Roshan Sitara novel 62nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 62nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
62nd epi...
کانوں کو پھارٹا میوزک بج رہا تھا۔۔۔ ایسے میں ایک گانا ختم ہونے پر شور کی آواز زرا تھمی تو سٹیج سے کچھ فاصلے پر کھڑے مرتسم کو اپنے موبائل کی بجتی بیل کا احساس ہوا تو وہ فون اتھاتا نسبتاً پرسکون گوشے کی جانب بڑھا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ وہ شور کی آواز میں زور سے گویا ہوا۔۔۔ دوسری جانب رابطہ استوار ہونے ہر ماہرہ جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
ہیلو۔۔۔ ہیلو مرتسم۔۔۔ فائز۔۔۔ پلیز اسے بچا لو۔۔۔ دوسری جانب سے ماہرہ کی سسکیاں سن کر مرتسم چونکا اور اندھا دھند بھاگتا ہوا گھر کا گیٹ عبور کر کے گھر کی حدود سے باہر نکلا کے میوزک کا شور بات سمجھنے میں خلل ڈال رہا تھا۔۔۔
ہوا کیا ہے ماہرہ اور فائز کہاں ہے۔۔۔ مجھے تحمل سے بتاو سب۔۔۔ وہ پریشانی سے ماتھا مسلتا گویا ہوا۔۔۔ کہ ماہرہ کی سسکیاں اسے شدت سے کسی انہونی کا پتہ دے رہی تھیں
اپارٹننٹ میں پروفیسر صاحب کے دشمنوں نے حملہ کر دیا ہے مرتسم۔۔۔ وہ لوگ تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور اسلحے سے لیس۔۔۔ فائز نہتا تنہا ہے وہاں۔۔۔ وہ ہچکیوں سے رو دی۔۔۔ اسنے مجھے وہان سے کسی طرح نکال دیا ہے۔۔ پلیز سیو ہیم۔۔ پلیز اسے بچالو مرتسم۔۔۔ میرے فائز کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ وہ زارو قطار رو دی تھی ۔۔۔ جبکہ مرتسم کو اپنے قدموں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی۔۔ وہ تو یہیں تھا اسکے پاس پھر وہ کس وقت چپ چاپ بنا انہیں بتائے یہاں سے نکل گیا۔۔۔
تم کہاں ہو ماہرہ۔
وہ واپس اندر کو بِھاگتا گویا ہوا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔ میں راستے میں گارئ روکے تمہیں فون کر رہی ہوں۔۔۔
بے وقوف لڑکی فون بند کرو اور سیدھا گھر پہنچو۔۔۔ تمہارا اس وقت راستے میں رکنا خطرے سے خالی نہین اور اپنا فون بھی بند کر دو۔۔۔ ہو سکتا ہے وہ لوگ فائز کیساتھ ساتھ ہمیں بھی ٹریس رہے ہوں۔۔۔ اندر آتے ہی میوزک کا شور پھر سے ابھرنے لگا۔۔۔ وہ فائز والی غلطی نہیں دہرا سکتا تھا اس لئے سیدھا سٹیج پر پہنچا اور رسموں کے درمیاں سے وہاج کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا اور اپنے ساتھ سٹیج سے نیچے لئے اترنے لگا۔۔۔ کئ لوگوں نے اسے رسم کے دوران دلہے کو لیجانے سے روکنا چاہا۔۔ مگر وہ سب کو اشارے سے واپس آنے کا کہتا وہاج کو لئے پارکنگ کی جانب بڑھا۔۔۔
