Roshan Sitara novel 80th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 80th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
80th_epi
فاہا نے گھبراتے ہوئے نگاہیں اٹھا کر تائی جان کی جانب دیکھا وہ سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں جیسے اسکی جانب سے جواب کی منتظر ہوں۔۔۔
یہ جواب طلبی اسکے وہم و گمان تک میں نا تھی لیکن پریہا اعظم فاہا کے ہاتھوں بھلا ہار کیسے برداشت کر لیتی۔۔۔
بولو خاموش کیوں ہو تم۔۔۔ دکھاو کہاں ہیں تمہاری بکس۔۔۔ پریہا چٹخی۔۔۔
ایکسکیوز می مس پریہا۔۔۔ یہ تم کس ٹیون میں مجھ سے بات کر رہی ہو۔۔۔ فاہا اپنا غصہ دابتی ماتھے پر بل لئے گویا ہوئی۔۔۔
واو۔۔۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔۔ ڈٹس گریٹ۔۔ دیکھ رہی ہیں خالہ جانی۔۔۔ دیکھ رہی ہیں نا آپ۔۔۔ پریہا کے تو سر پر لگی تلووں پر بجھی۔۔۔ وہ تلما کر تائی جان کی جانب بڑھی۔۔۔
یہ لڑکی میرے ہونے والے شوہر پر ڈورے ڈال رہی ہے اسکے آگے پیچھے پھرتی۔۔۔
تمہارا ہونے والا شوہر دودھ پیتا بچہ ہے نا پریہا۔۔۔ جس پر میں ڈورے ڈال رہی ہوں۔۔ فاہا کا ضبط کھونے لگا تھا۔۔۔ ایسے تو پھر ایسے ہی صحیح۔۔۔ ایک ہی بار میں ہو جاتا جو ہونا تھا۔۔۔ وہ کیوں دبتی۔۔۔
اتنا چھوٹا بچہ جو منہ کی بجائے کان سے نوالے نگلتا ہے۔۔ اسے تھوڑی نا سمجھ ہے اسکے اچھے برے کی۔۔۔ وہ تو میرے ڈکٹیٹ کرنے پر چلتا ہے۔۔ تو پھر تم ایک کام کیوں نہیں کرتی۔۔۔ تم ڈکٹیٹ کر دو انہیں شاید تمہاری بات زیادہ اچھے سے سمجھ جائیں وہ۔۔۔ فاہا سینے ہر ہاتھ باندھتی شعلے اگلتی نگاہوں سے اسے دیکھتے چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔
کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو ۔۔۔ کیوں جنگلیوں کی طرح جھگڑ رہی ہو۔۔۔ تائی جان حق دق سی دونوں کو آمنے سامنے کھڑا خونخوار نگاہوں سے ایک دوسرے کو تکتا دیکھ رہی تھیں۔۔۔
تائی جان۔۔۔ فضول قسم کا جھگڑا آپکی بھانجی نے شروع کیا ہے۔۔۔ مطلب اس فضول سی تفتیش کا۔۔۔ اور کیوں۔۔۔ مرتسم اسے ساتھ نہیں لے کر گئے اس میں میرا کیا قصور۔۔۔ اور میری بکس وہاں سے نہیں ملیں تو میں. اسے کیوں ایکسپلینینشن دوں۔۔۔
بکواس کر رہی ہے یہ خالہ جانی۔۔۔ یہ مرتسم کے ساتھ اوارہ گردی کرنے گی تھی آوارہ لڑکی۔۔۔ پریہا غصے سے کھولتی چٹخی۔۔۔ فاہا کا یہ انداز ہضم کرنا مشکل امر تھا۔۔
آوازوں کے شور پر علایہ بھی کمرے سے بھاگتی ہوئی باہر نکل آئی تھی۔۔۔
رئیلی۔۔۔ فاہا خط اٹھانے والے انداز میں آنکھ اچکاتی اسے دیکھنے لگی۔۔۔
تو تم بھی کر آتی نا مرتسم کے ساتھ آوارہ گردی۔۔۔ مرتسم کے ساتھ آوارہ گردی کرنے جانا اتنا ہی تو آسان ہے نا تو تم دو دفعہ کر آتی۔۔۔ ننھے بچوں کی طرح اپنے رونے لئے یہاں کیوں بیٹھی ہو کے مرتسم مجھے آوارہ گردی کروانے نہیں لے کر گیا فاہا کو لے گیا۔۔۔
