Roshan Sitara novel 78th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 78th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
78th epi...
فاہا ابھی ابھی یونیورسٹی سے لوٹی تھی۔۔ بھوک سے برا حال تھا بعجلت فریش ہو کر باہر لاوئنج میں آئی تو سامنے ہی پریہا خانزادہ کو تائی جان کے ساتھ گپ شپ لگاتے دیکھ اسکے منہ میں کڑواہٹ کا ذائقہ گھل گیا۔۔۔
کس چیز کی انسکیورٹی ہے تمہیں۔۔۔ تم میری بیوی ہو اور ہمارا نکاح چچا جان کی سرپرستی میں ہوا۔۔ ہوا کے دوش پر آواز کانوں سے ٹکرائی تو وہ سختی سے جبڑے بھینچ گی۔۔۔ اندر ہی اندر اس ستم گر سے بھی ایک سرد جنگ چھڑ چکی تھی جو عین مدد کے وقت دغا دے گیا تھا۔۔
وہ سیدھی کچن میں ہی چلی آئی۔۔۔ کھانے کا جائزہ لیا اور بریانی پلیٹ میں ڈال کر اوون میں گرم کی۔۔۔ پھر بریانی کی پلیٹ پر ہی رائتہ ڈالا اور پلیٹ ٹرے میں رکھ کر ساتھ پانی کی گلاس رکھتی مسکراتی ہوئی ٹرے لے کر لاوئنج میں ہی آ گئ۔۔۔
مجھ سے جواب طلبی کرنے تب آتی جب میں منگنی کر چکا ہوتا۔۔۔ ایک اور آواز ہتھورے کی مانند دماغ پر بجی لیکن وہ سر جھٹکتی آگے بڑھ آئی۔۔۔
کہاں تک پہنچیں انگجیمنٹ کی ارینجمنٹس تائی جان۔۔
وہ مسکراتی ہوئی تائی جان کے ساتھ آ کر بیٹھئ۔۔۔
تائی جان سے بات کرتی پریہا نے چونک کر اسکا فریش فریش سا روپ دیکھ۔۔۔ اسے کچھ بری طرح کھٹکا۔۔۔
ہاں بیٹا۔۔۔ بس ہو ہی رہی ہیں ارینجمنٹس۔۔ تمہارے تایا جان واپس آئیں تو کچھ کھل کر کام ہونگے۔۔ تائی جان کے لہجے میں پہلے سا جوش نہیں تھا بیٹے نے انہیں اچھا خاصا الجھا دیا تھا۔۔
مجھے بیوی چاہیے ۔۔۔۔شوپیس نہیں۔۔۔
ماں نے گہری سانس خارج کرتے پریہا کو دیکھا۔۔ جو جینز پر ہاف سلیو ٹی شرٹ زیب تن کئے ہوئے تھی۔۔۔ بال کھلے تھے اور چہرے پر نفاست سے میک آپ کیا گیا تھا۔۔
مجھے بیوی شمع محفل نہیں چاہیے ماں۔۔۔
یہ تم کس طرح سے کھا رہی ہو فاہا۔۔۔
یہ تمہارا گاوں نہیں ہے جہاں تم کسی بھی جاہلانہ طریقے سے کہیں بھی بیٹھ کر کھانا پینا شروع ہو جاو۔۔ ایک ہی پلیٹ میں ملغوبہ تیار کر لائی ہو۔۔ کوئی اور دیکھے تو کتنا برا امپریشن پڑے اس پر۔۔۔ پریہا ناک چڑھاتی بریانی کی پلیٹ پر ہی رائتہ دیکھ نخوت سے گویا ہوئی۔۔۔ انداز خاصا تضحیک آمیز تھا۔۔۔۔
پریہا باجی۔۔۔ فاہا نوالہ مکمل کر کے یوں بولی جیسے دانتوں تلے پریہا کی گردن ہو۔۔۔
یہ میرا گاوں نہیں لیکن ہے میرا گھر ہی۔۔۔ اور اس طرح کھانے میں مجھے کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔۔۔ آپکو ہوتی ہے تو آپ مت کھائیں۔۔۔
مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں اور خود اپنی منگنی کی تیاریوں پر فوکس کریں۔۔۔
وہ بہت میٹھے انداز میں کہتی پریہا کو آگ ہی لگا گئ۔۔۔
How dare you..
