Roshan Sitara novel 71st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 71st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
71st epi
علایہ وہاج کے کمرے سے نکلتے ہی سرپٹ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی اور بستر پر اونڈھے منہ گرتی آنکھیں سختی سے میچ گئ۔۔۔
پے در پے تیزی سے بہتے آنسو اسکا چہرا بھگو رہے تھے۔۔۔ اتنی بد گمانی۔۔۔۔
ٹھیک ہے مانا کے اسنے غلط کیا تھا مگر وہ سب ٹھیک بھی کرنا چاہتی تھی تبھی تو رات کے اس پہر اپنی نسوانیت اور پندار کی پرواہ نا کرتے سب ٹھیک کرنے نکلی تھی۔۔۔ تو کیا وہ ایک موقع کی حقدار نا تھی۔۔۔ کیا وہ اس سلوک کی مستحق تھی کے وہ اسکے ساتھ ایسا سلوک کرتا۔۔۔ اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔ کیوں گئ وہ وہاں۔۔۔
چند منٹ پہلے کے لمحات یاد آئے تو وہ تکیہ شدت سے مٹھیوں میں میچ لگی۔۔۔
مسٹر وہاج خانزادہ ۔۔۔ میں ایک لڑکی ہوتے ہوئے خود کو جتنا جھکا سکتی تھی جھکا چکی۔۔۔ اس سے زیادہ مزید نہیں۔۔۔ تمہیں اب مجھ پر یقین آئے یا نا آئے۔۔ یہ تمہارا مسلہ ہے لیکن اب میری طرف سے پہل کبھی نہیں ہوگئ۔۔۔ وہ پختہ عزم کرتی آنسو صاف کر کے سیدھی ہوئی۔۔۔ بھلے ہی وہ شدت سے چاہتی تھی کے انکے درمیان ہر بات کلیئر ہو جائے۔۔۔ بھلے ہی وہ اپنے رشتے میں سب کلئیر کر کے آگے بڑھنا چاہتی تھی لیکن یوں اس انداز میں نہیں۔۔۔ اب پہل وہاج خانزادہ کی طرف سے ہی ہونی تھی چاہیے اس کے لئے انکا رشتہ کتنا بھی سفر کیوں نا کرتا۔۔
*******
ماہرہ اپنے کمرے کی لان کی جانب کھلتی کھڑکی میں کھڑی لان میں کام کرتے مالی کو دیکھ رہی تھی جو صبح ہی صبح کٹر سے گھاس کاٹتا اسکی تراش خراش کر رہا تھا۔۔۔
آج کل اسکی یہ ہی واحد انٹرٹینمنٹ تھی۔۔۔ تنہائی میں رہتے رہتے دل بہت اوب جاتا تو اس کھڑکی میں آ کھڑی ہوتی۔۔۔
باہر ابھی سب ناشتہ کر رہے تھے اور وہ سب کے ناشتہ کر کے ڈائینینگ ٹیبل سے اٹھنے کی منتظر تھی پھر وہ ملازمہ کو فون کرکے اپنا ناشتہ اندر ہی منگوا لیتی۔۔۔
دفعتاً دروازہ ناک ہونے کی آواز پر وہ چونکی۔۔۔ بھلا کون ہوسکتا تھا باہر۔۔۔۔وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دروزے تک آئی۔۔
اسنے آہستگی سے دروازہ وا کیا اور سامنے ماں اور مظہر کو دیکھ کر وہ گم صم سی انہیں دیکھتی رہی پھر آہستگی سے دروازے کے سامنے سے ہٹتی بستر کی جانب بڑھی۔۔۔
اسکا پزمردہ انداز اور ویران چہرا دیکھ ماں کے دل پر گھونسا پڑا۔۔
ابھی تک ناراض ہو ماں سے میری جان۔۔۔ ماں اسکے ساتھ ہی بستر پر بیٹھتیں اسے بازو کے حصار میں لے گئیں۔۔۔
