Roshan Sitara novel 84th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 84th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
84th epi...
صورتحال غیر متوقع تھی۔۔۔ مرتسم نے تیزی سے سمبھلتے پوری قوت لگا کر لڑکھڑاتی گاڑی سمبھالی اور ایس ایچ او کو اپنی لوکیشن سینڈ کی۔۔۔
سپیڈ سے چلتی گاڑی کے باعث گولیوں کے نشانے خطا ہو رہے تھے۔۔۔
لوکیشن سینڈ کرتے مرتسم کا دھیان بٹا جب ایک مرتبہ پھر سے ایک گاڑی نے اسے سائیڈ سے ٹکر ماری۔۔ مگر اس مرتبہ وہ تھوڑا الڑٹ تھا اسی لئے موبائل وہیں پھینکتا سرعت سے گاڑی سمبھال کر گاڑی میں موجود اپنا پسٹل ڈھونڈنے لگا۔۔۔
آج یا وہ نہیں یا زبیر لغاری نہیں۔۔۔ غصے سے خون کھولنے لگا تھا ماتھے کی رگ مسلسل پھڑپھڑانے لگی تھی۔۔۔
جلد ہی اسے اپنا پسٹل مل گیا۔۔۔
گاڑی کا شیشہ زرا سا نیچے کرتے اسنے سب سے پہلے اپنے قریب ترین موجود گاڑی کے ٹائروں پر فائر کیا۔۔۔ گاڑی گھومتی ہوئی سرک کے بیچ و بیچ ڈولتی ہوئی رکی یوں کے آنے والی باقی گاڑیوں کا راستہ روک گی۔۔۔ باقی گاڑیاں سمبھل کر رکیں لیکن اسکے قریب ترین آتی فل سپیڈ کار کا اس سے زبردست تصادم ہوا۔۔۔
صورتحال دیکھ مرتسم نے سرعت سے گاڑی زبیر لغاری کی گاڑی کے آگے روکی اور طیش سے نکلتا اسکی گاڑی کی جانب بڑھا۔۔۔
ایک جھٹکے سے اسکا دروازہ کھولا ۔۔۔ اس سے پہلے کے اسے گریبان سے گھسیٹتا ہوا باہر نکالتا ایک سلگتا ہوا شعلہ اسکی ٹانگ چیرتا نگل گیا۔۔۔
آہہ۔۔۔ ایک ناقابل برداشت تکلیف کی چیخ کے ساتھ وہ جلد سمبھلا اور زبیر لغاری کے ہاتھ میں تھامی پسٹل کا رخ موڑتے اسے گاڑی سے باہر گھسیٹا۔۔۔
اسکی ٹانگ سے پانی کی مانند خون بہتا چلا جا رہا تھا۔۔۔ لیکن اس وقت تکلیف سے زیادہ اسکے سر پر جنون سوار تھا۔۔۔ سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں سرخی چھلکاتا چہرا اور بھینچے جبرے ۔۔۔ ایک ہاتھ سے زبیر لغاری کا پسٹل تھاما ہاتھ تھامے دوسرے سے وہ پے در پے اسکے چہرے پر گھونسے برسا رہا تھا۔۔۔
جلد ہی پسٹل زبیر کے ہاتھ سے پھسلتا دور جا گرا۔۔۔
اور سڑک کے بیچ و بیچ دونوں ہی ایک دوسرے سے گھتم گھتا ہو پڑے۔۔۔
جلد ہی زبیر لغاری نے اسکی زخمی ٹانگ پر زوردار ٹانگ رسید کی۔۔۔
آہہہ۔۔۔ ایک کراہ کے ساتھ مرتسم بری طرح گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا۔۔۔
تیری بہن کا حسن بہت لاجواب ہے سالے۔۔۔ زبیر انگوٹھے کی مدد سے ہونٹ کے قریب سے خون صاف کرتا تمسخرانہ گویا ہوا۔۔ فکر نا کر۔۔۔ کل تک یہ حسن پوری دنیا۔۔۔
