Header Ads

Roshan Sitara novel 73rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  73rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

73rd epi....
مرتسم اپنے بستر پر اوندھے منہ لیٹا سو رہا تھا جب اسکی نیند فون کی آواز پر ٹوٹی ۔۔  اسنے کسلمندی سے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھا کر کان سے لگایا لیکن فون سنتے ہی وہ پٹ سے پوری آنکھیں کھولتا ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ اسنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے حواس بحال کئے۔۔۔چہرے پر ایک بہت خوبصورت سی مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔صبح صبح ہی اتنی اچھی خبر۔۔۔
 فجر کا وقت تیزی سے گزر رہا تھا لیکن رات دیر تک کام کرتے رہنے کے باعث اسکی آنکھ وقت پر نا کھل سکی ۔۔۔ اب وہ بعجلت وضو کر کے پہلے نماز پڑھنا چاہتا تھا مگر ۔۔۔ وہ رکا
اور مسکرا کر جوتا اڑستے تیزی سے وہاج کا نمبر ملانے لگا۔۔۔
کیا تکلیف ہے الو کی دم اتنی صبح صبح کیوں ڈسٹرب کر رہے ہو۔۔۔ ائیر پیس سے اسکی نیند میں ڈوبی جھنجھلائی آواز ابھری تو مرتسم قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
اٹھ جا شہزادے اٹھ جا۔۔۔ اٹھ کر فجر کی نماز ادا کر لو ورنہ قضا ہو جائے گی۔۔  وہ مسکراہٹ دابتے گویا ہوا۔۔۔
کیا تم نے مجھے یہ کہنے کے لئے فون کیا ہے۔۔ وہاج نے کان سے فون ہٹا کر فون کو گھورا۔۔
اگر ہاں تو اطلاع کے لئے عرض ہے  کہ میں نماز پڑھ کی ہی سویا تھا۔۔۔ وہاج تاسف سے سر نفی میں ہلاتا فون کاٹنے والا تھا جب اسکی اگلی بات سن کر بے ساختہ رکا۔۔۔
نہیں یار تمہیں خوشخبری دینی تھی۔۔۔ فائز کا بیٹا ہوا ہے ۔۔ ہمیں ہسپتال اس سے ملنے اسکے استقبال کے لئے جانا ہے۔۔ جلدی سے اٹھ کر تیار ہو جاو اور جاتے ہوئے ہم فاہا اور علایہ کو بھی لے کر جائیں گے۔۔ یو نو۔۔۔ فائز نہیں ہے تو یوں تنہا جاتے اچھا نہیں لگتا۔۔
مسکرا کر بات کرتے اسکی آواز میں نمی گھلنے لگی تھی۔۔۔ جبکہ اسکی بات سن کر وہاج کی نیند بھی بھک سے اڑی۔۔۔ سمجھ نا آیا کے اس خبر پر خوش ہو یا بے ساختہ رو دے۔۔۔۔۔
فائن میں آدھے گھنٹے تک پہنچ رہا ہوں۔۔ تیار رہنا۔۔۔
*****
فاہا سنو۔۔۔
مرتسم فجر کی نماز ادا کر کے کمرے سے باہر آیا تو کچن کی جانب جاتی فاہا کو دیکھ کر بےساختہ اسے آواز دے کر روک گیا۔۔۔
آواز پر وہ پلٹی۔۔ 
جی۔۔۔ خیریت آج تو آپ بہت خوش لگ رہے ہیں۔۔ وہ اسکا خوشی سے دمکتا چہرا دیکھ مسکرا کر مستفسر ہوئی۔۔۔
یس۔۔۔ خبر ہی خوشی کے ہے۔۔ میرا دوست تھا نا فائز۔۔ اسکے لہجے میں یاسیت اترنے لگی۔۔۔
جی۔۔۔ 
اسکے ہاں بیٹا ہوا ہے۔۔۔ اس سے ملنے جانا ہے ابھی ہم نے۔۔۔ وہ پھر سے مسکرا دیا۔۔۔
ہم نے۔۔۔ فاہا نے اچھنبے سے کنفرم کیا۔۔۔
وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
ہاں تم اور علایہ بھی ہمارے ساتھ چل رہے ہو اس لئے پندرہ منٹوں میں تیار ہو کر باہر آجاو دونوں۔۔۔ اسے بھی بتا دو پندرہ منٹوں سے ایک منٹ اوپر نہیں وہاج بھی بس پہنچ رہا یے۔۔ وہ پہنچ گیا تو اسنے کسی کے لئے نہیں رکنا۔۔۔
اسکے ہر بات فاہا کے گوش گزارنے کے بعد بے نیازی سے شانے اچکانے پر فاہا مسکرا دی۔۔۔ 