ماں کا لمس پا کر وہ گویا پگھلنے لگی۔۔۔ باوجود ضبط کے بھی وہ اپنی آنکھوں کے گوشے نم ہونے سے روک نا پائی۔۔۔
اس حالت میں ویسے ہی اسے قدم قدم پر ماں کی کمی محسوس ہورہی تھی۔۔۔ مزید وہ پچھلے کچھ دنوں سے ان دونوں کی کرم نوازی کے باعث بالکل ہی تنہا رہ گئ تھی۔۔۔
مظہر نے اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھتے اسکی تھوڑی تلے انگلی رکھ کر اسکا چہرا اپنی جانب کیا۔۔۔ اور اسکے دیکھنے پر وہ دوسرے ہاتھ سے کان پکڑتا بیچارگی سے کندھا اچکا گیا۔۔۔
ماہرہ کے آنسو مزید تیزی سے سے بہہ نکلے۔۔۔
ماں سے اتنی لمبی ناراضگی نہیں رکھتے بیٹا۔۔۔ مام نے اسے ساتھ لگاتے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔ دیکھو دو دنوں میں کیا حال بنا لیا ہے تم نے اپنا۔۔۔۔
اور بھائی سے تو بالکل بھی ناراضگی نہیں رکھتے۔۔ مظہر بھی اٹھ کر اسکے ساتھ بیٹھتا اسکے شانے پر بازو پھیلا گیا۔۔
ماہرہ نے ہاتھ کی ہشت سے آنسو رگڑ کر صاف کئے۔۔
جب آپ لوگوں کو میری اولاد نہیں پسند تو۔۔۔
کس نے کہا تم سے یہ۔۔ مجھے میرا بھانجا یا بھانجی وٹ ایور۔۔۔ بہت پسند ہے اور میں شدت سے اسکی آمد کا منتظر ہوں۔۔۔ مظہر اپنی نم آنکھیں مسلتا بے ساختہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
ماہرہ نے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
تم نے کہا تھا کے میرا بے بی تمہارے در پر پلے گا۔۔۔ ماہرہ کے آنسو بہہ نکلے۔۔
کیوں بھئ اسکی ماں مر گئ ہے کیا جو میرے در پر پلے گا۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بات کو مزاح کا رنگ دے گیا۔۔۔
کڑوروں کی پڑاپڑتی ہے اسکی ماں کے نام۔۔۔ اسے کیا ضرورت بھلا کسی کی۔۔۔۔
چلو بس ختم کرو ساری باتیں۔۔۔ جو گزر گیا سو گزر گیا۔۔۔ تمہاری ماں اور بڑا بھائی چل کر تمہارے پاس آئے ہیں۔۔ اور اگر بڑا خود چل کر چھوٹے کے پاس آئے تو اسکا مان رکھا جاتا ہے۔۔۔ یوں ناراضگی نہیں دکھائی جاتی۔۔۔ چلو اٹھو شاباش۔۔ ہم مل کر ناشتہ کریں گے اور تمہارے بابا نے بھی ابھی تک ناشتہ نہیں کیا۔۔۔ وہ بھی ہمارے انتظار میں ہیں کے ہم ناشتہ سب مل کر کریں گے۔۔۔۔
آجاو۔۔۔ آج میں اپنی بیٹی کے لئے خود اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بناوں گی۔۔۔ بتاو مجھے کیا کھائے گی میری بیٹی۔۔۔ ماں نے محبت سے اسکے بال سنوارے۔۔۔
چیز سینڈویچ وہ بستر سے اٹھتی ہلکا سا مسکرائی۔۔ہاں کیوں نہیں تم چلو میں ابھی بنا کر لاتی ہوں۔۔۔ اسکے یوں فرمائش کرنے پر مام مسکرا دیں۔۔۔
