Header Ads

Roshan Sitara novel 67th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  67th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

67 episode
چھوڑ دو اس معصوم لڑکی کو وہ کچھ نہیں جانتی فائز علوی کے بارے میں۔۔
دیکھی ہے میں نے ماہرہ اظہر کی تصویر ۔۔ وہ بے ضرر لڑکی ہے۔۔۔ محض تمہاری اس پر رال ٹپک پڑی ہے اور میرے باپ کے مشن کا نام دے کر تم اس سے اپنی حوس پوری کرنا چاہتے ہو جیسے اب تک کرتے آئے ہو۔۔ 
شائنہ کے غصے سے عاجزانہ اور اکتائے انداز میں طنزیہ کہنے پر وہ دانت پیس گیا۔۔۔
تمہیں نہیں لگتا تم کچھ زیادہ ہی بکواس کر رہی ہو۔۔۔ غصے سے کہتا وہ آنکھیں چندہی کئے دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ وہ تنک کر گویا ہوئی۔۔۔
Let me tell you...
 کے تمہارا مشن کس بیس پر ہے اور تم کیا کرنے والے ہو۔۔ غصے سے بولتے شائنہ کی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔
تم یہاں سے جاو گے۔۔۔ اس لڑکی کے آگے پیچھے پھرو گے۔۔۔ اسے امپریس کرو گئے۔۔۔ اس پر اپنے سبھی جذبات پیار محبت اینڈ وھاٹ ایور۔۔۔ سب لٹاو گئے۔۔۔ شائنہ کے لہجے میں گویا انگارے بھرے تھے۔۔۔
وہ لڑکی پٹ گئ تو ٹھیک اسکی رضا مندی سے نہیں پٹی تو اپنے گھٹیا اہداف پورے کرنے کو اس سے زبردستی تعلق بناو گئے۔۔۔
شائنہ کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں۔۔۔ اپنی آخری حد تک بڑے ڈھرلے سے کراس کر جاو گے۔۔۔ اسکے بعد اس ویڈیو کے ذریعے سے تم اس لڑکی کو بلیک میل کر کے اپنی ضروری معلومات نکلواو گئے۔۔  جیسے آج تک تم کرتے آئے ہو۔۔۔ کسی کے باپ کو اور کسی کے بھائی کو بلیک میل کرنے کے لئے۔۔
وہ زخمی شیرنی بنی کھولتے ہوئے اسی کے سامنے اس کی اصلیت کھول رہی تھی۔۔
ہر جگہ حوس تم اپنی پوری کرتے ہو نام میرے باپ کے مشن کا لگا دیتے تو۔۔۔ اور تم تصور کرتے ہو۔۔۔ میں ۔۔۔۔شائنہ نے تن کر انگلی اپنی جانب کی۔۔ میں شائنہ دلاور خان۔۔۔ تم جیسے مرد کو اپنی زندگی میں اپنے ہمسفر کا مقام دوں لگی۔۔۔
اسکا انداز سوالیہ اور چبھتا ہوا تھا۔۔۔
میر اسکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا سکون سے اسے اپنی کھولن نکالتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں نے آج تک جو بھی کیا چچا جان کے لئے انکے کہنے پر کیا۔۔۔ اسکے پاس اپنے ہر عمل کی جسٹیفکیشن تھی۔۔۔
شائنہ طنزیہ مسکرائی۔۔۔
میرے باپ نے تمہیں کبھی بھی اپنے اہداف پورے کرنے کو گھٹیا پن پر اترتے اپنی آخری حد کراس کرنے کو نہیں کہا۔۔۔ 
چچا جان کو اپنے اہداف مکمل چاہیے اور میں انکا حکم بجا لاتا ہوں۔۔ چاہیے جیسے بھی سہی۔۔۔یہ میرے کام کرنے کا طریقہ ہے۔۔ وہ شاید ڈھیت ابن ڈھیت تھا جسکے چہرے پر اپنے کئے کی پشیمانی تک نا ابھری تھی۔۔