کمینے۔۔۔ ک۔۔۔۔۔ تیرا قتل اب واجب ہے مجھ پر۔۔ وہ پھنکارتا ہوا ہر تکلیف بھلائے اٹھا اور اس پر پل پڑا۔۔۔
اسے گلے سے دبوچتے نیچے پھینک کر وہ پے در پے ہاتھوں اور پاوں کا استعمال کر رہا تھا۔۔۔ جب زبیر لغاری کے ایک دوست نے راڈ سے اسکی کمر پر وار کیا۔۔۔ تکلیف کی شدت سے مرتسم کی گرفت ڈھیلی پڑی ۔۔ زبیر لغاری اسے دھکا دیتا سیدھا ہوتا اسکی گرفت سے نکلا۔۔
اس سے پہلے کے اسکا وہی دوست دوبارہ سے مرتسم کے سر کا نشانہ لیتا وجی نے اسکے ہاتھ کا نشانہ لیتے فائر کیا۔۔۔ اسکا راڈ دور جا گرا۔۔
دفعتاً دور سے ہی وہاج کی گاڑی آتی دکھائی دی۔۔ ساتھ ہی پولیس مابائلز کا سائرن سنائی دینے لگا۔۔۔ زبیر اور اسکے دوست نے ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا اور زبیر کی ہی گاڑی میں بیٹھتے فرار ہونے لگے۔۔۔
پکڑو انہیں وجی۔۔۔ وہ بھاگنے نہیں چاہیے۔۔۔ مرتسم چیخا۔۔۔
مگر دیر ہو چکی تھی ۔۔ وہ گاڑی بھگا لے گئے۔۔۔ وجی دو قدم انکی جانب بھاگا مگر انہیں گاڑی بھگاتا دیکھ واپس مرتسم تک پلٹ آیا۔۔۔
انہیں ہم بعد میں پکڑ لیں گے سر۔۔۔ ابھی آپکی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔
مائے گاڈ۔۔ مرتسم۔۔۔ تمہارا بہت خون بہہ رہا ہے۔۔۔ دفعتاً دوڑ کر اسکی جانب آتا وہاج چیخا۔۔۔ ساتھ ہی پولیس اہلکار اور ایس اہچ او بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔۔
انسپیکٹر وہ ہاتھ سے نکلنا نہیں چاہیے۔۔۔
مرتسم کے سر پر ہنوز جنون سوار تھا۔۔۔
وجی گاڑی سیدھی کرو۔۔۔ وہاج چیخا۔۔۔ جبکہ وجی بھاگ کر گاڑی کی جانب لپکا۔۔۔۔
انسپیکٹر۔۔۔
ہم انہیں پکڑ لیں گے مرتسم ۔۔۔ پہلے تم چلو تمہیں ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے۔۔۔۔
اس سے پہلے کے مرتسم پھر سے کچھ کہتا وہاج اسکی بات کاٹتا اسے زبردستی گاڑی میں بیٹھانے لگا۔۔۔
******
انسان بن جاو مرتسم۔۔۔ مانا کے گولی چھو کر گزری ہے ۔۔۔ مگر تمہیں آرام کی ضرورت ہے تم یوں ہسپتال سے جا نہیں سکتے۔۔۔۔ وہ دونوں اس وقت ہسپتال کے ایک پڑائیویٹ روم میں تھے۔۔۔ ڈاکٹر ابھی ابھی مرتسم کی ٹانگ کی پٹی کر کے گیا تھا۔۔۔ گولی گھٹنے کے نیچے سے چھو کر گزری تھی۔۔۔
جب وہاج مرتسم کو پٹی کروانے کے بعد بستر سے اترتا دیکھ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔۔
میں یہاں یوں بیٹھ نہیں سکتا وہاج۔۔۔ اس گھٹیا شخص کے ہاتھ میں میری کمزوری ہے۔۔۔ اور وہ مجھے دھمکا کر گیا ہے۔۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔ مرتسم کے لہجے میں بےبسی ہی بے بسی تھی۔۔۔ مجھے ہر حال میں اسے ڈھونڈ کر اس سے علایہ کا سارا ڈیٹا۔۔۔