,خالہ جانی دیکھا آپ نے۔۔۔ وہ تلملاتی ہوئی تائی جان کی جانب متوجہ ہوئی جو اپنے ہی ادھیر پن میں لگی تھیں۔۔
اسے کہاں برداشت ہوتی تھی اس دو ٹکے کی لڑکی کی بدزبانی جو روز با روز اپنی زبان کے جوہر بڑھاتی ہی جا رہی تھی۔۔۔ وہ میں میم کرتی فاہا کے پر نکلنے لگے تھے جو اسے بری طرح کھٹک رہے تھے۔۔
فاہا اسکا تلملایا روپ مسکرا کی دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں کیا کہہ رہی تھی پریہا۔۔۔ ماں نے جیسے اسکی بات سنی ہی نہیں۔۔
کیا خالہ جانی۔۔۔ اسکا موڈ بگڑ چکا تھا۔۔
کیوں نا ہم تمہارے لئے قمیض شلوار اور ڈوپتہ خریدیں۔۔۔ کافی سوٹ کرے گی وہ ڈریسنگ بھی تم پر۔۔۔ ماں رفتہ رفتہ اسکا لائف سٹائل بدل کر بیٹے کا دل اس کی جانب سے صاف کرنا چاہتی تھیں۔۔۔
اوہ پلیز۔۔۔ خالہ جانی۔۔۔۔ قمیض شلوار کہ حد تک تو چلیں پھر بھی کچھ ٹھیک ہے ۔۔۔ میں پہلے بھی یہ لباس پہن چکی ہوں۔۔۔ لیکن ڈوپتہ مجھ سے کیری نہیں ہوتا۔۔۔ اور نا ہی مجھے اسکی ضرورت ہے۔۔۔ اینڈ سیریسلی ایسی تنبو جیسی ڈریسنگ آلکی اس بھتیجی پر ہی سوٹ کرتی ہے۔۔۔ اسنے مسکرا کر فاہا پر طنز کرتے گویا پہلے کا حساب بے باک کیا۔۔۔
جی بالکل۔۔۔ یہ واقعی میری پرسنیلٹی کو سوٹ کرتی ڈریسنگ ہے اور الحمدللہ مجھے میرا آنچل بہت عزیز ہے۔۔۔
فاہا کے مسکرا کر اعتراف کرنے پر جہاں پریہا استہزائیہ ہسی وہیں ماں نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
وہ ابھی بھی کیپری اور شارٹ شرٹ پر سلیقے سے آنچل سر پر اوڑھے بیٹھی تھی۔۔۔
بھلا ماں سے بڑھ کر بھی کوئی اولاد کا خیر خواہ ہو سکتا ہے۔۔۔
پریہا آپکو عزیز ہے ۔۔۔ لیکن بیٹے سے بڑھ کر نہیں۔۔ ماں سر تھام کر رہ گئ۔۔۔
یہ آوازیں مسلسل انہیں ڈسٹرب کر رہی تھیں۔۔۔
*****
ماہرہ مال سے باہر نکلی تو روڈ پر گاڑی میں بیٹھا میر سرعت سے الرٹ ہو بیٹھا۔۔۔ اسے اندر مال میں کل چالیس سے پینتالیس منٹ لگے تھے۔۔۔
وہ ہاتھوں میں چند شاپنگ بیگز تھامے سیدھا پارکنگ کی جناب بڑھی۔۔۔ حجاب کے ہالے میں اسکا چہرا مزید دمک رہا تھا۔۔۔
اسکے پارکنگ سے گاڑی نکال کر روڈ پر لاتے ہی میر نے گاڑی کی لوکیسن اور نمبر اپنے ہائیر کردہ لوگوں کو سینڈ کیا ۔۔ اور انہیں
Take your position
کا میسج سینڈ کر کے خود کچھ فاصلے سے ماہرہ کا پیچھا کرنے لگا۔۔۔
جیسے ہی ماہرہ کی گاڑی مین شاہراہ سے زرا سنسان سڑک پر آئی وہاں جھاڑیوں میں چھپے بیٹھے ان افراد نے گاڑی کو تیزی سے اپنی جانب بڑھتا دیکھ جیبوں سے ہاتھ نکالتے سڑک کی جانب اچھالے۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے سے کئ ایک نوکیلے کیل تھے۔۔۔
تیزی سے چلتی گاڑی جب ان نوکیلے کیلوں پر سے گزری تو یکدم ہی لڑکھڑا گئ۔۔۔
ماہرہ جسکا دھیاں مائز میں ہی اٹکا ہوا تھا سرعت سے سمبھلتے اسنے گاڑی کو بریک لگایا۔۔۔ ابھی وہ سمبھلی بھی نا تھی کے چاروں جانب سے جاریوں سے نکلتے نقاب پوشوں نے اسے آ گھیرا۔۔۔
ماہرہ حق دق سی صورتحال کو سمجھنے کی کوشیش کرنے لگی۔۔۔
