Roshan Sitara novel 64th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 64th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
64th epi...
مرتسم لودھی بلیک ٹراوزر اور سفید ٹی شرٹ میں ملبوس صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا پاوں سامنے میز پر ڈھرے تھے جبکہ گود میں لیپ ٹاپ تھا جس پر اسکی انگلیاں تیزی سے متحرک تھیں۔۔۔ کمرے کی کھلی کھڑی سے صبح کی نیلاہٹ بھری روشنی رات کے اندھیرے کو تیزی سے نگلتی دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔ ایک نیا دن پوری شان سے اپنی آمد کی اطلاع دے رہا تھا۔۔۔
دفعتاً موبائل کی بپ بجی تو اسنے سیدھے ہوتے میز سے موبائل اٹھایا۔۔۔
میسج وہاج کا تھا۔۔۔
ٹھیک آٹھ بجے میٹنگ ہے۔۔ تیار رہنا۔۔۔ ڈیلنگ تم نے کرنی ہے۔۔۔ وہ یاد دہانی کا میسج تھا۔۔۔ مرتسم گہرا سانس خارج کرتا صوفے کی پشت پر سر گرا گیا۔۔۔
ان دونوں نے ہی باپ کا بزنس جوائن کرنے سے منع کر دیا تھا۔۔۔ ان کا اپنے خاندانی بزنس میں انٹرسٹ ہی نا تھا۔۔۔ تبھی تو فائز کی یاد تازہ رکھنے کو انہوں نے اپنی دلچسپی کا پیشہ ہی اختیار کیا تھا۔۔۔
وہ فائز کا تیار کردہ روبورٹ پھر سے تیار نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ کیونکہ انکا ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ فائز ہی تھا۔۔
لیب کے اندر کی ساری انفارمیشن اسے ہی تھی۔۔۔ جیسے روبورٹ کا مین حصہ اسکا دماغ تھا جہاں سبھی میموریز اور ڈیٹا چپس ہوتی ہیں جس کی بیس پر وہ سبھی کام کرتا ہے۔۔۔ انکی زندگیوں میں وہ مین پارٹ فائز علوی تھا۔۔۔ جو انہیں اس لائن پر لایا تھا۔۔۔ یہ اسکا خواب تھا جسے اس نے زبردستی انکی آنکھوں میں سجایا تھا۔۔ یوں کے وہ اپنی لاپرواہیاں چھوڑتے اس خواب کی تکمیل میں سنجیدہ ہو گئے تھے۔۔۔ لیکن انکا گائیڈر وہی تھا جو انہیں بریفینگ دیتا اور باہر کا سارا کام وہ دونوں سمبھال لیتے۔۔۔ بروقت کام مکمل کر کے اسے دیتے اور لیب کے اندر کا کام وہ سمبھال لیتا۔۔۔
وہ تینوں ہی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزم تھے۔۔۔ تکون کا ایک سرا بھی ٹوٹتا تو اتنی کامیابی سے یہ پراجیکٹ اپنی تکمیل کو نا پپہنچتا جو تکمیل کو پہنچ کر بھی ادھورا ہی رہا تھا۔۔۔
لیکن اب وہ چاہتے بھی تو وہ معلومات حاصل نہیں کر پا رہے تھے جو پہلے فائز علوی کے باعث انہوں نے جاننے کی کوشیش نا کی۔۔ اور اس معلومات کے بنا دوبارہ ربورٹ بنانا شروع کر پانا ناممکن امر تھا۔۔۔
وہ فائز علوی تنہا ہی تھا جسنے سوائے اپنے ہر جانب سے پزل کے ٹکرے ادھورے چھوڑے تھے یوں کے کوئی بھی اسکے کسی اپنے کو حساس معلومات کی بنا پر نقصان نا پہنچا پائے۔۔۔
اس لئے ہر طرف سوچ بچار کے بعد ان دونوں نے مشترکہ سافٹ ویئر کمپنی بنانے کا سوچا تھا۔۔۔ شاید کچھ عرصہ مخلص پن اور کھلے دماغ سے اس فیلڈ میں کام کرنے کے بعد وہ پزل کے مسنگ ٹکرے بھی تلاش کرکے فائز علوی کی ادھوری پزل کو مکمل کر لیتے۔۔۔ اسی نیت کی بنیاد پر انہوں نے اس کام کی بنیاد رکھی تھی جسکے لئے آج انکی پہلی ڈیلنگ تھی۔۔۔
