Header Ads

Roshan Sitara novel 85th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels

 


Roshan Sitara novel  85th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

85th epi...
رات کے کسی پہر فاہا کی آنکھ مرتسم کی کراہ پر کھلی۔۔۔
آنکھ کھلتے ہی وہ خود پر سے لحاف دور پھینکتی تیر کی سی تیزی سی مرتسم کی جانب بڑھی۔۔۔
مرتسم کچھ چاہیے آپکو۔۔۔ وہ غالباً نیم غنودگی میں تھا۔۔۔ سرخی چھلکاتا چہرا ۔۔۔ کھلتی بند ہوتی آنکھیں۔۔۔ اور ماتھے پر بے ترتیبی سے بکھرے بال۔۔۔
فاہا نے بے ساختہ ہاتھ بڑھا کر مرتسم کے ماتھے پر بکھرے بال ہٹانے چاہے۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ مگر اتنی ہی سرعت سے ہاتھ واپس ہٹا گئ۔۔۔ گویا جیسے کسی جلتے انگارے کو چھو لیا ہو۔۔۔
مرتسم آپکو تو بہت تیز بخار ہے۔۔۔ اسکے تو ہاتھ پاوں ہی پھول گئے۔۔۔۔
مرتسم نے ایک پل کو نیم وا آنکھیں کھولتے اسے دیکھا۔۔۔
پپ۔۔ پانی۔۔۔ 
پانی۔۔۔ایک منٹ۔۔۔فاہا حواس باختگی میں ادھر ادھر دیکھتی سائیڈ ٹیبل پر موجود جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر اسکے پاس آئی۔۔۔
گلاس واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور دونوں ہاتھوں سے اسکا سر زرا اونچا کرتے نیچے تکیے کی ٹیک لگائی اور پانی کا گلاس اسکے منہ سے لگایا۔۔۔
ایک۔۔۔ایک منٹ مرتسم میں بخار کی میڈیسن ڈھونڈ لوں۔۔۔ شاید کچن میں موجود فرسٹ ایڈ باکس میں ہو۔۔۔ وہ انہی قدموں پر واپس کمرے سے باہر بھاگی۔۔۔
الجھے بکھرے بال ۔۔۔ شانے پر جھولتا آنچل وہ اتنی سردی میں ننگے پاوں ہی کمرے سے نکل گئ تھی۔۔۔ مرتسم نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتا آنکھیں موند گیا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ بخار کی دوائی تھامے سردی سے ٹھٹھرتی واپس کمرے میں آئی۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے سکون کا احساس ہوا۔۔۔ اندر ہیٹنگ سسٹم آن تھا جبکہ باہر حد درجہ سردی تھی۔۔۔۔
مرتسم کے پاس بیٹھتے اسنے سہارے سے اسے سیدھا کرتے دوائی کھلائی اور اسکا سر تکیے پر رکھتے اس پر لحاف درست کیا۔۔۔
کچھ اور چاہیے آپکو مرتسم۔۔۔ وہ اسکے قریب جھکتی پریشانی سے گویا ہوئی۔۔۔
مرتسم نے لال انگارہ ہوتی آنکھیں کھول کر اپنے چہرے کے قریب اسکا پریشان حال چہرا دیکھا۔۔۔ وہ کسی بھی پل رو دینے کو تھی۔۔۔ 
مرتسم نے آنکھیں بند کرتے اسکا ہاتھ تھام کر اپنی آنکھوں پر رکھا۔۔۔ جلتی آنکھوں پر ٹھنڈے ہاتھ کے لمس نے عجیب تقویت بخشی تھی۔۔۔
فاہا گیلی سانس اندر کھینچتی وہیں سیدھی ہوئی اور نرمی سے اسکا سر دبانے لگی۔۔۔
