Roshan Sitara novel 86th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 86th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
86th epi...
شادی کے ہنگاموں میں علایہ کی طبیعت سمبھلنے کی بجائے مزید بگھڑنے لگی تھی۔۔۔ وہ سبز پیلے اورنج اور مرجنڈا کلر کے کامدار کلیوں والے لہنگے کے ساتھ پیلی کرتی اور سبز اور پیلے آنچل میں ملبوس پھولوں کے زیورات زیب تن کئے سوگوار سی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
وہ اس وقت فاہا کے ساتھ پارلر میں تیار سی بیٹھی بابا کا انتظار کر رہی تھی جو انہیں پک کرنے آنے والے تھے۔۔۔
فاہا میرون کلر کے کھلے سے پلازو پر سبز کامدار شارٹ شرٹ زیب تن کئے سبز اور میرون آنچل سر پر سیٹ کئے نفیس سی جیولری میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
آجاو علایہ تایا جان آ گئے۔۔۔ فاہا تایا جان کی کال آنے پر علایہ کی جانب بڑھی اور اسکا لہنکا پکڑتے اسے اٹھانے میں مدد کی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ وینیو میں پہنچ چکے تھے۔۔۔
اتنے شارٹ نوٹس پر شادی کرنے کے باوجود دو بزنس ٹائیکون گھرانوں کی پہلی شادی پر اچھی خاصی گیڈرنگ ہو گئ تھی۔۔۔ لیکن اس کے باوجود مکس گیڈرنگ نا تھی بلکہ اس چیز کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔۔۔
علایہ کو سٹیج پر لا کر بیٹھایا گیا تو فاہا اسکے ساتھ ساتھ ہی تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں لڑکے والے مہندی لے کر آ گئے۔۔۔ اچھا خاصا ہلہ گلہ ہو گیا تھا۔۔۔ مہندی کی رسموں کے دوران بھی فاہا کا سارا دھیان مرتسم کی جانب ہی تھا جو وہ دوپہر کا گھر سے نکلا تھا تو وہ دوبارہ اسے نظر نا آیا۔۔۔ اب بھی آتے جاتے فاہا کی متلاشی نگاہیں محض اسے ہی تلاش رہی تھی۔۔۔
دفعتاً وہ اسے بابا کے ساتھ کچھ ڈسکس کرتا مصروف سے انداز میں ہال میں آتا دکھائی دیا۔۔۔ سفید کرتا شلوار میں پیلی چنری گلے میں ڈالے۔۔ اسے دیکھتے ہی بے ساختہ فاہا کے منہ سے ماشااللہ نکلا۔۔۔
ہاتھ پشت پر باندھے وہ نظریں چاروں جانب گھماتا گویا ارینجمنٹس کے بارے میں بابا سے بات کر رہا تھا۔۔۔
دفعتاً اس سے بات کرتے بابا باہر چلے گئے تو فاہا اسکی جانب بڑھی لیکن اس سے پہلے کے وہ مرتسم تک پہنچتی اسکی کئ ایک کزنیں مرتسم کے پاس پہنچ گئیں۔۔۔وہ سب دور نزدیک کی کزنیں تھیں۔۔۔ ناجانے وہ مرتسم سے کیا باتیں کر رہی تھیں۔۔۔ ہسی قہقے ۔۔۔ فوٹوگرافز ۔۔۔ لیکن فاہا یہ سب دیکھتی وہیں رک گی۔۔۔
لب چباتی وہ وہیں کھڑی انکے فری ہونے کا انتظار کرنے لگی کیونکہ ان سب میں پریہا بھی شامل تھی۔۔۔۔ اور پریہا تو ویسے بھی آتے جاتے اسے ٹونٹ مارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دے رہی تھی۔۔۔ وہ الگ بات کے علایہ کے ساتھ ہر جگہ ہونے کے باعث فاہا کا اس سے سامنا کم کم ہی ہوا تھا۔۔۔
