Roshan Sitara novel 69th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 69th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
69th epi...
کھانا کھانے کے بعد لاوئنج میں ہی سب کی محفل جمی تھی۔۔۔ وہاج مرتسم ماں اور بابا سبھی خوش گپیوں میں مشغول تھی۔۔۔
فاہا ملازمہ کے ساتھ مل کر ٹیبل سمیٹ رہی تھی جبکہ علایہ کچن میں کھڑی چائے بنا رہی تھی۔۔
چائے بناتے وہ ایک اچٹتی نگاہ لاوئنج میں بیٹھے ان سب پر بھی ڈال لیتی۔۔۔
وہاج بہت ریلیکس انداز میں بیٹھا ان سب سے باتیں کر رہا تھا جیسے یہ ہو ہی اسکا گھر۔۔۔
وہ چائے کے کپ ٹرے میں سیٹ کرتی ٹرے اٹھائے لاوئنج میں آگئی۔۔۔۔اسنے ٹرے سلیقے سے میز پر رکھی اور کپ اٹھا کر وہاج کی جانب بڑھایا۔۔
وہاج نے بابا کی بات سنتے اس سے کپ تھاما اور انکی بات سنتے ہی مصروف سے انداز میں چائے کی چسکی لی۔۔۔
پہلی چسکی لیتے ہی اسے چائے حلق سے اتارنا مشکل ہوگئ۔۔۔
چہرے پر موجود مسکراہٹ زبردستی کی مسکراہٹ میں بدل گئ۔۔۔
اس چالاک لومڑی سے کسی طرح کی بھلائی کی توقع رکھنا بھی عبث تھا۔۔۔ علایہ لودھی اور سدھر جائے ایک ناممکن امر تھا۔۔۔
اسنے بامشکل چائے کا گھونٹ حلق سے اتارتے نامحسوس انداز میں کپ واپس ٹرے میں رکھا اور بظاہر مسکرا کر بابا کی بات سنتے ایک اچٹتی نگاہ اس جنگلی بلی پر ڈالی جو بہت شرافت سے مرتسم کو چائے کا کپ تھما کر سیدھی ہوتی واپس پلٹ رہی تھی۔۔۔
وہاج خانزادہ مروت میں بھی وہ چائے نہیں پی سکتا تھا۔۔۔
وہ اسکی جانب سے مکمل لاتعلق بنتا بابا اور ماں سے باتیں کرنے لگا۔۔۔
جب مرتسم نے بھی مصروف سے انداز میں بات کرتے چائے کی چسکی لی۔۔۔
وہاج کن اکھیوں سے اسکا جائزہ لے رہا تھا کے آیا یہ شرارت محض اسی کے ساتھ کی گئ تھی یا مرتسم کی چائے بھی ویسی ہی تھی۔۔۔۔
مائے گاڈ علایہ۔۔۔ کیا ہے یہ۔۔۔ چائے کی پہلی چسکی لیتے ہی مرتسم نے کڑوا سا منہ بناتے کپ ٹیبل پر پٹخا اور سنجیدگی سے دانٹ پیستے اس سے مخاطب ہوا۔۔۔
علایہ ابھی دو قدم ہی چلی تھی جب بھائی کی آواز پر بے ساختہ پلٹی اور حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
مرتسم نے ایک نظر وہاج کو دیکھا جو صوفے کی ہتھی پر کہنی ٹکائے ہاتھ کی گول مٹھی ہونٹوں پر رکھے لاپرواہ سا ان دونوں بہن بھائی کو نظر انداز کئے مسکراتے ہوئے ہنوز بابا کی جانب مشغول تھا۔۔
یکدم ہی مرتسم کو ڈھیروں ڈھیر شرمندگی نے آگھیرا۔۔۔
ماں بابا بھی خاموش ہوتے انکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
پہلی دفعہ چائے بنا رہی تھی کیا۔۔۔ مرتسم دانت پیس کر غصیلے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔سچ تھا علایہ کی آج کی حرکت نے اسے بہت پشیمان کیا تھا۔۔۔
کیا ہوا بھائی۔۔۔
وہاج کے سامنے اس قدر عزت افزائی پر سکا خون خشک ہوا۔۔۔ کم از کم اسے مرتسم سے اس چیز کی توقع نا تھی۔۔ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
