Header Ads

Roshan Sitara novel 87th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  87th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

87th epi....
 کچھ دیر بعد ہی رخصتی کا شور اٹھا تو تب بھی فاہا اپنے ہی ادھیر پن میں مشغول تھی۔۔۔ سمجھ نا آرہا تھا کے اس خبر پر کیسے ری ایکشن دے۔۔۔ وہ کیا کرے۔۔۔۔ کس سے شئیر کرے یہ سب۔۔۔ ایک بات تو پکی تھی وہ یہ بات اب مرتسم سے شئیر نہیں کرنے والی تھی۔۔۔ اسے مرتسم کے پچھلے الفاظ ابھی تک یاد تھے کے تمہیں کس چیز کی ان سکیورٹی ہے۔۔۔  اسے اب کچھ اور سوچنا تھا۔۔۔ 
بہت بے دلی سے اسنے رخصتی تک کا وقت کاٹا۔۔۔ وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی۔۔۔
وقت رخصت علایہ اسقدر ٹوٹ کر روئی کے ہر آنکھ اشکبار کر گئ۔۔۔
بابا نے بامشکل اسے خود سے الگ کر کے اپنی نم آنکھیں رگڑتے اسے گاڑی میں بیٹھا کر وہاج کے سنگ رخصت کیا ۔۔۔ آسان تو نا تھا اپنے جگر گوشے کو یوں وداع کرنا مگر ریت تو یہ ہی تھی۔۔۔ وہ لاڈوں پلی کب اتنی بڑی ہوگئ کے اسے رخصت کرنے کا وقت آ گیا پتہ ہی نا چلا۔۔۔
گاڑی ابھی راستے میں ہی تھی جب وہاج کے موبائل پر میسج بپ بجی۔۔۔ 
مسیج پڑھتے ہی اسکے جبڑے بھینچ گئے۔۔۔
گاڑی آہنی گیٹ سے گزرتی خانزادہ مینشن کے کارپورچ میں پہنچی تو وہاج گاڑی سے اترتا اندر جانے کی بجائے دوسری طرف چل دیا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ بابا کو ضروری کام کا کہتا انکے بارہا برا بھلا کہنے کے باوجود جلد گھر واپس آنے کا کہتا گھر سے نکل گیا۔۔۔
دوسری طرف جب یہ ہی بات ماں کو پتہ چلی تو انکے تو سر پر لگی اور تلوں پر بجھی۔۔۔
آپ نے اسے جانے ہی کیوں دیا۔۔۔ کوئی تک بنتی ہے بھلا اتنے بے تکے کام کی۔۔۔
ایسا کونسا ضروری کام تھا اسکا جو وہ اس وقت گھر میں موجود ہونے کی بجائے منہ اٹھا کر چل دیا۔۔۔ اور حد ہے آپکی بھی آپ نے اسے جانے بھی دیا۔۔۔
مسز خانزادہ کا پارہ یکدم ہی ہائی ہوا تھا۔۔۔
کہہ کر گیا ہے کے جلدی واپس آ جائے گا۔۔۔ مسٹر خانزادہ سر تھامتے وہیں صوفے پر بیٹھ گئے۔۔۔
جلد واپس آ جائے گا۔۔۔۔ وہ گیا ہی کیوں۔۔۔ اب کیا جواب دوں میں اس بچی کو۔۔۔ اور وہ کیا سوچتی ہوگئ کہ کس قدر غیر ذمہ دار شوہر ملا ہے اسے جو گھر کی دہلیز پر ہی اسے تنہا چھوڑ گیا۔۔۔ مائے گاڈ خانزادہ صاحب۔۔ میرا دماغ ماووف ہو رہا ہے۔۔۔ انکا تو بس نا چل رہا تھا کے وہاج انکے سامنے موجود ہو اور وہ اسکا سر پھاڑ دیں۔۔۔
