Roshan Sitara novel 68th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 68th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
68th epi...
علایہ سکن کھلے سے پلازو پر بلیک شارٹ شرٹ جس پر سرخ اور سکن ہی ایمرائیڈری ہوئی تھی۔۔۔ زیب تن کئے سیاہ اور سکن آنچل شانے پر پھیلائے فریش سی سیڑھیاں اترتی آ رہی تھی۔۔۔
نم بال پشت پر پھیلے تھے جبکہ بینگز ایک سائیڈ پر ماتھے پر گر رہے تھے۔۔۔ وہ غالباً ابھی ابھی شاور لے کر نکلی تھی۔۔
ماں اور فاہا ڈائینیگ ٹیبل پر موجود تھیں۔۔ فاہا ملازموں کے ساتھ مل کر کٹلری سیٹ کر رہی تھی جبکہ ملازموں کی دوڑیں لگی ہوئیں تھیں۔۔۔ ماں انہیں بریفینگ دے رہی تھیں جبکہ وہ ماں کے کہے کے مطابق انتظام کر رہے تھے۔۔۔
ایک ملازمہ کھانے کے باول لا کر ٹیبل پر رکھ رہی تھی۔۔
علایہ نے اچھنبے سے یہ سارا منظر دیکھا۔۔۔
ماں خیریت ہے۔۔ آج ڈنر پر اتنا اہتمام۔۔۔ کوئی آ رہا ہے کیا۔۔۔ وہ ستائشی نگاہوں سے ٹیبل پر پڑے انواع و اقسام کے کھانے دیکھتی کرسی گھسیٹ کر بیٹھی اور ایک ایک باول سے ڈھکن ہٹا کر کھانے کا جائزہ لیتی گہری سانس کھینچ کر کھانوں کی اشہا انگیز خوشبو اندر اتارنے لگی۔۔۔
دفعتا ڈائینینگ ٹیبل پر آ کر سربراہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے بابا نے مسکرا کر اسکی حرکت دیکھی۔۔۔
بالکل بیٹا۔۔۔ اس گھر کا اکلوتا داماد کھانے پر آ رہا ہے اہتمام تو بنتا ہے نا۔۔۔
ماّم کے مسکرا کر مصروف سے انداز میں کہنے پر اگلے باول سے ڈھکن ہٹاتا اسکا ہاتھ ٹھٹھکا۔۔۔
وہ پزمردہ سے انداز میں دھکن واپس اس پر رکھتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
اچانک اسکا ہاتھ اپنے گال پر گیا جہاں یکدم ہی وہاج خانزادہ کے ہاتھوں کا گرم لمس ابھر آیا تھا۔۔
بس اگر زبان تھوڑی سی رگیڈ دی جائے تو تم ایک بہتریں بیوی بن سکتی ہو۔۔۔
وہ جھرجھری لے کر رہ گئ۔۔
وہ کیوں ڈنر پر آ رہے ہیں۔۔۔ علایہ ٹھہرے سے انداز میں جھجھکتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔
مسٹر اور مسز خانزادہ پچھلے ہفتے ہی عمرے پر جا چکے تھے۔۔۔ ایسے میں اسکا یہاں آنا۔۔ اسے کچھ سمجھ نا آئی۔۔
بچہ مرتسم کے ساتھ مل کر دن رات کام کر رہا ہے۔۔۔ بہت محنتی بچہ ہے۔۔۔ بزنس سٹیبلش کرنے کے لئے دن رات کا فرق مٹا دیا اسنے ۔۔۔ ایسے میں ماں باپ گھر نہیں۔۔۔ کہاں باہر کا کھانا کھاتا پھرے گا بچہ وہ بھی اپنا گھر ہوتے ہوئے۔۔۔ اس لئے میں نے مرتسم سے کہا کے اسے واپسی پر ہر حال میں اپنے ساتھ لائے وہ ڈنر یہیں ہمارے ساتھ کرے گا۔۔۔
میں تو اسے روز ہی کہتی ہوں کے ڈنر ہمارے ساتھ کرے لیکن وہ ٹال مٹول کر جاتا ہے ۔۔۔۔ لیکن میں نے آج زرا سختی سے کہا تو وہ رضا مندی دے گیا۔۔۔