دفعتاً مرتسم کی دور سے ہی نظر اس پر پڑی تو وہ ان سب سے ایکسکیوز کرتا اسکی جانب بڑھا۔۔۔
وہ لب چباتی اسکی جانب سے رخ موڑے کھڑی تھی جب اسے اپنے پیچھے سے ایک میٹھی سی سرگوشی سنائی دی۔۔۔
اآہمممم ۔۔۔۔اچھی لگ رہی ہو۔۔۔
گھمبیر لہجے میں کی جانے والی اس سرگوشی پر وہ چونک کر پلٹی اور اپنے پیچھے کھڑے پشت پر ہاتھ باندھے مرتسم کو دیکھ اسکے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ ابھری۔۔۔
آپ بھی۔۔۔
کیا میں بھی۔۔۔ آنکھوں میں شرارت سموئے وہ سنجیدہ سا گویا ہوا۔۔۔
آپ بھی اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔ فاہا نے لب دابتے مسکراہٹ روکی۔۔۔
یہ کیسی لولی لنگڑی تعریف ہوئی کہ میں نے کہا تو میرے الفاظ مجھے لوٹا دئیے ۔۔۔ کہ لو جی حساب پورا۔۔۔۔ ورنہ تمہیں یاد نہیں تھا۔۔۔ اسنے تاسف سے کہتے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ فاہا کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
طبیعت کیسی ہی اب آپکی۔۔۔ اور ٹانگ کا درد۔۔۔
بات گھما رہی ہو ۔۔۔۔ میں کیا پوچھ رہا ہوں اور تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں کے تم نے۔۔۔
افف مرتسم۔۔۔ کیا ہو گیا ہے آپکو۔۔۔ وہ سر پر ہاتھ مارتی بے ساختہ اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
کیا مطلب کیا ہو گیا مجھے۔۔۔ تم میری تعریف کرنے کے لئے میرے ہی الفاظ مجھے نہیں لوٹا سکتی۔۔۔ تمہیں الفاظ کا چناو منفرد کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔ جاو لڑکی تمہیں تو اتنے ہنڈسم اور خوبرو شوہر کی تعریف بھی نہیں کرنی آتی۔۔۔
پناہ خدا کی مرتسم۔۔۔ جانے آپکو کیا ہو گیا ہے۔۔۔ اچھے خاصے انسان تھے آپ۔۔۔ ٹانگ پر لگی چوٹ نے تو آپکے تقاضے ہی بدل دئیے۔۔۔ جائیں آپ تو ہیں ہی ویلے مجھے بہت کام ہیں۔۔۔ وہ منتشر ہوتی ڈھرکنوں کو سمبھالتی خود پر جھنجھلاہٹ کا لبادا اوڑھے وہاں سے واک آوٹ کر گئ۔۔۔ مرتسم کا اتنا سا ہی پٹری سے اترنا اسکے چہرے پر گلال بکھیر گیا تھا جبکہ مرتسم اسکے جاتے ہی کھل کر مسکرا دیا۔۔۔
وہ واقعی بہت پیاری لگ رہی تھی لیکن پریہا کے باعث وہ آج شدید انسکیور ہو رہی تھی۔۔۔ وہ دور سے اسکا ٹھٹھک کر رکنا اور چہرے کا پھیکا پڑنا محسوس کر چکا تھا۔۔۔ وہ اس وقت خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی تبھی تو وہ سب چھوڑ چھاڑ اسکا دھیان بٹانے اسکے پاس آگیا تھا۔۔۔ اور یقیناً وہ اس میں کامیاب بھی رہا تھا۔۔۔
پہلے تو نہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فاہا اسے اپنے لئے بہترین انتخاب لگنے لگی تھی۔۔۔ ایسا انتخاب جسکی سنگت میں زندگی پرسکون طریقے سے کٹ سکتی تھی۔۔۔ اسے فاہا کے سنگ وقت گزارنا اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔ اسے سوچنا اسے دیکھنا اسے بھلا محسوس ہوتا تھا۔۔۔ فاہا کا اسکی کئیر کرنا اسکی فکر میں ہلکان ہونا۔۔۔ اسکا خیال رکھنا سب دل پر گویا ایک ٹھنڈی پھوار برساتا تھا۔۔۔