اچھا اب چھوڑو اس بات کو اور علایہ کو اسکے کمرے میں چھوڑ کر اسے زرا اچھے لفظوں میں بتا دو کے وہاج کو کسی ضروری کام کی وجہ سے ارجنٹلی جانا پر گیا ہے وہ کچھ دیر تک آ جائے گا۔۔۔ مسٹر خانزادہ نے تحمل سے بات سمیٹنی چاہی۔۔۔
خیر نہیں اس لڑکے کی ۔۔۔ ایک دفعہ بس میرے سامنے آ جائے۔۔۔ وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتیں کمرے سے نکل گئیں جبکہ مسٹر خانزادہ گہرا سانس خارج کر کے رہ گئے۔۔۔
****
علایہ دھرکتے دل کیساتھ بیڈ پر بیٹھی چاروں جانب سے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔ ابھی ابھی مسز خانزادہ وہاج کی چند کزنوں کے سنگ اسے کمرے میں چھوڑ کر گئ تھیں اور انہوں نے بڑے پیار سے اسے وہاج کی مجبوری کے بارے میں بتاتے کہا تھا کے وہ کچھ دیر تک آ جائے گا۔۔۔
اسکی خرابی طبیعت کے باعث وہ اسکے پاس ہی کھانا اور اسکی دوائی رکھ کر گئ تھی کے وہ کھانا کھا کر  دوائی کھا لے اور اگر وہ چاہے تو چینج کر کے ریلیکس ہو جائے۔۔ انکی سب باتوں کے جواب میں علایہ نے محض مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا اور انکے جانے کے بعد اب وہ جانچتی نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
دل میں پنپتے خدشات اب مزید مضبوطی سے سر ابھارنے لگے تھے۔۔۔ ناجانے کیوں اسے اپنا آپ بے مول سا لگنے لگا تھا۔۔۔
لڑکی چاہے جیسی بھی ہو شادی کی پہلی رات تو وہ شوہر کی جانب سے خاص اہمیت حاصل کرتی ہے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الگ تھا۔۔۔ دکھی دل مزید دکھی ہونے لگا تھا۔۔۔
تھکاوٹ کے باعث اب بخار کی حدت بھی مزید بڑھنے لگی تو وہ تھک ہار کر بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
وہ مسلسل کچھ نا کچھ سوچتے وہاج کی آمد کی منتظر تھی۔۔۔ لیکن اسکا انتظار لاحاصل بنتا جا رہا تھا۔۔۔ ناجانے کیوں وہ آ کر نا دے رہا تھا۔۔۔ کیا وہ اس سے اسقدر خفا تھا۔۔۔ یا کیا واقعی اسنے دوستی نبھانے کو یہ شادی کی تھی وہ اس شادی کے لئے رضامند نا تھا۔۔۔ دل مختلف خدشات کے تحت ڈولنے لگا تھا۔۔۔
جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔ تھک ہار کر اسنے خود کو ڈھلا چھوڑتے بیڈ کراون سے ٹیک لگائی ۔۔۔ جب گھڑی کی سوئیوں نے ایک کا ہندسہ عبور کیا تو وہ اکڑ کی تختہ بنتی کمر پر رحم کھاتی کھسکتی ہوئی بیڈ پر نیم دراز ہوئی اور آہستہ سے لحاف کھینچتی اس میں چھپ گئ۔۔۔ ابھی اسے لحاف اوڑھے کچھ وقت ہی ہوا تھا کے وہ تھکاوٹ کے باعث اسی غیر آرام دہ حالت میں نیند کی وادیوں میں اتر گئ۔۔۔
