Roshan Sitara novel 72nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 72nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
72nd epi..
ماں زاوی اب یہاں فیڈ آپ ہو رہا ہے۔۔ وہ ماہرہ سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔ کم از کم اب عدت جیسی تو کوئی پابندی نہیں۔۔۔ تو اگر آپ کہیں تو میں اسے یہیں اپارٹمنٹ میں لے آوں۔۔۔ ور کچھ نہیں تو کم از کم وہ ماہرہ سے مل تو لے۔۔۔ میں اسے سمجھا دوں گا کے ابھی فلحال ماہرہ سے رشتے کے بارے میں کوئی بات نا کرے۔۔۔ مظہر اپنے کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹتا موبائل کان سے لگائے ماں سے بات کر رہا تھا۔۔۔
جبکہ لاوئنج میں صوفے پر بیٹھی فون کان سے لگائے اسکی بات سنتی ماں نے چہرا گھما کر کچن کی جانب دیکھا جہاں ماہرہ کاونٹر ٹاپ کے سامنے کرسی پر بیٹھی کاونٹر ٹاپ پر فروٹ سیلڈ کا باول رکھے سیلڈ کھا رہی تھی۔۔۔
مظہر اسکی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں رہتی مزید میں کوئی چیز اس پر مسلط نہیں کر سکتی۔۔۔ پوچھتی ہوں اس سے پھر جو وہ کہے گی ویسا کر لیں گے۔۔۔ ماں نرمی سے گویا ہوئی کہ بحرحال انہیں بیٹی سے بڑھ کر کچھ نا تھا وہ جو چاہتی تھیں اسکی بھلائی کے لئے ہی چاہتی تھیں۔۔۔
دفعتا ماہرہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی لاوئنج میں ہی آ گئ۔۔۔ وہ ماں کے پاس صوفے پر بیٹھتی انکی گود میں سر رکھتی وہیں نیم دراز ہو گئ۔۔۔ ماں محبت سے اسکا سر سہلانے لگیں۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے ماہرہ۔۔۔
ماں کے پوچھنے پر وہ بے بسی سے ہس دی۔۔۔ آپکے سامنے ہی ہے مام۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔ اس حالت میں ایسے ہی طبیعت اوپر نیچے رہتی ہے۔۔ اب تو ویسے بھی بہت کم وقت رہ گیا یے ۔۔ ماں کے کہنے پر وہ مسکرا دی۔۔
ویسے تم سے ایک بات پوچھنی تھی۔۔ ماں محتاط سے لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔۔
جی مام۔۔۔ وہ انکی گود سے سر اٹھاتی سیدھی ہو کر بیٹھتی کمر کے پیچھے کشن رکھ گئ۔۔۔
وہ دراصل زاوی آیا ہوا ہے۔۔ وہ تم سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔ فائز کی تعزیت کے لگی۔۔۔ تو اگر تم کہو تو۔۔۔ ماں محتاط سے لہجے میں بول رہی تھیں لیکن پھر بھی انہیں زاوی کے ذکر پر ماہرہ کی واضح رنگت متغیر ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔
جیسے تم کہو ماہرہ۔۔ کوئی زبردستی تھوڑی ہے۔۔ وہ سرعت سے بات سمبھال گئیں حالانکہ انہوں نے پوری کوشیش کی تھی کے بات کا انداز سادہ ہی رہے۔۔
نو مام۔۔ ابھی میں کسی سے نہیں ملنا چاہتی۔۔۔ اور اس حالت میں تو بالکل بھی نہیں۔۔۔ اس لئے تو میں نے گھر واپس جانے سے بھی انکار کر دیا۔۔۔ بابا کا آفس تک نہیں جوائن کی ابھی تک۔۔۔ یہ تو بابا کی محبت ہے کے انہوں نے میرے جذبے اور لگن کو دیکھتے ہوئے مجھے بزنس کے اونلائن کورسز میں انرول کروا دیا کے آفس جوائن کرنے سے پہلے میں بزنس کے کچھ داو پیج سیکھ جاوں۔۔۔