ٹھیک۔۔۔ یہ تمہارے کام کا طریقہ ہے۔۔ وہ سمجھ کر سر ہلا گئ۔۔۔
لیکن یہاں تو میں تمہیں پہلے ہی بتا رہی ہوں۔۔ کہ معاملہ کام کا نہیں کیونکہ یہ بات مجھ سمیت تم بھی باخوبی جانتے ہو کے ماہرہ اظہر کچھ نہیں جانتی۔۔۔ آخر کو تم بھی نگر نگر پھرے ہو۔۔۔انسان کی پہچان تو ہے نا تمہیں۔۔۔ اگر وہ کچھ جانتی ہوتی تو بابا کے بھیجے نمائندوں کے اتنا پریشرائز کرنے پر سب سچ اگل دیتی۔۔۔
حقیقت یہ ہی ہے کے وہ کچھ نہیں جانتی تم محض اس بات کو چیونگم کی طرح کھینچ کر لٹکانا چاہتے ہو۔۔۔ کیونکہ۔۔۔۔وہ سانس لینے کو رکی۔۔۔۔ اس بات کی آڑ میں تم نے اپنا گھٹیا ہدف پورا کرنا ہے۔۔۔ کیونکہ تمہاری ماہرہ کے معصوم حسن پر نیت خراب ہو چکی ہے۔۔۔
تم اس لڑکی سے کوئی معلومات حاصل نہیں کرنا چاہتے تم محض اسے برباد کرنا چاہتے ہو۔۔۔
وہ پرتپش نگاہوں سے اسے دیکھتی بلا خوف خطر  ہر بات اسکے سامنے کھول کر رکھ رہی تھی۔۔
اسکی اتنی لمبی بات سننے کے بعد وہ مسکرا دیا۔۔۔ جیسے بڑا چھوٹے کی بات سن کر مسکراتا ہے۔۔
وہ لڑکی اتنی سیدھی نہیں جتنا پوز کر رہی ہے۔۔۔ یقیناً اس کے قریب جا کر مجھے بہت سی معلومات حاصل ہونے والی ہیں۔۔ وہ مسکراتا ہوا قدم قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
اور بالفرض اگر معلومات نا بھی ملیں تو بھی میں نے سنا ہے۔۔۔ وہ چلتا چلتا اس سے دو قدم کے فاصلے پر آ رکا۔۔۔
کہ مشرقی حسن بڑا لاجواب ہوتا ہے۔۔۔ وہ اسکے کان کے پاس جھکتا سرگوشانہ گویا ہوا۔۔۔  اور اسے خراج تحسین پیش کر کے فیلنگز۔۔۔۔
آہا۔۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کرتا چہرا اسکے کان کے پاس سے پیچھے لایا یوں کے اسکے ہونٹ شائنہ کی کان کی لو سے مس ہوئے۔۔۔ شائنہ نے کھول کر مٹھیاں بھینچتے خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
ناقابل بیاں ہوتی ہیں۔۔۔ وہ بند آنکھوں سے سینے پر ہاتھ رکھتا ٹھنڈی آہ بھر کر گویا ہوا۔۔۔
لیکن خیر۔۔۔ وہ آنکھیں کھول کر سیدھا ہوا۔۔۔ تھوڑا وقت اور لے لو شائنہ خان۔۔ کیونکہ اس مشن کے مکمل ہوتے ہی تم میرے نکاح میں آنے والی ہو۔۔۔ وہ اب سنجیدہ تھا اور سنجیدگی سے اسے دیکھتا بول رہا تھا۔۔
ہنہہ۔۔۔ میری جوتی نا آئے تمہارے نکاح میں۔۔۔ اور تم بات کر رہے ہو میری۔۔۔ وہ نخوت سے کہتی ہاتھ سینے پر باندھ گئ۔۔۔۔۔
لٹس سی۔۔ رضا مندی سے نکاح میں آو گی تو بہت بہتر۔۔۔ ورنہ مجھے اپنے پراجیکٹس کی طرح بے بس کر کے بلیک میلنگ سے بھی کام نکلوانا آتا ہے۔۔۔ میر کے چہرے پر دل جلاتی مسکراہٹ ابھری۔۔۔ اپنے گھٹیا اہداف سے اسے روشناس کرواتا وہ شائنہ کے تن بدن میں آگ ہی لگا گیا۔۔۔
یو۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ زخمی شیرنی بنی اس پر جھپٹتی وہ آفس سے ہی نکل گیا۔۔۔ جبکہ شائنہ تلملا کر رہ گئ ۔۔ اس گھٹیا شخص سے وہ کسی بھی قسم کے گھٹیا پن کی توقع کر سکتی تھی۔۔۔۔
