Header Ads

Roshan Sitara novel 83rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  83rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

83rd epi....
علایہ کی شادی میں دن بہت کم تھے اور  کام بہت زیادہ۔۔۔ ماں تو بوکھلا کر رہ گئ تھیں۔۔۔ کچھ وقت کے لئے پریہا اور مرتسم کی منگنی کی باتیں اور فنگشن گویا زرا پیچھے رہ گیا تھا۔۔۔
ماں نے مرتسم اور بابا کے ساتھ ساتھ فاہا کی بھی دوڑیں لگوا رکھی تھیں۔۔۔
باہر کے کام بابا اور مرتسم کے ذمہ تھے جبکہ گھر کے اندرونی کام کاج کے لئے فاہا ماں کے ساتھ پیش پیش تھی۔۔۔
علایہ تو گویا کمرے کی ہی ہو کر رہ گئ تھی۔۔۔  احساس ندامت اور پشیمانی حد سے سوا تھی۔۔۔
اسکا جان سے پیارا بھائی اس سے حد درجہ ناراض تھا۔۔  اور جسکے سنگ رخصت ہو کر جا رہی تھی اس سے نظریں ملانا تو دور اسکے سامنے سر تک اٹھا پانے کی ہمت وہ خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔ وہ اندر ہی اندر گیلی لکڑی کی مانند سلگ رہی تھی۔۔۔ ایسے میں اسکے پاس ایک ہی حل تھا اور وہ تھا حالات سے فرار ۔۔۔ وہ بس سب کی نظروں سے چھپ جانا چاہتی تھی۔۔۔ کہیں غائب ہو جانا چاہتی تھی۔۔۔
رہتی کسر خرابی طبیعت نے پوری کر دی  ۔۔ وہ بالکل بھی کمرے سے باہر نا نکلتی۔۔۔
ابھی ابھی فاہا تائی جان کیساتھ انکی ساری شاپنگ سیٹ کروا کر ان سے آگے کا لائحہ عمل لے کر کمرے سے نکلی تھی جب جینز پر ٹی شرٹ زیب تن کئے رف سے حلیے میں تیزی سے سیڑھیاں اترتے مرتسم نے اسے آواز دے کر روکا۔۔۔
جی۔۔۔۔ وہ آگے بڑھتے بڑھتے رکی۔۔۔
وہہہہ۔۔۔ تم ایک کام کرو۔۔۔ جلدی سے علایہ کو لے کر باہر آ جاو۔۔۔ وہ ہاتھ سے ماتھا دابتا کچھ سوچ کر گویا ہوا۔۔۔ جیسے عجلت میں کہیں جاتا جاتا یاد آنے پر رکا ہو۔۔۔ تم دونوں  کو  شادی کے حوالے سے جو بھی شاپنگ کرنی یے ابھی کرلو۔۔۔ علایہ بھی اپنا برائیڈل ڈریس لے لے۔۔  ابھی میں مارکیٹ ہی جا رہا ہوں۔۔۔  تو میرے ساتھ ہی چلو۔۔۔ بعد میں تم لوگوں کا باہر جانا شاید مشکل ہو جائے۔۔۔  وہ الجھا الجھا سا تھا۔۔۔  جیسے ایک ساتھ بہت سے کام سر پر آن پڑے ہوں۔۔۔ فاہا سر ہاں میں ہلاتی علایہ کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اور علایہ کار پورچ میں آتی دکھائی دیں۔۔۔ مرتسم گاڑی میں پہلے ہی ڈرائیونگ سیٹ سمبھالے بیٹھا فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔۔۔ انہیں باہر آتا دیکھ فون بند کرتا جیب میں ڈال گیا۔۔۔
ایک پل کو وہ علایہ کو دیکھ ٹھٹھکا۔۔۔ بخار کی شدت سے تپتا چہرا جھکی آنکھیں اور پزمردہ انداز۔۔۔ وہ شال سر پر اوڑھے فاہا کے سنگ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آ رہی تھی۔۔۔ اسے اس حالت میں دیکھ مرتسم کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک ہے علایہ۔۔۔ نہیں تو پہلے ڈاکٹر کے پاس چلیں۔۔۔