وہ دو ٹوک انداز میں حتمی لہجے میں گویا ہوئی تو ماں محض سر ہاں میں ہلا کر رہ گئیں کے بحرحال وہ اسکی کسی بات سے نحراف نہیں کر سکتی تھیں۔۔
*****
وہ ایک بڑا سا حال تھا جہاں فاصلے فاصلے پر کئ ڈیکس لگے تھے یوں کے ڈیکس کے سامنے کام کرتے افراد کے اوپر سے سر نظر آ رہے تھے۔۔۔ ایسے میں شائنہ اور احمر ایک ہی ڈیسک پر کام کر رہے تھے۔۔۔ جب شائنہ نے لیپ ٹاپ پر سارا سیکیورٹی سسٹم چیک کرتے ایک اچٹتی نگاہ احمر پر ڈالی جو جینز پر بلیک نیک شرٹ میں ملبوس بہت خوبرو لگ رہا تھا۔۔ چہرے پر موجود چھوٹی چھوٹی ڈارھی اسکی وجاہت میں مزید اضافہ کرنے لگی تھی۔۔۔ اسنے آج کل یہ بات شدت سے نوٹ کی تھی کے آفس میں احمر شیخ کے کرش بڑھنے لگے تھے۔۔۔ وہ ہر دوسری لڑکی کا کرش بن گیا تھا۔۔۔ اسکا ایٹیٹود اسکا بولنے کا سٹائل اسکا سب کو نظرانداز کرنا آفس میں اسکی مقبولیت بڑھا رہا تھا۔۔۔
وہ آج کل آفس میں ہاٹ گوسپ ٹاپک تھا۔۔۔ اکثر کینٹین میں بیٹھے یا آتے جاتے وہ کئ جگہ پر کئ لڑکیوں کی زبانی اسکا ذکر سن چکی تھی۔۔
وہ بے خودی میں اسے تکے گئ۔۔۔
فائز علوی کو جانتے ہو احمر۔۔۔ وہ کرسی کو ادھر ادھر جھلاتی احمر کو دیکھتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔
احمر نے چونک کر کمپیوٹر سکرین سے نظریں اٹھائیں۔۔۔ اسے اس آفس میں کون نہیں جانتا تھا۔۔۔ اتنا یہاں لوگ خدا کو یاد نہیں کرتے جتنا یہاں اسے یاد کیا جاتا ہے۔۔۔ اچھا تھا بیچارا۔۔۔ نا بھی ہوتا تو اب تو اچھا ہی ہے کیونکہ مرا ہوا انسان اچھا ہی ہوتا ہے برے تو زندہ لوگ ہوتے ہیں ۔ وہ شانے اچکا کر تبصرہ کرتا واپس سکرین پر جھک گیا۔۔۔
اچھے برے کا تو پتہ نہیں لیکن اس بیچارے کو تو مرنے کے بعد بھی سکون نہیں۔۔۔ اسنے اپنے لونگ کوٹ کی جیب سے ڈرائے فروٹس نکالے اور احمر کی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔۔
نو تھینکس۔۔۔ اسکے صفا چٹ جواب پر وہ شانے اچکا کر خود کھانے لگی۔۔۔
اسکی ایک کزن ہے ماہرہ اظہر۔۔۔
ہمم پھر۔۔ احمر نے مصروف سے انداز میں فائُل کھولتے اندر سے کچھ کوڈنگ دیکھی۔۔۔
پھر یہ کے میر اسی پراجیکٹ کے حوالے سے پاکستان گیا ہے۔۔۔ شائنہ کے تاسف سے کہنے پر احمر نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔۔۔
تو تمہیں کیا پرابلم ہے۔۔۔
پرابلم ہے یار۔۔۔ وہ لڑکی معصوم ہے۔۔۔ اور میر اسے ایکسپلائٹ کر کے رکھ دے گا۔۔۔ تم جانتے نہیں وہ کتنا برا ہے۔۔۔
شائنہ کے لہجے میں دکھ تھا۔۔۔ مجھے افسوس ہو رہا ہے۔۔۔ کاش میں اسکی کوئی مدد کر سکتی۔۔۔
ڈونت وری شائنہ ڈئیر دنیا میں کوئی لڑکی کسی مرد کے ہاتھوں تب تک ایکسپلائٹ نہیں ہو سکتی جب تک وہ خود نا چاہے۔۔۔ احمر کا لہجہ عام سا تھا۔۔۔
کتنے بے حس ہو تم۔۔۔ شائنہ نے اسے شاکی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ تم میر جیسے کرپٹ انسان کی کارستانیوں کو ایک لڑکی سے نتھی کر کے جسٹیفکیشن دے رہے ہو۔۔۔