وہ تو ٹھیک ہے مگر اتنی صبح۔۔۔ ابھی تو دن کا اجالا بھی پوری طرح نہیں پھیلا۔۔
ہاں۔۔۔۔ ناں تبھی تو سب سے پہلے پہنچنا ہے۔۔۔ کم از کم میرے بھتیجے کو تو یہ بالکل نہیں لگنا چاہیے کے اسکا باپ نہیں تھا تو اسکے استقبال کو کوئی نہیں آیا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں موتی چمکنے لگے تھے۔۔ وقت ہی ایسا تھا کے وہ اپنے جذبات پر قابو ہی نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ یقیناً فائز ہوتا تو اس خبر پر اسکے پاوں ہی زمین پر نا ٹکتے۔۔۔ 
ٹھیک ہے میں علایہ کو بتا دوں پتہ نہیں وہ ابھی اٹھی بھی ہے کے نہیں۔۔۔ وہ اسکی کیفیت سمجھتی مسکرا کر آگے بڑھ گی۔۔۔
****
راستے سے ہمیں چاکلیٹس کیک اور میٹھائی لینی ہے وہاج اس لئے کسی اچھی سی بیکری پر گاڑی روک لینا۔۔۔۔ فاہا اور علایہ کے گاڑی کے بیک سیٹ پر بیٹھتے ہی وہاج نے گاڑی آگے بڑھائی جب مرتسم کی آواز پر اسنے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔
بس یہ ہی سب لینا ہے یا کچھ اور بھی۔۔۔ گاڑی روڈ پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی جب وہاج موڑ کاٹتے مصروف سے انداز میں باہر دیکھتا گویا ہوا۔۔ باہر اب دن کا اجالا مکمل طور پر پھیل چکا تھا۔۔۔
پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں ابھرنے لگی تھیں۔۔۔
بےبی کے ویلکم کے لئے جا رہے ہیں تو پھول اور غبارے تو بنتے ہی ہیں۔۔ علایہ نے شان بے نیازی سے شانے اچکائے۔۔۔
Actually she is right...
 مرتسم نے اسکی ہاں مین ہاں ملائی۔۔۔
وہ تو آپ لوگوں نے بہت جلدی مچائی ہے ابھی تو شاید کوئی مال بھی کھلا نا ہو۔۔۔ ورنہ بے بی کی شاپنگ کرنی چاہیے تھی ہمیں۔۔ فاہا کے یاد دلانے پر وہاج اور مرتسم  ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر رہ گئے یقیناً ایکسائٹمنٹ میں وہ بہت کچھ مس کر رہے تھے۔۔۔
مال تو شاید ابھی بھی کوئی نا کوئی کھلا ہو۔۔۔
وہاج نے مصروف سے انداز میں کہتے متلاشی نگاہیں ادھر ادھر گھمائیں۔۔۔ 
پھر کچھ ہی دیر بعد اسنے گاڑی ایک مال کے سامنے روکی۔۔ 
مرتسم تم ان دونوں کو لے جا کر بے بی کے لئے شاپنگ کرو تب تک میں پاس ہی میں موجود بیکری سے دوسری چیزیں لے آوں۔۔۔
وہاج کے کہنے پر وہ تینوں گاڑی سے نکلے۔۔۔
*******
ماہرہ کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو ہسپتال کے ایک کمرے میں پایا۔۔۔ سر بھاری ہو رہا تھا۔۔ آنکھوں کے سامنے چھاتی دھند کے باعث منظر واضح نا تھا۔۔۔ مکھیوں کی بھنبھناہٹ کے مانند کئ ملی جلی آوازیں  اسکے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔
وہ کچھ دیر ویسے ہی آنکھیں بند کئے لیٹی ارد گرد ہوتی کاروائیاں محسوس کرتی رہی ۔۔۔کچھ دیر کے بعد حواس کچھ بحال ہوئے تو اسے آنکھیں کھولیں۔۔۔ آنکھوں سے دھند چھٹنے کے بعد منظر کچھ واضح ہوا تو اتنے عرصے کے بعد وہ دل سے مسکرا دی۔۔۔
اسے نہیں یاد پڑتا تھا کے فائز کے جانے کے بعد وہ کب یوں مسکرائی تھی۔۔ مگر آج وہ دل سے خوش تھی۔۔۔ 
آنکھ کھلتے ہی نظر سامنی دیوار سے ٹکرائی تھی۔۔۔ جہاں غباروں اور پھولوں کی سجاوٹ کے ساتھ خوبصورتی سے لکھا تھا۔۔۔
Welcome to our Family Baby boy....
