Header Ads

Roshan Sitara novel 61st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  61st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

61st episode
ماہرہ کی آج صبح سے ہی طبیعت کچھ خراب تھی۔۔۔ موسمی بخار کیساتھ ساتھ فلو اور سر درد سے برا حال تھا یہ ہی وجہ تھی کے وہ صبح سے ہی کسلمندی سے لیٹی تھی۔۔۔
فائز نے تو عام دنوں میں اسے بہت اچھے سے رکھا تھا بیماری کے وقت تو وہ اسے ویسے ہی ہاتھ کا چھالہ بنا ڈالتا ۔۔۔ آج بھی وہ اپنی خرابی طبیعت کے باعث اسکے ساتھ اسکے دوست کے نکاح میں شرکت کرنے سے انکار کر چکی تھی اسی لئے وہ اسے دوپہر کا کھانا کھلا کر بلکہ شام کی چائے کے بعد میڈیسنز دے کر آرام کی تاکید کر کے جلد واپس آنے کا کہتا ہی گھر سے نکلا تھا۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں میں فائز کے سنگ اسکی زندگی بہت خوبصورت ہوگئ تھی۔۔۔ یہ کچھ دن اسکی زندگی کے سب سے بہترین دن تھے۔۔  جیسے زندگی ایک دم سے مکمل ہو گئ ہو۔۔۔ ۔
فائز علوی ایک بہترین انسان تھا۔۔۔ وہ ایک دوست اور کزن کی حیثیت سے تو اسکے لئے خاص تھا ہی لیکن وہ ایک بہترین شریک حیات بھی ثابت ہوا تھا۔۔۔۔ جسکی سنگت میں وہ خوش مطمیئن اور پرسکون تھی۔۔۔وہ تو پہلے ہی ماہرہ کے دل کی سب سے اونچی مسند پر براجمان تھا مزید اسکا کیئرنگ  اور محبت لوٹاتا  انداز اسے ہواوں میں اڑنے پر اکساتا تھا۔۔۔
وہ خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کرتی جس کی زندگی خدا نے خوشیوں سے بھر دی تھی۔۔۔
وہ مسلسل فائز کے بارے میں سوچتی لاوئنج میں موجود کاوئچ پر ڈھیلے سے انداز میں لیٹی تھی۔۔۔ سامنے دیوار گیر ایل ای ڈی چل رہی تھی بظاہر اسکی نگاہیں سکرین پر تھی لیکن ذہن فائز کی جانب ہی لگا ہوا تھا۔۔۔ اسے سوچتے ہوئے خودبخود ہی ہونٹوں پر ایک شرمگین مسکراہٹ ابھر آئی تھی۔۔۔
جب نجانے کس وقت فائز کو ہی سوچتے سوچتے اسکی آنکھ لگ گئ۔۔۔
اندر کمرے میں پڑا اسکا فون مسلسل بج رہا تھا۔۔۔ دفعتاً کچھ دیر بعد اپارٹمنٹ کا دروازہ ڈھر ڈھرایا جانے لگا۔۔۔۔
یکدم ہی یہ غیر متوقع آواز سن کر ماہرہ ہربڑا کر ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔ حواس باختگی کے عالم میں گہری نیند سے اٹھنے کے باعث دل بری طرح ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ خود کو کمپوز  کرتی کاوچ سے اٹھتی پریشان سا فائز اپارٹمنٹ کا دروازہ وا کر کے اندر داخل ہوا۔۔۔
دروازہ کیوں نہیں کھول رہی تھی تم۔۔۔ اور موبائل کہاں ہے تمہارا کب سے فون کر رہا ہوں۔۔۔ اندر داخل ہوتے ہی ماہرہ کو کاوئچ پر سوئی جاگی کیفیت میں بیٹھا دیکھ وہ غصے میں تلخی سے گویا ہوا۔۔۔۔ وہ کافی پریشان دیکھائی دیتا تھا۔۔۔
ریلیکس فائز کیا ہو گیا۔۔۔ اور تم دروازہ یوں ڈھرڈھرا کیوں رہے تھے۔۔۔ تمہارے پاس چابی تھی نا اپارٹمنٹ کی تو پہلے کیوں نہیں دروازہ کھول لیا تم نے اور موبائل اندر۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہو فائز ہوا کیا ہے۔۔۔
