Roshan Sitara novel 88th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 88th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
88th epi...
زبیر لغاری کے لیپ ٹاپ سے سینکڑوں کے حساب سے لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز موصول ہوئی تھیں۔۔۔
کہیں پر وہ مختلف لڑکیوں کے ساتھ ہوٹل کے کمروں میں موجود انہیں بے آبرو کر رہا تھا تو کہیں لڑکیوں کی ویسے ہی نازیبا ویڈیوز تھیں۔۔۔ یہ سب دیکھ دیکھ مرتسم کا سر درد سے پھٹنے لگا۔۔۔ اسے بے ساختہ وہ دن یاد آیا جب اسنے فاہا کو ہوٹل روم میں بلوایا تھا۔۔۔ صد شکر کے وہ لوگ علایہ کا ڈیٹا وہاں سے ڈیلیٹ کر چکے تھے۔۔۔
زبیر لغاری کے لئے انہیں مزید کوئی جھوٹا کیس بنوانے کی ضرورت ہی نا پڑی تھی اسکی اپنی حرکتیں ہی ایسی تِھیں کے اس پر بہت بڑا کیس بن رہا تھا ۔۔۔ ساری صورتحال دیکھتے ہی ایس ایچ او ندیم نے مرتسم کو وہاں سے چلے جانے کو بولا تھا کے اب یہ کیس انکی ذمہ داری تھا مگر مرتسم کی وہاں موجودگی کے باعث کسی طرح سے بھی وہ لوگ اس کیس کو ذاتی نوعیت اختیار کرنے نہیں دے سکتے تھے۔۔۔
کے مرتسم کا کام یہاں مکمل ہوا آگے وہ خود سب ہینڈل کر لیتے۔۔۔
ایس ایچ او کی جانب سے تسلی ملتے ہی مرتسم نے وہاں سے نکلنے کی کی۔۔۔
***
جس وقت وہاج کی گاڑی خانزادہ مینشن میں پہنچی گھڑی کی سوئیاں رات کا ڈیڑھ بجا رہی تھیں۔۔۔۔
وہ گاڑی کار پورچ میں کھڑی کرتا لاوئنج کی جانب بڑھا۔۔۔ وہ تیزی سے لاوئنج عبور کر رہا تھا جب وہاں اپنی غیر متوقع پیشی دیکھ ٹھٹھکا۔۔۔
ماں آپ ابھی تک سوئی نہیں۔۔۔ وہ ماں کو لاوئنج کے بیج و بیج ہاتھ سینے ہر باندھے سرد و سنجیدہ نگاہوں سے اپنی جانب تکتا پا خجل سا ہوتا مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔
جسکی تمہاری جیسی ناحلف اور منہ زور اولاد ہو اور ہو بھی اکلوتی وہ ماں بھلا کیسے سو سکتی ہے۔۔۔ ماں بھی گویا انگارے چبائے بیٹھی تھیں تبھی بھرپور طنزیہ گویا ہوئیں۔۔
کیا ہو گیا ماں اب میں نے کیا کر دیا۔۔۔ اسنے آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے ماں کے شانے پر بازو پھیلایا جب انہوں نے جھٹکے سے اسکا بازو اپنے شانے سے ہٹایا۔۔۔۔
اوپس۔۔۔۔ وہ بے چارگی سے ماں کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔
زرا شرم نام کی کوئی چیز ہے تم میں وہاج۔۔۔ ایسا کونسا ضروری کام تھا جو تم شادی کے روز بیوی کو دہلیز پر چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔ اور یہ کونسا وقت ہے گھر واپسی کا۔۔۔ کیا سوچ رہی ہو گی وہ بچی تمہارے بارے میں ۔۔۔ کس قدر انتظار کی سولی پر لٹکایا تم نے اسے۔۔۔۔