  ہستے ہوئے اسکی آنکھیں نم ہو گئیں۔۔۔ آج فائز کی کمی شدت سے محسوس ہوئی تھی۔۔ کاش اس خوشی کے موقع پر وہ ساتھ ہوتا۔۔۔
اسنے زرا سی نظریں گھمائی اسکا کمرا اس ننھے مہمان کے شانداز استقبال کو جانے پہچانے لوگوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔
اور کیوں نا بھرا ہوتا وہ آخر فائز کا بیٹا تھا۔۔
ماں بابا مظہر۔۔۔ مرتسم۔۔۔ وہاج۔۔۔ فاہا اور اسکے ساتھ ایک نیا چہرا بھی تھا۔۔۔ مرتسم نے بے بی کو اٹھا رکھا تھا جبکہ باقی سب اس پر جھکے ہوئے تھے۔۔۔ ماں اور بابا  دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بیٹھے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھ رہے۔۔۔
بڑی جاندار مسکراہٹ ماہرہ کے چہرے پر ابھری۔۔۔
ارے ماہرہ بھی اٹھ گئ۔۔ ماہرہ دیکھو اس چھوٹے چیمپ کو یہ بالکل اپنے ماموں پر گیا ہے۔۔۔ مظہر ماہرہ کو آنکھیں ان سب کو دیکھتا پا کر بے بی کو مرتسم سے تھام کر اسکا چہرا اپنے چہرے کے ساتھ جوڑتا بولا تو وہ کھلکھکا کر ہس دی۔۔۔ جبکہ ننھی سی رونے کی آواز تیزی سے کمرے میں پھیلی۔۔
اوے اسے مسلہ کیا ہے۔۔۔ یہ میرے پاس آتے ہی کیوں رونے لگ جاتا ہے۔۔۔ مظہر نے بوکھلائے انداز میں اسے سیدھا کیا۔۔۔
کیونکہ اسے اپنا ماموں پسند نہیں۔۔۔ وہاج نے حسب عادت اسکی بوکھلائی صورت دیکھ قہقہ ضبط کرتے کہا اور بے بی اسکے ہاتھ سے لیا۔۔۔
بے بی کو اپنا چچا پسند ہے۔۔ وہ پیار سے اسے پچکارنے لگا تھا۔۔۔
ماہرہ انہیں دیکھتی مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے ماہرہ۔۔۔ مام نے اٹھ کت اسکے پاس آتے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
بابا نے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہزار ہزار کے کئ نوٹ اسکے سر سے پھیر کر مظہر کو پکڑائے کے وہ ضرورت مندوں کو دے آئے۔۔۔۔
تمہیں بہت بہت مبارک ہو ماہرہ۔۔۔ دفعتاً مرتسم مسکراتا ہوا اسکی جانب بڑھا۔۔۔
ماں نے اسکا بیڈ سائیڈ سے اونچا کر دیا کے اسے سب سے بات کرنے میں دشواری نا ہو۔۔۔
وہ ہولے سے مسکرا دی۔۔۔
میٹ مائے کزن۔۔ فاہا۔۔۔ مرتسم نے مسکرا کر اپنے ساتھ کھڑی فاہا کا تعارف کروایا تو ماہرہ غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ فاہا مسکرا کر آگے بڑھتی اس سے ملی۔۔۔ ماں کو بتانے سے پہلے وہ علایہ کے سامنے اسکا تعارف بیوی کی حیثیت سے نہیں کروا سکتا تھا۔۔۔
یہ وہی ہے نا جسکے لئے  یونی میں تم نے فساد برپا کر دیا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ماہرہ کی نحیف سی آواز ابھری تو وہاج کا چھت پھاڑ قہقہ گونج اٹھا وہ پیٹ پکڑے ہس ہس کر دہرا ہو رہا تھا جبکہ مرتسم خجالت سے سر کجھا کر رہ گیا۔۔۔