******
خانزادہ مینشن کے کار پورچ میں گاڑی آکر رکی اور اندر سے تھکا ہارا سا وہاج باہر نکلا۔۔۔ کوٹ بازو پر پڑا تھا جبکہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی تھی بکھرے بال ماتھے پر بکھرے تھے چہرے سے تھکاوٹ عیاں تھی۔۔۔ آج ویک اینڈ تھا لیکن وہ اور مرتسم کل سے ہی اپنے کام کسی کام کے غرض سے آوٹ آف سٹیشن گئے ہوئے تھے۔۔۔ انکی واپسی کل صبح تک متوقع تھی لیکن جلدی جلدی کام نپٹاتے وہ وقت سے بہت پہلے اپنا کام مکمل کر کے واپس آنا چاہتے تھے۔۔۔ اسی حصول کے لیے وہ رات بھی
ایک دو گھںٹوں سے زیادہ نیند نہیں لے پائے کے وہ جلد از جلد اپنا کام نبٹا کر واپس گھر آ جائیں۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے وہ اب رات ہونے سے پہلے ہی گھر لوٹ چکے تھے۔۔۔ اس وقت وہ اسقدر تھک چکا تھا کے شاور لے کر ایک سٹرانگ سی چائے پینے کے بعد ایک بھرپور نیند لینے کا خواہش مند تھا ۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا درمیانی فاصلہ عبور کرکے لاوئنج کا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا۔۔۔
کچن سے آتیں کھٹ پٹ کی آوازوں سے اسنے اندازہ لگایا کے مام وہیں ہیں۔۔۔ دو دن پہلے ہی ماں اور بابا عمرے سے واپس آ چکے تھے ۔۔۔ وہ اپنا کوٹ وہیں صوفے پر پھینکتا کچن کی جانب بڑھا۔۔ مام ایک کپ سٹرانگ سی چااااااائے۔۔ وہ باہر سے ہی بولتا آ رہا تھا جب کچن کے دروازے میں پہنچتے پہنچتے سامنے دیکھ کر بے ساختہ اسکی زبان کو بریک لگی۔۔
سامنے ہی وہ دشمن جان مسٹرڈ کلر کے پاوں کو چھوٹے سٹائلش گاون میں جس پر سلور کلر کا سٹون ورک ہوا تھا زیب تن کئے شاگنگ پنک کلر کا نفیس سا آنچل گلے میں ڈالے بال ہاف کیچر میں مقید کئے لاپرواہ سی کھڑی تھی۔۔۔ بینگز ماتھے پر بکھرے تھے ۔۔۔ جبکہ پاوں آنچل کے ہم رنگ کھسے میں مقید تھے۔۔۔ دودھیا پاوں شاگنگ پنک کھسے میں الگ ہی چھب دکھلا رہے تھے۔۔۔ ہونٹوں پر ہلکی سی لپ سٹک لگائے کھلی کھلی سی وہ غضب ڈھا رہی تھی۔۔۔ اسے یوں بالکل غیر متوقع طور پر اپنے گھر اپنے کچن میں اس طرح اس روپ میں دیکھ کر وہاج کی آدھی تھکاوٹ جاتی رہی۔۔۔
اور بوکھلا تو علایہ بھی گئ تھی یکدم اسے یوں اپنے سامنے پا کر۔۔۔
وہ۔۔۔ آنٹی اندر ہیں۔۔۔ بات کرتی وہ بے ساختہ رخ بدل گئ۔۔۔ اسکے رخ بدلنے پر وہاج آگے بڑھ گیا۔۔۔ جبکہ اسکے جاتے ہی علایہ نے کوفت سے پاوں پٹختے آنچل کھول کر سر پر لیا۔۔۔
دو دن پہلے مسٹر اینڈ مسز خانزادہ عمرہ کر کے لوٹے تھے۔۔۔ تب گھر سے سبھی ان سے ملنے آئے تھے۔۔۔ جبکہ اگلے دن پیپر ہونے کے باعث علایہ نہیں آ پائی تھی۔۔۔ آج ویک اینڈ تھا اور وہ وہاج کی گھر میں غیر موجوگی کا سن کر ہی یہاں آئی تھی۔۔ صبح سے آنٹی کے سنگ اسکا وقت بہت اچھا گزرا تھا مگر یہ ڈرائیکولا بے وقت ٹپک پڑا تھا۔۔
