Roshan Sitara novel 75th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 75th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
75th epi...
پریہا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔ اسے دیکھ کر فاہا دانت پیس کر رہ گئ۔۔۔
کیا ہوا چھوٹی بے بی کو۔۔۔ دل ٹوٹ گیا۔۔۔ آہ۔۔۔ وہ خط لینے والے انداز میں کہتی ایک ادا سے ڈریسنگ ٹیبل کے کنارے ٹکتی پاوں قینچی کی مانند بنا گئ۔۔۔
فاہا نے ضبط سے مٹھیاں بھینچتے جلتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔
کاش کاش وہ اس لڑکی کا منہ توڑ کر اسے حقیقت بتا سکتی۔۔۔
اوہ۔۔۔ بے بی کو غصہ آ رہا ہے کیا۔۔۔ وہ اسکا ضبط سے سرخ پڑتا چہرا دیکھ اسکی بے بسی کا مزہ لیتی گویا ہوئی۔۔۔
چچ۔۔چچ۔۔۔
یار ہو کیا چیز تم۔۔۔ ایک گاوں کی گوار اجڈ اور لو کانفیڈینٹ دبو سی لڑکی۔۔۔ اور مقابلہ کرنے نکلی تھی تم میرا۔۔۔ اسنے تحقیرانہ انداز میں کہتے اپنی جانب انگلی سے اشارہ کیا۔۔۔
پریہا اعظم کا۔۔۔ اوہ مائے گاڈ وہ تحقیرانہ ہسی۔۔۔
Recall me please...
کیا بولا تھا تم نے۔۔۔ وہ انگلی گھماتی گویا اسے بولنے پر اکسا رہی تھی۔۔۔
Wait a minute.. Let me tell you...
وہ سیدھی ہوتی چند قدم اسکی جانب بڑھی۔۔۔
بے بسی سے فاہا کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔۔۔۔
مرتسم صرف میرا ہے۔۔۔ رائٹ۔۔۔
وہ اسکے کان کے پاس جھکتی غرائی۔۔۔
ایسا ہی کچھ کہا تھا نا تم نے۔۔۔ وہ قہقہ لگاتی پیچھے ہٹی ۔۔۔
فاہا کا جسم کپکپانے لگا تھا۔۔۔ وہ بے بسی سے سر جھکا گئ۔۔۔
یار کیا سوچ کر تم نے یہ بات بولی سویٹ ہارٹ۔۔۔ مائے گاڈ۔۔ وہ ہنوز قہقے لگاتی اسکا مذاق اڑا رہی تھی۔۔۔
ایسا ہے کیا تم میں فاہا۔۔۔۔ یار مطلب کس بنیاد پر تم نے یہ بات بولی۔۔۔ وہ اسے چاروں جانب سے تادیبی نگاہوں سے دیکھتی تحقیرانہ انداز میں کہتی اسکا اعتماد ریزہ ریزہ کر رہی تھی۔۔۔
فاہا کو اس سے خوف محسوس ہونے لگا۔۔۔۔۔ ابھی تک حاصل کی گئ سیلف ڈویلپمنٹ کی ساری کلاسز بھربھری ریت کی دیواریں محسوس ہوتیں ڈھنے لگی تھیں۔۔۔ اسکی بیک پر تائی جان تھی اسکی پوری فیملی تھی۔۔۔
اسکا شدت سے دل چاہا کے کوئی ہو جسکے پیچھے وہ اس لڑکی کی تحقیرانہ و نفرت بھری نگاہوں سے چھپ سکے۔۔۔
نہیں مطلب تم نے مرتسم کی پرسنیلٹی نہیں دیکھی اور پھر اپنی۔۔ یار تمہیں تو کوئی چپراسی تک پسند نا کرے اور ۔۔ وہ بات کرتی کرتی یوں منہ بنا کر رکی جیسے منہ میں کڑوا بادام آ گیا ہو۔۔۔
تمہاری ناک کے نیچے سے میں مرتسم کو اپنا بنا لے جاوں لگی۔۔۔ کیونکہ وہ صرف پریہا اعظم کے ساتھ جچتا ہے۔۔ پریہا کی ذات ہی اسے مکمل بنائے لگی۔۔۔ اسکی آواز میں تفاخر تھا گردن تنی ہوئی تھی۔۔۔
