Roshan Sitara novel 82nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 82nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
82nd epi..
وہاج اور مرتسم کافی وقت تک بیٹھے آگے کی پلانینگ کرتے رہے۔۔۔ ہر ہر چیز پر نظر ثانی اور حکمت عملی کیساتھ ساتھ اختیاطی تدابیر۔۔۔ کچھ وقت کے بعد وہاج چلا گیا تو مرتسم نے بابا کا نمبر ملا لیا۔۔۔ ان سے انکی واپسی کا کنفرم کر کے وہ کمرے سے نکل آیا۔۔۔
ملازمہ سے فاہا کے بارے میں پوچھا اور اسکے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ وہ مزے سے صوفے پر بیٹھی سامنے میز پر جیولری کا ڈھیر لگائے اسے الگ الگ کر رہی تھی۔۔۔ مرتسم کی آمد پر اسنے جیولری سے سر اٹھاتے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔ مرتسم بیڈ کی پائنتی کی جانب اسکے بالکل سامنے آ بیٹھا۔۔۔
آپکی نا ہونے والی انگیجمنٹ کی تیاری۔۔۔ اسکے برجستہ کہنے پر اتنی گھمبیر صورتحال میں بھی مرتسم مسکرا دیا۔۔
تم سے بات کرنے آیا تھا۔۔۔ وہ سنجیدہ ہوا۔۔۔
جی بالکل۔۔۔ ظاہر سی بات ہے مرتسم جتنا آپکا وقت آج کل قیمتی ہے مجھے آئسکریم کی آفر کروانے تو آپ آ نہیں سکتے۔۔۔ وہ مسکرا کر غیر سنجیدگی سے کہتی جیولری واپس باکس میں ڈالنے لگی۔۔۔
آج کل کیا مصروفیت ہیں تمہاری۔۔۔ اسکے غیر سنجیدہ انداز دیکھ وہ کچھ ڈھیلا پڑا۔۔۔
خیریت مرتسم صاحب۔۔۔ آپکی یہ تفتیش مجھے خوشگمانیوں میں مبتلا کر رہی ہے۔۔۔ کیا آپ مجھے کہیں گھمانے لیجانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔ وہ مسکراہٹ دابتے شوخ ہوئی جیولری باکس میں جیولری ڈالتے ہاتھ تھمے۔۔۔
مرتسم بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔ تمہاری ٹیون کچھ زیادہ ہی نہیں بگڑنے لگی۔۔۔ وہ اسکے بدلے بدلے انداز دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
آپ ہی کی صحبت کا نتیجہ تھا۔۔۔ وہ شانے اچکاتی جیولری باکس اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
فاہا۔۔۔ وہ گہری سانس خارج کرتا بالوں پر ہاتھ پھیر گیا۔۔۔ سنجیدہ ہو جاو یار۔۔۔ بات کرنی ہے مجھے۔۔۔
ہوگئ سنجیدہ۔۔۔ دماغ اتنا الجھا ہوا تھا آپکو دیکھ کر مذاق سوجھ گیا۔۔۔ وہ جیولری باکس ڈریسنگ پر رکھ کر واپس پلٹ آئی۔۔۔
آپکو پتہ ہے کل آپکے ساتھ واپسی پر پریہا مجھ سے پہلے ہی یہاں موجود تھی۔۔۔ اچھا خاصا سین کریٹ ہو گیا کل لاوئنج میں۔۔۔ تائی جان نے دوبارہ اس بارے میں بات تو نہیں کی ۔۔۔ لیکن میں خود بہت ڈسٹرب تھی۔۔۔ وہ انگلی کی پوروں سے آنکھیں کے کنارے دابتی ڈھیلے سے انداز میں صوفے پر بیٹھی۔۔۔
اسی لئے اتنے مزے سے مینا بازار لپگا کر بیٹھی تھی۔۔ اسکا اشارہ اسکے سامنے لگے جیولری کے ڈھیر کی جانب تھا۔۔۔
نہیں کافی دنوں سے یہ کام پینڈنگ پڑا تھا۔۔۔ اب یونیورسٹی سے پیپرز کے بعد فری تھی تو سوچا اسے ہی سیٹ کر لیا جائے۔۔۔ وہ مسکرا دی۔۔