افف ماں ابھی تو آپ دیر کروا رہی ہیں۔۔۔ شاید ابھی کمرے میں چلے جانے پر کچھ جان خلاصی ہو جائے۔۔۔ مگر آپ ہو کے جانے ہی نہیں دے رہی۔۔۔ اسنے بے ساختہ ماں کو ٹوکتے لاچارگی سے شانے اچکائے۔۔۔
ماں نے خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
دفعہ ہو جاو۔۔۔۔ وہ موقع کی نزاکت کو سمجھتیں اسکے لئے راستہ چھوڑتیں غرائیں۔۔
گورجیئس لیڈی ہنڈسم لڑکوں سے یوں خفا نہیں ہوتے۔۔۔ جاتے جاتے بھی وہ ماں کی گال کھینچ کر شرارت کرنے سے باز نا آیا۔۔۔
اس سے پہلے کے ماں غصے سے اسے ایک چیت رسید کرتیں وہ مسکراتا ہوا آگے بھاگ گیا۔۔۔ ماں تاسف سے سر نفی میں ہلا کر رہ گئیں۔۔۔
*****
وہاج نے آہستگی سے کمرے کا دروازہ وا کیا اور اندر بڑھا۔۔۔ اندر بڑِھتے ہی پہلی نظر بیڈ پر پورے حق سے براجمان ایک پری پیکر وجود سے ٹکرائی تو وہ گویا مسمرائز سا اپنی جگہ پر تھم سا گیا۔۔۔
ابھی تک کی خواری کی تھکاوٹ غصہ اور جھنضھلاہٹ اس پر ایک نظر پڑتے ہی کہیں جا سوئی۔۔۔
وہ اسکے نام پر پور پور سجی۔۔۔ بیڈ پر تکیوں کے سہارے ان پر سر ٹکائے نیم دراز سینے تک لحاف اوڑھے خاصے غیر آرام دہ انداز میں سو رہی تھی۔۔۔ گویا وہ اسکا انتظار کرتی کرتی ہی سو گئ ہو۔۔۔
جیولری اور لباس وہی تھا البتہ نیٹ کے ڈوپٹے کا گھونگھٹ اس وقت ہٹا ہوا تھا جس کے باعث رخ روشن پورا نمایاں تھا۔۔۔
گھنیری پلکوں کی بار قندھاری گالوں پر سایہ فگن تھی جبکہ باریک گلاب کی پنکھری کی مانند لب باہم پیوست تھے۔۔۔۔
بالوں کی لٹیں چاند چہرے کے دئیں بائیں تھی۔۔۔ مانگ ٹیکا زرا سا کھسکا ہوا تھا۔۔۔
وہاج اسکی اسقدر غیر آرام دہ حالت دیکھ لب بھینچ گیا ۔۔۔ وہ اسے اسقدر انتظار کروانے پر پشیمان تھا لیکن اسکا جانا بھی ضروری تھا ورنہ شاید وہ اس وقت اتنا ریلیکس نا ہوتا۔۔۔
وہ بنا اسے ڈسٹرب کئے الماری سے کپڑے لیتا واش روم میں گھس گیا۔۔۔ وہ ابھی تک اسی شیروانی میں ملبوس تھا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ آرام دہ ٹراوزر شرٹ میں ملبوس فریش سا ٹاول سے گیلے بال رگڑتا کمرے میں آیا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آتا بال بنانے لگا۔۔۔ گاہے بگاہے نگاہ شیشے سے نظر آتے اسکے بےخبر وجود پر بھی ڈال لیتا۔۔۔
بال بنا کر اسنے حسب عادت ہئیر برش ڈریسنگ ٹیبل پر پٹخا تو وہ جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی نیند کی وادیوں میں اتری تھے غیر آرام دہ حالت میں ہونے کے باعث اسنے ہلکی سی آنکھئن کھولیں اور ناسمجھی سے سر گھما کر ادھر ادھر دیکھا جب نظر شیشے کے سامنے کھڑے وہاج خانزادہ سے ٹکرائی تو اسکی نیند بھک سے اڑی۔۔۔
وہ چونک کر ایک جھٹکے سے ہڑبڑاتی ہوئی سیدھی ہو بیٹھی یوں کے سر جھکائے لب چباتے وہ ہاتھ بے طرح مسل کر رہ گئ۔۔۔
