Header Ads

Roshan Sitara novel 89th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  89th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

89th epi...
 ساری رات فاہا نے کانٹوں پر بسر کی تھی۔۔۔ کسی کروٹ چین نا آ رہا تھا ۔۔۔ سارے دن کی تھکاوٹ اور بھاگ ڈور بھی پرسکون نیند کو اسکے قریب تک نا لاسکی۔۔۔  رات سے اسے مرتسم بھی کہیں دکھائی نا دیا ۔۔۔۔ گھر آتے ہی وہ کہیں نکل گیا تھا ۔۔۔ اسکی واپسی ناجانے رات کس وقت ہوئی تھی۔۔۔۔
پریہا کی باتیں یاد آتیں تو اسے اپنا سر درد سے پھٹتا محسوس ہوتا۔۔۔ رگوں میں دورتا خون بھی طیش سے ابال کھانے لگتا۔۔۔ یہ تصور بھی کے مرتسم کی پریہا سے منگنی ہو سکتی ہے اس کے لئے سوہانِ روح تھا۔۔۔
وہ اپنے ہی جذبات سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔ کیسی یہ بے چینی و بے بسی اور بے کلی تھی جو کسی زہر کی مانند انگ انگ میں سرائیت کرتی اسے قطرہ قطرہ تڑپا تڑپا کر مار رہی تھی۔۔۔ دل چاہ رہا تھا ہر چیز تہس نہس کر ڈالے۔۔۔
مرتسم صرف اسکا تھا اور اس معاملے میں کوئی شراکت وہ سننا بھی نہیں چاہتی تھی کجا کے برداشت کرنے کا تصور بھی۔۔۔۔۔
وہ اندر ہی اندر گیلی لکڑی کی مانند سلگ رہی تھی۔۔۔ دل اس منگنی کا سن کر ہی پھٹ رہا تھا۔۔۔ اگر جو ماں کی عزت بچانے کو مرتسم نے منگنی کر لی تو۔۔۔۔ اسے تو یہ سوچ کر ہی اپنی سانسیں تھمتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔
سمجھ نا آ رہا تھا کے کیا کرے۔۔۔ ساری رات سوچ سوچ کر دماغ میں ایک سوچ ابھری تھی لیکن اس پر عمل کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔ وہ اپنے اندر ساری ہمت ختم ہوتی محسوس کر رہی تھی۔۔۔
رتجگے کے باعث آنکھیں جلنے لگیں تھیں۔۔
دفعتاً فجر کی اذانیں سنائی دیں تو وہ خود کو گھسیٹتی وضو کرنے کی نیت سے واش روم میں گھسی۔۔۔ 
ساری رات جلے پیر کی بلی کی مانند چکر کاٹ کاٹ کر اب پاوں شدید درد کرنے لگے تھے۔۔۔ جسم تھکاوٹ کے باعث ٹوٹنے لگا تھا۔۔۔
نماز پڑھنے کے بعد وہ خود کو گھسیٹتی کمرے سے باہر نکلی اب اسکا رخ سٹڈی روم کی جانب تھا۔۔۔
****
سٹڈی روم کے سامنے کھڑے ہو کر اسنے گیلی سانس اندر کھینچی اور کمرے کا دروازہ دھکیلتی اندر بڑھی۔۔۔ تایا جان روز صبح فجر کی نماز کے بعد واک پر جانے سے پہلے یہاں پر بیٹھ کر قرآن پاک پڑھتے تھے۔۔۔
اسی لئے اب وہ اس کہانی کو کسی سرے لگانے ڈائریکٹ تایا جان سے بات کرنے آئی تھی۔۔۔ لیکن وہ یہاں تک آ تو گئ مگر اب اسے اپنی ہمت ٹوٹتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ وہ کیسے تایا جان سے بات کرتی اور کیا۔۔۔