مرتسم کی آواز بھرا گئ۔۔۔۔حوصلہ رکھو مرتسم۔۔۔ جوش سے نہیں ہوش سے کام لو۔۔۔ ہم اس شخص کو اسکے گھٹیا منصوبوں میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔۔۔
مگر ابھی یہ سوچو کے گھر پر شادی کے فنگشنز شروع ہونے والے ہیں ۔۔۔۔۔ ایسے میں جب گھر میں سب کو اس حادثے کے بارے میں پتہ چلے گا تو ۔۔۔
گھر میں کسی کو اس حادثے کے بارے میں کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہیے وہاج۔۔۔ مرتسم نے جھٹکے سے سر اٹھاتے سرعت سے اسکی بات کاٹی۔۔۔۔ ماں اتنی جلدی شادی اور اسکی تیاریوں کو لے کر پہلے ہی پینک ہو رہی ہیں۔۔۔ مجھے گولی لگنے کا پتہ چلا تو ۔۔۔ نو نیور۔۔۔ وہ بات درمیان میں چھوڑتا سر نفی میں ہلاتا ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔
ایس ایچ او ندیم کو کال ملاو۔۔۔ اور زبیر لغاری اور اسکے سبھی دوستوں کے نمبر دے کر انہیں ٹریس کروانے کو کہو۔۔۔ لوکیشن پتہ کرواو کے زبیر کہاں ہے اس وقت۔۔۔ اس کے علاوہ وجی کو بولو کے اپنے طور پر اسے تلاشنے کی کوشیش کرے۔۔۔ ہم اسے کھلا چھوڑ کر رسک نہیں لے سکتے۔۔۔۔
ہمم ٹھیک ہے۔۔۔ ویسے زبیر کے دو دوست پکڑے گئے تھے ۔۔ گاڑیوں کے ےتصادم کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔۔۔ ابھی ہسپتال میں انڈر آبزرویشن ہیں۔۔۔۔۔ قوی امکان ہے کے زبیر ان سے رابطہ کرنے کی کوشیش کرے۔۔۔ وہاج فون جیب سے نکالتا گویا ہوا۔۔۔
******
زیادہ ٹانگ پر وزن ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے مرتسم۔۔۔ گاڑی لودھی ہاوس کے کار پورچ میں رکی تو مرتسم کے بنا کسی سہارے کے لڑکھڑاتے ہوئے چلنے پر وہاج نے اسے ٹوکا۔۔۔
انہیں گھر آتے آتے رات اتر آئی تھی۔۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔ اور پلیز گھر میں کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے کے مجھے گولی لگی ہے۔۔۔۔
مرتسم اسے آہستہ آواز میں تنبیہ کرتا آگے بڑھا۔۔۔
یہ تمہیں کیا ہوا مرتسم تم یوں لڑکھڑا کر کیوں چل رہے ہو۔۔۔
سبھی اس وقت ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھے ڈنر کر رہے تھے جب اسے یوں لڑکھڑا کر چلتے دیکھ سب سے پہلے ماں ہی اپنی کرسی سے اٹھتیں فکر مندی سے اسکی جانب بڑھیں ۔۔۔
کچھ نہیں ماں وہ بس زرا سی پاوں میں موچ آ گئ تھی۔۔۔ ڈاکٹر کو دکھایا ہے ۔۔۔ انشااللہ صبح تک ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ مرتسم نے مسکرا کر کہتے ماں کی تشفی کروانے کی کوشیش کی۔۔۔