واو ماہرہ بہت تیز یاداشت ہے تمہاری۔۔۔ وہاج بظاہر ماہرہ کو کہتا شریر نگاہوں سے دیکھ مرتسم کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
ماہرہ آپکا بے بی بہت پیارا ہے بالکل آپ کی طرح علایہ کے آگے بڑھ کر اس سے ملنے پر  ماہرہ اس سے ملتی مسکرا کر  مرتسم اور وہاج کو دیکھنے لگی کے وہ اس لڑکی کا تعارف کروائیں۔۔
یہ مرتسم کی بہن ہے۔۔۔ اسکی سوالیہ نگاہیں خود پر مرکوز پا کر وہاج جھٹ سے گویا ہوا۔۔۔۔جبکہ علایہ شاک کی سی کیفیت میں اسے دیکھ کر رہ گئ کے گویا اس سے بہترین تعارف تو کوئی اور تھا ہی نہیں ۔۔۔
جبکہ وہ علایہ کی شاکی نگاہوں کے بعد مرتسم کی خونخوار نگاہیں بھی خود پر مرکوز پا کر نظریں گھماتا مسکرا کر ان دونوں کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
اور میری بھی تھوڑی تھوڑی سی وائف۔۔۔ اس تعارف پر ماہرہ کا ہس ہس کر برا حال ہو گیا جبکہ علایہ دانت پیس کر رہ گئ۔۔۔
مرتسم سر تاسف سے نفی میں ہلاتا اسکی گود سے بے بی لے گیا۔۔۔ آ جا بیٹا تو میرے پاس آجا ورنہ تیرا یہ چچا تجھے اپنے جیسا بنا دے گا۔۔۔۔
ہاں تم بالکل اپنے اسی چچا پر جانا اور چپکے سے نکاح کر کے پوری عمر اس نکاح کو خفیہ رکھنا ۔۔۔
سامنے بھی وہاج تھا اسنے کب ادھار رکھنا سیکھا تھا۔۔۔ فورا سے گلفشانی کرتے اسنے مرتسم پر چوٹ کی۔۔۔۔گو کے آواز کم تھی لیکن فاہا اسکی گوہر افشانی باآسانی سنتی بوکھلا کر ماہرہ کے پاس ہی آ گئ۔۔ جبکہ مرتسم نے اسے یوں دیکھا جیسے اسے کچا چبا جانا چاہتا ہو۔۔۔ وہ شان بے نیازی سے شانے اچکا گیا۔۔۔
یہ تھوڑی تھوڑی سی وائف کیا ہوتی ہے۔۔۔ یہ تھوڑی تھوڑی سی والی میں اور پوری والی میں فرق تو بتاو ۔۔
ہس ہس کر ماہرہ کی آنکھوں میں پانی جمع ہو گیا تھا۔۔۔ وہ نم آنکھ کا کونا دابتی مسکرا کر مستفسر ہوئی۔۔۔۔۔
مطلب ابھی رخصتی نہیں ہوئی نا اس لئے۔۔۔۔ وہ میز کے پاس ہی کرسی کھینچتا بڑے بے تکلف سے انداز میں بیٹھتا میز پر کھلے پڑے میٹھائی کے ٹوکرے سے مٹھائی کھانے لگا۔۔۔
اور تب سے اب ماہرہ نے کمرے میں موجود چیزوں پر مکمل طور پر دھیاں دیا تھا۔۔۔ میز پر پڑے میٹھائی کے ٹوکرے۔۔ کیک۔۔ چاکلیٹس اور سویٹس کی باسکٹس۔۔۔ کئ ایک شاپنگ بیگز۔۔
بے بی کاٹ۔۔۔ بے بی باسکٹ اور ناجانے کیا کیا۔۔۔
ماں یہ سب کہاں سے آیا۔۔۔ وہ الجھتی ہوئی گویا ہوئی کیونکہ اسنے جو بے بی کے لئے تھوڑی بہت شاپنگ کی تھی وہ اس طرح کی تو نا تھی۔۔۔