وہ مسکراتی تھی تو سب اچھا لگتا تھا لیکن ناجانے کیوں وہ اس کے چہرے پر اداسی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔ اسکا اترا چہرا دیکھ دل اچھا محسوس نہیں کرتا تھا۔۔۔
وہ لڑکی اسکے لئے لازم و ملزم ہوتی جا رہی تھی جسے اب باضابطہ طور پر اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بارے میں وہ سنجیدگی سے سوچ رہا تھا۔۔۔
******
مہندی کا فنگشن بہت اچھے سے گزرا تھا ہال سے واپس گھر آتے آتے انہیں کافی دیر ہو گئ تھی۔۔۔ علایہ ابھی تک اپنے کمرے میں موجود اسی لباس میں ملبوس جوں کی توں بیٹھی تھی۔۔۔ حتکہ کے پھولوں کے زیورات تک نا اتارے تھے۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے فاہا اپنے کمرے میں جانے سے پہلے اسے کچھ ہلکا پھلکا کھلا کر میڈیسن کھلا کر گئ تھی جسکے باعث بخار کا کچھ زور ٹوٹا تھا لیکن تھکاوٹ حد سے سوا تھی۔۔۔ آنکھیں جل رہی تھیں جبکہ دل متضاد طرح کی کیفیات میں مبتلا تھا۔۔۔
وہ بیڈ کے کنارے بیٹھی ہاتھ بے طرح مسلتی ہونٹ چباتی ناجانے کیا کیا سوچ رہی تھی۔۔۔ دفعتاً کچھ سوچ کر وہ یکدم ہی اپنی جگہ سے اٹھی اور کمرے کا دروزہ کھول کر باہر نکلی۔۔۔ باہر ساری راہداری سنسان پڑی تھی۔۔۔ رات کے دو بج رہے تھے سبھی مہمان تھکاوٹ سے چور اس وقت اپنے بستروں میں گھس چکے تھے صبح بارات تھی اس لئے صبح کا دن آج سے بھی زیادہ تھکاوٹ بھرا ہونے والا تھا۔۔۔
ایسے میں محض ایک وہی تھی جو بھٹکی ہوئی روح بنی پھر رہی تھی۔۔۔
دفعتا مرتسم کے دروازے کے سامنے آ کر وہ رکی اور دروازے پر ہلکی سی دستک دیتے اسنے دروازہ دھکیلا۔۔۔
اس وقت مرتسم سادہ سے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس صوفے پر بیٹھا اپنی ٹانگ کی ڈریسنگ کر کے فری ہوا تھا۔۔۔ پاس ہی پڑے ٹیبل پر خالی دودھ کا گلاس اورا اسکی میڈیسنز پڑی تھیں۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی فاہا زبردستی اسے دودھ کے ساتھ دوائی کھلا کر گئ تھی ورنہ شاید وہ خود ڈنڈی مار جاتا ۔۔۔ اور فاہا کے جاتے ہی اسنے اپنی ڈریسنگ کرنا شروع کی تھی۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونک کر سیدھا ہوا جب علایہ کو مضحمل سے انداز میں اپنی طرف آتا دیکھ کر پریشان ہو اٹھا۔۔۔
کیا ہوا علایہ۔۔۔ سب خیرہت ہے نا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتا فاہا اسکے پاس ہی دوزانو بیٹھی اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامتی اپنے سر سے لگا کر سسک اٹھی۔۔۔
بھائی سوری۔۔۔ ایم رئیلی رئیلی سوری۔۔۔ آپکا اعتبار توڑنے کے لئے سوری۔۔۔ آپ سے سب چھپانے کے لئے سوری۔۔۔ آپکا سر جھکانے کے لئے سوری۔۔۔ وہ زاروقطار روتی بول رہی تھی۔۔۔
لیکن۔۔۔ وہ رکی۔۔۔ سسکی بھری۔۔ لیکن خدا کی قسم آپکی بہن بری نہیں ہے۔۔۔ میں بدکردار نہیں ہوں۔۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔
مرتسم کی اپنی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔ اسنے بازو سے تھامتے علایہ کو اٹھا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور اسے بازو کے حصار میں لیتا اپنے ساتھ لگا گیا۔۔۔
آئم سوری بھائی۔۔۔ پلیز معاف کر دیں۔۔۔ ورنہ آپکی ناراضگی میری جان لے لے گی۔۔۔ نہیں برداشت کر سکتی میں آپکی ناراضگی۔۔۔ وہ بھی تب جب میں اس گھر سے جا رہی ہوں۔۔۔
بس۔۔۔ بس علایہ خاموش ہو جاو۔۔۔ نہیں ہوں میں ناراض اپنی گڑیا سے۔۔۔۔ مرتسم نے لب بھینچتے اسکا سر تھپتھپایا۔۔
اور میں جانتا ہوں کے میری بہن ایک باکردار لڑکی ہے۔۔۔ بس مجھے غصہ تھا اور بے تحاشہ غصہ تھا کے تم نے مجھ پر یا بابا پر یقین نہیں کیا۔۔۔۔
ہم سے کچھ شئیر نہیں کیا۔۔۔۔
اس بات کو دل سے نکال دو کے میں تم سے ناراض ہوں۔۔۔ میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہو سکتا۔۔۔۔
صبح تمہاری زندگی کی ایک نئ شروعات ہو رہی ہے تو ہر چیز دل سے نکال کر پوری دل کی رضا مندی اور دلی آمادگی سے اس رشتے کی شروعات کرو۔۔۔
ہمیشہ وہاج کی قدردان رہنا علایہ کیونکہ وہ بہت خوبصورت دل کا مالک ہے۔۔۔ میں پریقین ہوں کے تم اسکے سنگ بہت خوبصورت زندگی گزارو گی اور وہ تمہارے حق میں بہت بہترین شوہر ثابت ہوگا۔۔۔ کیونکہ وہ اپنے رشتوں کے معاملے میں بہت کھرا اور مخلص ہے۔۔۔
کوشیش کرنا کے اپنے بچپنے کے ہاتھوں تم کبھی اسے ہرٹ نا کرو۔۔۔ اسکی قدر کرنا اسے وہی عزت قدر اور مان دینا جسکا وہ حقدار ہے۔۔ کبھی کسی غلط فہمی کو اپنے اور اسکے رشتے کے درمیان جگہ مت بنانے دینا۔۔۔
تمہیں یہ سب سمجھانے کا مقصد یہ ہے کے تم اپنے بچنے کے ہاتھوں پہلے بھی اسے کئ دفعہ ہرٹ کر چکی ہو۔۔۔ اب سمجھداری سے کام لینا۔۔۔
جو گزر گیا سو گزر گیا۔۔۔ گزری ہر بات پر مٹی ڈالو۔۔۔ اب وہ تمہارے لئے قابل احترام ہے۔۔ تمہارا مجازی خدا۔۔۔ اسکا احترام کرنا لازم ہے تم پر۔۔۔
وہ مسلسل اسکا سر سہلاتا اسے سمجھا رہا تھا جبکہ اسکی سسکیاں تھم چکی تھیں لیکن خاموش آنسو ابھی بھی بہہ رہے تھے۔۔۔
بھائی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ مم۔۔۔ میری وہ فوٹوگرافز۔۔۔ بھرائے لہجے میں کہتے اسکی آواز کپکپا گئ۔۔۔
بھول جاو سب علایہ۔۔۔ اور ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ وہاج ہے نا وہ تمہارے سبھی ڈر و خوف چن لے گا۔۔۔ وہ فوٹوگرافز واقعی بہت قابل مذمت ہے لیکن کہا نا وہاج بہت خوبصورت دل کا مالک ہے۔۔۔ اسکی جگہ شاید کوئی اور شخص ہوتا تو غیرت کے نام پر یہ رشتہ کب کا ٹوٹ چکا ہوتا۔۔۔ مگر وہ عقلمند اور سمجھدار انسان ہے۔۔۔ جسنے تمہاری سچویشن کو سمجھا کے تمہیں ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔۔ وہ تمہارے لئے خدا کا عطا کردہ ایک بہترین تحفہ ہے۔۔۔ اسی لئے کہہ رہا ہوں کے اسکی قدر کرنا.