حالانکہ تم چائے بہت اچھی بناتی ہو پھر آج کی یہ حرکت۔۔۔ کیا نام دوں میں اسے۔۔۔ مرتسم کے سختی سے مستفسر ہونے پر بے ساختہ اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
کیا مطلب بِھائی۔۔۔ وہ منمنائی۔۔۔ مگر ہنوز مرتسم کو سخت تنبیہی نگاہوں سے خود کو گھورتا پا کر بے ساختہ آگے بڑھی اور میز پر پڑا پہلا چائے کا کپ۔۔ یعنی کے وہاج کے کپ کو اٹھاتی منہ سے لگا گئ۔۔
پہلی چسکی لیتے ہی وہ مرتسم اور وہاج کی مانند تہذیب کا مظاہرہ کرتے اسے حلق سے اتار نا سکی بلکہ چائے فوارے کی صورت اسکے منہ سے نکلی۔۔
اتنیییی کڑوری چائے۔۔ وہ غالباً چینی کی جگہ اس میں نمک ڈال گئ تھی۔۔۔
ایم۔۔ایم سوری بھائی۔۔ مجھے اندازہ نہیں ہوا کے میں چینی کی جگہ نمک۔۔۔
وہ روہانسی ہوتی منہ صاف کرتی گویا ہوئی ۔۔ پشیمانی سے اسکا دل چاہا کے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ اسنے ایک گھبرائی نگاہ وہاج کو دیکھا وہ شاید اسے اسی پشیمانی سے بچانے کو نظر انداز کئے چہرے کا رخ موڑے بیٹھا تھا۔۔۔
_____
ویٹ ویٹ ویٹ۔۔۔
آگے بڑھنے سے پہلے زرا ٹہریے۔۔
کیا آپ ہماری نئ ای بک حاصل زیست کے بارے میں جانتے ہیں۔۔۔
آگر نہیں تو بتاتے چلیں کے یہ ایک نئے اور اچھوتے موضوع پر ام ہانیہ کے قلم سے تحریر ایک نئ ای بک ہے۔۔۔ جسکی پری بکنک بہت ہی مناسب قیمت پر جاری ہے۔۔۔
تو کیا آپ نے اسکی پری بکنگ کروا کی۔۔۔
اگر ہاں ۔۔ تو
Best of luck for a new experience of your life...
اگر نہین کی تو
don't miss this chance...
e.book is available 40% off then its original price for pre booking...
so avail this offer...
e.book prise : Rs 200
Pre Booking prise : Rs 120
invest Rs 120 at your self and you will never regret for it...
Contact Number : what's app number
03156490853
_____
اٹس اوکے۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔ میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔۔
معاملہ بگڑتا دیکھ فاہا بعجلت کچن سے نکلی اور اسکا شانا تھپتھپا کر مسکرا کر کہتی جھٹ سے وہ دونوں کپ ٹرے میں رکھتی کچن میں غائب ہوگئ۔۔۔۔جبکہ علایہ سے ایک قدم تک اٹھانا بھاری ہو گیا۔۔۔
وہ پشیمان سی بھرائی آنکھوں سے فرش کو گھور رہی تھی۔۔ خفت سے برا حال تھا۔۔۔ وہ کسی بھی پل رو دینے کو تھی۔۔۔
پتہ نہیں اس بچی کو عقل کب آئے لگی۔۔۔ ماں نے تاسف سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
کوئی بات نہیں ۔۔۔ ہو جاتا ہے کبھی کبھی۔۔۔ آپ کمرے میں جاو بیٹا۔۔۔ اسے خفت سے بے حال سر جھکائے کھڑا دیکھ بابا نے ہی اسکی مشکل آسان بنائی تو وہ جھٹ سے مڑتی سیڑھیاں چڑھتی اوپر چڑھ گئ۔۔۔ پلٹتے ہی آنکھوں میں جمع نمی گالوں میں پھسل آئی تھی۔۔
وہاج بیٹا اب تم نے گھر جا کر کیا کرنا ہے۔۔۔ سونا ہی ہے نا تو یہیں رک جاو۔۔۔ صبح ناشتے کے بعد چلنے جانا۔۔۔
