Header Ads

Roshan Sitara novel 70th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  70th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

70th epi....
 علایہ من من بھاری ہوتے قدم اٹھاتی گیسٹ روم کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔
پورے گھر میں ہو کا عالم تھا۔۔۔ سبھی اپنے اپنے کمروں میں محو استراحت تھے۔۔۔
اسکا دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔  نا جانے وہ ٹھیک کر بھی رہی تھی یا نہیں۔۔۔
آنچل سر پر اوڑھے اسنے گلے کے قریب سے زور سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔ وہ عجیب شش و پنج کی کیفیت میں مبتلا تھی۔۔۔ گیسٹ روم کے دروازے کے باہر کھڑی وہ مسلسل اسی سوچ میں ڈوبی تھی کے اندر جائے یا نا جائے۔۔
کہیں وہاج اس وقت اسکی اپنے کمرے میں آمد کا کوئی غلط مطلب ہی نا نکال لے۔۔۔ کہیں وہ اس سے مزید متنفر ہی نا ہو جائے۔۔۔ دل متضاد کیفیات میں گھرنے لگا تھا۔۔۔
نہیں یوں تو میں کبھی بھی وہاج سے بات نہیں کر پاوں گئ۔۔۔ جب ویسے میری زبان اتنی چل سکتی ہے تو وہاج سے سب کلیئر کرتے ہوئے کیا تکلیف ہے اسے۔۔۔
اسنے خود ہی اپنے سبھی خیالات کی نفی کرتے خود کی ہمت بندھائی۔۔۔۔۔۔ اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیر کر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ دل کی ڈھرکنیں منتشر تھیں۔۔۔ اسنے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لیا اور اپنا کپکپاتا ہاتھ اٹھا کر دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔۔۔
کچھ لمحوں بعد کمرے کا دروازہ کلک کی آواز کیساتھ  وا ہوا تو گھبرائی ہوئی سی علایہ آہستگی سے اندر داخل ہوئی۔۔۔
دروازہ کھول کر سامنے کھڑے وہاج نے حیرت سے اسے اپنے کمرے میں داخل ہوتا دیکھا۔۔۔ وہ بھلا رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہی تھی۔۔۔
اس لڑکی کا دماغ شیطان کا گھر تھا۔۔۔ یقیناً وہ اپنی کسی تخریب کاری کو عملی جامہ پہنانے کے لئے یہاں آئی تھی۔۔۔ کیا وہ اتنی بے وقوف تھی یا ضرورت سے زیادہ اوور کانفیڈینٹ جو یوں شیر کی کچھار میں ہاتھ دینے آ گئ تھی۔۔۔۔وہ مشکوک سے انداز میں اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔۔۔
جسکا ایک ہاتھ سر پر اوڑھے آنچل کو جھکڑے ہوئے تھا کہ شاید وہ سر سے پھسل نا جائے۔۔۔ اور وہ خود لب چباتی کنفیوز سی نگاہیں جھکائے ہوئے تھی۔۔۔
وہاج مسلسل اسے دیکھتا اسکے آنے کا مقصد سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
کیوں آئی ہو تم یہاں۔۔۔ پیچھے ہو کر اسنے علایہ کو مزید اندر آنے کی اجازت دی۔۔۔
اگر تو وہ کسی تخریب کاری کے لئے یہاں آئی تھی تو یہ اسکی زندگی کا سب سے بھیانک تجربہ ہونے والا تھا۔۔۔