*****
گھر سے گاڑی نکالتے ہی وہاج نے مرتسم کا نمبر ملا ڈالا۔۔۔ اسکی گاڑی اب روڈ پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔۔۔ مرتسم جو ابھی ابھی گھر پہنچا ہی تھا وہاج کی کال پر ٹھٹھکا۔۔۔
خیریت وہاج۔۔۔ فون اٹھاتے ہی وہ فکر مندی سے گویا ہوا۔۔۔
زبیر لغاری کی لوکیشن کا پتہ چل گیا ہے۔۔۔ تمہیں لوکیشن واٹس ایپ کی ہے جلد از جلد وہاں پہنچو۔۔۔ میں بھی وہیں جا رہا ہوں۔۔۔ اور ہاں اکیلے آنا۔۔۔ ابھی پولیس کو انوالو مت کرنا۔۔۔ ایک دفعہ ہم اس سے علایہ کا سارا ڈیٹا حاصل کر لیں پھر دیکھیں گے کے اسکے ساتھ کیا کرنا ہے۔۔  تبھی پولیس ریڈ کروائیں گے۔۔۔ کے بحرحال ہم علایہ والے معاملے کو اس سب میں انوالو نہیں کر سکتے ۔۔۔
وہاج کے بریف کرنے پر وہ سر ہاں میں ہلاتا انہی قدموں پر واپس کار پورچ کی جانب بڑھا کچھ ہی دیر میں اسکی گاڑی ہواوں سے باتیں کرتی جارہی تھی۔۔۔
*****
سر اندر صرف زبیر لغاری ہی ہے۔۔۔ اپنے تئیں وہ یہاں محفوظ ہے اس لئے یہاں کوئی سیکیورٹی نہیں رکھی گئ۔۔۔ اسکے ساتھ اسکے دو دوست اور بھی یہاں رہ رہے ہیں لیکن ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ دونوں یہاں سے نکلے ہیں انکی واپسی کب تک ہو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔
وہاج اور مرتسم کے مطلوبہ لوکیشن پر پہنچتے ہی وجی نے انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔۔۔ وہ ان دونوں سے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا تھا۔۔۔
ہمم ٹھیک ہے۔۔۔ ہم دونوں اندر جاتے ہیں تم یہیں رکو۔۔۔ اگر یہاں باہر سے کوئی بھی پیش رفت دکھائی دے تو فوراً مطلع کرنا۔۔۔ اور ہماری طرف سے سگنل ملتے ہی ایس ایچ او ندیم سے رابطہ کر کے فورس منگوا لینا۔۔۔ مرتسم نے تھوڑی کھرچتے تادیبی نگاہوں سے ہر چیز کا جائزہ لیتے آگے کا لائحہ عمل سیٹ کیا۔۔۔۔ 
اوکے سر۔۔۔ 
اور ہاں ندیم سے بات کر کے اسے الرٹ رکھنا کے جب اس سے رابطہ کیا جائے وہ فوراً پہنچ جائے۔۔۔ اس بار ہم زبیر لغاری کو ہاتھ سے نکلنے دینے کی غلطی نہیں کر سکتے
۔۔۔ مرتسم اسے آخری مرتبہ بریف کرتا وہاج کے ساتھ اندر کی جانب بڑھا۔۔ 
وہ شہر کی حدود سے دور ایک چھوٹا سا بنگلہ تھا جس پر فلحال کوئی سکیورٹی گارڈ تعینات نا تھا۔۔۔
وہ دونوں بڑی آسانی سے بنگلے کی پچھلی دیوار پھیلانگتے اندر کود گئے۔۔۔
سارے بنگلے میں خاموشی تھی محض ایک کمرے کے جہاں سے ہلکے ہلکے میوزک کی آواز سنائی دے رہی تھی۔۔۔ یقیناً زبیر لغاری وہیں تھا۔۔۔ ان دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر اشارہ کیا اور آگے بڑھے جب ایک کمرے کے کھلے دروازے سے اسے سائیڈ ٹیبل پر لیپ ٹاپ چارجنگ پر لگا دکھائی دیا وہ دونوں آگے جانے کا ارادہ ترک کئے اسی کمرے میں ائے اور چیل کی سی تیزی سے لیپ ٹاپ پر جھپٹے مگر بے سود لیپ ٹاپ لاکڈ تھا اور وہ پاسورڈ نہیں جانتے تھے۔۔۔