مجھے نہیں پتہ کے تم نے اتنی بڑی بات کس بنیاد پر کہی۔۔ ظاہر سی بات ہے تم جیسی لڑکی بنا کسی امید کے سہارے یہ نہیں بول سکتی۔۔۔ میں نہیں جانتی کے تم نے مرتسم کو خود میں ایسا کیا دکھایا جو اسنے تمہیں کوئی گرین سگنل دیا لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کے وہ اپنی ماں سے بہت محبت کرتا ہے اور انکے خلاف کبھی نہیں جائے گا۔۔۔ اس لئے خوش گمانی کے آسمان سے اتر کر زمین پر آجاو۔۔۔ اور یہ کے۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتی رکی۔۔۔ اپنی اوقات مت بھولنا۔۔۔
پریہا اسکی فق پڑتی رنگت دیکھ مسکراتی ہوئی باہر نکل گئ۔۔۔ آج کے لئے اتنی ڈوز کافی تھی۔۔
فاہا کا دماغ چٹخ رہا تھا۔۔۔ دل چاہا سب تہس نہس کر دے۔۔۔وہ بے بس تھی کے مرتسم نے ابھی تک نکاح ڈکلئیر نہیں کیا تھا۔۔۔
اسکی سبھی امیدیں اب اسی سے وابستہ تھیں۔۔۔ وہ شدت سے اسکی واپسی کی منتظر تھی تاکے وہ آئے اس گھٹیا لڑکی کا منہ توڑ کر رکھ دے۔۔ اسکی خوشگمانی کے غبارے سے ہوا نکال دے تاکے پھر وہ بھی دیکھے پریہا اعظم جیسی مغرور لڑکی کے چہرے کی اڑی ہوئی ہوائیاں۔۔ وہ آنسو صاف کرتی طیش سے اٹھی اور خطرناک غزائم لئے مرتسم کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
******
مرتسم کو آج پھر گھر آتے آتے ایک بج گیا تھا۔۔۔ وہ تھکا ہارا سا کمرے کا دروازہ وا کرتا اندر داخل ہوا۔۔۔ کوٹ بازو پر پڑا تھا جبکہ شرٹ کے اوپری دو بٹن کھلے تھے بال ماتھے پر بکھرے تھے۔۔۔
لیکن کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے عجیب سا احساس ہوا۔۔
کمرے کی لائٹ روشن تھی اور بھلا اس سے پہلے ایسا کب ہوا تھا۔۔۔ اسکی غیر موجودگی میں تو ملازموں تک کو اسکے کمرے میں آنے کی اجازت نا تھی۔۔۔ حتکہ مام اسکے کمرے کی صفائی بھی اپنے زیر نگرانی کرواتیں تھیں۔۔۔
وہ کوٹ بیڈ پر پھینکتا چونک کر پلٹا۔۔۔ جب صوفے کی جانب دیکھتا ٹھٹھکا۔۔۔
تم۔۔۔۔ حیرت و پریشانی سے بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا۔۔۔۔
تم یہاں کیوں بیٹھی ہو فاہا۔۔ اسکا حلیہ اور انداز مرتسم کو پریشانی میں مبتلا کر رہے تھے۔۔
اسکی سوجھی سرخ آنکھیں اسکے بہت سارا رو چکنے کی چغلی کھا رہے تھے۔۔ اسکا غیر متوقع طور پر اسکے کمرے میں رات کے اس پہر اس حالت میں موجود ہونا مرتسم کے اندر کچھ بری طرح کھٹکانے لگا تھا۔۔۔
کچھ تو غیر معمولی ہوا تھا۔۔
آپکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ اسکی آواز سے بھی کچھ غیر معمولی جھلک رہا تھا۔۔۔
خیریت۔۔۔ ہم صبح بھی بات کر سکتے تھے فاہا۔۔۔ ایسی کونسی بات تھی جو تم رات کے اس پہر یہاں موجود ہو۔۔۔
وہ محتاط سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
میرے شوہر کا کمرا ہے میں جب چاہوں یہاں آوں ۔۔۔ آپکو کوئی مسلہ ہے کیا۔۔۔ وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں بھڑکی۔۔۔ آواز تک بھرا گئ۔۔۔ اسنے سرعت سے قابو پاتے خود کو رونے سے روکا۔۔۔ پریہا کا دلایا گیا غصہ اور بے بسی رفتہ رفتہ اب یہاں نکل رہی تھی۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ مرتسم کو معاملے کی گھمنیرتا کا احساس ہوا۔۔۔ وہ پیںٹ ٹھوری اوپر کرتا اسکے بالکل سامنے بیڈ کی پائنتی پر بیٹھا۔۔۔