اس سے پہلے آج تک بھلا کب اسکے ساتھ ایسی صورتحال پیش آئی تھی۔ صورتحال غیر متوقع تھی وہ لمحوں میں گھبرا اٹھی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ چاروں اسکی جانب بڑھتے ماہرہ نے تیزی سے دماغ استعمال کرتے اگنیشن میں چابی گھمائی۔۔۔
کسی طرح سے چند میٹر کا فاصلہ طے ہوجاتا تو وہ کوئی اختیاطی تدبیر کر لیتی۔۔۔ دماغ لگانے کو بھی وقت درکار تھا۔۔۔۔
انجن سٹارٹ تو ہوا لیکن ٹائروں نے ساتھ نا دیتے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔۔۔۔
ماہرہ تیزی سے ادھر ادھر دیکھتی دماغ لڑا رہی تھی ۔۔۔ صد شکر کے گاڑی اندر سے لاک تھی۔۔۔
وہ کل چار نقاب پوش تھے جن میں دو کے ہاتھوں میں گنز تھیں۔۔۔
چاروں نے آ کر گاڑی کے شیشے ڈھرڈھرانے شروع کئے تو
ماہرہ کا دل خوف سے بند ہونے لگا
وہ تب تک سیو تھی جب تک اندر تھی۔۔
مگر کب تک۔۔۔ وہ زیادہ دیر تک اندر نہیں رہ سکتی تھی وہ باخوبی جانتی تھی ۔۔۔
مخالف سمت میں فاصلے پر کھڑا میر گاڑی کے ڈیش بورڈ پر پڑے لیپ ٹاپ کی سکرین پر ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔ مطلب کے لڑکی تر نوالہ نا تھی۔۔۔ اسے ستائشی ائبرو اچکایا۔۔۔
وارن کرو۔۔۔ دروازہ نہیں کھولتی تو شیشہ توڑ کر باہر کھینچ نکالو۔۔۔
اسنے سرعت سے میسج ٹائپ کرتے سینڈ کیا اور خود خط اٹھاتے منظر دیکھنے لگا۔۔۔۔
باہر وہ دروازہ ڈھرڈھراتے عالباً اسے دھمکیاں دے رہے تھے۔۔
بند شیشوں کے باعث وہ انکی باتیں نہیں سن سکتی تھی دفعتا انہوں نے اپنی گنز کی بیک سائیڈ شیشوں میں مارنی شروع کی تو
ماہرہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ جلد بہت جلد وہ لوگ شیشہ توڑ دینے والے تھَے۔۔۔
وہ سرعت سے پیسنجر سیٹ سے اپنا بیگ کھینچتی نیچے جھکئ۔۔۔
نقاب پوشوں کے عمل میں تیزی آ گئ تھی۔۔۔
ماہرہ کے ہاتھ کپکپا رہے تھے جبکہ دل ایک سو بیس کی رفتار سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔
اسنے خود کو کمپوز کرتے کپکپاتے ہاتِوں سے بیگ کی زپ کھولی اور موبائل نکالا۔۔۔
دماغ ماووف ہو رہا تھا۔۔ شیشے میں لگتی ٹھک ٹھک کی ضربیں گویا اسکے دماغ پر لگتیں دماغ کی چولیں تک ہلا رہی تھیں۔۔
جلدی جلدی میں ہر کام غلط ہو رہا تھا۔۔۔ اسنے بعجلت واٹس ایپ کھولتے مظہر کو اپنی لوکیشن سینڈ کی اور ساتھ ہی سیو می کا میسج سینڈ کرنا چاہا۔۔۔ عین اسی وقت ٹھک کی آواز سے شیشہ ٹوٹا۔۔۔
آہہہہہ۔۔۔ ماہرہ کے حلق سے دلخراش چیخ برآمد ہوئی۔۔۔
موبائل کپکپاتے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔ پتہ نہیں میسج سینڈ ہوا تھا یا نہیں۔۔ اسنے بعجلت ہاتھ مار کر موبائل سیٹ تلے دھکیل دیا۔۔۔
وہ لوگ ٹوٹے شیشے سے ہاتھ اندر ڈال کر دروازہ کھول چکے تھے۔۔
ماہرہ حواس بحال کرتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ اسکی پیشانی عرق آلود تھئ۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ لوگ ہاتھا پائی کرتے اسے کھینچتے مائرہ دونوں ہاتھ اوہر اٹھاتی سرینڈر کر گئ۔۔۔
Don't touch me ....
