Header Ads

Roshan Sitara novel 81st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  81st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

81st epi...
مرتسم کا دل چاہا کے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ اتنی زلالت اسنے آج سے پہلے کبھی نہیں سہی تھی۔۔
وہاج قدم قدم چلتا میز پر بکھری تصویروں کی جانب بڑھا۔۔ مرتسم نے بوکھلائے سے انداز میں بے بسی سے آنکھیں میچتے ماتھا مسلہ۔۔۔ سمجھ نا آیا کے کیا کرے۔۔۔
یہ سب تمہارے پاس کہاں سے آئیں مرتسم۔۔۔ کس نے بھیجیں تمہیں۔۔۔ وہاج شاک کی پہلی کیفیت سے نکلتا میز کی جانب بڑھا اور لب بھینچتے  بنا دیکھے تیزی سے تصوہریں سمیٹنے لگا۔۔۔
یہ سب فیک ہے وہاج۔۔۔ کسی نے بہت بھڈا مذاق کیا ہے۔۔۔ یا شاید ہمیں بدنام کرنے کی شازش۔۔۔ لیکن اس سب میں کوئی صداقت نہیں۔۔۔ 
مرتسم کی آنکھوں سے خون چھلکنے لگا تھا وہ ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرے سے ماتھا مسلتا اضطراری کیفیت میں بولا۔۔۔
یہ سب حقیقت ہے مرتسم لیکن فلحال بحث یہ نہیں کے یہ تصویریں جھوٹی ہیں یا سچی۔۔۔ فلحال اہم یہ ہے کے اسے بھیجا کس نے ہے۔۔ مطلب کے وہ سب ٹریپ تھا۔۔۔ وہاج لب بھینچے الجھا الجھا سا تیزی سے دماغ چلاتا کڑی سے کڑی ملا رہا تھا۔۔۔
مرتسم چونکا۔۔۔ کمر سے ہاتھ ہٹاتے اسنے اپنی حیرت زدہ نگاہیں وہاج پر مرکوز کیں۔۔۔ اسکا پریقین لہجا مرتسم کو ٹھٹھکا گیا تھا۔۔۔۔
یہ سب سچ ہے۔۔  تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ یہ سب سچ ہے۔۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا ان تصویروں میں کیا یے۔۔۔ وہ بے یقین سا اسے دیکھتا بولا۔۔
میری بہن کو بدنام کرنے کی کوشیش کی جا رہی ہے۔۔۔ اسے ان تصویروں میں پورٹریٹ کیا گیا ہے ایک ایسی مشہور بدنام جگہ پر جہاں جانے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔
 ارے اسنے تو اس جگہ کا نام تک نا سونا ہو گا۔۔۔ کجا کے۔۔۔
اور تم کہہ رہے ہو کے یہ سب سچ ہے۔۔۔ غم و غصے سے مرتسم کی آواز کپکپانے لگی تھی۔۔۔ 
وہ ہنوز بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہاج نے اسے جواب دینا ضروری نا سمجھا۔۔۔ وہ خاموشی سے تصویریں سمیٹتا پارسل پیکٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا جب وہاں سے ایک تہہ شدہ کاغذ پھسل کر اسکے قدموں میں گرا۔۔۔
وہاج نے جھک کر وہ کاغذ اٹھایا ا ور بنا دیر کئے اسے کھول کر پڑھنے لگا۔۔۔ جیسے جیسے وہ اس کاغذ پر لکھی تحریر پڑھتا جا رہا تھا اسکا چہرا طیش سے سرخ پڑتا جا رہا تھا۔۔۔ جبڑے سختی سے بھینچ گئے جبکہ ماتھے کی نسیں تک ابھرنے لگی۔۔۔ مرتسم نے اسکی بدلتی کیفیت دیکھ اسکے ہاتھ سے کاغذ کھینچا۔۔۔
ڈئیر مرتسم لودھی۔۔۔ کیسا لگا سرپرائز۔۔۔ یقیناً بہت خوبصورت لگا ہو گا۔۔۔ دراصل تصویریں نکلوا کر تم تک پہنچاتے پہنچاتے زرا سی تاخیر ہو گئ۔۔ ویل کوئی بات نہیں۔۔۔ اگلی دفعہ دیر نہیں ہو گئ۔۔۔
اگلے اور اس سے بڑَے سرپرائز کے لئے تیار رہنا۔۔۔