بالکل تمہارے شوہر کا کمرا ہے میں کب انکاری ہوں۔۔۔ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کے تم اتنی رات تک بے آرام رہی۔۔۔ ہم
تو اس میں بھی تو آپکا ہی قصور ہے نا۔۔۔ کہاں آدھی آدھی رات تک رہتے ہیں آپ۔۔۔ یہ کونسا وقت ہے آپکا گھر لوٹنے کا۔۔۔ آپکو اتنا ہی احساس ہوتا میری بے آرامی کا تو آپ وقت پر گھر نہیں آتے۔۔۔۔ وہ تو بھری بیٹھی تھی۔۔۔
ہمم۔۔۔ وہ جانچتی نگاہوں سے سے دیکھتا اسکا رویہ سمجھنے کی کوشیش کرنے لگا۔۔۔ یہ رشتے کا اتنا مان۔۔۔ اتنے حق سے اسکے کمرے میں آنا۔۔۔ یوں جواب طلبی کرنا۔۔۔ کچھ تو بڑا ہوا تھا اسکی پیٹھ پیچھے۔۔۔
دراصل مجھے اندازہ نا تھا کے تم گھر پر میری منتظر ہو گئ۔۔۔ ہوتا تو جلدی آ جاتا۔۔۔ تم مجھے فون کر کے بتا سکتی تھی نا تا کے میں جلدی۔۔۔
کیا تھا فون لیکن آپکا نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔ وہ سرعت سے اسکی بات کاٹتی پھاڑ کھانے کو ڈوری۔۔۔
اوہ سوری۔۔۔ میٹنگ کے دوران بند کیا تھا اس لئے شاید۔۔۔
لیکن خیر تم یہ تو بتاو کے آخر بات کیا ہے جسکے لئے تمہیں اسقدر انتظار کی کوفت سے گزرنا پڑا۔۔۔
وہ خود تھکا ہارا گھر واپس لوٹا تھا لیکن فاہا کی بکھری حالت اور اسکی نافہم باتوں نے اسے تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔۔۔
آپ ہمارا نکاح کب ڈکلئیر کریں گے۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔
مرتسم لب چباتا اسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا۔۔۔
پہلی مرتبہ فاہا بھی اسکی نگاہوں میں دیکھتی جواب طلبی پر اتری تھی۔۔۔
ماتھے پر بکھرے بال۔۔۔ سنجیدہ نگاہیں تیکھے نقوش صاف رنگت اور ہلکی بڑھی شیو۔۔۔ وہ واقعی مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔
اور تم ہمارا نکاح کیوں ڈکلئیر کروانا چاہتی ہو۔۔۔
کیونکہ مجھے رخصت ہو کر اس کمرے میں آنا ہے۔۔۔ وہ بنا توقف کے گویا ہوئی۔۔۔۔
مرتسم کو اس سے اتنے سٹریٹ فارورڈ جواب کی توقع نا تھی۔۔۔ وہ آئبرو اچکاتا اسے دیکھ کر رہ گیا۔
آہممم۔۔۔ دراصل مجھے توقع نہیں تھی کے تمہیں رخصتی کی اتنی جلدی ہوگئ۔۔۔ وہ کہنی گھٹنے پر رکھتا انگوٹھے سے ناک رگڑتا گویا ہوا۔۔۔
لیکن مجھے جلدی ہے۔۔۔۔ اسکے انداز میں رتی برابر فرق نا آیا تھا۔۔۔
مرتسم نے بامشکل قہقہ روکا۔۔۔ فاہا لودھی جیسی ریزروڈ لڑکی اگر اسکے سامنے بیٹھی یوں اتنے کانفیڈینٹ سے رخصتی کی بات کر رہی تھی تو یقیناً وہ حواسوں میں ناتھی۔۔۔
اسنے بامشکل قہقہ ضبط کیا۔۔۔
فاہا تمہین اندازا ہے نا کے تم کیا بول رہی ہو۔۔۔ تم رات کے اس پہر میرے کمرے میں موجود مجھ سے یعنی کے اپنے شوہر سے رخصتی کی ڈیمانڈ کر رہی ہو۔۔۔ وہ مسکراہٹ روکے شریر سی نگاہوں سے اسے دیکھتا شرارت پر آمادہ ہوا۔۔۔