ماں نء ہر چیز پوری ہونے کا یقین کرتے منتظر کھڑی ملازمہ کو ہاتھ کے اشارے سے واپس جانے کا حکم دیا۔۔۔۔دفعتاً باہر کار پورچ میں مرتسم کی گاڑی رکنے کی آواز آئی تو علایہ الرٹ ہو کر بیٹھی۔۔۔
بابا اسے رسیو کرنے دروازے تک گئے جبکہ اسکا ہاتھ خوبخود ہی اپنے آنچل تک رینگ گیا۔۔۔
بینگز سیٹ کر کے کان کے پیچھے اڑسے اور آنچل کھول کر سر پر اوڑھایا۔۔
دفعتاً اسے لاوئنج سے ابھرتی انکی آوازیں سنائی دینے لگی۔۔۔ وہ ہستا مسکراتا ماں بابا سے مل رہا تھا۔۔۔
علایہ کی اسکی جانب پشت تھی۔۔ سب کے ڈائینینگ ٹیبل سے اٹھ کر اس سے ملنے جانے کے باوجود وہ ہنوز وہیں بیٹھی رہی۔۔۔
دل چاہ رہا تھا کے ابھی اٹھے اور جا کر کمرے میں بند ہو جائے ناجانے کیوں پچھلی ملاقات کے بعد اسے اس شخص کا سامنا کرنا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔ مگر ماں کے ہاتھوں ہونے والی عزت افزائی کا سوچ کر وہ لب چباتی وہیں بیٹھی رہی۔۔۔
وہاج بیٹا۔۔ کیا یہ گھر تمہارے لئے پرایا ہے یا ہم ۔۔۔ جو یوں پرایوں جیسے کام کر رہے ہو۔۔۔ کتنے دنوں سے بلا رہی تھی ڈنر پر ہاں۔۔۔ پہلی دفعہ آ رہے ہو کیا یہاں۔۔۔
ماں کے اسکا کان پکڑ کر محبت بھری ڈھونس جمانے پر وہ کھل کر مسکرایا دیا۔۔۔
ارے نہیں آنٹی جی۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ انفیکٹ میں تو خود آپکے ہاتھ کا کھانا بہت مس کر رہا تھا۔۔۔ بس بزنس کی کچھ مصروفیات تھیں جسکی وجہ سے پہلے نہیں آسکا۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا کان چھڑا کر انہیں بازو کے حصار میں لے کر اپنے ازلی شوخ و چنچل انداز میں گویا ہوا۔۔۔
ماں اسکے انداز پر مطمیں ہوگئیں۔۔۔
ارے بھابھی کیسی ہیں آپ۔۔ ڈائینینگ ٹیبل کی جانب بڑھتا وہ فاہا کو وہاں کھڑا دیکھ مسکرا کر مستفسر ہوا۔۔۔
جہاں فاہا اسکے طرز تخاطب پر بوکھلا کر یہاں وہاں دیکھنے لگی وہیں مرتسم نے بلا توقف پاوں زور سے اسکے پاوں پر مارا۔۔۔
وہاج نے اچھنبے سے اسے دیکھا جب مرتسم کو خود کو گھورتا پا کر جیسے لمحوں میں اسے ساری کہانی سمجھ آ گی۔۔۔ فاہا کا ردعمل اور مرتسم کی گھوریاں اسے اچھے سے سمجھا گئیں کے یہ نکاح ابھی تک صیغہ راز ہے۔۔۔
وہ ہونٹوں کو اوو کی شیپ میں بنا کر رہ گیا۔۔۔۔
فاہا نے نظرین چرا کر دیکھا صد شکر کے ماں بابا نے اسکی گل فشانی نہیں سنی تھی وہ ان سے فاصلے پر کھڑے کوئی بات ڈسکس کر رہے تھے۔۔۔
فاہا خاموشی سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔۔۔
فاہا کے ساتھ بیٹِھی علایہ نے وہاج کی بات تو سنی لیکن وہ اسے کوئی جامع مفہوم نا دے سکی۔۔ کیونکہ اسکی بات کے بعد خاموشی چھا گئ تھی۔۔۔ کوئی بھی تو کچھ نا بولا۔۔۔
لحاظہ اسنے اس بات پر زیادہ غور و فکر کرنے کی ضرورت بھی نا سمجھی۔۔۔ جسکا کوئی سر پیر ہی نا تھا۔۔۔ اسکی بھابھی تو ابھی تک اسکے وہم و گمان میں بھی کوئی نا تھی۔۔۔