وہ پہلے ہی اپنے اور آنٹی کے لیے چائے بنا رہی تھی جوش آتی چائے میں مزید دودھ ڈال گئ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ چائے کے کپ ٹرے میں رکھتی کچن سے باہر نکلی تو وہاج خانزادہ فریش سا ٹراوزر اور ہاف سلیو شرٹ میں ملبوس لاوئنج میں ماں کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔۔۔
وہ چائے کی ٹرے لا کر میز پر رکھتی خود آنٹی کے ساتھ بیٹھ گئ۔۔۔
اسنے پہلا کپ اٹھا کر آنٹی کو پکڑایا۔۔
دھیاں سے ماں آپکی بہو بہت زہریلی چائے بناتی ہے۔۔۔ دوسرا کپ اٹھاتے بے ساختہ اسکے کانوں سے وہاج کی آواز ٹکرائی تو اسنے اچھنبے سے حیرت زدہ نگاہیں اٹھا کر وہاج کو دیکھا وہ اسے ہی نگاہوں کے حصار میں لئے ماں سے کہہ رہا تھا۔۔۔
وہاج۔۔۔ ماں نے تنبیہ کی۔۔
سچ کہہ رہا ہوں ماں۔۔۔ نہیں یقین تو پوچھ لیں بھلا ۔۔۔۔ وہ مسکرا کر کندھے اچکا گیا۔۔۔ علایہ کو یکدم ہی سبکی کا شدید احساس ہوا۔۔۔ وہ جو کپ اٹھائے اسے پکڑانے والی تھی۔۔۔ غصے سے کپ لئے اپنی جگہ پر آ بیٹھی۔۔۔ آنٹی میں نے صرف آپ کے لئے اور اپنے لئے چائے بنائی ہے۔۔ میں دو کپ چائے پینے والی ہوں۔۔۔ اور جس نے بھی اچھی چائے پینی ہے وہ خود سے بنا لے۔۔۔ وہ منہ پھلا کر ٹرخ کر اچھی پر زور دے کر کہتی چائے کی چسکیاں لینے لگی۔۔۔ جبکہ غصے سے دماغ چٹخنے لگا تھا۔۔۔ ماں نے تاسف سے وہاج کو دیکھا۔۔۔ اس لڑکے کی ہر کل ہی نرالی تھی۔۔ انکی بہو نکاح کے بعد پہلی دفعہ گھر ائی تھی اور اس لڑکے کی زبان کے آگے خندق تھی۔۔ انہیں وہاج پر غصہ آیا۔۔۔
ماں آپکو نہیں لگتا آپکی بہو کی ٹیون بہت بگڑی ہوئی ہے۔۔۔ لگتا ہے ٹیونگ کرنی پڑے لگی۔۔۔ وہ شوخ سے لہجے میں کہتا بات کو مزاق کا رخ دے گیا۔۔۔جبکہ علایہ نے غصے سے کھولتے کپ زور سے میز پر پٹخا۔۔۔
میرے خیال سے میرا ڈرائیور آ گیا ہے آنٹی مجھے چلنا چاہیے۔۔۔ وہ بھرائی آواز میں کہتی تیزی سے اٹھی اور لاوئنج کے دروازے کی جانب بڑِھی۔۔۔ جبکہ مسز خانزادہ اسے آوازیں دیتی ہی رہ گئیں مگر وہ بنا پلٹے باہر نکل گئ۔۔۔
مسز خانزادہ نے وہاج کو خونخوار نگاہوں سے گھورا۔۔ جب وہ شانے اچکاتا علایہ کا چھوڑا کپ اٹھا کر پینے لگا۔۔۔۔ ناٹ بیڈ۔۔۔ پہلی چسکی لیتے ہی اسکے کمپلیمنٹ کرنے پر مسز خانزادہ نے کشن اٹھا کر اس پر پھینکا جیسے وہ پھرتی سے کیچ کر گیا۔۔۔
باز آ جاو وہاج۔۔۔ ورنہ کسی دن میرے ہاتھوں سے ضائع ہو جاو گئے۔۔۔ مجھے وہ بچی ہر حال میں تم سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔ مان کے غصے سے کہنے پر وہ قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