ارے فاہا بیٹا۔۔۔ آپ اس وقت یہاں۔۔۔ کوئی کام ہے کیا۔۔۔ وہ لب کچلتی بری طرح سے شش و پنج کا شکار وہیں دروازے میں کھڑی تھی جب تایا جان کی آواز پر اسنے بے بس نگاہیں اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔۔
کیا ہوا فاہا بچے۔۔۔ ادھر آو میرے پاس۔۔۔ کوئی مسلہ ہے کیا۔۔۔ وہ اسکا ستا ہوا چہرا دیکھ ٹھٹھکے۔۔ تبھی پریشانی سے قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹتے سٹڈی ٹیبل پر رکھا اور اسے اپنے پاس بلایا۔۔۔ 
وہ مرے مرے قدم اٹھاتی خود کو گھسیٹتی تایا جان تک پہنچی۔۔۔
تایا جان کے اشارہ کرنے پر وہ انکے پاس ہی تھری سیٹر صوفے پر ٹک گئ۔۔۔
کیا بات ہے فاہا۔۔ بتاو مجھے۔۔۔ 
تایا جان کے شفقت سے پوچھنے پر اسکی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔
تایا جان وہ۔۔۔ مزید کچھ کہنے کی چاہ میں  اسکے لب کپکا اٹھے تو وہ سختی سے لب آپس میں پیوست کر گئ۔۔۔۔
ہاں بولو بچے۔۔۔  آپکے آنسو مجھے پریشان کر رہے ہیں ۔۔ تایا جان نے پریشانی سے کہتے اسکے جھکے سر پر دست شفقت دراز کیا تو اسنے گیلی سانس اندر کھینچتے اپنی ہمت بندھائی۔۔۔
تایا جان ۔۔۔۔ وہ رکی۔۔۔ گہری سانس اندر کھینچی۔۔۔ بابا نے۔۔۔ بابا نے اپنی ڈیٹھ سے پہلے۔۔۔ میرا اور مرتسم کا۔۔۔۔ نکاح پڑھوایا تھا۔۔۔۔ وہ جھکے سر سمیٹ بامشکل ٹوتے پھوٹے الفاظ میں کھینچ تان کر اپنا مدعا بیان کر پائی۔۔۔۔ یہ حقیقت اسنے کس ہمت سے بیان کی تھی یہ وہی جانتی تھی۔۔۔۔ دل سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔ ہاتھ پاوں سن ہوتے ساتھ چھوڑ رہے تھے۔۔۔ ناجانے اس انکشاف کے بعد تایا جان کا ردعمل کیا ہوتا۔۔۔ دل سو طرح کے خدشات سے لرز رہا تھا۔۔۔ اسے اپنا آپ بے دم ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
جی بیٹا۔۔۔ میں جانتا ہوں یہ بات۔۔۔ تایا جان کے ٹھہرے ہوئے لہجے میں رسانیت سے یہ بات کہنے پر اسے لگا سٹڈی روم کی پوری کی پوری چھت اس پر آن گری ہو۔۔۔
اسنے جھٹکے سے سر اٹھاتے حیرت و بے یقینی سے تایا جان کی طرف دیکھا۔۔۔
آنکھوں میں تحیر ہی تحیر تھا۔۔۔ آنسو جیسے یکدم ہی ٹھٹھر گئے ہوں۔۔۔
آپ جانتے ہیں یہ بات۔۔۔ اسکے لب خود کلامی کے سے انداز میں ہلے۔۔۔
جی بیٹا۔۔۔ آپکو لگتا ہے کے وہ نالائق مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائے گا۔۔۔ انکا اشارہ مرتسم کی جانب تھا۔۔۔ فاہا دم سادھے بیٹھی رہی۔۔۔
اسنے اسی روز۔۔۔ تمہارے بابا کے جنازے کے بعد تمام معاملات میرے گوش گزار دئیے تھے کے احمد کی یہ ہی خواہش تھی اور اسی کے کہنے پر باعجلت نکاح پڑھوایا گیا۔۔۔
وہ چھوٹا بھائی تھا میرا فاہا  ۔۔ مجھے اس سے عزیز کوئی نا تھا۔۔۔ اگر میں وہاں ہوتا تو خود اپنے بھائی کی خوشی میں شریک ہوتا۔۔۔ لیکن یہ ہی تو مسلہ تھا کے میں اس روز آوٹ آف سٹیشن تھا۔۔۔