وہ دونوں گاڑی کی بیک سیٹ پر بیٹھیں تو مرتسم گاڑی سٹارٹ کرتا بیک ویومر سے اسے دیکھتا پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔لاڈلی بہن کی طبیعتِ خرابی نے اسکی ذات کے گرد چڑھا خول چٹخایا تھا۔۔ گویا لہجہ ابھی بھی لیا دیا سا ہی تھا۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ دوائی کھائی تھی میں نے۔۔۔ وہ بنا مرتسم کی جانب دیکھے جھکے سر سمیت گویا ہوئی تو مرتسم لب بھینچے گاڑی سٹارٹ کر گیا۔۔۔
وہ تو شاپنگ کے لئے بھی نہیں جانا چاہتی تھی بس فاہا کے پرزور اثرار پر ناچاہتے ہوئے بھی بجھے دل سے چل دی تھی۔۔۔
******
تم لوگ شاپنگ کرو میں یہیں ہوں۔۔۔ وہ علایہ اور فاہا کو لیڈیر ڈریس شاپ میں چھوڑ کر خود شاپ سے باہر نکلتا چوکس انداز میں ہر چیز کا معائنہ کر رہا تھا۔۔۔ دفعتاً اسکا موبائل رنگ ہوا تو اسنے جیب سے موبائل نکال کر دیکھا۔۔۔ فون وہاج کا تھا۔۔ وہ بنا تاخیر کے فون اٹھا گیا۔۔جس مال میں تم اس وقت موجود ہو زبیر لغاری کی لوکیش وہیں آس پاس کی ہے۔۔۔ زرا الڑٹ رہنا میں بھی بس پہنچ رہا ہوں۔۔۔ وہاج کی جانب سے ملنے والی خبر نے مرتسم کا خون کھولا دیا۔۔۔ اندر جیسے اشتعال سے بھانبھر سے جلنے لگے تھے۔۔۔ اتنا سب کرنے کے بعد بھی اگر زبیر لغاری کسی اور موقع کی تلاش میں تھا تو اب تو اسے اسکی موت ہی یہاں تک کھینچ  لائی تھی۔۔۔ اسنے بھینچے جبڑوں سمیت سرعت سے فون پر ایک نمبر ڈائل کیا۔۔۔
ہیلو وجی۔۔۔ لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں۔۔۔ فوراً یہاں پہنچو۔۔۔ اور ارد گرد کہیں پر بھی زبیر لغاری دکھائی دے تو اسے فوراً سے پہلے فارم ہاوس پر پہنچاو پھر دیکھتے ہیں کے اسکا کیا کرنا ہے۔۔۔ وہ غصے سے کھولتا  گویا ہوا۔۔۔
جب دور سے ہی اسے وہاج بعجلت اسی طرف آتا دکھائی دیا۔۔۔
سب خیریت ہے نا۔۔۔ اسکے لہجے میں فکر مندی ہی فکر مندی تھی۔۔۔ بھابھی اور علایہ کہاں ہیں۔۔۔ 
مرتسم نے ہاتھ سے شاپ کے اندر اشارہ کیا ۔۔۔
تم ان دونوں کو بحفاظت گھر ڈراپ کر دو گئے نا۔۔۔
مرتسم  کا لہجہ خطرناک حد تک سنجیدگی لئے ہوئے تھا۔۔۔۔
اسکا انداز دیکھ وہاج ٹھٹھکا۔۔۔
تم کدھر جا رہے ہو۔۔۔
کام ہے کچھ۔۔۔ تم یہاں سمبھال لینا۔۔۔ مرتسم بامشکل خود کو کمپوز کئے کھڑا تھا۔۔۔ اندر کا آتش فشاں کسی بھی پل پھٹنے کو تیار تھا۔۔۔
مرتسم جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا وقت ہے۔۔۔ تحمل سے کام لو۔۔۔ وہاج نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے تحمل سے سمجھانا چاہا کیونکہ اسے مرتسم سے کسی خطرے کی بو آ رہی تھی۔۔۔
جب پانی سر سے گزر جائے تو کام تحمل سے نہیں لئے جاتے وہاج۔۔۔۔۔ پھر آڑ یا پاڑ کے فیصلے ہوتے ہیں۔۔۔ مرتسم کی آنکھوں میں لہو اتر رہا تھا۔۔۔
ارادہ کیا ہے۔۔۔ وہاج نے گہری سانس لیتے اسکے سینے سے ہاتھ ہٹایا۔۔۔
لگ جائے گا پتہ تمہیں۔۔۔