وہ اپنا دکھتا سر دابتی اسے بتا رہی تھی جبکہ فائز کا لہجہ اور پریشان انداز اسے بھی پریشانی میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔ جب فائز کو بعجلت جارحانہ انداز میں ایل ای ڈی کا  سوئچ کھینچ کر نکال کر بھاگم بھاگ لیب کی جانب جاتے دیکھ اسے کچھ کھٹکا۔۔۔
دل کسی انہونی کے خدشے سے لرزا تھا۔۔۔
فائز کی حالت اور اسکے انداز نارمل نا تھے۔۔
فائز ہوا کیا ہے۔۔۔ کچھ بتاو تو صحیح۔۔۔ وہ لیب سے چیزیں ٹوٹنے کی آواز سن کی  چیختی ہوئی  ننگے پاوں لیب کی جانب بھاگی جہاں وہ لیب میں لگی سکرینز ٹورںے کے بعد ہارڈ ڈیٹا ضائع کر رہا تھا۔۔۔
فائز۔۔۔ فائز یہ کیا پاگل پن ہے۔۔۔ فائز کا جنونی انداز دیکھ کر وہ کپکپانے لگی تھی۔۔۔
ماہرہ جاو یہاں سے۔۔۔ خدا کے لئے فوراً یہاں سے چلی جاو۔۔۔ اسکی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔۔۔
وہ مسلسل میجر اریز کا نمبر ملا رہا تھا لیکن رابطہ استوار ہو کر نہیں دے رہا تھا۔۔۔ راستے میں وہ اسکے نام میسجز بھی چھوڑ چکا تھا کے وہ میسجز دیکھ کر ہی اس سے جلد از جلد رابطہ استوار کر سکے۔۔۔
کہاں جاوں اور کیوں۔۔۔ میں ہرگز تمہیں یوں اس حالت میں چھوڑ کر نہیں جاوں گی۔۔۔ پلیز کچھ بتاو تو صحیح ہوا کیا ہے۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی آگے بڑھی اور شدت سے اسکا چلتا ہاتھ تھام گئ جس سے وہ تمام پیپر ورک اکھٹا کئے اسے لائٹر سے شعلہ دکھا رہا تھا۔۔۔
فائز نے بھرائی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
آگ نے زور پکڑتے تمام کاغذات کو نگلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
سب سوکھی ریت کے مانند ہاتھوں سے پھسل رہا ہے ماہرہ ۔۔۔ ابھی میرے اس دوست کی کال آئی تھی جسکی بائیک میں نے استعمال کی تھی۔۔۔ وہ غائب دماغی سے کہتا اپنے شاہکار روبورٹ کی جانب بڑھا۔۔
کون سی بائیک۔۔۔  ماہرہ ناسمجھی سے اسکی جانب پلٹی ۔۔۔ اسکے تو فرشتوں کو بھی فائز کی کاروائیوں کا علم نا تھا۔۔۔
وہ کہہ رہا تھا کے پروفیسر صاحب کے دشمنوں کو میرا پتہ لگ گیا ہے۔۔۔ اور یہ روبورٹ مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے وہ لوگ اس بات سے بھی آگاہ ہو چکے ہیں۔۔۔ وہ لوگ اب میرے اپارٹمنٹ میں آنے کے لئے نکل چکے ہیں۔۔۔ فائز نے گویا اسکی بات سنی ہی نہیں۔۔۔ وہ اپنی ہی بات کہتے روبورٹ کی کھوپڑی کھولے اندر سے ڈیوائسز نکالنے کے بعد سبھی وائرز کو بے ترتیبی سے ڈسکنیکٹ کر رہا تھا۔۔  جسکے باعث وائرز میں سے شعلے نکل رہے تھے۔۔۔
