Roshan Sitara novel 79th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 79th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
79th epi...
سر ماہرہ اظہر پر روڈ اٹیک ہوا ہے۔۔۔ لیکن ایک راہ گیر نے اسکی مدد کی اور بروقت اسکا بھائی بھی وہاں پہنچ گیا۔۔۔ مجھے وہاں پہنچنے میں تھوڑی دیر ہوگئ جب تک میں وہاں پہنچا حملہ کار فرار ہو رہے تھے اور ویسے بھی روڈ پر ہم انہیں پکڑ کر مشکوک نہیں بن سکتے تھے ۔۔۔۔ وہ کل چار افراد تھے اسلحہ سے لیس۔۔۔ شاید یہ ایک عام سا روڈ کریمینل اٹیک ہو یا شاید ایک پری پلین اٹیک۔۔۔
گاڑی چلاتے اریز نے جب موبائل کی بپ پر میسج کھولا تو ساری ڈیٹیلز پڑھ کر ایک دفعہ ٹھٹھکا۔۔۔
لیکن وہ سرعت سے خود کو کمپوز کر گیا۔۔۔ ساتھ ہی ان چاروں افراد کی موٹر بائیک لے کر فرار ہونے کی تصویر اٹیچ تھی جس میں ماہرہ کا نیم رخ تھا اور ایک نوجوان اسکے سامنے کھڑا تھا کیمرے میں اسکی پشت آئی تھی۔۔۔
اسنے موبائل بند کرتے کن اکھیوں سے پیسنجر سیٹ کی جانب دیکھا جہاں سونم گود میں پکڑی ننھی سی پری کو دودھ پلا کر اسکا منہ صاف کر رہی تھی۔۔ وہ شاید سو چکی۔۔۔ اریز مسکرا دیا۔۔۔
وہ اس وقت سونم کو بدلتے موسم کی شاپنگ کروا کر واپس آ رہا تھا۔۔۔
اسنے گھر کے سامنے آ کر گاڑی روکی اور سونم کے اترنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
آپ اندر نہیں آ رہے ۔۔ وہ گاڑی سے نکلتی نکلتی ٹھٹھکی۔۔۔
نہیں تم چلو میں کچھ دیر تک آتا ہوں۔۔۔ کام ہے کچھ۔۔
آپ اور آپکے یہ کام۔۔ اریز کے کہنے پر وہ تاسف سے سر نفی میں ہلا کر رہ گئ۔۔
اریز مسکرا دیا۔۔۔ اسنے جھک کر پیچھے سے شاپنگ بیگ اٹھا کر اسے پکڑائے اور سونم کے اندر جانے کے بعد سرعت سے گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔
ساتھ ہی ساتھ اسکے ہاتھ تیزی سے موبائل پر نمبر ڈائل کر رہے تھے۔۔۔
ماہرہ اظہر کے گرد سیکیورٹی ٹائٹ کرو۔۔۔ ہم اس اٹیمپٹ کو ہلکا نہیں لے سکتے۔۔۔ مزید ان چاروں نقاب پوشوں کی ڈیٹیلز نکلوانے کی کوشیش کرو۔۔۔
موبائل پر بریفینگ دیتے ہی وہ گاڑی مطلوبہ راستے کی طرف ڈال گیا۔۔۔
چہرا بہت سی سوچوں کی عکاسی کر رہا تھا
*******
تم باہر جاو۔۔۔
مظہر ماہرہ کو لئے اسکے کمرے میں داخل ہوا تو سوئے ہوئے مائز کے پاس بیٹھی نسیم سے گویا ہوا۔۔۔۔ نسیم نے ایک گہری نگاہ سے ان دونوں بہن بھائی کو دیکھا۔۔۔ مظہر پریشان تھا جبکہ ماہرہ کا گم صم انداز اور سرخ چہرہ کسی غیر معمولی پن کی اشارہ کر رہا تھا۔۔
لیکن بڑی بات یہ تھی کے وہ لوگ ملازموں کے سامنے اپنے معاملات ڈسکس نہیں کرتے تھے۔۔۔ نسیم خاموشی سے اٹھتی کمرے سے نکل گئ جب اسنے تیزی سے ماں کو ماہرہ کے کمرے میں جاتے دیکھا اور اسکے کچھ دیر بعد ہی بابا بھی گھر داخل ہوتے اسکے کمرے کی جانب ہی بڑھے۔۔۔ انکے اندر جاتے ہی ایک بار پھر سے کمرے کا دروازہ بند ہو گیا۔۔۔
