Roshan Sitara novel 63rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 63rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
63rd epi...
مس ماہرہ اظہر۔۔ آپ فائز علوی کے بارے میں کیا جانتی ہیں۔۔۔ وہ پانچ سے چھے افسران تھے جو ماہرہ کو نرغے میں لئے بیٹھے تھے۔۔۔ اسکے باپ اور بھائی کو تفتیش کے دوران بولنے کی اجازت نا تھی وہ دونوں مٹھیاں بھینچے ایک سائیڈ پر بیٹھے یہ ساری کاروائی دیکھ رہے تھے۔۔۔
آفیسرز کا انداز کرخت تھا۔۔۔ سامنے والے کو دباتا ہوا۔۔۔ ہراس کر کے معلومات لیتا ہوا۔۔۔
وہ میرا کزن تھا۔۔۔ یہ الفاظ ادا کرتے ماہرہ کا دل خون کے آنسو رویا۔۔۔
تو پھر آپ اسکے ساتھ اپارٹمنٹ میں کیوں رہ رہی تھیں۔۔ کس رشتے سے۔۔۔کس حیثیت سے۔۔۔۔ اسکی بات مکمل ہوتے ہی اگلے آفیسر نے تیزی سے سوال داغا۔۔ غالباً وہ ارد گرد سے ساری معلومات لے کر ہی یہاں آئے تھے۔۔۔ یقیناً کہیں سے یہ کنفرم نا ہوا ہو گا کے وہ فائز علوی کی بیوی ہے۔۔۔ فائز نے یہ بات چھپائی ہی اتنی تھی کے پتہ لگا پانا ناممکن سا امر بن گیا تھا۔۔۔
کیونکہ۔۔۔ تیزی سے بولتے بولتے ماہرہ کی زبان تھرکی۔۔ سمجھ نا آیا کے کیا بولے۔۔۔ اسے کیا بولنا چاہیے اور کیا حذف کرنا چاہیے۔۔۔
آپ کہانی گھرنے کو توقف نہیں لے سکتی مس۔۔۔۔آپکو جواب تیزی سے دینا ہوگا۔ ایک افیسر نے کرخت سے لہجے میں کہتے میز پر زوردار انداز میں ہاتھ مارا۔۔۔
ماہرہ خوف سے اپنی جگہ سے اچھل پڑی۔۔۔
اے آفیسر تم یوں میری بہن کو ہراس نہیں کر سکتے۔۔۔
مظہر طیش سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جب ایک آفسر نے اسکے کندھے پر ہاتھ کا دباو ڈالتے اسے نیچے بیٹھایا۔۔۔۔دوران تفیش انہیں کسی قسم کی انفارمیشن نا دینے سے روکنے کی پاداش میں تم پر کیس ہو سکتا ہے۔۔۔ وہ آفیسر سختی سے گویا ہوا۔۔۔
کس چیز کی انفارمیشن۔۔۔ فائز علوی پر جان لیوا حملہ ہوا۔۔۔ اس حملہ میں اسے بے دردی سے مار دیا گیا۔۔۔ اور آپ سب یہاں اسکے متعلق یوں انفارمیشن لے رہے ہیں جیسے وہ کوئی دہشت گرد ہو۔۔۔ مظہر آفیسر کا ہاتھ جھٹکتا غرایا۔۔۔
🙂🙂
ماہرہ کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔ کیا اب یہ ہی سب رہ گیا تھا۔۔۔