گڈ۔۔۔ کب تک آف ہے تمہاری یونیورسٹی۔۔۔
اگلے ہفتے تک۔۔۔۔
اوکے۔۔۔ اب میری بات غور سے سنو۔۔۔
جب تک میں نا کہوں تم یا علایہ کسی ضروری کام کے سے بھی گھر سے نہیں نکلو گے زبیر لغاری کچھ بہت برا پلان کر رہا ہے اس لئے تم دونوں کو ہی بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور یہ بات میں تمہیں کلئیرلی اس لئے بتا رہا ہوں کیونکہ پچھلی دفعہ والی کوئی غلطی دوبارہ سے نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ وہ یکدم ہی خطرناک حد تک سنجیدہ ہو گیا تھا ۔۔۔ اسکے انداز اور بات سن کر فاہا کی رنگت فق ہونے لگی۔۔۔ ساری شوخی کہیں غائب ہو گئ۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے مرتسم۔۔۔
وہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔ یکدم ہی مرتسم کو اس میں بہت پہلے والی کم ہمت اور جلد ڈر جانے والی فاہا کی جھکک نظر آئی۔۔۔۔
نہیں تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں بس اختیاط کرنی ہے۔۔ کہیں بہت ضروری باہر آنا جانا ہو تو مجھے بتا کر میرے ساتھ ہی جانا۔۔ اور اگر کچھ بھی اردگرد غیر معمولی دیکھو یا زبیر اگر کسی بھی طرح تم سے کانٹیکٹ کرنے کی کوشیش کرے یا کچھ بھی تمہیں غلط محسوس ہو تو پلیزززز۔۔۔ وہ پلیز پر زور دیتا رکا۔۔۔ تو فوراً سے پہلے سب کچھ مجھ سے شیئر کرنا ۔۔۔ اوکے۔۔۔
Is that clear..
مرتسم کے پوچھنے پر وہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
اب ایک اور کام کرو۔۔۔ جو جو باتیں میں نے تمہیں بتائی ہیں۔۔۔ سبھی من و عن علایہ کے بھی گوش گزار دو۔۔۔ اور میرا کلئیرلی پیغام اسے دے دینا کے کچھ بھی ہو گھر سے نہیں نکلنا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
یہ بات آپ خود کیوں نہیں کہہ دیتے اس سے۔۔۔ فاہا الجھی الجھی سی گویا ہوئی۔۔ وہ جاتے جاتے رکا۔۔۔
ہر بات میں بحث نہیں کرتے فاہا۔۔۔ جو کہا جائے کبھی خاموشی سے وہ کر بھی دیتے ہیں۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ وہ اپنے اور اپنی بہن کے درمیان چلتی ناراضگی سے اسے بھی آگاہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
*****
بابا وہاج رخصتی چاہتا ہے۔۔ اسکی فیملی آج کل میں رخصتی کی بات کرنے آنے والی ہے۔۔۔ وہ سب ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب جوس پیتے مرتسم باپ سے گویا ہوا جو آج صبح ہی واپس آئے تھے۔۔۔
ناشتہ کرتے علایہ کے ہاتھ بری طرح کپکپائے۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ وہ جھکا سر مزید جھکا گئ۔۔۔
یہ یکدم علایہ کی رخصتی کہاں سے آگئ بیچ میں مرتسم ابھی تو تمہاری منگنی ہے اگلے ہفتے۔۔۔ بابا تو نہیں البتہ ماں کے تلخی سے کہنے پر فاہا کو اپنی ڈھرکنیں سست پڑتی محسوس ہوئیں۔۔۔
اسنے ایک چور نگاہ مرتسم پر ڈالی