اب تو شک کی گنجائش ہی نہیں رپی تھی یقیناً کوئی بات ہوئی تھی ۔ وہ نامحسوس انداز میں اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ وہاں جاتے ہی اسنے میر کا نمبر ملایا جسکے کافی وقت سے اسے میسجز آ رہے تھے کے جیسے ہی ماہرہ گھر لوٹے تو اسے اسکے ردعمل کے بارے میں انفارم کیا جائے۔۔۔
جی سر جی۔۔۔ ماہرہ بی بی گھر واپس آگئ ہے
۔۔ کافی پریشان لگ رہی تھی۔۔۔ اور اسکا بھائی اور ماں باپ بھی کافی ہریشانی سے اسی کے کمرے میں بند ہے۔۔۔ وہ لوگ ملازموں کے سامنے اپنی ذاتی باتیں ڈسکس نہیں کرتے۔۔۔
ہممم گڈ۔۔۔ آگے ماہرہ کی جو بھی کندیشن ہوئی یا ماہرہ گھر سے نکلنے کا جو بھی شیڈیول ہوا بروقت بتاتی رہنا مجھے۔۔۔ وہ اسکی ساری بات سن کر ہنکارا بھرتا گویا ہوا۔۔۔
جی سر۔۔۔
وہ فون بند کر باہر نکل آئی۔۔۔
*******
میں ٹھیک ہوں بابا۔۔۔ اس وقت کمرے میں وہ چاروں ہی موجود تھے ماہرہ بستر پر ماں کی گود میں سر رکھے لیتی تھی جبکہ بابا اور مظہر سامنے صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔ جب بابا کے پریشانی سے مستفسر ہونے پر وہ گیلی سانس اندر کھینچتی خود کو کمپوز کرتی گویا ہوئی۔۔
تم نے گاڑی روکی ہی کیوں ماہرہ۔۔۔
بابا میرے خیال سے سب پری پلین تھا۔۔۔ وہ لوگ عادی مجرم تھے۔۔۔ انہوں نے باقاعدہ میری گاڑی کے سامنے کیل پھینکے تھے۔۔ بس میں شکر ادا کرتی ہوں کے کوئی نقصان نہیں ہوا۔۔۔ اللہ نے بروقت مجھے بچا لیا۔۔۔ وہ اجنبی شخص وقت پر پہنچ گیا۔۔ ورنہ میں بہت ڈر گئ تھی۔۔۔
وہ اب پہلے سے کچھ بہتر لگتی تھی لیکن اس واقعہ کے نقش دل پر جم سے گئے تھے۔۔۔
کل سے تم آفس جوائن کر رہی ہو تو میں تمہارے لئے سیکورٹی گارڈ کا بندوبست کرواتا ہوں۔۔۔ جو تمہین پک اینڈ ڈراپ دے گا تم اکیلے باہر نہیں جاو گی۔۔
بابا کے لہجے میں فکر ہی فکر تھی۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں بابا۔۔۔ ضروری تو نہیں کے ہر مرتبہ ایسا ہی کوئی مسلہ درپیش ہو۔۔۔ میں تو رات گئے تک اکیلی ڈرائیو کرتی رہی ہوں۔۔۔۔ کبھی ایسا مسلہ نہیں بنا۔۔۔
مائز کے رونے کی آواز سن کر وہ اٹھ کر اسکی کاٹ تک گئ اور اسے اختیاط سے اٹھا کر سینے سے لگایا۔۔۔
ماں کا لمس محسوس کر کے وہ ساتھ ہی خاموش ہو گیا۔۔۔
لیکن اختیاط بھی ضروری ہے بیٹا۔۔۔
بابا چند دن مظہر مجھے پک اینڈ ڈراپ دے دے گا یا آپ دے دینا۔۔۔ فلحال میں کسی اجنبی کو اپنے قریب نہیں چاہتی۔۔۔ اسکی بیزاریت محسوس کر کے بابا خاموش رہ گئے۔۔۔
