Header Ads

Roshan Sitara novel 77th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  77th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

77th epi...
 شائنہ نہایت غصے سے راہداری سے گزرتی آ رہی تھی۔۔۔ اسنے نیلی جینز پر سرخ نیک شرٹ ذیب تن کر رکھی تھی۔۔۔ جبکہ بال آج کھلے تھے۔۔۔ کراس باڈی بیگ پہن رکھا تھا جبکہ مزاج بگڑے اور نقوش تنے دکھائی دیتے تھے۔۔۔
تیز تیز قدم اٹھاتی وہ احمر کے کیبن کی جانب بڑھی اور بنا ناک کئے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔۔۔۔
جب تم ایک نہایت نکمے اور فارغ الدماغ آئی ٹی پرسن ہو تو تمہیں کہا کس نے یہاں ہماری لیب میں کام کرنے کو۔۔۔
اسے اندر آتا دیکھ احمر جو سکرین پر جھکا ہوا تھا۔۔۔ سرعت سے سیدھا ہوا جب وہ بنا اسے سمبھلنے کا موقع دیئے اس پر چڑھ ڈوری۔۔۔
غصے سے اسکی رگیں پھولنے لگیں تھیں۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ احمر اچھنبے سے گویا ہوا۔۔۔
وہ غصے سے اسکی جانب بڑھی۔۔۔۔
تمہاری وجہ سے میرے بابا ہاسپٹلائزڈ ہیں احمر۔۔۔ وہ زور سے میز پر ہاتھ مارتی جھکی اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غرائی۔۔۔
بابا ہسپٹلائزڈ ہیں اور میر یہاں ہے نہیں۔۔۔ میرا اس سے رابطہ بھی نہیں ہو رہا۔۔۔ کے بحرحال وہ جتنا بھی کرپٹ سہی پر میرے بابا کا سہارا ہے۔۔۔
تمہارا وہ سو کالڈ روبورٹ ہمارا ناقابل تلافی نقصان کر چکا ہے۔۔۔
ہمارا ڈیٹا۔۔۔ ہمارا ریکارڈ مشینری غرض ہر چیز وہ نوے فیصد تباہ کر چکا ہے۔۔۔ 
کمپنیز کی کالز پے کالز آ رہی ہیں کہ انکے سافٹ وئیرز اپڈیٹ نہیں ہو رہے۔۔۔ پیچھے سے پروسیسنگ  ساری ڈسٹرب ہوئی پڑی ہے سب مینج کیسے ہو۔۔۔
میں بوکھلا کر رہ گئ ہوں۔۔ کیا کیا کرتی پھروں میں۔۔۔ غصے سے دھارتے اسکی آواز بھرا گئ۔۔
میرے بابا ہاسپٹلائزڈ ہیں احمر۔۔۔ اتنی بری خبریں ایک ساتھ وہ کیسے برداشت کریں گے۔۔۔۔
ہمارا لاکھوں کا نہیں کڑوروں کا نقصان ہوا ہے۔۔۔
اسکی بھرائی آواز اور نم آنکھیں دیکھ احمر کو گہرے ملال نے آ گھیرا۔۔۔
آئی ایم سوری شائنہ۔۔۔
لیکن تم اچھی خاصی باشعور لڑکی ہو اچھے سے جانتی ہو کے ضروری نہیں پہلا ایکسپیریمنٹ درست ہی ہو۔۔۔ کئ کئ ایکسپیریمنٹس غلط ہو جاتے ہیں۔۔۔ تھامس ایڈیسن نے نو سو ننانوے غلط ایکسپیریمنٹس کئے تو پھر کہیں جا کر بلب بنا تھا۔۔۔
وہ پشیمان سا اپنی وضاحت دیتا گویا ہوا جب وہ اکتائے سے انداز میں اسکی بات کاٹ گئ۔۔
اوہ پلیز احمر۔۔۔ لیکچر مت جھاڑو۔۔۔ اس وقت دماغ بہت خراب ہے میرا۔۔۔ وہ پریشانی سے ہاتھ جھلاتی متھا مسل کر رہ گئ۔۔۔