آج وہاج خانزادہ اسے کسی صورت بخشنے کے موڈ میں نا تھا۔۔۔۔۔ یہاں تک آ تو وہ اپنی مرضی سے گئ تھی چاہے کسی بھی نیت سے لیکن اسکی واپسی اسے اچھے سے باور کروا دینے والی تھی کے دوبارہ وہاج خانزادہ سے پنگا نہیں لینا۔۔۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔ وہ ہاتھ مسلتے منمنائی۔۔۔
ہممم۔۔۔ وہ اسے سر تا پاوں دیکھتا دروازے کے پاس گیا۔۔۔۔
دروازہ لاک ہونے کی آواز پر علایہ بوکھلا کر پلٹی اور دروازے کی جانب دیکھا جہاں وہاج دروازہ لاک کر کے دروازے سے ٹیک لگائے سینے پر بازو باندھے پاوں قینچی کی صورت بنائے سکون سے کھڑا تھا۔۔۔
مسکراتی نگاہیں علایہ کے بوکھلائے چہرے پر جمی تھیں۔۔۔
آج یہ لڑکی اسکے ہاتھوں سے ضائع ہونے والی تھی۔۔۔
آ۔۔ آپ نے دروازہ کیوں لاک کیا۔۔۔ علایہ کا دل ڈوب کر ابِھرا۔۔۔ آواز کپکپا گئ۔۔۔
کیوں کیا تم نہیں جانتی کے تمہارا رات کے اس پہر تنہائی میں میرے کمرے میں آنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے ۔۔۔
یار بندہ بشر ہوں۔۔ کئ فطری تقاضے ہیں میرے۔۔۔ فرشتہ تو نہیں نا جو اتنی خوبصورت بیوی کو اتنے فسوں خیز ماحول میں دیکھ کر بلا حس و حرکت بیٹھا رہوں۔۔۔۔۔ وہاج کی پر تپش نگاہوں کے بدلے بدلے انداز اور مبہم معنی خیز باتیں کرنے پر علایہ کو بے ساختہ اپنے ارد گرد خطرے کی گھںٹیاں بجتی سنائی دینے لگیں۔۔۔۔۔ یکدم ہی گھبراہٹ کا بھرپور حملہ ہوا تھا۔۔۔ اسکی معنی خیز گفتگو علایہ کے چھکے چھرا رہی تھی۔۔۔ دل کانوں میں ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔ کہاں دیکھا تھا اسنے وہاج کا ایسا انداز۔۔۔
وہ بھلا کیا سوچ رہا تھا۔۔۔ علایہ کو اپنی ٹانگیں کپکپاتی محسوس ہوئیں۔۔۔ کیا کہیں اسنے یہاں وہاج کے پاس کمرے میں آ کر غلطی تو نہیں کر دی۔۔۔
اسکی رنگت فق ہونے لگی۔۔۔
اور علایہ کی خوف سے سپید پڑتی رنگت بتا رہی تھی کے وہاج کا تیر نشانے پر لگا ہے۔۔۔ وہ جتنی بھی کانفیڈینٹ ہوتی ۔۔۔تھی تو ایک لڑکی ہی نا۔۔۔ ایک با حیا مشرقی لڑکی۔۔۔
اور اسکے چہرے پر یوں گھبراہت کے تاثرات اور اسکا بوکھلایا انداز ناجانے کیوں وہاج کو مسمرائز کر رہا تھا۔۔ جسقدر وہ اسے اس وقت معصوم لگ رہی تھی وہ بامشکل خود کو اس شیطان کی پرکالہ کی معصومیت کا شکار ہونے سے روک پا رہا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ لڑکی محض شکل سے معصوم تھی۔۔۔ وہ بڑی خوبصورتی سے مسکراتا قدم قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
علایہ کو اپنی جان ٹانگوں کے راستے نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ اسکا حلق خشک ہونے لگا۔۔۔ بے ساختہ اسنے دو قدم پیچھے ہٹتے تھوک نگلا۔۔ 
وہ۔ مم۔۔۔ مجھے۔۔۔ بب۔۔ بات کرنی تھی۔۔۔ آپ سے۔۔۔