جی بالکل میں یہ ہی کہہ رہی ہوں۔۔۔ یہ مرتسم کے لہجے اور اسکی پرتپش نگاہوں کا ہی اعجاز تھا کے وہ اس پر سے نگاہیں ہٹاتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔ آ تو تم چکی ہی ہو یہاں۔۔۔ تو موقع بھی ہے تقاضا بھی اور دستور بھی ۔۔۔ تو تم رات یہیں رک جاو۔۔۔ ہوگئ رخصتی۔۔۔ صبح جب ہم دونوں اکھٹے یہاں سے نکلیں گے تو ہو گیا نکاح ڈکلئیر بھی۔۔۔ سارے مسائل ختم۔۔۔ وہ گہری نگاہوں سے اسے دیکھتا اسکا رویہ جانچنے کو گویا ہوا۔۔۔
فاہا نے خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔
مسٹر مرتسم لودھی۔۔۔ وہ یوں چبا چبا کر گویا ہوئی جیسے اسکے دانتوں تلے مرتسم کی گردن ہو۔۔۔
مجھے سب تھرو پروپر چینل چاہیے۔۔۔
کیوں۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا مدعے پر آیا۔۔۔ آخر کو مرتسم لودھی تھا۔۔۔ فاہا کا نافہم رویا اسے الجھا رہا تھا۔۔۔
آپکو اندازہ بھی ہے کے گھر میں کیا چل رہا ہے۔۔۔ وہ چٹخ کر گویا ہوئی۔۔
نہیں مجھے نہیں اندازہ۔۔۔ تمہارے سامنے ابھی گھر آیا ہوں۔۔۔ کائنڈلی تم بتا دو۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کرتا سیدھا ہوا۔۔۔
گھر میں آپکی اور پریہا کی منگنی کی تاریخ فکس ہو گئ ہے۔۔۔آپ تصور کر سکتے ہیں۔۔۔ میرے سامنے میرے شوہر کی منگنی کی تاریخ فکس کی جا رہی ہے۔۔۔ اور وہ پریہا اعظم مجھے اتنی باتیں سنا کر گئ ہے کے وہ آپکو مجھ سے چھین لے لگی۔۔۔ آپ اسکے ہو وغیرہ وغیرہ۔۔۔
وہ بات کرتے ضبط کھوتی کر رو دی۔۔۔
مرتسم اسے دیکھتا کچھ ڈھیلا پڑا بلآخر بل تھیلے سے نکل ہی آئی تھی۔۔۔
وہ اسے کچھ دیر تک دیکھتے رہنے کے بعد سنجیدگی سے نیچے جھکتا اپنے جوتا اتارنے لگا۔۔۔
فاہا کو اسکی خاموشی کھلی۔۔۔
کیا وہ اس بات سے آگاہ تھا۔۔۔ کیا اس سب میں اسکی رضا مندی۔۔۔ فاہا کا دل بند ہونے لگا۔۔۔ آخر تائی جان اتنا بڑا فیصلہ بیٹے کی رضا مندی کے خلاف تو نہیں لے سکتی تھیں۔۔۔ دل میں طرح طرح کے اندیشے سر ابھارنے لگے تھے۔۔۔ وہ کسی بھی پل پھوٹ پھوٹ کر رو دینے کے در پر تھی۔۔۔
آپ خاموش کیوں ہیں۔۔۔ کچھ بول کیوں نہیں رہے۔۔۔ دل میں سر ابھارتے خدشوں کے تحت وہ چٹخی۔۔۔۔۔
تمہیں کس چیز کی انسکیورٹی ہے فاہا۔۔۔ وہ جوتا اتار کر شو ریک تک آیا۔۔۔
کیا مطلب انسکیورٹی۔۔۔ مرتسم کا ٹھنڈا اندازا سے آگ لگا رہا تھا۔۔۔
مطلب یہ کہ۔۔۔ وہ وہاں جوتا رکھتا سوفٹی پہن کر پلٹا۔۔۔
میں نہیں جانتا کے آج گھر میں کیا ہوا۔۔۔ وہ کمرے کے وسط میں کھڑا ٹائی ڈھیلی کرتے اتارنے لگا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ کے تمہارے اور پریہا کے درمیان کیا چل رہا ہے۔۔۔ ٹائی اتار کر وہ ڈریسنگ کی جانب بڑھا۔۔۔