جانتے بھی ہو وہ کتنا بڑا ماسٹر مائنڈ ہے۔۔ لوگوں کے ذہنوں سے کھیل کر اسے قابو کرنا باخوبی جانتا ہے۔۔۔ وہ ٹریپ ہی اس انداز میں کرتا ہے کے ایک لڑکی اسکے ہاتھوں تباہ ہو کر سوچتی ہے کے اسنے کیا کیا۔۔۔
میں اسکی وجہ سے بہت سی معصوم لڑکیوں کو خود کشی کر کے موت کے گھاٹ اترتا دیکھ چکی ہوں۔۔۔ میں کسی اور معصوم کی زندگی برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔۔۔
وہ تلخی سے ڈیسک پر ہاتھ مارتی گویا ہوئی۔۔
تو مجھ سے تم کیا چاہتی ہو۔۔۔ میں کیا کروں۔۔۔ وہ جھنجھلا کر کمپیوٹر سکرین سے نگاہیں ہٹاتا کرسی کی پشت سے کمر ٹکا گیا۔۔۔ آنکھیں چندہی کئے وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
مجھے تمہاری مدد چاہیے۔۔۔
شائنہ کے کہنے پر احمر گہری سانس خارج کر گیا۔۔۔۔ایم سوری۔۔۔ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔ اسکے دو ٹوک انداز میں منع کرنے پر شائنہ اسے شاک کی سی کیفیت میں دیکھتی رہ گئ جب وہ مزید گویا ہوا۔۔۔
غالباً تم آگاہ ہو کے مجھ سمیٹ اس آفس کے ہر ورکر کی ایک ایک حرکت پر تمہارے باپ اور میر کا پہرا ہے۔۔ اور انکی آنکھوں میں دھول جھونک کر کوئی کام کرنا ایک ناممکن سا امر ہے کجا کے انکی ناک کے نیچے کچھ کر جانا۔۔۔ قوی امکان ہے کے ہماری ابھی کے گفتگو بھی وہاں تک باآسانی سنی جا رہی ہو گئ جسکے بعد اب میری کلاس لگنے والی۔۔۔
اوہ پلیز احمر۔۔۔ فار گاڈ سیک۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتا شائنہ تلخی سے اسکی بات کاٹ گی۔۔۔
یہاں کا سیکیوڑتی سسٹم میں اگلے چند منٹوں تک ہیک کر چکی ہوں۔۔ تو بے فکر رہو ہماری گفتگو صیغہ راز ہے۔۔۔ اب اتنی پاگل نہیں میں کے اپنے پلان سے بابا یا میر کو آگاہ کروں۔۔۔
اسکے اکتائے سے انداز میں کہنے پر احمر کچھ سوچ کر رہ گیا۔۔۔
اوکے پلان کیا ہے۔۔ وہ جیسے نیم رضا مند دکھائی دیتا تھا۔۔۔
یہ ہوئی نا بات۔۔۔ شائنہ ایکسائتڈ سی آگے کو جھکی ایک چور نگاہ اطراف میں ڈالتی رازدرانہ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
یقیناً میر نے ابھی تک اس لڑکی کی سبھی معلومات حاصل کر لی ہونگی میں اسکے سوشل اکاونٹس ہیک کر سکتی ہوں۔۔۔ وہ ایکسائٹڈ سی بول رہی تھی۔۔
اس سے کیا ہو گا۔۔۔ احمر نے نا سمجھی سے ائبرو بھنچے۔۔۔
اففف۔۔۔ سن تو لو پہلے۔۔۔ شائنہ نے کوفت سے آنکھیں میچیں۔۔۔
یہ کے میں اسکے اکاوئنٹس ہیک کر کے ماہرہ کا رابطہ نمبر ڈھونڈنے کی کوشیش کرتی ہوں۔۔۔
تو اس سب میں میرا کیا کردار ہے۔۔۔ وہ جیسے بدمزہ ہوتا اسکی بات کاٹ کیا۔۔۔
شائنہ اسے گھور کر رہ گئ اس انسان کا محض یہ اکڑ اور بے نیاز انداز ہی اسے سخت زہر لگتا تھا۔۔۔ ورنہ باقی وہ اسے پور پور پسند تھا۔۔۔