وہاج نے کرسی سمبھالتے ایک اچٹتی نگاہ اپنے مقابل بیٹھی علایہ پر ڈالی۔۔۔
_____
Wait a minute
کیا آپ اپنی زندگی میں ایک الگ سا ایکسپیرینس کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
کیا اس تلخی بھری زندگی میں تلخیوں کو ہینڈل کرنے کے لئے آپ ایک ایسے راستے کی تلاش میں ہیں جہاں سب کچھ کرداروں کے ذریعے سے آپ کے سامنے پیش کیا جائے۔۔۔
کیا آپ ایک ایسے زون کو دیکھنا چاہتے ہیں جہاں کردار آپکے سامنے اپنے کمپلیکسز سے ڈیل کر کے خود کا بہتریں ورزن بنائیں۔۔۔
کیا آپ اپنے ارد گرد بنے کمفرٹ زون کو توڑ کر ایک قدم آگے بڑھتے کچھ نیا ایکسپرینس کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
اگر ہاں تو یہ آپ کے لئے رائٹ ٹائم یے۔۔۔
ہماری نئ ای بک۔۔۔ حاصل زیست آپکو مدد دے گی اس ایک نئے ایڈونچر اور ایکپسیرینس کو حاصل کرنے میں۔۔۔
جو نہایت مناسب قیمت پر دستیاب ہے۔۔۔ جسکی پری
بکنگ قیمت محض 120 روپے ہیں۔۔۔
اور اسکی قیمت اتنی کم اسی لئے رکھی گئ ہے کے میرے سبھی ریڈرز خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں وہ باآسانی اس سے مستفید ہو سکیں۔۔۔
الحمدللہ میرے ریڈرز کا رسپانس اس پری بکنگ پر بہت شاندار رہا ۔۔۔ ملک بھر کے مختلف حصوں سے اسکی پری بکنگ کروائی جا رہی ہے اوور سیز ریدرز کے لئے ابھی ہم معذرت خواہ ہے کہ ہم انکی بکنگ کے لئے کوئی طریقہ نہین نکال پائے پچھلی دفعہ ہم نے پچھلی ای بک اوور سیز ریڈرز کے لئے ایمازون اور کنڈل پر پبلش کی تھی۔۔ لیکن اس دفعہ ہم کسی نئے طریقے کی تلاش میں ہیں۔۔۔ انشااللہ جلد ہی اسکا طریقہ بھی ہم یہاں شیئر کریں گے۔۔۔ فلحال کے لئے ان سب اوور سیز ریڈرز سے معذرت جو پری بکنگ کے لئے ڈی ایمز کر رہے ہیں۔۔۔
آپکو زندگی کے ایک نئے ایکسپیرینس ایک نئے تجربے سے گزرنے کے لئے 120 روپے کی انویسٹمنٹ خود پر ضرور کرنی چاہی۔۔۔
اور میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کے آپ اپنے اوپر کی جانے والی اس انویسٹمنٹ پر رگڑیکٹ کبھی نہیں ہونگے۔۔۔ بلکہ یہ آپکی زندگی میں خود پر کی جانے والے انویسٹمنٹس میں سے ایک بہترین انویسٹمنٹ ثابت ہوگئ۔۔۔
اگلا سال شروع ہونے سے پہلے خود کو یہ ای بک گفٹ کریں۔۔۔اور یقیناً خود کو یہ گفٹ کر کے آپ مایوس بالکل نہیں ہونگے۔۔۔ اور اسکے ساتھ ساتھ آپ میری گزشتہ ای بک جسکی قیمت 350 روپے ہے وہ بھی اس پری بکنگ کے ساتھ آفر میں حاصل کر سکتے ہی. صرف 199 روپے میں۔۔۔
e.book prise : Rs 200
Pre Booking prise : Rs 120
Hasil_e_Zeest eBook + Mera Mehram eBook :Rs 199
invest Rs 120 at your self and you will never regret for it...