علایہ کرب سے آنکھیں میچ کر رہ گئ۔۔۔ وہ اسے بتا نا سکی کے اسے سب سے زیادہ ڈر ہی اس سے لگ رہا ہے۔۔۔
چلو شاباش اب اٹھو اور سب کچھ دل و دماغ سے نکال کر ایک پرسکون نیند لو۔۔۔ صبح تمہاری زندگی کا بہت بڑا دن ہے۔۔۔
اور کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
میں ہوں نا۔۔۔ میں سب سمبھال لوں گا۔۔۔ کوئی بھی پریشانی ہو۔۔۔ کوئی مسلہ ہو ۔۔۔ کوئی ایسی بات بھی جو تم وہاج سے شئیر نا کر پاو۔۔۔۔وہ بھی تم مجھ سے شیئر کر سکتی ہو۔۔۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ بس مجھ پر بھروسہ رکھنا اور دوبارہ کبھی مجھ سے کچھ بھی چھپانے کی کوشیش مت کرنا۔۔۔ مرتسم کے اسقدر مان بھرے انداز میں کہنے ہر وہ ہلکی ہھلکی ہوتی نم آنکھوں سمیٹ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔۔
*******
آج کا دن سب سے زیادہ مصروفیت بھرا تھا۔۔۔ فاہا تو صبح دس بجے ہی علایہ کو اٹھا کر اسے زبردستی ناشتہ کروانے کے بعد سیلون لے آئی تھی۔۔۔
مرتسم کے اتنا سمجھانے کے باوجود علایہ کے دل کو ایک ڈھرکا سا لگا ہوا تھا۔۔۔ ناجانے وہاج کا اسکے ساتھ رویہ کیسا ہوتا۔۔۔
اور جب سے اپنی وہ واحیات تصویریں اسنے خود دیکھی تھیں تب سے تو وہ خود سے نگاہیں ملا پانے سے قاصر تھی کجا کے وہاج کا سامنا کرنا۔۔۔
دل بے طرح ڈھرک رہا تھا۔۔۔ اور آنے والے لمحات کا تصور ہی اسے ادھ موا کر رہا تھا۔۔۔
دلہناپے کا پر اس پر ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔۔۔ وہاج کے ہی پسند کئے برائیڈل ڈریس میں پور پور اسی کے نام پر سجی سوگوار سی وہ حقیقتاً آسمان سے اتری کوئی پری ہی لگ رہی تھی۔۔۔ ہلکے ہلکے بخار کی حدت سے سرخی مائل آنکھیں مزید نشیلی لگ رہی تھیں۔۔۔ بیوٹیشن نے اسکا ایک ایک نقوش مزید نکھار دیا تھا۔۔
وہ اس وقت برائیڈل روم میں بیٹھی ہاتھ بے طرح مسلتی آنے والے لمحات کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔ ماں بار بار نم آنکھیں صاف کرتی اسکی بلائیں لیتی نا تھک رہی تھیں۔۔۔
فاہا مسلسل اسکے ساتھ ہی تھی۔۔۔ وہ خود اس وقت بلیک کلر کے دیدہ زیب ڈیزائنر ڈریس میں ملبوس بال ایک شانے پر ڈالے لائٹ سے میک آپ اور ہلکی پھلکی جیولری میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں بارات آنے کا شور اٹھا تو سب بارات کے استقبال کے لئے باہر چلے گئے۔۔۔ نکاح کی رسم پہلے ہی ادا کر دی گئ تھی اس لئے جلد ہی اسے باہر لیجایا گیا۔۔۔ ہال میں پہنچ کر سٹیج کی جانب بڑھتے اسکے قدم من من بھاری ہو رہے تھے۔۔۔
ایک طرف سے اسکا لہنگا فاہا نے تھام رکھا تھا جبکہ انہیں باہر آتا دیکھ مرتسم سرعت سے انکی جانب بڑھا اور دوسری طرف سے علایہ کو تھامتے سٹیج کی جانب بڑھنے لگا