*****
ماہرہ اپنے کمرے میں بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ سر کراوں سے ٹکا تھا جبکہ نگاہیں کسی غیر مری نقطے پر جمی تھیں۔۔۔ 
ہونٹوں پر بہت دلفریب مسکراہٹ تھی جیسے بہت خوبصورت منظر نگاہوں کے سامنے چل رہا ہو۔۔۔
یاررر۔۔۔ شوہر سے کون اتنی لمبی ناراضگی رکھتا ہے۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھاتے ماہرہ کا لیپ ٹاپ کی کیز پر متحرک  دودھیا ہاتھ تھاما۔۔۔۔  
تمہیں میری ناراضگی کی پرواہ ہے فائز علوی۔۔۔ وہ جیسے ہارنے لگی تھی۔۔۔ ۔ 
اگر تمہاری ناراضگی کی پرواہ نا ہوتی تو اس وقت یہاں تمہارے پاس بیٹھا کیا کر رہا ہوتا۔۔  وہ اسے نرم نگاہوں سے تکتا مسلسل اسکا ہاتھ سہلا رہا تھا۔۔۔تمہاری ناراضگی تو بہت خطرناک ہے یار۔۔۔ اپنے ہوش تک بھلا دیتی ہے۔۔۔ اور کھانے پینے کا تو ہوش رہتا ہی نہیں۔۔۔ وہ ہاتھ کی گول مٹھی بنائے گال تلے رکھتا اسے شوخ نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
یکدم ہی وہ منظر ہوا میں تحلیل ہو گیا۔۔۔ ماہرہ نے چونک کر ہوش میں آتے اس خالی خالی کمرے کو دیکھا۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں تھی۔۔۔ گہرا سانس خارج کرتی وہ سر تھام گئ۔۔۔
مام درست کہہ رہی تھیں شاید۔۔۔ وہ شزوفزیا کا شکار ہو رہی تھی۔۔۔
ہر وقت فائز کو سوچنا۔۔۔ اسکے سنگ گزارے خوبصورت وقت میں کھوئے رہنا۔۔۔ اسے اپنے آس پاس تصور کرنا۔۔۔ وہ اب خود ہی اپنی کیفیت سے گھبرانے لگی تھی۔۔۔
چند روز پہلے تک سب ٹھیک تھا۔۔ اسے اس سب میں کوئی قباحت محسوس نا ہوتی تھی۔۔۔ فائز کے سنگ ایک تصوراتی دنیا میں رہنا اگر اسکے لئے خوشی کا باعث تھا تو وہ اس میں بھی خوش تھی۔۔۔
لیکن اصل مسلہ تو اسے اپنی رپورٹس کا پتہ چلنے کے بعد سے شروع ہوا تھا۔۔۔
جب سے اسے اپنی پریگنینسی کا پتہ چلا تھا وہ اس ننھی سی جان کے لئے بہت حساس ہوگئ تھی جو اسکے اندر نمو پا رہی تھیں۔۔۔
وہی ماہرہ جو فائز کے جانے کے بعد کھانے پینے سونے جاگنے ہر چیز کا ہوش بھلائے ایک زندہ لاش بن گئ تھی۔۔۔
اس بچے کی آمد کی خبر نے گویا اسکے تن مردہ میں جان پھونک دی تھی۔۔۔
وہ اپنا بہت خیال رکھنے لگی تھی۔۔۔ سونے جاگنے کے معمولات وقت پر لے آئی تھی۔۔۔ اپنی ڈائٹ کا بہت خیال رکھتی۔۔۔ وہ اس حالت میں خود کو بہت سست سست محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اس لئے اپنے پراپر چیک آپ کے بعد وہ وقت پر اپنی دوائیاں لے رہی تھی۔۔۔ اسے بار بار بھوک محسوس ہوتی اور بھوک محسوس ہوتی تو بھوک محسوس ہوتے ہی وہ کچن کا رخ کر لیتی۔۔۔ اپنے لئے نا سہی تو اپنے اندر پلتی ننھی سی جان کے لئے ہی سہی۔۔۔