وہاج حق دق سا اسکے ساتھ جا رہا تھا یہ بھلا اچانک سے اسے کیا ہوا۔۔۔
فکر مت کرو ماہرہ ہم فورس کے ساتھ وہاں پہنچ رہے ہیں تم باحفاظت گھر پہنچو۔۔۔ اور سب سے پہلے اپنا موبائل بند کرو۔۔۔ وہ بعجلت اسے کہہ کر فون بند کرتا گڑی میں بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔۔۔۔
ہو کیا ہے بھئ مجھے بھی تو پتہ چلے۔۔ وہاج پریشان سا یسنجر سیٹ پر بیٹھتا گویا ہوا۔۔۔ مگر اسے جواب دینے کی بجائے مرتسم ایک اور نمر ڈائل کر کے کان سے لگا چکا تھا۔۔
ہیلو وجی۔۔۔ جلدی سے علاقے کے ایس ایچ او سے رابطہ استوار کر کے ریڈ کا انتظام کرواو اور فورس لے کر فائز کے اپارٹمنٹ پہنچو۔۔ وہاں حملہ ہوا ہے۔۔۔ اور جلد از جلد وہاں پہنچنے کی کوشیش کرو۔۔۔ اسے فون پر بریفینگ دے کر فون بند کرتے اسنے گاڑی گویا ہواوں میں اڑا دی۔۔
*****
ماہرہ مفلوج ہوتی حیسوں کے ساتھ تیزی سے گاڑی چلا رہی تھی۔۔۔ غیر دماغی سے گاڑی چلاتے دو مرتبہ اسکا ایکسیڈینٹ ہوتے ہوتے بچا تھا۔۔۔ جیسے تیسے وہ گھر پہنچی۔۔۔ گیٹ کے سامنے اسکی گاڑی رکتے دیکھ چوکیدار نے گاڑی پہچان کر تیزی سے گیٹ وا کیا۔۔۔
گاڑی کار پورج میں روکتے ہی وہ اندھا دھند اندر کو بھاگی۔۔۔ مام ڈیڈ لاوئنج میں ہی بیٹھے تھے جب وہ گرتی پڑتی لاوئنج کا دروازہ وا کرتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
ماہرہ۔۔۔ ماہرہ بچے کیا ہوا۔۔۔ وہ دونوں ہی اسکی اجری حالت دیکھ حواس باختگی میں اسکی جانب بڑھے۔۔۔
بابا نے اسے سہارا دیتے گرنے سے بچایا اور مقابل کھڑا گیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
بابا۔۔۔ فائز۔۔۔ بابا میرے فائز کو بچا لیں ۔۔ پلیز خدارا اسے بچا لیں۔۔۔
ماہرہ بیٹا کیا ہوا فائز کو کچھ بتاو تو سہی۔۔۔
بابا۔۔۔ فائز اپارٹمنٹ حملہ۔۔۔ وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہتی وہیں جھول گئ۔۔۔
ماہرہ۔۔۔ ماہرہ۔۔۔ مام نے چیختے ہوئے اسکا چہرا تھپتھپایا مگر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئ تھی۔۔۔
******
ماہرہ کی آنکھ کھلی تو پہلی نظر ہی سیلنگ فین سے ٹکرائی۔۔۔ کچھ پل لگے اسے حواسوں میں لوٹتے ۔۔۔ رفتہ رفتہ اسے سب یاد آنے لگا۔۔۔ فائز کا خیال آتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
سسسیی۔۔۔ یکدم ہاتھ پر کھینچ لگنے کے ساتھ تکلیف کے اثرات نمودار ہونے پر اسنے چونک کر ہاتھ کی جانب دیکھا جہاں آئی وی لائن کی مدد سے ڈرپ لگی تھی۔۔۔
ارے رے رے بیٹا آرام سے۔۔۔ پاس ہی کرسی پر بیٹھیں مام اسے ہوش میں آتا دیکھ تیزی سے اسکی جانب لپکیں۔۔۔ غالباً کرسی پر بیٹھے بیٹھے انکی بھی آنکھ لگ گئ تھی۔۔۔