Contact Number : what's app number
03156490853
*****
وہ گم صم سی سر جھکائے بیٹھی تھی شہابی رنگت میں سرخیاں گھل رہی تھیں۔۔۔
کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا جا رہا تھا۔۔۔
کھانا کھانے کے دوران بابا ان سے انکے بزنس کے بارے میں چھوٹے موٹے سوالات پوچھتے رہے۔۔
انہیں آپس میں مگن دیکھ کر علایہ نے ایک چور نگاہ وہاج پر ڈالی وہ بلیک ڈریس پینٹ پر بلیک ہی شرٹ زیب تن کئے ہس کر بابا سے بات کرتا بہت خوبرو لگ رہا تھا۔۔۔
بابا سے بات کرتے اسنے مسکراتے ہوئے ایک اچٹتی نگاہ اس ہر ڈال کر جھٹ سے اسکی چوری پکڑی یوں کے علایہ سٹپٹا کر نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
علایہ دو کپ چائے بنا کر لاوئنج میں ہی لے آو۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد ٹیبل سے اٹھتے مرتسم اس سے گویا ہوا۔۔۔
ماں بابا رات میں چائے نہیں پیتے تھے۔۔ وہ سر ہاں میں ہلاتی میز سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
****
ماہرہ رکو کہاں جا رہی ہو۔۔۔
ماں کو اسکے بھاگتے قدموں سے ملنے کے لیے بھاگنا پڑ رہا تھا۔۔۔
اسکا رخ باپ کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔ دروازے کے پاس پہنچ کر اسنے ڈھار سے دروازہ کھولا۔۔۔
بابا جو آفس سے آ کر طبیعت خرابی کے باعث دوائی کھا کر سو گئے تھے۔۔۔ انکا شور شرابہ اور اونچی آوازیں سن کر کچی نیند سے اٹھتے کمرے سے نکلنے والے تھے جب ماہرہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔۔
کیا بات ہے بیٹا ۔۔۔ اتنا شور کس بات کا ہے۔۔۔ بابا نا سمجھی سے اسکا رویا رویا سا چہرا اور غصیلہ انداز دیکھ مستفسر ہوئے۔۔۔
بابا مجھے میرا شرعی حق چاہیے۔۔۔ وہ بنا تمہید کے سیدھی بات پر آئی۔۔ ماں اور مظہر نے اچھنبے سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔
کیا بول رہی ہو ماہرہ۔۔۔ بابا الجھے۔۔۔
کیا مطلب کیا آپکو بھی بیٹی بوجھ لگ رہی ہے۔۔ آپ بھی مجھے اپنی جائیدار سے میرا شرعی حق نہیں دینا چاہتے۔۔۔ اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔وہ سب ہی سے متنفر نظر آتی تھئ۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہو میری جان۔۔۔ میرا سب کچھ ہی میری شہزادی کا ہے۔۔۔
بابا نے آگے بڑھتے اسکے کپکپاتے وجود کو اپنے حصار میں لیا۔۔۔
ایسے نہیں بابا۔۔۔ لیگلی طور پر مجھے میرا شرعی حصہ چاہیے۔۔۔
آپکو پتہ ہے یہ مظہر کیا کہہ رہا تھا۔۔۔وہ باپ کا سہارا پاتے کسی روٹھے ہوئے بچے کی مانند باپ سے شکایت کرنے لگی۔۔ جیسے بچہ چوٹ کھا کر بڑے کے پاس شکایت لے کر آتا ہے۔۔