الفاظ گویا ساتھ دینے سے انکار کرنے لگے تھے۔۔۔
ہمممم ہممم بولوں سن رہا ہوں میں۔۔۔
اسکے دو قدم مزید آگے بڑھنے پر علایہ چار قدم پیچھے ہٹی۔۔
وہاج کی مخمور نگاہیں خود پر مرکوز دیکھ علایہ کا
دل چاہا دو حرف بھیجے اس پر اور یہاں سے بھاگ کھڑی ہو۔۔۔ اچھی اسنے مفت میں مصیبت گلے ڈالی تھی۔۔۔ کمرے میں جلتی زیرو پاور کی بتی نے ویسے ہی ماحول بہت فسوں خیز بنا ڈالا تھا کجا کے تنہائی اور محرم کی قربت۔۔۔ اسنے ایک نظر قدم قدم اپنی جانب بڑھتے وہاج کو دیکھا اور دوسری بے بس نظر کمرے کے لاک دروزے کو ۔۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی قمیض کو زور سے مٹھی میں جھکڑا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ مزید پیچھے کو قدم اٹھاتی۔۔۔
کسی چیز سے ٹکرانے پر اسنے ہراساں چہرا موڑ کر دیکھا۔۔۔ اور دل دھک سے رہ گیا۔۔ 
پیچھے بیڈ کی پئنتی تھی۔۔۔ راہ فرار کی سبھی راہیں مسدود ہو گئ تھیں۔۔۔ جبکہ وہ ہنوز چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا  درمیانی فاصلہ پاٹ رہا تھا۔۔۔ اسکے اپنی جانب اٹھتے ہر قدم پر علایہ کو اپنی اس فاش غلطی کا شدت سے اندازہ ہو رہا تھا۔۔۔ اسے کسی اور وقت کا انتِظار کرنا چاہیے تھا۔۔۔ یوں رات کے اس پہر وہاج کے پاس نہیں آنا چاہیے تھا
ہمم تم نے بات کرنی تھی مجھ سے۔۔۔۔ کرو۔۔۔
وہ علایہ سے ایک قدم کے فاصلے پر آ کر رکا۔۔۔
علایہ نے اسے گھبرائی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ جب اسکے آئبرو اچکا کر پوچھنے پر وہ بے ساختہ نگاہیں جھکا گئ.  ۔وہ دراصل میں۔۔۔
ہمممم۔۔۔
علایہ کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے۔ آنکھیں حیرت سے پھٹ پڑیں جب اسنے وہجاج خانزادہ کی رینگتی انگلی اپنے چہرے پر محسوس کی۔۔۔  ماتھے سے لیکر کھینچتی اسکی انگلی تھوڑی کے پاس اسکے آنچل کے سرے تک آئی جب اسنے آنچل میں  انگلی اٹکاتے انگلی کھینچی اور سر سے آنچل پھسل گیا۔۔
وہاج نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے گلے کے قریب سے آنچل تھامے اسکے کپکپاتے ہاتھ پر اپنا پر حدت مضبوط  ہاتھ رکھتے اس کی کپکپاتی کمزور گرفت سے آنچل چھڑوایا۔۔۔ علایہ کا کپکپاتا ہاتھ بے جان ہوتا نیچے جا گرا۔۔۔
وہاج نے دوبارہ ہاتھ بڑھاتے اسکے شانے سے بھی آنچل کا سرا سرکا ڈالا یوں کے اب آنچل اسکے محض ایک شانے پر ہلکا سا ٹکا تھا۔۔۔حسن بے حجاب ہو گیا تھا۔۔۔ اسکا سانچے میں ڈھلا سراپہ وہاج کے نگاہیں خیراہ کر رہا تھا۔۔ بالوں کی آبشار کمر پر بکھری پڑی تھی جبکہ وہ خود خوف سے پھٹتی آنکھوں سے وہاج کو دیکھتی سانس تک روک گئ تھی۔۔۔
اسکا بدن سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔ وہاج کی بے باک نگاہیں سر تا پیر علایہ کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔
وہاج نے علایہ کا ہاتھ کھینچ کر اسے زرا سا آگے کیا۔۔ یوں کے ایک شانے پر زرا سا ٹکا آنچل بھی زمین بوس ہو گیا۔۔۔ علایہ کو اس سے ٹوٹ کر شرم آئی۔۔ اس کی نگاہیں سرعت سے گیلی ہونا شروع ہوئیں وہ اسکے سامنے بنا آنچل کے کھڑی خود میں سمٹتی شرت کا دامن دونوں مٹھیوں میں میچ گئ۔۔وہاج اسکے ارد گرد گھومتا چاروں طرف سے ایکسرے کرتی نگاہوں سے اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔
دفعتا وہ اسکے قریب آیا اور ہاتھ سے اسکا جسم ٹٹولنے لگا۔۔۔
علایہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی ۔۔۔
کیا کر رہے ہیں یہ آپ۔۔۔۔ وہ دبا دبا سا چلائی آنکھوں سے آنسو پھسل پھسل گئے۔۔۔۔۔ 
کیا چھپا کر رکھا ہے تم نے ہاں۔۔۔ وہ بازو سینے پر باندھتا سنجیدگی سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
چھپایا۔۔۔ کک۔۔ کیا۔۔۔ وہ وہاج کے انداز پر بونچکا رہ گئ۔۔۔ وہ کیا سوچ رہا تھا۔۔۔
وہی پوچھ رہا ہوں کیا چھپایا ہے۔۔ کوئی ڈیوائس۔۔۔ ریکارڈنگ۔۔۔ وٹ ایور۔۔۔ جو بھی چھپایا ہے فوراً نکالو۔۔۔ فوراً نکال دو علایہ اس سے پہلے کے میرا دماغ گھوم جائے۔۔۔ اسکا انداز خطرنک حد تک سنجیدہ تھا۔۔۔ 
علایہ حق دق سی رہ گئ۔۔۔ کک۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ الفاظ گویا منہ میں ہی دم توڑنے لگے۔۔۔۔ آج اسے اپنی صفائی دینا دنیا کا سب سے مشکل امر لگ رہا تھا۔۔۔
دیکھو علایہ۔۔۔ بہت ہو گیا یہ چوہے بلی کا کھیل۔۔۔ رات کے اس پہر تمہاری میرے کمرے میں موجودگی بے مقصد نہیں۔۔۔ وہ ماتھا مسلتا سنجیدگی سے کہتا چند قدم اس سے دور ہوا۔۔
شرافت سے بتا دو کس ارادے سے آئی ہو تم یہاں۔ تم سے کسی بھلائی کی توقع رکھنا بھی عبث ہے۔۔۔تم پھر سے مجھ سے پنگا لینے کے لئے اپنے تخریب کار دماغ میں کوئی شیطانی منصوبہ بنا کر آئی ہو تا کے صبح سب گھر والوں کے سامنے میری پوزیشن اکورڈ بنا سکو۔۔۔ رائٹ۔۔۔ اسکی ہونٹوں پر ایک دل جلاتی مسکراہٹ تھی۔۔جبکہ علایہ تھوک نگلتی اسکی بدگمنانی ملاخظہ کر رہی تھی۔۔ وہ اتنا بدگمان تھا کیا اس سے۔۔ یعنی کے اس سے پہلے کی ساری کاروائی اسی بدگمانی کا نتیجہ تھی کے بقول اسکے وہ آنچل تلے کچھ چھپائے ہوئے تھی۔۔۔ علایہ نے تیر کی سی تیزی سے آگے بڑھتے نیچے گرا اپنا آنچل اٹھایا اور تیزی سے کپکپاتے ہاتھوں سے اسے شانوں پر اوڑھا۔۔۔
لیکن یاد رکھنا مس علایہ اس مرتبہ میں تمہیں کوئی رعایت نہیں دوں گا۔۔۔ میرا بہت خطرناک روپ دیکھو گی تم ۔۔۔ بہت نظر انداز کر لیا میں نے تمہیں بھی اور تمہاری بدتمیزیوں کو بھی۔۔۔ لگتا ہے اب تمہیں اچھی بیویوں والے گن سکھانے پڑیں گے۔۔۔ اس لئے شرافت سے جو پوچھ رہا ہوں اسکا جواب دو۔۔۔بولو کیوں آئی ہو یہاں کیا کرنا چاہ رہی ہو اب تم۔۔۔۔ 
