Header Ads

Roshan Sitara novel 74th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  74th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

74th epi..
ماہرہ اپنے کمرے میں بستر پر موجود تھی۔۔۔ گود میں ننھا مائز علوی تھا جبکہ کمرا نیم تاریک تھا۔۔۔ اسنے مائز کو فیڈ کروانے کے بعد سلایا اور اسکے ماتھے کا بوسہ لے کر اسے کاٹ میں لٹاتے اس پر بے بی بلنکٹ دیا۔۔۔ ارادہ اب خود کچھ دیر سونے کا تھا۔۔ مائز کی پیدائش کے بعد سے اسکی روٹین کافی بدل گئ تھی۔۔۔ مائز اسے سارا دن اپنی طرف ہی لگائے رکھتا اور وہ بھی بنا ماتھے پر شکن لائے اسکا ہر کام اپنےہاتھ سے سر انجام دیتی۔۔۔
مائز کے سونے جاگنے کا کوئی وقت مقرر نا تھا۔۔۔ وہ ساری ساری رات جاگتا اور دن میں سکون سے آرام کرتا۔۔۔
ماہرہ نے اپنا ہر شیڈیول اسی کے حساب سے سیٹ کرلیا تھا۔۔۔ کئ دفعہ وہ نیند میں جھولتی اسے تھپک رہی ہوتی کبھی سوی جاگتی کیفیت میں اسے فیڈ کرواتی۔۔۔
غرض وہ مائز کو بہت کم کسی اور اٹھانے کا موقع دیتی۔۔۔ اسکا بیٹا اسکی کل کائنات تھا۔۔۔ اسکی صبح مائز سے شروع ہو کر رات مائز پر ہی ختم ہوتی۔۔۔ وہ مائز کو دیکھ دیکھ جیتی تھی۔۔
رات میں وہ جاگتا تو ماہرہ نیند سے جھول رہی ہوتی دن میں وہ سوتا تو ماہرہ سے سویا ہی نا جاتا۔۔۔ بہت کم اسکی نیند پوری ہو پارہی تھی۔۔۔
ماں نے اسکا ساتھ دینے کی بہت کوشیش کی لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو مائز کے لئے بہت حساس تھا۔۔  وہ باخوشی اسکے پیچھے اپنی ہر چیز پر سمجھوتہ کر رہی تھی۔۔۔ اور اسکے پاس تھا ہی کیا۔۔۔ اسکی نیند تو کیا اسکا سب کچھ اسکے بیٹے پر قربان۔۔۔
ماں نے کئ دفعہ اسے بے بی کئیر ٹیکر ہائیر کرنے کا کہا لیکن وہ ہر مرتبہ جھٹ سے انکار کر دیتی۔۔۔۔ان دونوں کو ایک دوسرے کے سوا کسی تیسرے کی ضرورت تھی ہی نہیں۔۔
اب بھی وہ ابھی بستر پر آ کر نیم دراز ہوئی ہی تھی جب دروازے پر دستک کی آواز پر جھٹ سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
دروازہ وا کر کے اندر آنے والی شخصیت کو دیکھ کر بے ساختہ وہ بستر سے پاوں اتارتی جوتا اڑس گئ۔۔۔
وہ زاویار تھا۔۔۔ اور یہ ماہرہ کا اس سے پہلا ٹاکرا تھا۔۔
وہ کافی دنوں سے کسی کام کے سلسلے میں اپنے دودھیال گیا ہوا تھا۔۔۔ آج کل میں اسکی واپسی متوقع تھی ماہرہ جانتی تھی لیکن ناجانے کیوں وہ اس سے ملنا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔ کیسی ہو ماہرہ۔۔۔ وہ نرمی سے مسکراتا قدم قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
ماہرہ نے سرعت سے آنچل سر پر درست کیا اور لب چبتے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔
کمرے میں نیم تاریکی تنہائی اور نامحرم کی موجودگی۔۔۔
وہ تیزی سے دروازے کی جانب بڑھئ۔۔۔
واعلیکم اسلام۔۔۔۔فائن۔۔۔ پلیز آو ہم باہر لاوئنج میں چلتے ہیں۔۔ مائز بہت مشکلوں سے سویا ہے آواز ہونے پر پھر سے اٹھ جائے گا۔۔  اور اگر اسکی نیند خراب ہوئی تو وہ بہت تنگ کرے گا۔۔۔
وہ بعجلت آہستہ آواز میں کہتی دروازہ کھول کر باہر نکل چکی تھی۔۔۔ یہ اختیاطیں بھی وہ شخص جاتے جاتے اسے سیکھا گیا تھا۔۔۔۔زاویار چند پل کمرے کے ہلتے دروازے کو دیکھتے رہنے کے بعد ایک نظر کاٹ میں لیتے مائز کو دیکھتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔ جہاں ماہرہ ملازمہ کو فائز کے پاس بیٹھنے کا بول رہی تھی کے جیسے ہی وہ اٹھے ماہرہ کو بتا دیا جائے۔۔۔
وہ اتنی ہی اپنے بیٹے کے لئے حساس تھی کے اسکے معاملے میں اسے ایک لمحے کی غفلت برداشت نا تھی۔۔۔
*****

یہ لو مٹھائی کھاو سویٹ ہارٹ۔۔۔۔ فاہا پڑھائی کے دوران اٹھ کر چائے بنائے کچن میں آئی تھی۔۔۔ آج کل اسکے امتحانات چل رہے تھے اور وہ مکمل یکسوئی سے اپنی پڑھائی پر توجہ دے رہی تھی۔۔ ابھی اسنے پین میں دودھ ڈال کر اسنے میں  چینی پتی ڈالی ہی تھی جب چہکتی ہوئی پریہا کچن میں داخل ہوئی اور کچن کاونٹر پر مٹھائی کی پلیٹ رکھتی مسکرا کر گویا ہوئی۔۔
فاہا نے سنجیدگی سے آنکھیں چھوٹی کئے پہلے مٹھائی کی پلیٹ کو دیکھا اور پھر سامنے کھڑی چہکتی ہوئی پریہا کو۔۔۔فاہا کء ماتھے پر چھوٹے چھوٹے سے بل پڑے۔۔ اسکی پریہا کی مسکراہٹ میں کچھ پراسرار سا لگا لیکن وہ بنا کچاح کہے  اسے نظر انداز کرتی واپس چائے کی جانب متوجہ ہوگئ۔۔۔
پریہا قہقہ لگا کر ہس دی۔۔
وہ کھلے سے پلازو پر شارٹ سلیولس فراک ذیب تن کئے ہوئے تھی۔۔ بال سٹریٹ کر کے ایک شانے پر ڈال رکھے تھے۔۔۔ جبکہ پاوں پنسل ہیل میں مقید تھے۔۔۔
کھا لو  یار۔۔۔ میری اور مرتسم کی انگیجمنٹ ڈیٹ فکس ہونے کی خوشی میں ہے۔۔۔
اسکے مسکرا کر کہنے پر فاہا کا چائے چھانتا ہاتھ لرزا۔۔۔ اسنے بروقت سمبھلتے پین کاونٹر ٹاپ پر رکھا جبکہ اس کوشیش میں مگ کاونٹر ٹاپ سے نیچے گرتا چھناکے سے ٹوٹا تھا بالکل فاہا کے دل کی طرح جو یکدم ہی پھڑپھڑا کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
ارے۔۔۔ نہایت ہی پھوہر لڑکی ہو تم تو۔۔۔ چچ۔۔چچ۔۔۔۔
وہ تاسف سے فاہا کو دیکھتی سینے پر بازو باندھتی دو قدم اس سے پیچھے ہٹی جو ہونق بنی حق دق سی شاک کی سی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ارے یہ کیا ہوا۔۔۔ دفعتاً مسکراتی ہوئی علایہ کچن میں داخل ہوئی اور سامنے کا منظر دیکھ  کر اچھنبے سے گویا ہوئی۔۔۔
پریہا شانے اچکاتی باہر نکل گئ جبکہ فاہا خود کو کمپوز کرتی خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیر کر کاونٹر ٹاپ صاف کرنے لگی۔۔۔