یقیناً زبیر لغاری کو بھولے تو نہیں ہوگئے۔۔۔ بات ذاتیات پر آ جائے تو ایسے ہی آگے بڑھتی ہے۔۔۔ اگر میری عزت کا جنازہ تم نکلوا سکتے ہو تو یاد رکھنا زبیر لغاری نا دشمن کو بھولتا ہے اور نا ہی اسے خود کو بھولنے دیتا ہے۔۔۔
بڑے سرپرائز کے لئے تیار رہنا۔۔۔ تحریر ختم ہونے تک وہ غصے سے ہانپنے لگا تھا۔۔۔ آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے تھے۔۔۔ اسکا بس نا چلا کے زبیر لغاری اسکے سامنے ہوتا اور وہ اسے جلا کر بھسم کر دیتا
اسنے سختی سے اس کاغذ کو مٹھی میں بھینچا یوں کے وہ بند مٹھی میں چڑمڑا کر رہ گیا۔۔۔۔۔
کیا تم اس واقعہ کے بارے میں کچھ جانتے ہو وہاج۔۔۔ 
مرتسم کو اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔ اس وقت وہاج سے اس بارے میں بات کرنا اسکے لئے دنیا کا سب سے مشکل ترین کام تھا۔۔۔ وہ ڈھنے کے انداز میں کرسی پر بیٹھا اور کہنی اسکی ہتھی پر ٹکاتا ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جما گیا۔۔۔ آنکھوں سے شرارے پھوٹ رہے تھے۔۔۔
وہاج نے خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
جانتے ہو ہمارے نکاح سے کچھ عرصہ پہلے علایہ شدید بیمار ہوکر ہاسپٹلائزڈ رہی تھی وہ سب اسی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔ پھر وہاج اسےاپنی اس روز کلب میں موجودگی۔۔۔ وہاں علایہ کو اس غیر حالت میں دیکھنا۔۔۔ اسے پولیس ریڈ سے بچا کر باہر لانا پھر مرتسم کے فون کا آنا اور علایہ کے ملتجی انداز میں مرتسم کو کچھ نا بتانے کی التجا کرنا اور پھر اسے گھر تک ڈراپ کرنے کے بارے میں ہر بات بتاتا چلا گیا۔۔ جبکہ مرتسم پھٹی پھٹی آنکھوں سمیٹ اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے رفتا رفتا کوئی اسکے قدموں تلے سے زمین کھینچا لے جا رہا ہو۔۔۔ وہ اس وقت خود کو فضا میں معلق محسوس کر رہا تھا۔۔۔
میں نے تو اس راز کو سینے میں دفن کر دیا تھا مرتسم۔۔ لیکن۔۔۔ بات کرتے وہاج گہری سانس خارج کرتا رکا۔۔۔
مرتسم نے سختی سے آنکھیں میچتے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ یہ سب توقع سے پڑے تھا اور اس سے بھی بڑھ کر برداشت سے باہر تھا۔۔۔ اسکی آنکھیں بھرانے لگیں۔۔۔ وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا جب طیش سے اٹھا اور تصویروں والا لفافہ اٹھاتا آندھی طوفان بنا آفس سے نکلا۔۔۔
مرتسم۔۔۔ مرتسم۔۔۔ کہاں جا رہے ہو۔۔۔ وہاج پیچھے اسے پکارتا رہ گیا مگر وہ بنا سنے آفس سے نکلتا پارکنگ کی جانب بڑھا۔۔۔
*****
مرتسم نے ایک جھٹکے سے گاڑئ کار پورچ میں روکی اور آندھی طوفان بنا گاڑی سے نکلتا گھر کی جانب بڑھا۔۔ ہاتھ میں وہی لفافہ تھام رکھا تھا جبکہ آنکھوں سے شرارے پھوٹ رہے تھے۔۔۔ 
صد شکر کے لاوئنج میں کوئی نا تھا وہ سیدھا علایہ کے کمرے کی جانب بڑھا اور ایک ڈھار سے دروازہ وا کرتا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
علایہ بیڈ پر بیٹھی اپنے پاوں کے ناخنوں پر نیل پالش لگا رہی تھی۔۔۔
