Header Ads

Roshan Sitara novel 60th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  60th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

60th epi...
میرے خیال میں مرتسم تمہیں اپنی بہن کو اعتماد میں لے کر اسکے دل کی بات جاننی چاہیے۔۔۔ یہ رشتے زبردستی نہیں جڑتے۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا ایک اور کنکر پانی میں پھینک گیا۔۔۔ جبکہ مرتسم اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔کل اسنے بارات لانی تھی اور آج وہ یہ بات کہہ رہا تھا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں وہاج۔۔۔ وہ ماتھا مسلتا رخ پول کی جانب کر گیا۔۔۔
وہ نادان ہے۔۔۔ نا سمجھ ہے۔۔ بچپن کی تو تو میں میں کو دل سے لگا کر بیٹھی تھی۔۔۔ میری اس سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔۔۔
اسنے خود اپنی زندگی کے اس فیصلے کا اختیار بابا کو دیا ہے۔۔ ورنہ اگر اسکی کوئی اور خواہش ہوتی تو ہماری فیملی اس معاملے میں بالکل بھی کنزرویٹو نہیں۔۔۔ میں خود اسے سپورٹ کرتا۔۔۔ 
لیکن شاید یہ رشتہ اس کے لئے ان ایکسپیکٹڈ تھا اس لیے وہ یکدم ہی بوکھلا گئ اور فضول بولتی چلی گئ۔۔ 
لیکن وہ اپنی حرکت پر شرمندہ ہے۔۔۔ میں اسکی طرف سے تم سے معذرت خواہ۔۔۔
اوہ پلیز مرتسم ان سب فضولیات کی ضرورت نہیں۔۔۔ مرتسم کے ایکسکیوز کرنے پر وہ چڑ کر اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
دونوں میں پھر سے خاموشی کا وقفہ در آیا۔۔۔
دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خاموشی تھے۔۔۔
پھر تم نے کیا سوچا وہاج۔۔۔ بلآخر اس خاموشی کو مرتسم کی خدشات سے پر آواز نے توڑا۔۔۔
کس بارے میں۔۔۔ وہاج چونکا۔۔۔
اس رشتے کے بارے میں۔۔۔ پھر کل بارات لا رہے ہو۔۔۔ 
مطلب اگر ایسی کوئی بات ہے تو تم مجھ سے ابھی بول سکتے ہو میں سمبھال۔۔۔
For God sake Murtisam...
کیا بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔۔ کل نکاح ہے میرا ۔۔۔ یہ رشتہ میرے بڑوں کی مرضی سے جڑ رہا ہے تو ظاہر سی بات ہے مجھے کل بارت لانی ہی ہے۔۔۔ اگر تمہاری بہن کو اس رشتے پر اعتراض ہے تو جواب تم لوگوں کی طرف سے آئے گا۔۔۔ میرے کندھے پر بندوق رکھ کر کیوں چلانے کی کوشیش کی جا رہی ہے۔۔۔
وہ ایک بھائی ہونے کے ناطے مرتسم کے خدشات سمجھ رہا تھا اسی لئے بات کی تہہ میں پہنچتا اسکی بات کاٹ گیا۔۔
ایک بوجھ تھا جو مرتسم کے سر سے کھسکا۔۔۔
وہ بنا کچھ بولے اسے گلے سے لگا گیا۔۔۔
Thank you...