مام۔۔۔ اسنے خالی خالی نظروں سے مام کو دیکھنے کے بعد کمرے میں نگاہین ڈورائیں وال کلاک پر نظر پڑی تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا جو رات کے بارہ بجا رہا تھا۔۔۔
دل کی بے چینی حد سے سوا ہوئی۔۔۔ مام فائز۔۔۔ فائز واپس آگیا کیا۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ وہ لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پاتی بے چینی سے گویا کوئی۔۔۔
پتہ نہیں ماہرہ۔۔۔ تمہارے بابا تو اسی وقت نکل گئے تھے گھر سے اسکا پتہ کرنے۔۔۔ میری یہاں بیٹھے بیٹھے آنکھ لگ گئ۔۔۔ تم یہیں بیٹھو دیکھو ڈرپ ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔ میں انہیں فون کر کے پتہ کر کے آتی ہوں۔۔۔
تم بس اللہ سے دعا کرو۔۔۔ انشااللہ وہ سب بہتر کرے گا۔۔۔
ماں ماتھا مسلتیں اٹھ کر باہر نکلیں تو وہ تھکے تھکے سے انداز میں سر بیڈ کراون سے ٹکا گئ۔۔۔ خاموش آنسو پلکوں کی باڑ پھیلانگتے بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔
یااللہ میرے فائز کی حفاظت کرنا۔۔۔ اسے کچھ نا ہو۔۔۔ اسے میری بھی عمر لگ جائے میرے مالک۔۔۔میرے شوہر کو صحیح سلامت میرے سامنے لا دے میرے مالک۔۔۔ وہ بے آواز اپنے رب سے دعا گو تھی۔۔۔ دل بے حد بوجھل تھا۔۔۔ فائز کی فکر دل میں چٹکیاں کاٹ رہی تھی۔۔۔ اسکا دل و دماغ وہیں کہیں فائز میں ہی اٹکا تھا۔۔۔ اسے جو بھی کوئی دعائیں آتیں تھیں وہ سب پڑھتی فائز کی سلامتی اور لمبی عمر کی دعائیں مانگ رہی تھی۔۔۔
مسلسل اللہ کے حضور دعائیں مانگتے اسکا سر بھاری ہونے لگا تھا۔۔۔۔ وہ وہیں بھاری ہوتے سر کے ساتھ آنکھیں موندتی پھر سے سو گئ۔۔
*****
میجر اریز آج کسی خاص کام کی وجہ سے دیر سے گھر آیا تھا۔۔۔ سونم کو وہ اپنے تاخیر سے آنے کے بارے میں پہلے ہی انفارم کر چکا تھا۔۔۔
کمرے میں اسکی موجودگی محسوس کر کے سونم کی آنکھ کھل گئ۔۔۔ اریز آج آپ پھر سے اتنی لیٹ آئے ہیں۔۔۔ اریز کو دیکھ کر وہ مندھی آنکھوں سے منہ پھلا کر گویا ہوئی۔۔۔
سوری سویٹ ہارٹ کام تھا کچھ ۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھتا گھڑی اتار کر رکھتاساتھ ہی مصروف سے انداز میں لیپ ٹاپ آن کر چکا تھا۔۔۔ آج سارا دن اسکے سبھی اکاونٹس اور موبائل نمبر بند رہا تھا اب سونے سے پہلے وہ سب کچھ ایک نظر دیکھ کر پھر بستر پر جانا چاہتا تھا۔۔۔