وہ فجر کی اذانوں سے بھی پہلے کا اٹھا اپنی آج کی پریزنٹیشن تیار کر رہا تھا۔۔۔ درمیان میں اسنے محض نماز کا وقفہ لیا تھا۔۔۔
اب سر بھاری ہوتا محسوس ہوا تو وہ آنکھیں مسلتا سیدھا ہوا۔۔۔
لیپ ٹاپ میز پر رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
اب اسکا رخ کچن کی جانب تھا۔۔۔
باہر ابھی صبح کے معمولات شروع نا ہوئے تھے کے آسمان پر مکمل طور پر سفیدی نہیں پھیلی تھی۔۔۔
ملازمیں ابھی کوارٹروں سے نہیں آئے تھے۔۔۔
وہ کچن کے سامنے آ رکا جہاں سامنے ہی فاہا کھڑی تھی ۔۔۔دوپٹہ حجاب کے سٹائل میں لے رکھا تھا غالباً وہ بھی فجر کی نماز پڑھ کر کچن میں آئی تھی۔۔۔
اسکی جانب فاہا کا نیم رخ تھا۔۔۔ وہ کچن کاونٹر کے سامنے کھڑی دودھ پین میں ڈال رہی تھی شاید چائے بنانے والی تھی۔۔۔
وہ قدم قدم اٹھاتا کچن کے درواَزے میں آ کھڑا ہوا۔۔۔
آہٹ پر فاہا نے جھکا سر اٹھایا۔۔۔
آپ۔۔۔ کچھ چاہیے کیا آپ کو۔۔۔ وہ اسے خاموش کھڑا دیکھ پوچھ بیٹھی۔۔۔ فائز علوی کی موت کے بعد سے وہ ایسا ہی ہو گیا تھا ۔۔۔ گم صم اور سنجیدہ۔۔
ہممم۔۔ تم چائے بنا رہی ہو۔۔۔ تو میرے لئے بھی بنا لو۔۔۔ وہ آہستگی سے کہتا اس سے کچھ فصلے پر ہی شیلف سے ٹیک لگاتا کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ یوں کہ بازو سینے پر باندھ رکھے تھے اور نگاہیں قینچی کی صورت بنائے پاوں پر تھیں۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔ وہ دودھ میں پتی اور چینی ڈالتی اسکا نافہم انداز دیکھتی پوچھ بیٹھی۔۔۔
ہمممم۔۔ وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔ اسنے انگلیوں کی پوروں سے آنکھیں دابیں۔۔
آج پہلے کانٹریکٹ کے لئے میٹنگ ہے ہماری۔۔۔ دعا کرنا۔۔۔ وہ اسکے دھلے دھلائے شفاف حجاب کے ہالے سے جھانکتے چہرے کو دیکھتا اداسی سے گویا ہوا۔۔۔
انشااللہ کامیابی آپکا مقدر ہو گئ۔۔۔ وہ پریقین سی بولی۔۔۔
آپکو یاد ہے مرتسم آپ نے ہی کہا تھا کے مرنے والے کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔۔۔ زندہ رہا جاتا ہے زندہ لوگوں کے لئے۔۔۔ حوصلہ کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ ہمت پکڑنی پڑتی ہے۔۔۔ وہ مبہم سے انداز میں کہتی چائے کپوں میں چھاننے لگی۔۔۔
مرتسم مسکرا دیا۔۔۔۔ سب یاد ہے مجھے۔۔۔ لیکن زندگی کی کچھ فیزز بہت بھاری ہوتی ہیں۔۔۔ اسکی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔ اتنی کے انکا بوجھ سہارتے سہارتے آپکی ہمت ٹوٹنے لگتی ہے۔۔۔۔ اسکا لہجہ پر نم ہوا۔۔۔
غیر متوقع صورتحال انسان کی بنیادوں کو ہلا دیتی ہے فاہا۔۔۔۔ اسکی نگاہیں کسی غیر مری نقطے پر جمی تھیں فاہا کو ان آنکھوں میں نمی ابھرنے کا شائبہ گزرا۔۔۔
فائز علوی کا یکدم ۔۔۔ غیر متوقع طور پر ہم سب کے بیج سے چلے جانا ۔۔۔ وہ کچھ توقف کو رکا۔۔۔ گہری سانس خارج کی جیسے بات کرنے میں بھی دشواری ہو رہی ہو۔۔۔ یہ مشکل ہے۔۔۔ ہمارے لئے بہت کھٹن وقت ہے۔۔۔ وہ آنکھیں میچے نفی میں سر ہلا رہا تھا جیسے بہت اذیت میں ہو۔۔۔