یہ بچہ اسے عزیز تھا اور دل و جان سے عزیز تھا۔۔۔ یہ اسکے اور فائز کی قربت کے حسین لمحات کی نشانی تھی۔۔۔۔
وہ بے صبری سے اس بچے کے اس دنیا میں آنے کی منتظر تھی۔۔۔ وہ ابھی سے اسکا لمس محسوس کرنے اسے گود میں اٹھانے کے لئے بے چین تھی۔۔۔ اس بچے کا تصور ہی اسکے ہونٹوں پر پھول کھلا دیتا۔۔۔
اسکا اور فائز کا بچہ۔۔۔ وہ پہروں اسی کے بارے میں سوچتی رہتی۔۔۔
ایسے میں وہ زیادہ سے زیادہ نارمل رہنے کی کوشیش کرتی۔۔۔ یہ منٹ منٹ بعد فائز کی یادوں میں کھو کر اپنی ذات تک کو فراموش کر دینا اب اسے ڈرا رہا تھا۔۔ کہیں اسکا اثر اس ننھی جان پر نا پڑے جس کے لئے وہ حد سے زیادہ حساس تھی۔۔۔
وہ زیادہ سے زیادہ حاضر دماغ رہنے کی کوشیش کرتی۔۔۔۔اب بھی اسے بے وقت بھوک ستانے لگی تو وہ جھٹ سے بستر سے پاوں اتارتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے بےبی۔۔۔ تمہارا باپ ہوتا نا تو اسے تمہاری آمد کی کتنی خوشی ہوتی۔۔۔ جوتا پہنتی وہ مسکرائی۔۔۔ آنکھین سرعت سے نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔
ہاتھ کا چھالہ بنا کر رکھتا وہ تمہیں بھی اور تمہاری ماں کو بھی۔۔۔ اسنے انگلی کی پور سے آنکھ کا نم کونا صاف کیا۔۔۔
اسے رونا نہیں تھا۔۔۔ اسے مضبوط بننا تھا۔۔۔ اسنے خود کو تھپکی دی۔۔
اب تم یہ مت سمجھنا وہ نہیں ہے تو تمہاری ماں تمہارا خیال نہیں رکھ سکتی۔۔۔ میں خود سے بھی بڑھ کر تمہارا خیال رکھوں گی۔۔۔ وہ خود کلامی کرتی یوں باتیں کرتی کچن کی جانب جا رہی تھی جیسے واقعی وہ نومولود اسکی باتیں سنتا اور سمجھتا  ہو۔۔۔
وہ شکر گزار تھی اپنے رب کی جس نے اگر اس سے فائز علوی چھینا تھا تو اسے زندہ رہنے کی وجہ بھی فراہم کر دی تھی۔۔۔ ورنہ اسکے لئے تو فائز کے جانے کے بعد  زندگی کا مقصد ہی ختم ہو گیا تھا۔۔۔
دفعتاً مظہر کے کمرے کے پاس سے گزرتے اسکے کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے اسکی اور ماں کی آوازیں سن کر وہ ٹھٹھکی۔۔۔
مظہر کافی تلخی سے بات کر رہا تھا۔۔۔ اسکا ماتھا ٹھنکا۔۔۔ وہ کچن میں جانے کا اراداہ کینسل کرتی اسکے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ دروازے پر دباو ڈال کر دروازہ وا کرتی اندر سے ابھرتی نشتروں کی مانند لگتیں آوازوں نے اسکے قدم جھکڑ لئے۔۔۔
مام پلیز۔۔۔ ماہرہ حماقت کر رہی ہے۔۔۔ آپ اسے سمجھائیں۔۔ اسے اس حماقت سے روکیں۔۔۔
اسکی فائز سے شادی سے پہلے بھی خالہ اسکی طلبگار تھیں اب بھی ہیں۔۔۔ زاویار ہمارے ایک اشارے کا منتظر ہے وہ امریکہ سے آ جائے گا۔۔۔
پلیز آپ اسے سمجھائیں۔۔۔ اس بچے کا کوئی مستقبل نہیں۔۔۔
ماہرہ کا مستقبل اب بھی روشن ہے۔۔۔ وہ زاویار سے شادی کے بعد امریکہ شفٹ ہو جائے گی تو رفتہ رفتہ فائز کے ٹراما سے بھی نکل آئے گئ۔۔۔ اسے بھول جائے گی۔۔۔
اندر سے ابھرتی آوازیں  سن کر بے ساختہ ماہرہ نے لڑکھڑا کر گرتے سہارے کو دیوار تھامی۔۔۔