مرتسم کو اندر آتا دیکھ اسنے سرعت سے نیل پالش سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔
بھائی آپ۔۔۔ وہ بیڈ سے اترتی اسکے مقابل آئی جب مرتسم کا لال بھبھوکا چہرا اور شرارے اگلتی نگاہیں دیکھ ٹھٹھکی۔۔۔
کیا ہے یہ علایہ۔۔۔ اسنے طیش سے تصویروں کا لفافہ علایہ کے قدموں میں پھینکا۔۔۔ تصویریں لفافے سے نکلتیں جابجا ادھر ادھر لڑھک گئیں۔۔۔
تصویروں پر نظر پڑتے ہی علایہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی  رہ گئ۔۔۔ وہ شاک کی سی کیفیت  میں دو قدم اچھلتی پیچھے ہٹتی منہ پر سختی  ہاتھ جما گئ۔۔۔۔۔ اسنے پھٹی پھٹی نگاہوں سے ایک نظر نیچے پھیلی ان تصویروں کو دیکھا  اور دوسری بھرائی نظر سے بھائی کے طیش زدہ چہرے کو ۔۔۔۔
 اسکے اتنی مشکل سے رفو کئے سارے زخم ایک جھٹکے سے اڈھیر گے تھے جن سے رستا خون اسے ناقابل برداشت تکلیف سے دوچار کرنے لگا تھا۔۔۔
آنسووں موتی کی لڑیوں کی مانند آنکھوں سے پھسلتے چلے گئے۔۔۔
وہ تو پہلے ہی بہت مشکل سے اس واقع کے اثرات بھلا کر نارمل ہو پائی تھی کجا کے اس بے آبرو حالت میں تصویریں۔۔۔
علایہ کا دل چاہا کاش ایک لمحے میں اسکے جسم سے روح پرواز کر جائے۔۔۔ وہ اپنے بھائی سے نگاہیں ملا پانے سے قاصر تھی۔۔
اسکا جسم خزان رسید پتے کی مانند کپکپانے لگا۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سے ہاتھ باہم پیوست کئے جسم کی کپکپاہٹ پر قابو پاتی نیچے انہی تصویروں کو دیکھ رہی تھی جو اسے جلتے انگاروں پر گھسیٹ رہی تھیں۔۔۔ اسے اپنا آپ جلتا محسوس ہوا۔۔۔ دل کے مقام سے اٹھتی درد کی ٹھیسیں وہ جسمانی طور پر محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔
ایک بھائی کے لئے یہ مرنے کا مقام ہے علایہ جہاں اس وقت میں کھڑا ہوں۔۔۔ کاش یہ دیکھنے سے پہلے میں مر جاتا۔۔۔ باوجود ضبط کے آنسو مرتسم کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔۔۔
علایہ کا جھکا سر مزید جھک گیا۔۔۔ وہ سسک اٹھی۔۔۔
کہنے کو کچھ بچا ہی نا تھا۔۔۔
کب تم پر اتنی پابندیاں عائد کی گئ علایہ۔۔۔ یا اتنی روک ٹوک کی گئ کے تم اتنی بڑی بڑی باتیں چھپانے لگی۔۔۔ میں نے یا بابا نے ہمیشہ تمہیں فری ہینڈ دیا۔۔۔ اور اسی بات کا دکھ کھا رہا ہے علایہ کے تم نے پھر بھی ہمیں اس قابل نا سمجھا کے اپنی زندگی کا اتنا بڑا سانحہ ہم سے شیئر کر سکتی۔۔۔
جانتی ہو کتنی سبکی کا حساس ہوا مجھے وہاج کے سامنے جب ان تصویروں کو جھٹلانے پر اسنے کہا کہ یہ حقیقت ہے۔۔۔ کوئی ہمارے خلاف شازش نہیں کر رہا بلکہ واقعی اسکے ہاتھ ہماری کمزوری ہے۔۔۔
مرتسم کے ٹوٹے لہجے میں کہنے پر علایہ نے جھٹکے سے سر اٹھاتے مرتسم کو دیکھا۔۔۔ مطلب وہاج کے سامنے ایک مرتبہ پھر سے اسکی عزت کا جنازہ نکلنے والا تھا۔۔۔
تمہارے بیمار ہونے پر میں نے کتنی بار پوچھا تم سے علایہ کے کوئی بات تنگ کر رہی ہے تو شیئر کرو۔۔۔ مگر تم نے اپنا سمجھا ہوتا تو تب نا۔۔۔ بے بسی سے کہتے مرتسم کی آواز بلند ہونے لگی۔۔۔ علایہ نے نفی میں سر ہلاتے چہرا پھر سے جھکا لیا۔۔۔