****
میجر اریز ریسرچ روم کے وسط میں کھڑا تھا۔۔۔ ارد گرد ڈیکسز پر کئ کاغدات بکھرے ہوئے تھے ساتھ کئ کی بورڈز کے کیز کی ٹھک ٹھک کی آوازیں ابھر رہی تھی۔۔ میجر اریز قدم قدم چلتا ایک کمپیوٹر سکرین کی جانب بڑھا۔۔۔
کمپیوٹر آپریٹ کرتے شخص کی کرسی کی ٹیک پر ہاتھ جمائے وہ آگے کو جھکا۔۔۔ نگاہیں سامنے کمپیوٹر سکرین پر جمی تھیں جہاں لوڈنگ چل رہی تھی۔۔۔
ماہرہ سیاہ سادہ سے شلوار سوٹ میں ملبوس سیاہ ہی شال سر پر اوڑھے ہینڈ کیری تھامے کار پورچ میں کھڑی تھی۔۔۔ چہرا ہر طرح کی آرائش و زیبائش سے پاک سادہ اور سوگوار تھا۔۔۔
مظہر نے آگے بڑِھ کر اسکے ہاتھ سے ہینڈ کیری تھامے گاڑی میں رکھا۔۔۔ مظہر کے گاڑی کی ڈرئیونگ سیٹ سمبھالنے پر وہ ماں کی پیروی میں آ کر گاڑی کی بیک سیٹ پر بیٹھی۔۔۔
گاڑی زن سے نکلتی گھر کا گیٹ عبور کر گئ۔۔۔
وہ ایک نیم تاریک کمرا تھا جسکی ایک دیوار کیساتھ موجود مخملی صوفے پر میر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔۔۔ نیم تاریک کمرے میں اسکی شناخت کر پانا زرا مشکل امر تھا۔۔۔ اسکے سامنے دو شخص ہاتھ باندھے مودب سے کھڑے تھے۔۔۔
دفعتاً اسنے سیدھے ہوتے ایک تصویر میز پر پھینکی۔۔۔
ماہرہ اظہر۔۔۔ اس لڑکی کا مکمل بائیو دیتا چاہیے۔۔۔ کیا کرتی ہے۔۔۔ کب کس وقت کہاں ہوتی ہے۔۔۔ ایک ایک چیز۔۔۔ بالخصوص اسکی زندگی کے سب سے کمزور پہلو۔۔۔ ہر چیز کی مکمل انفارمیشن چاہیے۔۔۔ وہ سیدھے ہو کر گھٹنوں پر کہنیاں ٹکائے ہاتھ باہم پیوست کئے میز کے پار کھڑے ان دونوں افراد کو دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔ جب ایک شخص نے جھکتے میز سے تصویر اٹھائ۔۔۔ وہ شخص غور سے تصویر میں نظر آتی اس معصوم اور خوبصورت سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
ماہرہ اظہر اس وقت اپارٹمنٹ کے لاوئنج کے وسط میں ہینڈی کیری پر ہاتھ رکھے کھڑی چاروں جانب سے اپارٹمنٹ کا جائزہ لے رہی تھی۔۔ وہ ایک صاف ستھرا ویل فرنشڈ اپارٹمنٹ تھا۔۔۔ ملازمہ غالباً انکے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی وہاں کی صفائی وغیرہ مکمل کر چکی تھی۔۔۔ ماں لاوئنج کے صوفے پر سر صوفے کی پشت سے ٹکائے ڈھیلے سے انداز میں بیٹھیں تِھیں جبکہ مظہر انہیں وہاں ڈراپ کر کے واپس جا چکا تھا۔۔۔۔
وہ ایک اونچا لمبا مضنوط ڈیل ڈول کا حامل خوبرو شخص تھا جو سرمئ پینٹ اور ڈریس شرٹ میں ملبوس پی کیپ سر پر پہنے ہینڈ کیری گھسیٹا مضبوط قدم اٹھاتا ائیر پورٹ کے احاطے سے نکل رہا ہے۔۔۔
ہیے زاوی۔۔۔۔ اسے دور سے دیکھتے ہی ویٹنگ ایریا میں کھڑا مظہر مسکراتا ہوا بازو وا کر کے اسکی جانب بڑھا۔۔۔ زاویار بھی وہیں رکتا گرم جوشی سے اس سے ملا۔۔۔
Welcome to Pakistan my dear...
