Header Ads

Roshan Sitara novel 65th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  65th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

65th epi
میجر اریز آرمی یونیفارم میں موجود کمرے کے وسط میں ایک ہاتھ کمر پر ٹکائے دوسرے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جمائے کھڑا تھا۔۔ جہاں اطراف میں بہت سی سکرینز لگی تھیں۔۔۔ اسکی پرسوچ نگاہیں باری باری سبھی سکرینز کے گرد گھوم رہی تھیں جنہیں انکے سامنے بیٹھے افراد  مانیٹر کر رہے تھے۔۔۔ 
دفعتاً وہ ایک سکرین تک آیا۔۔۔ کیا فائز علوی کی معلومات کسی نے نکلوانے کی  کوشیش کی۔۔۔
وہ اس ورکر کی سیٹ کی پشت پر ہاتھ رکھے سنجیدگی سے مستفسر ہوا۔۔۔ نگاہیں سامنے موجود سکرین پر ٹکی تھیں۔۔۔
میں ابھی چیک کرتا ہوں سر۔۔۔ وہ خوش شکل سا نوجوان نیچے کی بورڈ پر جھکا تیزی سے انگلیاں چلانے لگا ۔۔۔۔۔
میجر اریز کی نگاہیں ہنوز سکرین پر تھیں۔۔۔ جہاں انکا مطلوبہ پیج کھل چکا تھاا۔۔۔
نو سر۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔ وہ محض سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔ یقیناً وہ لوگ جان چکے تھے کہ اس طریقے سے انہیں ٹریس کیا جا سکتا ہے۔۔۔ اور یہ بات یقینی طور پر اندر کے کسی بندے کے ذریعے ہی باہر نکلی تھی۔۔۔
وہ پشت پر ہاتھ باندھے گم صم سا کھڑا تھا۔۔۔ دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔۔فائز علوی اس رات مارا گیا۔۔۔ یقیناً یہ ان لوگوں کی حرکت نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ فائز علوی انکے لئے  سونے کے انڈے دینی والی مرغی تھی۔۔۔ فائز کے بنا وہ اپنا پراجیکٹ مکمل نہیں کر سکتے تھے تو یہ تو ممکن ہی نا تھا کے وہ لوگ فائز کو ختم کر دیتے۔۔۔ 
اپارٹمنٹ سے روبورٹ کے جلے ہوئے ٹکروں کے ساتھ سبھی جل چکے ڈیٹے کے شواہد موصول ہوئے تھے۔۔۔
قوی امکان تھا کے ان سے مقابلے کے دوران فائز نے ہاتھا پائی کی ہو اور اسی دوران یہ آگ بھڑکی ہو۔۔۔ 
پھر آگے کیا صورتحال ہو سکتی تھی۔۔۔ وہ سوچتا ہوا دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
آگ بڑھک بھی جاتی تب بھی ان لوگوں کو فائز کو بچانے کی کوشیش کرنی چاہیے تھی۔۔۔ بشرطیکہ انکو خود اپنی جان کے لالے نا پڑ جاتے۔۔۔ شاید آگ اتنی بھڑکی ہو کے انہیں خود جان بچا کر بھاگنا پڑا ہو۔۔۔ کیونکہ آگ کی شدت کی نوعیت کافی زیادہ تھی۔۔۔۔
وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کے یہ سب فائز  علوی نے خودکیا ہو۔۔۔ اپنی جان لینا آسان نہیں ہوتا۔۔۔۔ سب کچھ اسکے سامنے تھا سارا پراسس۔۔۔ ڈیٹھ باڈی کلیئر ہونے کا پراسس۔۔ اسکی آخری رسومات۔۔۔