فاہا اوارہ گردی پر زور دیتی یوں بولی کے علایہ کو باقاعدہ اپنی ہسی کا فوارہ چھپانے کو چہرے پر ہاتھ رکھنا پڑا ۔۔۔ مان نے اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھا جب وہ ہسی چھپانے کو مزید اپنا چہرا جھکا گئ۔۔
پریہا کو شدید سبکی کا احساس ہوا۔۔
مرتسم صرف میرا ہے فاہا لودھی۔۔۔ تم چاہے کچھ بھی کر لو۔۔۔ فاہا سیڑھیوں کی جانب بڑھی جب اسے پیچھے سے پریہا کی غصیلی آواز سنائی دی۔۔۔
غلط ۔۔۔ سراسر غلط۔۔۔ بالفرض مرتسم کا تم سے رشتہ جڑ بھی جائے تب بھی۔۔۔ وہ وہیں کھڑے کھڑے پلٹی۔۔۔ تب بھی باقیوں سے انکے رشتے کٹ نہیّں جائیں گے۔۔۔
انکے ماں باپ ۔۔۔ انکی بہن۔۔۔ اور پھر میں۔۔۔ انکی کزن۔۔۔ اسنے انگلی سے اپنی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔تم اس حقیقت کو کبھی بدل نہیں پاو گی پریہا اعظم۔۔ کے مرتسم اپنے رشتوں کے معاملے میں اتنے ہی حساس ہیں۔۔۔
مجھے جب جب انکی ضرورت ہوگی بحثیت کزن وہ تب تب میری مدد کو آئیں گے تو اپنے اس خوش گمانی کی غبارے سے نکل آو کے مرتسم محض تمہارے ہیں۔۔۔۔ اوکے۔۔۔
بات مکمل کر کے وہ رکی نہیں بلکہ ایک ایک جست میں دو دو سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلے گئ۔۔
خالہ جانی آپ نے دیکھا نا سب۔۔۔ دیکھی نا اس لڑکی کی چرب زبانی۔۔۔ پریہا غصے سے آنسو آنکھوں میں سماتی انکی جانب بڑھی۔۔۔
دیکھا میں نے سب پریہا۔۔۔ اسے بھی اور تمہیں بھی۔۔۔ ماں اسے کہتیں سر تھام کر بیٹھ گئیں۔۔۔ سب سوچ سے الٹ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
پریہا کچھ دیر غصہ ضبط کئے انہیں دیکھتی رہی پھر ایک جھٹکے سے اپنا بیگ اٹھاتی وہاں سے نکل گئ۔۔۔
ماں تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
واہ ماں کیا بھانجھی ہے آپکی۔۔۔ اسکے جاتے ہی علایہ مسکراہٹ ضبط کرتی ماں کے پاس ہی صوفے پر دھپ سے بیٹھی۔۔۔
مطلب بھائی سے شادی کے بعد صبح شام یہاں فری کی انٹرٹینمنٹ ملنے والی ہے۔۔۔ وہ مسکرا کر شانے اچکاتی موبائل سکرول ڈاون کرنے لگی جبکہ ماں خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
******
ماہرہ کا آج آفس میں پہلا دن تھا اس لئے وہ وقت سے کچھ دیر پہلے ہی تیار ہوچکی تھی۔۔ ناشتہ بھی کر لیا اب وہ بابا کے ناشتہ کرنے کی منتظر تھی تاکے وہ انکے ساتھ آفس کے لئے نکل سکے اسی لئے وہ کچھ وقت لاوئنج میں بیٹھی اپنے سامنے لیتے ہاتھ پاوں مار مار کر کھیلتے مائز کے ساتھ مصروف تھی۔۔۔ کبھی وہ اسکے ناک سے ناک مس کرتی کبھی اسکے پاوں پر گدگدی کرتی تو کبھی اسکے ننھے ننھے ہاتھ چوم ڈالتی۔۔۔ وہ اسکے ہر عمل پر کلکاری مار کر ہس دیتا۔۔۔
