Header Ads

Roshan Sitara novel 76th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  76th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

76th epi....
 ماہرہ لاوئنج میں موجود صوفے پر بیٹھی تھی جبکہ ننھا مائز بے بی باسکٹ میں لیٹا تھا کھیل رہا تھا جو ماہرہ کے عین سامنے میز پر پڑی تھی۔۔۔
وہ خود میز پر پڑے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کر رہی تھی۔۔۔ بیچ بیچ میں ایک نظر مائز پر ڈالتی مسکرا کر کبھی اسکی گال چھیرتی تو کبھی فرط جذبات سے اسکے ننھے ننھے ہاتھِ لبوں سے لگا لیتی۔۔۔ وہ بھی ہاتھ پاوں ہلاتا کلکاری مر کر ہس دیتا۔۔۔ وہ ایک بہت صحتمند بچہ تھا۔۔۔
دفعتاً مام نفیس سی ساڑھی میں ملبوس نفاست سے کئے گئے میک آپ میں ٹپ ٹاپ سی آ کر صوفے پر اسکے سامنے بیٹھیں۔۔۔ انکے پیچھے ہی ملازمہ نے کافی کی ٹرے لا کر صوفے پر رکھی۔۔۔
ماں نے تادیبی نگاہوں سے بیٹی کو دیکھا۔۔ وہ ڈھیلی سی شرٹ اور ٹراوز میں سکارف گلے میں گھما کر ڈالے ہوئے تھی۔۔۔ بالوں کا گول مول سا رف سا جوڑا بنا رکھا تھا۔۔۔ دھلا دھلایا چہرا ہر طرح کی آرائش و زیبائش سے پاک تھا۔۔۔
مام اس وقت اس سے زیادہ ینگ اور خوبصورت لگ رہی تھیں۔۔۔
ماہرہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے ۔۔۔ یوں حال سے بحال کون رہتا ہے بھلا۔۔۔ بیٹا تمہارا تین مہینوں کا ہوگیا۔۔۔ لیکن تم نے ابھی تک اپنی روش نہیں بدلی۔۔۔ ماں کے غصے سے بولنے پر ماہرہ نے اچھنبے سے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔۔
سیاہ شفون کی نفیس سی ساڑھی میں وہ کندن کی مانند دمک رہی تھیں۔۔۔ بالوں کا اونچا جوڑا بنا رکھا تھا۔۔۔ جبکہ کانوں میں ڈائمنڈ کے نفیس سے ٹاپس تھے۔۔۔
وہ انہیں دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔ اگر وہ ہر دم ٹپ ٹاپ رہتی تھیں تو یہ انکی کلاس کا خاصہ تھا انہیں کبھی بھی کہیں بھی جانا پڑ سکتا تھا یہ ہی حال ان سے ملنے آنے والوں کا تھا۔۔ کوئی بھی کبھی بھی ملنے آ جاتا۔۔
آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں مام۔۔۔ کہیں جا رہی ہیں کیا۔۔۔ اسنے شرارت سے لب دانتوں تلے دابتے بات بدلنا چاہی۔۔۔
میری بات مت بدلو ماہرہ۔۔۔
تمہاری ہر بات میں نے بلا چوں چرا مانی ہے ۔۔ جو تم نے کہا میں نے اسے سب سے اہم جانا۔۔۔ تمہاری زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار میں نے تمہیں سونپ دیا۔۔۔ لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کے میں اب تمہیں خود سے زیادتی کرنے دوں گی۔۔۔