اگر تب بتا دیتی کچھ۔۔۔ تو پتہ ہے کیا ہوتا۔۔۔ وہ طیش سے کھولنے لگا۔۔۔ تو ہم وقت رہتے اس ساری سازش کا پتہ لگا کر کوئی سدباب کر لیتے علایہ۔۔۔ یوں ہماری کمزوری کسی کے ہاتھ میں نا ہوتی۔۔ وہ دبی دبی آواز میں غرایا۔۔۔
تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا علایہ۔۔۔ وہ کپکپاتے ہاتھ میں ماتھا تھام گیا۔۔۔ سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔۔
علایہ کی ہچکیاں بندھنے لگی۔۔۔
میری بہن ہوتی نا اگر تم۔۔۔ اگر واقعی میں مجھے اپنا بھائی سمجھتی۔۔ اسنے ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں سے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔ تو بھائی سے شیئر کرتی سب۔۔۔یوں پرایا نا کرتی۔۔۔ اسکی آواز کپکپانے لگی تھی۔۔۔ صدمہ اتنا بڑا تھا کے وہ سدھ بدھ کھونے لگا تھا۔۔۔
میرے مان ۔۔۔ میری محبت پیار اور لاڈ سب کو تم نے جوتے کی صورت واپس میرے چہرے پر مارا ہے۔۔۔ 
علایہ نے تڑپ کر اسے دیکھا۔۔۔
تم نے مجھے بہت دکھ دیا ہے علایہ۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ اتنا کے اسکی تکلیف مار ڈالے گی مجھے۔۔۔ وہ قدم قدم پیچھے لیتا کمرے سے نکل گیا جبکہ علایہ وہیں دھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
کیسے بتاتی کے وہ کہاں سے لاتی اتنی ہمت جسکے باعث وہ بھائی سے اپنی یہ اتنی شرمناک بات شیئر کر پاتی۔۔۔
مرتسم جیسے مضبوط شخص کی ایسی شکستہ حالت دیکھ اسکا دل چاہا کے خود کو ہی ختم کر ڈالے۔۔۔
****
وہاج آفس میں ہی بیٹھا مسلسل مرتسم سے رابطہ کرنے کی کوشیش کر رہا تھا لیکن جب مسلسل تین گھنٹے تک بھی  مرتسم نے اسکی کال پک نا کی تو وہ سب کچھ وائنڈ آپ کرتا آفس سے نکل آیا۔۔۔
اب اسکا رخ لودھی ہاوس کی جانب تھا۔۔۔۔ صورتحال تو بہت گھمبیر تھی وہ لوگ زبیر لغاری کی دھمکی کو ہلکا نہیں لے سکتے تھے۔۔۔ لیکن مرتسم جس حالت میں آفس سے نکلا تھا اسے مرتسم کی بھی فکر ہو رہی تھی۔۔۔
گاڑی لودھی ہاوس کے کار پورچ میں کھڑی کر کے وہ اندر بڑھا۔۔۔
لاوئنج میں اسے فاہا ہی ملی۔۔۔ وہ مسکرا کر اس سے سلام دعا کر رہا تھا جب علایہ مضحمل سے انداز میں وہاں آئی لیکن دور سے ہی وہاج پر اسکی نظر پڑی تو وہ وہیں ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
فاہا سے بات کرتے اسکی نظر بھی علایہ پر پڑ چکی تھی۔۔۔
شدت گریہ سے سرخ چہرا سوجھی انکھیں اور اسکا پشیمان انداز۔۔۔ وہاج کو شدت سے کسی گڑبڑ کا حساس ہوا۔۔۔
وہاج کو دیکھتے ہی وہ شرمندگی سے سر جھکاتی انہی قدموں پر واپس کمرے میں بھاگ گئ۔۔۔
وہاج لب بھینچتا فاہا سے مرتسم کا پوچھ کر سیدھا اسی کے کمرے میں ایا۔۔۔
اسنے بنا ناک کئے کمرے کا دروازہ وا کیا۔۔۔ مرتسم بستر پر جوتوں سمیٹ ہی نیم دراز تھا۔۔۔ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے وہ آنکھوں پر بازو دھرے ہوئے تھا۔۔۔