میری بہن کے لئے تم ایک بہتریں نتخاب ہو وہاج۔۔۔ مرتسم کی آواز فرط جذبات سے نم ہو اٹھی۔۔۔ وہ نادان ہے مگر تم سمجھدار ہو۔۔۔ زندگی کا سفر اچھے سے کٹ جائے گا۔۔۔
ہاں یہ صحیح کہی تم نے سبھی ڈیفالٹڈ پیس میرے ہی حصے میں آنے تھے۔۔۔ مرتسم آبدیدہ ہوتا پیچھے ہٹا جب حسب عادت وہاج مزید سنجیدہ نا رہتا پھر سے چٹکلا چھوڑ گیا۔۔ مرتسم نے حیرت و استعجاب سے اسے دیکھا جب وہ اسے آنکھ مارتا وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔۔۔ مرتسم مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
عین اسی وقت لائٹ بھی آگی۔۔۔ مرتسم نے اچنبھے سے گلاس وال کے پار دیکھا جہاں فائز کی معیت میں انکے روبورٹ نے پاوور ہاوس ٹھیک کر دیا تھا۔۔۔ وہاج روبورٹ کے شانے پر ہاتھ رکھے مسکرا کر کچھ کہہ رہا تھا جبکہ وہ بھی مسکراتا ہوا انہیں جوائن کرنے کو اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
*****
علایہ آف وائٹ کلر کی دیدہ ذیب میکسی پر سرخ آنچل سر پر سیٹ کئے دلہن کے روپ میں تیار بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ نکاح کا یہ جوڑا اور جیولری وہاج کے گھر سے آیا تھا۔۔۔
اس وقت علایہ مختلف قسم کے خدشات سے لرزتی اپنے کمرے میں مقید تھی۔۔۔ کہنے کو یہ نکاح تھا اور ارینجمنٹس بھی گھر کے لان میں ہی کی گئ تھیں لیکن نا نا کرنے کے باوجود بھی کافی مہمان اکھٹے ہو چکے تھے۔۔۔ ایسے میں اگر وہ شخص بارات نا لاتا تو۔۔۔ کیا وہ بابا یا مرتسم کو حقیقت سے آگاہ کر دے گا۔۔۔ ویسے اگر اسے ان دونوں کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہی ہوتا تو ابھی تک کر چکا ہوتا۔۔۔ وہ متضاد طرح کی کیفیت کا شکار تھی۔۔ 
دفعتاً باہر سے بارات آنے کا شور اٹھا تو وہ بھی چونک اٹھی۔۔۔ آتش بازی اور بینڈ باجوں کی آواز کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی۔۔۔
کہنے کو یہ نکاح تھا مگر دونوں طرف کے لوگ اپنے خوب خوب ارمان نکال رہے تھے کے یہ دونوں گھروں کی پہلی شادی تھی۔۔۔۔
فائز بارات کیساتھ آیا تھا جبکہ یہاں آتے ہی وہ مرتسم کی طرف سے سب کا استقبال کرنے لگا تھا۔۔۔
ماہرہ اسکے ساتھ نہیں آئی تھی۔۔۔ اسکی طبیعت کچھ خراب تھی جسکے باعث اسنے آنے سے انکار کر دیا تھا اور اسکی طبیعت کے باعث فائز نے بھی زیادہ اسرار کرنا مناسب نا سمجھا۔۔۔
موقع کی مناسبت سے مرتسم بھی سفید کرتا شلوار میں ملبوس تھا۔۔ بہن کے نکاح کے باعث اس پر خاصی ذمہ داریاں تھی اسی لئے وہ ہر جانب گھن چکر بنا ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے تھا۔۔ کہیں کسی چیز میں کمی نا رہ جائے۔۔۔ کبھی اسکے باہر چکر لگتے تو کبھی اندر۔۔۔ فائز خوب دوستی نبھاتا اسکے ساتھ پیش پیش تھا۔۔۔
شادی والے گھر میں فاہا نے بھی خوب خوب اپنا کردار ادا کیا تھا۔۔۔ 