کیا ماں بن کر بھی تم میری فیلنگز کو سمجھ نہیں سکتی۔۔۔
خود تو بیٹے کی ایک چیخ پر ٹرپ اٹھتی ہو۔۔۔ ہر دم اسے سینے سے لگائے رکھتی ہو۔۔۔ اپنی ماں کے لئے تمہارا دل اتنا پتھر کیوں ہو جاتا ہے۔۔۔ کیا بیٹی کی اجڑی حالت دیکھ مجھے تکلیف نہیں ہوتی۔۔۔ یا تمہیں میری تڑپ دکھائی نہیں دیتی۔۔۔
کیا ہو گیا ہے مام۔۔۔ ماں کی اس اچانک جرح پر وہ بونچکا رہ گئ تھی۔۔۔
کیا مطلب کیا ہو گیا یے۔۔  سب سے کٹ کر رہ گئ ہو تم۔۔۔ نا اپنا ہوش۔۔۔ نا کھانے پینے کا نا سونے جاگنے کا۔۔  چہرا دیکھو کیسے مرجھایا پڑا ہے۔۔  اور مجھے یہ بتاو اپنے بال کتنے دن پہلے بنائے تھے تم نے۔۔
ماں کے پے در پے سوالات کی بوچھاڑ پر وہ ماتھا مسل کر رہ گئ۔۔۔
ماں ابھی میرا بیٹا چھوٹا ہے اور وہ۔۔۔
ماہرہ میں نے بھی دو بچے پالے ہیں۔۔۔ تو مجھے تم یہ باتیں مت سیکھاو۔۔۔۔ 
سب مینج ہو جاتا ہے اگر انسان چاہے تو۔۔۔ اور خود کو وقت دینے کے لئے بہت سارا وقت نہیں چاہیے ہوتا۔۔ ۔کبھی بھی کوئی بھی ملنے آ جاتا ہے۔۔۔ تمہارا یوں اجڑا انداز کتنا غلط امپریشن ڈالتا ہے سب پر۔۔۔ ماں کا لہجہ کچھ ڈھیما پڑا۔۔۔
بیٹا کیوں اپنی ایسی حالت دیکھا کر لوگوں کو باتیں کرنے کا موقع دے رہی ہو۔۔۔ کیوں اپنی بے بسی یا پریشانی کسی پر ظاہر کریں ہم۔۔۔۔۔ 
ماں کی باتیں سنتی وہ سر جھکائے لب کچل کر رہ گئ۔۔۔
جاو اٹھو۔۔۔ فریش ہو اور اچھا سا تیار ہو کر آو۔۔۔ اور ہو سکے تو ایک چکر سیلون کا لگا لو۔۔۔۔اپنی یونیورسٹی فرینڈز سے ملو۔۔۔ انکے ہاں آو جاو۔۔  اور نہیں تو اپنے بابا کا بزنس جو کچھ وقت بعد جوائن کرنے کا تم ارادہ رکھتی ہو وہ کل سے ہی جوائن کر لو۔۔۔ کم از کم کچھ تو لوگوں سے انٹریکٹ کرو۔۔۔ اور میں مسز حمدانی کے پوتے کے عقیقے کی تقریب میں جا رہی ہوں چلو گی میرے ساتھ۔۔۔
ماں نے اسے نرمی سے سمجھاتے آخر میں پیشکش کی تو وہ سہولت سے سر انکار میں ہلا گئ۔۔۔
ماں میں کیسے جا سکتی ہوں۔۔۔
اسکی اسی گردان پر ماں کوفت سے آنکھیں میچ گئیں۔۔
اچھا مت جاو۔۔۔ جاو جا کر فریش تو ہو۔۔۔
مام۔۔۔ مائز روئے گا تو۔۔۔
فار گاڈ سیک ماہرہ۔۔ میں ہوں اسکے پاس۔۔۔ میرا نواسہ ہے۔۔ کیا تمہاری ماں تمہارے لئے اسقدر ناقابل اعتبار ہے کے تم اب یوں کرو گی۔۔۔
ماں ملال و تاسف سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
نو مام۔۔ ایسی بات نہیں۔۔ اوکے میں فریش ہو کر آتی ہوں۔۔ آپ پلیز مائز کا خیال رکھنا ۔۔۔ یہ روئے نا۔۔۔ اور بھوک لگے تو اسے۔۔۔ وہ بعجلت اٹھ کھڑی ہوتی تیزی سے گویا ہوئی کہ مبادا ماں برا نا منا جائیں۔۔۔ جب ماں سرعت سے اسکی بات کاٹ گئیں۔۔۔