لیکن درمیان سے کچھ مسنگ تھا۔۔۔ یہ سارے معاملات ان دونوں کے درمیان ڈسکس ہو چکے تھے اس طرح کی کسی بھی طرح کی صورتحال میں فائز علوی کو اس سے رابطہ کر کے روپوش ہونا تھا۔۔۔ شاید وہ اسی غرض سے اریز سے رابطہ بھی کر رہا تھا۔۔۔ فائز علوی کا اختتام یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ وہ پچھلے چند دنوں سے مسلسل یہ ہی سوچ رہا تھا۔۔۔ 
فائز علوی کا بیک گراونڈ اتنا سٹرونگ نا تھا کے وہ اس سے رابطہ استوار نا ہونے کی صورت بالا ہی بالا روپوش ہو کر سب مینج کر لیتا۔۔۔ 
اسکی ڈیٹھ سب سے بڑا سوالیہ نشان تھی۔۔۔۔ اسنے زور سے آنکھیں میچیں۔۔۔
فائز علوی تک جاتی پزل کے ٹکرے کئ جگہ سے مسنگ تھے۔۔۔ کیا قوم کے اس عظیم نقصان پر فائز کے ساتھ ساتھ باقی ہر چیز بھی دفن ہوگئ تھی۔۔۔۔۔ 
کیا کوئی تھا جو اس پزل کے ٹکروں کو جوڑنے میں اسکی مدد کر سکتا تھا۔۔۔ جو کسی طرح سے اسے کوئی کلیو دے سکتا ۔۔۔ دروازے کے ہنڈل پر ہاتھ رکھ کر اسے کھولتا کھولتا وہ رکا۔۔۔
یکدم ہی جیسے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا۔۔ جیسے روشنی کا ایک کوندا سا لپکا ہو۔۔۔ 
وہ ہینڈل سے ہاتھ ہٹاتا انہی قدموں پر واس لپکا۔۔۔ اور  واپسی اسی سکرین تک آیا۔۔۔
احمر شیخ۔۔۔ اس شخص پر سرچ کرو۔۔۔ یہ شخص کہاں ہے۔۔۔ ہاں یہ ہی وہ واحد شخص تھا جو اس بکھری پزل کے ٹکرے جوڑ کر اسے مکمل کر سکتا تھا۔۔۔ 
میجر اریز کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ کاش یہاں اسکا رابطہ احمر سے استوار ہو جائے۔۔۔
وہ شخص میجر اریز کے حکم پر  کیر بورڈ  پر جھکا اسکی کیز دبا رہا تھا۔۔۔ سامنے سکرین پر احمر شیخ کے نام کے سینکڑوں افراد کی تصویریں ابھر آئی تھیں۔۔۔
اس شخص نے مزید بریفینگ کے لئے میجر اریز کی جانب دیکھا۔۔۔
میجر اریز نے جیب سے موبائل نکالتے سکریں اسکی جانب بڑھائی۔۔ جس پر ایک آئی دی کارڈ نمبر لکھا تھا۔۔۔
اس شخص نے موبائل پر لکھے آئی ڈی کارڈ نمبر  کو ٹائپ کیا۔۔۔
سامنے سکرین پر لوڈنگ شو ہو رہی تھی۔۔۔ میجر اریز سانس تک روکے یک ٹک سکرین کو دیکھے گیا۔۔۔
جہاں اب ایک چہرا شو ہو رہا تھا۔۔۔ 
لوڈنگ کے بعد پہلے ماتھا دکھائی دیا جہاں گھنے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ پھر نفیس سے فریم کے احاطے میں جھانکتی آنکھیں۔۔۔ ستواں ناک اور اسکے ساتھ ہی لوڈنگ مکمل ہو گئ۔۔سکرین پر ایک خوش شکل نوجوان کی تصویر ابھری تھی۔۔۔  اسکی مسکراہٹ بہت اچھوتی تھی
میجر ازمیر یک ٹک اس تصویر کو دیکھے گیا۔۔۔ اس شخص سے ملنا اب ناگزیر تھا۔۔۔
نیچے اسکا مکمل بائیو ڈیٹا تھا۔۔۔
اس وقت یہ شخص کہاں ہے۔۔۔ 
میجر اریز ٹرانس کی سی کیفیت میں گویا ہوا۔۔۔
ایم سوری سر۔۔۔ آئی ڈی کارڈ نمبر کی بیس پر یہ پتہ لگانا ناممکن ہے کے اس وقت یہ شخص کہاں ہے۔۔۔
البتہ موبائل نمبر یا کوئی ٹریکر وغیرہ ہو تو لوکیشن کا پتہ لگ سکتا ہے۔۔۔۔
وہ شخص شائستگی سے گویا ہوا۔۔۔
میجر اریز پرسوچ سے انداز میں اپنا ماتھا کھرچ رہا تھا۔۔۔
لوکیشن نا سہی لیکن ہنٹ تو مل سکتا ہے نا۔۔۔۔