ریلیکس یار آرام سے ۔۔۔ کیا ہو گیا ہے۔۔۔
وہاج اسکا چونکا بعجلت اٹھنا اور غیر آرام دہ انداز ملاخظہ کرتا قدم قدم چلتا اسکے پاس آ کر بیٹھا۔۔۔
وہ جھکا سر مزید جھکا گئ۔۔۔ وہ مسلسل اضطراری انداز میں ہاتھ مسل رہی تھی جب وہاج نے استحقاق سے ہاتھ بڑھاتے اسکامومی ہاتھ تھام کر اسے ایسا کرنے سے باز رکھنا چاہا۔۔۔
ایک پل کو اسکے بھاری مضبوط مردانہ ہاتھ میں تھاما علایہ کا نازک ہاتھ کپکپا کر رہ گیا۔۔۔
ایم سوری۔۔ بہت ضروری کام آگیا تھا جسکی وجہ سے میں لیٹ ہوگیا اور تمہیں انتظار کی سولی پر لٹکتے یوں اتنی دیر تک بے آرام رہنا پڑا۔۔۔
ویسے تم چینج کر کے ریلیکس ہو کر سو جاتی میں۔۔۔
وہ ابھی ناجانے اور کیا کہنے والا تھا جب علایہ کے تیزی سے ڈھرکتے دل کی انتہا ہوئی۔۔۔ وہ وہیں چہرا ہاتھوں میں چھپاتی شدت سے رو دی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑاتا ہاتھ سر پر پھیر کر رہ گیا۔۔۔
یہ لڑکی مجھے مام سے جوتے پڑوائے گی۔۔۔ وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتا اسے بیچارگی سے دیکھ کر رہ گیا۔۔
جنگلی بلی۔۔۔ کیا کوئی ماضی کا بدلہ لینا رہ گیا ہے جو آج کی رات حساب بے باک کرنا چاہتی ہو۔۔۔ ورنہ مجھے تو اپنی ایسی کوئی زیادتی یا جرم یاد نہیں آ رہا جسکے باعث یہ بن موسم برسات شروع ہو گئ ہو۔۔۔
To be very honest...
میں نے ایسا کچھ نہیں کہا جسکی وجہ سے تم یوں رو دو۔۔۔ رائٹ۔۔۔ وہ سیز فائر کرتا دونوں ہاتھ کھڑے کئے کنفرم کرنے کو گویا ہوا۔۔۔ جبکہ وہ مزید شدت سے رو دی۔۔۔
اسکا انداز نا فہم تھا۔۔۔
یا اللہ خیر۔۔۔ وہ بے بسی سے چھت کی جانب دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
یہ رخصتی پر لڑکیاں روتی ہیں بات سمجھ میں آتی ہے۔۔۔ اس وقت بھی روتی ہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ دراصل میری پہلی شدی ہے نا۔۔۔ ویسے مجھے بہت سٹرونگ فیلنگز آ رہی ہیں علایہ کے تم نا مجھے مام سے پٹوانے کا ارادہ رکھتی ہو اسی لئے دشمنی نکال رہی ہو مجھ سے۔۔ حالانکہ اب تمہیں یہ سب نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ ماضی میں ہوئے ہمارے جھگڑوں کو بھول جانا چاہیے۔۔
ویسے کچھ بتا تو دو کے میرا جرم کیا ہے کیوں رو رہی ہو شاید کوئی سیٹل منٹ ہو ہی جائے۔۔۔ وہ بے چارگی سے کہتا تکیہ کھینچ کر اس پر کہنی رکھتا ہاتھ کی ہتھیلی گال تلے رکھ گیا۔۔۔
مسلسل اتنے گھنٹوں کے خواری کے بعد وہ خود تھکا پڑا تھا لیکن یہ صورتحال تو توقع سے پڑے تھی۔۔۔
آپ اتنے اچھے کیوں ہیں وہاج۔۔۔ علایہ کے نم آواز میں چہرے سے ہاتھ ہٹا کر کہنے پر وہ حیرت و شاک سے آنکھ اچکاتا بے یقینی سے اپنی جانب اشارہ کرتا اٹھ بیٹھا۔۔۔ میں۔۔۔ اسکے لب پھڑپھڑائے۔۔۔