فار گاڈ سیک ماہرہ۔۔۔ بچے سمبھالنے کا ایکسپیرینس ہے مجھے۔۔۔ تمہیں پال پوس کر اتنا بڑا تمہاری ماں نے ہی کیا یے۔۔۔ ماں کے دانت پیس کر کہنے ہر وہ مسکرا کر سر کھجھاتی اپنے کمرے میں چلے گئ۔۔۔
محض چند منٹوں میں ہی اسکی واپسی ہو گئ تھی۔۔۔
اب وہ لائٹ گرے اور سلور کلر کے گرم سوٹ میں ملبوس تھی۔۔ آنچل سینے پر پھیلا رکھا تھا جبکہ نم بال پشت پر کھلے تھے۔۔۔ ماں کی تسلی کے لئے اسنے ہلکی سی لپ اسٹک لگا رکھی تھی۔۔۔
مچ بیٹر۔۔۔ اسے واپس آ کر صوفے پر بیٹھتا دیکھ ماں موبائل سے سر اٹھا کر اسے دیکھتی مسکرائی۔۔۔
مائز سو گیا تھا۔۔۔ اسنے جھک کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا اور صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
دفعتا ملازمہ کے متوجہ کرنے پر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
بیگم صاحبہ یہ نسیم ہے جسکے بارے میں کل میں نے آپ سے بات کی تھی۔۔ کئیر ٹیکر ہے۔۔۔  اسکے اپنے پانچ بچے ہے اور اسے بچے سمبھالنے کا بہت تجربہ ہے۔۔۔ وہ ملازمہ اپنے پیچھے کھڑی پینتیس چھتیس سالہ فربہہ مائل سی عور کے بارے میں مام کو بتا رہی تھی۔۔۔
ماہرہ نے آنکھیں چندہی کئے اسے دیکھا۔۔۔
کہاں رہتی ہو۔۔۔ گھر اپنا ہے یا کرائے کا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ماں نے اس سے کئ کراس سوال پوچھتے اپنی تسلی کی تھی۔۔
ماہرہ خاموشی سے ان کی کاروائیاں دیکھ رہی تھی۔
ٹھیک ہے اپنی اور اپنے شوہر کے آئی ڈی کارڈ کی کاپیاں سکیورٹی ہیڈ کو جمع کروا دو اور آج سے ہی کام پر  آجاو۔۔۔
یہ مائز ہے میرا نواسہ۔۔۔ پھلوں سے بھی نازک ہاتھوں سے چھونا ہے اسے۔۔۔ اسکے معاملے میں زرا سی کوتاہی میں برداشت نہیں کروں گی۔۔۔
تنہائی کا فائدہ اٹھا کر بچے کی ذمہ داری سے زرا سی روگردانی کرنے کی بھی کوشیش مت کرنا۔۔۔ اس گھت کے چپہ
چپہ پر کیمرے لگے ہیں اور تم پر چوبیس گھنٹے میری نظر ہوگئ۔۔۔
میں اگر ملازموں کے ساتھ اچھی ہوں تو انکی کام چوری اور کام سے روگردانی پر انکی سوچ سے  زیادہ بری بھی ہوں۔۔۔
ماں نے سختی سے اسے ہر چیز کے بارے میں مطلع کیا کے مستقبل میں وہ اپنی ذمہ داری سے روگردانی کرنے کے بارے میں سوچے بھی نا۔۔۔
جاو بے بی کو اسکے کمرے میں لٹاو۔۔۔ وہ سامنا کمرا اسکا ہے۔۔۔
ماں کے ہر چیز کے بارے میں باور کرونے پر گندمی رنگت کی حامل نسیم تابعداری سے سر ہاں میں ہلاتی  مائز کو لئے اندر کمرے میں چلی گئ۔۔
ماہرہ کے دل کو کھینچ سی لگی۔۔۔