یہ کہہ رہا تھا میر ابچہ لاوارث ہے۔۔۔ جیسے اسکا باپ پوری زندگی اپنے ماموں کے در پر پلا بالکل ویسے ہی میرا بچہ بھی اپنے۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑتی ہچکیوں سے رو دی جیسے الفاظ ساتھ نا دے رہے ہوں۔۔۔
مظہرررر۔۔۔ بابا نے خونخوار نگاہوں سے بیٹے کو دیکھا۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ماہرہ کو بازو کے حصار میں لئے اسکا سر سہلا رہے تھے۔۔
مظہر نے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا جیسے کہہ رہ ہو مطلب کچھ بھی۔۔۔ اور بے بسی سے ماتھا مسلتا وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
بابا یہ آج ہی یہ بات بول رہا جب ابھی آپکا سایا مجھ پر سلامت ہے۔۔۔ اللہ آپکو سو سال کی زندگی دے۔۔۔ آپکا سایا ایسے ہی میرے سر پر بنائے رکھے۔۔ لیکن مجھے اپنی حیاتی میں ہی میرا حصہ دے دیں مجھے اپنے اس بھائی سے ایک رتی برابر بھلائی کی امید نہیں۔۔۔
میری سگی ماں اور میرا سگا بھائی ہی میری اولاد کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔۔۔ انہیں ابھی سے اس وجود سے پرخاش ہے جو ابھی دنیا میں آیا ہی نہیں۔۔۔
ابھی۔۔ ابھی میرے شوہر کو دنیا سے گئے وقت ہی کتنا ہوا ہے بابا کے یہ دونوں مجھے بوجھ سمجھتے میری دوسری شادی کے خواب سجانے لگے ہیں۔۔ وہ باپ سے شکوے کرتی سسک رہی تھی۔۔۔ دل کا درد حد سے بڑھنے لگا تھا۔۔۔
بابا نے لب سختی سے بھینچتے سنجیدگی سے ان دونوں کو دیکھا ۔۔۔
بس میرا بیٹا ۔۔ مت ہلکان کرو خود کو یوں رو رو کر۔۔۔ ابھی باپ زندہ ہے تمہارا۔۔۔ کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ تم جو کہو گی جیسے کہو گئ۔۔ ویسے ہی ہوگا۔۔۔
میں صبح ہی وکیل صاحب سے بات کر کے تمہارا حصہ آفیشلی تمہارے نام کرواتا ہوں۔۔۔
بس تم ریلیکس رہو۔۔۔ بابا کی حوصلہ افزا باتوں نے انکی ایک تھپکی نے اسکا سیروں خون بڑھا ڈالا۔۔۔ اسکا تڑپتا بلکتا دل ٹھہرنے لگا۔۔۔
مجھے آپکا آفس بھی جوائن کرنا ہے بابا۔۔۔ مجھے خود مختار ہونا ہے۔۔۔ آپکی سرپرستی میں میں بزنس کے سبھی داو سمجھنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی آنسو صاف کر کے زرا ٹھہرے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
اپنی عدت کے بعد کر لینا جوائن بیٹا۔۔۔ میں خود اپنی بیٹی کو سب سیکھاوں گا۔۔۔ اب خوش۔۔۔ بابا نے ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسکا چہرا تھپتھپایا۔۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے مسکرا کر سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
