Header Ads

Roshan Sitara novel 66th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  66th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

66th epi...
گاڑی روڈ پر فڑاتے بھرتی جا رہی تھی۔۔۔۔ وہاج خانزادہ کی سنجیدہ سرد نگاہیں سامنے ونڈ سکرین پر جمیں تھیں۔۔۔ اور جبرے سختی سے بھینچے تھے۔۔۔ جبکہ علایہ حیران پریشان سی ایک ہاتھ سے ڈیش بورڈ تھامے دوسرے سے سیٹ کی پشت کو تھامے ترچھی بیٹھی خوف سے پھٹتی نگاہوں سے وہاج خانزادہ کو دیکھ رہی تھی۔۔خوف کی شدت سے ہر لمحہ اسکی رنگت پھیکی پڑتی جا رہی تھی۔۔۔
وہاج پلیز۔۔۔ خدا کے لئے آہستہ چلائیں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
وہ تھوک نگلتی مسلسل ہچکولے کھاتی گاڑی میں اپنا توازن برقرار رکھنے کو دونوں ہاتھ مضبوطی سے جمائے کپکپاتی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ 
ہر گزرتے لمحے کیساتھ چہرے پر ہراس پھیلنے کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں خوف بھی بڑھِ رہا تھا۔۔۔ کیونکہ مقابل شاید  اسکی بات  سننے کو تیار ہی نا تھا
تو کیا اب وہ یوں اس سے بدلہ لے گا۔۔۔ گردن میں ایک گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔۔اسنے ایک گھبرائی نگاہ باہر سڑک پر ڈالنے کے بعد پھر سے اس ستم گر کو دیکھا جو ہر چیز سے بے نیاز گاڑی کو ہوائی جہاز بنائے ہواوں میں  اڑا رہا تھا۔۔۔
باہر دیکھتے اب اسے چکر آنے لگے تھے۔۔۔ ہر چیز گول گول چکرانے لگی تھی۔۔۔
پلیز وہاج مجھے ڈر۔۔۔
اوہ ۔۔۔ تو تمہیں ڈر بھی لگتا ہے مسز۔۔۔ وہ گیئر لگاتا مزید سپید بڑھا گیا۔۔۔
آہہہہ۔۔۔ علایہ کے چیخیں نکل گئیں۔۔۔ دل الگ دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
وہ بامشکل سیٹ پر بیٹھی تھی۔۔۔ کسی بھی وقت لڑھک سکتی تھی۔۔۔ ڈیش بورڈ اور سیٹ کی پشت کو سختی سے تھامے ہاتھ سرخی چھکانے لگے تھے۔۔۔
پلیز وہاج۔۔۔ سپیڈ سلو کردیں۔۔۔ ورنہ۔۔۔ وہ خوف سے دھک دھک کرتے دل کیساتھ اسے دھمکی دے رہی تھی جب وہ بے ساختہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
ورنہ کیا۔۔۔ ہاں۔۔۔ اسنے ایک زور دار موڑ کاٹا۔۔۔
آہہ۔۔۔ علایہ کا سر زور سے دروازے کے شیشے سے ٹکرایا۔۔ اسنے بھرائی نگاہوں سے وہاج کو دیکھا۔۔
و
اوہ سوری۔۔۔ لیکن ٹرسٹ می۔۔۔ اتنی سی چوٹ سے تمہارا سر پھٹے کا ہرگز نہیں۔۔ وہ تاسف زدہ سا گویا ہوا۔۔۔ علایہ کو اسکا لہجہ مذاق اڑاتا محسوس ہوا۔۔۔
بے ساختہ اسکی آنکھیں چھلک اٹھیں۔۔
ارد گرد راستہ دیکھ کر اندر کہیں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔۔۔۔
یہ آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں۔۔ یہ راستہ میرے کالج کو نہیں جاتا۔۔۔ خوف سے باہر دیکھتے اسکی آواز کپکپا گئ۔۔۔ سر بار بار دروازے سے ٹکرا رہا تھا مگر اب وہ زرا الرٹ بیٹھی تھی۔۔۔
تمہیں کالج یونیفارم میں اغوا کر کے لے جا رہا ہوں۔۔ اینڈ ٹرسٹ می۔۔۔ کسی کو میرے اس فعل پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہو گا۔۔ محویت سے گاڑی چلاتے اسنے ایک اچٹتی نگاہ علایہ پر ڈالی۔۔۔