لیکچر نہیں ہے شائنہ۔۔۔ میں روبورٹ میں موڈیفیکیشن کر رہا ہوں نا۔۔  انشااللہ میرا ایکسپیریمنٹ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
عام روبورٹ تیار کرنا تو کوئی مشکل نہیں جو چھوٹے موٹے کاموں میں انسان کی مدد کر سکے۔۔
لیکن سر کو آئی ایس بیس روبورٹ چاہیے تھا جو جذبات کو پڑے رکھ کر انسانی سوچ سے زیادہ اور جلدی ہر چیز سکین کر کے آوٹ پٹ دے سکے۔۔۔
اب سر نے اس روبورٹ کے سامنے بات ہی غلط کر دی۔۔۔
پہلی بات میں ہی یہ کہہ دیا کے میں تمہارا تخلیق کار ہوں۔۔۔ اب وہ آئی ایس بیس انسان سے زیادہ سمجھدار روبورٹ تھا۔۔۔ اسے پتہ ہے کے اسے احمر شیخ نے بنایا ہے ۔۔۔ اسی لئے اسے غصہ آگیا اور اسنے اتنا سخت ری ایکشن دے دیا۔۔۔ وہ پشیمان سا سر کھجاتا بولا۔۔۔
واٹ۔۔۔  وہ چٹخی۔۔۔ تم نے بنایا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ لائیک سیریسلی۔۔ تمہیں میرے باپ نے ہائیر کیا ہے۔۔۔ ساری انویسٹمنٹ انکی تھی۔۔۔ شائنہ کو باقاعدہ شاک لگا اس کی بات سن کر۔۔۔ تو تم اسکے تخلیق کار کیسے ہوئے بھلا۔۔۔
ہاں تو یہ بات اسے تھوڑی نا پتہ تھی۔۔ یہ سب کچھ تو اسکی ٹیونگ ہو تی تو اسکے ڈیٹا سسٹم میں جاتا نا جسکی بیس پر وہ یہ بات سمجھ پاتا۔۔ اسنے منہ بنایا۔۔۔
لائیک سیریسلی۔۔ وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتی اسکی جانب پلٹی۔۔۔
اور کیا بولا تم نے روبورٹ کو غصہ آگیا۔۔۔ پاگل ہو کیا تم۔۔۔ وہ مشین ہے۔۔۔ اور مشین کے جذبات نہیں ہوا کرتے۔۔۔ 
Okay... I admire my mistake...
 اسے غصہ نہیں آیا۔۔ لیکن اڑٹیفیشل انٹیلیجنس کی بیس پر اسنے نینو سیکنڈز میں یہ سکین کر لیا کے سر جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔ اور اسنے ردعمل میں شاید انہیں سزا دی۔۔۔
وہ خود کنفیوز سا بول رہا تھا۔۔۔
شائنہ نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا۔۔۔
روبورٹ کو سزا جزا کا حق کس نے دیا۔۔۔ وہ محض انسانی مدد کے لئے بنائے جاتے ہیں۔۔ وہ غرائی ۔۔
تو یہ بات تو اپنے باپ سے پوچھو نا۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑایا۔۔۔
کیا بولا تم نے۔۔۔ وہ اسکی بڑبڑاہٹ نا سمجھ پاتے تصیح کے لئے ناسمجھی سے دوبارہ پوچھ بیٹھی۔۔
کچھ نہیں۔۔ بس یہ ہی کے اسکی ٹیونگ اور اپ گریڈنگ کے بعد قوی امید ہے کے وہ ٹھیک ہو جائے۔۔۔ 
بائے دا وے۔۔۔ ایک بات پوچھوں۔۔۔ شائنہ بنا اسے کچھ کہے دروازے کی جانب بڑھی جب وہ سرعت سے گویا ہوا۔۔۔
بولو۔۔ وہ پھآڑ کھانے کو ڈوری۔۔۔
میری سیلری تو نہیں کٹے گی نا۔۔۔ دیکھو مجھے ہیسوں کی بہت ضرورت۔۔۔
ڈسکسٹنگ۔۔۔
وہ ناجانے اور بھی کیا کہنے والا تھا جب شنائنہ غصے سے کہتی دروازہ کھول کر باہر نکل گئ۔۔۔ جبکہ وہ گہری سانس خارج کر کے لب چبا کر رہ گیا۔۔۔