جلد ہی مرتسم دوائیوں کے زیر اثر پھر سے نیند میں اتر گیا۔۔۔ مگر فاہا وہیں بیٹھی مسلسل اسکا سر دباتی یک ٹک اسے ہی دیکھے گئ۔۔۔
ذہانت سے بھرپور آنکھیں اس وقت بند تھیں۔۔۔ کھڑی مغرورانہ ناک۔۔۔ گھنی مونچھوں تلے بھینچے عنابی لب ماتھے پر بکھرے بال اور ہلکی بڑھی شیو۔۔۔ زیرو پاور کی مدہم روشنی میں اسکا نقش نقش حفظ کرنا ناجانے کیوں اسے بھلا لگ رہا تھا۔۔۔ 
وہ مردانہ وجاہت کا  منہ بولتا ثبوت مکمل شخص اسکا تھا۔۔۔ اسکا دل خوامخواہ ہی اس ہمراہی پر سرشار ہونے لگا۔۔
وہ ہر کچھ دیر بعد اٹھ کر پانی مانگتا اور پانی پیتے ہی پھر سے غنودگی میں چلا جاتا۔۔۔ ساری رات ہی فاہا اسکے سرہانے بیٹھی رہی۔۔۔ صبح فجر کے وقت اسکا بخار کچھ کم ہوا تو فاہا اس پر لحاف درست کرتی بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ 
ابھی دو قدم ہی چلی تھی جب اسکا ہاتھ مرتسم کی گرفت میں آیا۔۔۔ وہ چونک کر پلٹی۔۔۔
Thank you...
 وہ ہولے سے مسکرایا۔۔۔۔۔
اسکی ضرورت نہیں مرتسم۔۔۔ آپ آرام کریں میں کچھ دیر بعد پھر سے چکر لگاوں گی۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتی کمرے کا دروازہ بند کر کے کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔
****
تم اس وقت مرتسم کے کمرے سے کیسے نکل رہی ہو اور اس حالت میں۔۔۔ یہ سب چل کیا رہا ہے آخر۔۔۔۔
ابھی وہ مرتسم کے کمرے سے نکلتی آگے بڑھی ہی تھی۔۔۔ جب نائٹ سوٹ میں ملبوس پانی کا جگ ہاتھ میں تھامے سوئی جاگی کیفیت میں موجود پریہا  اسے مرتسم کے کمرے سے نکلتا دیکھا حیرت و شاک سے گنگ اسکے سامنے آئی۔۔۔
یوں کے ایک پل کو تو فاہا بھی بوکھلا کر رہ گئ۔۔۔
وہ غالباً کل رات یہیں رکی تھی۔۔۔ اور اسکے ساتھ ساتھ اکا دکا مہمان بھی وہیں تھے۔۔۔
فاہا نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے اسے اگنور کر کے آگے بڑھنا چاہا۔۔۔ جب وہ پانی کا جگ وہیں وال شیلف پر رکھتی جارحانہ اسکی جانب بڑھی اور اسکی بازو دبوچ کر غرائی۔۔۔
تو یہ سب کر کے تم نے مرتسم کو مٹھی میں لیا ہے۔۔۔ سچ سچ بولو کب سے چل رہا ہے یہ سب۔۔ شکل مومنوں اور کرتوں کافراں۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی اور چھوڑو میری بازو۔۔۔ فاہا نے جھٹپٹھاٹے ہوئے اسکی گرفت سے اپنی بازو آزاد کروائی۔۔۔
ابھی ابھی فجر کی اذانیں ہوئی تھیں۔۔ باہر ابھی چہار سو اندھیرا پھیلا تھا۔۔۔ ابھی تک گھر میں کوئی اٹھا نا تھا۔۔۔
لیکن پریہا کے ارادے اسے خطرناک لگ رہے ۔۔ اسکے جارحانہ انداز یقیناً یہاں کوئی تماشا لگانے والے تھے۔۔۔
فاہا کو اور کسی چیز کی فکر نا تھی۔۔۔ وہ بس علایہ کی شادی میں کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