ہمارے کندھوں پر احساس ندامت ہے۔۔۔ کے کاش۔۔۔ وقت رہتے وہاں پہنچ جاتے۔۔۔ شاید وہ بچ جاتا۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کی۔۔۔ آنکھوں کی نمی نے کناروں پر گلابی پن اتار دیا تھا۔۔۔
وقت درکار ہے ابھی۔۔۔ سمبھلنے میں وقت لگے گا۔۔۔ ابھی تو دل چاہتا ہے حقیقت سے نگاہیں چڑا لیں۔۔۔ کے نہیں وہ ہے۔۔۔ اور ابھی کہیں سے نکل آئے گا ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح ۔۔۔ ہستا مسکراتا۔۔۔ کھلکھلاتا ہوا۔۔۔ اسنے لبوں پر زبان پھیرتے آنکھیں میچیں۔۔
فاہا لب کترتی چہرا جھکا گئ۔۔۔ وہ اس فیز سے گزر چکی تھی۔۔ وہ دوست کے لئے آبدیدہ تھا اسنے باپ کھویا تھا۔۔۔ اسنے دقت سے سانس خارج کی۔۔۔
خیر تم بتاو پڑھائی کیسی جا رہی ہے۔۔۔ دوبارہ کوئی مسلہ تو نہیں بنا۔۔۔ وہ خود کو کمپوز کرتا بات بدل کر چائے کا کپ اٹھا گیا۔۔۔
ٹھیک چل رہی ہے۔۔ اور اس یونیورسٹی میں کوئی مسلہ نہیں بنا۔۔۔ وہ ایسے ہی سر جھکائے اپنے کپ کے کنارے پر انگلی پھیر رہی تھی۔۔ جب مرتسم سر ہاں میں ہلاتا اپنا کپ اٹھا کر کچن سے نکل گیا۔۔۔ فاہا کی نگاہوں نے دور تک اسکا احاطہ کیا۔۔۔
*****
صبح کی سفیدی میں سورج کا نارنجی پن پھیلتے پھیلتے مکمل طور پر اجالے میں بدل گیا تھا۔۔۔ لودھی ہاوس میں معمولات دن کی شروعات ہو چکی تھی۔۔۔ کچن میں کام کرتے ملازم۔۔۔ ڈائینیگ ٹیبل پر ناشتہ۔۔ صبح کے وقت سب کا ہربونگ میں تیار ہونا۔۔۔
بھائی بھائی بھائی۔۔۔ ڈرائیور آج چھٹی پر ہے۔۔۔آپ مجھے کالج ڈراپ کر دیں گے پلیز۔۔۔ مرتسم لودھی بلیک پینٹ سفید شرٹ پر بلیک ہی کوٹ پہنے فارمل سے انداز میں تیار کلائی پر گھڑی باندھتا سیڑھیاں اتر رہا تھا جب کالج یونیفارم میں ملبوس علایہ کالج بیگ کندھے پر لٹکائے سیاہ شیشوں سے مزین شال بازو پر لٹکائے بھاگتی ہوئی اسکے پاس آئی۔۔ ماتھے پر بینگز بکھرے ہوئے تھے جبکہ چہرا ہر طرح کی آرائش سے پاک تھا۔۔
مرتسم نے گھڑی باندھتے نگاہین اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ پھر جھنجھلا کر گھڑی پر وقت دیکھا۔۔۔۔ٹھیک آٹھ بجے اسکی میٹنگ تھی۔۔۔ اوپر سے علایہ کو ڈراپ کرنا۔۔۔ وہ جھنجھلایا۔۔
ٹھیک ہے جلدی باہر آو۔۔۔
ناشتہ کر کے نکلا گھر سے دونوں۔۔۔ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھی ماں کی تنبیہ کرتی آواز گھونجی۔۔۔ وہ دور سے ہی ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔ جبکہ بابا رات سے ہی کام کی غرض سے آوٹ آف سٹیشن تھے۔۔ ورنہ وہ باخوشی یہ ذمہ دری بھی اٹھا لیتے۔۔۔ فاہا ماں کے ساتھ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔
مجھے بھائی نے چھوڑ جانا ہے ماں۔۔ اتنی مشکل سے تو مانے ہیں۔۔ مجھے تو معاف ہی رکھیں۔۔۔ البتہ بھائی کو ناشتہ کروا دیں۔۔ وہ اپنی ہی کہتی بھاگ کر لاوئنج کے دروازے کی جانب بڑھی۔۔
علایہ۔۔۔ ماں نے پیچھے سے آواز دی۔۔
جبکہ مرتسم ماں کی ڈانٹ سنتا کھڑا کھڑا ڈائینینگ ٹیبل تک آیا اور جوس گلاس میں انڈیلا۔۔۔