ہر خاص جگہ ہر خاص ادارے میں جانے کے لئے آئی ڈی کارڈ سکین ہوتا ہے۔۔۔ ملک سے باہر جانے کے پراسس میں آئی ڈی کارڈ استعمال ہوتا ہے۔۔۔ سم اشو کروانے کے لئے یا موبائل کو پی ٹی آئی پروو کروانے کے لئے بھی یہ ہی استعمال ہوتا ہے۔۔۔
اس آئی ڈی کارڈ کا مکمل استعمال نکالو۔۔۔ یہ کب کب اور کہاں کہآن استعمال ہوا ہے۔۔۔
نیز اس کے نام پر کتنی سمز ہیں۔۔۔ پاسپورٹ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
میجر اریز پرسوچ انداز میں بول رہا تھا۔۔۔ پس منظر میں دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا۔۔۔
وہ شخص سر ہاں میں ہلاتا ایک مرتبہ پھر سے سکرین پر جھک چکا تھا۔۔۔
آخری دفعہ یہ آئی ڈی کارڈ اس کمپنی میں انٹرس کے لئے سکین ہوا ہے۔۔۔ اس شخص کے کہنے پر میجر اریز نے سکرین پر ابھرتی کمپنی کا نام پڑھا۔۔۔ پھر تاریخ پر نظر گئ۔۔۔۔۔۔
اس کمپنی میں اس شخص کا کیا کام۔۔۔ وہ کمپنی سکریب سے ری نیو آئٹمز بناتی تھی۔۔۔
کیا وہ وہاں کام کرتا تھا یا  کسی سے ملنے گیا تھا۔۔۔ وہ ایک انٹرنیشنل کمپنی تھی۔۔ جہاں اوریجنل آئی ڈی کارڈ کے بنا پرندا بھی پر نہیں مار سکتا تھا
اگر کام کرتا تو وہاں یہ آئی ڈی کارڈ بارہا استعمال ہوتا اور اسکے گرد و نواح میں بھی۔۔۔
یکدم اسکے دماغ میں کچھ سپارک ہوا۔۔۔ 
یہ جگہ کہاں ہے اور اسکے آس پاس کی مشہور ترین جگہیں کونسی ہیں۔۔۔
میجر اریز کے منہ سے ادا ہونے والے الفاظ کیساتھ اس شخص کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔۔۔ 
سر یہ ایک طرف سے کمرشل ایریا ہے جبکہ دوسری طرف کھلے میدان ہے۔۔۔ جبکہ اس سے کچھ ہی فاصلے پر بارڈر ہے۔۔۔
اسکی آخری بات پر میجر اریز چونکا۔۔۔
بارڈر۔۔۔ وہ زیر لب گویا ہوا۔۔۔ تو کیا یہ ممکن تھا کے یہ شخص غیر قانونی طریقے سے بارڈر پار کر گیا ہو۔۔۔
میجر اریز مزید الجھ گیا۔۔۔
کیا یہ ممکن ہے کے یہ شخص ملک سے باہر چلا گیا ہو۔۔۔
لیگلی اسکے کوئی ڈوکومنٹس شو نہیں ہو رہے۔۔۔ نا پاسپورٹ۔۔۔ نا کہیں آنے جانے کا شیڈیول۔۔۔ الیگلی طور پر جانے کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔ وہ شخص سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
بارڈر کے ساتھ جو ممالک لگتے ہیں کیا تم وہاں پر اس آئی ڈی کارڈ کا استعمال نکال سکتے ہو۔۔۔ میجر اریز نے بے طرح ماتھا مسلہ۔۔۔ جواب وہ جانتا تھا لیکن کبھی کبھار انسان جانتے بوجھتے بھی چاہتا ہے کے جواب اسکے حسب منشا ہو۔۔
سوری سر۔۔۔ ہماری ایکسیس پاکستان کی حدود تک ہے۔۔۔ باہر نہیں۔۔۔ وہ شائستگی سے معذرت خواہ ہوا۔۔۔
میجر اریز نے گہری سانس خارج کی۔۔۔
اس آئی ڈی کارڈ پر نظر رکھنا اگر یہ کہیں بھی سکین ہو یا س آئی ڈی کارڈ پر کوئی بھی سم اشو ہو یا کوئی دوسرا ڈوکومنٹ بنے تو فوراً مجھے اطلاع دینا۔۔۔ نیز اگر کوئی فائز کی معلومات نکلوائے تو بھی۔۔۔
وہ الجھا الجھا سا کہتا اس کمرے سے نکل گیا۔۔۔