مرتسم کچھ ایسا مت کرنا یار جسکی وجہ سے۔۔۔
فکر مت کرو وہاج۔۔۔ تم بس ان دونوں کو گھر ڈراپ کر دینا باقی مجھ پر چھؤر دو۔۔۔ وہ دوست کی فکر مندی پر اداسی سے مسکراتا بے ساختہ اسے ٹوک گیا۔۔۔ جبکہ وہاج لب بھینچے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
چلو پھر میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔۔۔ تمہیں یوں اکیلے نہیں جانے دے سکتا۔۔۔ وہ مرتسم کے انداز دیکھ اسے کسی صورت تنہا چھوڑنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔
ابھی نہیں وہاج۔۔۔ ہم فاہا اور علایہ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔۔۔ ان دونوں کو پہلے گھر ڈراپ کر دینا پھر تمہیں لوکیشن سینڈ کروں گا وہیں آ جانا مرتسم  کے کہنے پر وہاج سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔
*******
فاہا اور علایہ نے کافی شاپنگ کر لی تھی۔۔۔ اب محض برائیڈل ڈریس ہی رہتا تھا۔۔۔  فاہا کی بھرپور کوشیش کے بعد علایہ کچھ فریش ہوتی اپنی پسند سے شاپنگ کرنے لگی تھی ۔۔۔
فاہا یہاں تو سبھی برائیڈل ڈریسز ایک سے بڑھ کر ایک ہیں سمجھ نہیں آ رہا کونسا ڈن کریں۔۔۔ علایہ ہلکا سا مسکرائی گویا شاپنگ نے اس پر اچھے اثرات مرتب کئے تھے۔۔۔ جب نظر شاپ کے گلاس ڈور سے اندر داخل ہوتے وہاج پر پڑی تو بے ساختہ اسکے مسکراتے ہونٹ سمٹے اور وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں رخ پلٹ گئ۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ یہ ٹکراو غیر متوقع تھا۔۔۔ وہ اس سامنے کے لئے ذہنی طور پر ہرگز تیار نا تھی۔۔۔وہ ان فوٹو گرافس کے بعد خود میں وہاج سے سامنے کی ہمت مفقود پاتی تھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ وہاج نے انکے قریب آتے سلام کیا تو فاہا چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ پھر مسکرا دی۔۔۔
آپ یہاں کیسے وہاج بھائی۔۔۔ انداز شرارتی سا تھا۔۔۔ وہاج نے مسکراتی نگاہوں سے فاہا کو دیکھتے ایک اچٹتی نگاہ علایہ پر ڈالی جو ہر چیز سے بے نیاز بنی رخ موڑے کھڑی تھی۔۔۔
وہ یہاں سے گزر رہا تھا تو۔۔۔
یہ بہانہ پرانا ہو گیا بھائی۔۔۔ کوئی نیا ٹرائی کریں۔۔۔ فاہا نے اسکی بات کاٹتے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔ نا چاہنے کے باوجود بھی وہاج مسکرا دیا۔۔۔
آپ سیدھے سیدھے یہ بھی کہہ سکتے تھے کے  دیدار یار کو آیا ہوں۔۔۔ وہ مسکراہٹ دابتی شریر ہوئی۔۔ جبکہ علایہ فاہا کی شرارت سمجھتی نامحسوس انداز میں ان سے چند قدم آگے بڑھ گئ۔۔۔
وہاج کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔ کہہ سکتی ہیں آپ میرے سالے صاحب نے خود ہی اس ملاقات کا انتظآم کروا دیا کے میں کچھ مصروف ہوں تو اپنی مسز کے ساتھ ساتھ وہ زرا فاہا کی جانب جھکا۔۔۔ میری مسز کو بھی آواز نامحسوس انداز میں سرگوشی کی مانند ہو گئ۔۔  گھر ڈراپ کر دینا۔۔  سیدھا ہوتے آواز دوبارہ سے بلند کی۔۔۔ تو ایسے میں کفران نعمت کا مرتکب کون ہوتا بھلا۔۔۔ وہاج کا انداز بھی شرارتی تھا۔۔۔ جبکہ فاہا نے سرعت سے خود کو کمپوز کرتے ایک چور نگاہ علایہ کی جانب ڈالی۔۔۔