اپنے شاہکار کو جسے بنانے کے لئے وہ کئ مہینے دن رات کا فرق مٹائے محنت کرتا رہا ۔۔۔ کھانا پینا سونا جاگنا وہ سب بھول گیا۔۔۔ اسے اپنے ہی ہاتھوں سے ختم کرتا دیکھ ماہرہ کا دل لرز اٹھا۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو فائز۔۔۔ جانتے ہو اس پر تم نے کتنی محنت کی ہے۔۔ اپنا وقت لگایا ہے۔۔۔ دماغ کھپایا ہے۔۔۔ کئ راتوں کی محنت کے بعد یہ وجود میں آیا۔۔۔ اسے ختم کرنا مسلے کا حل نہیں۔۔۔ وہ لوگ اتنے بھی کوئی خدا نہیں ہم فورس سے مدد لے سکتے ہیں۔۔۔ ماہرہ اسے اسکے عزائم سے باز رکھنے کو چیخی۔۔۔ اسے یوں بے دردی سے روبورٹ کو ڈس ایکٹیویٹ کرتے دیکھ اسکا دل کٹ رہا تھا۔۔۔
وقت نہیں ہے کسی سے بھی مدد لینے کا۔۔۔ فورس سے رابطہ کر رہا ہوں پر ہو نہیں رہا۔۔۔ اسکا اشارہ میجر اریز کی جانب تھا۔۔۔ وہ لوگ کسی بھی پل پہنچنے والے ہونگے۔۔۔ وہ اس وقت پاور۔۔۔ طاقت ۔۔۔ تعداد ہر چیز میں ہم سے زیادہ ہیں۔۔۔ میں تنہا انکا مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔۔  اور میں کسی صورت یہ روبورٹ انکے ہاتھ نہیں لگنے دے سکتا۔۔۔ کھوپری کے بعد وہ اب اسکےکمر سے پرزے کھولے بیٹری اور سینسر نکال کر ضائع کر رہا تھا۔۔۔
یہ تو کوئی بات نا ہوئی۔۔۔ وہ بے بسی کے احساس سے رو دی۔۔۔ فائز کے ہاتھ تیزی سے حرکت کر رہے تھے۔۔۔
پھر تم اس روبورٹ سے کہو۔۔۔ یہ مقابلہ کرے گا ان سے۔۔۔ یہ تو مشین ہے۔۔۔ یہ تو اکیلا سو پر بھاری ہے۔۔۔ وہ یکدم یاد آنے پر بھاگتی ہوئی اسکے سامنے آئی۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں ماہرہ۔۔۔ ابھی اسکی پروگرامنگ ایسی نہیں کے یہ کسی تخریب کاری جیسے کمام میں حصہ لے سکے۔۔۔یہ انسان کی مدد کے لئے بنایا گیا تھا نا کے اسے نقصان پہنچانے کے لئے۔۔۔۔  اسکی پروگرامنگ ویسی کرنے میں وقت درکار ہے۔۔۔
روبورٹ کے مختلف حصے کھولتے فائز کے ہاتھ بری طرح کپکپا رہے تھے۔۔۔ دل کو الگ ڈھرکا لگا تھا کے کہیں وہ لوگ وقت سے پہلے پہمچ نا جائیں۔۔۔۔
کہیں پروفیسر صاحب کی قربانی ضائع نا جائے۔۔۔ کہیں انکا کوئی راز دشمن کے ہاتھ نا لگ جائے۔۔۔ کامیابی کے اتنے قریب جا کر ناکامی کا منہ دیکھنا کیسا ہوتا ہے یہ کوئی اس وقت فائز علوی سے پوچھتا جسکا دماغ اس وقت مفلوج ہو رہا تھا۔۔  جسم کپکپا رہا تھا تو دل بری طرح سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔
اسے اپنے حواس ساتھ چھوڑتے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔
تم ابھی تک یہیں ہو۔۔۔ گئ نہیں۔۔۔ کیوں۔۔ وہ لوگ کسی بھی پل یہاں پہنچتے ہوں گے۔۔۔
روبورٹ سے نکلے سبھی سینسر الیکٹرانکس اور میکانکس کو وہ بھاگم بھاگ کچن میں لیجا کر چولہے پر رکھ کر اگ کی نظر کر کے پلٹا تو تھر تھر کانپتی ماہرہ کو دیکھ کر جیسے کسی خواب کی سی کیفیت سے جاگتا حواس باختہ سا اسکی جانب بڑھا۔۔۔
کہاں جاوں۔۔۔ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے اسکا بازو تھام گئ۔۔۔
ماموں کی جانب۔۔۔ وہ کھویا کھویا سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