تم نے ایک کوڈنگ میل تیار کرنی ہے جس میں تم اسے میر کی فطرت سے آگاہ کر کےاسکے آنے کا مقصد بتا کر اس سے ہوشیار رہنے کی تنبہہ کرو گئے۔۔۔ پھر میں وہ میل ماہرہ کو میل کر دوں گی جو کے محض اسکے ای میل ایڈیس پر جا کر ایک دفعہ ہی انگلش فونٹ میں کھلے گی ورنہ جو بھی کوئی اسے دیکھے وہ کوڈنگ ہی دکھے لگی۔۔۔ یوں ہم اسے انفارم کر دیں گے۔۔۔
شائنہ نے اپنا ہلان اسے بتا کر چمکتی نگاہوں سے اسے دیکھتے اس سے داد چاہی جب وہ اسکی بات سن کر چند پل اسے خاموشی سے دیکھنے کے بعد بڑی سادگی سے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گیا۔۔۔
یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ شائنہ۔۔۔ تم مجھے دلاور خان اور میر کے ناک کے نیچے سے اونٹ نکالنے کو کہہ رہی ہو جو کے ایک ناممکن سا امر ہے۔۔۔ میں میل بنا کر دوں تمہیں۔۔ اور سو میں سے سو فیصد یقین ہے کے میر اس بات سے آگاہ ہو جائے گا کیونکہ جب اسکے پاس اس لڑکی کے کانٹیکٹس ہیں تو وہ اسکی سبھی کانٹیکٹ لسٹ اور میل میسجز غرض ہر چیز سے آگاہ ہے۔۔۔ بس تم ہی اسے ہلکا لے رہی ہو ورنہ وہ بہت پہنچی چیز ہے۔۔ ۔اس میل کے پکڑے جاتے ہی سیدھا اٹیک مجھ پر ہوگا کیونکہ اس آفس میں میر کے بعد کوڈنگ محض میں ہی جانتا ہوں۔۔۔
اور میں بہت عام سا بندہ ہوں ابھی مجھے مرنا نہیں۔۔۔ وہ بہت عاجزی سے اپنے جڑے ہاتھ سر سے لگاتا گویا ہوا۔۔۔
شائنہ نے اسے دکھ اور تاسف سے دیکھا۔۔۔
تم سے اتنی بزدلی کی توقع نہیں تھی احمر۔۔۔ کیا جواب دو گے اپنے خدا کو کے تم ایک لڑکی کو بے آبرو ہونے سے بچا سکتے تھے لیکن تم نے کوشیش تک نا کی۔۔۔ شائنہ کی آنکھوں کے کونے نم ہونے لگے۔۔۔۔۔
او بہن میری۔۔۔ یہاں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔۔۔ اگر تو وہ لڑکی باکردار با پردہ اور حیا دار ہوئی تو میر تو کیا میر جیسے ایک سو بھی اسکی خاک تک نہیں پا سکتے۔۔۔ لیکن اگر وہ میر جیسے شخص کی پڑسنالتی پر مر مٹتی اسکی چکنی چپری باتوں میں آ کر پھسل گئ تو وہ اپنے انجام کی خود ذمہ دار ہو گئ۔۔۔ ویسے بھی اج کے دور میں جو زیادہ اچھا بنتا ہے دنیا اسے سالم نگل جاتی ہے اور مجھے ابھی جینا ہے۔۔ وہ لاپرواہی سے شانے اچکاتا واپس کمپیوٹر کی سکرین پر جھک گیا کے وقت کم تھا اور اسے یہ فائل آج شام ہی دلاور خام کو تیار کر کے دینی تھی۔۔ اور شائنہ اسکا کافی وقت برباد کر چکی تھی۔۔۔
شائنہ کچھ دیر تک اسے یونہی تاسف سے دیکھتی رہی پھر ایک جھٹکے سے پلٹتی وہاں سے نکلتی چلی گئ۔۔۔ دور تک اسکی ہیل کی ٹک ٹک احمر کو مسل اپنے دماغ پر ہتھورے برساتی محسوس ہوتی رہی۔۔۔
*****
ویٹ ویٹ ویٹ۔۔۔
آگے بڑھنے سے پہلے زرا ٹہریے۔۔
کیا آپ ہماری نئ ای بک حاصل زیست کے بارے میں جانتے ہیں۔۔۔
آگر نہیں تو بتاتے چلیں کے یہ ایک نئے اور اچھوتے موضوع پر ام ہانیہ کے قلم سے تحریر ایک نئ ای بک ہے۔۔۔ جسکی پری بکنک بہت ہی مناسب قیمت پر جاری ہے۔۔۔
تو کیا آپ نے اسکی پری بکنگ کروا کی۔۔۔
اگر ہاں ۔۔ تو
Best of luck for a new experience of your life...
