Header Ads

Roshan Sitara novel 59th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  59th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

59th epi
کیا جھول دیکھا تم نے محترمہ میرے کردار میں زرا مجھے بھی تو پتہ چلے زرا۔۔۔ وہاج خانزادہ جلتے انگاروں پر لوٹتا غراتا ہوا کمرے سے ملحقہ سٹڈی روم سے نکلا۔۔۔
جبکہ علایہ غیر متوقع طور پر اسکی آواز سن کر خوف سے اچھلتی پلٹی۔۔۔۔ اسکے خطرنک تیور دیکھ کر علایہ کی آنکھیں پھٹ پڑیں جبکہ رنگت خطرناک حد تک سپید پر گئ۔۔۔
 وہ خونخوار نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا علایہ کو اپنی سانسیں تھمتی محسوس ہوئیں۔۔۔ اگر اسنے غصے میں بھائی کے سامنے اس بھیانک رات کا حوالہ دیتے سب کھول دیا تو۔۔۔۔ وہ کپکپا کر رہ گئ۔۔۔ خوف کی شدت کے باعث آنکھیں تک چھلک پڑیں۔۔۔
مرتسم لودھی۔۔۔ وہ سنجیدہ نگاہیں اسی کے لرزتے کانپتے وجود پر گاڑے کاٹ دار انداز میں مرتسم سے گویا ہوا۔۔۔
بہن سے پوچھ لو کہیں دل میں کوئی چور تو نہیں۔۔۔ ورنہ ایسے ہی بنا کسی مقصد تو دوسروں کی ذات اور کردار کو رگیڈا نہیں جاتا۔۔۔
وہ غصے سے پھنکارتا انہیں قدموں پر واپس پلٹا اور کمرے کی دہلیز عبور کر گیا۔۔۔
جبکہ اسکے جاتے ہی علایہ کپکپاتے ہاتھ منہ پر رکھتی زارو قطار رو دی۔۔۔
مرتسم تو خود حق دق تھا اس ساری صورتحال سے۔۔۔
علایہ۔۔۔۔ وہ سختی سے گویا ہوا جب علایہ ایک حراساں نگاہ اسے دیکھتی بہتی آنکھوں سے سر نفی میں ہلاتی اندھا دھند کمرے سے بھاگی۔۔۔
جبکہ مرتسم بالوں میں ہاتھ پھیر کر منتشر ہوتے حواسوں کو قابو کرتا باہر وہاج کے پیچھے باہر کو  لپکا۔۔۔۔۔
وہ اب ناجانے نیچے جا کر کیا کہنے یا کیا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ڈرائینگ روم میں داخل ہوا لیکن وہاں سب کو نارملی مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے بات کرتے دیکھ ٹھٹھکا۔۔۔
اسنے ایک نظر وہاں وہاج کو وہاں تلاشنا چاہا۔۔۔۔ وہ وہاں کہیں نہیں تھا۔۔۔ بے ساختہ اسنے سکون کی سانس خارج کی۔۔۔
ارے آو مرتسم بیٹھو۔۔۔ اور وہاج کہاں ہے۔۔۔ اپنے نکاح کی خوشی میں وہ تو منہ میٹھا کرے پرسوں کا دن مقرر کیا ہے ہم نے نکاح کے لئے۔۔۔ دفعتا مسٹر خانزادہ کی اس پر نظر پڑی تو وہ مسکرا کر گویا ہوئے۔۔۔
وہ انکی بات پر حیران ہوا۔۔۔ کیا واقعی بات نکاح تک جا پہنچئ تھی۔۔۔
جج۔۔ جی انکل۔۔۔ میں اسے بلاتا ہوں۔۔ دراصل وہ نیچے آیا تھا تو میں اسے ہی دیکھنے یہاں آیا تھا۔۔۔ ہو سکتا ہے وہ لان میں ہو۔۔۔ وہ بامشکل مسکرا کر بات بناتا انہیں تسلی دے کر انہی قدموں پر باہر نکلا۔۔۔
جب تک وہ لاوئنج سے باہر آیا وہاج خانزادہ کی گاڑی گھر کا گیٹ عبور کر چکی تحی۔۔۔ مرتسم وہیں رکتا سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔
لیکن ایک بات کا اسے سکون تھا کے اسکا دوست غصے میں اس جتنا جذباتی نہیں ہوتا۔۔۔ وہ نہایت غصے میں بھی عقلمندی کا مظاہرہ کرتا ہر بات اپنے تک محصور رکھتا واک آوٹ کر گیا تھا۔۔۔
مرتسم نے خود کو کمپوز کرنے کو دو تین گہرے گہرے سانس خارج کئے۔۔۔ اور واپس پلٹا۔۔۔ اب اسکا رخ علایہ کے کمرے کی جانب تھا۔۔ آخر کو اسے بھی تو اپنے اس رویے کی وجہ پیش کرنی تھی۔۔۔
*****
علایہ کمرے میں آتے ہی دروازہ بند کر کے بیڈ پر ڈھتی چہرا ہاتھؤں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ دل ہنوز سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔
اسے لگا اسکا دل ابھی بند ہو جائے گا۔۔۔ بہت مشکل سے وہ اس بھیانک رات کے حصار سے نکلی تھی۔۔۔ اس بے غیرت شخص کے ہاتھوں کا لمس خود پر محسوس کرتی تو بے موت مرنے لگی۔۔۔ اس شخص کا اسے گھسیٹنا دست درازی پر اترنا اسے خود پر نفرت کرنے پر مجبور کر دیتا۔۔۔ رہتی کسر اسی حالت میں وہاج خانزادہ کے سامنے جا کر پوری ہو گئ تھی۔۔۔ وہ بہت مشکل سے اس فیز سے نکلی تھی۔۔۔ اب جو وہاج اسکے باپ بھائی کے گوش ساری بات گزار دیتا تو وہ کیا کرتی۔۔۔ وہ اپنی بدولت اپنے باپ بھائی کا سر جھکا نہیں دیکھ سکتی تھی اور ناہی وہ پھر انکا سامنا کر سکتی تھی کجا کے انکے سوالوں کے جواب دیتی۔۔۔ 
وہ اسکی زندگی کی ایک بھیانک غلطی تھی جو اسکے بھولپن میں انجانے میں سر زرد ہوئی۔۔۔ اسکی پاداش میں اسے باپ بھائی کے سامنے جواب دہ ہونے سے بہتر خود کشی کرنا لگتا تھا۔۔۔ ہاں وہ جان دے دیتی مگر باپ بھائی کا مان نا توڑتی۔۔۔ 
سب کچھ ٹھیک کرنے کی کوشیش میں سب مزید بگڑ گیا تھا۔۔۔ وہ جانے انجانے میں ہی سہی مگر ایک مرد کی مردانہ انا کو ٹھیس پہنچا گئ تھی۔۔۔ اب اسے تھوڑی نا علم تھا کے وہ وہیں اندر ہی ہوگا۔۔۔
علایہ کو رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔ دل بے طرح گھبرا رہا تھا۔۔
جب طیش سے مرتسم نے اسکے کمرے کا دروازہ کھولا اور اسے گھورتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔
علایہ مزید شدت سے رو دی۔۔۔
مرتسم نے اسکے قریب ہی کرسی گھسیٹی اور علایہ کی جانب رخ کر کے بیٹھتا اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔۔۔
علایہ لودھی اپنے اس رویے کی وضاحت دو۔۔۔ اسکے سرد اور اجنبی سے انداز میں مستفسر ہونے پر علایہ کے آنسو مزید شدت سے بہنے لگے۔۔
انف از نف علایہ۔۔۔ یہ میلو ڈرامے میرے سامنے مت لگاو۔۔۔ ایسا کر کے تم محض میرے غصے کا گراف بڑھا رہی ہو۔۔۔ اور اس وقت مجھے تم پر اتنا غصہ ہے کے دل چاہ رہا ہے کے دو لگا کر تمہاری عقل ٹھکانے لگا دوں۔۔۔ کے شاید میرے اور بابا کے بے جا لاڈ پیار نے ہی تمہیں بگاڑ دیا ہے۔۔۔
 جو تم اتنی منہ زور ہو گئ ہو کے تمہیں میری اور بابا کی عزت تک کا احساس نہیں۔۔۔  غصے سے کہے جانے والے مرتسم کے الفاظ نشتروں کی مانند اسکے دل میں چبھے تھے یوں اس انداز میں کہ انکی تکلیف کی شدت برداشت نا کر پاتے وہ بلبلا کر چٹخ اٹھی۔۔۔