*****
دیکھیں آپ پھر سے آ گئے۔۔ میں آپکو پہلے ہی بتا چکا ہوں کے میں فائز علوی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔ وہ میرا جاننے والا تھا جسنے ایک دن ضرورت کے وقت میری بائیک استعمل کی۔۔۔ اور میری غلطی بس اتنی ہے کے میں نے اسے اپنی بائیک دے دی۔۔۔ اسکے بعد سے جو جو کچھ میرے ساتھ ہوا میں کبھی خواب میں کسی کو اپنی بائیک نا دوں۔۔۔
میجر اریز اس شخص کے ڈرائینگ روم میں بیٹھا اسکا منتظر تھا جب وہ اندر داخل ہوتے ہی میجر اریز کو دیکھتا بولنا شروع ہوگیا۔۔۔
کبھی کوئی غندوں کی ٹولی آ جاتی ہے تفتیش کرنے کبھی کوئی۔۔۔
میں مزید کچھ نہیں جانتا جتنا جانتا تھا آپکو بتا چکا ہوں کے جب وہ غنڈے مجھ سے فائز علوی کی معلومات لے کر اسکی تلاش میں نکلے تھے میں نے ساتھ ہی فائز کو فون کر کے مطلع کر دیا تھا۔۔۔ اور وہ میری اس سے آخری گفتگو تھی۔۔۔
وہ شخص خاصا جھنجھلایا ہوا تھا۔۔۔
کیا تم ان چاروں میں سے کسی کو پہچانتے ہو۔۔۔
مینر اریز نے اسکا لہجہ اور انداز نظر انداز کرتے ماہرہ پر حملہ کرنے والے چاروں نقاب پوشوں کی تصویر اسکے سامنے کی۔۔۔
وہ غور سے اسے انہیں دیکھتا رہا۔۔۔
یوں میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔۔ میں نے صرف انکے سرغنہ کی شکل دیکھی ہے۔۔ جس شخص کی پشت دکھائی دے رہی ہے اسکا اگر چہرا تصویر میں ہوتا تو شاید میں بتا سکتا کیونکہ یہ ڈیل ڈول سے انکے سرغنہ کے جیسا لگ رہا ہے لیکن محض شک کی بنا پر میں ہوا میں تیر نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔
وہ شخص الجھا الجھا سا گویا ہوا۔۔۔
دیکھو تم ایک اچھے انسان ہو۔۔۔ اور میں اس کیس کو حل کرنے کی پوری کوشیش کر رہا ہوں اس لئے ہم توقع رکھتے ہیں کے اس کیس کو حل کرنے کے دوران ہمیں جہاں کہیں تمہاری مدد درکار ہوئی تم ہمارے ساتھ تعاون کرو گے۔۔۔ میجر اریز سنجیدگی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
**
*****
مرتسم۔۔۔۔
مرتسم ابھی ابھی گھر سے اپنی کوئی ضروری فائل لینے آیا تھا۔۔۔
وہ جیسے آیا تھا انہی قدموں پر فائل لیتا واپس جا رہا تھا جب اچانک پریہا نے اسے آواز دی۔۔۔
وہ جاتا جاتا رک کر پلٹا۔۔۔
وہ اس وقت لان کے پاس تھا اس سے چند قدموں کے فاصلے پر ڈرائیوے پر اسکی گاڑی کھڑی تھی۔۔۔ جبکہ پریہا لاوئنج کے دروازے کے باہر کھڑی تھی جیسے مرتسم کو باہر جاتا دیکھ وہ بعجلت باہر نکلی ہو۔۔۔
کیا بات ہے۔۔۔
ان سے کچھ فاصلے پر لان میں مالی بابا کے پاس کھڑی ہو کر پودوں کی کانٹ چھانٹ کرواتی فاہا نے آواز پر چونک کر ان دونوں کو دیکھا ۔۔
اسکے ماتھے پر جا بجا شکنوں کا جال بچھنے لگا۔۔۔ جو بھی تھا یی پریہا میڈم اسے مرتسم کے ساتھ کھڑی بھی چبھتی تھی.