ویسے لگتے ہاتھ آپ بھی برائیڈل ڈریس لے ہی لیں۔۔۔ ساتھ ہی آپکی رخصتی بھی کروا کر کام ہی ختم کریں گے۔۔ مرتسم کی بھی سنی جائے گی۔۔۔ وہ اب بھی زرا سا اسکی جانب جھکا سرگوشانہ بول رہا تھا ۔۔ جبکہ خفت سے فاہا کے گال دہکنے لگے۔۔۔۔۔ایسا ہے وہاج بھائی کے۔۔۔ وہ خود کو کمپوز کرتی سینے ہر ہاتھ باندھ کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ کے آپ میری فکر چھوڑیں۔۔۔ کیونکہ میری فکر کرنے کو میرے شوہر ہیں نا۔۔ اور اپنا بڑائیڈل ڈریس بھی میں انکی پسند سے لے لوں گی۔۔۔ وہ دانت پیستی اپنا بدلہ لے رہی تھی جبکہ وہاج مسلسل سر نفی میں ہلاتا مسکرا رہا تھا ۔۔ فلحال آپ اپنی مسز کی ہیلپ کریں برائیڈل ڈریس منتخب کرنے میں ۔  وہ خاصی کنفیوز ہے۔۔۔ پہلی بات آہستہ جبکہ آخری بات اسنے اونچی آواز میں کہی تھی کے اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی علایہ بھی اسکے نادر مشورے سے مستفید ہوتی دانت پیس کر رہ گئ۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا ڈسپلے پر لگے برائیڈل ڈریس دیکھتے علایہ کی جانب بڑھا۔۔۔۔جی مسز۔۔۔ آیا کوئی پسند ڈریس.   ۔۔ وہاج کے یوں براہ راست پوچھنے پر اسکی ہتھیلیاں بھیگنے لگی جبکہ زبان تالو سے چپک کر رہ گئ۔۔۔۔
وہ قدم قدم چلتا اسکے عین مقابل پہنچ گیا جبکہ وہ دونوں مٹھیوں میں قمیض کا دامن دبوچے جھکے سر سمیت کوئی راہ فرار دھونڈ رہی تھی۔۔۔
وہاج نے اسکا یہ شکستہ انداز شدت سے نوٹ کیا۔۔۔۔
اررررےےےےےے۔۔۔ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بھئ شرم و حیا والی بچی یے ابھی سے آپکے ساتھ فرینک کیسے ہو جائے۔۔۔ یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔۔۔
فاہا اسکی حالت دیکھ  سرعت سے اسکی جانب بڑھی اور اسے شانے سے تھام کر اپنے پیچھے کر لیا۔۔۔
علایہ کا دل چاہا ڈھارے مار مار کر رو دے۔۔۔ اگر جو وہ شخص بول دیتا کہ اتنی شرم و حیا والی لڑکی کی اسقدر نازیبا تصویریں کسی بھی پل وائرل ہو سکتی ہیں یا شرم و حیا والی لڑکیاں رات کو کلبوں سے نازیبا حالت میں نہیں پائی جاتیں تو وہ کیا کرتی۔۔۔
دل کو گویا پتنگے سے لگ گئے تھے۔۔۔ وہ بے چینی سے وہاج کے جواب کی منتظر تھی۔۔۔
تو میں کب اسے فرینک ہونے کو بول رہا ہوں۔۔۔ میں تو اس سے محض برائیڈل ڈریس لینے کے لئے اسکی چوائس پوچھ رہا ہوں تاکے کل کو مجھ بچارے پر بلیم نا آئے  کے میں نے اپنی مرضی کا برائیڈل ڈریس لیتے اسکی چوائس تک نا پوچھی۔۔۔ وہ شانے اچکا کر ہلکے پھلکے انداز میں کہتا آگے بڑھ گیا۔۔