ارے چھوڑو یہ سب فاہا گڈی کر لے گی۔۔۔ اور اسے بولتی ہوں کے چائے بنا کر بھی باہر لے آئے وہیں بیٹھ کر پیتے ہیں۔۔
ْ جاو باہر چل کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ سب وہیں بیٹھے ہیں۔۔ علایہ اسکی بازو کھینچتی بنا اسے کچھ کہنے کا موقع دیئے باہر لے گئ جبکہ وہ بے جان سی اسکے ساتھ گھسیٹتی چلی گئ۔۔۔ فاہا کو اپنا آپ بے دم ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اس میں اتنی ہمت نا تھی کے علایہ سے اس فضول سی بات کی تصدیق کر لے ۔۔ لیکن اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے اسے زیادہ تردد نہیں کرنا پڑا۔۔۔۔
صبح سے پریہا کے والدین ور وہ یہاں آئی ہوئی تھی لیکن فاہا انہیں سلام کرنے کے بعد باہر تک نا آئی تھی وہ کہاں جانتی تھی کے یہاں یہ سب چل رہا ہے۔۔۔
مام۔۔۔ بھائی کی انگیجمنٹ پر میں اور فاہا سیم سیم ڈریسنگ کریں گے۔۔۔ علایہ خوشی سے کہتی فاہا کو ساتھ لئے مام کے ساتھ آ کر بیٹھی۔۔۔
کیوں نہیں بیٹا۔۔۔ بالکل ۔۔۔ ماں نے ان دونوں کو محبت سے دیکھا۔۔۔
جبکہ فاہا کا دل بار بار بھرا رہا تھا۔۔۔
مسٹر اور مسز اعظم واپس جا چکے تھے جبکہ پریہا ہنوز وہیں موجود تھی۔۔۔ وہ خط اٹھاتی فاہا کا دھواں دھواں ہوتا چہرا دیکھ رہی تھی ۔۔۔
خالہ جانی میں اپنی شاپنگ مرتسم کے ساتھ جا کر کروں گی۔۔۔ پریہا اٹھلا کر گویا ہوئی۔۔۔ کیوں نہیں بیٹا۔۔۔ ایک دو دن تک لے جائے گا وہ تمہیں فکر مت کرو۔۔۔ ماں نے گویا اسے پچکارا۔۔۔ اور فاہا کی برداشت بس یہیں تک تھی۔۔
اسے اپنے ارد گرد سب گول گول چکراتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اسکے سامنے اسی کے شوہر کی منگنی کی باتیں چل رہی تھی اور وہ سننے پر مجبور تھی۔۔۔ دل کا درد کرب کی صورت آنکھوں میں ابھرنے لگا اور پھر برداشت کی انتہا ہوتے وہ آنکھوں سے چھلکنے کو بے تاب تھا جب وہ جھٹکے سے اٹھی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ ماں اور علایہ کوئی بات کرنے میں مصروف تھیں جبکہ پریہا نے اسکا ضبط سے سرخ پڑتا چہرا اور وہاں سے اٹھ کر جانا دونوں شدت سے نوٹ کیا تھا۔۔۔ ایک بڑی جاندار مسکراہٹ اسکے ہونٹوں ہر ابھری۔۔۔
******
مجھے تمہارے شوہر کے بارے میں علم ہوا تو بہت افسوس ہوا۔۔۔ لیکں جو اللہ کو منظور۔۔۔
ماہرہ اور زاویار دونوں لاوئنج میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔
ماہرہ براون سادہ سی قمیض شلوار پر آنچل سلیقے سے سر پر اوڑھے بیٹھی غیر دلچسپی سے ادھر ادھر ماں کو تلاش رہی تھی۔۔۔۔ ناجانے وہ اس وقت کہاں تھیں شاید اپنے کمرے میں وہ سوچ کر رہ گئ۔۔۔ جبکہ ملازمیں اپنے روزمرہ کے کام نبٹانے میں مصروف تِھے۔۔۔