اظہر صاحب آپکی بیٹی نے اپنا نکاح ابھی تک صیغہ راز رکھا ہوا ہے اسکے بارے میں۔۔۔
ماں جو غصے سے بول رہی تھیں اظہر صاحب کی سخت گھوری پر وہیں خاموش ہو گئیں۔۔۔
یہ کوئی ایسا مسلہ نہیں جسے سر پر سوار کیا جائے۔۔۔
ماہرہ کا نکاح میں نے خود کروایا ہے۔۔ قریبی سبھی رشتہ دار آگاہ ہیں اس بات سے۔۔ رہ گئ بات ارد گرد کے لوگوں کی تو ایک دو دن میں ماہرہ کو لے کر فلیٹ میں شفٹ ہو جاو۔۔۔ ماہرہ اپنی عدت وہیں پوری کر لے لگی۔۔۔ اس بیج جو پوچھے اسے بتا دیا جائے کے ماہرہ نکاح کے بعد اپنے شوہر کے پاس چلی گئ ہے۔۔۔
عدت کے بعد ماہرہ واپس گھر آئے گی تو بتا دیا جائے گا کہ اسکا شوہر نہیں رہا۔۔۔ لوگوں کے منہ خودبخود بند ہو جائیں گے۔۔۔ یہ حفاظتی عمل بھی محض فائز کی بات کا پاس رکھنے اور ماہرہ کی سیکیورٹی کے لئے ہے۔۔ ورنہ مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں۔۔۔
اور تمہیں بھی کسی چیز کی فکر کرنے کی کسی چیز سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ماہرہ۔۔ تمہارا شوہر مرا ہے باپ ابھی زندہ ہے۔۔۔
بابا کے وجود سے اسے بہت حوصلہ ہوا تھا۔۔ اسکے سر پر ابھی باپ کا سایا سلامت تھا۔۔ اسکی پشت ہر ابھی سپورٹ تھی۔۔۔
ابھی وہ اتنی بےبس نہیں ہوئی تھی کہ لوگ اسکی زندگی کی ترجیحات ڈیفائن کرنے لگیں۔۔۔ دل سے ایک بھاری بوجھ سرکنے لگا تھا۔۔
جاو میرا بیٹا آرام کرو۔۔۔ بابا نے اسکا چہرا تھپتھپایا تو وہ سر ہاں میں ہلاتی انکے کمرے سے نکل آئی۔۔۔
******
ماہرہ کے بابا کے کمرے سے نکلتے ہی بابا نے ان دونوں ماں بیٹے کو آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
آپ دونوں کو اندازہ ہے کے وہ اس وقت کس ذہنی اذیت سے گزر رہی ہے۔۔۔
کم عمری میں شوہر مرا ہے اسکا۔۔۔ بھری جوانی میں وہ بیوہ ہوگئ۔۔۔ اتنے بھرے صدمے سے گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ تخلیقی عمل سے گزر رہی ہے۔۔۔ کیا ایسے میں ایسی بے تکی باتیں آپ دونوں کو ذیب دیتی ہیں۔۔۔
مذہب نے شوہر مرنے کے بعد عورت کے لئے عدت کا وقت کیوں مقرر کیا۔۔۔
کیونکہ صدمہ بہت بڑا ہوتا ہے شوہر کے بعد عورت کو سمبھلنے کے لئے مینٹلی سٹیبل ہونے کے لئے اس دکھ سے ابھرنے کے لئے اتنا وقت درکار ہوتا ہے۔۔۔ اور عدت کے اس عرصے کے دوران جب عورت شدید ذہنی اذیت میں ہوتی ہے اسکی دنیا اجڑ چکی ہوتی ہے ایسے میں اس عورت سے دوسری شادی کا ذکر کرنا بھی گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔
ہمارا دین ہی اسکی اجازت نہیں دیتا۔۔۔
ابھی تو اسکا زخم ہی تازہ ہے۔۔۔ اس پر ہاتھ رکھیں گے تو کیسے توقع کریں گے کہ وہاں سے خون نا رسے۔۔۔