ابھی تک وہ اسی لباس میں ملبوس تھا حتکہ کوٹ تک نا اتارا تھا۔۔۔
آہٹ پر وہ ماتھے پر شکنوں کا جال لیے سیدھا ہوا۔۔۔ لیکن سامنے وہاج کو دیکھ کر کچھ ڈھیلا پڑا۔۔۔
تم نے علایہ سے کچھ کہا ہے۔۔۔ وہ عام سے انداز میں کہتا مرتسم کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔
کیا نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔ مرتسم غضبناک لہجے میں بولا۔۔۔
نہیں تمہاری بہن ہے۔۔۔ میری بلا سے جو مرضی کہو۔۔۔ میں تو ویسے ہی کہہ رہا تھا کہ اسنے ایک مرتبہ پہلے بھی اس حادثے کا بہت گہرا صدمہ لیا تھا کہیں اس بار بھی۔۔۔ وہ شانے اچکاتا بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔۔
مرتسم پریشانی سے ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔
مجھے دکھ صرف اس بات کا ہے کے اتنی فرینکنیس کے باوجود بھی اسنے مجھ سے کچھ شیئر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ میں اسکے لئے اسقدر ناقابل اعتبار تھا کے اسنے تمہیں بھی مجھے کچھ بتانے سے منع کر دیا۔۔۔ مرتسم نے دکھ سے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
تو تمہارے خیال میں وہ مجھ سے نکاح کے لئے انکاری کیوں ہوئی تھی۔۔۔ وہاج کے سادگی سے پوچھنے پر  مرتسم ٹھٹھکا۔۔۔
ظاہر سی بات ہے یار۔۔۔ کیونکہ میں اسکے اس راز سے واقف تھا۔۔ اور وہ اس واقعی سے بہت خوفزدہ تھی۔۔۔ ۔
مرتسم اسے خالی خالی نگاہوں سے دیکھے گیا۔۔۔۔
مرتسم صورتحال گھمبیر ہے لیکن ہمیں سمجھداری سے کام لینا ہو گا یار۔۔۔ 
دیکھو جب ہم جیسے مضبوط اعصاب کے مالک وہ فوٹوگرافز دیکھ کر اتنا ہائپر ہوگئے تو سوچو وہ جو اس بات کو لے کر پہلے ہی اتنی حساس ہے اس وقت اسکی کیا حالت ہو گئ۔۔۔
وہاج تحمل سے گویا ہوا۔۔۔
یہ بات تو اب روز روشن کی طرح واضح ہے کے علایہ کو ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔ اور اس سب میں زبیر کا ہاتھ تھا۔۔۔
اور اگر علایہ کو دیکھا جائے تو میرے خیال سے وہ اس سب سے خوفزدہ ہی اتنی تھی کے اسنے ہر جانب سے اس واقعہ کے اثرات مٹا کر فرار حاصل کرنیچاہی کجا کے کسی سے ڈسکس کرتی۔۔ یہ شاید اسکا ڈیفینس میکنزم تھا۔۔ کیونکہ بحرحال یہ واقعہ ہے ہی اتنا شرمناک کے وہ اپنے منہ سے اس چیز کا اعتراف کسی کے سامنے نہیں کر پائی۔۔۔ اس کے علاوہ تو مجھے اسکا کوئی قصور نہیں دکھ رہا۔۔۔
یہ بات تم سمجھ سکتے ہو۔۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں لیکن دنیا نہیں سمجھے گی وہاج۔۔۔ وہ ہاتھوں میں پتھر تھامے اسے سنگسار کر دے لگی۔۔۔
کہ بحرحال ہم زبیر کی دھمکیوں کو ہلکا نہیں لے سکتے۔۔۔ اور میرا یہ ہی سوچ سوچ کر دماغ ماوف ہو رہا ہے کے اسنے یہ تصویرین ہمیں بھیجیں ہیں تو خود بھی دیکھی ہونگی۔۔۔ بے بسی سے مرتسم کی آواز بھرا گئ۔۔۔ اور ناجانے اسکے پاس اسکی مزید کتنی کاپیاں ہونگی۔۔۔ اور وہ اسکے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوگا۔۔۔
ایک منٹ مرتسم۔۔۔ وہ سرعت سے مرتسم کو ٹوکتے سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