ارے نہیں آنٹی جی۔۔ اسکی ضرورت نہیں۔۔۔
ماں کے کہنے پر وہ سرعت سے نرم لہجے میں انکی بات کی نفی کر گیا۔۔۔
کیوں ضرورت نہیں۔۔ ایکچولی ماں کا آئیڈیا بلکل درست ہے۔۔۔ ہم مل کر اپنے پڑاجیکٹ کے پوائنٹس دسکس کر لیں گے۔۔۔ مرتسم کے سرعت سے اسکی بات کاٹنے پر وہ خاموش ہو گیا۔۔۔
اس سے پہلے بھی وہ اور فائز کئ دفعہ کام کے سلسلے میں ایک دوسرے کے ہاں رات گزار چکے تھے۔۔ لیکن تب وہ سب ڈرائینگ روم تک محدود ہوتا تھا۔۔
*****
وہاج خانزادہ مرتسم کے کمرے میں موجود بیڈ کی پائنتی کی جانب بیٹھا تھا۔۔۔۔ وہ ڈھیلے سے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھا جو غالباً مرتسم کا تھا۔۔۔ گیلے بال ماتھے پر بکھرے تھے۔۔۔ پائینتی پر ڈھیلے سے انداز میں بیٹھے وہ ٹانگیں لمبی کئے مسلسل ایک ہاوں جھلاتا ہاتھ میں تھامے موبائل پر میلز چیک کر رہا تھا جبکہ مرتسم تھری سیٹر صوفے پر بیٹھا سامنے پڑے میز پر موجود لیپ ٹاپ پر جھکا فائل بنا رہا تھا جب دروازہ ناک کر کے فاہا چائے کی ٹرے تھامے اندر داخل ہوئی۔۔
وہ کاسنی کلر کی فراک پر ہم رنگ آنچل سلیقے سے سر پر جمائے مضبوط قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
ان دونوں نے بیک وقت اسے دیکھا۔۔۔
وہاج نے ایک نظر فاہا کو دیکھا اور دوسری نظر مرتسم کو جو اسے چائے میز پر رکھنے کا اشارہ کرتا دوبارہ سے لیپ ٹاپ پر مصروف ہو چکا تھا۔۔۔ یکدم ہی اسکی آنکھوں میں شرارتی سی چمک ابھری۔۔۔۔
آنننن بھابھی آپ کہاں جا رہی ہیں۔۔ پلیز بیٹھیں نا۔۔۔ وہ اسے چائے کی ٹرے میز پر رکھ کر پلٹتے دیکھ بے ساختہ گویا ہوا۔۔۔
اسکے یوں اچانک کہنے پر جہاں فاہا نے اسے حیرت سے دیکھا وہیں مرتسم نے بھی لیپ ٹاپ کی سکرین سے نگاہیں اٹھاتے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا۔۔۔
بیٹھ جائیں بھابھی۔۔۔ آپ ہی کا شوہر نامدار ہے کوئی غیر نہیں جو آپ یوں گھبرا رہی ہیں۔۔۔۔
اسکے یوں شوخ اور بے باک انداز میں کہنے پر فاہا جھجھکتے ہوئے صوفے کے کنارے پر ٹک گئ۔۔۔
یوں کے تھری سیٹر صوفے کے ایک جانب مرتسم بیٹھا تھا اور دوسری جانب فاہا درمیان میں کچھ جگہ خالی تھی۔۔۔۔
مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔ باقی سب تو شاید آپکے نکاح سے ابھی تک لاعلم ہیں اس لئے وہاں سب کے سامنے پوچھ نہیں سکا۔۔ اسی لئے اب موقع ملا ہے۔۔۔
مرتسم لیپ ٹاپ سے ہاتھ روکے اسے گھور رہا تھا کیونکہ وہ اسکی آنکھوں میں ناچتی شرارت باخوبی بھانپ چکا تھا۔۔۔ یقیناً وہ کچھ غلط پوچھ کر سچویشن آکورڈ بنانے والا تھا۔۔۔
جی پوچھیے۔۔۔ فاہا سادگی سے گویا ہوئی۔۔
جی وہ دراصل پوچھنا یہ تھا۔۔۔
فاہا جاو یہاں سے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کوئی چٹکلا چھوڑتا مرتسم سنجیدگی سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔۔
خبردار جو آپ اٹھیں تو۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ مرتسم کی بات سن کر جان خلاصی ہونے پر شکر ادا کرتی اٹھتی وہاج بعجلت گویا ہوا۔۔۔۔آپکا دیور ہونے کیساتھ ساتھ آپکی نند کا شوہر بھی ہوں۔۔ دوہری رشتہ داری ہے ہماری۔۔۔ آگر آپ اپنے شوہر کی بات مان کر اٹھیں تو آنٹی سے آپکی شکایت کروں گا۔۔۔۔
وہاج کے تنبیاً کہنے پر وہ جو اٹھنے کو پر تول رہی تھی پریشانی سے لب چباتی وہیں بیٹھ گی۔۔۔مرتسم سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ مرتسم اسکی شرارت ملاخظہ کرتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
تمہیں کیا تکلیف ہے ۔۔ اپنی بھابھی سے بات کر رہا ہوں۔۔۔ وہ بھی اسی کے انداز میں گویا ہوا کے مرتسم گہری سانس بھرتا اسے اسکے حال پر چھوڑتا واپس لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا۔۔۔
فاہا کو وہاں بیٹھنا بہت اکورڈ لگ رہا تھا۔۔۔
وہ دراصل بھابھی آپ سے پوچھنا یہ تھا کے آپکو میرا یار۔۔۔ میرا مطلب ہے کے آپکا شوہر نامدار کیسا لگا۔۔۔
وہ ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ دابے شریر سے انداز میں گویا ہوا۔۔
فاہا کا دل زور سے ڈھرکا۔۔ مرتسم کے سامنے اس قسم کے سوال پر وہ کان کی لووں تک سرخ پر گئ۔۔ ان سوالوں کے جوابات تو وہ تنہائی میں خود کو دینے کے خیال سے ہی گھبرا جاتی تھی کجا کہ اسی ستم گر کے سامنے دینا۔۔۔
اسکی سوال پر مرتسم کے لیپ ٹاپ کی کیز دباتے ہاتھ سست پڑے۔۔
اسنے نگاہیں اٹھا کر فاہا کو دیکھا اور اسکا شرمایا لجایا سا روپ سیدھا دل پر وار کر گیا۔۔۔
وہ بوکھلائی سی نگاہیں جکائے یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسے دیکھنے کا زاویہ بدلہ تھا شاید۔۔۔ آج سے پہلے اسے کسی اور نگاہ سے دیکھا ہی نہیں تھا شاید۔۔۔ تب ہی دل کی دنیا زیر زبر ہونے لگی تھی۔۔۔
لاشعوری طور پر شاید وہ بھی اسکے جواب کا منتظر تھا۔۔۔
فاہا کی جان خاصی مشکل میں پڑ گئ تھی۔۔۔ دل اتنی زوت سے ڈھرک رہا تھا کے دل چاہا فورا سے اٹھے اور بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل جائے۔۔۔۔
نہیں۔۔ فاہا۔۔۔ نہیں۔۔۔ بی کانفیڈینٹ۔۔۔ اسنے بے ساختہ خود کو تھپکی دی۔۔۔ فائدہ اتنی سیلف ڈویلپمنٹ کی کلاسز لینے کا جب تم موقع پر بول ہی نا سکو۔۔اسنے ایک چور نکاہ مرتسم کو دیکھا وہ چہرے پر ہاتھ کی مٹھی رکھے اسی کو دیکھ رہا تھا فاہا نے جھٹ نگاہیں جھکا لیں۔۔۔
بہت اچھے۔۔۔ کیئرنگ۔۔۔ مخلص۔۔۔ سچے کھرے اور بھرپور تعاون کرنے والے۔۔ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
وہاج نے متاثر ہونے والے انداز میں آئی برو اچکاتے مرتسم کو دیکھا جسکے چہرے ہر نامحسوس اندز میں مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوگئ۔۔۔
مطلب آپ تو کافی امپریس لگ رہی ہیں مرتسم سے۔۔۔ اسنے مزید چھیرا۔۔۔ وہ شاید اسے اتنی آسانی سے جانے نہیں دینے والا تھا۔۔۔
مرتسم ایسے شخص ہیں۔۔ جن سے امپریس ہوا جاسکے۔۔
Just like as a role model...