وہاج لیپ ٹاپ وہیں چھوڑے اختیاط سے کمرے کے ایک کے بعد ایک دراز چیک کرنے لگا۔۔۔ مرتسم نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔ جلد ہی انکے ہاتھ چند خاکی لفافے لگے۔۔۔ وہاج نے بعجلت پہلا لفافہ چاک کیا۔۔۔ اندر علایہ کی وہی تصویریں تھیں۔۔۔ تصویریں دیکھ اسکے جبڑے بھینچ گئے۔۔۔ اسنے بنا تاخیر کئے جیب سے لائٹر نکالا اور ان تصویروں کو شعلہ دکھایا۔۔۔
مرتسم بھی اسکی جانب لپکا اور ایک کے بعد ایک باقی لفافے چاک کرنے لگا۔۔۔ سب میں مختلف لڑکیوں کی ویسی ہی تصویریں تھیں۔۔۔ مرتسم کی آنکھوں میں خون اترنے لگا۔۔۔۔ مطلب یہ محض انہی سے دشمنی نہیں لی جا رہی تھی یہ کام وہاں بڑے پیمانے پر ہو رہا تھا۔۔
مرتسم ہم یہ تصویریں جلا چکے ہیں مگر بات یہیں  ختم نہیں ہو جاتی۔۔۔ یقیناً انکی سافٹ کاپی ابھی بھی موجود ہے اور ہمیں۔۔۔
ہنڈز آپ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہاج مزید کچھ بولتا زبیر لغاری کی کرخت آواز پر وہ دونوں اسکی جانب متوجہ ہوئے جو کمرے کے دروازے کے بیچ و بیچ ان پر پسٹل تانے کھڑا تھا۔۔۔
بڑی فاسٹ سروسز ہیں تمہاری مرتسم لودھی۔۔۔۔ لگتا ہے پہلے جو ٹانگ پر گولی کھائی ہے وہ تم بھول گئے۔۔۔ خیر کوئی بات نہیں۔۔۔ ابھی میں تمہاری بہن کے حسن کو ہی زبان زد عام کرنے والا۔۔۔
یو باسٹرڈ۔۔۔ اسکی فضٰول گوئی سنتا مرتسم غرا کر اسکی جانب لپکا۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔ 
جب اتنی ہی تیزی سے زبیر نے اسے پنی جانب لپکتا دیکھ پسٹل چلایا۔۔۔ ٹھاہ کی آواز کے ساتھ ہی گولی چلی لیکن بروقت چیل کی سی تیزی سے اسکی جانب بڑھتے وہاج نے اسکا پسٹل تھاما ہاتھ اوپر کو اٹھایا جسکے باعث اسکا نشانہ خطا ہوگیا۔ تب تک اسکے قریب پہنچتے ہی مرتسم نے اچھلتے ہوئے اسکے سینے پر ٹانگ رسید کی ۔۔۔ وہ اچھلتا ہوا دور جا گرا۔۔۔ ہاتھ سے ریوالور چھوٹ گیا۔۔۔
مرتسم نے آگے بڑھتے بنا اسے سمبھلنے کا موقع دئیے اس پر پے در پے گھونسوں کی بارش کر دی۔۔۔
بامشکل وہ مرتسم کو دھکا دے کر سیدھا ہوا جب اسے بنا سمبھلنے کا موقع دئیے وہاج اس پر پل پڑا۔۔۔ 
تب تک مرتسم بھی سمبھل کر اس پر حملہ آور ہوا۔۔۔ جب زبیر لغاری کو بے دم ہوتا دیکھ وہاج بھاگ کر لیپ ٹاپ تک گیا اور لیپ ٹاپ اٹھا کر واپس زبیر لغاری تک آیا۔۔۔ لیپ ٹاپ آن کیا اور زبردستی زبیر کا انگوٹھا اٹھا کر اس پر لگایا۔۔۔ لمحے میں لیپ ٹاپ ان لاک ہو گیا۔۔۔