آپکی اتنی تلخ باتیں سننے سے پہلے میں مرنا پسند کروں گی بھائی۔۔۔ آپکو شاید اپنی باتوں کی سنگینی کا علم نہیں ہے۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سے چٹخی۔۔۔
اور تمہیں شاید کچھ دیر پہلے کی جانے والی تمہاری حرکت کی سنگینی کا علم نہیں ہے علایہ۔۔۔ اب کے مرتسم کے لہجے میں کچھ لچک تھی۔۔۔ شاید اسے بھی اپنے رویے کی بدصورتی کا اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔ جن سے پھولوں سے زیادہ توجہ اور محبت سے پیش آیا جائے ان پر زرا سی سختی انہیں بری طرح مرجھا دیتی ہے۔۔۔
علایہ یوں رپریزینٹ مت کرو کے جیسے تم پر زبردستی کی گئ ہے۔۔ وہ آنکھیں بند کر کے خود کو کمپوز کرتا نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
خدا کی قسم یہ ہی بات تم رات میں آکر مجھے کہہ دیتی تو میں کبھی ان لوگوں کو گھر بلاتا ہی نہیں۔۔۔ علایہ ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے وقت گزرنے کے بعد سب ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔۔۔ بالکل کمان سے نکلے تیر کی طرح۔۔۔
بابا نے تم سے پوچھا تھا نا۔۔ تمہاری رضا مندی لی تھی نا تو تب تم کیوں نہیں بولی کے تم کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو۔۔۔ مرتسم کے جرح پر اترنے پر اسنے جھٹکے سے سر اٹھاتے مرتسم کو شاکی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔
بھائی یہ آپ بول رہے ہیں۔۔۔ لہجے میں شکوے ہی شکوے تھے۔۔۔
نہیں یہ تمہارا رویہ بول رہا ہے۔۔ٹھیک کہہ رہا تھا وہاج دل میں چور ہو تو ہی کسی کی ذات یا کردار کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔ اسکا انداز سنجیدہ تھا۔۔
غلط۔۔۔ میں کسی میں انٹرسٹڈ نہیں۔۔ وہ شدت سے سر نفی میں ہلاتی چہرا جھکا گئ۔۔۔
تو پھر تمہارے اس عمل کی وجہ۔۔۔ کہاں جھول دیکھا تم نے وہاج کے کردار میں۔۔۔
اب اگر یہ ہی بات ماں بابا یا انکل آنٹی تک جائے تو کتنی سبکی ہو گی ہماری۔۔۔ سب سے پہلے ہماری تربیت پر سوال اٹھایا جائے گا۔۔۔۔ 
بابا جو وہاں اتنے مان سے بول رہے تھے کے میری بیٹی میرا مان ہے اسے میرے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں اسنے اپنی زندگی کے اس فیصلے کا اختیار مجھے دے رکھا ہے تمہاری اس حرکت کے بعد کیا وہ انکل آنٹی کے سامنے سر اٹھا پائیں گے۔۔۔ کیا میں سر اٹھا کر ان سے بات کر پاوں گا کے میری بہن نے انکے بیٹے پر جھوٹا بہتان لگایا ہے۔۔۔ اور جب بابا کو پتہ چلے گا کہ۔۔
ایم سوری۔۔۔ ایم سوری ایم سوری۔۔۔ بھائی۔۔۔ ویری ویری سوری۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوگئ ۔۔۔ پلیز بابا کو کچھ پتہ نا چلنے دیں۔۔۔ وہ مرتسم کے سامنے ہاتھ جوڑتی شدت سے رو دی۔۔۔ اتنی گہرائی سے تو اسنے سوچا ہی نا تھا۔۔