*****
ماہرہ میری جان پلیز میری بات سمجھنے کی کوشیش کرو۔۔۔
اگلا دن پوری آب و تاب سے روشن ہوا تھا۔۔۔ ماہرہ ابھی ابھی ناشتہ کر کے کمرے میں لوٹی تھی جب مام بھی اسکے پیچھے ہی وہاں آ کھڑی ہوئیں۔۔۔ وہ رات سے ہی اس سے بات کرنے کی کوشیش کر رہی تھیں۔۔۔
جی مام کہیے۔۔۔
وہ انہیں دیکھتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
دیکھو میری بات کو زرا گہرائی سے سوچنا میری جان۔۔۔
فائز علوی نہیں رہا۔۔۔
وہ ہے۔۔۔۔اس سے پہلے کے مام اپنی بات شروع کرنے سے پہلے تمہید باندھتی   ماہرہ مام کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول اٹھی۔۔۔ 
ہے تو پھر بلاو اسے۔۔۔ پھر مسلہ کیا ہے۔۔۔ ماں اسکی ایک ہی گردان بار بار سن کر اکتا چکی تِھیں۔۔۔ تبھی غصے سے بھڑک اٹھیں۔۔۔ شاید انہیں اپنی بات کا کاٹے جانا ناگوار گزرا تھا۔۔۔
مائرہ فائز علوی اپنی بے خبری کی تصوراتی دنیا سے نکل آو۔۔۔ یہ سب باتیں وہاں سوٹ کرتیں ہیں جہاں مر چکے انسان کی ڈیڈ باڈی نا مل رہی ہو۔۔ جسکی آخری رسومات ادا نا کی گئ ہوں۔۔۔۔ وہاں آخری دم تک آس رکھی جاتی ہے کے وہ شخص زندہ ہوگا۔۔۔۔۔ کیونکہ کچھ کنفرم نہیں ہوا۔۔۔
لیکن تم یہاں سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ کر تصورات میں رہنا چاہتی ہو۔۔۔ ماں کے غصیلے لہجے میں کہنے پر وہ آنکھین کرب سے میچ گئ۔۔۔
اسکی میت یہاں اس لان میں پڑی تھی۔۔۔۔ ماں نے ہاتھ سے کھلی کھڑکی سے نظر آتے لان کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
ماں کے کہنے پر اسکے آنسووں میں مزید شدت آگی۔۔۔
تمہارے باپ بھائیوں نے اسے اپنے ہاتھوں سے سپرد خاک کیا۔۔۔ ہر چیز روز روش کی طرح سامنے ہے اب بھی اگر تم حقیقت سے نظریں چراو تو سووری ٹو سے مجھے تمہارے کسی سائیکائٹرسٹ سے سیشنز کروانے ہونگے۔۔۔ میں اپنی بیٹی کو شزوفیزیا کا شکار۔۔۔ ایک ایسی بیماری جس میں انسانی ذہن فرضی کرداروں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے۔۔۔ ہوکر ایک تصوراتی دنیا میں رہتے نہیں دیکھ سکتی۔۔۔ ماں کی آواز میں نمی کی آمیزش ابھری۔۔۔۔ یہ سخت لہجہ اور زبردستی انکی مجبوری تھی کیونکہ وہ محبت سے ماہرہ کو سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھیں۔۔۔
کیا کہنا چاہتی ہیں آپ مام۔۔  اپنی بات پر آئیں۔۔۔ وہ کرب زدہ سی گویا ہوئی۔۔ اب تو یہ موضوع بھی تکلیف دیتا تھا۔۔۔۔تمہارے خیال میں اس بچے کا کیا مستقبل ہو گا ماہرہ۔۔۔ ماں کے سنجیدگی سے کہنے پر ماہرہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
وہ اس سے اسکے بچے کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھیں۔۔۔
مطلب کیا ہے آپکا مام۔۔۔
مطلب یہ ہے میری بچی۔۔ کہ ایک ایسا بچہ جسکا باپ اسکے دنیا میں آنے سے پہلے ہی مر گیا۔۔۔۔
ماہرہ کے دل پر ایک گھونسہ پڑا مگر وہ لب بھینچے ضبط کر گئ۔۔۔