ابکی بار وہ زرا اعتماد سے گویا ہوئی۔۔
اوہہہ۔
ایکسکیوز می۔۔۔ اس سے پہلے کے وہاج مزید اسکی جان مشکل میں ڈالتا وہ وقار سے اٹھی اور تیز قدم اٹھاتی کمرے سے نکل گئ۔۔۔
آج وہ اپنی خود اعتمادی اور جوابات سے مرتسم لودھی کا دل تسخیر کر گئ تھی۔۔۔
زندگی میں پہلی دفعہ ساکت سے دل میں زرا سی ہلچل مچی تھئ۔۔۔۔ اس لڑکی کے منہ میں منمنانے سے زیادہ زبان اچھی لگتی تھی۔۔۔
۔۔
******
ایسا کب تک چلے گا صاعمہ بیگم۔۔۔ بابا آفس جانے کے لئے تیار ہو کر ڈائینینگ ٹیبل پر آئے تو آج پھر سے ماہرہ کو وہاں سے غائب دیکھ وہ کڑے تیوروں سے مستفسر ہوئے۔۔۔
بابا اسنے خود ہی اپنے گرد اجنبیت کی دیواریں اتنی دراز کر ڈالی ہیں کے ہم چاہ کر بھی اسے پاٹ نہیں پا رہے۔۔۔ وہ بات کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہی۔۔
ایسے میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔۔ مظہر کھانے سے ہاتھ روک کر باپ کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
اسے ایسا کرنے پر مجبور کس نے کیا ہے ۔۔ وہ آپ دونوں سے انسکیور ہے۔۔۔ سب سے کٹ کر تنہا ہو گئ ہے ایسے میں کیا اسے اسکے حال پر چھوڑنا عقلمندی ہے۔۔ بابا نے اسے تاسف سے دیکھا۔۔۔
اس روز کے بعد سے ماہرہ نے خود کو کمرے تک محصور کر لیا تھا۔۔۔
وہ بلا ضرورت تو کیا ضرورت پڑنے پر بھی کمرے سے باہر نا نکلتی۔۔۔ بھوک لگتی تو ملازمہ کو فون کر کے کھانا وہیں منگوالیتی۔۔۔
کمرے میں دم گھٹتا تو پہروں لان کی جانب کھلتی کھڑکی میں آ کھڑی ہوتی۔۔۔
کمرے سے باہر نکلنا وہ بھول ہی گئ تھی۔۔ وہ گویا ماں اور مظہر کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے بابا بیٹی کی اس سے زیادہ تنہائی اور خود اذیتی برداشت نہیں کر پائے تھے۔۔
نہیں بابا۔۔۔ اس وقت اسے اسکے حال پر چھوڑنا بالکل بھی عقلمندی نہیں۔۔ آپ بتائیں ہم پھر کیا کریں۔۔ مظہر جیسے ہار مانتا گہری سانس خارج کر کے گویا ہوا۔۔۔
بڑے ہو تم۔۔۔ بڑے پن کا ثبوت دو۔۔۔ بابا کے سنجیدگی سے کہنے ر وہ انہیں ناسمجھی سے دیکھ کر رہ گیا۔۔
چھوٹے ناراض ہو جائیں روٹھ جائیں تو انہیں منا لیا جاتا ہے۔۔۔ چھوٹی بہن ہے وہ تمہاری ۔۔۔
اور اسی چھوٹی بہن نے اسقدر نازیبا الفاظ بولے ہیں مجھے۔۔ آپکے سامنے ہی۔۔۔ نانا کرنے کے باوجود بھی مظہر بابا کی بات کاٹ کر شکوہ کر گیا۔۔۔
اس بات کو رہنے دو مظہر کے کس نے کیا کیا۔۔ وہ آپ دونوں کی طرف سے انسکیور ہوئی تو بولی نا۔۔۔ کم آہ دونوں نے بھی نہیں کیا۔۔۔ مگر جو ہوگیا اس پر مٹی ڈالو اور جا کر بہن کو مناو۔۔۔ اسے احساس دلاو کے تم بھائی ہو اسکے۔۔ چاہیے پوری دنیا بھی اسکے مخالف ہو جائے تم اسکے ساتھ کھڑے ہو۔۔۔
چاہیے تمہاری اٹینشن غلط نہیں تھی۔۔۔ تم بہن کی بھلائی چاہتے تھے۔۔۔ لیکن وہ ہرٹ ہوئی ہے۔۔۔۔ بہنوں کو بھائیوں پر بہت مان ہوتا ہے۔۔۔ تم جانے انجانے میں ہی سہی اسکا وہ مان توڑ چکے ہو ۔۔
ماں باپ کا فرض ہوتا ہے گھر کا سکون قائم رکھنا۔۔۔ اس لئے میرا فرض ہے کے اگر آپ دونوں میں سے کوئی غلط ہے تو میں اسکی تصیح کروں۔۔۔ میرے لئے میرے دونوں بچے برابر ہیں۔۔۔ تم اگر میرے بیٹے ہو تو وہ بھی میرے دل کا ٹکرا ہے۔۔۔ اور میں تم دونوں کو یوں ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے اور خفا نہیں دیکھ سکتا۔۔۔