کھانا لاوں۔۔۔ وہ آنکھیں مسلتی سیدھی ہوئی۔۔۔ نہیں میں کھا چکا ہوں تم سو جاو وہ مسکرا کر اسکی جانب دیکھتا نرمی سے گویا ہوا۔۔۔۔۔ اسکے کہنے کی دیر تھی کے سونم کچی نیند میں پھر سے بستر پر دراز ہوگئ۔۔ جبکہ تب تک فائز کی میل اسکے سامنے کھل چکی تھی۔۔۔
میل پڑھتے ہی وہ اچھنبے سے سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ اسنے تیزی سے موبائل نکالتے اسے آن کیا اور واٹس ایپ کھولی۔۔ وہاں بھی فائز کے ان گنٹ وائس میسجز تھے۔۔۔۔ اسنے ایک نظر سوئی جاگی کیفیت میں لیٹی سونم کو دیکھا اور تیزی سے موبائل پر فائز کا نمبر ملانے لگا۔
اسکے چہرے سے کسی بھی چیز کا اندازہ لگا پانا ناممکن سا امر تھا اسے اپنے جذبات و احساسات چھپانے میں عبور حاصل تھا۔۔۔
فائز کا نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
سونم مجھے ضروری کام ہے ۔۔۔ میں ابھی نکل رہا ہوں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ کینٹ میں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔۔۔ دروازہ میں لاک کر کے جاوں گا تم آرام کرو۔۔۔
وہ تیزی سے والٹ اور موبائل جیب میں رکھتا کار کی چابیاں اٹھاتا گویا ہوا۔۔۔
ابھی تو آئے تھے آپ اور ابھی۔۔۔ وہ حیرت زدہ سی اچنبھے سے بول رہی تھی
جب وہ اسکی بات درمیاں میں ہی کاٹ گیا۔۔۔ بہت ضروری کام ہے یار۔۔ دعا کرنا فتحیاب ہو کر لوٹوں۔۔۔ کوئی بڑا نقصان نا ہو۔۔۔۔ انشااللہ صبح تک آ جاوں گا۔۔۔ وہ ہلکی سی اداس مسکراہٹ اسکی جانب اچھالتا کمرے سے نکلا۔
******
دوبارہ ماہرہ کی آنکھ ایک عجیب سے شور سے کھلی۔۔۔ اسنے کسلمندی سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ ہاتھ سے آئی وی لائن اتر چکی تھی۔۔۔
وہ باہر سے آتے شور کو سنتی سیدھی ہوئی۔۔۔
ایمبولینس کا شور ۔۔۔ لوگوں کے بین۔۔۔ سسکیاں۔۔۔ ماتم۔۔۔ دماغ نے ان سب آوازوں کو سینسر کر کے الگ الگ طور پر پہچان کی تو دل کسی انہونی کے خدشے سے بری طرح لرزا۔۔۔۔ اسنے وال کلاک پر نظر ڈالی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ صبح کے چھ بج گئے۔۔ وہ سر تھام کر رہ گئ۔۔ اور فائز۔۔۔ ایک نیا خوف سر تانے اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔۔
وہ کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈالتے بستر سے اتری اور ننگے پاوں اندھا دھند باہر کو بھاگی۔۔۔
لاوئنج میں ہی ماں اسے بے حال سے انداز میں آبدیدہ سی دیکھائی دیں۔۔۔۔جیسے ناجانے کتنی اذیت میں ہوں
مام۔۔۔ دل کی ڈھڑکنوں کیساتھ ساتھ جسم کی سکت بھی اسکا ساتھ چھوڑ رہی تھی۔۔۔