تم بھی چلو۔۔۔ میں تمہیں تنہا چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔۔۔ وہ تڑپ کر گویا ہوئی۔۔۔
ماہرہ میری جان۔۔۔ وہ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں اسکا چہرا تھام گیا۔۔۔ پلیز چلی جاو۔۔۔ میری کوئی کمزوری میرے دشمن کے ہاتھ نہیں آنی چاہیے۔۔۔ 
فائز علوی کو کوئی چیز نہیں توڑ سکتی بشرطیکہ تم محفوظ ہو۔۔۔ پلیز چلی جاو۔۔۔ وہ ملتجانہ انداز میں گویا ہوا کے جانتا تھا کے بحث اور زبردستی اسے کبھی قائل نا کر پائے لگی۔۔۔
تم بھی ساتھ چلو۔۔۔ وہ شدت سے رو دی۔۔۔ 
میں نہیں جا سکتا ۔۔۔ ابھی بہت چیزیں ضائع کرنے والی باقی ہیں۔۔ یکدم گویا وہ چونک کر ہوش میں آتا واپس لیب کی جانب بھاگا۔۔۔ کچھ بھی انکے ہاتھ نہیں انا چاہیے۔۔۔ مگر تم نکلو ابھی۔۔۔
اور ہاں جاتے ہوئے میرا موبائل اور لیپ ٹاپ بھی لے جانا۔۔۔۔
اسنے بھاگم بھاگ اسکے موبائل کے ساتھ ساتھ اہنا موبائل اور لیپ ٹاپ بھی نکال کر اسے تھمایا۔۔۔
نہیں۔۔۔ وہ شدت سے نفی میں سر ہلا گئ۔۔۔
میری بات غور سے سنو۔۔۔
فائز نے غصے سے اسے جھنجھوڑ ڈالا۔۔۔  وہ سانس تک روکے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
یہاں سے سیدھی ماموں کے گھر پہنچنا۔۔۔ بھیچ میں کہیں مت رکنا کسی سے بات مت کرنا ۔۔۔ راستے میں جاتے ہوئے فرنچائز پر بات کر کے میرے آئی ڈی کارڈ کی بیس پر سم لاک کروا دینا۔۔۔ اسنے لیپ ٹاپ بیگ سے اپنا آئی کارڈ نکال کر اسے دکھاتے واپس اسی میں ڈالا۔۔۔ پھر اپنے موبائل سے مرتسم یا وہاج سے رابطہ استوار کر کے انہیں سب بتا کر یہاں پہنچنے کو کہنا۔۔۔
وہ سب کور کر لینگے۔۔۔ مگر پہلے خود باحفاظت گھر پہنچ جانا۔۔۔ میری فکر مت کرنا مجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ وہ اسے باتوں میں بہلاتا اسے مین دروازے کی بجائے بیک دروازے تک لایا جو اسکے کمرے کی وارڈروب سے نکلتا تھا۔۔۔ ماہرہ نے حیران ہوتے اس راستے کو دیکھا جو یہاں پر اتنے مہینوں تک رہنے کے باوجود اسکی نظروں میں کبھی نہیں آیا تھا۔۔۔
یہ دروازہ دوسرے اپارٹمنٹ میں کھلتا ہے ماہرہ۔۔ وہ اس وقت خالی ہے۔۔۔ اس اپارٹمنٹ کا دروازہ دوسری لائن میں کھلتا کے۔۔۔ وہاں سے سیدھی نکلنا۔۔۔ اور راستے میں کچھ بھی غیر متوقع یا غیر شناسہ افراد کو دیکھو تو رکنا مت ۔۔۔۔کانفیڈنٹ سے سیدھی چلتی جانا۔۔۔ وہ اسے دروازے تک چھوڑتا گویا ہوا۔۔۔ 
اس سے پہلے وہ اسے زبردستی بھیجتا وہ اسے کھینچ کر شدت سے خود میں بھینچ گیا۔۔۔
اس غیر متوقع قربت پر ماہرہ اسکے سینے میں چہرا چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
آئی لو یو ماہرہ۔۔۔ وہ نم لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ یوں کے ماہرہ اپنی جگہ ساکت رہ گئ۔۔۔ جو الفاظ اسکے منہ سے سننے کو اسکے کان ترس گئے تھے ان الفاظ کا اقرار وہ کس وقت میں کر رہا تھا۔۔۔
I love you Mahira from the core of my heart...