لیکن بات یہ ہے کے اسنے تم سے جو بھی کہا اسکے بعد کس چیز نے تمہیں انسکیور کیا۔۔۔ وہ گھڑی اتار کر ڈریسنگ پر رکھتا شیشے سے ابھرتے اسکے حیران پریشان سے عکس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
تم میری بیوی ہو۔۔۔ یہ بات پتھر پر لکیر ہے۔۔۔ ہماری شادی چچا جان کی سرپرستی میں گواہاں کی موجودگی میں ہوئی۔۔۔ میں تمہیں بھگا کر نہیں لایا۔۔۔
تو کوئی ایری گیری آ کر اگر تمہیں باتیں سنا جائے اور تم بدلے میں اسکا منہ نا توڑ سکو تو کمزوری تو تمہارے اندر ہوئی نا۔۔۔
مرتسم اسکی جانب پلٹا۔۔۔ فاہا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ وہ بھلا کیا کہہ رہا تھا۔۔۔ مرتسم سے ایسے کسی جواب کی توقع کہاں رکھی تھی اسنے۔۔۔
اسنے کہا آپکی انگیجمنٹ ڈیٹ فکس ہوگئ۔۔
وہ چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔
اس شہر سے ایک سو لڑکیاں اٹھ کر تمہارے پاس آ کر یہ بات کہیں گی تو اسکا مطلب تو یہ ہی ہوا کے میں سو انگیجمنٹس کرنے والا ہوں۔۔۔ جسکا مجھے خود ہی علم نہیں لیکن میری ذہین فطین بیوی کو ہے۔۔۔
مرتسم کا لہجہ سخت ہوا۔۔۔
یہ منگی آپکی ماں نے طے کی ہے۔۔۔ مرتسم کے سخت لہجے پر وہ بھی سختی سے گویا ہوئی۔۔
منگنی میں نے کرنی ہے میری ماں نے نہیں۔۔۔اس لئے وہ کیا کر رہی ہیں کیا نہیں فلحال انہیں بھیچ میں مت لاو۔۔
یہ میرا مسلہ ہے میری ماں اس بارے میں مجھ سے بات کریں گی تو انہیں کیا جواب دینا ہے کیسے قائل کرنا یہ بھی سراسر میرا درد سر ہے۔۔۔ اور تم میرے مسائل مجھ سے وابستہ رہنے دو فلحال صرف اپنے مسائل دیکھو۔۔۔
مجھ سے جواب طلبی کرنے تب آنا جب میں منگنی کر چکا ہوں ۔۔۔ فلحال ہم تمہاری بات کی طرف واپس آتے ہیں۔۔۔
وہ قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا۔۔۔ چ
فاہا حق دق سی اسے دیکھے گئ۔۔۔
پریہا نے تم سے چند باتیں کہیں اور تم بے بسی سے اسے سنتی بنا اسے کچھ کہے میرا نتظار کرنے لگی کے میں آوں اور سب سمبھال لوں۔۔۔ کیوں۔۔۔ وہ سختی سے پوچھتا اسکے مقابل آ کھڑا ہوا۔۔۔
دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں تھے جبکہ سنجیدہ نگاہیں اسی پر ٹکیں تھیں۔۔۔
تمہیں ایسا کیوں لگا فاہا لودھی کے میں تمہارے حصے کی جنگ لڑتا پھروں گا۔۔۔
کیا میری زندگی میں کرنے کو کچھ اور نہیں جو میں تمہیں ڈکٹیٹ کرتا پھروں۔۔۔
تمہارے ہڑٹ ہونے پر تمہارے آنسو صاف کرتا پھروں۔۔۔ اور یہ بات تم اول روز سے جانتی ہو کے مجھے تمہارے وقت بے وقت بہتے آنسووں سے کس قدر چڑ ہے۔۔۔ اسکے باوجود تم نے مجھ سے یہ توقع لگائی۔۔
وہ یکسر بدلے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔ فاہا کا غصہ رفتہ رفتہ زائل ہونے لگا۔۔۔
تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کے میں تمہیں انگلی پکڑ کر چلنا شروع کروا دوں۔۔۔
کیوں۔۔۔ چھوٹی بچی ہو کیا۔۔۔ جو میرے سہارے کے بنا چل نہیں سکتی۔۔