اسے واقعی پیسوں کی ضرورت تھی۔۔۔
***** 
سر یہ رہی ماہرہ اظہر کی آج کی رپورٹ۔۔ میجر اریز اس وقت آرمی بیس کا چکر لگانے آیا تھا جب اسکے موبائل کی بپ بجی۔۔۔  اسنے موبائل چیک کیا تو حسب معمول ماہرہ کی رپورٹنگ میل تھی۔۔۔ 
سب کچھ اوکے تھا۔۔۔ وہ آج بھی گھر پر ہی رہی۔۔۔ نا کوئی ملنے آیا نا وہ کہیں گئ۔۔ البتہ آج اسنے اپنے بیٹے کے لئے  کئیر ٹیکر رکھی تھی۔۔۔ سب اوکے تھا۔۔۔ کہیں کچھ غیر معمولی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
میجر اریز نے گہری سانس خارج کی۔۔۔ پہلے پہل جو ہر دم ماہرہ کی طرف دھیان لگا رہتا کے خطرہ اسکے ارد گرد کہیں ہے کیونکہ وہ دشمن کی نظر میں ہے اس جانب سے اب وہ ریلیکس ہونے لگا تھا۔۔۔ پچھلے تین مہینے مسلسل اس پر چیک آوٹ رکھنے کے بعد اب وہ کچھ پرسکون تھا کے ماہرہ سیو تھی۔۔۔
دشمن نےنا تو اس پر نظر رکھی تھی اور ناہی اسے نقصان پہنچانے کی کوشیش کی تھی۔۔
وہ موبائل جیب میں ڈال کر واپسی کے لئے پلٹا۔۔۔
عین اسی وقت سیاہ کھلے سے عبایہ میں حجاب کئے خود کو اچھے سے کور کئے ماہرہ اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتی سوئے ہوئے مائز کو پیار کر کے مال جانے کے لئے گھر سے نکلی۔۔۔ آج وہ تقریباً ایک سال بعد اپنی گاڑی پھر سے ڈرائیو کرنے والی تھی۔۔۔ باہر کی دنیا سے ایک لمبے عرصے بعد اسکا رابطہ پھر سے جڑنے جا رہا تھا۔۔
اسنے گہری سانس خارج کی اور آگے بڑھ کر ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی۔۔۔ 
بظاہر عام سے انداز میں کھڑکی کے سامنے کھڑی نسیم نے اسکی  گاڑی گھر سے نکلتے دیکھ عین اسی وقت نامحسوس سے انداز میں میر کو میسج کر کے ماہرہ کے گھر سے نکلنے کا بتا کر ساتھ ہی ساتھ مال کا نام بھی میسج کیا جو وہ باتوں ہی باتوں میں ماہرہ سے جان چکی تھی۔۔۔
****
ویٹ ویٹ ویٹ۔۔۔
آگے بڑھنے سے پہلے زرا ٹہریے۔۔
کیا آپ ہماری نئ ای بک حاصل زیست کے بارے میں جانتے ہیں۔۔۔
آگر نہیں تو بتاتے چلیں کے یہ ایک نئے اور اچھوتے موضوع پر ام ہانیہ کے قلم سے تحریر ایک نئ ای بک ہے۔۔۔ جسکی پری بکنک بہت ہی مناسب قیمت پر جاری ہے۔۔۔
تو کیا آپ نے اسکی پری بکنگ کروا کی۔۔۔
اگر ہاں ۔۔ تو
Best of luck for a new experience of your life...
اگر نہین کی تو 
don't miss this chance...
e.book is available 40% off then its original price for pre booking...
so avail this offer...
e.book prise : Rs 200
Pre Booking prise : Rs 120
invest Rs 120 at your self and you will never regret for it... 