ماں روتی ہوئیں اسکی جانب بڑھیں۔۔۔ میری جان صبر کرنا۔۔۔ یہ ہی اللہ کا حکم تھا۔۔۔ مان کی نافہم باتیں اس پر لرزہ طاری کر رہی تھیں۔۔۔۔ فائز نہیں رہا۔۔۔ ظالموں نے ختم کر ڈالا اسے۔۔۔ ڈھر ڈھر ڈھر۔۔۔ گویا ساتعں آسمان اسکے سر پر گر پڑے۔۔۔ماں کے الفاظ تھے یا بچھو کے ڈنگ۔۔۔ اسنے کسی اچھوٹ کی مانند یکدم سے انہیں خود سے الگ کرتے پیچھے ڈھکیلا۔۔۔۔
آپکو اندازہ بھی ہے مام کہ آپ کیا فضول بول رہی ہیں۔۔ وہ کپکپاتا ہاتھ چہرے پر پھیرتی ڈھاری۔۔۔ کیا ماں کو اندازہ نا تھا کے انکے الفاظ کیسے ماہرہ کے جسم سے جان کھینچ سکتے ہیں۔۔۔
ماہرہ میری بچی۔۔۔
بس مام۔۔۔ پلیز دور رہیں مجھ سے وہ قطیعت سے کہتی باہر لان کی جانب بھاگی جہاں دور سے ہی مرتسم اور وہاج اپنے بہتی آنکھیں صاف کرتے میت کو کندھا ایمبولینس سے نکال رہے تھے۔۔
یہ منظر دیکھ ماہرہ پورے قد سے ڈھے گئ۔۔۔ جیسے کسی نے اسکے وجود سے بم باندھ کر اسکے پرخچے اڑا دیئے ہوں۔۔۔
یہ سب کیا بیہودگی یے ۔۔۔ کون ہے یہ ۔۔۔ وہ مفلوج ہوتے دماغ کیساتھ اندھ ادھند آگے کو بھاگی۔۔۔
وہ لوگ میت کو لان میں رکھ چکے تھے جب اسنے آتے ہی مرتسم کو جھنجھوڑ ڈالا۔۔۔ وہ اونچا لمبا مضبوط شخص اسکے سامنے بچوں کی مانند رو دیا۔۔۔
ایم سوری ماہرہ۔۔۔ سو سوری ماہرہ۔۔۔ اسنے شرٹ کی آستین سے آنسو رگڑے جبکہ وہاج بہتی آنکھیں صاف کرتا رخ موڑ گیا۔۔۔ وہ شائید اس دیوانی کی یہ حالت نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
ہمیں اپارٹمنٹ پہنچنے میں دیر ہوگئ ماہرہ۔۔۔ جب تک ہم لوگ فورس کیساتھ اپارٹمنٹ پہنچے اپارٹمنٹ چاروں جانب سے آگ کی لپیٹ میں تھا۔۔۔ وہ بول رہا تھا جبکہ ماہرہ کو سب کچھ سلو موشن میں چلتا محسوس ہوا۔۔۔ وہ قدم قدم پیچھے لینے لگی۔۔۔
ہم فوری طور پر فائز کو ریسکیو کر کے ہسپتال لے گئے۔۔۔ مگر ڈاکٹروں کی پوری رات کی جان توڑ کوشیشوں کے باوجود۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑتا لب بھینچ گیا۔۔۔
ماہرہ نے خالی خالی نگاہوں سے میت کو دیکھا۔۔۔ اسکا دل گویا پھٹ گیا۔۔۔
وہ پوری زندگی تم لوگوں پر جان چھڑکتا رہا ۔۔۔ غم و غصے سے اسکی آواز گویا اندر ہی دبنے لگی۔۔۔ماہرہ میری جان۔۔۔ مام بھاگتی ہوئی اس تک پہنچیں۔۔۔۔
تم لوگ اسکے مشکل وقت میں اسکے کام تک نا آ سکے اسنے سامنے سے اپنے باپ کو اتے دیکھ ہچکی لی اور یہ صدمہ نا سہتے ہوئے وہیں جھول گئ۔۔۔
لان میں ایک دفعہ پھر سے ہلچل مچ گئ تھی۔۔
*****۔۔
گھر سے باہر نکلتے ہی میجر اریز نے فورس سے رابطہ کر کے اپنے ساتھ آرمی فورس لی۔۔۔
وہ لوگ جلد از جلد فائز کے اپارٹمنٹ پہنچے لیکن انکے پہنچنے سے پہلے ہی اپارٹمنٹ آتش کی نظر ہو چکا تھا۔۔۔