تم یونیورسٹی نہیں جا رہی۔۔۔ ڈرائیور کی چھٹی کا سن کر وہ جوس کا گلاس لبوں سے لگاتا فاہا کو ابھی تک یونہی بیٹھے دیکھ پوچھ بیٹھا۔۔
نہین آج یونیورسٹی میں کوئی خاص کلاس نہیں۔۔ وہ مسکرا کر کندھے اچکا گئ۔۔۔
نو ماں آپ بھائی کو تسلی سے ناشتہ کروائیں میں کالج سے کچھ کھا لوں لگی۔۔۔
علایہ نے اونچی آواز میں کہتے لاوئنج کے دروازے کی ناب گھما کر جھٹکے سے کھولا اور تیزی سے باہر نکلی جب اتنی ہی تیزی سے کسی سے زوردار تصادم ہوا۔۔۔
آہ۔۔۔ وہ کراہ کر پیچھے ہٹی جب اچانک نگاہ سامنے اٹھی۔۔۔
سامنے ہی وہاج خانزادہ خوشبوں میں نہایا کھڑا تھا اسنے آنکھیں چندہی کئے علایہ کو دیکھتے آنکھوں سے سن گلاسز اتارے۔۔۔
وہ غالباً میٹنگ کے لئے مرتسم کو لینے آیا تھا۔۔۔۔
گرے پینٹ کوٹ میں ملبوس بال جیل سے سیٹ کئے وہ اسے بہت نکھرا نکھرا سا لگا۔۔ لیکن یوں اچانک غیر متوقع ٹکراو پر علایہ کی سٹی گم ہوگئ۔۔۔ یہ نکاح کے بعد انکا پہلا ٹکراو تھا۔۔
آ۔۔ آپ۔۔۔ سوری۔۔ میں نے دیکھا نہیں۔۔ وہ آہستگی سے کہتے نظریں جھکا گئ۔۔۔کچھ دیر پہلے کی ساری تیز طراری ہوا ہوگئ۔۔۔
وہاج نے اسکا تفصیلی جائزہ لیا۔۔۔ کالج یونیفارم میں ملبوس کالج بیگ کندھے پر لٹکائے شال بازو پر ڈالے ٹیل پونی اور ماتھے پر بکھرے بینگز۔۔۔ وہ واقعی کالج گرل لگ رہی تھی۔۔۔
اسے یوں کنفیوز سا سر جھکائے دیکھ وہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔
وہ دو قدم اسکے قریب ہوا۔۔۔
سنا تھا نکاح کے دو بولوں میں بہت طاقت ہوتی ہے۔۔۔ وہ چہرا اسکے کان کے قریب لاتا سرگوشانہ گویا ہوا۔۔۔
علایہ کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ اسنے بازو پر لٹکی شال کو زور سے مٹھی میں میچا۔۔۔
واقعی۔۔۔ نکاح کے دو بولوں میں تو بہت طاقت ہوتی ہے۔۔۔ اسکی آواز سحر طاری کر رہی تھی۔۔۔ یہ بولتی بند کروا دیتے ہیں۔۔۔ وہ لفظ بولتی پر زور دیتا گویا ہوا۔۔۔ آواز میں طنز کی آمیزش تھی۔۔۔ علایہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ دل چاہا کے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ وہ ایک ہی وار میں اسکی چرب زبانی کو اچھے سے رگید گیا تھا۔۔۔ علایہ کا جھکا سر مزید جھک گیا۔۔۔ دل چاہا اس شخص کی نظروں سے کہیں چھپ جائے۔۔۔
دفعتاً مرتسم لاوئنج کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تو وہاج چند قدم دور ہٹا۔۔۔
ارے تم۔۔۔ وہ وہاج کو دیکھ کر خوشگوار حیرت سے گویا ہوا۔۔۔
ہاں مجھے لگا تمہین آ کر یاد دلوا دینا چاہیے کے میٹنگ آٹِھ بجے ہی ہے۔۔ اسنے مسکرا کر کہتے گھڑی کی جانب اشارہ کیا جہاں آٹھ بجنے میں دس منٹ رہتے تھے۔۔
ہاں میں بس نکل ہی رہا تھا۔۔۔ بس علایہ کو کالج ڈراپ کر کے پہنچ رہا ہوں۔۔ وہ مسکرا کر کہتے کار پورچ کی جانب بڑھا ۔۔ علایہ نے شال کھول کر خود پر اوڑھتے اسکی تقلید کی۔۔۔
کیا۔۔۔۔ وہاج خانزادہ چیخ اٹھا۔۔۔