وہ نا محسوس انداز میں ان دونوں کی طرف بڑھی۔۔۔
تم باہر ہی جا رہے ہو نا ۔۔۔ پلیز جاتے ہوئے مجھے میری دوست کے گھر ڈراپ کر دینا میرا ڈرائیور جا چکا ہے اور مجھے اڑجنٹلی جانا ہے۔۔۔
وہ ملتجانہ انداز میں یوں گویا ہوئی کے مرتسم جھنجھلا کر رہ گیا۔۔۔ اسے یہ بے وقتی مداخلت کھلی تھی۔۔ دوست کے گھر جانے کا تو بہانا تھا وہ کچھ وقت مرتسم کے سنگ گزار کر اسے اپنے نئے جڑنے والے رشتے کی خوبصورتی سے آگاہ کرنا چاہتی تھی۔۔ لیکن جو آج کل مرتسم کی روٹین چل رہی تھی وہ اسکے ہاتھ آ کر نا دے رہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے جلدی آو۔۔۔
وہ جھنجھلا کر کہتا گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔
فاہا کے تو سر پر لگی تلووں پر بجھی۔۔۔ اسنے ایک نظر اپنے لباس کی جانب دیکھا صاف ستھرے استری شدہ لباس پر سلیقے سے آنچل اوڑھ رکھا تھا ساتھ ہی اسکے قدموں کی رفتار تیز ہوگئ۔۔۔
مرتسم نے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔ اس سے پہلے کے چہکتی ہوئی پریہا آ کر گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتی فاہا تیزی سے آئی اور بعجلت پیسنجر سیٹ کا دروازہ وا کرتی اندر بیٹھی۔۔۔
اگر خدمت خلق کرنے کا آپکو اتنا ہی شوق ہو رہا ہے تو کائنڈلی مجھے بھی لائبریری تک ڈراپ کر دیں مجھے بھی بکس اشو کروانی ہے۔۔۔
وہ اندر بیٹھتی تیز لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
اس اچانک افتاد پر پریہا اور مرتسم دونوں ہی چونک اٹھے تھے۔۔۔
مرتسم جو اپنے دھیان بیٹھا تھا دماغ آفس میں ہی کہیں اٹکا ہوا تھا اسے جلد از جلد واپس آفس جانا تھا۔۔۔ فاہا کے تیور دیکھتا بری طرح چونکا جبکہ بونچکا تو پریہا بھی رہ گئ تھی اسکی دیدہ دلیری پر۔۔
آج تک ایسی جرات تو اسنے بھی نا کی تھی کے بنا مرتسم کی اجازت کے زبردستی اسکی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ جاتی۔۔۔
وہ گاڑی کے باہر کھری حق دق سی کبھی فاہا تو کبھی مرتسم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
فاہا جو سنجیدگی سے لب بھینچے مرتسم کو دیکھ رہی تھی اور مرتسم جو خاموشی سے ایک نظر فاہا اور دوسری نظر باہر کھڑی پریہا کو دیکھ رہا تھا۔۔
دکھ تو پریہا کو یہ ہی تھا کے مرتسم جیسے منہ پھٹ شخص نے ابھی تک فاہا کو اسکی اس جرات پر بے عزت کر کے گاڑی سے نکالا کیوں نہیں تھا۔۔۔
پیچھے بیٹھ جاو پریہا اور زرا جلدی پلیز مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ مرتسم گہری سانس خارج کرتا پریہا سے مخاطب ہوا۔۔۔
وہ اندر ہی اندر کڑھتی کھول کر رہ گئ۔۔۔ اس دو ٹکے کی جاہل اجڈ گوار کی اتنی جرات۔۔۔ گاڑی میں بیٹھتے اسنے زوردار انداز میں دروازہ بند کرتے گویا اپنا سارا غصہ گاڑی کے دروازے پر اتارا۔۔۔
اسکے بیٹھتے ہی مرتسم اسکی حرکت نظر انداز کرتا گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔
ایڈریس دو کہاں اترنا ہے تم نے پریہا۔۔۔ پریہا غصے سے کھولتی چٹختے دماغ کیساتھ باہر بھاگتے ڈورتے مناظر دیکھ رہی تھی جب مرتسم کی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی۔۔۔
پہلے فاہا سے پوچھ کر اسے ڈراپ کر دو پھر بتاتی ہوں۔۔۔ وہ نخوت سے ناک چڑھاتی چہرا موڑ گئ۔۔