یہ ابھی ثابت نہیں ہوا کے وہ اچھا انسان تھا یا کسی غلط کام میں ملوث تھا۔۔ کیونکہ جس طرح سے بھاری تعداد میں اس پر حملہ ہوا ہے قوی امکان ہے کے وہ کسی غلط کام میں ملوث ہو۔۔۔اور اسنے اپنے سے کسی بھاری پارٹی سے پنگا لیا ہو۔۔۔ ورنہ بیٹھے بیٹھائے تو ایسے حملے نہیں ہوتے۔۔۔۔ایک آفیسر تلخی سے گویا ہوا۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔۔۔ کس بنیاد پر آپ اس پر یہ گھٹیا الزام لگانے کی کوشیش کر رہے ہیں۔۔ ماہرہ آفیسر کی اس گھٹیا لفاظی پر چٹخی۔۔۔ اسکا شوہر اس ملک کے لئے کام کرتے کرتے ختم ہو گیا اور یہ لوگ منہ پھاڑ کر اس پر الزام لگا رہے تھے۔۔۔ اور اتنے گھٹیا الزام۔۔۔ قوی امکان تھا کے یہ آفیسرز بھی ایمان فروش ہوں۔۔۔ ماہرہ کے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجیں۔۔۔ اسے محتاط رہنے کی ضرورت تھی۔۔۔ وہ انجانے میں بھی فائز کی کوئی انفارمیشن لیک نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
یہ ثابت ہو جائے گا ۔۔۔ پہلے آپکو ہمارے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔۔۔ جو انفارمیشن مانگی جائے وہ دیں۔۔ ورنہ آپ پر بھی کیس ہو سکتا۔۔۔ دوسرا انسپیکٹر ڈھارا۔۔۔
میں کچھ نہیں جانتی میرے پاس ایسی کوئی انفارمیشن نہیں جو آپکو درکار ہو۔۔۔
وہ چیخی۔۔۔ اپنی بے بسی پر آسو آپو آپ بہہ نکلے تھے۔۔۔
آپ فائز علوی کے ساتھ اسکے اپارٹمنٹ میں کیوں رہ رہی تھیں۔۔۔ ان آفیسرز نے جیسے ماہرہ کو سنا ہی نہیں اگلا آفیسر روب سے اس سے بھی زیادہ تیزی سے چیخا۔۔۔ جیسے یہ انکا کام ہو۔۔۔ اور لوگوں کی نفسیات سے کھیلنا وہ باخوبی جانتے ہوں۔۔۔
کیونکہ اسکی کسی دوست کو اسکی ضرورت تھی۔۔۔ اسکے باپ کا قتل ہوا تھا اور اسے سر چھپانے کو چھت چاہیے تھے۔۔۔ فائز کسی غیر محرم کے ساتھ اپارٹمنٹ نہیں شیئر کر سکتا تھا اس لئے اسنے مجھ سے ریکویسٹ کی کے میں اس لڑکی کے ساتھ وہاں رکوں۔۔۔ کیونکہ اس دوران وہ بہت کم اپارٹمنٹ آتا تھا۔۔۔ وہ بدقت کہانی بنا پائی۔۔
کون تھی وہ لڑکی۔۔۔ کرختگی سے اگلا سوال آیا۔۔۔
مظہر بے بسی سے سر پر ہاتھ پھیرتا یہ سب دیکھ رہا تھا جبکہ بابا نڈھال سے انداز میں بیٹھے تھے۔۔۔
مس ماہرہ کون تھی وہ لڑکی۔۔۔ آپ خاموش نہیں رہ سکتیں۔۔۔ اگلا آفیسر اسکے قریب آتا دھآڑ۔۔۔
مظہر نے ایک نظر روتی ہوئی بہن کو دیکھا اور جیب سے موبائل نکالتا باہر نکل گیا۔۔۔
اسے بالان آفسران سے بات کر کے یہ تفتیش رکوانی تھی۔۔۔
وہ اسکے کسی پروفیسر کی بیٹی تھی۔۔۔ ماہرہ تلخی سے گویا ہوئی۔۔
کون پروفیسر۔۔۔
میں نہیں جانتی کچھ۔۔۔ وہ چیخی۔۔۔
مس ماہرہ اس شخص پر ایک سائنٹیسٹ عظیم کی بیٹی اغواہ کرنے کا جرم عائد ہے۔۔۔ اگلا آفیسر غرایا۔۔۔
بکواس ہے یہ۔۔ ماہرہ چیخ اٹھی۔۔۔ ایک مر چکے انسان پر الزام عائد کرنا آسان ہے۔۔۔ کیونکہ پتہ جو ہوتا ہے وہ تھوڑی نا اپنی صفائی پیش کرنے آ سکتا ہے۔۔۔ غم وغصے سے اس پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔
کیسے۔۔ ابھی تو آپ انکاری تھیں کے آپ کچھ نہیں جانتیں۔۔۔ پھر آپکو کیسے پتہ کے اس لڑکی کو اغواہ نہیں کیا گیا۔۔۔
آپ سب جانتی ہیں بس بتانے سے انکاری ہیں۔۔۔۔ وہ ماہرہ کی ساری بات سے محض اپنے کام کی بات پکڑ چکے تھے۔۔۔ جیسے اسکی باقی کوئی دہائی انہیں سنی ہی نا ہو۔۔۔
آپ قانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتیں۔۔۔ وہ سبھی ایک ہی بار میں اس پر سوالوں کی بوچھار کئے اسے ہراس کر چکے تھے۔۔۔
وہ زارو قطار رو دی۔۔۔
وہ سونم تھی۔۔۔ جو اپنی مرضی سے فائز کیساتھ آئی تھی۔۔۔ وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامتی پوری قوت سے چیخی۔۔
سبھی آفسران نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔ وہ اسے پریشرآئز کر کے اسکا دماغ قابو کرنے میں کامیاب ہو رہے تھے۔۔۔ اس پریشر میں وہ بنا سوچے سمجھے دماغ میں آتی ہر بات انہیں بتاتی جانے والی تھی۔۔۔
ڈرائینگ روم کی کھلی کھڑی سے باہر مظہر مسلسل فون پر جھنجھلایا ہوا کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔۔۔
وہ لڑکی اپنی مرضی سے اسکے ساتھ کیوں آئی۔۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کے فائز علوی نے اسے اغواہ کیا ہو۔۔۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے وہ لڑکی شادی شدہ تھی تو وہ اپنے شوہر کے پاس کیوں نہیں گی۔۔۔ بوچھار کی صورت اگلا سوال آیا۔۔۔
میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔ وہ انکے سخت لہجوں سے ہراس ہوتی شدت سے رو دی۔۔
آپ سب جانتی ہیں۔۔۔ بتائیں ہمیں۔۔۔
اسکا شوہر کہیں دور تھا شاید ۔۔۔
کہاں تھا۔۔۔ کتنی دور۔۔۔ کیا کرتا ہے اسکا شوہر کون ہے وہ۔۔۔ کئ سوال ایک ساتھ آئے تھے۔۔
مجھے کچھ نہیں پتہ۔۔۔ میں کچھ نہیں جابتی۔۔۔
آپکو بتانا ہو گا مس ماہرہ۔۔۔
میں نہیں جانتی کچھ۔۔ وہ پھر سے چٹخی۔۔۔
کہیں ایسا تو نہیں کے فائز علوی ہی اسکا شوہر ہو۔۔۔ اگر ایسا ہے تو اس وقت سونم کہاں ہے
۔۔
مجھے نہیں پتہ۔۔۔ مجھے کچھ نہیں پتہ۔۔ آپ لوگ مجھے ہراس نہیں کر سکتے۔۔۔ وہ چٹخی۔۔۔
آپکو ہمارے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔۔۔ ہمیں سونم کے شوہر کے بارے میں بتائیں۔۔۔
لہجے میں سختی کے ساتھ ساتھ تلخی اور دبدبہ مزید بڑھنے لگا تھا۔۔
مجھے نہیں پتہ اسکے شوہر کا۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔ وہ دماغ پر زور ڈالتی پوری قوت سے چیخ رہی تھی۔۔۔
فائز کی حکمت عملی کہیں نا کہیں کام آ رہی تھی۔۔۔ وہ لوگ ماہرہ کو پریشرائز کر کے جو چین لنک بنانے کی کوشیش کر رہے تھے فائز علوی نے اسکی کڑیاں سرے سے غائب ہی کر دی تھیں۔۔۔ وہ لوگ چاہ کر بھی ان میں کوئی چین لنک نہیں بنا پا رہے تھے۔۔۔