جبکہ علایہ سے اس سے زیادہ برداشت کرنا محال تھا۔۔۔ وہ وہیں کھڑی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ دل اس خوبصورت شخص کا مزید قائل ہوا تھا۔۔۔  وہ عزتوں کا محافظ تھا اور عزت دینا اور مان رکھنا جانتا تھا۔۔۔
آگے بڑھتا وہ علایہ کے سسکنے کی آواز سن ٹھٹھک کر رکا اور ایڑیوں کے بل گھوما۔۔۔
اور بوکھلا تو فاہا بھی گئ تھی اسے یوں حال سے بے حال  ہوتے دیکھ۔۔۔
علایہ کیا ہوا۔۔۔ کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔ ہے تو مجھ سے شیئر کرو پلیز۔۔۔ مگر  یوں روو تو مت۔۔۔ وہاج اسکے قریب آتا نرمی سے گویا ہوا۔۔۔ آواز میں تحیر اور پریشانی تھی۔۔۔
کیا ہوا علایہ طبیعت ٹھیک ہے نا۔۔۔ حق دق سی فاہا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے سائیڈ پر لگے مخملی صوفوں پر بیٹھایا۔۔۔علایہ کو اسکا بہانہ کچھ معقول لگا۔۔۔ 
ہاں سر میں بہت درد ہو رہا ہے مجھے گھر جانا ہے۔۔۔ وہ ہچکیوں پر قابو پاتی کپکپاتے ہاتھوں سے سر دابتی بامشکل گویا ہوئی۔۔ فاہا نے سرعت سے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔
دو منٹ ویٹ کرو میں پیمنٹ کر کے آتا ہوں پھر چلتے ہیں۔۔۔ وہاج لب چباتا علایہ کو جانچتی نگاہوں سے دیکھتا کاونٹر کی جانب بڑھا جب اسکی نگاہ کاونٹر کے عین پیچھے موجود ڈمی پر پڑی جہاں ایک بہت ہی دیدہ زیب ریڈ کلر کا برائیڈال ڈریس ڈسپلے تھا۔۔۔
یہ بھی پیک کر دیں۔۔۔ اسنے سیل گرل سے کہتے پیمنٹ کرنے کے لئے کارڈ جیب سے نکالا۔۔۔۔۔
عین اسی وقت اسکے موبائل کی بپ بجی اسنے مصروف سے انداز میں موبائل جیب سے نکالا۔۔۔
میسج وجی کا تھا۔۔۔
وہاج سر جتنی جلدی ہو سکے اس لوکیشن پر پہنچیں۔۔ میسج پڑھتے ہی اسکے چہرے پر سوچ اور فکر کی پرچھائیاں نمایاں ہوئیں۔۔۔
یااللہ خیر۔۔۔ اس جذباتی بندے نے  جذباتیت میں کوئی کام خراب نا کر دیا ہو۔۔۔
وہ بعجلت پیمنٹ کر کے شاپنگ بیگ پکڑتا ان دونوں کی جانب بڑھا۔۔۔
دل چاہا کے اڑ کر مرتسم کے پاس پہنچ جائے مگر پہلے ان دونوں کو بھی بخیرو عافیت گھر پہنچانا ضروری تھا۔۔۔۔ اس معاملے میں بھی وہ رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔
چلیں۔۔۔ انکے قریب آ کر شاپنگ بیگ فاہا کی جانب بڑھاتا وہ مخاطب ہوا۔۔۔
اس میں برائیڈل ڈریس ہے۔۔ اب پلیز جلدی کریں مجھے ارجنٹلی کہیں جانا ہے۔۔۔ اسکے ہر ہر انداز میں عجلت تھی۔۔۔ وہ خاصا بے چین دکھائی دیتا تھا۔۔۔
وہ گاڑی ہواوں میں اڑاتا ان دونوں کو گھر ڈراپ کر کے مطلوبہ لوکیشن کی جانب بڑھا۔۔۔
******
مرتسم بعجلت مال سے باہر نکل رہا تھا جب اسے وجی کی کال موصول ہوئی۔۔۔
ہاں وجی بولو۔۔۔ اسنے کال پک کر کے فون کان سے لگایا انداز میں عجلت تھی۔۔۔
سر زبیر لغاری کی گاڑی اسی مال کے باہر ہے۔۔۔ اور صرف وہی نہیں بلکہ اسکے دوست بھی اپنی اپنی گاڑیوں میں وہیں ہیں۔۔۔ مرتسم نے طیش سے جبڑے بھینچتے مٹھیاں بھینچیں۔۔۔۔
ٹھیک یے ان پر نظر رکھو آ رہا ہوں میں۔۔۔