 ماں اس سب کی کیا ضرورت ہے بھلا۔۔۔ وہ بے چین سی دکھائی دینے لگی تھی۔۔۔
ماہرہ۔۔۔ کل کے حوالےسے اپنی تیاری مکمل کر لو۔۔۔ کل تمہیں آفس جانا ہے۔۔۔ میں تمہارے بابا سے بات کر لوں گی۔۔۔
اور یقینا ایک بچے کے ساتھ تم آفس نہیں جا سکتی۔۔۔ خود کو اتنا ہلقان مت کرو تمہیں ہیلپنگ ہینڈ کی ضرورت ہے۔۔۔
لیکن مام میں کیسے ایک اجنبی پر یقین کر لوں۔۔۔ وہ ہنوز شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔
موبائل پر مائز کو دیکھتی رہنا۔۔ اس کے بارے میں اپڈیٹڈ رہنا۔۔۔ جہاں تمہارے کسی گائیڈ لائن کی ضرورت ہوئی وہاں نسیم کو فون پر گائیڈ کر دینا۔۔۔
اور شروع میں محض دو تین گھںٹے چلی جانا آفس رفتہ رفتہ اپنی روٹین سیٹ کر لینا تب تک مائز بھی بڑا ہو جائے گا۔۔۔ ماں کے رسانیت سے کہنے پر وہ بے دلی سے سر ہاں میں ہلا کر رہ گئ۔۔
*****
میر خان ابھی ابھی اپنے سویٹ میں داخل ہوا تھا۔۔۔ یہ ماہرہ نامی کیس بہت لمبا ہو گیا تھا کیونکہ بیچ میں اسے ایک دو اور کام پڑ گئے تھے جسکے باعث اسکی توجہ اس کیس سے فلحال ہٹ گئ۔۔۔ ورنہ کسی بھی کیس کو حل کرنے میں اسے ایک ہفتے سے زیادہ نہیں لگا تھا۔۔۔
اب بھی وہ فریش ہو کر باتھ گاون میں ملبوس کمرے میں داخل ہوا جب اسکا فون بج اٹھا۔۔۔
نمبر شناسا تھا۔۔ اسنے پہچان کر جھٹ فون اٹھایا۔۔۔
ہمم۔ بولو کہاں تک بات پہنچی۔۔۔
جی صاحب میں ماہرہ اظہر کے گھر تک رسائی حاصل کر چکی ہوں اسکے بیٹے کی کئیر ٹیکر بن کر۔۔۔
لیکن یہاں کی سیکیورٹی بہت ٹائٹ ہے۔۔۔ جگہ جگہ پر کیمرے لگے ہیں۔۔ ابھی بھی میں آپ سے واش روم میں چھپ کر بات کر رہی ہوں۔۔ ائیر پیس سے نسیم کی گھبرائی سی آواز  ابھری تو میر کے ہونٹوں پر تبسم کھل گیا۔۔۔
گڈ جاب۔۔۔اسکے انگ انگ پر سرمتی چھانے لگی تھی۔۔۔
اسکے ایک ایک پل کی رپورٹ چاہیے مجھے۔۔۔ کب کیا کرتی ہے کس سے ملتی ہے کیا بات کرتی ہے کیا کھاتی ہے کیا پیتی ہے کب سوتی جاگتی ہے سب کچھ۔۔۔ وہ ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا۔۔
بالخصوص وہ جیسے ہی گھر سے باہر نکلے تم مجھے فوراً انفارم کرو گئ۔۔۔
جی صاحب جی۔۔۔ وہ دراصل ابھی ابھی مال جانے کے لئے نکلنے والی ہے۔۔۔ صبح اسے اسکے باپ کا آفس جوائن کرنا ہے۔۔۔
وہ محتاط سے انداز ادھر ادھر دیکھتی بول رہی تھی۔۔۔
نسیم کے وہاں پہنچنے کے بعد پہلے ہی دس منٹوں میں اسے اتنا بریف کرنے پر وہ سائشتی ائبرو اچکا گیا۔۔۔ اسکی سروسز کافی کوئیک تھیں۔۔۔
ٹھیک ہے پتہ کر کے بتاو کے وہ کس مال میں جانے والی ہے۔۔۔ اور جیسے ہی وہ گھر سے نکلے مجھے انفارم کرنا۔۔۔ وہ مسرور سے انداز میں کہتا فون بند کر گیا۔۔۔