جب تک مرتسم نے اسے قابو کئے رکھا تب تک وہاج سارا لیپ ٹاپ کنگال کر علایہ کا ڈیٹا نکال کر ڈیلیٹ کر چکا تھا۔۔۔ حالانکہ وہاں اور بہت سا ویسا ڈیٹا ابھی بھی موجود تھا۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ وہیں صوفے ہر پھینکتے زبیر کے پاس آیا اور اسے بالوں سے دبوچتے غرایا۔۔۔
بول کیا ان سب کی کوئی اور بھی کاپی موجود ہے تمہارے پاس۔۔۔ اسنے پے در پے زبیر کے بالوں کو جھٹکے دئیے جبکہ تب تک مرتسم وجی سے رابطہ استور کر کے اسے پولیس ریڈ کا کہہ چکا تھا۔۔۔ 
ساری مین کاپیز اسی لیپ ٹاپ میں ہیں۔۔۔۔۔ وہ ادھ موا سا درد سے بے حال ہوتے پھنسی پھنسی آواز میں بولا۔۔۔
باہر سے پولیس موبائلز کے سائرن کی آواز سنائی دی تو وہاج اسکے بال جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
کچھ ہی دیر تک انسپیکٹر اس کمرے تک پہنچ کر اسے ہتھکڑی لگا رہا تھا جب مرتسم ہانپتے ہوئے وہاج کے پاس آیا۔۔۔
وہاج آگے کی کاروائی لمبی ہے اور میرے خیال سے اب تمہیں یہاں سے نکلنا چاہیے۔۔۔ یقیناً علایہ تمہارا انتظار کر رہی ہوگئ۔۔۔ 
باقی یہاں سب میں سمبھال لوں گا۔۔۔
مرتسم نے وہاج کے قریب آتے اسکا شانا تھپتھپا کر اسے سمجھانا چاہا جو ابھی بھی خونخوار نگاہوں سے زبیر لغاری کو ہی تک رہا تھا جیسے اسے کچا چبا جانا چاہتا ہو۔۔۔
مرتسم کے موقع محل کی نزاکت سمجھانے پر وہ گہرا سانس بھرتا چہرے پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔ اسے تو وہ یکسر فرموش ہی کر گیا تھا جسے اپنے نام پر گھر چھوڑ آیا تھا۔۔۔ اسنے لب بھینچتے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی جو رات کے ساڑھے بارہ بجا رہی تھی۔۔۔ اسے گھر پہنچتے پہنچتے یقیناً ڈیرھ سے دو بج جانے والے تھے کیونکہ یہ جگہ شہر سے باہر تھی۔۔۔
وہ مرتسم کو دیکھ سر ہاں میں ہلا کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔ مرتسم کی بات درست تھی اب اسے وہاں سے چلے جانا چاہیے تھا کیونکہ مین کام وہ کر چکا تھا۔۔۔ باقی مرتسم سب ہینڈل کر لیتا۔۔۔
*****
آج سنڈے ہونے کے باعث چھٹی تھی ۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے ماہرہ ڈھیلا ڈھالا لباس پہنے گلے میں سٹالر ڈالے مائز کو اٹھائے لان میں موجود کین کی کرسی پر بیٹھی  اس سے کھیل رہی تھی۔۔۔۔
دھوپ اسکے چہرے پر ترچھے رخ پر رہی تھی اور سردیوں کی یہ دھوپ کسی نعمت معترکبہ سے کم نا تھی۔۔۔