ناہید بیگم کو اسکے وجود سے کافی سہولت رہی تھی۔۔۔  لڑکے والوں کی طرف جانے والے تحائف انکی پیکنگ کچن کے حالات ۔۔۔ علایہ کی چیزیں غرض ہر چیز کے لئے فاہا کو ہی آواز دی جا رہی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے وہ ابھی تک تیار بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔
فاہا چھوڑو سب بچے۔۔۔ سارے کام ہوتے رہیں گے۔۔۔ بارات سر پر پہنچ گئ اور تم ابھی تک تیار بھی نہیں ہوئی۔۔ فٹافٹ سے جا کر تیار ہو۔۔۔ پھر کچھ کرنا۔۔۔ ناہید بیگم نے ابھی تک فاہا کو یونہی پھرتے دیکھ اسے ٹوکا جبکہ انکے ساتھ تتلی بنی پھرتی پریہا نے موبائل سے سر اٹھا کر اسکے سر جھاڑ منہ پھاڑ انداز کو دیکھا۔۔۔ وہ ابھی تک رات والے ہی کھلے سے کیپڑی پر ڈھیلی سی شارٹ زیب تک کئے آنچل سر ر اوڑھے ہوئے تھے۔۔۔ایک طنزیہ مسکراہٹ  پریہا کے چہرے پر ابھری۔۔۔
وہ خود اس وقت ہیوی آف وائٹ کلر کے لہنگے اور شارٹ کرتی جو پیٹ کی ناف تک آتی تھی میں ملبوس ہیوی آنچل شانے پر ٹکائے ہوئے تھی۔۔۔جبکہ وہ آف وائٹ ہی سٹونز سے مزین گول سکے کی صورت کا مانگ ٹیکا اور ائیر رنگ پہنے بال کرل کر کے ایک شانے پر ڈالے ماہرانہ بیوٹیش کے ہاتھوں کئے گئے میک آپ میں محفل کی مرکز نگاہ بنی گھوم رہی تھی۔۔۔ ہر آتی جاتی نگاہ اس پر اٹھتی اور پھر ٹھٹھک کر رک جاتی۔۔۔ وہ ہر کسی کی نگاہیں خود پر مرکوز دیکھ گردن اکڑائے مغرورانہ چال چل رہی تھی۔۔۔
کچھ وقت لگا تھا فاہا کو جلدی جلدی میں تیار ہو کر واپس نیچے آتے ۔۔۔ وہ بھی آج کی تِھیم کے مطابق آف وائٹ کھلے سے شرارے پر آف وائٹ شارٹ فراک زیب تن کئے آنچل سینے پر پھیلائے ہلکے پھلے سے میک آپ میں کافی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔  بال سٹریٹ کر کے کمر پر کھلے چھوڑے گئے تھے۔۔۔  یہ بھی اسی بیوٹیشن کا کمال تھا جو علایہ کو تیار کرنے کے بعد جاتے جاتے اسکے بال بھی بنا گئ تھی۔۔۔
وہ شرارے سے الجھتی سہج سہج کر قدم اٹھاتی سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔۔ 
ڈریس تائی جان ہی اسکے لئے لائی تھیں جو کافی ہیوی تھا تبھی اب اسے چلنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔۔ صد شکر کہ ابھی  اسنے ہیل نہیں پہنی تھی۔۔۔
پریہا اپنا لہنگا سمبھالتی سہج سہج کر چلتی جگہ جگہ رک کر فوٹو گرافر سے اپنی تصویریں بنوا رہی تھی۔۔۔
اب بھی وہ لاوئنج کی ڈیکوریٹڈ دیوار کے پاس فوٹوگرافر کی جانب پشت کئے مسکراتے ہوئے پیچھے کی جانب دیکھتی فوٹو کھینچوا رہی تھی۔۔۔ پیچھے کا گلہ آگے کی نسبت کافی گہرا تھا جہاں ڈوریاں باندھنے کے بعد ڈوریوں کے سرے لٹک رہے تھے۔۔۔
دفعتاً مرتسم کسی کام کی غرض سے بعجلت لاوئنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔۔۔
ویٹ ویٹ ویٹ۔۔۔ دفعتاً اسے اندر آتا دیکھ پریہا نے فوٹوگرافر کو رکنے کا بولا اود لہنگا سمبھالتی مرتسم کی جانب بڑھی۔۔۔ وہ محفل کی جان تھی۔۔۔ ہر کوئی دل ہتھیلی پر رکھے پروانے کی مانند اسکے پیچھے پیچھے گھوم رہا تھا۔۔۔ جبکہ اسے جسکی تکاش تھی وہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے تک کا روادار نا تھا۔۔۔