اب پھر سے اسکے ہاتھ تیزی سے موبائل کے کی پیڈ پر چل رہے تھے۔۔  نمبر ڈائل کر کے اسنے فون کان سے لگایا۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی وہ پراسرار سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
تین سے چار بندے ہائیر کرنے ہیں اپنے کام میں ایکسپرٹ۔۔۔ لڑکی کی تصویر بھیج رہا ہوں۔۔۔ وقت اور لوکیشن کچھ وقت تک بتاتا ہوں۔۔۔ کام اچھے سے ہو جانا چاہیے۔۔۔ وہ مسرور سے انداز میں کہتا فون بند کر گیا۔۔۔
اب آئے گا مزا۔۔۔ دیکھتے ہیں تم میں کتنا دم ہے ماہرہ اظہر۔۔۔ وہ آنکھوں میں شیطانی چمک لئے خود کلامی کرتا بڑبڑایا۔۔۔
****
احمر کام کہاں تک پہنچا۔۔۔
دلاور خان لیب کا دروازہ وا کرتا اندر کی جانب بڑھا۔۔۔ پیچھے ہی بلیک جینز اور بلیک ہی لیڈر جیکٹ میں ملبوس شائنہ تھی۔۔۔ بالوں کی اونچی پونی بنا رکھی تھی جبکہ ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک لگی تھی۔۔۔
آلموسٹ ڈن سر۔۔۔
احمر وہاں لگی بڑی سی ٹچ سکرین کے سامنے کھڑا تھا جسکے ٹچ پیڈ پر وہ تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔ سکرین پر روبورٹ  مختلف زاویوں سے دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
احمر نے تیزی سے چند ایک کیز دبائیں۔۔۔ ساتھ ہی پیچھے کھڑے روبورٹ میں زرا سی حرکت ہوئی۔۔۔
مائے گاڈ احمر۔۔۔ تم نے کر دیکھایا۔۔۔ سچ آ بریلنٹ پرسن۔۔۔
ہم خوامخواہ ہی پروفیسر عظیم اور فائز علوی کے پیچھے پڑے رہے ۔۔ جبکہ تم نے تو وہ کر دیکھایا جو ہم آج تک نا کر سکے تھے۔۔۔
دلاور خان کی نگاہیں خوشی سے جگمگانے لگی تھی۔۔۔ شائنہ بھی مسکراتے ہوئے اس روبورٹ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
یہ روبورٹ مجھے کتنا منافع دے سکتا ہے تصور ہے تمہارا احمر۔۔۔
اسے آپریٹ کرو۔۔۔ میں جلد سے جلد اسے لائنچ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
احمر نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلاتے  وہیں کھڑے ٹچ پیڈ پر چند انگلیاں دبائیں۔۔۔
اب آپ اس سے انٹریکٹ کر سکتے ہیں۔۔۔
احمر وہیں کھڑا مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔
دلاور خان مسکراتے ہوئے اسکی جانب بڑھا ۔۔۔
ہیلو ڈئیر روبورٹ۔۔۔
میں دلاور خان۔۔۔ تمہارا تخلیق کار۔۔۔ دلاور اسکے جانب جاتا چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھتا تفاخر سے گویا ہوا۔۔۔