آے لے لے لے لے۔۔۔ میلا پالا بچہ۔۔۔ ماہرہ نے اسے پچکارتے پھر سے اسکے ناک سے ناک مس کی تو وہ کلکاریاں مارتے دونوں ہاتھوں سے اسکے بال کھینچ لے گیا۔۔۔
اوئے گندے بچے ۔۔۔ بال چھوڑو میرے۔۔۔ ماہرہ نے ہستے ہوئے اسکے پیٹ پر گدگدی کی تو وہ مزید ہسنے لگا۔۔۔۔
میلا شونا میلا پالا۔۔۔ میلی چھوٹی سی جان وہ اسے خود میں بھینچتی چٹاچٹ چوم گئ۔۔۔ وہ بھی ماں کے لمس کا اتنے عادی ہو گیا تھا کے وہ بھی پرسکون سا ماں کے ساتھ ان لمحات کو انجوائے کر رہا تھا۔۔۔
دفعتاً بابا کو باہر آتے دیکھ اسنے زور سے مائز کو خود میں بھینچا اور اسے پرام میں لیٹاتی اٹھی کھڑی ہوئی۔۔۔
مائز پرام سے سر گھما گھما کر مختلف آوازیں نکالتا اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔
دیکھو اسے ماں کی پہچان ہو رہی ہے۔۔۔ بابا مسکرا کر اس پر جھکے۔۔ جب ماں نے آگے بڑھ کر اسے پرام سے اٹھا لیا۔۔۔
اب یہ تنگ کیا کرے گا۔۔۔ اب تم اسکے سامنے گھر سے نہیں نکل سکتی۔۔۔
چلو جاو اب۔۔۔ اسکی فکر مت کرنا میں ہوں آج گھر پر تو نسیم کے ساتھ مل کر ہینڈل کر لوں گی۔۔۔ ماں نے اسے ساتھ لگاتے تھپکا جو ہنوز مڑ مڑ کر ماں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ماہرہ جاتے جاتے واپس پلٹی۔۔۔ اور اسکے چہرے پر پیار کرتی باب کے پیچھے ہی باہر نکل گئ۔۔۔
******
بابا نے اسے سارے آفس میں متعارف کروایا تھا۔۔۔ پورے سٹاف نے اسکا آفس میں بہت شاندار استقبال کیا ۔۔۔ بابا نے اسے سینیئر مینجر کے ساتھ چھوڑا تھا سارا دن اسکا آفس وزٹ کرتے اسکے مختلف ڈیپارٹمنٹ اور انکے کام چیک کرتے گزر گیا۔۔۔
بابا کی گارمنٹس کی فیکٹری تھی جہاں مختلف ڈیپارٹمنٹس میں اسکی کٹنگ سٹیچنک اور پیکنگ وغیرہ کے مختلف مراحل طے پاتے تھے۔۔۔ سارا دن اسکا اسی کاموں میں گزر گیا۔۔۔
پھر وہ فنانس ڈیپارٹمنٹ میں آگئ۔۔۔ جہاں وہ ساری بیلنس شیٹس چیک کرنے لگی۔۔۔ را میٹیل کا خرچ پروڈکشن کوسٹ۔۔۔ امپلائز کی سیلری۔۔۔ پرافٹ مختلف پیکجز۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ وہ سب بہت تیزی سے سمجھ اور سیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ فنانس کا پچھلے پورے سال کا ریکارڈ گھر اٹھا لائی رات کھانے کے بعد مائز کے سنگ کچھ وقت گزار کر اسے سلانے کے بعد وہ پھر سے وہی فائل کھول کر بیٹھ گئ۔۔۔
وہ بہت تیزی سے ہر پراسس سمجھ رہی تھی۔۔۔ بیسک چیزیں اور سبھی سٹریٹیجز اور ڈیلنگ کے طریقے وہ پہلے ہی عدت کے دوران اونلائن کلاسز میں انرول کر کے سیکھ چکی تھی اب وہ بابا کے ساتھ میٹنگز اٹینڈ کر کے انہیں پڑیکٹیکلی کمپنیز کے ساتھ ڈیلنگ کر کے پراجیکٹس حاصل کرتے دیکھ رہی تھی۔۔۔ بحث و مباحثہ ڈیلنگز پیپر ورک۔۔۔ تقریباً ایک ہفتے بعد ہی اسنے اگلی میٹنگ خود کرنے کے لئے بابا سے کہا تھا جس پر انہوں نے رضامندی بھی دے دی ۔۔۔ انکے لئے اپنے پرافٹ سے زیادہ بیٹی کی خود اعتمادی عزیز تھی۔۔۔ بھلے ہی وہ پہلا آرڈر حاصل نا کر پاتی لیکن وہ اسے منع نہیں کر سکتے تھے انہوں نے چن کر سب سے کم مارجن والا پڑاجیکٹ اسے دیا تھا اور کمپنی کی سبھی دیمانڈ اسے بتا کر پریزنٹیشن تیار کرنے کو کہا ۔۔۔۔۔ اور اسنے بھی اپنی سبھی صلاحتیں استعمال کر کے کمپنی کی ریکوائرمنٹس کے مطابق پریزنٹیشن تیار کی تھی۔۔۔
اب وہ اپنی پریزنٹیشن لئے بہت کانفیڈینس سے میٹنگ روم کی جانب جا رہی تھی جہاں اسکے سنگ اسکی سیکریٹری بھی تھی پر جیسے ہی اسنے میٹنگ روم کا دروازہ وا کرتے سلام کیا سامنے نوارد کو دیکھ کر اسے جھٹکا لگا۔۔۔
واعلیکم اسلام مس آپ۔۔۔
سامنے ہی سوٹڈ بوٹڈ سا وہی نوجوان تھا جسنے اس روز اسکی مدد کی تھی ۔۔۔
This is me... Mahira Azhar...
وہ سمبھل کر اپنا تعارف کرواتی آ کر سربراہی کرسی پر بیٹھی۔۔اسکی سیکڑیڑتی سرعت سے اسکے سامنے لیپ ٹاپ رکھتے اسے پروجیکٹر سے کنیکٹ کرنے لگی ۔۔
Oh .. My Self Meer khan...
وہ مسکرا کر شائستگی سے گویا ہوا۔۔۔
ماہرہ پروفیشنل مسکراہٹ چہرے پر سجاتے سر ہلا گئ۔۔۔
Well thank you...
اس روز میں آپکا شکریہ ادا نہیں کر پائی تھی۔۔۔ میر مسکرا کر اسے سن رہا تھا جب لیپ ٹاپ کے پروجیکٹر سے کنیکٹ ہونے پر لیپ ٹاپ کا سرفیز سکرین پر نمایاں ہونے پر ٹھٹھکا۔۔
یکدم ہی اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔ اسنے ایک نظر سکرین کی جانب دیکھا پھر لیپ ٹاپ اور اسے آپریٹ کرتی ماہرہ کی جانب ۔۔۔ ابھی میر کے دو ساتھی مزید آنے والے تھے جسکی وجہ سے میٹنگ میں تاخیر تھی۔۔۔
اوہ شٹ۔۔۔ اسنے چند کیز دبانے کے بعد ماہرہ کے چہرے پر پریشانی ابھرتی دیکھی۔۔۔
میں غلطی سے دوسرا لیپ ٹاپ اٹھا لائی۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑاتی سیکریٹری کی جانب مدد طلب نگاہوں سے دیکھتی ہلکی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ پہلا ہی پڑاجیکٹ اور اتنا بڑا بلنڈر۔۔۔
میر کی سبھی حسیات الڑٹ تھی۔۔۔ وہ پہلی ہی نظر میں دیکھ کر جان چکا تھا کے یہ لیپ ٹاپ اسکا نہیں نیز یہ بھی کے یہ لیپ ٹاپ کس کا ہے۔۔۔
یہ کس کا لیپ ٹاپ ہے مس ماہرہ۔۔۔ وہ تیزی سے لیپ ٹاپ کو پروجیکٹر سے ڈس کنیکٹ کر رہی تھی جبکہ اسکی سیکریٹری گھر سے اسکا لیپ ٹاپ منگوانے کے لئے سرعت سے باہر جا چکی تھی۔۔۔
میرے کزن کا۔۔۔ وہ مصروف سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
فائز علوی کا۔۔۔ میر کا لہجہ عجیب سا تھا۔۔۔ جیسے پہلے ہی مرحلے پر بہت بڑی چیز اسکے ہاتھ لگ چکی ہو۔۔۔ فائز علوی کا لیپ ٹاپ مطلب اسکی تلاش ختم۔۔۔
ماہرہ نے لیپ ٹاپ شٹ ڈاون کرتے اچھنبے سے اسے دیکھا۔۔۔ ایک پل کو دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ ماتھے پر پسینے کی ننھی بوندیں ابھرنے لگی۔۔۔
آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔۔۔ وہ سرعت سے خود کو کمپوز کرتی گویا ہوئی۔۔۔
اور میر جو محض سرفیز دیکھ کر کچھ کنفیوزن کا شکار تھا ماہرہ کا ردعمل دیکھ اسکے شک پر یقین کی مہر ثبت ہوگئ۔۔۔
نہیں دراصل لیپ ٹاپ کے سرفیز پر کوڈنگ کا فولڈر ہے جسکا نام کوڈنگ میں ہی فائز علوی رکھا گیا ہے۔۔۔میں چونکہ تھوڑی بہت کوڈنگ جانتا ہوں تو۔۔۔
فائز شاید آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔ وہ لہجے کو سرسری سا بناتا عام سے انداز میں کہتا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
ماہرہ نے جواب دینا ضروری نا سمجھا۔۔۔ آج اس سے بہت بڑا بلنڈر ہو گیا تھا جسنے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔ وہ بھلا اتنی بڑی بے وقوفی کیسے کر سکتی تھی۔۔۔
دفعتاً میر کے دونوں ساتھی میٹنگ روم میں داخل ہوئے اور انکے چند مںت بعد ہی ماہرہ کا لیپ ٹاپ بھی آ گیا۔۔۔ لیکن میٹنگ کے دوران میر نے ایک بات شدت سے نوٹ کی کے ماہرہ نے فائز کا لیپ ٹاپ سیکڑیٹری کو دینے کی بجائے بیگ میں ڈالتے ٹیبل کے نیچے اپنے پاوں کے پاس رکھ دیا۔۔۔۔
وہ بہت کانفیڈینٹس سے اپنی پریںٹیشن دے رہی تھی۔۔ جلد ہی انکی ڈیلینگ فائنل ہو کر پیپر ورک بھی مکمل ہو گیا اور ماہرہ نے اپنی زندگی کا پہلا پڑاجیکٹ حاصل کر لیا۔۔۔ لیکن اس خوشی میں بھی میٹنگ روم سے نکلتے اسنے اپنا لیپ ٹاپ تو نہیں البتہ فائز علوی کا لیپ ٹاپ ضرور تھام رکھا تھا جیسے وہ کوئی قیمتی متاع حیات ہو۔۔۔ سیکڑیڑی اسکا لیپ ٹاپ لئے اسکے پیچھے ہی میٹنگ روم سے نکل گئ۔۔۔ جبکہ میر کی نگاہوں نے دور تک ماہرہ کے ہاتھ میں تھامے لیپ ٹاپ کا احاطہ کیا۔۔۔ پھر وہ گہری سانس خارج کرتا اپنی ہلکی بڑھی شیو ہر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔
فلحال ماہرہ سے زیادہ ضروری یہ لیپ ٹاپ حاصل کرنا تھا۔۔۔ یکدم ہی ماہرہ اظہر اسکی دوسری ترجیح بن گئ تھی۔۔۔
مقصد پہلے عیاشی بعد میں۔۔۔ وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
******
مرتسم اپنے صوفے پر بیٹھا مسلسل لیپ ٹاپ کی کیز دباتا کچھ ٹائپ کر رہا تھا جبکہ اسکے بالکل سامنے کرسی پر بیٹھا وہاج مسلسل پیٹ پکڑے ہس رہا تھا۔۔۔
اب تمہاری ہسی کا دورا ختم ہو گا کے نہیں۔۔۔ مرتسم نے لیپ ٹاپ سے نگاہیں ہٹاتے اسے گھورا۔۔۔ وہ نا نا کرنے کے باوجود بھی قہقہ لگاتا ہس دیا۔۔۔
نہیں یار میں بس امیجن کر رہا تھا۔۔۔ مطلب بھابھی نے تمہیں سہی گھمایا۔۔۔ اور تو ہے بھی اسی قابل۔۔۔ کبھی خود سے تمہیں توفیق ہوئی انہیں کہیں گھمانے پھرانے کی۔۔ وہ پھر سے مسکرا دیا
اسکی بات پر مرتسم لیپ ٹاپ سے ہاتھ روکے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