اچھی خاصی باشعور لڑکی ہو۔۔۔ پھر کے جی کے بچوں کی طرح چھوٹی چھوٹی باتیں اٹھا کر میرے پاس کیوں آ رہی ہو۔۔۔ اپنے مسائل خود حل کرنا سیکھو۔۔۔
مرتسم کے لہجے میں کاٹ تھی۔۔ فاہا کو شدید سبکی کا احساس ہوا۔۔۔
آپ مجھے ڈی گریڈ کر رہے ہیں مرتسم۔۔ وہ طیش سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ غصے سے دماغ کھولنے لگا تھا۔۔۔
غلط۔۔۔ وہ سر نفی میں ہلاتا پلٹا۔۔
میں تمہیں حقیقت سے روشناس کروا رہا ہوں اور حقیقت کڑوی ہی ہوتی یے۔۔
میں اسکی باتیں سن کر خاموش اس لئے رہی کیونکہ آپ نے ہمارا نکاح صیغہ راز رکھا ہوا ہے۔۔۔ وہ مٹھیاں بھنچتی چٹخی۔۔
کیا میں نے کبھی تم سے کہا کے تم نے یہ نکاح صیغہ راز رکھنا ہے۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے پلٹتا اسکی آنکھوں میں دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
فاہا گنگ رہ گئ۔۔۔ اس سے جواب دینا محال ہوا۔۔۔
درست کہہ رہا تھا وہ۔۔۔ اسنے ایسی تو کوئی بات کبھی نہیں کہی۔۔۔
آپ نے کہا نہیں تو یہ نکاح کبھی ڈکلئیر بھی نہیں کیا۔۔۔ وہ تھوک نگلتی گویا ہوئی۔۔ وہ شادی سے پہلے والا مرتسم بن گیا تھا جس سے بات کرتے ہوئے بھی فاہا کو سوچنا پڑ رہا تھا یا شاید وہ اسے اپنا دماغ استعمال کرنے کا راستہ دکھا رہا تھا۔۔۔
میں نے یہ نکاح ڈکلئیر اس لئے نہیں کیا کیونکہ مجھے ابھی تک اسکی ضرورت محسوس نہیں ہوئی جب ہوگئ تو کردوں گا۔۔۔
تم نے کیوں سنی کسی بھی ایکس وائے زیڈ کی باتیں۔۔ اور ان باتوں کے جواب میں تمہیں میرا سہارا تلاشنا آسان کام کیوں لگا فاہا۔۔۔
حقیقت مانو یار۔۔۔ میں تمہارا سہارا نہیں بن سکتا۔۔۔ ہاں سپورٹ ضرور کر سکتا ہوں۔۔۔ دونوں باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے کبھی بیٹھ کر فرصت سے سوچنا۔۔۔میں تمہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈیفینڈ نہیں کر سکتا۔۔۔
تمہیں اپنی جنگ خود لڑنی یے۔۔۔ کر تم سی ایس ایس رہی ہو۔۔۔ اور حرکتیں تمہاری پانچ سال کے بچوں والی ہیں۔۔ پہلے خود کو اس عہدے کے قابل تو بنا لو پھر کوشیش کرنا۔۔۔
اسکا انداز اکتایا ہوا سا تھا۔۔۔
میاں بیوی میں کچھ بٹا ہوا نہیں ہوتا۔۔۔ شوہر سمجھ کر آپکے پاس مدد کو آئی تھی۔۔۔وہ ضبط سے گویا ہوئی۔۔۔
تم غلط بات کو اپنی مرضی سے غلط جگہ پر جوڑ رہی ہو۔۔۔
میری لائف پارٹنر ایسی نہیں ہو سکتی جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھبرا کر شوہر کا سہارا تلاش کرتی پھرے۔۔۔
ماہرہ کو دیکھ رہی ہو۔۔۔ وہ جیبوں میں ہاتھ اڑستا کھڑکی کے پاس آ کھڑا ہوا۔۔۔
شوہر کے بعد کیسے ڈٹ کر کھڑی حالات کا مقابلہ کر رہی ہے۔۔۔ تم پر اگر خدانخواستہ ایسا وقت آگیا تو کیا کرو گئ۔۔
وہ سنگدلی سے باہر دیکھ کر کہتا فاہا کا دل دہلا گیا۔۔۔
کیوں فضول بول رہے ہیں۔۔
میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا فاہا یہ زندگی ہے کوئی فینٹسی نہیں جہاں تم چھوٹی چھوٹی باتوں سے گھبرا کر شوہر کا سہارا تلاشو۔۔۔