کس چیز کی جلدی ہے آپ دونوں کو۔۔۔ بابا ان دونوں سے سخت نالاں تھے۔۔۔ انکی آواز میں شدید رنج و ملال تھا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں بابا۔۔۔ وہ میری بہن ہے۔۔ میں اسکا خیر خواہ ہوں دشمن نہیں۔۔۔ ہم دونوں آپس میں بات کر رہے تھے۔۔ ہم کہاں ابھی اس تک کوئی بات پہنچانا چاہتے تھے۔۔۔یا جانتے تھے کہ وہ یہ سب سن رہی ہے۔۔۔ اسنے تو خود ہی سب سن لیا۔۔۔
مظہر گہری سانس خارج کرتا پست سے انداز میں صفائی دیتا گویا ہوا۔۔۔
اظہر صاحب وہ بیٹی ہے میری۔۔۔ مجھ سے اسکی حالت دیکھی نہیں جاتی۔۔۔ میں چاہتی ہوں اسکا گھر بس جائے۔۔۔ صائمہ بیگم کا لہجہ نم ہو اٹھا تھا انکی آواز گلوگیر تھی۔۔۔
صائمہ بیگم وہ میری بھی بیٹی ہے۔۔۔ مجھے بھی اسکی پرواہ ہے۔۔۔ لیکن یہ صحیح وقت نہیں۔۔ اسے وقت دیں سپیس دیں۔۔ اسکے زخموں کو بھرنے دیں۔۔۔ وقت کو اسکے لئے مرہم بننے دیں۔۔ کچھ وقت گزرے گا تو میں خود اس سے بات کروں گا۔۔
کون باپ ہوگا جو بیٹی کو بے رنگ زندگی گزارتے دیکھنا چاہے گا۔۔۔ میں خود اس بارے میں اس سے بات کروں گا۔۔۔ لیکن ابھی نہیں۔۔۔ نا ہی ابھی آپ لوگ اس سے دوبارہ کوئی فضول بے مقصد بات کریں گے۔۔۔ جو اسکے لئے ذہنی اذیت کا سبب بنے۔۔۔ مجھے میری بیٹی سب سے زیادہ عزیر ہے۔۔۔
یہ اسکا جائز بچہ ہے اور میں کسی صورت آپ لوگوں کو کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ اتنی غلط بات سوچتے ہوئے بھی آپ لوگوں کو سوچنا چاہیے تھا۔۔۔
آپ ایک ماں سے کیا گناہ کروانا چاہتی ہیں۔۔۔ وہ میری ماہرہ اور فائز کا بچہ ہے۔۔۔ آپ لوگوں کو لگتا ہے میں آپکو یہ گناہ کرنے دوں گا۔۔۔ دوبارہ میں آپ لوگوں کی وجہ سے ماہرہ کی آنکھ نم نا دیکھوں۔۔۔ بابا کے سختی سے تنبہہ کرنے پر وہ دونوں خاموشی اختیار کر گئے۔۔۔ کے بحرحال ماہرہ انہیں بھی عزیز تھی۔۔۔ وہ اس کی بھلائی چاہتے تھے۔۔۔ نا کے اسے مزید ذہنی ٹارچر کرنا چاہتے تھے۔۔۔
زاوی آ رہا ہے ماں۔۔۔ اسے کیا کہنا ہے پھر۔۔۔
باپ کے کمرے سے نکلنے پر مظہر پریشانی سے ماں سے گویا یوا۔۔۔
وہ کیسے آ رہا ہے تم نے تو کہا تھا کہ وہ ہمارے اشارے کا منتظر ہے۔۔ ماں متفکر ہوئیں۔۔
وہ ماہرہ کے بارے میں بات کر رہا تھا ماں میری طرف سے پازیٹو رسپانس پر ہی وہ آنے کے لئے تیار ہوا ہے۔۔۔
مظہر نے پریشانی سے ماتھا مسلہ۔۔۔
چلو کوئی بات نہیں ۔۔۔ آ رہا یے تو آ لینے دو۔۔۔ اسکی خالہ کا گھر ہے۔۔۔ وہ بلا کسی جواز کے بھی آ سکتا ہے۔۔ اور ہو سکتا ہے یونہی دونوں میں انڈرسٹینڈنگ ڈویلپ ہو جائے۔۔۔ ماں کے پرسوچ انداز میں کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
*****

No comments