علایہ مزید شدت سے رو دی۔۔۔ آپ کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ ایسا۔۔۔ 
کوئی محفوظ جگہ دیکھ کر تمہاری زبان کاٹ کر پھینکنی یے ۔۔ قسم سے چلتی بہت ہے۔۔۔ اینڈ ٹرسٹ می۔۔۔ مجھے زیادہ بولنے والی لڑکیوں سے بھی کوئی مسلہ نہیں۔۔۔ بس فضول ۔۔ بے تکا۔۔۔ غلط ۔۔  اور جھوٹے الزام لگانے والوں سے مسلہ ہے۔۔۔ وہ بڑی خوبصورتی سے اسے اس چیز کا طعنہ دے گیا تھا جسکے لئے وہ خود کو دن میں کئ کئ دفعہ کوستی تھی۔۔۔
علایہ کا دل شرمندگی کی اٹھاہ گہرائیوں میں ڈوبنے لگا۔۔۔
ارد گرد کوئی ویران سی جگہ تھی جو آج سے پہلے اسنے تو کبھی نہیں دیکھتی تھی۔۔ دل مزید خوف سے اچھلا۔۔۔ گاڑی اب بھی اسی سپیڈ سے چل رہی تھی لیکن اب انجان جگہ کا خوف ہر احساس پر بھاڑی پڑنے لگا تھا۔۔۔
کیا وہ سچ میں اسکی زبان۔۔۔ نہیں نہیں نہیں۔۔۔ وہ اتنا سفاک بھلا کیسے ہو سکتا تھا۔۔
_________
ناول میں آگے بڑھنے سے پہلے میں آپکے تیس سیکنڈز لینا چاہوں گی۔۔۔
حاصل زیست میری نئ ای بک۔۔۔ جو ایک نئے موضوع پر دل سے لکھی جانی والی شاندار تحریر ہے۔۔ جو تحریر ہے ایک دولت کے نشے میں چور ایک رئیس زادی کی جو دولت کے بل پر ایک مڈل کلاس لڑکی کی تقدیر لکھنے نکلتی ہے۔۔۔ اور یہ تحریر ہے ایک بے بس لڑکی کی جو اپنی زندگی میں سب کچھ ہار کر ٹوٹ کر بکھر کر حالات کے آگے ہار نا مانتے پھر سے اٹھ کھڑی ہونے کی جستجو کرتی ہے۔۔۔ کہانی ہے اللہ پر توکل کے بعد خود پر بھروسہ کرنے کی۔۔۔ کہانی ہے زندگی کی تلخیوں سے خوشیاں کشید کرنے کی جی توڑ کوشیشوں کی۔۔۔ایک ایسی لازوال داستان جسے پڑھ کر آپ اسکے کرداروں میں جھکڑے جائیں گے۔۔۔
اسکی پری بکنگ اس وقت جاری ہے۔۔۔ نہایت مناسب قیمت پر۔۔۔ تو
کیا آپ نے اسکی بکنگ کروا لی۔۔۔ 
اگر نہین کروائی تو دیر کس بات کی ابھی فون اٹھائیں اور اپنی بکنگ کروائین
e.book prise : Rs 200
Pre Booking prise : Rs 120
invest Rs 120 at your self and you will never regret for it... 
Contact Number : what's app number
03156490853
_______
آپ کو مجھ سے اتنی نفرت تھی تو مجھ سے شادی  کیوں کی۔۔۔
وہ خوف سے بند ہوتے دل سے گھبرا کر چٹخ اٹھی۔۔
 وہاج خانزادہ نے روز سے بریک لگاتے گاڑی روکی۔۔۔۔۔ گاڑی جھٹکا کھا کر رکی۔۔۔ یوں کے علایہ اپنی سبھی اختیاطی تدابیر کے باوجود وہاج خانزادہ پر لڑھک لگی۔۔۔
اسنے شدت سے وہاج کی شرٹ کو دبوچتے خود کو سہارا دیا۔۔۔
اس اچانک افتاد پر اسکا دل کانوں میں ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔
اسنے ڈرتے ڈرے جھکا سر اٹھایا جب
وہاج نے اسے شانوں سے تھامتے سیدھا کیا۔۔۔ اسکا خوفزدہ چہرا وہاج کے سنجیدہ چہرے سے انچ بھر کے فاصلے پر تھا۔۔۔ وہاج نے سنجیدہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ اسکی شال سر سے پھسلتی شانے پر آ گئ تھی۔۔۔ ٹیل پونی آگے جھول رہی تھی جبکہ بینگز ماتھے پر بے ترتیبی سے بکھرے تھے۔۔۔
چہرے پر خوف اور ہراس تھا جبکہ وہ سہمی ہوئی سانس بھی رک رک کر لے رہی تھی۔۔
وہاج خانزادہ دلکشی سے مسکرا دیا۔۔