ایک فوٹو مرتسم۔۔۔ وہ اسکے سینے ہر دودھیا ہاتھ رکھتی ایک ادا سے کہتی فوٹو گرافر کی جانب پلٹی۔۔۔
سیڑھیاں اترتی فاہا نے جلتی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔قدم خودبخود سست پڑ گئے تھے۔۔۔۔ ناجانے کیوں دل کو ایک کھینچ سی لگی تھی۔۔۔ یکدم ہی اندر سے غصہ عود کر آیا تھا ۔۔۔ دل چاہا ایک ہی پل میں سب تہس نہس کرتی پریہا کا ہاتھ مرتسم کے سینے سے ہٹا دے۔۔۔ اتنے حق سے تو وہ خود کبھی اسکے قریب نہیں گئ تھی۔۔۔ کجا کے یہ پریہا اعظم ۔۔۔ وہ غم و غصے کا طوفان اندر ہی دابتی نیچے اتری۔۔۔
مرتسم کا اسکی جانب دھیاں نا تھا۔۔۔ اسنے ناگواری سے ماتھے پر شکنیں لئے پریہا کی یہ حرکت نوٹ کی اور بنا فوٹو گرافر کا لحاظ کئے ایک ہی جھٹکے میں اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔۔
مصروف ہوں میں۔۔۔ وہ ایک ہی فقرے میں اسے جواب دیتا آگے بڑھا۔۔۔
اسکی اس حرکت نے فاہا کے لبوں پر پھول کھلا دیئے۔۔۔ جب دھیاں بٹنے کے باعث دیکھ نا پائی۔۔ اور تیزی سے آگے بڑھتے مرتسم سے بے طرح ٹکرائی۔۔
وہ جو پہلے ہی عجلت میں تھا مزید پریہا کی بے باکی نے دماغ گھما ڈالا تھا اس غیر متوقع تصادم پر غصے سے مقابل کو تھامتے اسکی جانب دیکھا۔۔۔
لیکن سامنے غیر متوقع طور پر فاہا کو کھلے کھلے روپ میں دیکھ اعصاب کچھ ٹھنڈے پڑے۔۔۔
جسکے بال مرتسم کے کرتے کے بٹن سے بری طرح الجھے تھے اور وہ انہیں ان سے الگ کرنے کی کوشیش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔۔مرتسم نے اسے اسکی کوشیشوں میں ہلکان دیکھ  گہرا سانس خارج کیا ۔۔۔
بندہ کسی خاص موقع پر ہی آنکھیں اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔۔۔ کیا یہ کوئی خاص رسم ہے کے جب چلو گئ آنکھیں ادھار دے کر ہی چلو گئ۔۔۔۔وہ اسکے ہاتھ ہٹاتا خود اسے بال بٹن سے الگ کرتا ٹھنڈے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
خبردار جو آج مجھے ڈانٹ کر میرا موڈ سپائل کرنے کی کوشیش کی تا۔۔۔ وہ بالوں سے الجھتی روہانسی آواز میں گویا یوئی۔۔ مطلب حد تھی۔۔۔ اس شخص کے پاس موقع بے موقع طعنے مارنے کا ایک سٹاک تھا جو ختم ہونے کا نام ہی نا لیتا تھا۔۔۔
حالانکہ حرکتیں ساری ہی ڈانٹ کھانے والی ہیں۔۔۔ اسکا لہجہ نرم تھا لیکن الفاظ سرد تھے۔۔
مطلب۔۔۔ وہ ناسمجھی سے بھرائی نگاہیں اٹھاتی گویا ہوئی۔۔۔ پہلے ہی سچویشن خاصی آکورڈ تھی۔۔۔ پریہا تو انہین خونخوار نگاہوں سے گھور ہی رہی تھی۔۔۔ اور بھی لوگ لاوئنج میں آ جارہے تھے۔۔۔ مرتسم کو تو شاید فرق نہیں پڑتا تھا لیکن اسکے ہاتھ پاوں ٹھنڈے پڑنے لگے تھے۔۔۔
مطلب یہ کہ یہ مکس گیڈرنگ ہے۔۔۔ یوں بے حجاب بنی کیوں گھوم رہی ہو۔۔۔ جا کر سکارف لو۔۔۔ وہ نرم لہجے ؂؂میں کہتا بال آزاد ہونے پر  نرمی سے اسے چھوڑتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