اور باپ بھی وہ جس نے ابھی تک یہ شادی ہی صیغہ راز رکھی ہوئی تھی۔۔۔ ایسے میں اس بچے کا کیا مستقبل ہو گا۔۔۔ لوگ اسے کن نظروں سے دیکھیں گے۔۔۔ تم کس کس کو اپنے کردار کی صفائیاں دو گی کہ یہ تمہارا جائز بچہ ہے۔۔۔
ماں کی تلخ باتیں کسی تیز دھار برچھی کی مانند اسکا دل چیر رہی تھیں۔۔۔ جس سے خون رسنے لگا تھا اور اسکی تکلف دل سے سرائیت کرتی پورے جسم میں پھیلنے لگی تھی۔۔۔
اسنے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ماں کو دیکھتے گھٹنے اکھٹے کر کے پیٹ سے لگائے اور کپکپاتے بازوں کا حصار اسکے گرد بنایا۔۔۔ جیسے یہ ایک لاشعوری کوشیش ہو اپنے اندر پلتی زندگی کو اس بے رحم دنیا کی سفاکی سے بچانے کی۔۔۔
یہ میرا جائز بچہ ہے مام۔۔۔۔ جسم کے ساتھ ساتھ اسکی آواز بھی کپکپا گئ۔۔۔
ثابت کرو۔۔۔
مام اسے آج سے پہلے اتنی سفاک کبھی نا لگی تھیں ۔۔۔ روح کی تکلیف جسمانی طور پر بھی دل کے مقام پر دباو ڈالنے لگی تھی۔۔۔
میر نکاح گواہاں کی موجودگی میں میرے باپ نے کروایا تھا۔۔۔ سبھی قریبی رشتہ دار آگاہ ہیں میرے نکاح سے۔۔ باوجود کوشیش کے بھی وہ آواز کی کپکپاہٹ پر قابو نہیں پا پا رہی تھی۔۔۔
اور معاشرہ محض قریبی رشتہ داروں پر مکمل نہیں ہو جاتا۔۔۔ 
ہم ایک سوسائٹی میں رہتے ہیں۔۔ آس پاس کے لوگ۔۔۔ تمہارے یونی فیلوز ۔۔ تمہارے باپ بھائی کے جاننے والے۔۔۔ ہم کس کس کو کیا کیا جواب دیں گے۔۔ وہ تلخ ہو اٹھیں۔۔۔۔  ہاں حقیقت بتانا آسان ہے۔۔۔ ٹھیک ہے تم شادی شدہ ہو۔۔۔ لیکن حقیقت چھپانے کو بھی تم نے ہی کہا ہے۔۔۔
لیکن یہاں یہ مسلہ اہم نہیں۔۔۔ بالفرض ہم تمہارا نکاح سب کے سامنے ڈکلیئر کر بھی دیتے ہیں۔۔ تب بھی اس بچے کا مستقبل تمہاری نظر میں کیا ہے۔۔۔ ایک یتیم بچہ۔۔۔
ماہرہ ششدر سی ماں کو دیکھتی رہ گئ جنکے پاس شاید انیوں کا ایک انبار لگا تھا۔۔ جس میں سے وہ ایک ایک انی نکالتیں بے رحمی سے اسکے دل میں پیوست کرتی جا رہی تھیں۔۔۔
اسکی انکھیں آنسو نہیں خون چھلکانے لگی۔۔۔
وہ ضبط کے آخری مراحل پر تھی۔۔۔
تم میری بیٹی ہو۔۔۔ ایک دفعہ تمہاری ضد کے آگے گھٹنے ٹیکتے میں نے تمہیں تمہاری من مانی کر دی۔۔۔ 
مگر زندگی بہت لمبی ہے۔۔۔ بنا ساتھی کے نہیں کٹتی۔۔ ظاہر سی بات ہے میں ہمیشہ تمہیں تنہا نہیں رہنے دوں لگی۔۔۔ جلد ہی تمہارے بارے میں پھر سے سوچوں گی۔۔۔
اس دفعہ ایک ساتھ کئ انیاں سینے میں ڈھرکتے دل میں پیوست ہوتیں اسے بے جان کر گئیں۔۔
وہ خود میں ختم ہوتی سکت کے باعث نڈھال سی بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
تب اس بچے کا کیا۔۔۔ 
یہ بچہ تمہارے پاوں کی زنجیر بن جائے گا۔۔۔
کیا چاہتی ہیں آپ۔۔۔ 
وہ ان کی مزید زہریلی باتیں سہارنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی تبھی زخمی لہجے میں گویا ہارتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔م
اس بچے کو ابارٹ کروا دو۔۔۔۔
What.....