اریز جلے ہوئے اپارٹمنٹ کے بیچ و بیچ کھڑا سرخ نگاہوں سے ہر چیز کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔ ناجانے یہاں آگ بھڑکنے سے پہلے کیا کیا ہوا تھا۔۔۔
یہ سب سوچتے وہ مٹھیاں میچ گیا۔۔۔
یقیناً ابھی بہت کچھ تھا جو پس پردہ تھا۔۔۔
فائز علوی کون سے ہسپتال میں تھا اسے پتہ چل چکا تھا اور اسکے ہسپتال پہنچنے سے تک فائز علوی کی ڈیٹھ ہو چکی تھی۔۔۔
اریز اپنے اتنے قیمتی ضیائع پر دل تھام کر رہ گیا۔۔۔
سب سے پہلا کام جو اسنے کیا تھا اسنے فائز علوی کی ہر چیز فریز کروا دی تھی۔۔۔ آئی ڈی کارڈ پاسپورٹ بینک اکاونٹس۔۔ ہر چیز۔۔۔ کوئی اسکی سٹیٹمنٹس کے ذریعے سے اسکے بارے میں مزید معلومات نہیں نکلوا سکتا تھا۔۔۔ اگر کوئی نکلوانے کی کوشیش کرتا تو اسے فوری طور پر سب پتہ چل جاتا۔۔۔
*****
فائز علوی کے انکی زندگیوں سے جانے کے بعد سے انہوں نے جانا تھا کے وہ باکمال با اخلاق یاروں کا یار شخص انکی زندگی میں کیا اہمیت رکھتا تھا۔۔۔
ان سب کی زندگیاں جیسے رک سی گئ تھیں۔۔۔ جیسے زندگی کا مقصد ہی حیات نا رہا ہو۔۔۔ انکی زندگیوں کو متحرک کرتی واحد شے جیسے محض فائز علوی ہی ہو۔۔۔ مرتسم اور وہاج جیسے اپنی اپنی جگہ گم صم سے ہو کر رہ گئے تھے۔۔۔ چلتے پھرتے کھاتے پیتے معمولات زندگی کو سمبھالتے بظاہر سب ٹھیک مگر اندر سے شاید ایک خانہ خالی ہو گیا تھا۔۔۔
آج فائز علوی کو اس دنیا سے گئے تیسرا دن تھا لیکن گویا یہ تین دن جیسے تین صدیوں پر محیط ہو گئے ہوں۔۔۔
۔۔۔ وہ لوگ باقاعدگی سے اسکی قبر پر جاتے لیکن سکون کہیں نہیں تھا۔۔۔ فائز علوی کی ناگہانی موت نے انکی کمر توڑ دی تھی۔۔۔۔۔
اور وہ جو اسکی دیوانی تھی ماہرہ فائز علوی۔۔۔ جو اسے دیکھ دیکھ کر جیتی تھی وہ شاید فائز علوی کے ساتھ ہی ختم ہو گئ تھی۔۔۔ اب پیچھے تھا تو محض مٹی کا ایک جسم جسکی سانسیں چل رہی تھیں۔۔۔ نا وہ کسی سے بات کرتی نا سب میں آکر بیٹھتی۔۔۔ ماں زبردستی اسے کچھ کھلا دیتی تو کھا لیتی ورنہ سارا سارا دن ایک ہی جگہ بیٹھی کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی گزار دیتی۔۔۔
مام زیادہ سے زیادہ وقت اسکے ساتھ گزارنے کی کوشیش کرتیں۔۔۔ اس سے زیادہ سے زیادہ باتیں کرتیں لیکن وہ محض ہوں ہاں میں جواب دیتی۔۔۔
اسکی صحت تیزی سے گر رہی تھی جسکے باعث ماں اسکی جانب سے مسلسل تشویش کا شکار تھیں اسی غرض سے وہ اسکا پراپر چیک آپ کروا رہی تھیں۔۔۔ کل ڈاکٹر نے چند ٹیسٹ لکھ کر دیئے تھے جنکی رپورٹس آج آنی تھیں۔۔۔
ماں نے ملازم کو رپورٹس لینے بھیجا تھا جبکہ ماں خود اسکے پاس ہی آگئ تھیں جو بیڈ کراون سے ٹیک لگائے سر گھٹنوں پر رکھے انکے گرد بازووں کا حلقہ بنائے ہوئے تھی۔۔۔