جبکہ اسکے جاتے ہی ایک شرمگین مسکراہٹ فاہا کے لبوں پر پھیل گئ۔۔۔ اسکا حق جتاتا انداز فاہا کو اندر تک پرسکون کر گیا تھا۔۔۔
مرتسم کے وہاں سے ہٹتے ہی پریہا خونخوار تیور لئے اسکی جانب بڑھی۔۔۔
فاہا جو مرتسم کے جاتے ہی باہر جانے کی بجائے اوپر جانے والی تھی یکدم ہی پریہا کے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے اپنی جانب کھینچنے پر  حیرت و استعجاب سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
مس فاہا۔۔۔ اپنی اوقات مت بھولو۔۔۔ پریہا دانت پیسی غرائی۔۔۔
فاہا حق دق سی اسکے انداز دیکھتی رہ گئ۔۔۔۔۔ یہ یکدم اسے ہوا کیا۔۔
مرتسم سے دور رہو۔۔ ورنہ تمہارے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔
ایک لمحہ لگا تھا فاہا کو اسکے ٹمپر لوز کرنے کی کہانی سمجھنے میں۔۔۔ اندر ایک کمینی سی خوشی نے اسکا احاطہ کیا۔۔۔
وہ صرف میرا ہے۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔ صرف میرا لحاظہ۔۔۔
پریہا باجی۔۔۔ یہ آپ مجھے بتا رہی ہیں یا خود کو باور کروا رہی ہیں۔۔۔ وہ چکمتی نگاہوں سے اسکے بپھرے انداز نوٹ کرتی اپنی بازو اسکی گرفت سے چھڑوا گئ۔۔۔۔
How dare you...
 وہ اس لڑکی کی اس ہمت کے مظاہرے پر کھول اٹھی تھی۔۔۔ کہاں اسکی پریہا کے سامنے آواز تک نہیں نکلتی تھی اور کہاں ابھی وہ اس سے بحث پر اتر رہی تِھی۔۔۔
نہیں مطلب اگر وہ آپکے ہیں تو پھر اتنی ان سکیورٹی کس بات کی۔۔۔ یااااا ۔۔۔
یا پھر آپکو خود پر یقین ہی نہیں۔۔۔ مسکرا کر ٹھنڈے انداز میں کہتی وہ اسے آگ ہی لگا گئ تھی۔۔۔
دو ٹکے کی لڑکی ۔۔۔ تم مجھے بتاو گئ۔۔۔
زبان سمبھال کر بات کریں پریہا میڈم۔۔۔۔  وہ اسے غصے میں آپے سے باہر ہوتا دیکھ سختی سے گویا ہوئی۔۔۔
اور اب آپ میری بات سنیں۔۔۔ وہ بھی کان کھول کر۔۔۔
وہ سنجیدہ نگاہیں اس پر ٹکائے چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔۔۔
مرتسم صرف میرے ہیں۔۔۔ فاہا کے چہرے ہر مسکراہٹ ابھری۔۔۔ اور اسکے لئے مجھے آپکو وارن کرنے کی ضرورت نہیں کہ ان سے دور رہیں۔۔۔ کیونکہ آپ چاہے ان سے دور رہیں یا قریب۔۔۔ دیکھنے والے تو وہ آپ کو ہیں نہیں۔۔۔ تو مجھے ایسی انسکیورٹیز نہیں ہیں۔۔۔ وہ مسکر اکر کہتی باہر نکلنے کی بجائے اوپر کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
جبکہ پریہا ان دیکھی آگ میں بھر بھر جلنے لگی۔۔۔
اب اس دو ٹکے کی لڑکی کو اسکی اوقات یاد دلوانا ناگزیر ہو گیا تھا۔۔۔
اسے جلد از جلد خالہ جانی سے بات کر کے مرتسم کے ساتھ اپنے رشتے کو آفیشلی اناوئنس کروانا تھا پھر وہ دیکھتی اس دو ٹکے کی لڑکی کو جو پر نکالتی اسکے سامنے اڑنے کی کوشیش کر رہی تھی پر نہیں جانتی کے سامنے پریہا اعظم ہے جو پر کاٹنا باخوبی جانتی ہے ہے۔۔  وہ ایک پر اسرار مسکراہٹ چہرے پر سجائے واپس پلٹی۔۔۔