 وہ ماں کی بات پر ایک جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ بھرائی نگاہیں ماں پر جمی تھیں۔۔ ان آنکھوں میں کیا کچھ نا تھا۔۔ غصہ۔۔ دکھ ۔۔۔ تاسف۔۔۔
بے بسی کے باعث پورا جسم کپکپانے لگا تھا۔۔۔ ہونٹوں میں واضح ارتعاش تھا۔۔۔
آپ میری بات سنیں مام۔۔۔ وہ غصے سے کھولتی ہوئی ڈھاری۔۔۔
میں تصوراتی دنیا میں رہ رہی ہوں یا شزو فیزیا کا شکار ہو رہی ہوں۔۔۔ وہ بستر سے اتر آئی۔۔۔۔
 میرا شوہر مر گیا ہے۔۔۔ یا دنیا کی نظر میں میرا بچہ کیا ہے۔۔۔مجِھے۔۔۔ وہ رکی۔۔۔ میرے بچے سمیٹ۔۔۔ میرے حال پر چھوڑ دیں۔۔۔
وہ چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔۔
میر بچہ میرے ہاوں کی زنجیر نہیں میرے دل کی ڈھرکن ہے جو اپنے باپ کے بعد مجھے جینے کی وجہ فراہم کر رہا ہے۔۔۔ ماں کے مقابل آتے چبا چبا کر کہتے اسکی رگیں ہھولنے لگی تھیں۔۔۔ اس لئے۔۔۔ آپ یہاں سے جائیے ماں۔۔۔ اسکی آنکھوں میں چنگاریاں ہی چنگاریاں تھیں۔۔
ماہرہ بیٹا تم غلط۔۔۔
مام یہاں سے جائیے۔۔۔ ورنہ اپنی اولاد کے بارے میں تو کہہ نہیں سکتی البتہ خود کو ضرور ختم کر ڈالوں لگی۔۔۔ اسکا جنونی انداز ماں کو ششدر کر گیا۔۔۔
سامنے انکی بیٹئ نہیں تھی۔۔۔ وہ شاید ایک ماں تھی۔۔۔ جو زخمی شیرنی بنی ہر نفع و نقصان کو پرے دھکیل چکی تھی۔۔۔
ماں اسکا جنونی انداز دیکھتیں قدم قدم پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔ ابھی اسے چھیڑنا مناسب نا تھا۔۔۔ ابھی وہ صدمے کی پہلی چوٹ پر تھی۔۔۔ کچھ وقت گزرتا تو اس تلخ دنیا کی تلخی اسے خودبخود یہ ساری باتیں گہرائی سے سوچنے پر مجبور کر دیتی۔۔
وہ خاموشی سے کمرے سے نکل گئیں۔۔۔
جبکہ انکے جاتے ہی وہ وہیں زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتی چہرا ہاتھوں میں چھپاتی رو دی۔۔۔
فائز علوی۔۔۔ تمہارے بنا یہ دنیا میرے لئے تپتہ ریگستان بن گئ ہے۔۔۔ ایسا ریگستان جسکی اتنی سی مسافت نے مجھے ادھ موا کر دیا ہے۔۔۔ میرے پاوں آبلہ پائی کا یہ سفر طے کرتے کرتے میرے وجود کا بوجھ سہارنے سے انکاری ہو گئے ہیں۔۔۔۔ میں تھک گئ ہوں۔۔۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے۔۔۔۔وہ اپنے آپ سے باتیں کرتیں سسک رہی تھی۔۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4