آپ تو ایک بہت اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے تھے وہاج۔۔ پھر آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی۔۔۔ سسکتے ہوئے لہجے میں ایک اور سوال آیا تو وہاج کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔ ماتھے پر شکنوں کا جال بچھآ۔۔۔ اسنے تب سے اب سنجیدگی سے علایہ کو دیکھا۔۔۔
ستا چہرا بخار کی حدت سے سوجھی سرخ آنکھیں۔۔۔ نڈھال سا وجود۔۔۔ نہیں یہ کوئی ماضی کا بدلہ یا شرارت نا تھی بلکہ یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور تھا۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
میں بری لڑکی نہیں ہوں وہاج۔۔۔ نا ہی میں اس کلب میں جان بوجھ کر گئ۔۔۔ جس حالت میں اپنے مجھے دیکھا۔۔۔
کیا میں نے تم سے کوئی وضاحت طلب کی علایہ۔۔۔ اسنے سختی سے جبڑے بھینچے۔۔۔
وہ فوٹوگرافز۔۔۔۔ اسنے ہچکی بھری۔۔۔ کپکپاتے لب اور بہتی آنکھیں۔۔۔ وہاج نے ایک جھٹکے سے اسے کِھینچتے خود میں بھینچا اور اسکے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کیا۔۔۔ ناجانے کیا بات تھی وہ اس جنگلی بلی کا یہ شکستہ روپ دیکھ ہی نہیں پایا تھا۔۔۔وہ تو ناجانے کون کونسی انسیکیورٹیز پالے بیٹھی تھی۔۔۔ وہ اپنے کپکپاتے ہاتھ میں اسکی شرٹ تھامتی مزید شدت سے رو دی۔۔۔۔
وہاج سختی سے لب بھینچے اسکا سر سہلاتا رہا۔۔۔۔
بھول جاو سب علایہ۔۔۔ ہر چیز دماغ سے نکال دو۔۔۔ آج ہم زندگی کی نئ شروعات کرنے جا رہے ہیں تو ہم اس میں ماضی کی پرچھائی تک شامل نہیں کریں گے۔۔۔جو گزر گیا سو گزر گیا۔۔۔۔ اسکا لہحہ دو ٹوک اور انداز سنجیدہ تھا۔۔۔
بسسس۔۔۔۔۔ بسسس۔۔ علایہ کے مزید شدت سے رونے پر وہ آنکھیں میچتا اسکا سر تھپتھپاتا رہا۔۔۔
آپ میرے لئے اللہ کا عطا کردہ ایک بہترین تحفہ ہیں۔۔۔ میں اس قابل نہیں تِھی وہاج جتنا میرے رب نے مجھے نواز دیا۔۔۔
وہاج کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔۔۔
اسی لئے مسلسل مجھ سے شادی سے انکاری تھی تم۔۔۔ وہاج کا انداز چھیڑنے والا تھا۔۔۔
تب مجھے معلوم نہیں تھا کے آپ اتنے اچھے دل کے مالک ہیں۔۔۔ وہ سر نفی میں ہلاتی اسے مسلسل حیران کر رہی تھی۔۔۔ آج اسے جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے تھے۔۔۔ آج کی رات اتنے خوبصورت اعترافات سننے کو ملنے والے تھے وہ کہاں جانتا تھا۔۔۔
تم مجھے ہوش میں نہیں لگ رہی علایہ۔۔ تبھی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو۔۔۔ جب ہوش میں آو گی تو یقیناً ان باتوں سے انکاری ہو جاو گی سو میرے خیال سے مجھے تمہارے ان اعترافات کو ثبوت کے طور پر ریکارڈ کر لینا چاہیے ۔۔۔نہیں۔۔۔
اسکا انداز شریر تھا مقصد محض اسے اس فیز سے نکالنا تھا ۔۔۔