اس لئے آپ دونوں۔۔۔ انہوں نے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ جائیں اور اسے منا کر باہر لائیں۔۔ پرسوں سے وہ کمرا بند ہے۔۔ میرے دل کو تکلیف ہو رہی ہے اسے یوں ماں باپ کے ہوتے ہوئے تنہا دیکھ کر۔۔۔
میں انتظار کر رہا ہوں آپ دونوں کا۔۔۔ ناشتہ ہم اکھٹے ہی کریں گے۔۔۔
انکے کہنے کی دیر تھیں مام ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئیں کے وہ تو پرسوں سے ہی اسے کمرا بند دیکھ انگاروں پر لوٹ رہیں تھیں۔۔۔ مگر وہ بدگمان اتنی تھی کے بات سن کر نا دے رہی تھی۔۔۔۔ اب تک شاید اسکا غصہ کچھ ہکلا ہوتا تو شاید انکی بات سن لیتی۔۔۔
ماں کے اٹھتے ہی مظہر بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر ماں کے پیچھے ہو لیا۔۔۔
*****
گھڑی رات کے گیارہ کا ہندسہ عبور کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ علایہ انگلی منہ میں دابے پشیمان سی جلے پیر کی بلی کی مانند یہاں سے وہاں چکر کاٹتی شام میں ہوئے واقعہ کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔
اسے اسقدر پشیمانی ہو رہی تھی کے حد نہیں۔۔۔
پتہ نہیں اسکا دھیاں کہاں تھا یا شاید وہ پاگل ہو گئ تھی جو چینی اور نمک میں فرق نا کر پائی۔۔۔
ناجانے وہاج اسکے بارے میں کیا سوچ رہا ہو گا۔۔۔ وہ تو پہلے ہی اپنی حماقتوں کے باعث اسے بہت بدزن کر چکی تھی اوپر سے آج کی حماقت۔۔۔۔وہ بے بسی سے ہاوں پٹخ کر رہ گئ۔۔۔
اب کیا کروں۔۔۔ اللہ جی۔۔۔ وہ کوفت میں مبتلا تھی۔۔۔
وہ تو پہلے ہی اس سے بات کر کے اپنے کئے کی معذرت کر کے ہر بات کلئیر کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اوپر سے آج کی حماقت۔۔۔
اسے ملازمہ سے پتہ چلا تھا کے وہاج خانزادہ آج رات وہیں رکنے والا ہے تب سے ہی وہ مسلسل ایک بات سوچ رہی تھی مگر اس سوچ پر عمل پیرا ہونے کے لئے اسے ہمت درکار تھی۔۔۔ وہ سوچتی اور خود ہی اپنی بات کی نفی کر دیتی۔۔۔
پھر سے خود کو ہمت دلاتی کے آج اسے یہ معرکہ سر انجام دینا ہی دینا ہے ورنہ ان دونوں کے درمیان موجود فاصلے مزید بڑھتے ہی جاتے۔۔۔ وہاج خانزادہ برا انسان نا تھا۔۔
وہ شخص اسکی عزت کا خیال کرتا اسکا اتنا بڑا راز دل میں ہی دفن کر گیا تھا۔۔۔ اسنے کبھی علایہ کو اس رات کا تانا مارنا تو دور کبھی اسکے سامنے اس بھیانک رات کا ذکر تک نا کیا تھا۔۔۔ وہ شخص اسکے دل میں عزت و مرتبے کا بہت اعلی مقام پا گیا تھا۔۔۔
ہمیشہ حماقتیں اسی کی طرف سے ہوئیں تھیں۔۔۔ بس وہ شخص بگو بگو کر مارنا جانتا تھا اسکے علاوہ وہ ایک بہترین شخص تھا۔۔۔
اس دفعہ علایہ خود سے پہل کر کے اپنے رشتے میں موجود فاصلوں کو پاٹنا چاہتی تھی۔۔۔
مگر یہ سوچ ہی سوچتے وہ بے دم ہونے لگتی ۔۔ کیسے جاتی وہ خود سے شیر کی کچھار میں۔۔۔ وہ بھی رات کے اس پہر۔۔۔ پھر سے جمع کی ہوئی ساری ہمت بھربھری ریت کی دیوار ثابت ہوتی دھ گئ۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں علایہ۔۔۔ ایک دفعہ تو ہمت کرنی ہی ہوگئ۔۔ وہ خود کو تھپکی دیتی گھبراتے ہوئے من من بھاری ہوتے قدم اٹھاتی اپنے کمرے سے نکلی۔۔۔ اب اسکا رخ گیسٹ روم کی جانب تھا۔۔
*****

No comments