دفعتاً دو افسران کے ساتھ مظہر بھاگتا ہوا اندر آیا۔۔۔
آپ لوگ کسی معصوم بے قصور شہری کو اس طرح سے ہراس نہیں کر سکتے آفیسرز۔۔۔
Your time is over... وہ آفیسر سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔۔
,مظہر نے اپنی پوری طاقت لگواتے ہوئے یہ تفتیش رکوائی تھی۔۔۔ اس آفسر کے روب سے کہنے پر مظہر بھاگتا ہوا انکے نرغے میں گھری بہن تک گیا جو اسکے پاس آتے ہی سہارا پاتے اسکے کندھے سے لگی شدت سے رو دی۔۔۔
مظہر ان سب کو نظر انداز کئے اسکا سر تھپتھپاتا اسے لئے باہر نکل آیا۔۔
*****
سر تقریباً تیس سے پینتیس منٹ تک تفتیش چلتی رہی ہے۔۔۔ ہم نے ہر طرح سے اس لڑکی کو پریشرائز کر کے اس سے حقیقت جاننی چاہی لیکن وہ لڑکی سبھی حساس معاملات میں لاعلم ہے۔۔۔
سونم فائز علوی کی بیوی ہے یا اسکا شوہر کوئی اور ہے اور سونم اس وقت کہاں ہے وہ ان سب معاملات سے لاعلم ہے۔۔۔ مزید کچھ دیر تفتیش چلتی تو شاید ہم مزید بھی کچھ معلوم کر لیتے مگر ان لوگوں نے بہت اوپر تک اپروچ کر کے تفتیش رکوائی ہے۔۔۔ مزید ہم کسی بے ْقصور لڑکی کو بنا کسی وجہ سے ریمانڈ میں بھی نہیں لے سکتے۔۔۔
اندر سے نکلتے ہی ان آفیسرز میں سے ایک نے فون پر نمبر ملاتے فون کان سے لگایا۔۔۔
دوسری جانب اس جدید ڈیجیٹل لیب میں لگے مخملی صوفوں پر سے ایک پر پوری شان سے براجمان دلاور خان نے ٹانگ پر رکھی ٹانگ کا پاوں جھلاتے گہری خاموشی سے اس آفیسر کی ساری باتیں سنی۔۔۔
لیب کی سبھی چھوٹی بڑئ بتیاں جلی ہوئی تھیں جس سے وہاں دن کا سامان تھا۔۔۔
میر ان سے کچھ دور فاصلے پر موجود ریوالونگ چیئر جھلاتا توجہ سے سپیکر پر لگے فون سے ابھرتی آواز سن رہا تھا۔۔۔
جبکہ باپ کے پاس ہی سنگل صوفے پر بیٹھی بلیک جینز اور لیڈر کی جیکٹ میں ملبوس شائنہ مصروف سے انداز میں فائلر سے ناخنوں کو شیپ دے رہی تھی۔۔
یہ لڑکی بہت اہم ہے ہمارے لئے آفیسر۔۔۔ کسی بھی طرح اس سے دوبارہ تفتیش کرواو۔۔۔۔ پروفیسر کی بیٹی کا ملنا اشد ضروری ہے۔۔۔ اور یہ واحد لڑکی ہے جو ہمیں اس تک لیجا سکتی ہے۔۔۔دلاور خان نے اپنی مونچھوں کو تاو دیا
سر یہ بہت مشکل امر ہے۔۔۔ ایک تو پارٹی بہت سٹرونگ ہے۔۔ ہم بار بار انکی بیٹی کو تفتیش میں گھسیٹ نہیں سکتے۔۔ دوسرا اپروچ بہت اوپر تک ہوئی ہے۔۔۔ وہ آفیسر لہیمی سے گویا ہوا۔۔۔
پھر ایک کام کرو۔۔۔ فائز علوی کو دہشت گرد ثابت کرواو۔۔۔ اور وہیں سے لنک بنا کر اس لڑکی کو حراست میں لو۔۔۔ یہ ہی لڑکی ہمیں کسی نا کسی کلیو تک پہنچائے لگی۔۔۔ دلاور خان کی سخت بے تاثر نگاہیں کسی غیر مری نقطے پر جمی تھیں۔۔