یہ اسکا بھائی اور ماں کیا پلانینگ کر رہے تھے بھلا۔۔۔ اسکے دل کی دنیا تہہ و بالا ہونے لگی۔۔۔
یہ بچہ ماہرہ کے اپنی نئ زندگی کی شروعات کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ بنا رہے گا۔۔۔
اور کیسا مسقبل ہو گا اس بچے کا بلکل اپنے باپ کی طرح۔۔۔ 
اسکی آواز میں تلخی تھی۔۔۔ پہلے اسکا باپ پوری زندگی اپنے ماموں کے در پر پلٹا رہا پھر اسکا بچہ۔۔۔
ماہرہ کا دل دہل گیا۔۔۔ اسے لگا گویا مظہر اسکے ساتھ بم لگا کر اسکے پرخچے اڑا دیئے ہوں۔۔۔
بکواس بند کرو تم اپنی مظہر۔۔۔
وہ غم و غصے سے پاگل ہوتی ایک جھٹکے  سے دروازہ کھولتی ڈھارتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔
اس اچانک افتاد پر مظہر اور ماں چونک کر اسکی جانب پلٹے۔۔۔ وہ تو آپس میں بات کر رہے تھے۔۔۔ کہاں سوچا تھا انہوں نے ماہرہ کا ایسا ردعمل۔۔۔
ابھی تو یہ سب باتیں انہیں ماہرہ سے کوئی مناسب موقع دیکھ کر کرنی تھیں کجا کے یوں۔۔۔
کس نے حق دیا تمہیں میرے بچے کے بارے میں یہ سب بولنے کا۔۔
کیا سوچ کر تم نے یہ بکواس کی۔۔۔ میرا بچہ تمہارے در پر پلے گا۔۔۔۔تمہارے در پر۔۔۔۔ 
صورت دیکھی ہے تم نے اپنی۔۔۔ تم مستقبل میں اپنی اولاد پال لو تو بڑی بات ہوگئ اور تم بات کرتے ہو۔۔۔ غم و غصے سے اسکی آواز پھٹنے لگی تھی۔۔  غصہ دماغ پر چڑھ رہا تھا۔۔ وہ ہانپنے لگی تھی۔۔۔
ماہرہ میری جان۔۔۔ ماں اسکی بگڑتی حالت دیکھ سرعت سے اسکی جانب بڑھیں۔۔ ابھی تو اسکی طبیعت سمبھلنے لگی تھی وہ اسے اس کنڈیشن میں مزید پریشانی نہیں دے سکتیں تھیں۔۔
دور رہیں آپ بھی مجھ سے۔۔۔۔۔ وہ ماں کا ہاتھ جھٹکتی ان سے کئ قدم دور گئی۔۔۔
فائز علوی اپنے ماموں کے در پر اس پر پلا کیونکہ اسکے ماموں کو اللہ نے توفیق دی تھی۔۔۔ وہ ایک نرم دل اور شفیق انسان ہیں۔۔ خود کو میرے باپ سے مت ملاو تم انکے پاوں کی خاک برابر نہیں۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔۔۔
انہوں نے فائز علوی کو یتیم بچہ نہیں اپنا بیٹا بنا کر پالا ۔۔ اور اسنے بھی بیٹا ہونے کا حق ادا کیا۔۔۔
مظہر نے بے ساختہ اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔ وہ یہ سب نہیں چاہتا تھا۔۔۔
اور میرا بچہ کیوں تمہارے در پر پلے گا۔۔۔ باپ مرا ہے اسکا ماں ابھی زندہ ہے۔۔۔
اور تم آئے بڑے اتنے فضول الفاظ بولنے والے۔۔۔ کہتے ہیں بھائی شادی کے بعد بدل جاتے ہیں۔۔ تم تو آج ہی میرے سگے نہیں۔۔۔ بھائی تمہارے جیسے نہیں ہوتے مظہر۔۔۔
انف۔۔۔ ماہرہ۔۔۔ انف از انف۔۔۔ تمہارا دشمن نہیں ہوں۔۔۔ بہن ہو تم میری۔۔ ابھی صدمے میں ہو۔۔۔ لیکن ٹھنڈے دماغ سے میری باتوں کو سوچ کر دیکھو۔۔
وہ گہرا سانس لے کر ہاتھ اٹھاتا ٹھہر ٹھہر کر گویا یوا۔۔۔
ہمم۔۔۔ وہ خطرناک عزائم لئے سر ہاں میں ہلا رہی تھی۔۔۔