وہاج نے اسے بازو سے تھام کر جھنجھوڑ ڈالا جب وہ ہمت ہارتی چہرا کپکپاتے ہاتھوں میں تھامے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
اسکے رونے کا اعجاز تھا یا کیا۔۔۔ وہاج اسکی بازو چھوڑتے لبوں پر زبان پھیرتا بالوں میں ہاتھ چل کر چند قدم پیچھے ہٹا۔۔۔
جبکہ علایہ بے جان ہوتے وجود کے ساتھ وہیں بیڈ کی پائنتی پر دھتی شدت سے رو دی۔۔
وہاج نے آنکھیں سختی سے میچتے ہاتھ کی مٹھی سر پر ماری اور گیلی سانس اندر کھینچتے کرسی علایہ کے قریب کھینچتے اس پر بیٹھا۔۔
یوں کے ٹانگ پر ٹانک جما رکھی تھی جبکہ کہنی کرسی کی ہتھی پر رکھے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جمائے وہ خاموش جانچتی نگاہوں سے اسکا ہچکولے کھاتا وجود دیکھ رہا تھا۔۔۔
اندر ایک بے چینی سی چٹکیاں کاٹنے لگی تھی۔
جب کافی سارا رو چکنے کے بعد علایہ نے آنسو رگڑ کر صاف کرتے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔ غزال سی آنکضوں میں بنتے سرخ ڈورے اسے مزید نشیلہ بنا رہے تھے۔۔۔ وہ پل کی پل اسے دیکھتے لب بھینچے نگاہیں جھکا گئ۔۔۔ مگر اتنے میں ہی وہاج کے دل پر تیر چل چکا تھا۔۔۔
وہ بنا اس سے بات کئے اٹھی اور تیزی سے دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔
جب اتنی ہی تیزی سے وہاج نے اٹھتے اسکی نرم و گداز بازو اپنی سخت گرفت میں جھکڑی۔۔۔
کہاں جا رہی ہو۔۔۔ تم غالباً مجھ سے کوئی بات کرنے آئی تھی۔۔۔
چھوڑیں میری بازو۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔ غلطی ہوگئ جو آگئ میں یہاں۔۔۔ آنسو پھر سے چھلک پڑے تھے۔۔ وہ روتے ہوئے اس سے اپنی بازو چھرانے کو بھرپور مزاحمت کر رہی تھی۔۔۔
جب وہاج نے اسکی بازو کو جھٹکا دیتے اسے مزید اپنے قریب کھینچا۔۔۔
وہ بامشکل اسکے سینے پر ہاتھ جماتی فاصلہ بنا پائی۔۔۔ وہ ہنوز اسے دیکھنے سے گریزاں تھی جبکہ مزاحمت ہنوز جاری تھی۔۔۔
شانوں پر بکھرے بال۔۔۔ شہابی رنگت میں کھلی سرخیاں بھیگا چہرا اور نشیلی آنکھیں۔۔ وہاج خانزادہ زیرو پاور کی روشنی میں بے خود سا اسکا چہرا دیکھے گیا۔۔۔
چھوڑیں بازو۔۔۔ جب وہ بے بس ہوتی دبا دبا سا چلائی۔۔
نہیں چھوڑ رہا۔۔۔ پہلے بتاو کیوں آئی تھی یہاں۔۔۔ ورنہ میں تمہیں یہاں سے ہرگز نہیں جانے دوں گا۔۔۔ پھر بھلے صبح تم مرسم اور انکل کو تم میرے کمرے سے ہی کیوں نا ملو۔۔۔ آئی دونٹ کئیر۔۔۔
وہ لاپرواہی سے شانے اچکاتا گویا ہوا۔۔۔ البتہ لہجہ پہلے کی نسبت بہت نرم تھا۔۔
علایہ نے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
ان نشیلی نگاہون سے مجھے مت دیکھو۔۔۔ باخدا ان نشیلی آنکھوں کا وار مجھ پر نہیں چلنے والا۔۔۔۔۔ وہ یکسر خود کو چھپاتا گویا ہوا البتہ لہجہ الفاظ کا ساتھ قطعاً نہیں دے رہا تھا۔۔۔
علایہ نے لب بھینچتے نظریں چرائیں۔۔۔