اس بات کی وضاحت تو تمہیں دینی ہی پڑے گی۔۔۔ تم اس وقت مرتسم کے کمرے سے کیسے نکلی ہو۔۔۔ رات بھر تم وہاں کیا کرتی رہی۔۔۔ یہاں یہ بے حیائی نہیں چلے گئ فاہا ڈئیر۔۔۔ غصے سے پریہا کا لہجہ سخت اور آواز بلند ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
فاہا کا حلق خشک ہونے لگا۔۔۔ کبھی بھی یہاں کوئی بھی آسکتا تھا۔۔۔ یہ صورتحال غیر متوقع تھی۔۔۔
تمہیں سنائی نہیں دے رہا بولو کے اندر کیا گھل کھلا کر آ رہی ہو۔۔ وہ غصے سے اتنے برے انداز میں چیخی کے فاہا کا دل چاہا اسکا منہ توڑ ڈالے۔۔۔۔اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتی تائی جان شور سن کر کمرے سے باہر آ نکلیں۔۔۔ وہ غالباً فجر کے لئے جاگ چکی تھیں ۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہ پریہا۔۔۔ وہ حیرت زدہ سی کہتیں اپنے گرد شال لپیٹے قدم قدم انکی جانب بڑھیں۔۔۔
خالہ جانی۔۔۔ حالت دیکھیں اس لڑکی کی۔۔۔ پریہا نے بھاگ کر ان تک جاتے فاہا کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
تائی جان نے حیرت سے فاہا کو دیکھا۔۔۔ رتجگے کے باعث آنکھوں میں تیرے سرخ ڈورے۔۔۔ الجھے بکھرے بال اور شانے پر جھولتا آنچل۔۔۔
کیا ہوا اسے۔۔۔ وہ ناسمجھیں سے واپس پریہا کی جانب پلٹیں۔۔
یہ ساری رات مرتسم کے ساتھ اسکے کمرے میں گزار کر آ رہی ہے۔۔۔ پوچھیں اس سے کیا کر رہی تھی یہ وہاں۔۔۔ پریہا ہر مصلحت بالائے طاق رکھے چیخی۔۔ جبکہ فاہا چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
اسکی ہمت بس اتنی ہی تھی۔۔۔
اب یہ رو کر سچی ہونے کی کوشیش کر رہی ہے۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہی ہے کے یہ بدکردار۔۔
بس پریہا۔۔۔ خاموش ہو جاو۔۔۔ مزید ایک لفظ نہیں۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ مزید باتوں کے تیر چلاتی۔۔۔ تائی جان نے سختی سے اسکی بات کاٹی اور فاہا کی جانب بڑھیں۔۔۔۔۔
میں فاہا کو بھی اچھے سے جانتی ہوں اور اپنے بیٹے کو بھی۔۔۔ اس کے لئے مجھے کسی کی بھی فضول گوئی پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ 
فاہا بیٹا بولو۔۔  تم مرتسم کے کمرے میں کیوں گی تھی۔۔۔۔ ماں پریہا کو سختی سے کہتیں فاہا کے پاس آ کر اسکے شانے پر ہاتھ رکھتیں نرمی سے گویا ہوئیں۔۔۔
تائی جان۔۔۔ اسنے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے انہیں دیکھا۔۔۔
ہاں بولو بچے۔۔۔ مرتسم کا میسج آیا تھا۔۔۔ انہیں بہت تیز بخار تھا اس لئے میں انہیں گرم دودھ کا گلاس اور بخار کی میڈیسنز دینے گئ تھی۔۔۔
اسنے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
اوہ۔۔۔ اب کیسی طبیعت ہے اسکی۔۔۔ ماں کو یکدم ہی پریشانی لاحق ہوئی۔۔۔