اسکی بات سن کر وہ اپنی پوزیشن کا احساس کرتی جھجھک کر اس سے الگ ہوئی اور حنائی ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی جھکی نظروں سمیت نفی میں سر ہلا گئ۔۔
آج اسکی ہر ادا ہی قاتل تھی یا یہ وہاج کی نظروں کا زاویہ تھا کے وہ سیدھا دل میں اتر رہی تھی۔۔۔
کہا نا جانتی نہیں تھی کے آپ بہت خوبصورت دل کے مالک ہیں۔۔۔ تب مجھے انسکیورٹیز تھی کے آپ میرا راز کھول دیں گے یا پوری زندگی مجھے اس بات کے طعنے سہنے پڑیں گے کے میں۔۔۔
وہ پھر سے رو دی۔۔۔ الفظ درمیان میں ہی دم توڑ گئے۔۔۔
چلو بس چھوڑو اس بات کو کہا نا اس بات کا ذکر دوبارہ ہمارے درمیان کبھی نہیں ہوگا۔۔۔
وہاج نے اسکے پیچھے تکیے درست کرتے ان سے علایہ کی ٹیک لگوائی اور لحاف اچھے سے اس پر دیا۔۔۔
علایہ والہانہ بھرائی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔ اسکا ایک ایک انداز علایہ کے دل میں پنپتے خدشات کو جڑ سے اکھیڑتا اسے معتبر کر رہا تھا۔۔۔ وہ ہر لمحہ اس خوبرو شخص کی اسیر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
یار آج تمہارے انداز مجھے پاگل کر رہے ہیں علایہ۔۔۔ تم وہی جنگلی بلی ہو نا جسے مجھ سے اتنی خار تھی کے تمہارا بس چلتا تو مجھے کچا چبا جاتی۔۔۔
وہاج نے مسکرا کر کہتے اسکا ہاتھ تھامتے ایک ایک کر کے اسکی جیولری اتارنی شروع کی۔۔۔
آپ نے خود ہی کہا تھا ہم ماضی کی کوئی بات نہیں کریں گے۔۔۔ وہ نظریں جھکاتی شکوہ کناں ہوئی۔۔۔۔
وہاج قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
تم نے کھانا نہیں کھایا نا۔۔۔ اور میڈیسن بھی ویسے ہی پڑی ہیں۔۔۔ تبھی یوں بخار میں پھنک رہی ہو۔۔۔
دوسری بازو سے چوڑیاں اتارتے وہاج کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑی تو خفا خفا سے انداز میں مستفسر ہوا۔۔۔
دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے میں کھانا گرم کر کے لاتا ہوں تب تک تم چینج کر لو پھر مل کر کھانا کھائیں گے کیونکہ بھوک تو مجھے بھی لگ رہی ہے۔ پھر تمہیں اپنی دوائی بھی لینی ہے۔۔۔
اسے جیولری کے بوجھ سے آزاد کرواتے وہ بیڈ سے اترتا ٹرے اٹھا گیا تو علایہ سر ہاں میں ہلا کر رہ گئ۔۔۔ اسکے کمرے سے نکلتے ہی وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
وہاج کے رویے نے اسکے سارے خدشات مٹا ڈالے تھے وہ ایک دم ہلکی پھلکی ہو گئ تھی۔۔۔ اتنے دنوں کی کلفت اور دماغ پر چھایا ان دیکھا بوجھ جیسے کہیں جاتا رہا تھا۔۔۔
مرتسم کی بات سو درجہ درست تھی۔۔۔ بلاشبہ وہاج اسکے لئے ایک بہترین انتخاب تھا اور وہ مرتے دم تھا اس خوبصورت سے دل کے مالک شخص کی وفادار اور قدردان رہنے والی تھی۔۔۔ جسنے اپنے عمل سے اسے بے مول خرید لیا تھا۔۔۔۔