میں کسی تخریب کاری کے لئے نہیں آئی تھی یہاں۔۔ میں بس آپ سے ایکسیوز کرنے آئی تھی۔۔۔
وہ گیلی سانس اندر کھینچتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
ایکسکیوز کے لئے۔۔ کس چیز کا ایکسکیوز۔۔ وہاج کی گرفت اسکی بازو پر ڈھیلی پڑتی ختم ہوئی۔۔ وہ سینے پر بازو باندھتا دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔
اس روز بھائی کے سامنے آپ کے لئے میں نے بہت فضول الفاظ استعمال کئے تھے بس اسی لگی۔۔۔ وہ مسلسل اپنی کلائی سہلا رہی تھی۔۔۔ وہاج نے غور سے اسکی یہ حرکت ملاخظہ کی۔۔ شاید اسنے زور سے تھامی تھی۔۔۔
ٹھیک ٹھیک۔۔۔ مطلب یہ ایکسکیوز کرنا تمہیں اب یاد آیا مہینہ ڈیرھ مہینہ بعد۔۔ رائٹ۔۔۔  وہ انگوٹھے سے ناک مسلتا سمجھ کر سر ہلات گویا ہوا۔۔۔
بقول مرتسم کے تمہارے ساتھ اس رشتے کے حوالے سے کوئی زبردستی نہیں کی گئ تھی۔۔۔ اپنی مرضی سے رشتے کے لئے حامی بھر کر بعد میں اتنا سخت ردعمل دینے کی وجہ بتانا پسند کرو گئ۔۔۔۔۔۔ وہ خود بھی گویا یہ بات دل کی تہہ میں لئے بیٹھا تھا تبھی اب بات کھلی تھی تو وہ بات کی تہہ تک جانا چاہتا تھا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا کے میرا رشتہ آپ سے ہو رہا ہے۔۔۔
وہ جھکا سر مزید جھکاتی منمنائی۔۔۔
جب بنا دیکھے بنا جانے بنا ملے کسی سے بھی شادی کرنے کا اختیار انکل کو دیتی تم اس شادی کے لئے رضا مندی دے چکی تھی تو مجھ میں کیا کانٹے اگے تھے جو مجھے سے شادی ہونے کا سن کر اتنا اوور ری ایکٹ کیا تم نے۔۔۔ اسکے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔ لہجہ سخت ہو گیا تھا۔۔۔ گویا اسکی بات نے طیش دلایا ہو۔۔۔ 
نہیں۔۔ علایہ نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ میں بس آپ سے خوفزدہ ہوگئ تھی۔۔۔ مجھے لگا آپ شاید مجھ جیسی لڑکی سے شادی نا کریں۔۔۔ اور پھر۔۔۔
اسکی آواز بہت آہستہ ہوگئ تھی۔۔۔جب وہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
مجھ جیسی لڑکی مطلب۔۔۔ وہ الجھا۔۔۔
اس۔۔۔ اس رات ۔۔۔ آپ نے مجھے بہت خراب حالت میں دیکھا تھا۔۔ اسکی آواز مزید آہستہ ہو گئ جیسے بولتے ہوئے بھی وہ تکلیف سے گزر رہی ہو۔۔ اسکی ادھوری بات کا مطلب سمجھتا وہاج لب بھینچ گیا۔۔۔
مجھے لگا آپ سب کے سامنے مجھے ایکسپوز۔۔۔ بولتے بولتے اسکے لب کپکپا گئے۔۔۔
آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔
واہ علایہ ڈئیر۔۔۔ اس وجہ سے تم نے مجھ پر بد کرداری کا الزام۔۔۔
آئم سوری۔۔۔ آئم ویری ویری سوری۔۔۔ وہ بے ساختہ اسکی بات کاٹتی نم آواز میں گایا ہوئی۔۔۔ اتنی دیر سے پہلی مرتبہ وہ التجائیہ اسکی نگاہوں میں دیکھتی ملتجی ہوئی۔۔
ناجانے کیوں آج اسکی نشیلی آنکھیں وہاج خانزادہ کو بے بس کرتیں بے خود بنا رہی تھیں۔۔۔