ہممم۔۔۔ خد کی کرنی جھینلنی پڑتی۔۔۔ اسکے فیصلوں پر کسی کا زور نہیں۔۔۔ اسنے رٹے رٹائے جملے دہرائے جو وہ ہر مضنوعی تعزیت کرنے والوں کے سامنے ابھی تک دہراتی آئی تھی۔۔۔ یہ لوگ اسکا دکھ نہیں سمجھ سکتے تِھے تو فائدہ انکے سامنے بکھرنے کا۔۔۔ حالنکہ یہ موضوع اسے اندر سے توڑنے لگتا تھا ناجانے وہ کتنا ضبط کئے بیٹھی تھی۔۔۔
ماہرہ اگر تم برا نا مناو تو کیا میں تم کچھ پرسنل سوال پوچھ لوں۔۔۔
زاویار کے گلہ کنگار کر محتاط سے انداز میں اجازت طلب کرنے پر ماہرہ بری طرح ٹھٹھکی۔۔۔
بس تعزیت ختم اور آجاو مطلب پر مطلبی دنیا۔۔۔ اسکے دل سے ہوک سی اٹھی
پھر گہری سانس خارج کرتی خود کو ڈھیلا چھوڑ گئ۔۔
اچھا تھا یہ موضوع جتنی جلدی شروع ہو کر اپنے اختتام کو پہنچتا اتنا ہی اسکی جان پرسکون رہتی۔۔۔
پوچھو۔۔۔
تم نے اپنی آگے کی زندگی کے بارے میں کیا سوچا ہے۔۔۔ مطلب اب آگے تم شاد۔۔۔
وہ بہت محتاط سے انداز  میں ناپ تول کر پوچھ رہا تھا کے مبادا کچھ اسے برا نا لگ جائے جب وہ اسکی ادھوری بات کا مفہوم سمجھتی اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
زاویار تم اچھے انسان ہو۔۔۔ میرے خالہ زاد ہو۔۔۔ ہم بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔۔ وہ گلہ گنگار کر بولنا شروع ہوئی۔۔۔
زاویاراسے توجہ سے سن رہا تھا۔۔۔
اور اسی وجہ سے میں تمہیں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنے دے سکتی۔۔۔
میری زندگی میں اور میرے دل میں وہ ایک شخص جو اہمیت رکھتا تھا جو اسکی جگہ ہے وہ میں کسی اورکو نہیں دے سکتی۔۔ وہ بہت ٹھہر ٹھہر کر اپنے الفاظ پر زور دے کر بول رہی تھی۔۔۔ جیسے شاید بولنے کے انداز سے ہی وہ اپنی زندگی میں موجود فائز علوی کی اہمیت سے اس شخص کو روشناس کروانا چاہتی تھی۔۔۔ اس شخص کے جانے کے بعد یہ دل بنجر ہو چکا ہے۔۔۔ اور بنجر زمیں پر پھول نہیں اگا کرتے۔۔۔
میری دنیا میرے بیٹے نے مکمل کر دی ہے ۔۔۔ اب اس میں کسی اور کی گنجائش نہیں۔۔۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے کافی ہیں۔۔۔ ہماری دنیا مکمل ہے ۔۔۔اس لئے میری ماں اسنے اپنے کمرے کی چوکھٹ میں کھڑی گم صم سی ماں کو دیکھا اور میرے بھائی اسنے لاوئنج کے دروازے میں کھڑے مظہر کو دیکھا جو ابھی ابھی باہر سے آیا تھا نے تمہیں جو بھی کوئی امید کا سرا تھمایا ہے میں اسکی نفی کرتی ہوں۔۔ اس لئے تم اپنی دنیا میں لوٹ جاو۔۔۔ تم مجھ سے کہیں زیادہ اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے ہو۔۔۔ ماہرہ نے اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھا۔۔۔ وہ کوئی بھی ہو سکتی ہے مگر۔۔۔ اسنے خالی خالی نگاہیں ہاتھوں کی لکیروں سے ہٹا کر اسے دیکھا۔۔ مگر وہ ماہرہ فائز علوی نہیں۔۔۔ اسکا لہجہ پختہ اور دو ٹوک تھا۔۔۔