کیا ۔۔۔ کیا تائی جان بھی یہ بات جانتی ہیں۔۔۔ کسی خدشے کے تحت وہ جھجھکتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔
نہیں بیٹا۔۔۔ وہ نہیں جانتی۔۔۔ وہ اکلوتے بیٹے کی شادی کو لے کر بہت حساس ہے۔۔۔ اس لئے مرتسم نے فوری طور پر اپنی ماں سے یہ سب شئیر کرنے سے منع کردیا تھا۔۔۔ ارادہ کسی سازگار ماحول میں آرام سے اسے مطلع کرنے کا تھا۔۔۔ پھر میرے بیک ٹو بیک آفیشلی ٹورز تھے جسکی وجہ سے یہ بات لٹکتی گئ کے مرتسم میری موجودگی میں ماں سے یہ بات شئیر کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے ہینڈل کرنے میں آسانی رہے۔۔۔
کیونکہ مرتسم میرا بہت فرمابردار بیٹا ہے اور وہ کسی
 صورت اپنی ماں کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اور ماں بھی وہ جو اولاد کو دیکھ دیکھ جیتی ہے۔۔۔ اسکی دنیا اسکے بچوں سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہوجاتی ہے۔۔۔۔  ورنہ ایسی تو کوئی بات نہیں کے مرتسم نے اس بات کو خفیہ رکھا ہو۔۔۔ چونکہ ابھی رخصتی کا کوئی سین نہیں تھا کیونکہ تم ابھی اپنی پڑھائی مکمل کر رہی ہو تو مرتسم کا یہ ہی کہنا تھا کے جتنا وقت ماں کو بنا بتائے گزر سکے بہتر ہے۔۔۔۔ لیکن اب ہم آج کل میں ساری صورتحال اسے بتانے والے ہیں۔۔ اور پھر اسکے بعد جلد ہی رخصتی کا کارخیر بھی سر انجام دینے کا ارادہ ہے۔۔۔
اب تم بتاو کے کس چیز نے میری بیٹی کو اتنا پریشان کر رکھا ہے۔۔۔ وہ ساری بات اسکے گوش گزارتے آخر میں نرمی و شفقت سے گویا ہوئے۔۔۔
انکی بات سن کر فاہا کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔ آدھی فکریں جاتی رہیں۔۔۔ اسے مرتسم کے پرسکون ہونے کی وجہ اب سمجھ آئی تھی۔۔۔ کے کیوں وہ اس سارے ہنگامے کو اتنی اہمیت نہیں دے رہا تھا۔۔۔ کیوں فاہا کے اسے بتانے پر کہ گھر میں اسکی اور پریہا کی منگنی کی باتیں چل رہی ہیں  وہ اتنا پرسکون رہا تھا۔۔۔ کیونکہ اسنے یہ نکاح صیغہ راز رکھا ہی نہیں تھا۔۔۔
وہ لب کچلتی کل پریہا کی زبانی سنی ساری باتیں انکے گوش گزارتی چلی گئ۔۔۔ جسے سن کر ایک پل کو بابا بھی گم صم رہ گئے۔۔۔۔۔
دفعتاً اچانک سٹڈی روم کا دروازہ کھول کر مرتسم اندر داخل ہوا ۔۔۔ وہ ڈھیلے سے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھا۔۔  سر پر جالی دار ٹوپی پہن رکھی تھی وہ بھی غالباً یہاں قرآن پاک کی تلاوت کرنے ہی آیا تھا جب سامنے ان دونوں کو بیٹھا دیکھ وہ بری طرح ٹھٹھکا۔۔۔
ارےےےےے۔۔۔ یہاں تو محفل جمی ہے۔۔۔ سب خیریت۔۔۔ اپنی ہی دھن میں بولتے  فاہا کا ستا ہوا اور رویا رویا سا چہرا دیکھ  اسے کچھ کھٹکا۔۔۔