میں خود باہر آ رہی ہوں۔۔۔ دور رہو مجھ سے۔۔۔ وہ جہاں تک ممکن تھا اس صورتحال میں خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔
نقاب پوش قہقہ لگا کر ہس دیئے۔۔۔ اب پھسی نا چڑیا صیاد کے جال میں۔۔۔ پہلے کیوں اتنا پھڑپھڑا رہی تھی۔۔۔
انکے زرا سا فاصلہ بناتے ہی وہ بعجلت اپنا بیگ تھامے باہر نکلی اور سارا بیگ سڑک پر الٹ دیا۔۔۔ پھر خالی بیگ سیٹ پر پھینکتی کلائی سے گھڑی اتار کر وہ بھی نیچے ہی پھیک دی۔۔۔
جو چاہیے وہ لے لو۔۔۔ لیکن دور رہو۔۔۔
میر نے دلچسپی سے ساری کاروائی دیکھی۔۔۔
نقاب پوشوں نے نیچے دیکھا جہاں چند ایک جیولری پیس گھڑی اور نقد رقم کے ساتھ اے ٹی ایم کارڈ پڑا تھا۔۔۔
بس۔۔۔ ایک نقاب پوش سیدھا ہوتا اسے دیکھنے لگا۔۔۔
چل جلدی حجاب ہٹا۔۔۔ اور دکھا کیا جیولری پہن رکھی ہے۔۔۔ وہ لوفرانہ انداز میں بھڑکا۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔۔۔ اور کچھ نہیں ہے میرے پاس۔۔۔ یہ ہی ہے سب کچھ۔۔۔ مزید چاہیے تو گاڑی لے جاو۔۔۔ ماہرہ کا دل کانپا لیکن اسنے یہ لڑکھڑاہٹ لہجے اور زبان میں نا گھلنے دی۔۔۔
زیادہ تیز بننے کی ضرورت نہیں جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔
دفعتا دوسرا نقاب پوش غصے سے اسکی جانب بڑھتا اس پر جھپٹا۔۔۔
اسکے انداز ملاخظہ کرتی ماہرہ اس کے لئے تیار تھی۔۔
گو کے ایک مرد سے فزیکلی اسکا کوئی مقابلہ نا تھا لیکن وہ پھر بھی ڈٹ کر کھڑی تھی۔۔۔ اسنے سرعت سے اسکا بڑھتا ہاتھ تھام کر جھٹکنا چاہا۔۔۔
لیکن صورتحال یکدم ہی بہت بے قابو ہوگی جب وہ چاروں ہی دست درازی پر اتر آئے۔۔۔ اس پر تو اکیلا ایک مرد ہی بھاری تھا کجا کے وہاں چار تھے۔۔۔
وہ ان چاروں کے نرغے میں گھری مسلسل اپنے بچاو میں ہاتھ پاوں چلا رہی تھی ۔۔۔ بے بسی سے آنکھیں تک چھلک پریں تھیں۔۔۔ ایک نے بازو سے پکڑ کر کھینچا تو وہ بے طرح لڑکھڑائی جب دوسرے نے اسکا حجاب کھینچنا چاہا۔۔۔
اسکے گلے کو کھینچ لگی لیکن اسنے مضبوطی سے اسے گلے سے تھامتے سرکنے سے روکا اور اگلے ہی لمحے نقاب پوش کی بازو پر زور دار انداز میں کاٹا۔۔۔ پیچھے کھڑے نقاب پوش نے اسکی یہ کاروائی دیکھتے اسے پیچھے سے دھکا دیا وہ لڑکھڑائی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ زمین بوس ہوتی اگلے نقاب پوش نے اسے سرعت سے سمبھالتے خود میں بھینچنا چاہا۔۔۔
ماہرہ بن جل مچھلی کی مانند تڑپ تڑپ جاتی اسکی گرفت سے پھسلی۔۔۔
وہ چاروں قہقہ لگا کر ہس دیئے۔۔۔
اپنی گاًی میں بیٹھا میر کھل کر مسکرا دیا۔۔۔
چل میر شہزادے۔۔۔
It's Time of Hero's entry...