 میں نے ہمیشہ سے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی لڑکی سے محبت کی ہے اور وہ ماہرہ فائز علوی ہے۔۔۔ خاموش آنسو موتی کی لڑیوں کی مانند اسکی آنکھوں سے پھسلتے جا رہے تھے۔۔ اسنے اپنی چیخیں ضبط کرنے کو فائز کی شرٹ شدت سے مٹھیوں میں بھینچی ورنہ دل چاہ رہا تھا کے ڈھاریں مار مار کر رو دے۔۔۔
یہ رشتہ میرے لئے باعث فخر ہے ماہرہ۔۔ وہ اسے خود سے الگ کرتا اسکا آنسووں سے تر چہرا دیکھنے لگا اسکا اپنا چہرا شدت ضبط سے سرخ ہوا پڑا تھا۔۔۔ آنکھوں کے گوشے نم تھے۔۔۔
تمہیں میری قسم ماہرہ۔۔ اسنے ماہرہ کا کپکپاتا ہاتھ اپنے سر پر رکھا ۔۔۔ ماہرہ نے دہل کر اسے دیکھا۔۔۔
ہمارا رشتہ صیغہ راز ہی رہنے دینا۔۔۔ یہاں سے جانے کے بعد کوئی بھی تم سے تفتیش کرنے آئے۔۔ کچھ بھی پوچھے تم کسی کے سامنے یہ رشتہ قبول نہیں کرو گی۔۔۔ کسی کو بھی کچھ نہیں بتاو گی۔۔ میں صرف تمہارا کزن ہوں اور بس۔۔۔
 اسکے لہجہ خدشات سے پر تھا۔۔۔
میں مام ڈیڈ سے اس بارے میں کیا کہوں گی فائز۔۔۔ وہ اسے بے بسی سے دیکھتی سسکی۔۔۔
ان سے کچھ مت کہنا میں انکی اور قریبی رشتہ داروں کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ اتنی دور وہ لوگ تفتیش نہیں کریں گے۔۔۔ بات صرف باہر کے لوگوں کی ہو رہی  میرے حلقہ احباب کی۔۔۔
ماموں ممانی کو میرے کام کی وجہ سے اعتبار میں لے لینا کہ یہ تمہارے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔۔ اب جاو پلیز۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر کی جانب دھکیلتا ڈھارا تو وہ آنسو صاف کرتی خود پر شال ٹھیک کر کے اوڑھتی لیپ ٹاپ بیگ اس میں چھپا گئ۔۔۔ اسکے باہر نکلتے ہی فائز نے وارڈروب کا دروازہ برابر کیا اور لیب کی جانب بھاگا۔۔۔
*****
ماہرہ ہراساں نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتی اپارٹمنٹ کا دروازہ وا کر کے باہر نکلی۔۔۔۔ یہ اپارٹمنٹ کارنر اپارٹمنٹ تھا جسکا مین دروازہ دوسری سمت کھلتا تھا۔۔۔ اپارٹمنٹ سے نکلتے ہی وہ سیدھا لفٹ کی جانب بڑھی۔۔۔
حواس باختگی میں وہ قدم رکھ کہیں رہی تھی پڑ کہیں رہا تھا۔۔۔ دل الگ فائز میں ہی اٹکا ہوا تھا۔۔۔ اسے جلد از جلد اس حدود سے نکل کر فائز کے کہے کے مطابق مرتسم اور وہاج سے رابطہ استوار کرنا تھا۔۔۔