دیکھو ماہرہ۔۔
مجھے تم سے ایک رتی برابر بھلائی کی امید نہیں ہے مظہر۔۔۔
ماہرہ بیٹا۔۔۔
آپ مام۔۔۔۔ اور یہ۔۔۔ اسنے ماں کی بات ٹوکتے انکی جانب اشارہ کیا اور پھر ہاتھ کی مٹھی ماتھے پر مارتے بے بس کھڑے مظہر کی طرف۔۔
آپ دونوں نے ہمیشہ فائز سے نفرت کی۔۔۔ اسکی آواز میں دکھ تھا۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔ بے حد و حساب نفرت کی۔۔۔
ایسی نفرت جسکا کوئی حساب نہیں۔۔ اور اب۔۔۔
وہ ہانپنے لگی۔۔۔ وہی نفرت آپ دونوں اسکی اولاد سے کر رہے ہیں۔۔۔
اسکے گلے میں آنسووں کا گولہ اٹکا۔۔۔
اس معصوم وجود سے جو اس دنیا میں آیا تک نہیں۔۔۔
یہ تک بھلائے کے وہ آپکی بیٹی۔۔۔ ماہرہ نے ماں کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ کا بھی خون ہے۔۔۔ اسکے دل کی ڈھرکن ہے۔۔۔
اور آپ کو لگتا ہے کہ اس معصوم وجود کو میں آپ دونوں۔۔۔۔ اسنے تلخی سے ان دونوں کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ کی نفرت کا شکار ہونے دوں لگی۔۔۔
فائز سے نفرت نہیں تھی ماہرہ۔۔۔ صرف ایک چڑ تھی۔۔۔ جو تمہارے ساتھ اسکا رشتہ جڑنے کے بعد وہ بھی جاتی رہی۔۔۔ مظہر نے لبوں پر زبان پھیرتے صفائی دینی چاہی۔۔۔ وہ بپھر بھی تو اتنا چکی تھی کے اسے سمبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔
اپنی ہر جسٹیفکیشن اپنے پاس رکھو مظہر۔۔۔ جو میری اولاد کا خیر خواہ نہین وہ میرا خیر خواہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ کلیجہ نوچ کر آپ لوگ اگر کسی کو خوش رہنے کی دعا دیں تو آپ سے ظالم تو کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔
آپ دونوں ہی میرے خیر خواہ نہیں۔۔ وہ آنکھیں رگڑ کر صاف کرتی خطرناک عزائم لئے واپس پلٹی۔۔۔
لیکن ماہرہ اظہر کمزور نہیں۔۔۔ فیصلہ ہو گا۔۔۔ اور آج ہی ہوگا۔۔۔
آڑ یا پاڑ۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتی تیزی سے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
ماں اور مظہر ایک دوسرے کو پریشانی و ناسمجھی سے دیکھتے اسکے ہیشھے ہی لپکے کیونکہ اسکے انداز نارمل نا تھے۔۔۔
میں اگر اپنے معصوم بچے کی حفاظت نا کر سکی۔۔۔ اسکی ڈھال نا بن سکی۔۔۔ اسکے پیدا ہونے سے پہلے ہی میں نے اسے قابل رحم اور قابل ترس بنا دیا تو پھر لعنت ہے میرے ماں بننے پر یا ماں کہلانے پر۔۔
ماہرہ رکو کہاں جا رہی ہو۔۔۔
وہ تیزی سے چلتی جاتی غصے سے بول رہی تھی۔۔۔ اسکا رویہ مام اور مظہر دونوں کے لئے نافہم تھا۔۔ ناجانے وہ کیا کرنے والی تھی تبھی وہ دونوں اسکے پیچھے لپکے تھے۔۔۔ کیونکہ یہ طے تھا وہ جو بھی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی وہ کوئی انتہائی فیصلہ تھا۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4