اگر نہین کی تو
don't miss this chance...
e.book is available 40% off then its original price for pre booking...
so avail this offer...
e.book prise : Rs 200
Pre Booking prise : Rs 120
invest Rs 120 at your self and you will never regret for it...
Contact Number : what's app number
03156490853
*****
میر اپنے بیڈ پر نیم دراز گود میں کشن پر لیپ ٹاپ رکھے دلچسپی سے ماہرہ اظہر کی سبھی ڈیٹیلز دیکھ رہا تھا۔۔۔ دفعتاً وہ ایک پیج پر آ کر رکا۔۔۔ آنکھوں میں تحیر ابھرا۔۔۔ تو کیا ماہرہ اظہر شادی شدھ ہے۔۔۔ یہ شاک گہرا تھا۔۔۔تو پھر اسکا شوہر کون ہے اسنے سرعت سے اگلا پیج کلک کیا جب کلک کے بعد آگے لوڈنگ شو ہونے پر وہ لبوں پر ہاتھ رکھے لوڈنگ مکمل ہونے کا شدت سے انتظار کرنے لگا ۔۔
رات کا ناجانے کونسا پہر تھا جب گھبراہٹ سے ماہرہ کی آنکھ کھلی ۔۔۔حلق میں جیسے کانٹے سے اگ آئے تھے۔۔ اسنے ہتھیلیوں پر وزن ڈالتے اٹھنا چاہا جب پہلو سے شدید قسم کے درد کی لہریں اٹھیں۔۔۔ اسکی دلخراش چیخیں اپارٹمنٹ میں گھونجنے لگیں۔۔ صد شکر کے ماں اسکی طبیعت کا خیال کرتیں آج کل اسکے ساتھ ہی کمرا شیئر کر رہی تھیں۔۔۔
کیا ہوا ماہرہ۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔ اسکی درد سے کراہتی آوازیں سن کر ماں بوکھلا کر نیند سے جاگتیں اسکی جانب بڑھیں۔۔۔۔حوصلہ رکھو ماہرہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ میں ابھی مظہر کو فون کرتی ہوں کے گاڑی لے کر آئے۔۔۔ ہمیں فوراً ہسپتال جانا ہے۔۔۔ میرے خیال سے پیدائش کا وقت قریب ہے۔۔۔ ماہرہ کی حالت دیکھ ماں کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔۔ وہ اسے حوصلہ دیتی ساتِھ ساتھ مظہر کا نمبر بھی ملا رہی تھیں۔۔۔
لوڈنگ کے بعد اگلا صفحہ کھلنے پر میر پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے۔۔۔
ماہرہ اظہر شادی شدہ تھی اور شادی کے بعد اپنے شوہر کے سنگ کہیں جا چکی تھی۔۔۔
کہاں۔۔۔ نا وہاں یہ رقم تھا اور نا ہی شوہر کا نام و نشان اور اتہ پتہ۔۔۔ میر کا غصے سے برا حال ہونے لگا۔۔۔ اسے آدھی ادھوری انفارمیشن پہنچائی گئی تھی۔۔۔ اسنے غصے سے کھولتے اپنا موبائل فون اٹھا کر نمبر ملانا شروع کیا۔۔۔
ماں اور مظہر سٹریچر کے ساتھ ساتھ بھاگتے جا رہے تھے جہاں درد سے تڑپتی ماہرہ پر سفید چادر اوڑھی گئ تھی۔۔۔ دفعتاً او پی ڈی میں سٹریچر کے جاتے ہی دروازے بند ہوئے تو ماں بے چینی سے مسلسل کسی نا کسی آیت کا درد کرتیں چکر کاٹنے لگی۔۔۔
سونم کیا فائز کی کزن ماہرہ شادی شدہ تھی۔۔۔۔ سونم اور میجر اریز اس وقت ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھے ڈنر کر رہے تھے جب کھانا کھاتے میجر اریز اس سے مستفسر ہوا ۔۔۔
</>