جی آنٹی ٹھیک کہہ رہا ہے یہ۔۔۔ ہم ابھی ابھی ڈاکَر کے پاس سے ہی آ رہے ہیں۔۔۔ آپ اسکا کھانا کمرے میں ہی بھیجوا دیں۔۔۔ کیونکہ ابھی اسے ریسٹ کی ضرورت ہے میں کھانے کے بعد اسے میڈیسنز دے کر ہی جاوں گا۔۔۔
وہاج کے مسکرا کر بات سمبھالنے پر ماں سر ہاں میں ہلا گئیں۔۔۔
*****
کچھ ہی دیر میں فاہا مرتسم کے کمرے کا دروازہ ناک کرتی کھانے کی ٹرے لئے اندر داخل ہوئی۔۔۔
مرتسم بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا جبکہ وہاج اسکے پاس ہی بیٹھا سر جھکائے موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔۔۔ جب فاہا کے اندر آنے پر وہ موبائل بند کرتا سیدھا ہوا اور آگے بڑھ کر فاہا کے ہاتھ سے کھانے کی ٹرے تھامی۔۔۔
بھابھی ایک گلاس گرم دودھ کا بھی لا دیں۔۔۔ وہاج کے کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
کچھ دیر بعد جب وہ گرم دودھ کا گلاس لے کر واپس آئی تب تک وہاج اسے کھانا کھلا کر دوائی کھلا چکا تھا۔۔۔
بھابھی پلیز بیٹھیں۔۔۔ فاہا ٹیبل پر دودھ کا گلاس رکھ کر پلٹنے لگی جب وہاج نے اسے جانے سے روکا۔۔۔
مرتسم نے ماتھے پر شکنوں کا جال لئے الجھ کر وہاج کو دیکھ۔۔۔
فاہا خاموشی سے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھ کر اسے منتظر نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔
اسے کیوں روکا ہے۔۔۔ جاو تم فاہا۔۔۔ مرتسم کڑے تیوروں سے وہاج کو کہنے کے بعد فاہا سے گویا ہوا۔۔۔
فاہا لب چباتی ایک نظر مرتسم کو دیکھنے کے بعد وہاج کو دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ پلیز بیٹھیں آپ بھابھی۔۔۔
وہاج کے مرتسم کو سخت نگاہوں سے گھور کر کہنے پر ناچار فاہا کو وہیں بیٹھنا پڑا۔۔۔
مرتسم کے دماغ میں کچھ کھٹکا۔۔۔۔
آپکو پتہ ہے بھابھی مرتسم کے پاوں پر موچ نہیں آئی۔۔۔
منہ بند کرو اپنا وہاج۔۔۔ اور تم جاو یہاں سے فاہا۔۔۔ وہاج کے سنجیدگی سے کہنے پر مرتسم ڈھارا۔۔۔
فاہا حق دق سی دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
مطلب۔۔ وہ الجھی۔۔۔
تمہیں سنائی نہیں دے رہا کے جاو یہاں سے۔۔۔ مرتسم اسقدر سختی سے گویا ہوا کے فاہا بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھتی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔
بھابھی اسے گولی لگی ہے۔۔۔ اسے دروازے کی جانب بڑھتا دیکھا وہاج اونچی آواز میں گویا ہوا۔۔۔
فاہا کے قدموں کو یکدم ہی بریک لگی۔۔۔ وہ بے یقینی سے جھٹکے سے پلٹی۔۔۔
آنکھوں میں تحیر ہی تحیر تھا۔۔۔
بکواس کر رہا ہے یہ۔۔۔۔ مرتسم ماتھا مسلتا چٹخا۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں میں بھابھی۔۔۔۔ آپکو بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کے کل مہندی ہے اور میں یہاں مرتسم کے پاس رک نہیں سکتا۔۔۔