ویری سوری۔۔۔ میں اپنی اس حرکت کے لئے بہت پشمان تھی۔۔ بہت۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ اوپر سے آپکی اعلی ظرفی کے آپ نے میرے خدشات کی نفی کرتے اس بات کا پرچار کسی کے سامنے نہین کیا۔۔۔ میں بہت دنوں سے آپ سے ایکسکیوز کرنا چاہتی تھی مگر ہمت نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔ اور نا ہی موقع مل رہا تھا۔۔۔ اس لئے ابھی آپکے رات یہیں رکنے کا سن کر یہاں آ گئ۔۔۔
وہ ہاتھ مسلتی پشیمانی سے بول رہی تھئ۔۔۔ جبکہ
وہاج لب بھینچے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
فائن۔۔۔ کافی دیر بعد وہ گہری سانس خارج کرتا گویا ہوا۔۔۔
جاو اپنے کمرے میں۔۔ اسنے آگے بڑھتے کمرے کا دروازہ وا کیا۔۔۔
علایہ اسے حیرت سے دیکھتی رہ گئ۔۔۔
کیا آپ نے مجھے معاف کر دیا۔۔۔ وہ دل میں مچلتا سوال لبوں پر لے آئی۔۔۔
ابھی تو خود تمہاری باتوں کو سمجھنے کی کوشیش کر رہا ہوں جب سمجھ گیا تب کردوں گا۔۔۔ وہ مبہم انداز میں گویا ہوا۔۔۔
مطلب۔۔۔ علایہ الجھی۔۔۔
مطلب یہ کے تم مجھے بالکل بھی اتنی سیدھی لگتی نہیں جتنا ظاہر کرنے کی کوشیش کر رہی ہو آخر کو ہم دشمن اول رہے ہیں۔۔۔ تم پر اعتبار زرا مشکل امر ہے سوہٹ ہارٹ۔۔۔۔ مانا کے تم معصوم لگتی ہو پر جس روز تمہاری معصومیت پر یقین آ گیا اس روز پچھلی ہر بات کلئیر۔۔
وہاج کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ چند لمحے خاموشی سے وہاج کو دیکھتی رہی۔۔۔ اور وہی چند لمحے وہاج پر بھاری گزر رہے تھے۔۔۔  علایہ کی سرخ ڈوروں کی حامل نشیلی آنکھیں اسے زیر کر رہی تھیں ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر گھٹنے ٹیک دیتا۔۔۔ علایہ بنا بحث کئے کمرے سے نکل گئ۔۔۔ ویسے بھی رشتہ بدلنے کے بعد اس شخص سے بحث کرنا کوئی آسان امر نا رہا تھا۔۔۔
علایہ کے کمرے سے نکلتے ہی وہاج آنکھیں بند کرتا سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔  مسز علایہ خانزدہ تم قطعً اتنی سیدھی نہیں۔۔  بس تمہیں دل تسخیر کرنے کا ہنر آتا ہے۔۔ وہاج کی نگاہوں کے سامنے اسکا گھبرایا اور بوکھلایا روپ آیا تو وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
لیکن ہرگز نہیں۔۔۔ وہ اسکی معصومیت اور شرم و حیا سے قائل ہوتا اسے پھر سے اپنی ذات پر وار کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا تھا۔۔۔  اسی لئے اسنے دل پر نقش ہوئے اسکے ہر تصور کو بھلانا چاہا۔۔۔ مگر کیا یہ ممکن تھا بھلا۔۔۔ نا نا کرنے کے باوجود بھی غزال سی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈورے نگاہوں کے سامنے ابھریں تو وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔۔۔
*****




No comments

Powered by Blogger.
4