جی دوائی لے کر لیٹے ہیں اب وہ۔۔۔ آپ دیکھ لیں انہین کسی اور چیز کی ضرورت نا ہو۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا تم جا کر آرام کرو میں اسے دیکھتی ہوں۔۔۔
ماں نے اسکا چہرا تھپتھپاتے اسے کمرے میں بھیجا اور خود کڑے تیوروں سے پریہا کی جانب دیکھا۔۔۔
مانا کے تم مجھے بہت عزیز ہو پریہا لیکن کم پیاری مجھے وہ بھی نہیں۔۔۔۔ آئندہ کسی پر بھی بہتان بازی کرنے سے گریز کرنا۔۔۔
ماں اسے سختی سے وارن کرتیں مرتسم کے کمرے کی جانب بڑھیں۔۔۔۔
*******
 آج مہندی تھی اس لئے گھر میں مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔ صبح سے ہی گھر میں کافی چہل پہل تھی۔۔ ماں کے ساتھ مختلف کام کرواتے کبھی  علایہ کے پاس چکر لگاتے بھی ہنوز فاہا کا دھیاں مرتسم میں ہی لگا رہا تھا جو صبح سے ابھی تک باہر نہیں نکلا تھا۔۔۔
صبح ماں جو اسکے کمرے میں گئیں تو اسے ناشتہ کروانے کے بعد ہی کمرے سے نکلیں تھیں۔۔۔ اس جانب سے اسے تسلی تھی۔۔۔ باقی کاموں کے درمیان وہ اسقدر گن چکر بنی کے اسے دوبارہ مرتسم کے پاس چکر لگانے کا موقع ہی نا ملا۔۔۔ مزید آتے جاتے پریہا کی سلگتی نظریں خود پر دیکھنا اسے مزید کوفت میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔ وہ صبح سے ہی لاوئنج کے صوفے پر ٹکی بیٹھی تھی اور اسکی نگاہیں کسی ایکسرے کی مانند اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔۔
بے ساختہ فاہا کی نظر وال کلاک پر پڑی جو دوپہر کے دو بجا رہا تھا۔۔۔ اسنے ہاتھ کی ہتھیلی ماتھے پر ماری صبح سے کاموں میں مصروف اسے وقت کا احساس ہی نا ہوا۔۔۔
اب ارادہ مرتسم کے کمرے میں چکر لگانے کا تھا کے اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں جب اسکی نظر سیڑھیاں اترے مرتسم پر پڑی۔۔۔
وہ سادہ سے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس پاوں میں چپل پہنے رف سے حلیے میں ریلنگ کے سہارے لڑکھڑا کر چلا آ رہا تھا۔۔۔
گیلے بال ماتھے پر پھیلے تھے۔۔۔ اسے یوں لاپرواہی سے آتا دیکھ فاہا کی آنکھوں میں غصہ ابھرا۔۔۔ ماتھے پر ہلکا سا بل پڑا۔۔۔
وہ سرعت سے سیڑھیوں کے قریب پہنچی۔۔۔ تب تک وہ بھی نیچے آ چکا تھا۔۔۔ فاہا کو یوں غصیلے انداز میں اپنی جانب دیکھتا پا اسنے آنکھ اچکائی۔۔۔
آپ نہائے ہیں۔۔۔ وہ تعجب سے بولی۔۔۔
تو اس میں اتنا پریشان ہونے والی کونسی بات ہے۔۔۔  میں تو روز ہی نہاتا ہوں۔۔۔
مرتسم آپکو پتہ ہے کے ابھی آپکا زخم تازہ ہے اور آپ نے اسے گیلا کر لیا ۔۔۔ شاور لینے کے بعد بینڈیج دوبارہ کی۔۔۔ وہ متفکر تھی۔۔۔
بیوی۔۔۔ مانا کے تم بیوی ہو یار۔۔۔ مگر ابھی رخصت ہو کر میرے کمرے میں آئی نہیں ہو۔۔۔ ابھی سے اتنی تفتیش۔۔۔ اور سیریسلی اتنی روک ٹوک مجھے کسی کی نہیں پسند۔۔۔  وہ ہاتھ پشت پر باندھتا مضنوعی تاسف سے سر نفی میں ہلاتا گویا ہوا۔۔۔۔