وہ یہ سب پریہا کی چڑ میں کر رہی ہے یار۔۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں آج کل گھر کا جو ماحول چل رہا ہے وہاں میری شادی کی باتیں اور تیاریاں۔۔۔ مطلب میں اسکی فیلنگز سمجھ سکتا ہوں۔۔۔ وہ اس سارے ماحول کو ہینڈل کرتی چڑچڑی ہو رہی ہے۔۔۔۔ وہ بالوں پر ہاتھ پھیرتے الجھا الجھا سا بول رہا تھا۔۔۔
پھر تم آنٹی کو سب بتا کیوں نہیں دیتے۔۔ وہاج بھی اپنی ہسی روکے سنجیدہ سا اسے دیکھنے لگا ۔
یار ماں کو بتانا کوئی مسلہ نہیں ہے۔۔۔ مسلہ صرف فاہا کو کچھ پراعتماد بنانا ہے۔۔۔ اور میرے خیال سے یہ قدرت کی طرف سے ایک موقع ملا ہے اسے جب وہ اپنی طاقت اور اپنے سیلف کانفیڈینس کو ابھار سکتی ہے ۔۔۔ اور ابھار رہی ہے۔۔۔ جو سب کچھ وہ آج کل کر رہی ہے نارمل حالات میں کبھی مر کر بھئ اتنی ہمت نا دکھا پاتی۔۔۔ مطلب میں خود شاک ہوں۔۔۔ ڈائریکٹ مجھ سے آ کر رخصتی کا مطالبہ کرنا۔۔۔ اتنے حق سے میری اجازت کے بغیر میری گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا اور جان نا پہچان میں تیرا مہمان کے مترادف خود ہی سارا شیڈیول سیٹ کر کے زبردستی مجھ سے آئسکریم کھانا۔۔۔ یہ سب پازیٹو چینجیز ہے۔۔۔ ورنہ یہ وہی فاہا تھی جو مجھ سے تو کیا کسی کے سامنے بھی اہنا پوائنٹ آف ویو رکھ ہی نہیں پاتی تھی۔۔۔
یہ سب اسے میں نہیں سکھا سکتا تھا یہ سب اسے حالات نے ہی سکھانا تھا۔۔۔ اور اسے اس پازیٹو بدلاو سے میں خوش ہوں۔۔۔
باقی رہ گئ ماں تو۔۔۔ ایک دفعہ بابا آجائیں پھر اس مسلے کو بھی کسی سرے لگاتا ہوں۔۔۔ ایک موازنہ تو انکے دماغ میں بھی ڈال دیا ہے میں نے کے پریہا ا ور میرا جوڑ ایک بہت بڑا مس میچ ہے۔۔۔ اور قوی امکان ہے کے ماں میرے پوائنٹ آف ویو کو سمجھیں گی۔۔۔ کیونکہ ایک بات تو طے ہے میں ماں کو دکھ نہیں دے سکتا۔۔۔ اس لئے میں پریقین ہوں۔۔۔ وہ میری ماں ہیں اور میں انہیں بہت اچھے سے جانتا ہوں کے جب وہ بھانجھی کی محبت سے زرا باہر نکل کر سب دیکھیں گی تو بری آسانی سے اور خوشدلی سے فاہا کو بہو تسلیم کر لیں گی۔۔۔ کیونکہ اس میں کچھ اور ہوں نا ہوں وہ سارے گٹس ضرور موجود ہیں جو ایک اچھی بیوی اور بہو میں ہونے چاہیے۔۔۔ اسے تصور کرتے مرتسم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔
تو ابھی اں سے اس چر میں کے مجھے آپکی پسند کی ہوئی لڑکی سے شادی نہیں کرنی بلکہ میں فاہا سے نکاح کر چکا ہوں۔۔ یہ کہہ کر ماں کو دھچکا دینے کی بجائے میں سلو اور سمودلی سب ٹریک پر لے آوں گا۔۔۔ ہر کام کو کرنے کا ایک وقت اور ایک بہترین طریقہ ہوتا ہے۔۔۔ اگر سب اسی حساب سے کیا جائے تو رشتوں کو ڈوریں الجھتی نہیں۔۔۔ اور ہم اکثر غصے اور جذباتیت میں ان ڈوروں کو بہت بری طرح الجھا دیتے ہیں۔۔۔ جب میں جانتا ہوں کے میں اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا ہوں اور بیٹوں سے ماوں کی بہت سی امیدیں وابسطہ ہوتی ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کے ماں کو اولاد کی خوشی سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی چیز پیاری نہیں ہوتی تو میں ماں کو ہرٹ کیوں کروں ۔۔۔ میں طریقے سے سب مینج کیوں نا کروں جب مجھے پتہ ہے کہ میں سب ہینڈل کر سکتا ہوں اور میں کر لوں گا۔۔۔ وہ سیدھا ہوتا پھر سے لیپ ٹاپ پر جھک گیا۔۔۔
گڈ۔۔ امپریسو۔۔۔ اگر تم یہ سب کہہ رہے ہو تو یقیناً ایسا کر بھی لو گے۔۔۔
ویل انکل کب آ رہے ہیں۔۔۔ وہاج نے سائشی ائبرو اچکائے
دو چار روز تک ۔۔۔
وہاج نے سر ہلاتے اپنے سامنے پڑی فائل کھولی۔۔۔ اور فائل دیکھتا گہرا مسکرا دیا۔۔۔ واقعی جو چیز انسان کو حالات سکھاتی ہے وہ کوئی نہیں سکھا سکت۔۔۔
دیکھ لو فائز کی جدائی نے وہ کام بھی سکھا دیئے جو اسکی موجودگی میں ہم کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔۔ کیونکہ یہ تو فائز کا دیپارٹمنٹ تھا۔۔۔
وہاج اداسی سے مسکرایا اسکے سامنے کھلی فائل میں کوڈنگ لکھی تھی۔۔۔
ایکچولی یس۔۔۔ فائز کی جدائی یہ اچھے سے باور کروا گئ ہے کے ہم سب کر سکتے ہیں اور یہ بھی کے فائز کے بنا سروائیو کرنا مشکل تو تھا لیکن نا ممکن نہیں۔۔۔ کیونکہ فائز کی موجودگی میں ہم نے کئرئیر کو کبھی سیریس لیا ہی نہیں تھا۔۔۔ مرتسم بھی گہری سانس خارج کرتا اداسی سے مسکرا دیا۔۔۔
خیر میں اسکے ساتھ کی دوسری فائل لاتا ہوں وہاج اٹھ کر چلا گیا جب پی اے نے آ کر ایک پارسل اسکے میز پر رکھا ۔۔۔
سر یہ آپکے لئے آیا ہے۔۔۔ پی اے کے کہنے پر اسنے پارسل دیکھا جس پر اسی کا نام تحریر تھا۔۔۔۔
اسنے الجھتے ہوئے پارسل کھولا ۔۔۔ یہ کس نے بھیجا تھا اسے بھلا۔۔۔
پارسل کھولتے ہی اندر موجود تصویریں دیکھ اسکا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔ پارسل ہاتھ سے چھوٹا اور تصویریں جا بجا میز پر پھسل گئیں۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے زمین آسمان کے کلاپے گھومنے لگے۔۔ اسنے سرعت سے ساری تصویریں سمیٹتے انہیں کسی کی بھی نگاہوں میں آنے سے محفوظ کرنا چاہا جب اپنی ہی دھن میں فائل تھامے وہاج اندر داخل ہوا۔۔۔
مرتسم کے نانا کرنے کے باوجود بھی سب کچھ میز پر روز روشن کی طرح بکھرا پڑا تھا۔۔۔ مرتسم نے سانس تک روکے پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہاج کی جانب دیکھا ۔۔۔ تصویروں کی جانب دیکھتے جسکی اپنی حالت بھی مرتسم سے مختلف نا تھی۔۔۔
مرتسم کا دل چاہا کے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ اتنی زلالت اسنے آج سے پہلے کبھی نہیں سہی تھی۔۔
*****

No comments