وہ مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کرتا اسی جانب کو بڑھا۔۔۔ جب ان سے کچھ فاصلے پر اسنے یکدم گاڑی کو بریک لگاتے گاڑی روکی۔۔۔
وہ چاروں زرا ٹھٹھکے۔۔۔
بھائی لڑکی کو سائیڈ پر لے چل یہاں لفڑا ہو سکتا ہے۔۔۔ ایک نقاب پوش نے مکاری سے اس رکتی گاڑی کو دیکھ دوسرے سے کہا۔۔۔
انکے رکنے اور بات کرنے پر ماہرہ چونک کر رکنے والی گاڑی کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اسے گھسیٹتے ہوئے جھاڑیوں کی جانب لے جاتے گاڑی سے ایک سوٹڈ بوٹد شخص نکلا۔۔۔
اوے کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔ اور لڑکی کے ساتھ کیا بدتمیزی کر رہے ہو۔۔۔ وہ گاڑی سے نکلتے ہی غراتا ہوا ان پر چڑھ ڈورا۔۔ اس وقت اسکا دل خود ہی خود کی اداکاری کو داد دینے کو چاہ رہا تھا۔۔۔۔
اپنے کام سے کام رکھ سالے زیادہ ہوشیار بننے کی ضرورت نہیں۔۔۔ گنز تھامے دونوں نقاب پوش گنز اس پر تانتے اسکی جانب بڑھے جب وہ تیزی سے گاڑی کے کھلے دروازے میں جھکتا بعجلت اپنا ریوالور نکال کر انکے گنز تھامے ہاتھوں پر فائر کر گیا یوں کے گولیاں انہیں چھو کر گزری اور انکی گنز وہیں زمین بوس ہو گئ۔۔۔
میر اپنی گنز وہیں پھینکتا ان پر جھپٹ پڑا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ گھتم گھٹا تھے۔۔۔صورتحال سرعت سے بدلی تھی۔۔
ماہرہ حق دق سی منہ پر ہاتھ رکھے خوفزدہ نگاہوں سے انہیں دیکھتی اپنی گاڑی کی جانب بھاگی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی دروازہ لاک کر گئ۔۔۔ گو کے ٹوٹے شیشوں میں دروازہ لاک کیا نا کیا ایک برابر تھا لیکن پھر بھی یہ اسکی شعوری کوشیش تھی۔۔۔
میر نے کن اکھیوں سے ماہرہ کو دیکھا اور ان سب کو آنکھ سے اشارہ کیا۔۔۔ وہ سب اسے دھکا دے کر نیچے گراتے جھاڑیوں سے اپنی بائیک نکال کر بھگا لے گئے۔۔
میر نے مسکرا کر اپنا زخمی ہاتھ جھٹکا اور انگوٹھے سے ہونٹ کے قریب سے خون صاف کرتا ماہرہ کی جانب بڑھا۔۔۔
چال میں سرمستی تھی۔۔۔۔
ایکسکیوز می میم۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔
وہ اسکے دروازے کے پاس جھکتا شائستگی سے گویا ہوا۔۔
ماہرہ کپکپاتے ہاتِوں سے سٹرینگ تھامے اسکے وہیل سے سر ٹکائے خود کو کمپوز کرتی اپنے آنسو ضبط کر رہی تھی۔۔
اسنے اپنی بھرائی خوفزدہ نگاہیں اٹھاہ کر میر کو دیکھا۔۔۔
آہ۔۔۔ وہ ان بھیگی آنکھوں کا مزید دیوانہ ہوا تھا۔۔۔
ماہرہ نے پلکیں جھپکتے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
اسکے ہاتھ سے خون ٹپک رہا تھا ماتھے اور ہونٹوں کے پاس بھی خون کی بوندیں تھیں۔۔۔ بال بکھرے پڑے تھے جبکہ سفید شرٹ پر بھی جگہ جگہ مٹی اور خوم کے دھبے لگے تھے۔۔۔ اسے یوں دیکھ ماہرہ کا دل پسیجا۔۔۔
آہکا بہت بہت شکریہ کے آپ نے اس مشکل ترین وقت میں میری مدد۔۔۔ وہ تشکرانہ گویا ہوئی۔۔
ارے شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔ یہ میرا فرض تھا۔۔۔ آپکی جگہ کوئی بھی ہوتا میں یہ ہی کرتا۔۔۔
آپکی گاڑی کو ریپیرینگ کی ضرورت ہے۔۔۔ ٹائر بھی ڈیمج ہو گئے ہیں۔۔ آپ آئیں میں آپکو ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔ اسنے نہایت شائستگی سے اسے آفر کی۔۔۔ اتنی رحمدلی دکھانے کے بعد تو و ہ حقدار تھا کے وہ لڑکی آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کر لیتی۔۔۔