علایہ کے سر پر سرخ باریک نیٹ کا کسٹمائز آنچل تھا جس پر وہاج کی دلہن لکھا گیا تھا وہ چہرے پر گھونگٹ کی صورت موجود تھا جس سے اسکا دو آتشہ روپ کچھ حد تک چھپ گیا تھا۔۔۔
بلیک شیروانی میں ملبوس سٹیج پر بیٹھا وہاج انہیں سٹیج کی جانب بڑھتا دیکھ بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اپنے نام پر پور پور سجی اس حسینہ کا اپنی جانب اٹھتا ایک ایک قدم وہاج اپنے دل پر پڑتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔
سٹیج کے قریب پہنچنے پر انکے سٹیج پر چڑھنے سے پہلے ہی وہاج نے بے ساختہ اپنا ہاتھ علایہ کی جانب بڑھایا تو مرتسم نے مسکراتے ہوئے علایہ کا کپکپاتا ہاتھ وہاج کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔
ہاتھ کی لغزش اور حدت محسوس کر کے وہاج نے بے ساختہ اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ یقیناً اسے بخار تھا۔۔۔
وہاج کے علایہ کا ہاتھ تھامنے ہر بے ساختہ ہال میں ہوٹنگ ہونے لگی ۔۔۔
بہت خوشگوار ماحول میں فاہا نے دودھ پلائی کی رسم کی ۔۔۔۔۔
دیکھ لیں بھابھی یہ رسم دلہن کی بہن کرتی ہے بھابھی نہیں۔۔۔ آپ ناجائز ہی مجھے لوٹنے کی کوشیش کر رہی ہیں۔۔۔
وہاج نے فاہا کی جانب جھکتے آہستہ آواز میں کہا تو وہ اتنے ہجوم کے درمیان سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی جبکہ اسکے عین پیچھے کھڑا مرتسم قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔ وہ غالباً وہاج کی بات سے مستفید ہو چکا تھآ۔۔۔
ہمارا تو بھئ یہ ہی طریقہ کار ہے۔۔۔ ان دونوں کے ہی آمنے سامنے آنے پر فاہا نے جلد از جلد رسم مکمل کرتے وہاں سے کھسکنے کی کی۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی ہال کے ایک کونے کی جانب جا رہی تھی جب کچھ آوازوں کے کان میں پڑنے کے باعث ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
نو نو۔۔۔ سویٹ ہارٹ دراصل میری منگنی کل علایہ کے ریسیپشن پر ہے۔۔۔ اور یہ سب کے ساتھ ساتھ خود مرتسم کے لئے بھی ایک بڑا سرپرائز ہوگا۔ خالہ کا کہنا ہے کے یوں گیڈرنگ میں ایز آ سرپرائز جب یہ اناوئنس کیا جائے گا تو مرتسم کے پاس پھر انکار کا کوئی جواز ہی نہیں بچے گا۔۔۔ سو کل کا دن میرے لئے بہت اہم ہے۔۔۔ اور میں کل کے لئے بہت ایکسائٹڈ ہوں۔۔۔
پریہا مسکراتے ہوئے اپنی کسی کزن کے ساتھ بات کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ فاہا کو رفتا رفتا اپنے جسم سے پاوں کے راستے روح نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ جسم ایک دم ٹھنڈا پڑنے لگا۔۔۔ اگر واقعی ایسا ہو گیا تو؟؟؟؟؟؟؟

No comments