ایکسکیوز می پریہا باجی۔۔۔ اپنے کام سے کام رکھیں نا۔۔۔ میرے کاموں میں کیوں مداخلت کر رہی ہیں۔۔ مجھے تو بکس اشو کروانے کے بعد مرتسم واپس گھر بھی چھوڑنے والے ہیں۔۔۔ لحاظہ آپ اپنی لوکیشن بتائیے۔۔۔
فاہا تیورا کر اسکی جانب گھومتی ماتھے پر بل لئے گویا ہوئی جبکہ پریہا تو اسکی اس جرات پر شاک ہی رہ گئ۔۔۔ اسنے تیزی سے نگاہیں گھماتے مرتسم کی جانب دیکھا جو خود فاہا کی اس دیدہ دلیری پر ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔
یہ شاید اسی کا بخشا مان تھا جو اس وقت وہ ایک الگ ہی روپ میں اسکے سامنے موجود تھی۔۔۔
فاہا کا حق جتاتا انداز اور مرتسم کی خاموشی پریہا کو بری طرح کچھ کھٹکا رہی تھی۔۔۔
تمہیں کس نے کہا کے مرتسم تمہیں واپس چھوڑنے جائے گا۔۔۔ اسکے پاس اتنا ٹائم نہیں۔۔۔ مرتسم کو خاموش دیکھ پریہا چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔۔۔
یہ آپکا درد سر نہیں۔۔۔ کائنڈلی اپنے کام سے کام رکھیں۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتی سیدھی ہوئی۔۔۔
پریہا ایڈریس بتاو۔۔ وہ بحث ختم کرنے کو گاڑی کی سپیڈ سلو کرتا گویا ہوا۔۔۔
آج اچھا پھسا تھا وہ دو لڑکیوں کے درمیاں۔۔۔ فاہا کو ٹوکتا تو ٹوکتا کیسے۔۔۔ یہ اعتماد بھی تو اسی کا بخشا تھا۔۔۔ اور پریہا الگ ضد لگا کر بیٹھی تھی۔۔۔
یہیں اتار دو تم مجھے۔۔۔ میں خود ہی اپنے ڈرائیور کو بلا لوں گی۔۔۔ پریہا باغیانہ انداز میں چٹخی۔۔ اسے قطعا اندازا نا تھا کے مرتسم گاڑی روکے گا لیکن اسے جھٹکا تب لگا جب مرتسم اسکے غصے کو کسی خاطر میں نا لاتا گاڑی سائیڈ پر روک چکا تھا۔۔۔ پریہا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ پھر غصے سے کھولتی گاڑی سے اتری اور دروازہ زور دار انداز میں بند کر گئ۔۔۔ سبکی اور خجالت سے اسکا برا حال تھا۔۔۔ وہ لڑکی اس پر بازی کیسے لے جا سکتی تھی بھلا۔۔۔
مرتسم لمحے میں گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔۔۔
اب بتاو محترمہ کس لائبریری میں جانا ہے تمہیں۔۔۔ گاڑی کچھ آگے گئ تو مرتسم ٹھنڈی سانس خارج کرتا گویا ہوا۔۔۔
آپکو کس نے کہا کے مجھے لائبریری جانا ہے۔۔۔ وہ مزے سے اسے دیکھتی گویا ہوئی۔۔ جبکہ مرتسم اسکے انداز دیکھ بونچکا رہ گیا۔۔
کیاااا۔۔۔ کیا مطلب کیا ہے تمہارا۔۔۔۔ لائبریری نہیں جانا تو اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔
ہاں جی آپکو تو جیسے پتہ ہی نہیں ننھے کاکے ہیں نا آپ۔۔۔ فاہا کے چڑ کر کہنے پر وہ سر تھام گیا۔۔۔ سمجھ نا آیا کے ٹکر کہاں مارے۔۔۔
نہیں مجھے واقع نہیں پتہ پلیز تم سمجھا دو کہ تم میرے ساتھ کیوں آئی ہو۔۔۔ وہ تحمل سے گویا ہوا۔۔۔
میں نے سوچا کے میرے شوہر کو خود سے تو کبھی توفیق ہونی نہیں کے مجھے کہیں گھمانے لیجائیں۔۔۔ کیوں نا خود سے ہی ساتھ آیا جائے۔۔۔ ویسے بھی کچھ کچھ میرے علم میں آیا ہے کے میرے شویر کا بزنس اتنا سا تو سٹیبلش ہو ہی گیا یے کے وہ اپنی بیوی کو باآسانی آئسکریم کھلا سکے تو سوچا کیوں نا آج آئسکریم کھائی جائے۔۔۔
فاہا کے معصومیت سے کہنے پر وہ بے ساختہ گاڑی کو بریک لگا گیا۔۔۔