پتہ نہیں۔۔ مجھے تو کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا اور نا ہی میں نے وہاں رہنے کے دوران اسکا شوہر دیکھا اور نا ہی ماہرہ کے زبانی اسکی شادی کا ذکر سنا۔۔ بلکہ میں تو آخری وقت تک اسے فائز بھائی کی ہی بیوی سمجھتی رہی۔۔۔ اسکے لہجے میں یاسیت تھی۔۔ فائز کا ذکر کرتے اسکی انکھیں بھر آئیں۔۔۔
ماہرہ فائز کی بیوی تھی اور یہ نکاح صیغہ راز تھا۔۔۔ پھر اب اسے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اسکی شادی ڈکلئیر کر دی گئ تھی مزید براں یہ ہی بتایا گیا تھا کے وہ اپنے شوہر کے سنگ گی ہوئی ہے۔۔۔
اس سارے ٹریپ کے پیچھے مقصد۔۔۔ وہ بے طرح الجھا۔۔۔۔
اور ماہرہ کہاں روپوش تھی بھلا اور کیوں۔۔
اس کور سٹوری کی وجہ۔۔۔ وہ الجھا الجھا سا مسلسل تانے بانے بنتا کڑی سے کڑی ملا رہا تھا۔۔ یہ فائز کے بعد یہاں چل کیا رہا تھا۔۔۔
مسلسل ہر چیز کے بارے میں سوچتے سوچتے یکدم ہی اسکے دماغ میں کچھ سپارک ہوا۔۔۔ یہ سب کچھ ایک ہی صورت ممکن تھا ۔۔ وہ کرب سے آنکھیں میچتا سرتھام گیا۔۔۔ مطلب فائز کی اولاد۔۔۔
اسنے جیب سے موبائل نکالتے ایک نمبر ڈائل کرنا شروع ہوا۔۔۔
ماں ہسپتال کے سرد کاریڈور میں بے چینی سے یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھیں جبکہ مظہر سائیڈ پر بنے بینچ پر سر دیوار سے ٹکائے مسلسل پاوں جھلاتا اندر سے آنے والی کسی خبر کا منتظر تھا۔۔۔جب بچے کے رونے کی باریک سی آواز پر وہ دونوں اس جانب متوجہ ہوئے جہاں نرس گلابی کمبل میں لپٹا ایک روئی کا گالہ لئے انکی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔
مظہر بھی بے چینی سے اٹھتا ماں کی جانب بڑھا۔۔
ماہرہ اظہر کی معلومات ادھوری کیوں ہیں۔۔۔ کون ہے اسکا شوہر اور کہاں ہے وہ آج کل۔۔ پیسے تم لوگوں کو کس چیز کے دئیے ہیں میں نے۔۔۔ یہاں اتنی دور میں جھک مارنے آیا ہوں اگر تم لوگوں نے مجھے پچھلی انفارمیشن ہی دینی ہے۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی وہ بھوکے شیر کی مانند غراتا ان پر چڑھ ڈورا۔۔۔
سر جی۔۔۔ آج کل وہ کہاں ہے اس کے بارے میں کہیں سے کوئی معلومات نہیں مل رہیں البتہ ہم انکے گھر پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ جیسے ہی وہ لڑکی گھر لوٹتی ہے ہم آپکو بتا دیں گے۔۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس اس لڑکی کی مزید معلومات حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں آپکو تھوڑا صبر کرنا ہوگا۔۔۔
فون سے ابھرتی لجاہت بھری آواز پر وہ طیش سے موبائل دیوار میں مار گیا۔۔۔ یہاں ماہرہ اظہر کے ہوش ربا حسن نے اسکی دن رات کی نیندیں اڑا رکھیں تھیں اور وہاں وہ اسے صبر کرنے کا بول رہا تھا۔۔۔
مبارک ہو بیٹا ہوا ہے۔۔۔ پیشنٹ ابھی اندر ہی ہے اسے کچھ دیر تک روم میں شفٹ کر دیا جائے گا۔۔۔