زندگی بہت کھٹن ہے اور دنیا بہت ظالم۔۔۔ اس لئے۔۔
وہ واپس پلٹا اور اسکی جانب بڑھا۔۔۔
میں ہر موقع پر تمہارے پیچھے کھڑا تمہیں سپورٹ تو کروں گا۔۔۔ وہ لفظوں پر زور دیتا گویا ہوا۔۔
مارک مائے ورڈز۔۔ تمہارے پیچھے کھڑا تمہیں سپورٹ تو کروں گا تا کے تم ٹھوکر لگنے پر لڑکھراو تو تمہیں تھام کر گرنے سے بچا سکو ۔۔۔ لیکن انگلی پکڑ کر تمہارے ساتھ چلتے تمہاری راہ میں در آنے والی رکاوٹوں کو ہاتھوں سے پیچھے ہٹاتا تمہارے لئے راستے ہموار نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔ ایسا صرف فینٹسی ورڈ میں ہوتا ہے جہاں شوہر صرف بیوی کی زلفیں ہی سہلاتا رہے۔۔ حقیقی زندگی یہ نہیں ہے۔۔۔ اور نا ہی حقیقت میں شوہر اتنا فارغ ہوتا ہے کے بیوی کے پانچ سالہ بچوں والے مسائل بیٹھا سلجھاتا رہے اور اسکی دلجوئی کرتا رہے۔۔۔ البتہ یہ کام میں اپنی بیٹی کے باخوبی کر سکتا ہوں۔۔ کیونکہ اسے سمجھ نہیں ہوگئ۔۔۔ بیوی ماشااللہ سے میری باشعور ہے۔۔۔
پھر بتا رہا ہوں کے تمہیں اپنی جنگ خود لڑنی ہے۔۔۔
شانے اچکا کر کہتا وہ وارڈروب کی جانب بڑھا اور آرام دہ لباس نکالتا واپس پلٹا۔۔۔
فاہا ہنوز ویسے ہی کھڑی مٹھیاں بھینچے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
اسکی باتوں کے باعت کچھ خفت اور غصے سے وہ کانوں کی لو تک سرخ پڑ گئ تھی
تو مطلب آپ یہ نکاح ڈکلئیر نہیں کریں گے۔۔۔ اسکی اتنی لمبی ڈکٹیشن کے باوجود جب فاہا کو کچھ سمجھ نا آیا تو دوبارہ اسی بات پر آ گئ۔۔
یہ کوئی ایسا مسلہ نہین جسے چھپایا جائے۔۔۔ جب مجھے درست وقت لگا میں ماں کو بتا دوں گا۔۔۔ وہ یوں بولا جیسے کوئی بات ہی نا ہو۔۔۔
میں ہی پاگل تھی جو آپ سے امید لگائے مدد کے لئے چلی آئی۔۔۔ وہ کھولتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔ مگر شاید بھول گئ کے آگے کون کھڑا ہے۔۔۔
مدد وہاں مانگی جاتی ہے جہاں آپ بے بس ہوں۔۔ خود کچھ کر نا سکتے ہوں۔۔۔
لیکن تمہارے پاس یہ وجوہات نہیں۔۔۔ تم جن وجوہات کی بنا پر میرا سہارا تلاشنے آئی ہو اسے کم ہمتی و بزدلی کہتے ہیں۔۔ اسکا علاج نسان کو خود تلاشنا ہوتا ہے۔۔
So be brave...
وہ شانے اچکا کر کہتا واش روم کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ غصے سے کھولتی تن فن کرتی کمرے سے نکلی اور کمرے سے نکلتے اتنی زور سے دروازہ بند کیا کے واش روم میں کھڑا مرتسم بھی ایک پل کو ہل گیا۔۔۔
جنگلی۔۔۔
بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا۔۔۔ اور وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔۔۔
باقی کی تفصیلات تو صبح ماں سے ملنے پر پتہ چلتیں کے وہ پتہ نہیں اسکی غیر موجودگی میں کیا کرتی پھر رہیں تھیں۔۔ لیکن ایک بات طے تھی کے وہ اپنی کم ہمت اور بے زبان بیوی کے منہ میں زبان ڈالنے کا ارادہ ضرور رکھتا تھا۔۔۔
****

No comments