کیوں تنگ کر رہے ہیں مرتسم۔۔۔ وہ جیسے بے بس ہوئی۔۔
ارےےے۔۔۔ میں نے کہاں تنگ کیا۔۔۔ حالانکہ تنگ تم کر رہی ہو۔۔۔ اچھے سے جانتی ہو میں بیمار ہوں۔۔۔ ٹانگ میں تکلیف ہے۔۔۔ اسکے باوجود جانے نہیں دے رہی۔۔۔ روک کر کھڑا کیا ہوا ہے۔۔۔
اسنے اتنے تاسف سے کہا کے بے ساختہ وہ بوکھلا اٹھی۔۔۔
آپ نیچے کیوں آئے ہیں مرتسم۔۔۔ واپس کمرے میں جائیں میں وہیں آپ کے لئے کھانا لاتی ہوں۔۔۔ 
نہیں کھانے کی ضرورت نہیں ابھی کچھ کام ہے میں باہر سے کچھ کھا لوں گا۔۔۔
مرتسم کے اتنے ہلکے پھلکے انداز میں کہنے پر وہ بونچکا رہ گئ۔۔۔
مرتسم۔۔۔ اسکے لب پھڑپھڑائے۔۔۔ آپ کیوں ہیں اتنے سر پھرے۔۔۔
دور لاوئنج میں بیٹھی پریہا کافی دیر سے انہیں خونخوار انداز میں دیکھ رہی تھی۔۔۔ یہ بانڈنگ اسکی سمجھ سے پرے تھی۔۔۔ جب اپنے کمرے سے نکلتیں خالہ جانی کو دیکھ اسکی بس ہوئی اور وہ سرعت سے اٹھتی انکی جانب بڑھی۔۔۔
وہ دیکھیں خالہ جانی۔۔۔ یہ لڑکی مرتسم پر ڈورے ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔۔۔ وہ انکے پاس آتی شکوہ کناں ہوئی۔۔۔ اسکی بات سن کر خالہ جانی نے چونک کر سیڑھیوں کی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔
میں آپکو بتا رہی ہوں خالہ جانی اس لڑکی کے ارادے بڑے خطرناک ہیں۔۔۔
ماں اسکی بات سنتیں ان دونوں کی جانب بڑھی جبکہ پریہا وہیں سینے پر ہاتھ باندھتی جلتی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
کچھ عقل سے کام لو لڑکی میری بہن کی شادی ہے سو کام ہیں مجھے میں یوں بیٹھ نہیں سکتا۔۔۔۔
 وہ سو کام آپکی صحت سے بڑھ کر نہیں۔۔ فاہا دوبدو گویا ہوئی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ جب ماں انکے قریب آتیں مسکرا کر گویا ہوئیں۔۔
کام سے جا رہا ہوں ماں لیکن یہ جانے  نہیں دے رہی۔۔۔ مرتسم کی آنکھوں میں چمک ابھری۔۔۔
تائی جان میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کے کھانا تیار ہے تو کھانا کھانے کے بعد میڈیسن لے کر چلے جائیں مگر یہ سن ہی نہیں رہے۔۔ فاہا بھی اسکی شرارت سمجھتی ماں سے شکائتی انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
اب آپ ہی سمجھائیں انہیں۔۔۔
ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے وہ۔۔۔ اس میں غلط کیا ہے۔۔ چلو چل کر ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھو اور جاو فاہا بچے کچن سے کھانا لاو اسکے لئے۔۔۔ ماں فاہا سے کہتی مرتسم کی بازو تھام کر اسے ڈائینینگ ٹیبل کی جانب لے کر بڑھیں۔۔ جبکہ فاہا مسکراہٹ روکتی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔ پریہا نے سلگتے ہوئے یہ منظر دیکھا۔۔۔