Contact Number : what's app number
03156490853
***
ہوا کے دوش پر لمحے کے ہزارویں حصے میں میسج میر کے موبائل پر پہنچا جسے پڑھتے ہی اسکے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ابھری اور وہ سب چھوڑ چھاڑ گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر کو نکلا کے آخر اتنے عرصے کے بعد آج روبرو آنے کا موقع مل رہا تھا۔۔۔
*****
مرتسم صبح ہی صبح  ماں کے پاس موجود تھا وہ فجر پڑھ کر سیدھا انکے کمرے میں ہی آیا تھا۔۔۔ ماں بھی ابھی ابھی فجر پڑھ کر فری ہوئیں تھیں۔۔۔
وہ خاموشی سے آ کر انکی گود میں سر رکھتا صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔۔۔
ماں مسکرا کر اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔۔۔
اسے خود سے ماں سے کل کے حوالے سے کوئی بھی بات کرنا مناسب نا لگا تبھی خاموشی سے انکے بات شروع کرنے کا منتظر رہا۔۔۔
کیسا جا رہا ہے بزنس۔۔۔ وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتیں محبت سے گویا ہوئیں۔۔۔
آپکی دعاوں کے باعث پرفیکٹ۔۔ وہ آنکھیں مونڈے ہی مختصرانہ گویا ہوا۔۔۔
مرتسم بیٹا ماں سے کتنی محبت کرتے ہو۔۔۔ انکے محبت سے پوچھنے پر مرتسم کے کان کھڑے ہوئے۔۔۔ یقیناً یہ کل کے حوالے سے شروع ہونے والی تمہید تھی۔۔۔
خود سے بھی زیادہ۔۔۔ وہ صدق دل سے گویا ہوا۔۔۔
ماں کے لئے کیا کر سکتے ہو۔۔۔ سرعت سے اگلا سوال آیا۔۔۔
ہوگئ شروع بلیک میلنگ دل نے شدت سے کچھ غلط ہونے کے سگنلز دیئے۔۔۔
اپنی جان دے سکتا ہوں۔۔۔ اور کسی کی لے بھی سکتا ہوں۔۔۔ اسکا انداز سادا اور لہجہ مضبوط  تھا۔۔۔ ماں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔
تمہارے بخشے گے اسی مان کے باعث کل میں نے تمہاری پریہا کیساتھ منگنی طے کر دی ہے اور اس مہینے کے آخر میں تمہاری منگنی ہے اس سے۔۔۔ 
ماں کے کہنے پر اسنے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور جھٹکے سے سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
ماتھے پر شکنوں کا جال بچھنے لگا تھا۔۔۔
ماں کو اس سے کسی ایسے ہی ردعمل کی توقع تھی لیکن وہ بھی ماں تھیں اپنی تیاری مکمل کئے بیٹھیں تھیں۔۔۔
وہ خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔۔۔ ماں کو اسکی خاموشی سے کوفت ہونے لگی۔۔۔
ماں میں کون ہوں۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ عجیب سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
مرتسم لودھی۔۔۔ مطلب آپکا اکلوتا بیٹا۔۔۔ کچھ توقف کے بعد وہ خود ہی جواب دیتا گویا ہوا۔۔ 
ماں ناسمجھی سے اسے دیکھتیں رہیں۔۔۔
تو کیا اس میں بھی میرا قصور ہے۔۔۔ مطلب آپ نے اگر مزید اولاد نہیں کی تو اس میں آپکا اور بابا کا قصور ہے نا۔۔۔ میرے اکلوتا بیٹا ہونے میں میرا قصور تو نہیں۔۔۔
