھنپنا اور سینچ سینچ کر رکھنا تو اس ستم گر نے سیکھایا تھا جسکے نام وہ اپنا پور پور وقف کر چکی تھی۔۔۔ 
ریشم کی مانند آبشار حجاب کی آڑ سے آزاد ہوتی اس پر پھیل گئ۔۔۔
کئ بے بس آنسو اسکی آنکھوں کی بار سے بہہ نکلے۔۔۔ کیا عجب عالم تھا بے بسی کا اتنی تکلیف ایذا اور اذیت کےباوجود دل پھٹا نا تھا۔۔۔ روح پرواز نہیں کی تھی۔۔۔ وہ ابھئ بھی زندہ تھی۔۔۔ آنکھئن کھلی تھیں اور سانسیں چل رہی تھیں۔۔۔ بے بسی کے شدید احساس تلے لب کپکپا کر رہ گئے۔۔۔ وہ اسکی خاموش بے بس نگاہوں کی التجا کو نظر انداز کرتا اسکے نازک لب پر انگوتھا پھیرتا گویا اسے کچل رہا تھا۔۔۔۔
اففف۔۔۔ بہکا رہا ہے تمہارا یہ نوخیر حسن۔۔۔ وہ ہسا۔۔۔ کیا بتاوں کتنے جتن کئے ہیں میں نے ان لمحات کے لئے کتنا انتظار کیا ہے۔۔۔ وہ ماہرہ پر جھکا اسکے کومل چہرے ر لکیریں کھینچ رہ اتھا۔۔۔
دل چاہتا ہے ہر مصلحت بھلائے خود کو تمہارے جسم کی رعنائیوں اور دلکشی میں گم کر لوں۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔
وہ گہری سانس بھرتا پیچھے ہٹا۔۔۔
پہلے کام پھر ذاتیات وہ مسکراتا ہوا اٹھا اور دروازے کے پاس گرے پڑے اسکے لیپ ٹاپ تک گیا لیپ ٹاپ اٹھایا اور واپس اسی جگہ پر آیا۔۔۔
لگتا ہے فائز علوی کے بہت گہرے تعلقات تھے تم سے جو اپنا لیپ ٹاپ تک تمہیں تھما دیا۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا کہتا لیپ ٹاپ بیگ سے نکال کر کھول رہا تھا۔۔۔
ماہرہ چونک چونک گئ۔۔۔ فائزکا بھلا یہاں کیاذکر۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے لیپ ٹاپ کو دیکھتے اس پر واضح ہوا کے یہ لیپ ٹاپ فائز کا ہے۔۔۔۔ اسکی سانسیں تھمنے لگئیں۔۔۔
کیا پاسورڈ ہے اسکا۔۔۔ ویسے اینوی اتنا خوار ہوتا رہا میں اسکے پیچھے اگر پہلے پتہ ہوتا کے یہ تمہارے پاس ہے تو اب تک میری تلاش ختم ہو چکی ہوتی۔۔۔ 
ماہرہ پر ایک اور عقدہ کھلا کے یہ ہی شخص فائز کا دشمن تھا اور یہ سب بھی اسی دشمنی کا ایک پہلو تھا۔۔۔ کڑی سے کڑی مل رہی تھی وہ سب سمجھنے لگی لیکن اس وقت سمجھنے کا مقصد جب وقت سوکھی ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل گیا تھا۔۔۔
مطلب طے ہوا آج یہاں وہ اپنی ذات کا مان اور وقار ہی ہی نہیں کھونے والی تھی بلکہ فائز کی گنہگار بھی بننے والی تھی کے جس راز کو دشمن کی پہنچ سے دور رکھنے کے لئے وہ زندگی کی بازی ہار گیا ماہرہ اظہر اسی راز کی حفاظت نا کر پائی۔۔۔
تم نے مجھے کبھی اس قابل نہیں سمجھا کے اپنی کوئی پریشانی اپنا کوئی مسلہ مجھ سے شئیر کر سکو۔۔۔ لمحوں میں اسکی آنکھوں کے سامنے ایک منظر ابھرا۔۔۔ وقت رخصت وہ روتی بلکتی فائز کے سامنے کھڑی شکوہ کناں تھی۔۔۔
پاگل مت بنو ماہرہ۔۔۔ مجھے تم سے بڑھ کر کوئی عزیز نہیں۔۔۔ تم سے آج تک ہر چیز اس لئے پوشیدہ رکھی کے کبھی میرے مسلوں کے درمیان کوئی تمہیں اس وجہ سے گھسیٹ نا سکے کے تم کچھ جانتی ہو۔۔۔ اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو تم مجھے ماہرہ۔۔۔ اسی لئے تمہیں ہر چیز سے دور رکھ کر سب سے چھپا لینا چاہتا تھا کے کوئی تمہاری دھول تک کو بھی نا پا سکے کیونکہ میں جانتا ہوں ماہرہ اگر کبھی میں زیر ہوا تو تمہاری وجہ سے ہونگا۔۔۔ ورنہ کسی کی اتنی جرات نہیں کے مجھ سے غداری کروا سکے ۔۔۔
بے بسی کے مزید آنسو ماہرہ کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔۔۔ کتنا یقین واثق تھا اس شخص کو۔۔۔ آج اسے اپنے آپ سے نفرت ہوئی جسکے باعث اس شخص کی قربانی ضائع جانے والی تھی۔۔۔
افف۔۔۔ میں بھی کتنا پاگل ہوں تم سے پاسورڈ پوچھ رہا ہوں۔۔۔ تم بھلا پاسورڈ کیسے بتا سکتی ہو تم تو بات بھی نہیں کر سکتی۔۔۔ وہ قہقہ لگا گیا۔۔۔ کوئی بات نہیں. سویٹ ہارٹ فکر مت کرنا اپنا مقصد پورا  کرنے کے بعد میں واپس تمہیں اینٹی ڈوز دے کر ٹھیک کر دوں گا۔۔ آفٹر آل میری تم سے تو کوئی دشمنی نہیں۔۔۔ وہ پھر سے ہسا۔۔۔ اور لیپ ٹاپ سیدھا کرتے ماہرہ کا مومی ہاتھ تھام کر انگوٹھا لیپ ٹاپ کی مطلوبہ جگہ پر لگایا ساتھ ہی لیپ ٹاپ انلاک ہو گیا۔۔۔
ماہرہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اسے جدید ٹیکنالوجی سے شدید نفرت محسوس ہوئی۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے لیپ ٹاپ چیک کر رہا تھا۔۔۔ آج اسکی تمام تلاش ختم ہوئی وہ اس چیز کو پا چکا تھا جسکی تلاش میں ابھی تک ہلکان تھا اور ماہرہ۔۔۔ اس میں جیسے اب جینے کی امنگ ہی باقی نا رہی تھی۔۔۔ بھلا فائز جیسے مخلص شخص کی قربانی کو ضائع کر کے اسکے راز دشمن کے ہاتھ تھما کر وہ جی کر کرتی بھی کیا۔۔۔  
******

No comments

Powered by Blogger.
4