*****
سر یہ ممکن نہیں ۔۔۔ آپ سمجھنے کی کوشیش کیوں نہیں کر رہے ماہرہ اظہر کے کمرے سے کوئی چیز چرانا ایک ناممکن امر ہے۔۔۔ جگہ جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں۔۔۔ اور ماہرہ نے تو بالخصوص اپنے کمرے میں اس انداز میں کیمرے لگوائے ہیں کے کمرے کا ایک ایک کونا کور ہوتا ہے۔۔۔ ایسے میں میں اسکے کمرے سے لیپ ٹاپ کیسے چراوں۔۔۔ 
رات کا وقت تھا سب کھانا کھانے کے بعد اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔۔۔ مائز کی کئیر ٹیکر بھی گھر جانے والی تھی جب اسے میر کی کال آئی اور وہ کال سننے کے بہانے واش روم میں آ پہنچی۔۔۔
سر آپ سمجھ نہیں رہے۔۔۔ پہلی بات کے میں انکے کمرے سے لیپ ٹاپ چرا نہیں سکتی دوسری بات کے بالفرض میں اپنی جان پر رسک لے کر لیپ ٹاپ چرا بھی لوں تو وہ میرا اس گھر میں آخری دن ہوگا کیونکہ جیسے ہی میں وہ لیپ ٹاپ چراوں گی سی سی ٹی وی فوٹیج کو مانیٹر کرتا سکیورٹی آفیسر فوراً سے پہلے مجھے پکڑ لے گا۔۔۔ آپکا یہ پلان کبھی کامیاب نہیں رہے گا۔۔۔ پلیز آپ کچھ اور سوچیں۔۔۔ وہ کئیر ٹیکر منمناتے ہوئے میر کو سمجھانے کی کوشیش کر رہی تھی کیونکہ اس کام میں بہت رسک تھا۔۔۔
ہوٹل سویٹ کی کھڑی میں کھڑے نائٹ سوٹ میں ملبوس میر کے چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں ابھرئیں۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے پھر ایک کام کرنا جب میں تمہیں کہوں تب کسی کام کے بہانے مائرہ کا لیپ ٹاپ اس دوسرے لیپ ٹاپ سے بدل دینا۔۔۔ ہقیناً دونوں لیپ ٹاپ ایک جیسے ہیں تبھی وہ ایک دفعہ پہلے بھی غلطی سے وہ دوسرا لیپ ٹاپ لے آئی تھی۔۔۔ وہ پر سوچ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
ہاں یہ ممکن ہے سر۔۔۔ میں یہ کرسکتی ہوں۔۔۔کیونکہ میں ان پڑھ ہوں اور مجھے ان چیزوں کی کیا سمجھ۔۔۔ چیزیں رکھتے اٹھاتے میں اسانی سے یہ بدل دوں گی۔۔۔ اس کئیر ٹیکر کے سر سے جیسے ایک بوجھ اترا تھا وہ گہرا سانس خارج کر کے رہ گئ۔۔ یقیناً اسے میر کا آئیڈیا پسند آیا تھا۔۔۔
چلو پھر میں تمہیں بتاوں گا کے تمہیں کب یہ کام کرنا ہے۔۔۔ میر کا دماغ دور تک کی پلانینگ کر رہا تھا۔۔۔ 
لیپ ٹاپ آپریٹ کرنے کے لئے یقیناً اسے لیپ ٹاپ کے ساتھ ساتھ ماہرہ کی بھی ضرورت تھی۔۔ کیونکہ وہ پاسورڈ لگا لیپ ٹاپ بنا ماہرہ کی مدد کے نہیں کھول سکتا تھا۔۔۔ اور پاسورڈ ٹورنے کا وہ رسک نہیں لے سکتا تھا کیونکہ اس سے ڈیٹا ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔۔۔
So miss Mahira Azhar... Just wait & watch...
,وہ دور کی پلانینگ کرتا اپنے بستر کی جانب بڑھا۔۔۔
*****



No comments

Powered by Blogger.
4