کتنا کم تھا اسکی خوشیوں کا دورانیہ۔۔۔ ابھی تو اسے خوشیاں ملی تھیں ابھی تو اسنے فائز علوی کے سنگ جینا شروع کیا تھا پھر یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔
بیٹا مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔۔۔ ماں نے اسے سمجھانے کو تمہید باندھی۔۔۔
میرا فائز زندہ ہے۔۔۔ وہ مرا نہیں۔۔۔ میرا دل نہیں مانتا ماں وہ زندہ ہے۔۔۔ خدارا اسے بار بار مرا ہوا کہہ کر میرا دکھی دل مزید مت دکھائیں۔۔۔ وہ رندہی ہوئی آواز میں قطعیت سے گویا ہوئی۔۔۔
ماں کے آنسو تیزی سے بہہ نکلے۔۔۔
وہ ماہرہ کی اسی گردن سے تنگ آ چکی تھیں۔۔۔ وہ محض اس جملے کے سوا کچھ بولتی بھی تو نا تھی۔۔ اسکا اسقدر صفائی سے حقیقت سے نظریں چرانا انہیں اذیت میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔ وہ شاید اپنی تصوراتی دنیا بنا رہی تھی۔۔۔۔ کھوکھلی خوشیوں کے لئے تصوراتی دنیا میں اترنا چاہتی تھی۔۔۔ شاید وہ شزوفزیا کا شکار ہو رہی تھی۔۔۔ اور یہ بات ماں کے لئے بہت تشویش ناک تھی۔۔۔
xt
ابھی وہ دونوں باتیں ہی کر رہی تھیں جب ملازمہ دستک دے کر کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ میم باہر چند آفیسرز آئے ہیں وہ ماہرہ بی بی سے تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ ملازمہ کے کہنے پر ان دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔
ٹھیک ہے تم انہین ڈرائینگ روم میں بیٹھاو میں آتی ہوں۔۔۔ مام بابا اور مظہر کو بلائیں میں انکے ساتھ ہی ڈرائینگ روم میں جاوں لگی۔۔۔ وہ روہانسی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ فائز کے جنازے پر شرکت کے لئے مظہر ہنگامی طور پر پاکستان آیا تھا۔۔۔۔ اور اس شخص کے زندگی سے چلے جانے سے یہ ساری اختیاطی تدابیریں اسے ازبر ہو گئ تھیں۔۔۔ ناجانے یہ کونسے آفیسرز تھے اور انکے یہاں آنے کے پیچھے کیا مقصد کارفرما تھا۔۔۔ ماہرہ بے چین ہوئی مگر پھر آنچل کھول کر اچھے سے خود پر اوڑھایا ۔۔۔ یوں کے وہ مکمل طور پر اس میں چھپ گئ۔۔۔ فائز کا اسکے سر پر آنچل اوڑھانا۔۔۔ ہر جگہ اسکی ڈھال بننا۔۔ اسے زمانے کی اونچ نیچ سمجھانا۔۔۔ کیا کیا نا یاد آیا تھا اس ایک لمحے میں۔۔۔ وہ یونہی لمحہ با لمحہ ہر ہر بات میں یاد آ جاتا۔۔۔ اس شخص کی ماہرہ کی زندگی میں شمولیت اسقدر ہوگئ تھی کے اب اسکے بنا ایک ایک لمحہ ماہرہ کے لئے بھاری تھا۔۔۔ اسکا دل بھر آیا لیکن وہ خود کو کمپوز کرتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے سے نکلی
******

No comments