محترم یہ تمہارا پہلا پراجیکٹ ہے اور تم نکھرے یولں دکھا رہے ہو جیسے بہت کامیاب بزنس مین ہو اور کمپنی والے کانٹریکٹ لئے ڈیل کے لئے تمہارے پیچھے پیچھے پھر رہے ہوں۔۔۔ زمین پر آ جاو شہزادے صاحب۔۔۔ ٹیون درست کرو اپنی۔۔۔ اس کو کالج چھوڑ کر آو گے تو میٹنگ کس وقت اٹینڈ کرو گئے۔۔۔ کلائنٹس پر اپنا پہلا امپریشن ہی تم ایسا چھوڑنا چاہتے ہو۔۔۔
اوہ میرے بھائی۔۔۔ تم نے خود تو ڈوبنا ہی ہے ساتھ میں مجھے بھی دوباو گے۔۔۔ اور میرا بزنس شروع کرنے سے پہلے ناکام ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔۔ کیونکہ مجھے میرے باپ کے بزنس میں کوئی انٹرسٹ نہیں اس لئے تمہاری بڑی مہربانی۔۔۔ وہ زوردار انداز میں مرتسم کے سامنے ہاتھ جوڑ گیا۔۔
وہ وہاج خانزادہ تھا۔۔۔ اور اسنے کب لحاظ رکھنا سیکھا تھا۔۔۔ تبھی لمحے میں اسکا تیا پانچہ کرتا مرتسم کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو مجبور کر گیا۔۔۔ البتہ اسنے پاس کھڑی علایہ کو سرے سے نظر انداز ہی کر دیا تھا۔۔۔
علایہ کو یہ سچویشن بہت اکورڈ لگی۔۔۔ ستم یہ کے وہ وہاج کے اس رویے پر اسے باتیں بھی نہیں سنا سکتی تھی۔۔۔ سچ تھا اس نکاح نے اسکی بولتی بند کروا دی تھی۔۔۔۔ مرتسم گاڑی کے پاس کھڑا شش و پنج میں مبتلا ماتھا مسل رہا تھا۔۔۔ باتیں تو اسکی سبھی درست تھی البتہ انداز ہی چبھتا ہوا تھا۔۔۔
اوکے ڈیلنگ میں کر رہا ہوں نا۔۔۔ تو میرا جلدی پہنچنا زیادہ ضروری ہے۔۔۔ تم پانچ دس منٹ لیٹ بھی ہو گئے تو چلے گا۔۔۔وہ سوچ سوچ کر بول رہا تھا۔۔۔ اب ناجانے اسکے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔۔ تو تم ایسا کرو میں وہاں پہنچتا ہوں تم علایہ کو کالج ڈراپ کر کے آ جانا۔۔۔ مرتسم کے پرسکون انداز میں کہنے پر علایہ نے تڑپ کر اسے دیکھا۔۔۔
نہیں بھائی۔۔۔ اٹس اوکے میرا کالج جانا اتنا بھی ضروری نہیں۔۔ میں کل چلی جاوں گی۔۔ وہ بدقت مسکراتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔ وہ سیدھے انداز میں انکار نا کر سکی کے وہ اس شخص کے ساتھ نہیں جا سکتی جو چند ہی لمحوں مین اسکے لئے شرمندگی کا گڑھا کھود چکا تھا۔۔۔ ناجانے سارے راستے کتنے تانے دیتا۔۔۔
وہاج نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا۔۔۔
باہر گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں میں۔۔۔ جلدی آو ۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتا باہر گیٹ کی جانب بڑھا غالباً اسکی گاڑی باہر ہی کھڑی تھی۔۔۔ مرتسم کے علایہ کو آنکھ سے اشارہ کرنے پر وہ مرتے کیا نا کرتے کے مصداق چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باہر کی جانب بڑھی۔۔۔
جبکہ اسکی رفتار کو دیکھتے گیٹ کے سامنے گاڑی میں بیٹھے وہاج نے غصے سے ہارن پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔
فضا میں ہارن کی آواز کا بے ہنگم ارتعاش سن کر علایہ بوکھلائے انداز میں گیٹ کی جانب بھاگی۔۔۔ کئ چیزوں میں یہ شخص جنگلی بن جاتا تھا۔۔۔ وہ عجلت میں پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھی جب وہ بنا اسکی جانب دیکھتا گاڑی ہواوں میں آراتا لے گیا۔۔۔
****

No comments