اب صورتحال یہ تھی کے وہ سٹرینگ پر کہنی جمائے نچلہ ہونٹ دابے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جمائے یک ٹک فاہا کو دیکھ رہا تھا جبکہ فاہا بھی اسی کے انداز میں کہنی ڈیش بورڈ پر رکھے مومی ہاتھ گال تلے رکھے مسکراتی شرارتی نگاہوں سے اسے تک رہی تھی۔۔۔
کیا ہوا کیا بہت پیاری لگ رہی ہوں میں۔۔۔ وہ مسکرا دی۔۔ جبکی مرتسم آنکھیں بند کرتا چہرے پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔
خون آشام بلا لگ رہی ہو۔۔۔ وہ گاڑی پھر سے سٹارت کرتا آگے بڑھا لے گیا۔۔۔
فاہا کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
یہ سب کچھ تم نے جان بوجھ کر کیا نا۔۔۔ محض پریہا کی جلن میں۔۔۔ مرتسم نے سر تاسف سے نفی میں ہلایا۔۔۔
ظاہر سی بات ہے کوئی بھی باشعور انسان سمجھ جاتا میری حرکت کو۔۔۔ آپ ہی دیر سے سمجھے۔۔۔ ویری بیڈ۔۔۔ وہ بلا جھجھک اعتراف کر گئ۔۔۔ مرتسم نے ایک نظر اسکے کھلے کھلے سے روپ کو دیکھا۔۔۔ اسکا یہ روپ اسے دل و جان سے پسند آیا تھا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے فاہا کے مجھے ارجنٹلی آفس پہنچنا تھا میں فائل لینے گھر آیا تھا میری وہاں ضروری میٹنگ۔۔۔
مرتسم صاحب۔۔۔ وہ ابھی ناجانے اور کیا کیا بولنے جا رہا تھا جب فاہا بے ساختہ اسے ٹوک گئ۔۔
مسلے مسائل سب کی زندگیوں میں ہوتے ہیں۔۔۔ ضروری نہیں کے کسی بھی وقت کہیں بھی اپنے رونے رونا شروع کر دیئے جائیں۔۔۔ آئسکریم کھلانے میں دس منٹ لگیں گے اور اگلے دس منٹوں میں آپ مجھے واپس گھر ڈراپ کر کے آپنے آفس جا سکتے ہیں۔۔۔
Its not a big deal...
آپ تو بچوں کی طرح رونے لگے۔۔۔ وہ بڑے عام سے انداز میں اس دن سے مرتسم کی باتوں کے باعث دل میں جلتے بھانبھر کو اس پر نکال چکی تھی ۔۔ جبکہ مرتسم تو حیرت سے پوری آنکھیں وا کئے اسکے بدلےبدلے انداز دیکھ کر رہ گیا۔۔ کے آیا یہ وہی فاہا ہے۔۔۔۔کونسا فلیور کھاو گی آئسکریم کا۔۔ وہ آئسکریم پارلر کے سامنے گاڑی روکتا گویا یوا۔۔۔
میں اپنے شوہر کی بہت فرمابردار بیوی ہوں۔۔۔ اس لئے کوئی سا بھی کھلا دیں۔۔۔ وہ اترائی۔۔
ماشااللہ۔۔۔ اتنی فرما برداری ہضم نہیں ہو رہی۔۔۔ کہیں مجھے فوڈ پوازنینگ ہی نا ہو جائے۔۔۔ وہ تاسف سے کہتا گاڑی سے اتر گیا جبکہ اسکے جاتے ہی فاہا کھل کر مسکرا دی۔۔۔
*****
آئسکریم کھانے کے بعد مرتسم اسے گھر کے گیٹ کے پاس ہی ڈراپ کرتا وہیں سے واپس جا چکا تھا وہ مسرور سی انہی خیالوں میں گم اندر داخل ہوئی جب لاوئنج میں آتے ہی اسے چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔
خالہ جانی۔۔۔ آگی یہ۔۔۔ پوچھیں اس سے یہ کہاں سے ا رہی ہے۔۔۔ لاوئنج میں پریہا نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔۔۔ تائی جان غصے سے اسی کی واپسی کی منتظر تھیں۔۔۔
کہاں ہے تمہاری بکس جنہیں لینے جانے کے لئے تم میرے اور مرتسم کے درمیان کباب میں ہڈی بنی۔۔۔ وہ غصے سے کھولتی اسکی جانب بڑھئ۔۔۔ فاہا نے گھبراتے ہوئے نگاہیں اٹھا کر تائی جان کی جانب دیکھا وہ سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں جیسے اسکی جانب سے جواب کی منتظر ہوں۔۔۔
یہ جواب طلبی اسکے وہم و گمان تک میں نا تھی لیکن پریہا اعظم فاہا کے ہاتھوں بھلا ہار کیسے برداشت کر لیتی۔۔۔
*******

No comments