لفٹ کے رکتے ہی وہ بعجلت لفٹ سے نکلی ۔۔۔ جب آگے بڑھتے بڑھتے وہ جی جان سے لرزی اور انہی قدموں پر واپس بھاگتی لفٹ کے ساتھ موجود کاریڈور کے کنارے سے جا لگی۔۔۔
اسکا جسم لرز رہا تھا جبکہ آنکھیں بار بار بھرا رہی تھیں۔۔۔ اسکا دل جیسے کسی بھاری سل تلے مسلا گیا جب اسنے کئ ایک قدموں کی دھمک کے ساتھ ساتھ کئ لوگوں کو اندر کی جانب بڑھتے دیکھا۔۔۔
وہ سب کے سب بلیک لباس میں ملبوس تھے۔۔ جو آدھے لفٹ اور آدھے سیڑھیوں کی جانب بڑھے۔۔۔ وہ تعداد میں بیس سے پچیس تھے۔۔۔
ماہرہ نے اپنی چیخوں کا گلہ گھوٹنے کو منہ پر سختی سے ہاتھ جمائے۔۔۔ جسم سے جیسے کوئی روح کھینچ رہا تھا۔۔۔ اوپر فائز تنہا تھا۔۔۔ وہ کیسے مقابلہ کرتا ان شیطانوں کا۔۔۔ 
اسکے جسم میں جیسے کوئی برقی رو ڈور گئ وہ بجلی کی سی رفتار سے پارکنگ کی جانب بھاگی۔۔۔ کپکپاتے ہاتھوں سے ڈرائیونگ ڈور کھولا۔۔۔ لیپ ٹاپ بیگ پیسنجر سیٹ کے نیچے پھینکا اور گاڑی میں بیٹھتے ہی ریورس گیئر لگاتی گاڑی بھگا لے گئ۔۔۔
دل ایک سو بیس کی رفتار سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ کچھ آگے جا کر اسنے گاڑی روکی۔۔۔ اور موبائل سے فرنچائز کا نمبر ملاتے فون کان سے لگایا۔۔۔ جسقدر وہ ذہنی طور پر منتشر تھی کال کے دوران ڈرائیونگ کرنا محض حماقت ہی تھا۔۔۔ فرنچائز کی طرف سے نمائندے سے کال کنیکٹ ہونے میں دشواری اس پر وحشت سوار کر رہی تھی دفعتاً رابطہ استوار ہوا تو نمائندے سے بات کرکے اسنے فائز کے نام پر سم اسکے آئی ڈی کارڈ نمبر کی بیس پر عارضی طور پر بند کروا دی۔۔۔ مکمل طور پر سم بند کرنے کے لئے فائز کی اپنی موجودگی یقینی تھی۔۔۔ سم بند کروا کر اسنے سم فائز کے موبائل سے نکالی اور دو ٹکروں میں تقسیم کر کے وہیں پھینک دی۔۔۔ اب وہ کپکپاتے ہاتھوں سے تیزی سے مرتسم کا نمبر ملا رہی تھی۔۔۔ دوسری طرف بیل جا رہی تھی مگر کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔
وہاں سے کچھ دور لودھی ہاوس میں اس وقت خوشیاں عروج ہر تھیں نکاح کے بعد دلہا اور دلہن کو سٹیج پر بیٹھایا گیا تھا
کانوں کو پھارتا میوزک بج رہا تھا۔۔۔ ایسے میں ایک گانا ختم ہونے پر شور کی آواز زرا تھمی تو سٹیج سے کچھ فاصلے پر کھڑے مرتسم کو اپنے موبائل کی بجتی بیل کا احساس ہوا تو وہ فون اتھاتا نسبتاً پرسکون گوشے کی جانب بڑھا۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4