یہ بات تو تم مجھے بتاو کے کیوں میری بہو رو رہی ہے۔۔۔ بابا زرا روبدار انداز میں اسکی جانب متوجہ ہوتے مستفسر ہوئے۔۔۔ انداز تفتیشی تھا۔۔۔جہاں اتنی پریشانی میں بابا کے بہو کہنے پر فاہا بلش کر گئ وہیں مرتسم بھی چونکا۔۔۔ مطلب معاملہ گھمبیر تھا۔۔۔ 
مرتسم نے ایک نظر بابا کو دیکھا اور دوسری نظر فاہا کو پھر تھری سیٹر صوفے میں ان دونوں کے درمیاں آ کر بیٹھا۔۔۔
کچھ بات بھی تو پتہ چلے نا بابا۔۔۔ کیوں خوامخواہ کا تجسس پھیلا رہے ہیں۔۔۔ مجھے اب حقیقتاً ٹینشن ہو رہی ہے پلیز بتائیں نا کیا ہوا۔۔۔ وہ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔ جسکے نتیجے میں بابا اسے تائی جان کی ساری پلانینگ بتاتے چلے گئے ساری بات سن کر مرتسم سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
میرے خیال سے ہمیں ابھی جا کر تمہاری ماں کو سب بتا دینا چاہیے۔۔۔ بابا کا انداز فیصلہ کن تھا۔۔۔۔نہیں بابا۔۔  مرتسم قطعیت سے گویا ہوا۔۔۔
بابا چونکے۔۔۔ بابا آج علایہ کا ولیمہ ہے یہ وقت گزر جانے دیں۔۔۔ ہم عین وقت پر کوئی بدمزگی افورڈ نہیں کر سکتے۔۔۔
اچھا ۔۔۔ اور وہ جو ولیمے پر منگنی کا پلان بنائے ہوئے ہے۔۔۔ مرتسم کے کہنے پر بابا نے اگلا نقطہ اٹھایا۔۔۔
مرتسم نے بے طرح ماتھا مسلہ۔۔۔  بابا منگنی کا پلان ماں کا ہے انکی نظر میں میں کچھ نہیں جانتا میں اس سارے معاملے سے لاتعلق ہوں۔۔۔۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ بابا کی جانب دیکھتا بولا۔۔۔۔
میں عین وقت پر وہاں سے غائب ہو جاوں گا۔۔۔ اور جب میں ہونگا ہی نہیں تو ماں یہ منگنی کیسے اناوئنس کریں گی۔۔۔ اور اگر وہ آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دیجئے گا کے ارجینٹلی ایک آفیشلی ضروری کام آگیا تھا۔۔۔ جو بہت ضروری تھا اس لئے فوری طور پر مرتسم کو چند روز کے لئے جانا پڑا ہے۔۔۔ پھر ایک دو روز بعد واپس آوں گا تو تحمل سے سب ماں کو اعتماد میں لے کر سب بتا دیں گے۔۔۔ 
بابا کو اسکی بات معقول لگی تبھی رضا مندی دیتے سر ہاں میں ہلا گئے۔۔۔
میری بہو کا خیال رکھو مرتسم۔۔۔ تم سے زیادہ عزیز ہے یہ مجھے۔۔۔ اسکے معاملے میں میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ بابا مرتسم کو سختی سے تنبیہ کرتا اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ جبکہ مرتسم انہیں بے چارگی سے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
بابا کے سٹڈی روم سے جانے کے بعد وہ فرصت سے اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ جو الجھی الجھی سی سر جھکائے خاموشی سے بیٹھی قمیض کے پرنٹ پر انگلی پھیر رہی تھی۔۔۔
فاہا۔۔۔ مرتسم کے پکارنے ہر اسنے آہستگی سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