مرتسم کے اندر اشتعال کے سخت ابال سے اٹھنے لگے تھے۔۔۔ آج کل جس طرح کی صورتحال سے وہ نبرد آزما تھا وہ بہت چڑچڑا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ جلد ٹمپر لوز کرنے والا۔۔۔ عزت کا خوف ہر چیز پر حاوی ہوتا اس میں برداشت کی کمی لا رہا تھا۔۔۔
ماں۔۔۔ اسنے ہاتھ میں تھاما کانٹا زور سے پلیٹ میں پٹخا یوں کے ماں کے ساتھ ساتھ بابا بھی چونک اٹھے۔۔۔
میں آج کل ویسے ہی بہت پریشان ہوں۔۔۔ دماغ خراب ہوا پڑا ہے میرا۔۔۔ اس لئے میری آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ پہلے بیٹی کا سوچیں پھر بیٹے کی باری۔۔۔ کنفرم کر کے بتاتا ہوں کے وہاج کے پیرنٹس آج آ رہے ہیں یا کل۔۔۔ اسی حوالے سے ارینجمنٹس کر رکھیے گا۔۔۔ وہ سنجیدہ و سرد لہجے میں کہتا ناشتہ ادھورا چھوڑ کر ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ جبکہ ماں حق دق سی اسے دیکھ کر رہی گئیں ۔۔ انہیں نہیں یاد پڑٹا تھا کے آج سے پہلے مرتسم نے کب یوں ان سے تیز لہجے میں بات کی تھی۔۔۔ جبکہ بابا کی گہری نگاہوں نے بھی دور تک اسکا احاطہ کیا۔۔۔
****
ناشتے کے بعد بابا نے آفس جانے کا ارادہ ملتوی کیا اور مرتسم کے کمرے کی جانب بڑھے۔۔۔ وہ کمرے سے ملحقہ سٹڈی روم میں موجود فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔۔ بابا کے آنے پر وہ بات مختصر کرتا فون بند کر گیا۔۔۔
آئیے بیٹھیے بابا۔۔ وہ سامنے کاوچ کی جانب اشارہ کرتا خود سٹڈی ٹیبل کے سامنے موجود کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔۔
کیا بات ہے مرتسم۔۔۔ سب خیریت تو ہے ن مجھے تم پریشان دکھائی دے رہو ہو۔۔۔ بابا اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتے کاوچ پر بیٹھے۔۔۔
شام میں وہاج کے پیرنٹس آ رہے ہیں بابا۔۔ پلیز کوشیش کیجئے گا کے ہفتے کے اندر اندر کا کوئی دن رخصتی کے لئے رکھ لیں۔۔۔ اسکا لہجہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔
وہی پوچھ رہا ہوں مرتسم پریشانی کیا ہے۔۔۔ علایہ کی رخصتی کی اتنی جلدی۔۔۔ وہ بھی اسکے بابا تھے۔۔۔ اسکی رگ رگ سے واقف تھے۔۔ تبھی اسکے لہجے و انداز سے ہی اسکی پریشانی بھانپ گئے تھے۔۔۔ اس وقت اسنے بھی باپ سے کچھ چھپانا مناسب نا سمجھا ۔۔۔ اسے فلحال باپ کی سپورٹ کی اشد ضرورت تھی۔۔۔ اسکی زبانی ساری بات سن کر بابا بھی بونچکا رہ گئے۔۔۔ کچھ پلوں تک تو عقل سمجھ سوجھ بوجھ ہر چیز ساتھ چھوڑ گی پھر مرتسم کی باتوں کی گہرائی سمجھ میں آئی تو سر ہاں میں ہلاتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
ماں کو اتنے شارٹ نوٹس میں راضی کرنا ایک الگ محاز تھا جو جیسے تیسے بابا نے ہی سر کیا تھا۔۔۔
شام میں مسٹر اور مسز خانزادہ کا وہاں خاصی گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اور اگلے جمعے کا دن رخصتی کے لئے مقرر پایا۔۔۔
اتنے کم وقت میں سب کیسے ہو گا لودھی صاحب۔۔۔ماں کو الگ فکر کھائیَ جا رہی تھی۔۔۔ آخر کو اکلوتی بیٹی کی شادی تھی۔۔۔۔سب ہو جائے گا ماں۔۔۔ فکر مت کریں میں ہوں نا۔۔۔ مجھے بتائیں جو جو کرنا ہے۔۔۔