لیکن ماہرہ تمہارا شوہر مر چکا ہے۔۔۔ اور حقیقت یہ ہی ہے کے مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔۔۔ ہمسفر کے مرنے کے بعد زندگی میں آگے بڑھنے کی جاازت تو اسلام بھی دیتا ہے۔۔۔
وہ متانت سے گویا ہوا۔۔۔ ماہرہ اسے دیکھ کر رہ گئ جو اسے چاروں طرف سے گھیرنے کی کوشیش میں تھا۔۔۔
تمہیں کس نے کہا کے مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔۔۔ ماہرہ فائز علوی تو اپنے شوہر کے ساتھ ہی مر گئ۔۔۔ اسکا لہجہ کرب زدہ سا تھا۔۔۔ اب جو زندہ ہے وہ مائز علوی کی ماں ہے۔۔۔ جسے اہنے بیٹے کے لئے خود کو گھسیٹنا ہے اور بس۔۔۔
اپنی  بات مکمل کر کے وہ وہاں رکی نہیں تھی بلکہ سرعت سے اٹھتی اپنے کمرے کی جانب بڑھتی چلی گئ۔۔
جبکہ ماں اور مظہر زاویار سے نگاہیں چرا کر رہ گئے۔۔۔ ماہرہ انہیں کچھ کہنے کے قابل چھوڑ کر ہی نہیں گئ تھی۔۔۔
***********
فاہا اپنے کمرے میں آتی بیڈ پر اونڈھے منہ لیٹتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ دل میں ناقابل برداشت درد کی ٹھیسیں ابھر رہی تھیں دل چاہا ہرچیز تہس نہس کر کے رکھ دے۔۔۔ عجیب بے بسی تھی۔۔۔ وہ ستم گر بھی تو گھر نا تھا ورنہ اسکے روبرو جا کر اس سے جواب طلبی کرتی۔۔۔
مطلب حد تھی۔۔۔ اسکے آنے جانے کا کوئی شیڈیول بھی تو نا تھا۔۔۔ وہ آدھی آدھی رات کو گھر لوٹتا اور صبح صادق کے وقت ہی نکل جاتا۔۔۔ بعض دفعہ تو اسکی ملاقات صبح صبح کچن میں مرتسم سے ہوتی جب وہ فجر کے بعد اپنے لئے چائے بنانے کچن میں آتا تب فاہا کسی نا کسی کام سے وہاں ہوتی تو دونوں کا آمنا سامنا ہو جاتا۔۔۔
مگر اب جیسے اندر بے چینی سی چٹکیاں کاٹنے لگی تھی۔۔۔۔
دل بے چینی سے مرتسم کی واپسی کا منتظر تھا۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ تیزی سے سیدھی ہوئی  اور مرتسم کا نمبر ملانے لگی لیکن بے سود۔۔  اسکا نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔  فاہا کو اپنی بے بسی پر جی بھر کر طیش آیا۔۔
آج وہ ہر حال میں مرتسم سے دو دو ہاتھ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ بس ایک دفعہ وہ گھر پہنچ جائے۔۔۔ دل میں بھانبھر سے جل رہے تھے۔۔ اور دل میں ٹھنڈک تب تک نہیں پڑنی تھی جب تک وہ یہ سارا آتش فشان مرتسم پر گرا نا دیتی۔۔۔ مطلب حد تھی۔۔۔ اسے نکاح کرنے کا پتہ تھا اب نکاح ڈکلئیر بھی کیا اسکے باپ نے قبر سے اٹھ کر آ کر کرنا تھا۔۔۔
وہ غم و غصے سے کھولتی سر تھامے بیٹھی تھی۔۔ جسم طیش سے کپکپا رہا تھا۔۔  جب پریہا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔ اسے دیکھ کر فاہا دانت پیس کر رہ گئ۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4