بیچ میں کہیں کوئی جھول ہے۔۔۔ جو ہم دیکھ نہیں پا رہے۔۔
اس واقعہ کو کم وبیش بھی ایک سال گزر گیا۔۔۔ اسنے یہ تصویریں ہمیں اتنی دیر بعد ہی کیوں بھیجیں۔۔۔
وہاج کے کہنے پر مرتسم چونکا۔۔۔ نیز تصویریں کلئیر نہیں ہیں۔۔۔ نا ہی ان میں علایہ کی اتنی پہچان ہو رہی ہے۔۔  تم نے اسے پہچانا کیونکہ وہ تمہاری بہن ہے۔۔۔ اور تمہارا شک یقین میں بدلہ کیونکہ اس پر میں نے یقین کی مہر ثبت کی۔۔۔
یہ تصویرین یقیناً سی سی ٹی وی کمیرے سے لی گئ ہیں۔۔۔ 
جو بھی ہے وہاج لیکن نا جانے آگے وہ کیا کرنے والا ہے جسکی وہ دھمکی دے رہا ہے۔۔۔ ہم اس معاملے کو ہلکا نہیں لے سکتے۔۔۔  مرتسم بے چین دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
میں کب کہہ رہا ہوں کے اس معاملے کو ہلکا لو۔۔۔
تو پھر مطلب۔۔۔ تم کہا کیا چاہتے ہو۔۔۔ اس چیز کا کیا حل ہے تمہارے پاس۔۔۔
مرتسم نے اسے اچھنبے سے دیکھا۔۔۔
فلحال تو ایک ہی حل ہے اور وہ ہے علایہ کی رخصتی۔۔۔ اسکے ساتھ ساتھ ہمیں اسی دب چکے معاملے کو دوبارہ سے اٹھانا ہوگا۔۔۔ بات اب ذاتیات پر اتر آئی ہے اس لئے ڈرگز کیس میں جو اسکا پہلے سے نام ہے اسی کی بنیاد ہر اسے کسی نئے ڈرگ کیس میں ملوث کر کے ہائی لائٹ کرنا ہو گا۔۔۔
لیکن اس سب سے پہلے یہ رخصتی ضروری ہے۔۔۔ تاکے اسے اندازہ ہو سکے کے علاوہ اب محض تمہاری بہن نہیں۔۔۔ اسکی وجہ سے وہ دو دو خاندانوں سے دشمنی مول لے رہا ہے۔۔۔
لیکن اس رخصتی کے لئے تم اپنے گھر والوں کو کیسے کنوینس کرو گئے یہ تمہارا درد سر ہے۔۔۔ کیونکہ آپ لوگوں کی طرف سے یہ ہی بات بولی گئ تھی کے جب تک علایہ کی پڑھائی مکمل نہیں ہو جاتی رخصتی نہیں ہوگئ۔۔۔ اسی لئے شاید مام بھی یہ بات اتنے پرزور طریقے سے نا کہہ پائیں۔۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا۔۔۔ مطلب وہ اگر بات کریں تو یہاں سے انکار نہیں آنا چاہیے۔۔۔ ایک ہفتے کے بیچ میں یہ کام سادگی سے ہو جانا چاہیے۔۔۔ جو کے بالکل بھی آسان کام نہیں کیونکہ یہ دو بزنس ٹائیکون گھرانوں کے گھروں میں پہلی شادی ہے۔۔۔۔ اور تم ہمارے کلچر سے باخوبی آگاہ ہو۔۔۔۔وہ بہت سوچ سمجھ کر بول رہا تھا۔۔۔ مرتسم اسکی دور اندیشی کا قائل ہوتا سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
تب تک کوشیش کرنا کے علایہ یا فاہا بھابھی کسی ضروری کام کے لئے بھی گھر سے اکیلے نا نکلیں۔۔۔ اور پلیز اس بار یہ بات ان دونوں کو زرا واضح انداز میں سمجھانا ورنہ پچھلی بار کا فاہا بھابھی والا واقعہ تمہارے سامنے ہے۔۔۔ 
زبیر لغاری واقعی گھٹیا پن میں ہم سے کئ قدم آگے ہے۔۔۔ وہاج کی بات سمجھ کر مرتسم نے گہری سانس خارج کرتے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
وہاج کے آنے سے اسے بہت حوصلہ ہوا تھا۔۔۔ طیش اور غصے کا غلبہ اترنے سے اب دماغ کام کرنے لگا تھا۔۔۔
وہاج نے اس پر بہت سی سوچوں کے در وا کر دئیے تھے۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4