خود یہ بہت لاپرواہی کر رہا ہے۔۔۔ اس لئے آپ اسکا خیال رکھیں۔۔۔
مجھے کچھ کام ہے۔۔۔ میں جا رہا ہوں۔۔۔ اس لئے یہ گرم دودھ کا گلاس یاد سے اسے پلا دینا۔۔۔
وہاج ایک ہی سانس میں ساری باتیں اسکے گوش گزارتا اسے حق دق چھوڑ کر بنا مرتسم کی جانب دیکھے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جبکہ فاہا ہنوز شاک کی سی کیفیت میں مرتسم کو دیکھ رہی تھی۔۔ دل ہر لمحہ گہرے پاتال میں ڈوبتا جا رہا تھا۔۔۔ جبکہ مرتسم سر تھامے گم صم سا بیٹھا تھا۔۔۔
اسے وہاج سے اس کمینگی کی توقع نا تھی۔۔۔
فاہا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکے پاس آ کر بیٹھی۔۔۔
کہاں گولی لگی ہے آپکے اور کیسے۔۔ فاہا کی آواز بھرا گئ۔۔۔
مرتسم نے تھکا تھکا سا چہرا اٹھا کر اسے دیکھا جبکہ اسکی آنکھوں میں تیرتی نمی دیکھ وہ بے بسی سے آنکھیں میچ گیا۔۔۔
میں ٹھیک ہوں فاہا۔۔۔ وہ تھکی تھکی سی سانس خارج کرتا بیڈ کراون سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
مگر فاہا کی شاید تشفی نا ہوئی تھی تبھی اس پر اوڑھا لحاف ہٹا کر خود سے دیکھنے لگی۔۔۔
مرتسم نے اسکی مشکل آسان کرتے خود سے لحاف اتار کر کھلے سے ٹراوزر کا پائنچہ اونچا کیا۔۔۔
فکر کی بات نہیں۔۔۔ گولی صرف چھو کر گزری ہے۔۔۔ واپس خود پر لحاف درست کرتے اسنے گویا تسلی دینی چاہی۔۔۔
فاہا نے بھرائی شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
گولی لگی کیسے۔۔۔
کچھ خاص نہیں۔۔۔ زبیر لغاری سے مد بھیڑ ہوگئ تھی۔۔۔ وہ جیسے مزید کچھ چھپانے کے موڈ میں نا تھا۔۔۔
خدا غارت کرے اسے۔۔ ہاتھ دھو کر ہی پیچھے پڑ گیا ہے۔۔۔ بے ساختہ اسکے آنسو بہہ نکلے۔۔۔۔
اففف۔۔۔ فاہا رونا بند کرو پلیز۔۔۔ مرتسم جیسے بے بس ہوا۔۔۔ غزال سی موٹی موٹی آنکھوں میں چمکتے آنسو اسے بے بس کر رہے تھے۔۔۔
ٹھیک ہے آپ دودھ پیئں۔۔۔ اسنے مومی ہاتھوں سے آنسو صاف کرتے دودھ کا گلاس مرتسم کے سامنے کیا۔۔۔
اسے دودھ پلانے کے بعد اس پر لحاف درست کر کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
لیکن مرتسم کی حیرت کی انتہا اس وقت نا رہی جب وہ کمرے سے جانے کی بجائے وہیں صوفے پر بیٹھ گی۔۔
مرتسم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
تم جا نہیں رہی۔۔۔
نہیں میں نہیں جا رہی ۔۔۔ اگر رات میں آپکو کسی چیز کی ضرورت پر گئ تو۔۔۔
مائے گاڈ فاہا۔۔۔ مرتسم سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
For God sake...