ارے یہ اپنے شہزادے کے لئے اسکے چاچو لائے ہیں۔۔۔ مرتسم کے بے بی سے پیار کرتے مسکرا کر مصروف سے انداز میں بتانے پر بے ساختہ ماہرہ کا دل بھر آیا۔۔۔
وہ ان لوگوں کی شکر گزار تھی جنہوں نے اسکے اتنے خاص موقع پر یہ لمحات اسکے لئے انمول بنا دئیے تھے۔۔
اور فائز علوی نے دنیا میں محض مخلص رشتے ہی تو بنائے تھے۔۔۔
فاہا نے بے بی لا کر اسکی گود میں تھمایا تو وہ کئ لمحے وہ بھرائی نگاہوں سے یک ٹک اپنے جگر گوشے کو دیکھتے رہی پھر جو اسے سینے میں بھینچتی روئی تو وہاں موجود سبھی کی آنکھیں نم کر گئ۔۔ حتکہ اسکے سینے سے لگی وہ ننھی جان بھی اس افتاد پر رو دی۔۔۔
ماں نے سرعت سے اسے سمبھالا۔۔۔
بس ماہرہ بچے۔۔۔ خوشی کے موقع پر روتے تھوڑی ہیں۔۔ ماں نے اسکا سر سہلاتے اسکے انسو صاف  کئے۔۔۔
مام میں نے ڈاکٹر سے پتہ کیا ہے شام تک ماہرہ کو ڈسچارج مل جائے گا۔۔۔ دفعتاً مظہر ڈاکٹر کے پاس سے ہو کر اندر آتا گویا ہوا۔۔۔
چلو پھر میں گھر جاتا ہوں صاعمہ بیگم کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو مظہر ہے آپکے پاس۔۔۔ مجھے گھر جا کر بھی اپنے نواسے کے ویلکم کی تیاری کرنی یے۔۔۔
بابا مسکراتے ہوئے اٹھ کھرے ہوئے۔۔۔ انہوں نے پورے ہسپتال میں میٹھائی بانٹی تھی۔۔۔
انکی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نا تھا۔۔۔ فائز علوی کی کمی تو کوئی پوری کر سکتا ہی نا تھا لیکن اسکی اولاد کو پا کر ماہرہ خوش تھی بے تحاشہ خوش۔۔۔
******
میر ایک کافی شاپ پر بیٹھا تھا کان میں بلو توٹھ لگی تھی جبکہ سامنے پڑے لیپ ٹاپ پر اس وقت ہسپتال کی فوٹیج چل رہی تھی جہاں سارے سٹاف میں میٹھائی بانٹی جا رہی تھی وہ سنجیدگی سے کافی پیتا لیپ ٹپ کی سکرین کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
کیمرا اندر کمرے میں لے کر جاو۔۔۔
سر یہ تھوڑا مشکل امر ہے۔۔۔ میں اندر نہیں جا سکتا۔۔ کافی سٹرانگ بیک گراونڈ ہے لڑکی کا۔۔۔ ابھی ابھی اسکی فیملی مل کر گئ یے اس سے۔۔
 کافی پرسنیلٹڈ لوگ تھے تو ایسے میں۔۔ میر کی بات سن کر ایئر پیس سے گھگھیاتی آواز ابھری جب وہ کرخت لہجے میں اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
یہ میرا مسلہ نہیں۔۔۔ جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔ ورنہ تمہارے ٹکرے کر کے کتوں کو ڈال دوں گا۔۔
اوکے سر کوشیش کرتا ہوں آپ پلیز کچھ دیر انتظار کریں۔۔۔۔ وہ شخص فوراً رضا مند ہوتا فون بند کر گیا ۔۔۔