ایک بات بولوں۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
بولیں۔۔۔
روتے ہوئے تم بالکل اچھی نہیں لگتی۔۔۔ سیریسلی۔۔۔ مت رویا کرو۔۔۔ وہ اسے سیدھی طرح یہ نا کہہ سکا کے اسکی سرخ ڈوروں والی روئی روئی سی سوجھی نم آنکھیں دیکھنا اسکے بس سے پڑے ہے اسکی سرخ نم آنکھیں مرتسم کے اندر بے چینیاں بڑھا دیتی ہیں۔۔۔
مرتسم کے کہنے کی دیر تھی وہ سسک اٹھی۔۔۔ مرتسم بونچکا رہ گیا۔۔۔ یہ کیا فاہا۔۔۔ تم نے شاید غلط سنا میں نے کہا۔۔۔
مرتسم مجھے ڈر لگ رہا۔۔۔ اس سے پہلے کے مرتسم مزید کچھ کہتا وہ شدت سے اسکا ہاتھ تھامتی بولی۔۔۔
کس چیز کا ڈر۔۔۔  وہ معتجب ہوا۔۔۔
آپکو کھونے کا ڈر۔۔۔۔۔ اس رشتے میں شراکت کا ڈر۔۔۔
یہ تصور ہی سوہان روح ہے میرے لئے مرتسم۔۔۔ آپ نہیں سمجھ سکتے۔۔۔۔۔ پلیز سب ٹھیک کر دیں نا۔۔۔۔۔۔ تائی جان کو منا لیں۔۔۔ وہ مان تو جائیں گی نا مرتسم۔۔۔ مجھے سچی میں ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ مجھ۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے اس پریشانی میرا دل بند ہو جائے گا۔۔۔ میں اپنی وجہ سے گھر میں کوئی بدمزگی نہیں چاہتی۔۔۔
وہ بے بسی سے مرتسم کی جانب دیکھتی کپکپاتے لبوں سے اپنے دل میں پنپتا ایک ایک خدشہ اسکے گوش گزار رہی تھی۔۔۔ وہ لب بھینچے اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ کتنے واہمے پالے بیٹھی تھی وہ۔۔۔
بی ریلیکس فاہا تمہیں کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ بھروسہ رکھو مجھ پر۔۔۔ میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔ مرتسم نے ہاتھ بڑھاتے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔ کاش کے وہ اسے بتا سکتا کے یہ نم سرخ سوجھی آنکھیں اسکے دل پر کیسے کیسے نشتر چلاتی ہیں تو شاید وہ زندگی میں کبھی رونے کا تصور ہی ہی نا کرتی۔۔ کتنا مشکل تھا اسے روتے دیکھنا۔۔۔
تائی جان خفا تو نہیں ہونگی نا۔۔۔ اسکے لہجے میں خدشات تھے۔۔۔ وہ اسے اس وقت ایک ڈری سہمی سی بچی ہی لگی۔۔۔
مجھ سے شاید ہو جائیں۔۔ لیکن تم سے بالکل نہیں ہونگی۔۔۔ وہ ہکلا سا مسکرایا۔۔۔ اسکی تسلی بھی عجیب تھی۔۔۔ 
رات سوئی نہیں نا۔۔۔ مرتسم نے ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے پر بکھرے بال اسے کان کے پیچھے اڑسے۔۔۔
ٹینشن سے نیند ہی نہیں آئی۔۔۔ دل کو ڈھرکا سا لگا تھا۔۔۔ 
چلو اٹھو شاباش ناشتہ کرو اور دو گھںٹے کی نیند لے لو ۔۔۔ نہیں تو ولیمے کی تیاریوں میں مزید طبیعت بگڑ جائے گی۔۔۔  وہ فکر مند تھا۔۔۔ کیونکہ بات ہی فکر مندی کی تھی۔۔۔ چڑیا سا دل تھا اسکا جس میں وہ اتنے خدشات پالے بیٹھی تھی۔۔ طبیعت خراب ہونا تو بنتی ہی تھی۔۔۔