سر یہ سب آسان نہیں۔۔ فائز علوی کی ریپوٹیشن بہت سٹرانگ ہے۔۔۔ اسکی کریڈیبیلٹی ہر لحاظ سے کلیئر ہے۔۔۔
اپارٹمنٹ بلڈنگ کے معتبر لوگوں سے لے کر چوکیدار تک اور یونیورسٹی کے ایک ایک فرد تک سب اسکے حق میں گواہی دینے کو تیار ہیں۔۔۔
نیز اس سب میں بالا ہی بالا آرمی بھی ملوث ہے۔۔۔ وہ فائز علوی کی ڈیٹھ کے بعد ہسپتال بھی آئی تھی اور انہوں نے فائز علوی کی ہر چیز فریز کروا دی ہے۔۔۔ اگر ہم اسکے بارے میں کھلم کھلا معلومات لیتے ہیں تو مشکوک بن جائیں گے۔۔۔
ہممم۔ تو یہ بات ہے۔۔۔ آفیسر کے تحمل سے سمجھانے پر دلاور خان سمجھ کر سر ہاں میں ہلایا گیا۔۔۔
چلو پھر بتاتا ہوں تمہیں کے آگے کیا کرنا ہے۔۔۔
میرے پاس آئیڈیا ہے چچا جان کے آگے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔۔۔ فون بند ہوتے ہی میر اپنی جھلاتی کرسی ساکت کرتا دلاور خان کی جانب دیکھتا گویا ہوا۔۔
ہممم بولو۔۔۔ وہ بھی سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھتے گویا اسے اجازت دے گئے۔۔۔ جبکہ شائنہ اپنے ناخن شیپ دیتی انہیں بے زاری سے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔۔
******
کون تھے یہ لوگ اور انکے یہاں آ کر یوں تفتیش کرنے کا بھلا کیا مقصد تھا۔۔۔
وہ سب اس وقت ماہرہ کے کمرے میں بیٹھے تھے۔۔۔ ماہرہ بیڈ پر ماں کی گود میں سر رکھے لیٹی آنسو بہا رہی تھی جبکہ بابا سامنے صوفے پر گم صم سے انداز میں بیٹھے تھے۔۔ فائز علوی کی ناگہانی موت انکی بھی کمر توڑ گئ تھی۔۔
اور مظہر کمرے کے بیچ و بیچ کھڑا طیش سے ماتھے پر مکے مارتا اندر کی بے چنی اور کھولن نکال رہا تھا۔۔۔
اسکے گھر آ کر یوں اسکی بہن کو نام نہاد تفتیش میں گھسیٹ کر پریشرائز اور ہراس کرنا کوئی چھوٹی بات نا تھی۔۔۔
کیا کرتا رہا ہے فائز۔۔۔ ایسے کونسے کام تھے اسکے جو یہ ادارے والے یوں ہاتھ۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ جسٹ شٹ آپ۔۔۔۔۔ ابھی مظہر کی بات مکمل بھی نا ہوئی تھی جب ماہرہ ڈھارتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔۔۔
میرا شوہر ایک مخلص اور محب وطن شخص تھا۔۔۔ جو اس ملک کے لئے کام کرتا کرتا اپنا آپ تک قربان کر گیا۔۔۔ غصے سے بولتے اسکی آواز رھند گئ۔۔۔ خبردار جو تم نے اسکے بارے میں ایک غلط لفظ بولنے کی کوشیش بھی کی تو۔۔۔
وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتا اپنی صفائی میں کچھ کہنے کو منہ کھولنے ہی والا تھا جب ماں نے اسے اشارے سے خاموش رہنے کی تنبیہ کرتے ماہرہ کو اپنے حصار میں لیا۔۔۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا ماہرہ۔۔۔ وہ بے بسی سے ہاتھ سر پر پھیر کر رہ گیا۔۔۔
تمہارا جو بھی مطلب تھا۔۔۔ اپنے ہر مطلب سے میرے شوہر کا ذکر نکال دو۔۔۔ اگر تم اسکا ذکر اچھے الفاظ میں نہیں کر سکتے تو اسکا ذکر ہی مت کرو۔۔۔
وہ ماں کی گود میں سر رکھے سسک اٹھی تھی۔۔۔
اندازہ نا تھا کہ اس ایک مہربان شخص کے دور ہو جانے سے زندگی اتنی کھٹن ہو جائے لگی۔۔۔
دفعتاً ملازمہ دستک دے کر اندر داخل ہوئی۔۔
وہ بیگم صاحبہ ماہرہ باجی کی رپورٹس آ گئ ہیں۔۔۔ وہ ہاتھ میں لفافہ تھامے انکی جانب دیکھتی گویا ہوئی تو قریب کھڑے ہونے کے باعث مظہر نے رپورٹ تھام لگی۔۔۔ مظہر کے رپورٹ تھامتے ہی ملازمہ واپس چلی گئ۔۔۔ جبکہ ماہرہ ہر چیز سے بے نیاز ویسے ہی ماں کی گود میں چہرا چھپائے نیم دراز تھی
مظہر نے لفافہ چاک کرتے اندر سے رپورٹ نکالی اور لفافہ وہیں میز پر رکھتے رپورٹ کھول کر پڑھی۔۔۔ لیکن رپورٹ پڑھتے ہی وہ کرب سے آنکھیں میچ گیا۔۔۔
مام اور بابا نے شدت سے اسکا یہ انداز نوٹ کیا۔۔۔
کیا لکھا ہے رپورٹ میں مظہر۔۔۔ بابا کے فکر مندی سے دریافت کرنے پر وہ گہرا سانس خارج کرتا رپورٹ میز پر رکھ گیا۔۔۔
خود ہی دیکھ لیں۔۔۔ بھاری آواز میں کہتا وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جبکہ اسکی غیر معمولی آواز پر جہاں بابا اپنی جگہ سے اٹھتے میز تک آئے وہیں ماہرہ بھی حیرت سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
بابا نے رپورٹ اٹھا کر پڑھی تو بے ساختہ انکے ہاتھ کپکپا گئے۔۔۔ آنکھیں شدت سے نم ہو اٹھیں۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ کیا ہے رپورٹ میں۔۔۔ ماں حیرت سے مستفسر ہوئیں۔۔۔ مظہر کے بعد بابا کو بھی رپورٹ پڑھتے چپی لگ گئ تھی۔۔۔ وہ پریشان ہو اٹھیں۔۔۔ جب بابا چھوٹے چھوتے قدم اٹھاتے ماہرہ کے پاس آئے اور اپنا کپکپاتا ہاتھ اسکے سر پر رکھ کر رپورٹ اسکی گود میں رکھتے خود باہر نکل گئے۔۔۔
ماہرہ نے حیرت و پریشانی سے انکی کاروائی دیکھی ایک دفعہ اسکا دل گھبرایا۔۔۔۔ اسنے ہمت کرتے رپورٹ اٹھا کر پڑھی۔۔۔
اسے سمجھ نا آیا کے یہ خبر پڑھ کر وہ خوش ہو یا قسمت کی اس ستم ظریفی پر ڈھاریں مار مار کر رو دے۔۔
باوجود ضبط کے بھی ایک آنسو اسکی آنکھ سے چھلکا۔۔۔ آج ابھی اسی ایک لمحے میں وہ ستم گر شدت سے یاد آیا تھا۔۔۔ اتنی شدت سے کے اسے لگا اسکا دل پھٹ جائے گا ۔۔
فائز علوی۔۔۔ اتنی محبت دے کر کیوں چھوڑ گئے۔۔۔ کرلاتے دل نے دہائی دی تھی۔۔۔
*****

No comments