نرس نے وہ روئی کا گالہ ماں کو تھمایا تو اسے پہلی مرتبہ گود میں تھامتے بے ساختہ ماں کی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔۔۔ کل تک وہ اس بچے کے وجود سے انکاری تھیں۔۔ مگر آج اس ننھے وجود کو گود میں لیتے ہی سارے جذبات جاگ اٹھے تھے۔۔۔ یہ انکی لاڈلی شہزادی کا لخت جگر تھا۔۔۔ ماں نے اس سرخ و سفید بھرے بھرے گالوں والے روئی کے گالے کو سینے میں بھینچا۔۔۔
واو مام یہ تو بہت کیوٹ ہے بالکل میری طرح۔۔ مظہر نے دو انگلیوں سے اسکے گال کو چھوا تو وہ چہرے کے ڈیزائن بناتا باریک سی آواز میں رونے لگی۔۔۔
اوے یہ کیا۔۔۔ مظہر کے بے ساختہ ہاتھ پیچھے کرنے پر ماں مسکرا دی۔۔۔
میرے خیال سے اسے بھوک لگی ہے۔۔۔
آپ دیکھیں اسے میں تب تک بابا کو کال کر کے بتا دوں۔۔۔ وہ سر ہاں میں ہلاتا موبائل نکال کر نمبر ملانے لگا۔۔
ماہرہ اظہر کے گھر پر نظر رکھو۔۔۔ جیسے ہی وہ گھر لوٹے فوراً مجھ سے رابطہ استوار کرنا۔۔۔ اسکی پل پل کی رپورٹ رکھنا۔۔۔ اس وقت وہ دشمن کی نظر میں ہے۔۔ اسے ایک خراش تک نہیں آنی چاہیے۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی میجر اریز گھر سے باہر نکل آیا۔۔۔ اسکے لہجے میں افسروں والا روب تھا۔۔۔
جی سر۔۔ دوسری طرف سے فوراً تائید کی گئ۔۔۔
میر اس وقت ایک بار کلب میں سائیڈ پر لگے صوفوں پر ایک نیم برہنہ دوشیزہ کے ساتھ مصروف تھا جب اسکا موبائل بلنک کرنے لگا ۔۔۔۔
خمار آلود نگاہوں سے اس لڑکی کی بال شانے سے ہٹاتے وہ جھکنے ہی والا تھا جب میز پر پڑے موبائل کی بلنک کرتی سکرین کو دیکھ کر بدمزا ہوتا اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
فون کال ضروری تھی وہ مس نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ وہ پیچھے ہٹتا موبائل اٹھا کر کان سے لگا گیا۔۔۔ جب وہ لڑکی اسے پیچھے ہٹتا دیکھ خود ہی اسکے گلے کا ہار بنی۔۔۔
وہ ایک نظر اسے مسکرا کر دیکھ کر پیچھے ہٹاتا انگلی سے دو منٹ میں واپس آنے کا اشارہ کرتا باہر نکل گیا۔۔۔
سر ماہرہ اظہر کے بارے میں پتہ لگ گیا ہے۔۔۔ اسکے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے وہ اس وقت ہسپتال میں ہے اسکے باپ نے پورے گھر کے ملازمیں میں میٹھائی بانٹی ہے۔۔۔
فون سے ابھرتی آواز پر میر سنجیدگی سے اسے سنتا مٹھیاں بھینچ گیا۔۔۔ اسکی شادی ہی میر کے لئے شاک تھی کجا کے بیٹا۔۔۔۔۔۔
اور اسکا شوہر۔۔۔ کچھ دیر بعد اسکی سرد سے آواز ابھری۔۔۔ اسکا ابھی کوئی اتہ پتہ نہیں۔۔۔ بیٹے کی پیدائش پر باپ ہسپتال میں موجود نہیں ہے۔۔۔
سٹرینج۔۔۔ یہ انفارمیشن انوکھی تھی۔۔۔ اسکا شوہر کہاں تھا۔۔۔ وہ فون بند کر کے ہتھیلی پر مارتا مسلسل کچھ سوچتا ہوا واپس اندر کی جانب بڑھا۔۔۔

No comments