******
ماہرہ اس وقت آفس نکلنے کے لئے عبائے میں ملبوس بالکل تیار کھڑی جاتے جاتے مائز سے مل رہی تھی۔۔۔ آج وہ تین دن بعد مائز کی طبیعت سمبھلنے پر آفس جا رہی تھی۔۔۔ ان تین دنوں میں وہ ایک پل کے لئے بھی مائز سے جدا نا ہوئی تھی۔۔۔ اب بھی وہ تیار ہو کر نکلنے سے پہلے مائز سے پیار کر رہی تھی جب اسے غنودگی میں جاتا دیکھ اسے گود میں لے کر سلانے لگی۔۔۔
جلد ہی وہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا تو وہ اسے اختیاط سے کاٹ میں لٹا کر اس پر اچھے سے لحاف درست کرتی اٹھ پڑی ۔۔۔ ابھی وہ کمرے سے نکلی ہی تھی کے اسکا فون بج اٹھا۔۔۔
فون اسکے آفیشلی نمبر پر میر کا تھا۔۔۔ اسنے بنا تاخیر کے فون اٹھا ڈالا۔۔۔
مس ماہرہ دراصل میرے تمام پارٹنرز آپ سے مل کر ہمارے پراجیکٹ کے حوالے سے ایک میٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
دراصل ایک گھنٹے بعد کی انکی فلائیٹ ہے اگر آپ یہ چھوٹی سی میٹنگ ہمارے ساتھ کر سکیں تو۔۔۔ آپکی سیکریٹری سے رابطہ کر کے ہم نے شیڈیول فکس کرنا چاہا تو بقول اسکے آج بارہ بجے تک آپ فری ہیں اور یہ کہ وہ آپ سے پوچھ کر بتائیں گی جس پر میں نے اس سے کہا کے میں خود آپ سے کنفرم کر لیتا ہوں۔۔۔ سلام دعا کے بعد وہ سیدھے مدعے کی بات پر آیا۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے مسٹر میر آپ آفس آ جائیں۔۔۔ کچھ دیر توقف کے بعد وہ بولی۔۔۔
ارے نہیں مس ماہرہ۔۔۔ دراصل ٹائم بہت شارٹ ہے اگر آپ تھوڑا سا تعاون کریں تو۔۔۔
دراصل ان سب کا سٹے جس ہوٹل میں ہے اسی کے کانفرنس روم میں وہ میٹنگ کرنا چاہ رہے تھے کیونکہ کچھ وقت بعد انکی فلائیٹ ہے تو آنے جانے میں انکا وقت بچ سکے۔۔۔
اگر آپکو کوئی اشو نا ہو تو۔۔ پلیز۔۔۔
وہ عاجزانہ اس انداز میں گویا ہوا کے ماہرہ سوچ میں پڑ گئ۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے میں پندرہ سے بیس منٹ تک آپکو جوائن کرتی ہوں۔۔۔ ماہرہ کی رضامندانہ آواز پر ایک شاطرانہ مسکراہٹ میر کے ہونٹوں پر پھیلی۔۔۔
اوکے۔۔۔ وہ ساتھ ہی فون کاٹ گیا۔۔۔
فون کاٹتے ہی میر کے ہاتھ تیزی سے موبائل پر دوسرا نمبر ڈائل کر رہے تھے۔۔۔
جلد ہی دوسری طرف رابطہ استوار ہو گیا۔۔۔
ہاں سنو۔۔۔ ابھی ماہرہ کے گھر سے نکلنے سے پہلے اسکا لیپ ٹاپ دوسرے لیپ ٹاپ سے چینج کردو۔۔۔ وہ تحکمانہ انداز میں بولا۔۔۔
جی سر میں ابھی کرتی ہوں۔۔ لیپ ٹاپ ابھی کمرے میں ہی ہے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کمرے میں جائیں میں اسے چینج کردوں۔۔۔ مائز کی کئیر ٹیکر بعجلت کہتی فون بند کر کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
اب آئے گا مزہ۔۔۔ موبائل ہاتھ کی ہتھیلی پر مارتا وہ مسکرا دیا۔۔۔
*****

No comments