وہ مرتسم لودھی تھا جسنے ایکسپلینیشن کے لئے کبھی سیدھا راستہ استعمال کیا ہی نا تھا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی بے غیرت انسان ۔۔۔ یہاں اس بات کا مقصد۔۔۔ مان خجالت سے اس پر چڑھ دوڑی۔۔۔
مطلب یہ کہ ماں آپکو ایک آدھ بیٹا اور کر لینا چاہیے تھا تاکے اکلوتے بیٹے کے سر پر ایموشنل بلیک میلنگ کی تلوار زرا کم کم تانی جاتی کے چلو یہ نہیں تو میری خواہش دوسرا بیٹا پوری کر دے گا۔۔۔
اب میرا کیا قصور ہے کے میں بلی کا بکرا بنوں۔۔۔ اسکا انداز ایسا تھا جیسے ماں واقعی اسے قربان کرنے جا رہی ہوں۔۔۔
دیکھیں ماں۔۔۔ اکلوتا ہوں مگر ہوں تو آپکا نا۔۔۔ اور بیٹوں کی قربانی کون دیتا ہے۔۔ وہ جھٹ سے انکے قدموں میں بیٹھتا  انکے ہاتھ تھام کر انہیں آس سے دیکھتا ماں کو گھبرانے پر مجبور کر گیا۔۔۔
کون کہتا تھا کے ایموشنل بلیک میل صرف مائیں ہی کرتی ہیں۔۔۔
کیا اول فول بول رہے ہو مرتسم۔۔۔۔
پریہا بہت اچھی لڑکی ہے۔۔ وہ ماں کی کئ گئ تیاری کو جڑوں سے ہلا رہا تھا۔۔۔ انکی ساری پلینینگ سارے ڈائیلاگز سارے فقرے گڈ مڈ ہو رہے تھے۔۔ اسے دھمکی کب دیتیں۔۔۔ وہ تو خوفزدہ سا ماں کے گھٹنے سے لگا رحم کی اپیل کر رہا تھا۔۔۔
ماں وہ اچھی نہیں بہتتتت اچھی ہے۔۔مگر آپکا بیٹا اتنا اچھا نہیں پلیز مجھ پر رحم کریں میں اتنی اچھی لڑکی ڈیزرو نہیں کرتا۔۔۔ مجھے زرا کم اچھی لڑکی چاہیے۔۔۔ اسکے انداز میں رتی برابر فرق نا آیا۔۔۔
ماں سر تھام کر رہ گئ۔۔۔۔
تمہیں اس سے مسلہ کیا ہے۔۔۔ وہ چڑ کر گویا ہوئیں۔۔۔
کوئی ایک ہو تو بتاوں۔۔۔ وہ بیچارگی سے گویا ہوا۔۔۔
نہیں تم کوئی ایک ہی بتا دو۔۔۔ 
مجھے بیوی چاہیے ماں۔۔۔ وہ محبت سے بولا۔۔۔ شوپیس نہیں۔۔۔ 
اب یہ حد ہو رہی ہے مرتسم۔۔۔ نہیں ماں حد تب ہوگئ جب میں ماں کو خوش کرنے کے چکروں میں اپنی زندگی عذاب بنا لوں گا۔۔۔
دیکھیں آپکا بیٹا ہوں میں۔۔۔پھر میری ناآسودہ زندگی دیکھ کر آپکو ہی دکھ ہو گا۔۔۔ 
ماں نے اپنے اس بگڑے بیٹے کو دہل کر دیکھا۔۔۔ کیوں ماں کا دل دہلا رہے ہو مرتسم۔۔۔ مانا کے وہ تھوڑی سی آزاد خیال ہے۔۔ لیکن تم سے محبت کرتی ہے تمہاری محبت اسے بدل دے گی۔۔۔ بیٹا عورت شوہر کی خاطر خود کو سر تا پاوں بدل لیتی ہے۔۔۔ میں جانتی ہوں ابھی وہ تمہیں پسند نہیں۔۔ لیکن شادی کے بعد وہ پور پور تمہارے رنگ میں رنگ جائے گی۔۔۔
ماں نے نرمی سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔ انداز قائل کرنے والا تھا۔۔۔
وہ آنکھیں میچ کر ماتھا مسلنے لگا۔۔۔ جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔۔۔
ماں وہ سامنے دیکھیں۔۔۔ اسنے انکے کمرے کی کھلی کھڑی سے سامنے نظر آتے درخت کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔
ماں نے اسکی تقلید میں وہاں دیکھا۔۔۔
اسکی جو ہری شاخیں ہیں۔۔۔ جو ابھی نئ ہیں۔۔۔ ان شاخوں کو آپ جس جانب موڑیں گی نا وہ مڑ جائیں گی۔۔ کیونکہ ان میں لچک ہے۔۔۔ وہ نرم ہیں انہیں آپ جس ساخت میں ڈھالیں گی وہ ڈھل جائیں گی۔۔۔
اسکے برعکس جو سوکھی ٹہنیاں ہیں نا ان کو آگر آپ اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہیں گی نا تو وہ نہیں مریں گی۔۔۔ البتہ ٹوٹ جائیں گی۔۔۔ کیونکہ ان میں لچک نہیں۔۔۔
اور بالکل اسی طرح پریہا خانزادہ عمر کے اس حصے میں نہیں ہے جہاں اسے بدلا جا سکے۔۔۔  بلکہ وہ ایک میچور اور باشعور ذہن کی مالکن ہے۔۔ وہ ہری نہیں سوکھی ٹہنی ہے جسے ٹوٹنا منظور ہوگا لیکن مڑنا نہیں۔۔۔ اسے جس انسان کی محبت نے بدلنا تھا وہ اسکی ماں تھی۔۔۔ اولاد کی تربیت ماں کا کام ہوتا ہے پارٹنر کا نہیں۔۔۔
تم غلط مثال غلط جگہ جوڑ رہے ہو۔۔۔
ماں کو اسکی بات بری طرح چبھی۔۔ بیٹا کسی صورت قائل ہو کر نہیں دے رہا تھا۔۔
اوکے فائن۔۔۔ ٹھیک کہہ رہی ہونگی آپ۔۔۔ میں آپ کے ساتھ بحث پر نہیں اتروں گا۔۔۔ 
لیکن یہ ضرور کہوں گا کے آپکا بیٹا ایک عام سا انسان ہے جسے بالکل عام سی لڑکی بیوی کے روپ میں چاہیے۔۔۔
جو اسکے گھر کو جنت بنا دے۔۔۔
کل کو میرے بچے نینی اور کئیر ٹیکر کے ہاتھوں پلیں۔۔۔ یہ بات میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔۔۔ میں ایک ٹیپیکل اور روایتی مشرقی مرد ہوں۔۔۔ جسے بیوی شمع محفل نہیں چاہیے۔۔۔  کل کو اگر اس بات پر اختلافات ہوں اور مجھے دقیانوسی کہہ کر میرے گھر کا سکون برباد ہو تو میری اجڑی زندگی کی ذمہ دار آپ ہونگی۔۔۔
مجھے بیوی وہ چاہیے جسکی زندگی کی پہلی ترجیح اسکا شوہر اسکے بچے اور اسکا گھر ہو۔۔۔ مجھے بیوی ایسی چاہیے جسکے دم سے گھر جنت لگے۔۔۔ جو شوہر گھر واپس لوٹے تو وہ اسے اپنے بچوں کے ساتھ مصروف انکے ساتھ ہستی کھیلتی ملے۔۔۔ جسے دیکھ کر شوہر کی دن بھر کی تھکن اتر جائے۔۔۔ ایسی بیوی جو گھر میں موجود نا ہو تو گھر گھر نا لگے۔۔۔۔
ایسی بیوی نہیں جسکا گھر آنے کے بعد شیڈیول چیک کیا جائے کے وہ اس وقت کس پارٹی یا گیٹ ٹو گیڈر میں موجود ہے اور اسکی واپسی رات کے کس پہر ہوگئ۔۔۔
جسکا بچہ پیچھے بخار میں تپ رہا ہو اور ایک نینی اسکے سر پر مسلط ہو۔۔۔ جسکا بچہ ماں کے لمس کو ترس جائے۔۔
اگر آپکو لگتا ہے کے آپکی بھانجی میرے لئے ایسی بیوی ثابت ہو سکتی ہے جیسی میں نے کہا تو جو آپکے دل میں آئے آپ وہ کریں۔۔۔ اور اگر آپکو لگتا ہے کے یہ میری طرف سے اس پر لگنے والی بے جا پابندیاں ہیں تو پلیز ۔۔۔ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لیں۔۔ کیونکہ آپ دو الگ الگ مداروں کو آپس میں ملانے کی کوشیش کر رہی ہیں اور اسکا انجام تباہی ہی ہوتا ہے۔۔۔