ہیے علایہ ریلیکس۔۔۔ مرتسم تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھا اور اسکے پاس بیٹھتا اسے اپنے حصار میں لے گیا۔۔۔
وہ اسکے شانے پر سر رکھتے دل کھول کر رو دی۔۔۔
علایہ جو دل میں ہے کہہ ڈالو۔۔۔ جو خدشات جو بھی کوئی وجہ جو تمہیں بے چین کئے ہوئے ہے۔۔۔ مجھ سے شیئر کر ڈالو۔۔۔ تمہارا بھائی ابھی زندہ ہے۔۔۔ اینڈ ٹرسٹ می میں تمہارے سامنے ڈھال بن جاوں گا۔۔۔ ہر چیز اپنے سر لے لوں گا۔۔۔ تم پر نام تک نہیں آنے دوں گا۔۔۔ لیکن آخر بتاو تو صحیح بات کیا ہے۔۔۔ کس چیز نے تمہیں اتنا پریشان کر رکھا ہے تم اپنے بھائی پر اتنا یقین تو کر ہی سکتی ہو۔۔۔
وہ جو اڑتی چڑئا کے پر گن لیتا تھا۔۔ وہ کیسے نا جانتا کے اتنا پرشدت احتجاج اور اتنا رونا بلکنا وہ بھی وہاج کے نام پر اینوی تو نا تھا۔۔۔ شاید کچھ تو تھا ایسا جو اسکے علم سے پرے تھا۔۔
کیا وہاج نے کبھی تمہارے ساتھ کوئی بدتمیزی کی ہے علایہ۔۔۔ اگر ایسی کوئی بات ہے تو مجھے بتاو میں اسے۔۔۔ وہ تیزی سے گویا ہوا جب وہ شدت سے اسکی بات کی نفی کرتی بات کاٹ گئ۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں بھائی۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔  نا ہی انکے کردار میں کوئی جھول ہے۔۔۔ جھوٹ بولا تھا میں نے۔۔۔ بکواس کی تھی۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی ہچکیاں لیتی گویا ہوئی۔۔
مرتسم نے آنکھیں میچتے خدا کا شکر ادا کیا کے ایسی کوئی وجہ نہیں جسکے لئے اسکا دل پہلے ہی نہیں مان رہا تھا۔۔۔ تو پھر۔۔۔ وہ مزید الجھا۔۔۔
وجہ۔۔۔ وہ تحمل سے گویا کوا۔۔
پتہ نہیں مجھے کیا ہوا تھا بھائی۔۔۔ میں نے یہ ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا کے یہاں آنے والا لڑکا وہاج ہو گا۔۔۔۔ 
یہ جان کر مجھے جھٹکا لگا تھا۔۔ مطلب بچپن میں ہمارے کافی جھگڑے رہے ہیں۔۔ کبھی ہم میں کوئی ہیلڈی ریلیشن نہیں رہا جب ہوا جھگڑا ہی ہوا۔۔ تو یکدم مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا۔۔۔ بابا سے میں ہاں بول چکی تھی اس لئے سوچا آپ سے یہ بات شئر کروں لیکن مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کے وہ اندر ہونگے۔۔۔ پتہ ہوتا تو میں کبھی اتنے سخت الفاظ کا استعمال نا کرتی۔۔۔ پلیز ایم سوری بھائی۔۔۔ میں اپنی آج کی حرکت ہر شرمندہ ہوں۔۔۔ بہت زیادہ۔۔
پلیز آپ سب سمبھال لیں۔۔ وہ بہت آس سے اسے دیکھتی شدت سے اسکے دونوں ہاتھ تھام گئ۔۔۔
بابا کو میری آج کی حرکت کا نہیں پتہ چلنا چاہیے۔۔  اور ماں کو تو باکل بھی نہیں بھائی۔۔ پلیز۔۔  ورنہ آپ ماں کو جانتے ہیں نا۔۔۔ وہ آس و نراس سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