بدلتے موسم کی شدت کے باعث مائز کچھ ڈھیلا ڈھیلا سا تھا۔۔۔ اسے رات سے ہی بخار اور گلہ خراب تھا۔۔۔ ایسے میں ماہرہ خود بھی اسے سینے سے جدا کرنے کے حق میں نا تھی۔۔۔ آج تو سنڈے تھا وہ دوبارہ تب تک آفس نہیں جانا چاہتی تھی جب تک مائز اچھے سے صحتیاب نا ہو جاتا۔۔۔ سب سے پہلے اسکا بیٹا پھر کوئی دوسری چیز آتی تھی۔۔۔
اب بھی وہ ماں کی گود میں نڈھال سا لیٹا تھا جسکے کبھی وہ گال چومتی تو کبھی ننھے ننھے سے ہاتھ۔۔۔ یہ ہی تو اسکا کل سرمایا تھا۔۔۔
میڈ نے ایک دو دفعہ آ کر مائز پکڑنا چاہا مگر اسنے شدت سے منع کر دیا۔۔۔۔
مائز نے چھوٹا سا دانٹ نکال لیا تھا جبکہ اب وہ سہارے سے قدم قدم چلنے لگا تھا۔۔۔ ماہرہ اسکے ساتھ ایک ایک پل انجوائے کرتی اسکا چھوٹے سے چھوٹا پل بھی ریکارڈ کرتی۔۔۔۔ اس آس پر کہ اسکا باپ آئے گا تو وہ اس سے ہر ہر چیز شئیر کرے گی۔۔۔ وہ ابھی تک اپنے شوہر کی منتظر تھی۔۔۔ دنیا اسے پاگل کہتی تھی اسی لئے وہ سب کے سامنے خاموش ہوگئ کے پہلی بات تو اسکی موت ہی فراموش نہیں کی جا سکتی اور دوسری بات کے اگر اسے آنا ہوتا تو ابھی تک آ چکا ہوتا اسے چھوڑ کر گئے کو ایک سال ہونے کو آ رہا تھا اور ایک سال کوئی چھوٹا عرصہ تو نہیں ہوتا۔۔۔
اسنے گہری سانس خارج کرتے اپنی بازو کی جانب دیکھا جہاں فائز کا دیا آخری تحفہ ایک بریسلیٹ کی صورت جگمگا رہا تھا۔۔۔۔
ماہرہ کی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
نہیں بہت عرصہ ہو گیا فائز کا غم مناتے مناتے۔۔۔ اب اسے ہی کچھ کرنا تھا۔۔۔اسکا دماغ تیزی سے کام کرنے لگا تھا۔۔۔ جو وہ کرنے کا سوچ رہی تھی وہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔۔۔ لیکن اب فائز کی حقیقت جاننے کو یہ ضروری تھا۔۔۔ اگر اسے یہ پتہ کرنا تھا کے فائز زندہ ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کہاں ہے اسنے ابھی تک ماہرہ سے رابطہ کیوں نا کیا۔۔۔ اس کے لئے یہ رسک لینا ضروری تھا۔۔۔۔وہ اکیلی یہ سب نہیں کر سکتی تھی اسے کسی کی مدد درکار تھی اور سب سے بڑھ کر بابا کی رضا مندی۔۔۔ بابا کو وہ ویسے بھی رضا مند کر لیتی۔۔۔ بس مام کی بات تھی جو اسے پہلے ہی آدھی پاگل سمجھتی تھیں اب پورا پاگل سمجھتیں۔۔۔ اور مدد اسے کسی قابلِ بھروسہ انسان کی چاہیے تھی۔۔۔ جو اسی کی طرح فائز پر جان دیتا ہو۔۔۔ اور فائز کے لئے ہر نفع و نقصان کو بالائے طاق رکھے یہ ذاتی رسک لینے پر تیار ہو جائے۔۔۔ ایسا انسان کون ہو سکتا تھا محض یہ سوچنا باقی تھی۔۔۔ مسلسل اسی بارے میں سوچتے یکدم اسکے دماغ میں ایک جھماکا ہوا۔۔۔ ہاں یہ ممکن تھا اسکے چہرے پر رونق پھیل گئ۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4