لیکن اسے اصل جھٹکا تب لگا جب وہ بنا توقف کے سر نا میں ہلا گئ۔۔
نہیں میں مینج کر لوں لگی۔۔۔ آپ نے جتنی میری مدد کر دی میں آپکا اتنا احسان ہی نہیں چکا سکتی۔۔۔ سامنے کھڑا شخص شائستہ تھا اس لیے وہ بھی شائستگی سے اسے منع کر گئ۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں مس۔۔۔اب آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں۔۔۔ آپ پلیز باہر آئیں۔۔۔ میں آپکو تنہا اس روڈ پر چھوڑ کر نہیں جا سکتا یہ میرے ضمیر کو گوارا نہیں۔۔۔
اگر شائنہ اسے مائنڈ گیمر کہتی تھی تو اس میں کوئی شک بھی نا تھا۔۔۔ اگر وہ اپنے ہر کام میں کامیاب ٹھہرتا تھا تو اسی لئے کے وہ لوگوں کے دماغوں کے ساتھ کھیل کر بڑی آسانی سے اپنے بارے میں انکی اچھی رائے حاصل کر لیتا تھا۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ میرا میرے بھائی سے رابطہ استوار ہو گیا ہے۔۔ وہ بس آتا ہی ہوگا۔۔۔ ماہرہ مسلسل خود کو کمپوز کر رہی تھی۔۔۔ خطرہ ٹل گیا تھا لیکن دل ہنوز سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے جیسے آپکی مرضی ۔۔۔ فلحال وہ اس سے بحث کر کے اس پر بنا اپنا فرسٹ امپریشن خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے نیچے پڑا ماہرہ کا سامان اٹھانے لگا۔۔
یہ غالباً آپکا ہے۔۔۔ اسنے پیسنجر سائیڈ کے ٹوٹے شیشے سے ہاتھ بڑھاتے وہ سارا سامان ڈیش بورڈ پر رکھا۔۔۔
آپکا بہت شکریہ۔۔۔ ماہرہ اس شخص کی شرافت اور رحمدلی کی قائل ہوئی۔۔۔
مس گھبرانے کی ضرورت نہیں میں سامنے گاڑی میں بیٹھا ہوں ۔۔ جب تک آپکا بھائی آ کر سیولی آپکو ساتھ نہیں لے جاتا تب تک میں وہیں سے آپکو دیکھ رہا ہوں ۔۔۔ وہ نہایت دوستانہ انداز میں گویا ہوتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔۔۔
اسکی چال میں فتح کا نشہ تھا۔۔ وہ اپنا پہلا ہی امپریشن ماہرہ اظہر پر اچھا ڈال پانے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔۔۔
پرانی فلموں کا نہایت کامیاب سین آج اسنے یہاں پلے کروایا تھا اور حسب معمول اس سین نے ولن کو ہیرو ثابت کر دیا تھا۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے گاڑی میں جا بیٹھا۔۔
ماہرہ اظہر۔۔۔ ایک ہفتہ۔۔۔ محض ایک ہفتہ کیونکہ میر اپنا کوئی بھی پراجیکٹ حل کرنے کو ایک ہفتے سے زیادہ وقت نہیں لگاتا۔۔
محض ایک ہفتے میں تم خود چل کر میرے پاس آو گئ یوں کے تم خود سمجھ نہیں پاو گی کے تمہارے ساتھ ہوا کیا اور کیسے ہوا۔۔
وہ قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔ باہر اب ماہرہ کے پاس غالباً اسکا بھائی آ گیا تھا۔۔۔ وہ بعجلت گاڑی سے باہر نکلتی اسکے ساتھ لگتی شدت سے رو رہی تھی۔۔۔ وہ شخص اسکا سر تھپتھپاتا۔۔۔ اسے اپنی گاڑی کی پیسنجر سیٹ پر بیٹھا کر اب ڈرائیور کو ماہرہ کی گاڑی کے بارے میں کچھ ہدایت دے رہا تھا۔۔۔
میر گہرائی سے انکی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا۔۔۔
انکی گاڑی کے وہاں سے نکلتے ہی وہ بھی اپنی گاڑی وہاں سے بھگا لے گیا۔۔۔۔
******

No comments