مرتسم اسے دیکھتا گہری سانس خرج کر کے سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
لیکن آئندہ سے ایسی حرکت ہی مت کرنا کے بعد میں پچھتانا پڑے۔۔ اب بچی نہیں ہو تم بڑی ہو چکی ہو۔۔۔ اور رہ گئ بات تمہارے اور وہاج کے جھگڑوں کی تو وہ جھگڑے نہیں تھے۔۔۔ انہیں جھگڑے نہیں کہا جا سکتا۔۔۔
وہاج بچپن سے شرارتی تھا اور ہم تینوں دوستوں میں سے بہن صرف میری تھی اور تم تھی بھی صحت مند گول مٹول سی تو وہ اپنی عادت سے مجبور تمہیں چھیرتا تھا اور تم چھر جاتی تھی۔۔۔ بچپن کے ساتھ ساتھ وہ سب ماضی کی دھول تلے دب گیا اور اب ہم بڑے ہوگئے اور بڑے ہونے کیساتھ ساتھ باشعور بھی ہوگئے لیکن شاید تم ذہنی طور پر اب بھی بچی ہو علایہ۔۔۔ یا شاید ہماری محبتوں نے تمہیں بڑا ہونے ہی نہیں دیا۔۔۔ مگر اب تمہیں سمجھداری کا ثبوت دینا ہوگا۔۔۔ اور ہر کام سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا۔۔۔ مرتسم کے نرمی سے سمجھانے پر وہ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔
آرام کرو اب ۔۔۔ رو رو کر دیکھو کیا حشر کر لیا ہے اپنا ۔۔۔ ماں تمہیں یوں دیکھیں گی نا تو سوچ ہے تمہاری کیا کریں لگی۔۔۔
 مرتسم کے پیار بھری دھونس جمانے پر وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلاتی وہیں لیٹ گئ جبکہ مرتسم جاتا جاتا کمرے کی لائٹ بھی بند کر گیا۔۔۔
******
مرتسم وہاج اور فائز تینوں اپنے روبورٹ کو ٹیسٹنگ کے لئے لے کے کر وہاج خانزادہ کے فارم  ہاوس پر آئے تھے جہاں لانچنگ سے پہلے اس روبورٹ کو مختلف مراحل سے گزار کر اسکی ٹیسٹنگ کی جانی تھی کے کیا ابھی اس میں مزید سافٹ ویئرز اپڈیٹ کرنے ہونگے یا اس میں مزید ڈیٹے کو فیڈ کرنے کی ضرورت ہے یا اسے لانچ کر دیا جائے۔۔۔
وہ تینوں ایک گول میز کے گرد بیٹھے تھے جسکی دوسری جانب وہ روبورٹ بیٹھا تھا وہ تینوں پے در پے مختلف موضوعات پر اس سے سوال جواب کر رہے تھے اور وہ سیکنڈوں کے حساب سے اپنے اندر فیڈ شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر انکو جوابات دے رہا تھا۔۔۔۔
ایک سوال کا جواب آتے ہی دوسری طرف سے دوسرا سوال کر دیا جاتا پھر تیسرا پھر چوتھا پچھلے آدھے گھنٹے سے یہ ہی کام جاری تھا لیکن اب ان تینوں کو اندازہ ہونے لگا تھا کے ایک مشین اور انسان کا کوئی مقابلہ نہیں بلاشبہ اس روبورٹ کو بنایا انہوں نے تھا مگر ارٹیفیشل انٹیلیجنس اسقدر پاورفل چیز تھی کے اس مشین کے سامنے وہ تینوں تھکنے لگے تھے۔۔۔ 
چیٹ جی پی ٹی ہم تو تھک گئے کیا تم نہیں تھکے۔۔۔ وہاج خانزادہ ڈھیلے سے انداز میں بیٹھتا اسی سے گویا ہوا جبکہ اس کے اس انداز پر وہ دونوں بھی مسکرا دیئے۔۔۔۔اگر آپ تھک گئے ہیں تو آپ کچھ دیر آرام کریں ۔۔۔
اور میں مشین ہوں میں بنا کسی ٹیکنکل خرابی کے نہیں تھکتا۔۔۔ اسکا جواب ان تینوں کو مسکرانے پر مجبور کر گیا ۔۔۔