ارے۔۔۔  بیوی سے بھی کوئی نفرت کرتا ہے بھلا۔۔۔ وہ اسکا چہرا نرمی سے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا یکسر بدلے ہوئے لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔ علایہ نے حیرت سے گنگ ہوتے اسکے بدلے لہجے کو دیکھا۔۔۔ خوف کی جگہ اب حیرت اور ناسمجھی نے لے لی تھی۔۔۔
بس اگر زبان تھوڑی سی رگیڈ دی جائے تو تم بہت اچھی بیوی ثابت ہو سکتی ہو۔۔۔ وہ ہنوز مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہاج خانزادہ کے سینے کے مقام سے شرٹ جھکڑا اسکا ہاتھ کپکپا گیا تھا۔۔۔ اسے وہاج خانزادہ سے خوف محسوس ہو رہا تھا اوپر سے یہ جان لیوا قربت۔۔ خوف کے باعث وہ سیدھا ہونا تک بھول گئ۔۔۔
آ۔۔۔ آپ۔۔۔ مجھے۔۔ مجھے یہاں کیوں۔۔۔ لائے ہیں۔۔ کپکپاتے لبوں سے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے۔۔۔
وہ اس وقت اسقدر خوفزدہ تھی کے وہاج خانزادہ کو بے ساختہ اس پر پیار آیا۔۔۔ 
کیونکہ تمہیں کالج جانا تھا۔۔۔ تبھی سنجیدگی بھلائے شرارتی نگاہوں سے اسے دیکھتے سیدھا سا جواب آیا۔۔۔
کالج۔۔۔ وہ اسے دیکھتی تھوک نگل کر زیر لب گویا ہوئی۔۔
ہاں کالج۔۔۔  وہ ہسی کا فوارا ضبط کئے سر ہاں میں ہلاتا گویا ہوا۔۔۔
تم گھر سے کالج جانے کے لئے ہی آئی تھی نا۔۔۔ اب علایہ کی کھوئی کھوئی سی حالت اسے قہقہ لگانے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔ کچھ دیر پہلے کا غصہ اور کوفت کہیں اڑنچھو ہو گئ تھی۔۔۔
کالج۔۔۔ اسنے پھر سے کہتے نگاہ اٹھا کر باہر دیکھا جب سامنے پوری شان سے ایستادہ کالج کی عمارت کو دیکھ جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
آہ جنگلی بلی۔۔۔ یہ کیا کیا ہے۔۔۔ ساری شرٹ برباد کر ڈالی۔۔۔ میں نے یہاں سے میٹنگ میں جانا تھا۔۔۔ تم میری زندگی میں محض میرے کام خراب کرنے ہی آئی ہو کیا۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی شرٹ کی جانب دیکھتا چیخ اٹھا جہاں کاٹن کی شرٹ پر سینے کے مقام پر اسکی مٹھی کا نشان سلوٹوں کی صورت چھپ چکا تھا۔۔۔
علایہ نے ایک ہراساں سی نگاہ سے اسے دیکھا۔۔ پھر باہر اپنے کالج کی بلڈنگ کو۔۔۔ تو وہ اسے یہیں لا رہا تھا۔۔۔
دل کی ڈھرکن رفتہ رفتہ اپنے معمول پر آ رہی تھی۔۔ اس سے پہلے کے وہ شرٹ خراب کرنے کے بدلے پر کچھ اور کہتا وہ تیزی سے کار کا دروازہ وا کرتی باہر کو بھاگی۔۔۔
اوے آرام سے۔۔۔ وہ اسے تیزی سے بھآگتے ہوئے سڑک پار کرتا دیکھ اونچی آواز میں گویا ہوا۔۔۔ مگر تب تک وہ بنا پلٹے چھپاک سے کالج میں داخل ہو چکی تھی۔۔۔
وہاج خانزادہ مسکرا کر سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔
اس سفر کی شروعات جس قدر بے زاری سے ہوئی تھی اختتام اتنا بھی برا نا تھا۔۔
اس بے وقتی ذمہ داری نے میٹنگ کے باعث جتنا غصہ دلایا تھا وہ جاتا رہا تھا۔۔۔
اسے اندازا نا تھا ہر وقت شیرنی بنی جھپٹنے کو تیار لڑکی یوں اس سے اتنی بری طرح خوفزدہ بھی ہوسکتی تھی۔۔ جیسے وہ واقعی اسکی زبان کاٹنے جا رہا ہو۔۔۔ وہ علایہ کا خوفزدہ اور بوکھلایا روپ تصور کر کے کھل کر مسکرا دیا۔۔۔۔۔ اسنے تو اسے کالج چھوڑنے کو سب سے شارٹ کٹ راستہ چنا تھا۔۔۔ یہ راستہ ناہموار اور ویران تھا۔۔۔ اسے جلد از جلد میٹنگ میں پہنچنے کی جلدی تھی۔۔ پر علایہ کا ری ایکشن۔۔۔ ایک دفعہ پھر سے اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔۔
پاگل لڑکی۔۔۔ وہ بڑبڑاتا ہوا گاڑی کی سپیڈ مزید بڑھا لے گیا۔۔۔ اسے جلد از جلد میٹنگ میں پہنچنا تھا۔۔
******
کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی علایہ نے وہاج کی نگاہوں سے اوجھل ہونے کا یقین کیا تو اسکی سپیڈ خودبخود سلو ہو گئ۔۔۔
دل ابھی تک کانوں میں ڈھرک رہا تھا جبکہ ٹانگوں میں ارتعاش تھا۔۔۔ وہ لڑکھڑا کر وہیں دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہوئی ایک ہاتھ اسنے زور سے سینے کے مقام پر رکھتے اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو ہموار کرنے کی سعی کی جبکہ دوسرا ہاتھ  انگارا بنے چہرے پر پھیرتے حواس بحال کرنے چاہے۔۔۔
کچھ دیر پہلے کے لمحات یاد آئے تو وہ جھرجھری لے کر رہ گئ۔۔۔ اسے ابھی تک اپنے تپتے گالوں پر وہاج کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ وہ ماتھے پر ہاتھ رکھتی آنکھیں میچ کر گہرا سانس لے کر رہ گئ۔۔۔ کیا تھا یہ سب۔۔۔ 
رفتا رفتا سانس بحال ہونے کیساتھ ساتھ دل کی ڈھرکن بھی معمول پر آ رہی تھی۔۔۔
چیز کیا ہے یہ شخص۔۔۔ یہ شخص تو پوری زندگی مجھے تانے دے دے کر مار دے گا۔۔۔
بس اگر زبان تھوڑی سی رگیڈ دی جائے تو تم بہت اچھی بیوی ثابت ہو سکتی ہو۔۔۔ 
افف۔۔۔ وہ اسکی کے لفظوں کی بازگشت محسوس کر کے سر جھٹک گی ۔۔۔
مانا کے غلطی میری ہے۔۔۔ میں نے اول فول بکواس کی تھی۔۔۔ لیکن پھر بھی۔۔۔ بھلا اتنا ہراس کون کرتا ہے۔۔۔  وہ تھوک نگل کر رہ گئ
ہاں وہ اس سے اپنی فضولیات کے لئے معافی مانگنا چاہتی تھی اس نے غلط کیا تھا وہ مانتی تھی۔۔ مافی مانگ کر سب کلئیر کرنے کو تیار تھی۔۔۔ جھکنے کو تیار تھی کہ ایسا شخص جو آپکی عزت کا سانجھی ہو اس کے لئے جھکا جا سکتا ہے۔۔ لیکن اس شخص نے موقع ہی کب کب تھا۔۔۔ وہ شخص تو شوہر بن کر بہت خطرناک ہو گیا تھا۔۔۔۔
اسے بے ساختہ اسکے لہجے اور نظروں کا سوچ کر جھرجھری آئی۔۔۔
اگر اس میں ایک اچھی بات تھی تو دس دل جلاتیں اور ناک میں دم کرتی حرکتیں بھی تھیں۔۔۔ بے ساختہ علایہ کو خود پر ہی ترس آیا۔۔۔۔بھلا ایسا کون کرتا ہے اہنی معصوم بیوی کے ساتھ۔۔۔
دفعتاً وہ اپنی دوستوں کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ خود کو کمپوز کرتی انکی جانب بڑھی۔۔۔ لیکن دل و دماغ میں ابھی بھی وہاج خانزادہ ہی چھایا تھا۔۔۔
اچھا ہی تھا جو نکاح کے بعد ابھی تک انکا کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔۔
یہ ایک ٹکراو ہی اتنا زور آور تھا کے وہ شخص علایہ کے دل و دماغ پر سوار ہو گیا تھا چاہیے خوف کی صورت ہی سہی۔۔۔
وہ مسلسل اسے ہی سوچتی اپنی دوستوں کی جانب بڑھی۔۔۔
*****
نیلی جینز پر بلیک جیکٹ پہنے بالوں کی ٹیل پونی بنائے  شائنہ چیونگم چباتی باپ کے آفس کی مرمریں راہداری سے گزرتی جا رہی تھی دور سے ہی ہیل کی ٹک ٹک اسکی آمد کا پتہ بتاتی تھی۔۔۔  رہداری سے گزرتے اسکی نظر کیبن کے گلاس ڈور سے اندر کام کرتے وجیہ سے احمر شیخ پر پڑی تو وہ  ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