مرتسم ماں کو بازو کے حلقے میں لئے گویا ہوا تو ماں سر ہاں میں ہلا کر رہ گئیں۔۔
سب سے پہلے سبھی مہمانوں کی لسٹ تیار کرو۔۔۔ انہیں انویٹیشن بھیجو۔۔۔ وینیو سلیکٹ کرو۔۔۔ پھر شاپنگ مارکٹس کے چکر جیولری کپڑے۔۔۔ افف۔۔۔ تم دونوں باپ بیٹے نے الجھا کر رکھ دیا ہے۔۔ میرا دماغ تو اتنے سارے کام سوچ کر ویسے ہی چکرا گیا ہے کیا جاتا جو ہم شادی سکون سے کرتے تو۔۔۔ مرتسم ماں کی فکر مندی پر اداسی سے مسکرا دیا۔۔۔
سب ہو جائے گا ماں۔۔۔۔ فکر نہیں کریں۔۔۔ وہ ماں سے زیادہ خود کو تسلی دے رہا تھا۔۔۔
****
جب سے رخصتی کی تاریخ فکس ہوئی تھی۔۔۔ علایہ اپنے کمرے میں بند چہرا تکیے میں گھسائے مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے ہی احساسات سمجھنے میں ناکام تھی۔۔۔ اسکا عزیز از جان بھائی اس سے ناراض تھا۔۔۔ اس سے بات تک نہیں کر رہا تھا۔۔۔ اسنے اپنے بھائی کا مان توڑا تھا۔۔۔ وہ اسکی شکل تک دیکھنے کا روادار نا تھا۔۔۔ اسنے اس تک اپنے پیغام بھی فاہا کے ہاتھ ہی بھیجوائے تھے۔۔۔ علایہ کا دل کٹ رہا تھا۔۔۔ بھائی کی ناراضگی اسے اندر ہی اندر کاٹ رہی تھی۔۔۔ اوپر سے رخصتی کا شوشا۔۔۔ وہاج سے تو سامنے کا سوچ کر ہی جان جانے لگتی تھی وہ تو اس کی نظروں سے چھپ جانا چاہتی تھی کجا کے رخصتی ۔۔۔۔
مانا کے اسکا ظرف بہت بڑا تھا وہ اسکا اتنا بڑآ راز چھپا گیا تھا مگر جس طرح اور جس انداز میں وہ تصویریں منظر عام پر آئیں تھیں علایہ خود دہل گئ تھی۔۔۔ اگر یہ تصویریں وائرل ہو جاتیں تو۔۔۔
اسکا دل کپکپا اٹھتا۔۔۔ کے مرد آخر جتنا بھی با ظرف ہو۔۔۔ لیکن وہ اتنا باظرف کبھی نہیں ہوسکتا کے وہ ایک بدنام ہو چکی عورت کا ہاتھ تھام سکے۔۔۔
مستقبل کے اندیشے اسے پاگل کر رہے تھے۔۔ اسے اپنے جسم پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئیں۔۔۔
پیپر سر پر تھے اور سب گڈ مڈ ہونے لگا تھا۔۔۔ وہ بہت۔۔۔ بہت ذہنی انتشار کا شکار تھی۔۔۔
دفعتاً دروازہ چڑڑرر کی آواز پر کھلا اور قدموں کی چاپ ابھری۔۔۔
وہ آہٹ پر بھی ہنوز لیٹی رہی۔۔۔
کیا بات ہے میرا بچہ۔۔۔ کیوں رو رہی ہو علایہ۔۔۔ بابا کی مہربان آواز اور سر پر ابھرتے انکے ہاتھ کے لمس پر وہ کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی اور تڑپ کر انکے سینے سے لگتی جو تڑپ تڑپ کے روئی کے باپ کی آنکھیں بھی نم کر گئ۔۔۔
بابا میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ خدا کی قسم کچھ نہیں کیا۔۔۔ میرا کوئی قصور نہیں۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کے وہ ایک کلب ہے۔۔۔ سب انجانے میں ہوا۔۔۔ اور بہت برا ہوا۔۔۔ بابا وہ تصویریں۔۔۔ بابا ایم سوری۔۔۔ بابا مجھے مار دیں مجھے اپنے ہاتھوں سے مار دیں لیکن یہ ذلت مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی۔۔۔
میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔ خدا کی قسم سچ کہہ رہی ہیں۔۔ پلیز بابا میرا اعتبار کریں۔۔۔ وہ باپ کے سینے سے لگی ہچکیوں سے رو دی۔۔
مجھے یقین ہے اپنی بیٹی پر۔۔۔ وہ کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی۔۔۔ بابا کے پریقین لہجے میں کہنے پر وہ ایک جھٹکے سے سیدھی ہوتی نم آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
لیکن بھائی بہت سخت ناراض ہیں مجھ سے بابا۔۔۔ وہ تو مجھ سے بات بھی نہیں کر رہے ۔۔۔ اسکے آنسو پھر سے بہہ نکلے۔۔۔
اسکی ناراضگی بھی تو جائز ہے نا بیٹا۔۔۔ آپ نے بھی تو اچھا نہیں کیا نا اتنی بڑی بات چھپا کر۔۔۔ اسکا مان ٹوٹا ہے بچے۔۔۔ بلکہ وہ خود ہی ٹوٹ گیا یے۔۔۔ اسے لگتا ہے کے وہ بالکل بھی اچھا بھائی نہیں۔۔۔
بابا میں ڈر گئ تھی۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔۔ مجھے لگا آپکو یا بھائی کو میری اتنی شرمناک حرکت کے بارے میں پتہ چلا تو میں مر جاوں گی۔۔۔ ذلت و شرمندگی سے کبھی سر نہیں اٹھا پاوں گی۔۔۔۔۔۔میری سانسیں بند ہو جائیں گی۔۔۔ مجھ میں ہمت ہی نا تھی اپنے اس گناہ کا اعتراف کرنے کی۔۔۔
لیکن وہ دنیا کے سب سے بہترین بھائی ہیں۔۔۔ بس میں ہی اچھی بہن نہیں۔۔۔ وہ آنسو بہاتی پشیمانی سے سر جھکا گئ۔۔۔
بابا نے اسے ترحم سے دیکھا۔۔۔ اسکی فکر مت کرو علایہ۔۔۔ وہ ابھی غصے میں ہے۔۔۔ غصہ اترے گا تو خود ہی اسکی نارضگی جاتی رہے گی۔۔۔ وہ تم سے زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتا۔۔۔۔
بابا نے اسکا سر تھپتھپایا۔۔۔
اب ساری فکریں چھوڑو اور اپنی شادی کی تیاری کرو۔۔۔ بابا نے مسکرا کر کہتے اسکا دھیان بٹانا چاہا۔۔۔
ہر بابا میرے پیپرز۔۔۔ وہ بے بسی سے محض اتنا ہی بول پائی۔۔۔
بیٹا وہاج ماشااللہ سے خود پڑھا لکھا اور باشعور انسان ہے۔۔۔ وہ کبھی بھی تمہارے اور تمہاری پڑھائی کے درمیان رکاوٹ نہیں بنے گا۔۔۔۔ اسے لئے تم شادی کے بعد بھی بڑی آسانی سے اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہو یہ تمہارے بابا کی گارنٹی ہے اور بابا پر تو یقین ہے نا۔۔۔ بابا کے یون مان سے کہنے ہر وہ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔
چلو شاباش اب سب کچھ دماغ سے جھٹکو اور ایک پرسکون نیند لو۔۔۔ اچھا برا وقت ہمیشہ آتا ہی رہتا ہے۔۔۔ لیکن وہ وقت بہت جلد کٹ جاتا ہے اگر اللہ پر توکل مضبوط ہو تو۔۔۔ اس لئے سب اسی پاک ذات پر چھوڑو اسی سے مدد طلب کرو اور ایک پرسکون نیند لو۔۔۔
بابا اٹھ کھڑے ہوتے اسکے لیٹنے پر اس پر لحاف اوڑھ کر کمرے کی لائٹ بند کر کے کمرے سے نکل گئے۔۔۔
پیچھے کئ آنسو علایہ کی آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر پھسلے۔۔۔ ماں باپ بھی کتنی بڑی نعمت ہوتے ہیں اولاد کے سارے دکھ درد چن کر بڑی خوبصورتی سے ان پر پھاہے رکھ دیتے ہیں۔۔۔
*****

No comments