****
فاہا اوپر آتی سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسنے دیوار گیر الماری کھولی اسکی نگاہ تیزی سے اپنے سبھی اسکارف کا جائزہ لے رہی تھی دفعتا اسکی نگاہ ٹی پنک کلر کے سکارف پر گی۔۔۔ اسنے جھٹ سے سکارف نکالا اور آئینے کے سامنے آئی ۔۔۔ کچھ دیر پہلے کے لمحات یاد آئے تو مسکراہٹ خود بخود ہونٹوں کو چھو گئ۔۔۔
جس شخص کو اسنے دل کی گہرائیوں سے چاہا تھا اس شخص سے قسمت نے اسے نواز دیا تھا۔۔۔ وہ نامراد نہیں ٹھہری تھی۔۔۔ کہاں وہ کبھی سوچتی تھی کے کہ کیا مرتسم جیسا مکمل شخص بھی اسکی قسمت میں لکھا جا سکتا ہے بھلا۔۔۔ اور کہاں وہ شخص اسکا ہو گیا تھا۔۔
اب یہ اسکا فرض تھا کے وہ خود کو اسکے قابل بناتی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے وہ آج کل سیلف گرومنگ کی اونلائن کلاسز لے رہی تھی۔۔۔ اور ابھی کچھ دیر پہلے پریہا سے کی جانے والی بحث بھی اسی کا نتیجہ تھی کے وہ اپنا کانفیڈینس لیول بڑھا رہی تھی ورنہ یہ وہی فاہا تھی جو کسی کی اونچی آواز اور غصیلے لہجے کے سامنے کانپنے لگتی تھی۔۔۔ زبان تالو سے جا چپکتی تھی۔۔۔
اس مکمل شخص کا ساتھ ہی اسے مغرور بنا رہا تھا۔۔۔
دفعتاً تائی جان کی آواز پر وہ باہر نکلی۔۔۔ وہ اسے علایہ کو گھونگٹ اوڑھانے کا بول رہی تھیں۔۔۔۔
دفعتاً اسنے اندر جا کر نیٹ کے ڈوپٹے سے علایہ کا گھونگٹ اوڑھایا جو بلکل کوئی باربی ڈول ہی لگ رہی تھی۔۔۔
باہر لیجانے کے خیال سے ہی اسنے فاہا کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔۔
بابا اور مرتسم کی معیت میں اسے باہر لیجایا گیا جہاں لان میں کھلے آسمان تلے نکاح کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔
نائٹ فنگشن ہونے کے باعث برقی قمقمے روشن تھے۔۔۔
دلہا اور دلہن کی نشیستوں کے درمیاں تازہ موتیے کے   سے پارٹیشن کی گئ تھی۔۔۔
دفعتاً نکاح شروع ہوا پہلے علایہ کی جانب سے رضا مندی لی گئ اور اسکے کپکپاتے ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط ہوتے ہی دوسری جانب یہ ہی کاروائی دہرائی جانے لگی۔۔۔
نکاح جاری تھا جب فائز کے موبائل کی بیل بجی۔۔۔ اسنے مصروف سے انداز میں موبائل جیب سے نکالتے یس کر کے کان سے لگایا۔۔۔ مگر دوسری جانب سے جو بات کی گئ وہ اسکے قدموں تلے سے زمین کھینچ لے گئ۔۔۔
اسنے ماتھا مسلتے پریشانی سے اس جانب دیکھا جہاں اس وقت نکاح کی کاروائی جاری تھئ۔۔۔
اس وقت وہاں جا کر اپنے دوستوں سے انکے اسقدر اہم موقع  پر یہ خبر شیئر کرنا سوائے حماقت کے کچھ نا تھا۔۔۔ ہاں نکاح کی تقریب مکمل ہو چکی ہوتی تو اور بات تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے وہ اندھا دھںد پارکنگ کی جانب بھاگا۔۔۔ دل شدت سے خدا کے حضور دعا گو تھا۔۔۔ کاش کاش اسکے ساتھ کچھ برا نا ہو۔۔۔ وہ بائیک کو کک مار کر سڑک پر بھگاتا مسلسل ایک نمبر ڈائل کر کے کان سے لگا رہا تھا مگر دوسری طرف مسلسل بیل جا رہی تھی مگر جواب ندارد۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4