وہ جینز پر سفید نیک شرٹ پہنے کمپیوٹر کی سکرین پر جھکا ہوا تھا۔۔۔ آنکھوں پر نفیس سا چشمہ تھا وہ ایک خوبرو مرد تھا۔۔۔ اسے دیکھ شائنہ کی آنکھیں چمکیں  وہ مسکرائی اور ہلکا سا دروازہ ناک کر کے دروازہ دھکیلتی نزاکت سے اندر داخل ہوئی۔۔۔۔۔
احمر نے ایک اچیٹتی نگاہ اس پر ڈالی اور واپس سکرین کی جانب متوجہ ہو گیا۔۔۔
ہیے ہنڈسم۔۔۔ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتے اسکے سامنے آکر اسکی ورکنگ ڈیسک کے کنارے پر ٹکی اور سینے پر بازو باندھتی مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
احمر نے ایک نگاہ اسے سر تا پاوں دیکھا اور واپس اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔۔۔
اوہ بے بی ۔۔۔ تم مجھ سے اتنا خفا کیوں رہتے ہو۔۔۔ اسنے مسکرا کر کہتے ہاتھ اسکی گال کھینچنا چاہی۔۔ا۔۔۔
جب احمر نے اسکا ہاتھ جھٹکتے اسے سخت ناگوار نگاہوں سے گھورا۔۔۔
Shaina.... Be in your limits...
 اسکے سنجیدگی سے کہنے کر وہ ہاتھ میز پر ٹکاتی گردن پیچھے پھینکتی ہس دی۔۔۔
وش۔۔۔ وہ ہستے ہستے رکی۔۔
وش تم کبھی مجھے یہ لمٹس کراس کرنے کا کہہ ہی نا دو۔۔ وہ مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھتی آنکھ مار گئ۔۔
احمر نے تاسف سے سر نفی میں ہلایا۔۔
بائے دا وے۔۔۔ ہمارے ہاں لڑکیاں اتنا پوز نہیں کرتیں جتنا تم کرتے ہو۔۔۔
سیریسلی ایک دفعہ کہو۔۔۔ مسکرا کر کہتی یکدم ہی وہ سنجیدہ ہوتی چہرا اسکے قریب کر گئ۔۔۔
ایک دفعہ کہہ دو۔۔۔ ہم آج ہی نکاح کر لیتے ہیں۔۔۔ جس کمپنی میں تم بابا کے انڈر کام کر رہے ہو۔۔۔ وہ کمپنی تمہاری ہو جائے گی۔۔ اور ہم۔۔۔
پلیز کیا تم مجھے کام کرنے دے سکتی ہو شائنہ۔۔۔ وہ ناجانے اسے کون کونسی آفرز کروانے والی تھی جب وہ سنجیدگی سے اسے ٹوکتا ایک سخت نگاہ اس پر ڈالتے واپس اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔۔۔
شائنہ نے اسے دکھ سے دیکھا۔۔۔
کیا کمی ہے مجھ میں۔۔۔ کیوں انکار کر رہے ہو مجھے۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کرتی پھر سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
احمر خاموشی سے کام کرتا رہا۔۔۔
آئی لو یو۔۔۔ احمر۔۔۔  اسکے اچانک کہنے پر احمر نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
محبت کرتی ہوں تم سے۔۔۔ شادی کرنا چاہتی ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔ پلیز میرا پرپوزل ایکسیپٹ کر لو۔۔۔ میں جانتی ہوں تم مجھے پسند نہیں کرتے ۔۔ لیکن میں تمہارے لئے خود کو سر تاپیر بدل لونگی۔۔۔ کیونکہ تم ایسے مرد ہو جسکے لئے باخوشی خود کو بدلہ جا سکے۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی ٹھہرے ہوئے انداز میں بول رپی تھی۔۔ میں تمہارے ساتھ ایک سادہ سی زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔ اپنے باپ اور میر کے کارناموں سے دور۔۔۔ جہاں ان دونوں کے کاموں کا کوئی شائبہ تک نا ہو ۔۔ جہاں ان کا سایہ تک نا ہو۔۔۔ایک پر سکون سی زندگی۔۔۔ محض میں اور تم۔۔۔  وہ یاسیت سے بول رہی تھی۔۔
احمر گہرا سانس خارج کرتا سیت کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