میر سنجیدگی سے آگے کی پلینینگ کرتا کافی کو گھورتا رہا حتکہ اسکا فون پھر سے بلنک کرنے لگا۔۔۔
اسنے فون اٹھایا۔۔ تو کچھ ہی دیر میں وہاں پھر سے ویڈیو چلنے لگی۔۔۔ اس شخص کے سامنے  ماسک لگائے ایک نرس ہاتھ میں ٹرے تھامے کھڑی تھی۔۔۔۔ اسکی قمیض کی جیب سے کئ ہرے ہرے نوٹ چھلک رہے تھے جسے اسنے دائیں ہاتھ سے نیچے اڑستے اس شخص کے ہاتھ سے موبائل تھام کر اسی جیب میں اڑسا یوں کے اسکی بیک سائڈ سامنے کی طرف تھی جہاں سے محض کمرا ہی نظر آ رہا تھا ۔۔
وہ نرس متوازن چال چلتی ماہرہ کے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔۔ میر بے چینی سے الڑت ہو کر بیٹھا۔۔۔ ابھی تک میر نے اس لڑکی کو محض تصویروں میں دیکھا تھا آج لائیو دیکھنے والا تھا۔۔
دفعتاً کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوتی پیشنٹ بیڈ کی جانب بڑھی جہاں ماہرہ بیڈ پر لیٹی تھی جبکہ بے بی کاٹ کی بجائے اسکے ساتھ لیٹا تھا۔۔۔
نرس کو اندر آتا دیکھ ماں نے اسکے ساتھ سے بے بی اٹھایا۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے آپکی۔۔۔
نرس اسکے بالکل قریب آ کر کھڑی ہوئی اتنی کے میر بہت قریب سے باآسانی اسے دیکھ سکتا تھا۔۔۔
مچ بیٹر۔۔۔ وہ مسکرا کر گویا ہوئی۔۔
میر کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری۔۔۔ اسکی آواز بہت پیاری تھی۔۔
گو کے چہرے پر مرودنی چھائی تھی لیکن مسکراہٹ بڑی دلفریب تھی۔۔۔
کوئی کسی قسم کا مسلہ تو نہیں۔۔۔ نرس اس سے چھوٹے چھوٹے سوال پوچھتی اسکی ختم ہو چکی ڈراپ اتار کر دوسری ڈرپ لگا رہی تھی۔۔
نہیں ابھی تک تو نہیں۔۔۔
گڈ۔۔ شام تک آپکو ڈسچارج مل جائے گا۔۔۔
نرس اپنا کام مکمل کر کے باہر نکل آئی۔۔۔ جبکہ ماہرہ کے فرشتوں تک کو علم نہیں تھا کے خطرہ کس حد تک اسکے سر پر آ پہنچا ہے۔۔۔
اس لڑکی کے شوہر کے بارے میں کیا بتایا تم نے۔۔ ںرس کے موبائل اس شخص کو واپس تھمانے پر میر گویا کوا۔۔
مر چکا ہے سر۔۔۔۔ روڈ ایکسیڈنٹ میں چند دن قبل اسکی ڈیٹھ ہو گئ۔۔۔
گڈ۔۔ مطلب کافی ہمدردی کی ضرورت ہے اس وقت بیچاری کو۔۔ وہ مضنوعی تاسف سے گویا ہوا۔۔۔
ایک کام کرو اپنی بیوی بہن یا گرل فرینڈ واٹ ایور۔۔۔ اس لڑکی کے گھر بھیجو۔۔ چوبیس گھنٹوں کے لئے۔۔۔
چاہیے تو ملازمہ بنا کر بچے کی کئیر ٹیکر بنا کر یا اسکے بھائی کی رکھیل بنا کر۔۔۔ مجھے ماہرہ اظہر کے ایک ایک پل کی رپورٹ چاہیے۔۔۔
پیسے تمہارے مرضی کے کام میری مرضی کا میر کے سرد سے لہجے میں کہنے پر وہ شخص تائبعداری سے جی سر کہہ کر رہ گیا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4