ایسے ننانوے فیصد گھر ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔۔۔ ہاں ایک فیصد کامیاب بھی رہتے ہیں۔۔۔ 
لیکن میری آپ سے ریکویسٹ ہے ماں کے اپنے اکلوتے بیٹے کی زندگی کو تجربات کی نظر مت کریں۔۔۔ آپ ماں ہیں میری۔۔۔ اور مجھے آپ سے عزیز کوئی نہیں۔۔ اسنے ماں کے ہاتھ کا بوسہ لیتے اسے آنکھوں سے لگایا۔۔۔ ماں کی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔۔۔
بالکل اسی طرح جس طرح آپکو مجھ سے عزیز کوئی نہیں۔۔۔ اسی لئے کہہ رہا ہوں اپنے اتنے پیارے سے بیٹے کی زندگی کا فیصلہ  لینے سے پہلے اچھے سے سوچ لیں۔۔۔ اور مجھے میری ماں پر پورا بھروسہ ہے بھلا ماں سے بڑھ کر بھی کوئی بیٹے کو جان سکتا ہے۔۔۔ اور کیا بھلا کوئی ماں سے بڑھ کر بھی اولاد کا بھلا چاہ سکتا ہے۔۔۔ پریہا آپکو لاکھ پیاری سہی لیکن وہ آپکو آپکے بیٹے سے پیاری نہیں ہو سکتی۔۔ وہ اٹھ کھڑا ہوتا انکے ماتھے کا بوسہ لیتا گویا ہوا۔۔۔
پھر وہ بنا پلٹے کمرے سے نکل گیا جبکہ ماں بے حس و حرکت وہیں بیٹھی رہ گئں۔۔۔وہ بہت محبت سے انکی روح تک جھنجھوڑ گیا تھا۔۔۔ 
******
کمرے سے باہر نکلتے ہی وہ سیدھا لان میں آتا باپ کا نمبر ملا کر فون کان سے لگا گیا۔۔۔ سردی خاصی بڑھنے لگی تھی لیکن اسکے باوجود وہ اس وقت لاپرواہ سا ٹراوزر شرٹ میں ملبوس چپل پاوں میں پہنے ہوئے تھا۔۔۔ ہوا سے بال اڑ اڑ کر ماتھے پر پھیل رہے تھے۔۔۔
لودھی صاحب آپ گھر واپس کب آ رہے ہیں۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی وہ گویا ہوا۔۔ جبکہ اسکے طرز تخاطب پر دوسری جانب موجود بابا قہقہ لگا گئے۔۔۔
خیریت یہ آج لودھی صاحب کی یاد صبح ہی صبح کیسے آ گئ۔۔۔ 
یاررر بابااااا۔۔۔ پلیز اپنا ٹور مختصر کر کے جلدی سے واپس آ جائیں نا۔۔۔ پیچھے سے آپکی مسز ناجانے کیا کیا سوچے بیٹھی ہیں۔۔ پکا مجھے بلی کا بکرا بنانے کا ارادہ ہے انکا۔۔۔
آپکے آنے سے میرا کیس زرا مضبوط بن سکتا ہے اور میری جان پریہا نامی حسین بلا سے چھوٹنے میں آسانی رہ سکتی ہے۔۔ وہ بے چارگی سے گویا ہوا۔۔۔
بلا حسین ہو تو جان کیوں چھڑوانی۔۔۔ بابا کا لہجہ شریر ہوا۔۔۔
نہیں دراصل وہ زیادہ حسین بلا ہے۔۔۔ مجھے زرا کم حسین چاہیے۔۔۔ وہ سر کھجاتا بات کو مزاح کا رخ دے گیا۔۔۔
ابھی کچھ کام باقی ہے مرتسم ۔۔۔ ادھورا چھوڑ کر نہیں آ سکتا ۔۔۔ انشااللہ چند دنوں میں سب نبٹا کر آ جاوں گا۔۔  پھر اس مسلے کو بھی حل کر لیں گے۔۔۔
بابا کے امید دلانے پر وہ گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
بحرحال جو بھی تھا وہ ماں کو بھی ہرٹ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4