بلاشبہ تم اچھی لڑکی ہو شائنہ لیکن۔۔۔
کیا ہم لیکن سے پہلے تک نہیں رہ سکتے کیونکہ لیکن کے بعد کی باتیں اکثر دل توڑ جاتی ہیں۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا جب وہ آنکھیں بند کرتی اسکی بات کاٹ گی۔۔
لیکن میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔ نا آج نا کل۔۔۔ تو پلیز تم مجھ پر اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے وہاں صرف کرو جہاں تمہارے قدر دان ہیں۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا واپس کی بورڈ پر جھک گیا۔۔۔
اسکا اشارہ میر کی جانب تھا۔۔ میر کی شائنہ میں دلچسپی آفس میں کسی سے ڈھکی چھپی نا تھی۔۔
نام مت لو اس شخص کا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ غصے سے کھولتی کچھ اور کہتی کیبن کا دروازہ ناک ہوا۔۔
شائنہ اور احمر نے بیک وقت سر اٹھا کر اس جانب دیکھا جہاں میر کیبن کا دروازے کھولے احمر کو خونخوار نگاہوں سے گھور رہا تھا۔۔۔
احمر شانے اچکاتے اسکی گھوریوں کو کسی خاطر میں نا لاتے واپس اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔۔ جبکہ شائنہ نے ناک سے مکھی اڑائی۔۔
باہر آو شائنہ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔ وہ غصے سے گویا ہوا۔۔۔
شائنہ اسکی بات کو نظر انداز کرتی اٹھ کر اسکے پاس سے گزرتی باہر نکل گئ
******
رکو ۔۔۔ تم نے سنا نہیں شاید میں نے کہا مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔
شائنہ اسے نظر انداز کئے اسکے پاس سے گزر گئ جب وہ غصے سے کھولتا اسکے پیچھے لپکا۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھتے اسے بازو سے دبوچ کر کھینچتے ہوئے اپنے آفس کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور غصہ سے اسے دیوار سے لگاتا ڈھارا۔۔۔۔
How dare you...
 یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔ وہ اس کی گرفت میں بن جھل مچھلی کی مانند جھٹپٹاتی اسکی گرفت سے نکل کر زخمی شیرنی بنی ڈھاری۔۔۔
بدتمیزی یہ نہیں۔۔ بدتمیزی وہ ہے ۔۔ کیا کر رہی تھی تم احمر کے کیبن میں۔۔۔ وہ غصے سے کھولتا گرجا۔۔۔
تم سے مطلب۔۔۔ اسکا غصہ شائنہ دلاور خان کے جوتے کی نوک پر۔۔۔
وہ ضبط سے آنکھین بند کرتا گہری سانس بھر کر خود کو کمپوز کرنے لگا۔۔۔
دیکھو۔۔۔ میں چچا جان کے حکم پر ایک اہم مشن پر جانے والا ہوں۔۔ اور میں چاہتا ہوں کے وہاں جانے سے پہلے ہمارا نکاح ہو جائے۔۔۔
آہ۔۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔۔۔ وہ سنجدگی سے بول رہا تھا جب وہ اسکی بات کاٹتی طنزیا گویا ہوئی۔۔۔
اور تم جس مش پر جا رہے ہو نا میں باخوبی جانتی ہوں۔۔۔
چھوڑ دو اس معصوم لڑکی کو وہ کچھ نہیں جانتی فائز علوی کے بارے میں۔۔
دیکھی ہے میں نے ماہرہ اظہر کی تصویر ۔۔ وہ بے ضرر لڑکی ہے۔۔۔ محض تمہاری اس پر رال ٹپک پڑی ہے اور میرے باپ کے مش کا نام دے کر تم اس سے اپنی حوس پوری کرنا چاہتے ہو جیسے اب تک کرتے آئے ہو۔۔ 
شائنہ کے غصے عاجزانہ اور اکتائے انداز میں طنزیہ کہنے پر وہ دانت پیس گیا۔۔۔
****

No comments

Powered by Blogger.
4