جب کچھ دیر تک روبورٹ کی جانب سے خاموشی چھائی رہی۔۔۔ پھر اسنے اپنے بھاری لوہے کے ہاتھ کا ایسا زبردست تھپڑ دلاور خان کے چہرے پر جڑا کے وہ دور جا کر ٹچ پیڈ سے ٹکراتا زور دار انداز میں سکرین سے ٹکرایا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔  احمر منہ پر ہاتھ رکھتا اچھل کر پیچھے ہٹا۔۔۔ یہ سب غیر متوقع تھا۔۔۔
دلاور خان تکلیف سے کراہ رہا تھا۔۔۔ جبکہ شائنہ اس روبورٹ کو خوفزدہ نگاہوں سے دیکھتی باہر کو بھاگی جو آگے بڑھ کر ایک ایک چیز اٹھ کر پھینکتا اب باہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔
ایم ایم۔۔ سوری سر۔۔۔ شاید کہیں کچھ مس پلیس ہو گیا۔۔۔ اسکی ٹیونینگ کرنی پڑیگی۔۔
احمر ہقلاتا ہوا خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتا زمین بوس ہوئے دلاور خان کی جانب بڑھا اور اسے ہاتھ کے سہارے سے اٹھانا چاہا جسکے ماتھے اور ہونٹوں سے خون کی لکیریں پھوٹنے لگی تھیں۔۔۔
یو باسٹرڈ۔۔  دلاور خان غرایا جب باہر سے ابھرتی چیخ و پکار اور چیزیں ٹوٹنے کی آوازوں پر دونوں چونکیں۔۔
احمر کے چہرے کی ہوائیاں اڑنے لگیں کے روبورٹ باہر تخریب کاری مچا رہا تھا۔۔۔
وہ اندھا دھند باہر کو بھاگا۔۔۔ جب دروازے میں ہی رکتا ناخن چباتا خوفزدہ انداز میں سب دیکھنے ل0گا۔۔
روبورٹ نے لمحوں میں آفس کا نقشہ بدل دیا تھا جبکہ سب لوگ اپنی جان بچاتے اس سے چھپ رہے تھے۔۔۔۔
اسے روکو احمر۔۔ وہ سب تباہ کر رہا ہے۔۔ شائنہ ہانپتی کانپتی اسکی جانب بڑھی۔۔۔
کیسے۔۔۔ وہ میلے میں گم کسی خوفزدہ بچے کی مانند اسے دیکھتا نا سمجھی سے گویا ہوا۔۔۔
الو کے پٹھے تم اسے بنا سکتے ہو تمہیں اسے روکنے کا طریقہ نہیں آتا کیا۔۔۔
پیچھے سے ابھرتی دلاور خان کی غراتی آواز پر وہ خوف سے اچھلا۔۔

نہین۔۔نہیں مطلب طریقہ پتہ ہے لیکن۔۔ یہ صورتحال توقع سے پرے ہے۔۔ وہ ناسمجھی اور شش و پنج کی کیفیت میں بول رہا تھا۔۔۔
ہم اسکی چپ نکال کر اسے روک سکتے ہیں۔۔
تو نکالو کھڑے کیوں ہو یہاں۔۔۔ وہ مسلسل سب برباد کر رہا ہے۔۔۔ دلاور خاں چیخا۔۔۔
جی لیکن اسکے لئے ہمیں روبورٹ کو قابو کرنا ہوگا کیونکہ چپ اسکی کمر میں انسٹال ہے۔۔ وہ یوں بولا کے دلاور خان کا دل چاہا اسکا سر دیوار میں مار مار کر تباہ کر دے۔۔
پھر ہم اب کیا کریں۔۔۔ شائنہ اسی جانب دیکھتی گویا ہوئی جہاں وہ روبورٹ انکا بہت نقصان کر رہا تھا۔۔۔
دعا۔۔۔
کس چیز کی۔۔ وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
اسکی بیٹری ڈیڈ ہونے کی۔۔۔ احمر کے کہنے پر دلاور خان اپنا سر تھام کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔
****

No comments

Powered by Blogger.
4