مظہر اسکی پشت تھپتھپاتا گویا ہوا۔۔۔۔
میجر اریز لیپ ٹاپ کی سکرین پر جھکا کھڑا تھا جب وہاں لوڈنگ کے بعد ایک خوبصورت سی لڑکی کی تصویر ابھری۔۔۔ میجر اریز یک ٹک اس تصویر کو دیکھ رہا تھا۔۔ جب اسنے ایک بٹن پریس کیا۔۔۔ ساتھ ہی پرنٹر کے چلنے کی غوں غوں کی آواز ابھرنے لگی۔۔۔ ساتھ ہی وہ تصویر کاغذ پر پرنٹ ہوتی پرنٹر سے باہر نکل آئی۔۔ میجر اریز نے وہ پڑنٹ تھامتے چند لمحے اس تصویر کو دیکھا۔۔۔ پھر اسے رول کر کے ہاتھ میں تھاما۔۔۔
اب اسکا رخ باہر کی جانب تھآ۔۔۔
ماہرہ اپنے کمرے میں جہازی سائز بیڈ پر بیٹھی تھی سادہ سے شلوار قمیض میں ملبوس دھلے دھلائے چہرے کے ساتھ۔۔۔ نم بال پشت پر بکھرے تھے۔۔۔ وہ غالباً ابھی ابھی نہا کر نکلی تھی۔۔۔۔
جسم میں واضح تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔۔۔ چہرے پر ممتا کا نور پھوٹنے لگا تھا۔۔۔
وہ منہمک سی اپنے سامنے موجود لیپ ٹاپ پر جھکی ہوئی تھی ارد گرد بزنس سٹریٹیجر اور پڑاڈکٹ کی انفارمینش کے حوالے سے کئ کاغذات بکھرے پڑے تھے۔۔۔ دفعتاً ماں سوپ کا باول تھامے کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔
بس کردو بیٹا پہلے کچھ کھا لو۔۔۔ یہ سب کرنے کو پوری عمر پڑی ہے اس حالت میں اتنی نظر اور دماغ لگانا ٹھیک نہیں۔۔۔ زیادہ سے زیادہ ریسٹ کرو۔۔۔
ماں کے فکرمندی سے کہنے پر وہ مسکرا دی۔۔۔ سبھی چیزیں ہاتھ سے سائیڈ پر کرتے اسنے بیڈ کراون سے ٹیک لگائی اور ماں سے باول تھام کر سوپ پینے لگی۔۔۔
میجر اریز اس وقت اپنے بیڈ روم میں بیڈ پر سونم کے قریب بیٹھا تھا۔۔۔ جو مضحمل سی بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔۔۔ سینے پر آنچل پھیلائے اسنے جسم کے اس حصے کو کور کرنے کی کوشیش کی تھی جہاں ایک ننھی جان نمو پا رہی تھی۔۔۔ اریز نے آگے جھکتے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ٹمپریچر چیک کیا۔۔ اب وہ کچھ بہتر تھی رات والے بخار کا زور ٹوٹ چکا تھا۔۔۔
سونم تم سے ایک بات پوچھنی تھی۔۔۔
ہمم۔۔۔ میجر اریز کے نرمی سے مستفسر ہونے پر اسنے نیم وا آنکھیں کھولیں۔۔۔ کیا یہ ہی لڑکی فائز علوی کی کزن ماہرہ اظہر ہے۔۔۔ اسنے ایک رول کیا ہوا کاغذ کھول کر سونم کے سامنے کیا جہاں ایک خوبصورت سی لڑکی مسکرا رہی تھی۔۔۔ سونم کے آہستگی سے سر ہاں میں ہلانے پر وہ لب بھنچتا پرنٹ واپس رول کر کے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ماہرہ ڈھیلے سے لباس میں ملبوس آنچل اچھے سے اپنے دن با دن بے ڈول ہوتے وجود پر پھیلائے اپارٹمنٹ کی بالکنی میں واک کر رہی تھی۔۔ اسکی خاموش نگاہیں آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ میں چمکتے تنہا چاند پر ٹکی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں دل بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔ انگ انگ میں ایک بے چینی سی سرائیت کرتی جا رہی تھی جیسے کچھ غلط ہونے والا تھا۔۔۔ اسنے لبوں پر زبان پھیرتے ایک گہرا سانس خارج کیا اور قدم لاونج کی جانب بڑھی۔۔۔ اتنی دیر واک سے ہی اسکا سانس پھولنے لگا تھا۔۔۔
مظہر ماہرہ کہاں ہے یار۔۔۔ کب سے پاکستان آیا ہوا ہوں ابھی تک اس سے ملاقات کیوں نہیں ہوئی۔۔۔ پہلے تو چلو اسکی عدت کا مسلہ تھا اب تو اسکی عدت مکمل ہوئے بھی کئ دن ہوگئے پھر وہ واپس اس گھر میں کیوں نہیں آئی۔۔ وہ نہیں آرہی تو مجھے اسکے پاس لے چلو۔۔۔ میں یہاں کیوں ہوں پھر بھلا اگر اس نے مجھ سے ملنا ہی نہیں۔۔۔ زاویار لاوئنج کے صوفے پر براجمان تلخی سے بول رہا تھا جبکہ مظہر ہنوز خاموش تھا۔۔۔
بات کرتا ہوں اس سے یار۔۔۔ اسکی طبعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ وہ مینٹلی سٹیبل نہیں۔۔۔ ایسے میں ہم کچھ بھی اسکی مرضی کے خلاف نہیں کر سکتے۔۔۔ وہ جیب سے موبائل نکالتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
میر اس وقت اپنے بیڈ روم میں موجود نائٹ گاون میں ملبوس صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے تھا ہاتھ میں وائن کا گلاس تھام رکھا تھا جبکہ صوفے کے سامنے انہی دو افراد میں سے ایک شخص کھڑا تھا۔۔۔ اسنے جھک کر ایک خاکی لفافہ میز پر رکھا جس پر موٹے الفاظ میں ماہرہ اظہر لکھا تھا۔۔۔ اس میں اس لڑکی کی اب تک کی سبھی انفارمیشن موجود ہے سر۔۔۔ اس شخص کے بتانے پر میر نے نوٹوں کا بنڈل میز پر پھینکا اور دو انگلیوں کے اشارے سے اسے کمرے سے نکلنے کو کہا۔۔۔
اس شخص کے کمرے سے نکلتے ہی اس لفافے کو دیکھتے میر کے ہونٹوں پر استہزئیہ مسکراہٹ ابھری۔۔۔
اسنے لفافہ چاک کرتے ایک ہی بار میں لفافہ میز پر الٹ دیا۔۔۔ اندر سے چند کاغذات اور ایک پن ڈرائیو کے ساتھ ماہرہ کی کئ چھوٹی بڑی تصویریں نکل کر میز پر پھسلیں۔۔ وہ سب کی سب اسکی یونیورسٹی کے مختلف فنگشنز کی تصویریں تھیں۔۔۔
اس لڑکی کی یوں کھلتے گلاب کی مانند تصویریں دیکھ کر میر کی آنکھوں میں نشہ سا چڑھنے لگی۔۔۔ اس لڑکی کو پانے کی طلب کئ گنا بڑھ گئ تھی۔۔۔
اب تم سے ملنا ناگزیر ہو چکا ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔ حسن کو خراجِ تحسیں پیش نا کرنا حسن کی ناقدری ہے۔۔۔ اور میر خان حسن کا قدردان ہے۔۔۔ کمرے میں اسکے مکروہ قہقے گھونجنے لگے تھے۔۔۔
******

No comments