چلو پھر آو اب کچھ فزیکل ٹیسٹ ہو جائیں۔۔۔ مرتسم مسکرا ہوتا کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ پھر بیڈ منٹن کرکٹ ہاکی باسکٹ بال اور چند ایک مزید گیمز کھیل کر اسکے ٹیسٹ لئے گئے وہ ایک کے بعد ایک گیمز جیتتا چلا گیا۔۔۔ وہ تینوں اپنے شاہکار کی اس بہترین پرفارمینس پر خوش تھے۔۔۔ دفعتا کچھ چیزیں ایسی تھیں جو اپنے ڈیٹے میں فیڈ نا ہونے کی بنیاد پر وہ بڑی آسانی سے معذرت کرتا بتا رہا تھا کے اس چیز کے متعلق میرے اندر کوئی ڈیٹا فیڈ نہیں۔۔
ہممم۔۔۔ اوور آل تو سب ٹھیک ہے میرے خیال سے کچھ ڈیٹا ابھی مزید اس میں فیڈ کرنا ہوگا پھر اگلے ہفتے ہم انشااللہ اسے لانچ کر دیں گے۔۔۔
سارے دن کی مشقت کے بعد وہ تھکے ہارے پول سائیڈ پر بیٹھے تھے۔۔۔ سارے دن کی مشقت نے انہیں تھکا دیا تھا جبکہ جسکی ٹیسٹنگ کے لئے اتنا تردد کیا گیا تھا وہ اس وقت اس گھر کے پاوور وولٹیج والی جگہ پر کھڑا فیوز نکالے خود کو چارج کر رہا تھا۔۔۔
یکدم ہی وہاں ہر جانب اندھیرا چھانے پر وہ سب اس جانب متوجہ ہوئے جہاں گلاس وال سے وہ بجلی کی وائرز نکالے خود کو کنیکٹ کرنے کے بعد چارج کر رہا تھا۔۔
وہاج خانزادہ سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
اس الو کے دم کا یہ فیچر بھی فکس کرو فائز۔۔۔ پورا پاوور ہاوس ڈسٹرب کر دیا ۔۔۔ اب الیکٹریشن کو بلوانا پڑے گا۔۔۔ وہ جھنجھلاتا ہوا گویا ہوا۔۔ جبکہ وہ دونوں ہس ہس کر لوٹ پھوٹ ہوگئے۔۔۔
الیکٹریشن کیوں ہمارا شہزادہ ہی فکس کرے گا اسے۔۔۔ میں دیکھتا ہوں اسے۔۔۔۔۔ اسکی بیٹری چارج ہوتی ہے تو اسے کہتا ہوں کے یہ سب فکس کرے۔۔ فائز مسکراتا ہوا اٹھ کر اس جانب بڑھا جبکہ وہاج سر جھٹکتا پاس پڑے چھوٹے چھوٹے کنکر اٹھا کر پول میں پھینکنے لگا۔۔۔
اس روز کے بعد سے مرتسم اور وہاج میں اس ٹاپک سے ریلیٹڈ کوئی بات نا ہوئی تھی۔۔۔ نا وہاج نے بات چھیری نا ہی مرتسم نے کچھ پوچھا۔۔۔
ناراض ہو۔۔۔ اب بھی اس کی خاموشی محسوس کر کے مرتسم پوچھ بیٹھا۔۔۔
میں ۔۔۔ وہاج نے حیرانگی سے اپنی جانب اشارہ کیا۔۔۔ کیوں بھئ میں بھلا کیوں تم سے ناراض ہونے لگا۔۔ وہ شانے اچکاتا ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
تم اچھے سے آگاہ ہو کے میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں۔۔۔
مرتسم کے سنجیدہ سے انداز میں کہنے پر ناچار اسے بھی سنجیدہ ہونا پڑا۔۔۔
میرے خیال میں مرتسم تمہیں اپنی بہن کو اعتماد میں لے کر اسکے دل کی بات جاننی چاہیے۔۔۔ یہ رشتے زبردستی نہیں جڑتے۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا ایک اور کنکر پانی میں پھینک گیا۔۔۔ جبکہ مرتسم اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔کل اسنے بارات لانی تھی اور آج وہ یہ بات پوچھ رہا تھا۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4