اتنا اپاہج نہیں ہوا میں ابھی۔۔۔
اللہ نا کرے مرتسم۔۔ کیوں فضول بول رہے ہیں۔۔
مرتسم کے جھنجھلا کر کہنے ہر وہ تڑپ اٹھی۔۔۔
چل پھر سکتا ہوں فاہا۔۔۔ کسی چیز کی ضرورت پڑی تو خود سے مینج کر لوں گا۔۔۔ تمہاری ضرورت نہیں۔۔۔
یار شادی والا گھر ہے۔۔۔ مہمان آنا شروع ہو گئے ہیں۔۔ ایسے میں اگر کوئی تمہیں صبح میرے کمرے سے نکلتے دیکھے گا تو کیا سوچے گا۔۔۔
مرتسم نے جھجھلاتے ہوئے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
مگر وہ تو شاید کچھ سمجھنے کے موڈ میں ہی نا تھی۔۔ تبھی سنجیدگی سے لب بھینچے یک ٹک اسے دیکھے گئ۔۔۔ مرتسم کو اسکے دیکھنے سے کوفت ہونے لگی۔۔۔
جب وہ بولی تو اسے چپ کروا گئ۔۔۔
اپنے شوہر کے کمرے میں ہوں نا۔۔۔ تو کسی کو کیا اعتراض۔۔۔ اور اگر کوئی کچھ کہے گا بھی تو آپ ہیں نا سمبھالنے کے لئے۔۔۔۔ پھر کیسی فکر۔۔۔ لیکن میں آپکو یوں اس بیمار حالت میں چھوڑ کر ہرگز نہیں جاوں گی۔۔ پھر چاہے آپ کچھ بھی کہیں۔۔۔
وہ سنجیدہ تھی۔۔ اور مرتسم نے اسے یوں اس طرح زندگی میں پہلی مرتبہ سنجیدہ دیکھا تھا۔۔۔ وہ اس کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھی۔۔۔ اپنے فیصلے سے ایک انچ تک نا ہٹنے والی۔۔۔
مرتسم نے غور سے اسے دیکھا۔۔۔
فاہا۔۔۔۔ جاو اپنے کمرے میں۔۔۔ اب کے وہ بھی سنجیدگی و سختی سے گویا ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔ جارہی ہوں۔۔۔ وہ ایک جھٹکے میں اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ مرتسم سے اسکی اتنی فرما برداری ہضم نا ہوئی۔۔۔
لیکن اسکی خوش فہمی جلد ہی ہوا ہو گئ۔۔
اور میں یہاں سے سیدھی تائی جان کے پاس جاوں گی اور انہیں اور تایا جان کو جا کر آپکی ساری کنڈیشن بتاوں گی۔۔۔ پھر آپکو گولی لگنے کا سن کر تائی جان خود ہی آپکے پاس رک جائیں گی۔۔۔ اور پھر میری فکر ہی ختم۔۔۔ وہ غصے سے کہتی پلٹ کر دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔
مرتسم اسکی ہمت دیکھ بونچکا رہ گیا۔۔۔
رک جاو فاہا۔۔۔ وہ دانت پیس کر بعجلت گویا ہوا۔۔۔
فاہا نے احسان کرنے والے انداز میں زرا کی زرا رک کر نروٹھے پن سے گردن ترچھی کئے اسے دیکھا۔۔۔
بیٹھ جاو وہاں۔۔۔ وہ غصے سے صوفے کی جانب اشارہ کرتا خود اسکی جانب سے چہرا موڑ گیا۔۔۔ یہ واضح اسکی ناراضگی کی نشاندہی تھی۔۔۔
اچھی مصیبت گلے پڑی ہے۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑا کر رہ گیا۔۔ فاہا اسکی بڑبڑاہٹ باخوبی سن چکی تھی۔۔۔تبھی ایک مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر ڈور گئ۔۔۔
لائٹ بند کر دو۔۔۔ مرتسم نے آنکھوں پر ہاتھ رکھتے کھنچے کھنچے انداز میں کہا تو وہ سرعت سے اٹھتی لائٹ بند کر کے زیرو پاور کی لائٹ جلا گئ۔۔۔
فاہا کا اسکے کمرے میں رات رکنے کا فیصلہ کتنا درست تھا اسکا احساس مرتسم کو اگلے ہی چند گھنٹوپں میں باخوبی ہوگیا۔۔۔۔
*******

No comments