نہیں میں سو نہیں سکتی۔۔۔ آپکے ساتھ مجھے بھی علایہ کا ناشتہ لے کر جانا ہے۔۔۔ مرتسم کے کہنے پر وہ بعجلت گویا ہوئی جیسے مرتسم اسے ہاتھ سے پکڑ کر زبردستی سلانے والا ہو۔۔۔
مرتسم سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
ابھی چھ بجے ہیں فاہا۔۔ ہم نو یا دس بجے ناشتہ لے کر جائیں گے۔۔۔ تم تب تک چھوٹا سا نیپ لے سکتی ہو۔۔۔۔ اور اگر نہیں تو میں تمہیں اپنے ساتھ ہرگز نہیں لے کر جاوں گا۔۔۔ وہ دو ٹوک انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جانتی ہوں۔۔  بہت ضدی ہیں آپ۔۔۔ اپنی کر کے چھوڑیں گے۔۔۔ فاہا بھی جھنجھلاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
جا رہی ہوں سونے۔۔ سر تو ویسے ہی بہت درد کر رہا ہے۔۔۔ وہ پیر پٹختی سٹڈی سے نکل گئ جبکہ مرتسم مسکرا کر رہ گیا۔۔۔۔
*****
مائز کی کئیر ٹیکر نے کمرے میں آتے ہی مائز کو دیکھا جو کاٹ میں بے فکری سے سو رہا تھا۔۔۔ اسنے کن اکھیوں سے کیمرے کی جانب دیکھا اور جھک کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔ پھر اسکی چیزیں سمیٹنے لگی۔۔۔ جب چیزیں رکھنے کے لئے وہ اسی کورنر ٹیبل پر گئ جہاں فائز کا لیپ ٹاپ پڑا تھا۔۔ وہاں فائز کی چیزیں رکھنے کے بہانے ہاتھ مار کر لیپ ٹاپ اور فائلز نیچے گرائیں پھر ہڑبڑا کر انہیں اٹھائی بیڈ پر آ گئ۔۔ وہ سب کچھ بیڈ پر رکھا اور اسی طرح سائیڈ ٹیبل پر پڑا ماہرہ کا لیپ ٹپ بھی وہیں رکھتے سائیڈ ٹیبل پر مائز کے فارمولہ دودھ کے ڈبے اور فیڈر وغیرہ رکھنے لگی۔۔۔
پھر لیپ ٹاپ وہیں رکھنے کے لئے ماہرہ کے لیپ ٹاپ کی بجائے فائز کا لیپ ٹاپ وہیں رکھا اور ماہرہ کا لیپ ٹاپ فائز کے لیپ ٹاپ کی جگہ پر رکھ کر باقی چیزیں سیٹ کرنے لگی تبھی مصروف سی ماہرہ اندر داخل ہوئی اور سائیڈ ٹیبل سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر لیپ ٹاپ بیگ میں ڈالتی کمرے سے نکل گئ۔۔۔ اسکے جاتے ہی ایک مسکراہٹ کئیر ٹیکر کے ہونٹوں پر پھیلی اور اسنے موبائل نکالتے ڈن کا میسج میر کو سینڈ کیا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ماہرہ کی گاڑی مطلوبہ ہوٹل کے سامنے جا کر رکی۔۔۔
سر ماہرہ اظہر ہوٹل کی لابی میں پہنچ چکی ہے مگر اسکے ساتھ اسکی سیکریٹری بھی ہے۔۔۔ میر باتھ گاون میں  ملبوس اپنے سویٹ کے کمرے کی گلاس وال کے سامنے کھڑا تھا جب اسکے ملازم نے اسے ماہرہ کے وہاں پہنچنے کی اطلاع دی۔۔۔
تم جانتے ہو نا آگے تمہیں کیا کرنا ہے۔۔۔ ماہرہ یہاں میرے پاس اکیلی آنی چاہیے۔۔۔ کیسے بھی کر کے اسکی سیکریٹری کو یہاں سے واپس بھیجو۔۔۔
جی سر۔۔۔ میر کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ شخص تابعداری سے سر ہلاتا باہر نکل گیا۔۔۔

******

No comments

Powered by Blogger.
4