اسنے فون بند کرتے اتنی ہی تیزی سے اگلا نمبر ڈائل کیا۔۔۔
تمہاری ضرورت ہے اس وقت یار۔۔۔ تمہاری یہاں پوسٹنگ کا ہمیں بھی تو کچھ فائدہ ہونا چاہیے نا۔۔۔ نیا ایس ایچ او  اسکا دوست تھا ۔۔۔۔
نہیں تمہیں زیادہ کچھ نہیں کرنا۔۔۔ سب ہم تمہیں کر کے دیں گے۔۔۔ تم نے بس مجرم کو پکڑنے کے بعد تھانے پہنچنے سے پہلے پہلے اس پر پرچہ کاٹنا ہے۔۔۔ ورنہ اسکا باپ بہت پہنچی ہوئی شے ہے۔۔۔ اس پر پرچہ کاٹنے سے پہلے ہی اسے لے اڑے گا۔۔۔ اور اس بار میں اسکی فرار کی سبھی راہیں بند کر دینا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ غصے سے پھنکارتا پارکنگ کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔
رابطہ منقطع ہونے پر وہ پارکنگ سے گاڑی نکالتا زن سے بھگا لے گیا۔۔۔
سر شاید ان لوگوں کو آپکے یہاں سے نکلنے کی خبر ہو گئ ہے۔۔۔ زبیر لغاری یہاں سے جا رہا ہے میں اسکے پیچھے ہی ہوں۔۔ دفعتاً وجی کی فون کال نے اسے اگلی صورتحال سے آگاہ کیا۔۔۔
مرتسم نے زور سے مٹھی سٹرینگ پر ماری۔۔۔
اسکا پیچھا کرو اور اپنی لوکیشن مجھے سینڈ کرو۔۔۔ مرتسم تیزی سے دماغ چلا رہا تھا۔۔ آج یہ معاملہ آڑ یا پاڑ ہونا ناگزیر ہو گیا تھا۔۔۔۔
لوکیشن ملتے ہی مرتسم نے گاڑی ہواوں میں اڑا دی۔۔۔
جلد ہی اسے وجی کی گاڑی نظر آئی اور اس سے کچھ آگے زبیر لغاری کی۔۔۔ غصے سے اسکی دماغ کی نسیں تک ابھرنے لگیں۔۔۔۔
وہ سپیڈ مزید بڑھاتے چند ہی لمحوں میں وجی کی گاڑی کو اوور ٹیک کر گیا۔۔۔
اسکی گاڑی کے سپیڈ سے زبیر لغاری کا پیچھا کرنے پر زبیر لغاری بھی سپیڈ بڑھا گیا۔۔۔ لمحوں میں وہ لوگ بہت آگے نکل آئے۔۔۔
مگر یہ مرتسم لودھی کی غلط فہمی تھی کے وہ اسکا پیچھا کر رہا ہے۔۔۔ وہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جسکا احساس اسے جلد ہی تب ہوا جب دیکھتے ہی دیکھتے زبیر لغاری کے دوستوں نے اسکی گاڑی کو چاروں جانب سے گھیر لیا۔۔۔صورتحال دیکھ ایک لمحے کو مرتسم ٹھٹھکا۔۔۔
تو یہ سب پری پلین تھا۔۔۔ دشمن اسکی سوچ سے زیادہ تیز اور اس سے دو قدم آگے نکلا تھا۔۔۔  
مطلب کے اس بار وہ بھرپور تیاری کیساتھ میدان میں کودا تھا۔۔۔
لیکن ہار ماننا تو مرتسم نے بھی نا سیکھا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کے مرتسم انکی گاڑیوں کو اوور ٹیک کرتا زبیر لغاری کی گاڑی کے سامنے اپنے گاڑی لگا کر اسے گاڑی سے گھسیٹتے ہوئے نکالتا پیچھے سے اسکے دوست کی گاڑی نے مرتسم کی گاڑی کو زوردار انداز میں ہٹ لگائی یوں کے گاڑی مرتسم کے ہاتھوں نا سمبھلتی روڈ کنارے لگی جھاڑیوں اور درختوں کی جانب بڑھی۔۔۔
عین اسی وقت اسکی گاڑی پر فائزنگ بھی شروع ہو گئ۔۔۔ اس بار غالباً دشمن زور آوار تھا۔۔۔
اور یی وہی لمحہ تھا جب دور سے سارے معاملات دیکھ وجی نے وہاج کو میسج کیا۔۔۔۔
******


No comments

Powered by Blogger.
4